گلوبلائزیشن:Globalization01:

عالم اسلام کے نامور محققین ’’ ڈاکٹر اڈورڈ سعید ‘‘ اور ’’ ڈاکٹر انور عبدالملک‘‘کےمطابق ۱۹۷۳ء فرانس کےشہر’’پیرس ‘‘ میں، مستشرقین کی انیسویں عالمی کا نفرنس منعقدہ ہوئی،جس میں امریکہ کے یہودی مستشرق ’’برنارڈلوئیس ‘‘ نے کہا کہ :
 ’’ اب ہمیں مستشرق کی اصطلاح کو تاریخ کے حوالے کر دینا چاہیے، چناں چہ اتفاق رائےسے اس اصطلاح کااستعمال ترک کر دیا گیا اور ایک نئی اصطلاح استعمال کرنےپراتفاق کیا گیا اور استشراق کے نئے نقشِ راہ کی قیادت امریکہ کو سونپ دی گئی، یہ اصطلاح’’ گلوبلائزیشن ‘‘ کے نام سے عالمی حلقوں میں مشہور ہوئی(ایضاً)، بس فرق اتناتھاکہ پہلے استشراق کا نشانہ صرف اور صرف اسلام تھا، اس کو دیگر مذاہب سے کوئی سروکارنہ تھا، اس مرتبہ گلوبلائزیشن کا نشانہ دنیا کے تمام مذاہب ہیں، البتہ اسلام عالم گیریت کے لیے اس حیثیت سے سب سے بڑا خطرہ ہےکیوں کہ اس میں گلوبلائزیشن کا مقابلہ کرنے کی طاقت ہے، جب کہ دوسرے مذاہب اس طاقت سےمحروم ہیں پہلے استشراق کا میدانِ کا ر، صرف مذہب اور اس کے متعلقات تھے، اس مرتبہ گلوبلائزیشن کا میدانِ کار مذہب اواس کے متعلقات کے ساتھ ساتھ اقتصاد وسیاست بھی ہیں، گویا گلوبلا ئزیشن کی اصطلاح نے استشراق اوراستعمار(سامراجیت) کو باہم متحد کر دیا، ماضی میں دونوں کی منزل اگر چہ ایک تھی، مگر راہیں الگ الگ تھیں،لیکن آج منزل بھی ایک ہے اور اس منزل تک پہنچنے کی راہ بھی ایک ہے۔

گلو بلا ئزیشن کی تعریف:

(۱) ڈاکٹر ’’ ترکی الحمد ‘‘ کہتے ہیں کہ:
 ’’ گلو بلائز یشن سرمایہ دارانہ نظام کی ترقی کا طریقۂ کار ہی نہیں، بل کہ اس طریقۂ کار کو اپنانے کی ہمہ گیر دعوت کا نام ہے، یہ پوری دنیا پر تسلط کے ارادے کو بلا واسطہ طور پر وجود بخشنے کا ایک ذریعہ ہے، مختصراً عالم گیریت،اقتدار و بالا دستی کی طرف پیش قدمی کرنے اور ہر نا فع چیز کو معدوم کرنے کا نام ہے۔ (روز نامہ الخلیج:۵/۲/ ۲۰۰۰)
(۲)ڈاکٹر ترکی نے ثقافتی عالم گیریت کو الگ سے ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
 جہاں تک ثقافتی عالم گیریت کا تعلق ہے، تو اس کی تعریف میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ مختلف ثقافتوں اورتہذیبوں کو غصب کر کے ان پر مغربی تہذیب مسلّط کرنا ہے ‘‘۔ (۲ ایضاً)
(۳) ڈاکٹر مصطفی النّشار ‘‘ کہتے ہیں کہ:
 ’’عالم گیرت کا مطلب ہر گز مختلف تہذیبوں کو ایک دوسرے کے قریب کرنا نہیں ہے، بل کہ اس کا مطلب تمام مقامی اور قومی تہذیبوں کو مٹا کر پوری دنیا کو مغربی رنگ میں رنگ دینا ہے‘‘۔ ( رسالہ المنتدی، عدد ۱۹۳، اگست ۱۹۹۹ء)
(۴) ڈاکٹر ’’ عبد الوہاب المسیری ‘‘ کہتے ہیں کہ:
 ’’ عالم گیریت مغربی روشن خیالی کی دعوت و تحریک کا نام ہے، جس کا مقصد تہذیبی اور انسانی خصوصیات کا خاتمہ کرنا ہے۔‘‘ ( ماہنامہ المستقبل عدد ۱۳۰، صفر ۱۴۲۳ھ مئی ۲۰۰۲ء)
(۵) ڈاکٹر ’’ مصطفی محمود ‘‘ کہتے ہیں کہ :
 ’’ گلو بلا ئز یشن وطن کی وطنیت اور قوم کی قومیت کا خاتمہ کرنے کے لیے معرضِ وجود میں آیا ہے، یہ کسی بھی قوم کے دینی، معاشرتی اور سیاسی انتساب کو ختم کرنے کا داعی ہے، تاکہ اس قوم کی حیثیت بڑی طاقتوں کےسامنےادنی خادم کی سی رہ جائے۔(رسالہ الاسلام وطن عدد ۱۳۸ص ۱۲ ۱۹۹۸ء)
 گلوبلائزیشن سیاسی و اقتصادی اصولوں، معاشرتی و ثقافتی اقتدار اور زندگی کے طرز اور طریق کے ڈھانچے کا نام ہے،جو پوری دنیا پر زبر دستی مسلّط کیا جائے گا اور لوگوں کو اسی کے کھینچے ہوئے دائرے میں زندگی گزارنےپرمجبورکیاجائے گا۔(العر ب والعو لمۃ از محمد عابد الجابری: ص ۱۳۷)
(۷) گلوبلا ئزیشن امریکی تہذیب اور وہاں کے طرز ز ندگی کو پو ری دنیا پر تھوپنے کی کوشس کا نام ہے، یہ ایک ایسا نظریہ ہے، جو سارے عالم پر بلاواسطہ اقتدار و بالا دستی کا عکاس ہے۔ ( ایضاً)
(۸) عالم گیریت سیکولر اور مادّیت پر فلسفے اور اس سے متعلق اقدار و قوانین اور اصول تصورات کو باشند گانِ عالم پر مسلّط کرنے کی کوشس کا نام ہے (۱)الاسلام والعولمۃ، از محمد ابراہیم المبروک ص : ۱۰۱، طبع قاہر ۃ ۱۹۹۹ء )
 (۹) گلوبلائزیشن ایک ایسی تحریک ہے، جس کا مقصد مختلف اقتصادی، ثقافتی اور معاشرتی نظاموں، رسوم و رواج اوردینی، قومی اور وطنی امتیازات کو ختم کر کے، پور ی دنیا کو امریکی نظریے کے مطابق، جدید سرمایہ دارانہ نظام کے دائرے میں لانا ہے۔( العولمۃ، از صالح الرقب :۶)
(۱۰)ڈاکٹر ’’صادق جلال العظم ‘‘گلوبلائزیشن کی تعریف کرتے ہیں کہ :’’یہ تمام ممالک کو ایک مرکزی ملک(امریکہ)کے رنگ میں رنگنے کا نام ہے ‘‘۔ (ماالعولمۃ ؟ا زحسن حنفی و صادق جلال ص :۱۳۶، طبع دارالفکربیروت)
(۱۱)بہت سے مفکر ین نے نہایت مختصر انداز میں عالم گیریت کی یہ تعریف کی ہے کہ :’’گلوبلائیزیشن کے معنی ’’حدود کا اختتام ‘‘یہ جامع تعریف بڑی طاقتوں کے منصوبے کی ترجمانی کرتی ہے کہ مستقبل میں ہر قسم کی حدبندی،خواہ اس کا تعلق اقتصادسے سیاست سے، تہذیب یا ثقافت سے، علم و دانش سے ہویا طرزِ زندگی سے، ختم کر دی جائے گی اور دنیا مختلف رنگوں کے بجائے ایک ہی رنگ کی ہو گی‘‘۔

 گلو بلائز یشن کی راہ کس نے ہموار کی ؟

 عالم گیریت کے پالیسی ساز اداروں نے جدید عالمی نظام، کو قابل عمل بنا نے کے لیے، جن وسائل کے ذریعے راہ ہموار کی، ان میں سے چند
مندرجہ ذیل ہیں :

(۱) آزاد عالمی تجارت :

 اس طرز تجا رت کا مقصد یہ ہے کہ ایک عالمی منڈی میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک تجارت کے میدان میں طبع آزمائی کریں، اس منڈی کے دروازے تمام عالمی اقتصاد ی طاقتوں کے لیے کھلے ہوے ہوں، اور وہ آزاد مقابلہ آرائی کے اصول کے تابع ہو ں۔(العولمۃ، از صالح الرقب:ص۸) ایسی صورت میں ترقی یافتہ ممالک کی کمپنیوں کاغالب آ جانا یقینی ہے، جن کے پاس اپنی مصنوعات کی تشہیر اوراس کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے اتنا سرمایہ ہے، جو بعض ملکوں کے سالانہ بجٹ سے بھی متجاوز ہے، ایسی مغربی کمپنیوں کے سامنے ترقی پذیر ممالک کی کمپنیاں باقی نہیں رہ پائے گی، جن کے پا س نہ تشہیر کے بھر پور وسائل ہیں اور نہ اپنی مصنوعات کو اعلی معیار کا حامل بنا نے کے لیے مطلوب سر ما یہ، اس لیے یہ کھلا بازار اقتصادی میدان میں ایک نظر یے کی حامل کمپنیوں کی اجا رہ داری اور عالم گیریت کے نفاذ کی راہ میں زینے کی حیثیت رکھتا ہے۔

(۲)براہ راست غیر ملکی سرما یہ داری :

 کسی ملک میں باہر کی کمپنیوں کا تجارت کر نا، اپنی کمپنیاں کھول لینا اور سرمایہ لگانا، ’’براہ راست غیرملکی سرمایہ داری‘‘ کہلاتا ہے،
اس کو اقتصادیات کی اصطلاح میں
Foreign Direct Investment (فارن ڈائرکٹ انوسٹمنٹ )کہا جاتاہے۔(ایضاً)
 عالمی طاقتوں نے ترقی پذیر ممالک سے معاہدے کر کے اور کانفرنسوں میں منشور جاری کر کے، دوسرے ممالک میں سرمایہ کاری کو قانونی حیثیت دے دی ہے، اب کوئی بھی کمپنی کسی بھی ملک میں تجارت کر سکتی ہے، اسی سنہر ےموقع کے ہاتھ آ جانے کے بعد، مغربی کمپنیاں ترقی پذیر ممالک میں لنگر انداز ہو گئیں اور وہاں کی اقتصادیات کونگلنا شروع کر دیا، یہ کمپنیاں اپنی مصنوعات کے ساتھ سا تھ مغربی اقدار، ثقافت اور تہذیب لاتی ہیں، مزید برآں ان کمپنیوں کی ترقی ممالک میں آمد اتنی کثیر المقاصد ہے کہ جہاں ان کو سرمایہ کاری کے نتیجے میں خود فائدہ پہنچتاہے،وہیں چند عالمی بنکوں کو بھی درست نفع ہوتا ہے، جو یہودی لابی کے زیر اثر ہیں، کیوں کہ عالمی کمپنیاں جوبھی سرمایہ لگاتی ہیں، وہ انہی عالمی بنکوں کے واسطوں سے لگایا جاتا ہے، اس لیے یہ عالمی بنک اس سرمایےسےبھاری نفع حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ تجارتی لین دین پر بھی نظر رکھتے ہیں اور اپنے ملک کی معیشت کو بھی تقویت پہنچاتے ہیں۔

(۳) ٹکنا لوجی کے میدان میں انقلاب :

 ٹکنالوجی کے میدان میں ترقی اس دور کا اہم ترین امتیاز ہے، جو ملک بھی اس میدان میں آگے ہے وہ اقتصادیات کے دروبست پر بھی حاوی ہے، اس ترقی کے نتیجے میں پوری دنیا ایک دوسرے کے قریب ہو گئی، مشرق و مغرب کی دریاں سمٹ گئیں اور لفظ ’’مسافت‘‘ کی اب کوئی حقیقت نہیں رہی، اس ترقی کی وجہ سے مال، سامان اورسروسز(خدمات) کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر نا کچھ مشکل نہیں رہ گیا ہے، انٹرنیٹ کے ذریعے ایک بٹن دباکرمطلوبہ چیز حاصل کر نا ایک حقیقت بن چکا ہے؛ لیکن ٹکنالوجی کے میدان میں ترقی بھی صنعتی ممالک کےحصے میں آئی ہے، جو اس ٹکنالوجی کی مدد سے اپنی صنعت کو مضبوط کر رہے ہیں اور مصنوعات کودنیاکےکونےکونے میں پہنچا رہے ہیں، ٹکنالوجی بالخصوص انفارمیشن ٹکنا لوجی نے عالم گیریت کی راہ کی تمام رکاوٹوں کو دور کر دیا ہے۔(ایضاً:ص۹)

(۴)کثیر الملکی کمپنیوں کا پھیلاؤ:

 موجودہ دور کو جہاں عالم گیریت کا دور کہا جاتا ہے، وہیں اس کو کثیر الملکی (ملٹی نیشنل) کمپنیوں کے دور سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں، اس لیے کہ یہ کمپنیاں گلوبلائزیشن کی اہم ترین کا آلۂ کار ہیں، اور عالمی اُفق پر ان کی بڑی حیثیت ہے، کیوں کہ جغرافیائی حدود کی پابندی نہ ہونے کی بنا پریہ کمپنیاں کئی ممالک میں سرمایہ کاری کرتی ہیں، اور ان کی اقتصادیات پرسانپ بن کر بیٹھ جاتی ہیں، اور پھروہی ہوتا ہے جوان کمپنیوں کو منظور ہوتا ہے، ترقی پذیر ممالک ان کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں، اور ان کے مالکان کے سامنے دست بستہ نظر آتے ہیں، کم از کم اقتصادی میدان میں ان کی خواہشات کے مطابق قوانین بنتے اور ٹوٹتے ہیں۔
 (العولمۃ ص:۹ بہ حوالہ: العولمۃ والعالم الإسلامی:ارقام و حقائق، از عبد اسما عیل، الاندلس الخضراء ۲۰۰۱ء)

عالم گیریت کی تمہید ات:

 اس گفتگو سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ گلوبلائزیشن کا مقصد مختصر الفاظ میں امریکنائزیشن(Americanization)یادوسرے الفاظ میں، پوری دنیا پر امریکی بالا دستی کو تھوپنا ہے۔ یہاں یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ عالم گیریت اچانک رونما نہیں ہوئی، بل کہ سرمایہ دار طاقتوں کی طرف سے اس کے لیے منصوبہ بند اور مؤثر کوششیں ہوئیں، میدان صاف کیا گیا، اور راہیں ہموار کی گئیں، اگر ہم گذشتہ نصف صدی کی تاریخ پرنظر ڈالیں، تو اندازہ ہو گا کہ بہت سے ایسے واقعات رو نما ہوئے ہیں، جن کو عالم گیریت کی تمہیدیامقدمےکےسواکچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔
 چناں چہ لیگ آف نیشنز اور پھر اقوام متحد ہ کا قیام عمل میں آیا، جس کے ذیلی اداروں میں ’’عالمی بنک‘‘اور’’انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ‘‘ قابل ذکر ہیں، جن کی سرپرستی میں عالم گیریت نے اقتصادی میدان میں فتح حاصل کی ہے، پھر ۱۹۴۷ء کو’’ جنیوا‘‘میں ۲۳صنعتی ملکوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا، جو ’’گاٹ‘‘ معاہدے (تجارت اورکسٹم ڈیوٹی پر ہونے والا معاہدہ)کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس معاہدے کا مقصد یہ تھا کہ آزاد تجارت کو فروغ دیاجائےاور معاہدے پردستخط کرنے والے ممالک، اپنی منڈیوں کے دروازے ایک دوسرے کے لیے کھول دیں،اس معاہدے نے۱۹۴۷ء میں صرف۲۳ممالک کی سرپرستی میں اپنا سفر شروع کیا، ۱۹۹۳ء تک اس میں ۱۱۷ممالک شریک ہوچکے تھے، اسی طرح کا ایک اور معاہدہ’’ماسٹریکٹ‘‘کے نام سے مشہور ہوا، جو ۱۵صنعتی ممالک کے درمیان عمل میں آیا۔
 بہت سے سیاسی واقعات بھی عالم گیریت کے لیے ’’مقدمۃ الجی‘‘ ثابت ہوئے، چناں چہ سرد جنگ کا اختتام ہوا، اس سے پہلے پوری دنیا دو طاقتوں کے درمیان منقسم تھی، روس کی شکست کے بعداس کے زیر اثر ممالک پر بھی امریکی اجارہ داری کا آغاز ہو گیا، سابق روسی صدر ’’میخائیل گوربا چیوف‘‘ نے امریکی اشارے پر ۱۹۸۵ء میں کمیونزم کے اقتصادی نظام کی اصلاح کا اعلان کیا، جس کو اس وقت’’بیروسٹویکا‘‘ کا نام دیا گیا، یہ اعلان درحقیقت کمیونزم‘‘ کی ناکامی اور ’’سوویت یونین‘‘ کے سقوط کا اعلان تھا، افغانستان کے بلند و بالا پہاڑوں سے ٹکرانے کے بعد، کمیونزم اسی سرزمین میں دفن ہو گیا، اور اس طرح دنیا کی دوسری بڑی طاقت، جو’’سوویت یونین ‘‘کے نام سے جانی پہچانی جاتی تھی،تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی۔ ۱۹۸۹ء میں ’’دیوار برلن‘‘ کے انہدام اور مشرقی و مغربی جر منی کے اتحاد کےبعد، ’’کمیونزم‘‘ کا مشرقی یورپ سے بھی جنازہ نکل گیا، پھر ۱۹۹۱ء میں خلیجی جنگ کا آغاز ہوا، جس کےبہانےامریکہ کو خلیج کے علاقے میں اپنے فو جی اڈے قائم کر نے کا موقع مل گیا، ان تمام واقعات نے امر یکہ کو عالمی اقتدار کے عرش پر بیٹھنے اور جدید عالمی نظام کی قیادت کر نے کا موقع فراہم کر دیا۔
 اپر یل ۱۹۹۵ء میں مرا کش کی راجدھانی ’’رباط‘‘ میں عالمی تجارت تنظیم (ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن) کا قیام عمل میں آیا، جو در اصل ’’گاٹ‘‘ معاہدے کی تجدید کی ایک کامیاب کوشش تھی، یہ تنظیم گلوبلائزیشن کونافذکرنےکےسلسلےمیں ’’عالمی بینک‘‘ اور انٹرنیشنل مانٹری فنڈ‘‘ کی مددگار کی حیثیت رکھتی ہے، عالم گیریت کی عمارت میں اس وقت آخری اینٹ رکھ دی گئی، جب سوئٹزرلینڈ کے شہر ’’جنیوا ‘‘میں فروری ۱۹۹۷ء کو عالمی تجارتی تنظیم کے بینر تلے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے آزادانہ استعمال سے متعلق عالمی معاہدہ ہوا، جس سے اس ٹکنالوجی کیاآزادانہ استعمال سے متعلق عالمی معاہدہ ہوا، جس سے اس ٹکنالوجی پر کنٹرول رکھنے والے ترقی یافتہ ممالک، خصوصاًامریکہ کو ترقی پذیر ممالک میں اپنے اقدار و نظریات اور اپنی تہذیب و ثقافت کو رواج دینے کا موقع مل گیا۔ مشرقی یورپ کی ’’ناٹو‘‘ میں شمولیت اور بہت سے عرب ممالک کے عالمی تجارت تنظیم ‘‘ کا ممبر بن جانے کی وجہ سے بھی گلوبلائز یشن کو نہایت سرعت کے ساتھ پھیلنے میں مدد ملی ہے، پھر اسرائیل کے اقتصادی ایجنڈا بھی عالم گیریت کے لیے مدد گار ثابت ہوئے، جن کا مقصد ’’عظیم تر اسرائیل کا خواب دیکھنے والے صہیونیوں کے مفادات کے مطابق، مشرق وسطی کی عالم کاری کرنا ہے، اپنے خواب کی تعبیر تلاش کرنے کے لیے انھوں نے عرب ممالک کے ساتھ امن معاہدوں اور اس ضمن میں اقتصادی معاہدوں کا سہارا لیا، جن کی سرپرستی کے لئے امریکہ ہمیشہ حاضرباش رہا، ان معاہدوں سے امریکہ کاسب سے بڑا حلیف اور عالم گیروں کا اصل وطن ’’اسرائیل ‘‘ جہاں سیاسی اعتبار سے مضبوط ہوا، وہیں اقتصادی اعتبار سے بھی طاقت ور بن گیا۔
 پھر مختلف ممالک میں قائم عالمی ’’اسٹاک ایکس چینجز‘‘ نے بھی عا لم گیریت کوا بھر نے میں بڑا تعاون دیا ہے،کیوں کہ ان اسٹا ک مارکیٹوں کی وجہ سے جو شخص جہاں بھی اور جتنا بھی سر ما یہ تجا رت میں لگا رہا ہے، اس کا سر مایہ عالمی سطح پر لگ رہا ہے اور عا لم گیریت کا مقصد بھی یہی ہے کہ سر ما یہ کاری کسی ملک میں محدود نہ رہے بلکہ عالمی سطح پر ہو، تا کہ آزادانہ عالمی تجا رت کو فروغ مل سکے۔
 یہ چند سیا سی اور اقتصاد ی حالات ہیں جنھوں نے ’’عالم گیریت کو روا ج دینے میں بنیا دی کرداراداکیاہےاوراسکواس نظر یے سے حقیقت اور فکر و خیال سے واقعے کا روپ دے د یا ہے، ان واقعات کےجائزےسےاندازہ ہو جا تا ہے کہ ’’عالم گیریت‘‘ اچانک پیدا نہیں ہو ئی، جد ید عالمی نظام بیٹھے بیٹھے نہیں بن گیا، بل کہ یہودی دماغوں نے سالہا سا ل کی کوششوں اور سازشوں سے گلو بلائزیشن کے لیے راہ ہموار کی اورایسےحالات پیداکیے کہ مذکورہ واقعات’’ نئے عالمی نظام ‘‘ کی تمہید بن گئے۔

1 comment
  1. Shaukat Awan said:

    گلوبلائزیشن کے تباہ کن چیلنجز اور ان کا لاثانی سائنسی حل
    تحریر : اکرام اللہ خان

    ہم ہیں مسلم، ہے سارا جہاں ہمارا
    خودی کی زد میں ہے ساری خدائی
    خلق لکم ما فی الارض جمیعا (سورۃ البقرہ) ”ساری کائنات ہم نے آپ لوگوں کے لئے تخلیق فرمائی ہے“ ۔وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون (سورۃ یونس)
    ”اور جنوں اور انسانوں کو صرف اور صرف (اپنی عبادت) حق کی بجاآوری کے لئے ہی تخلیق کیا ہے“۔
    تہذیبی اعتبار سے دنیا آج جس دور سے گزر رہی ہے یہ ایک مادی دور ہے۔ علمِ سائنس کی ترقی اور اس کی بے شمار ایجادات نے انسان کو انتہائی حد تک مادہء پرست بنا دیا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ یہ انسانیت کو صرف اور صرف مادی کسوٹی پر ہی پرکھتا ہے۔ اسی مادی کسوٹی کی ہی بنیاد پر جملہ انسانیت کو تین دنیا (۱) یورپین یا ترقی یافتہ اقوام First world یعنی (Advanced/Developed Nations) اور (۲) Second World یعنی (Middle East) عرب اقوام اوران کے Status کی دوسری اقوام اور Third World یا ترقی پذیر ممالک کی اقوام، جیسا کہ ایشیا ء اور براعظم افریقہ کی بہت ساری غریب ترین سلطنیں، یہ تو گلوب کی تقسیم بحیثیت اقوام دنیا کے نقشے پر پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد رونما ہوئی جو کہ اب تک اکیسویں صدی میں بھی اقوام متحدہ (UNO) کے کنٹرول میں ہے۔جب ہمUNO Organization پر تحقیق کرتے ہیں تو سلامتی کونسل (Security Council) میں ہمیں پوری دنیا کا (۱)سماجی (۲) سیاسی (۳) اقتصادی (۴) قانونی اور (۵) دفاعی نظام نظر آتا ہے۔ کیونکہ پانچ فیصلہ کن طاقتیں (Veto Powers) امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین ہی کے فیصلے حرفِ آخر نظر آتے ہیں، بلکہ گلوبلائزیشن ERA میں تو صرف اور صرف امریکہ کی کمانڈ اور کنٹرول ہی سارے عالم پہ چھائی ہوئی ہے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کو بالائے طاق رکھ کر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بدمعاش ممالک (Rouge States) کے خلاف پیشگی حملہ (Pre-emptive attack) کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے لہذا موجودہ فضا کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ سیاستِ عالمی اب دو Status میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ”طاقتور اور کمزور اقوام یا ممالک“ طاقتور ممالک اقتصاد و ہتھیار اور افواج کے مرہون منت ہیں۔ گویا پورے گلوب کا کمانڈ اور کنٹرول فی زمانہ Armed Forces کے پاس ہے۔ اس طرح کہ پوری دنیا کادفاعی بجٹ زیادہ ہے۔ اسی بنا پر دنیا میں Arms Export زیادہ ہے۔ جون 2006 میں روس میں G-8 ترقی یافتہ ممالک کی کانفرنس ہوئی تو اس دوران نہایت اہم نکتہ منظر عام پر آیا کہ پوری دنیا میں Arms Sale کا بجٹ پورے گلوب کے Welfare Budget سے کئی گنا زیادہ ہے۔ لہذا اکیسویں صدی کی سیاست ہتھیاروں کی اور مال کی سیاست ہے۔ اسی لئے (۱) Land (۲) Sea (۳) Air (۴) Space (۵) Information پر حکمرانی کے لئے امریکہ نے منصوبہ بندی کرتے ہوئے تاکہ پوری دنیا پرAtomism&Capitalism اور Cosmopolitical Democraticism حاوی رہے۔ سامراجی اور استحصالی قوتیں چھائی رہیں۔ اس منصوبہ نے اپنی جولانی و طغیانی معروف امریکی صدر جناب ریگن صاحب کے دور میں دکھائی Starwars * اور Armageddon کے عملی مظاہرے حرکت میں آئے اور اب یہ عالمی حکمرانی New World Order کی تحریک جس کے بانی و آقا سرکار یہودی ہیں۔ عیسائی دنیا ان کے اتحادی، آلہء کار، مسلم اور کمزور اقوام اس کا First Target ہیں۔ موجودہ Superiority کی جنگ کا حتمی ٹائم فریم جو کہ امریکی منصوبہ کاروں نے دیا ہے 2020 ء تک ہے۔
    ) Ref: http://www.fas.org/spp/starwars/programs/nmd
    گلوبلائزیشن کی عالمی جنگ چار محاذوں پر لڑی جا رہی ہے۔
    (۱) Globalization of the economy:
    (2) politics:
    (3) culture and (4) Law (Ref: http://www.globapolicy.org/
    اس نہایت ہی بھیانک خونریز اور ہولناک جنگ کی پالیسی کے چار ہی اہم نکات ہیں اور ان ہی پالیسی Mattersکے گر د ہی یہ جنگ اپنا دائرہ کار وسیع کئے ہوئے ہے جس کا دائرہ جناب امریکی صدر ریگن صاحب سے گردش میں کچھ زیادہ ہی تیز ہوا ہے اور اپنی پالیسیوں کو آگے بڑھاتا ہوا نظر آتا ہے۔موجودہ امریکی صدرGeorge W.Bush تک اس کا Status درج ذیل ہے۔: موجودہ امریکی،اسرائیلی اور ان کے اتحادی انہی خیالات کے پرزور حامی ہیں۔
    Reagon’s support of gung-ho neo-conservatives can only be understood in the light of the President’s millinnialists thinking, "why waste time and money preserving things for the future? why be concerned about conservation? It follows that all domestic programms, especially those that entail capital outlay, can and should be curtailed to free up money to wage the war of Armageddon. The dispensationalists who preach Armageddon theology are a relatively new-cult-less than 200 years old. There are four main aspects of their belief system: (1) They are anti-Semtic.They profess a fervent love for Israel. Their support to Israel does not, however, arise out of a true love for the Jews and their sufferings. Rather, their "love and support” is based on their wanting Israel. In place for the "second coming of Christ (PBUH)” when they expect most Jews to be destroyed. (2) The dispensationalists have a very narrow view of God and the six billion people on the earth planet. They worship a tribal god who is only concerned with two people Jews and Chrsitians, who said tribal god intends to pit against one another for His favour. The other five billion people on the earth planet are just not on this God’s radar except to be killed in the final battle. (3) The dispensationalists are certain sight down to their bones that they understand the Mind of God. They provide a scenario, little a movie script, that
    unfolds with time sequences, epoches or ” dispensations” all ending happily with an end-time escapism called the rapture-for a chosen few like themselves. They appeal to those who want to feel that they are on the "inside” of a "special group”, with secret, profound knowledge.This desire for certitude causes millions of the followers of dispensationalism to trust their leaders to an extraordinary degree. (4) Fatalism is the fourth aspect of Dispenstionalists. The World, they say, is getting steadily worse and we can do nothing, so there is no point in doing any thing. The teachers teach about the wrath of a vengeful God and declare that God does not want us to work for peace, that God demands that we wage a nuclear war: Armageddon that will destroy the earth planet. The frightening by-product of these beliefs is that, since the cult is in power in the United States, it is so easy to create the very situations which are described, thus ensuring the fulfillment of the ideas of the Dispensationalists: the cult that wants to Create Armageddon and needs 5 billion people on the planet to go willingly to the sacrificial altar, and the Muslims have been chosen to be first. This is the most dangerous cult in the world.Ref: The Most Dangerous Cult in the World by: Lawrd Knight- Tacde zyk (july 30, 2005)
    (۶) بیان کردہ چار مقاصد کے حصول کے لئے، چار اہداف پر چار نظریات کی مختلف ظاہری مادی (Physics) کی پیروکار اقوام، یہودی، عیسائی، منافقین اور مشرکین نے مشترکہ پلیٹ فارم پر دنیا کی بہترین ملٹی نیشنل کارپوریشنز کے ذریعے(امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے گویا US-war on terror کے عنوان یعنی Terrorism دہشت گردی کے خلاف 9/11 ستمبر کے حادثہ کے بعد افغانستان، عراق اور کولمبیا میں جنگ چھیڑی ہوئی ہے، جس کا دائرہ کار دن بدن وسیع تر ہوتا جا رہا ہے، اس خطرہ کے پیش نظر کہ شاید حالیہ جنگ کہیں Third world war میں نہ بدل جائے اور اپنے ارتقائی روائتی انداز کو تبدیل کرتے ہوئے جنگی Strategy کہیں WEAPONS OF MASS DESTRUCTION کی حد تک نہ پہنچ جائے کیونکہ خوف و ہراس کے عالم میں جیسا کہ امریکہ، یورپی اقوام اور ان کے اتحادیوں پر طاری ہے۔ Political powers بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر دوبارہ اس حماقت کا پہلے سے کہیں زیادہ ارتکاب کر سکتی ہیں،جیسا کہ ناگاساکی اور ہیروشیما میں Second world war میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے کر ڈالا۔ اب تو خطرہ کہیں اس سے بھی کروڑ گنا The Most dangerous ہو گیا۔ کیونکہ جب 1956 ء میں (۵۱ میگاٹن) کے تھرمونیوکلر بم کا تجربہ کیا گیا تو اس کا Lethal effect سات ہزار مربع میل کے رقبہ پر تھا لیکن اس کیRadiations کا دائرہ کار ایک لاکھ مربع میل تک Judge کیاگیا پھر اس کے fatalism کا دارومدار بھی تو Environmental Effect سپیشل ہوا کے رخ، Velocity اور دباؤ پر کرتا ہے، جیساکہ جدیدوقدیم اٹامزم کے ہیرو،لاثانی محقق اور Master of all trades حضرت علامہ محمد یوسف جبریلؒؒ نے اپنی بہترین علمی لاثانی شاہکار کتاب ”حطمہ“ میں بیان کرتے ہوئے فرما یا ہے کہ Radiations کا دائرہ کار اتنا وسیع ہے کہ پورے گلوب کے نظام کو Cover کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے اور Stratosphere کی Zone جس کا لیول زیرو سے بیس میل بلندی تک اپنی Operational صلاحیت اجاگر کرتا ہوا گلوب کا تدریجی مراحل میں رخ کرتا ہوا Radiations کا سپرے کرتا ہوا ہر جاندار اور بے جان کے سیل(Cell) اور نیوکلس کو کرش کرتا ہوا بذریعہ Respiration، Blood circulatory سسٹم Genes mutation کرکے ہڈیوں کے گودے میں تابکار مادہ بیٹھ جاتا ہے جو کہ کئی سالوں تک خفیہ طریقے سے انسانیت کی ذلت ورسوائی کا سبب بنارہتا ہے۔ کیونکہ اس کاعلاج و کنٹرول فی الحال سائنس دان کے لئے ناممکنات میں سے ہے۔ منطقی انجام کے اعتبار سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ عالمی جنگSpace,Air,Sea,Land, اور Information پر خفیہ کنٹرول کی بجائے کائنات کے Infrastructure کو کئی بار تباہ کرنے کی کلیتہََ خاصیت کی حامل ہے۔ اس جنگ کے Back پر چار Pillars نہایت ہی اہمیت کے حامل ہیں۔ جن کو War disaster profiteers کی Term میں باور کیا جاتا ہے۔
    1) Oil, Gas & Energy Companies (US Department of Energy) 2)US Govt. officials(because they love you) 3) Military and defence contractors 4) Heads of Industry, Finance, Media, Policy and Hype.
    مزید Elaboration کے لئے: Production Promisesکی طرف رجوع کرنا بھی نہایت ہی ضروری ہے، ویسے تو ان campaign contributors کی تعداد ہزاروں تک ہے۔بحر حال ان میں سے ہم امریکہ کی Ten top military contractors اور Laboratories کا ذکر کریں گے اور ساتھ ہی اس کے اتحادیوں کے بھی تھوڑے سے اشارے Add کرکے ان کے نہایت ہی تباہ کن ترین ہتھیاروں کی نشان دہی ان کی Deployment کے حوالے سے کریں گے تاکہ اس دھرتی کے سینے پر رہنے والی اشرف المخلوقات حضرت انسان کو تجزیہ ہو کہ میرے ”امن“ کے لئے جدید سائنسی دور کے عظیم ترین سائنسدانوں، دانشوروں، سیاستدانوں اور اعلیٰ طبقات Elites نے کیا کیا گل’کھلا اور بکھیر کر میری راہ میں کتنی ہی تازہ سرسبزو شاداب پتیاں آراستہ و نچھاور کرکے واقعی مجھے اعلیٰ ترین پروٹوکول فراہم کر رکھا ہے یاتباہی کے کنارے پہ لا کھڑا کیا ہے۔ اس پروپیگنڈا کے ساتھ کہ "After winning of the war against the terrorists,future is the brightest” کاتجزیہ کرتے ہیں کہ حال کیا ہے ماضی تو ہمیں خوب معلوم ہے۔ حال کو سامنے رکھتے ہوئے مستقبل کی منظر کشی کی جا سکے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ العزیز۔ US Companies کیا کچھ بنا رہی ہیں۔
    (جو دنیا کا سب سے بڑا طیارہ ہے)۔1) Boing: aside from 747,
    boing makes: Smart bombs, F-15 fighters and apache helicopter
    امریکی احتسابی کمپنی(Corpwatch,audit corporation accountable)کی ستمبر 2006 کی رپورٹ کے مطابق Boing has paid tens of millions in fines for selling flawed parts that led to thousands of unnecessary lendings and at least one fatal crash and has been plauged by scandals connected to the company’s inluence- peddling. 2)Lockheed Martin: The world # 1 Military contractor ۔F/A-22,F-16 (fighters),U-2,SR -71 (Reconsses),Javelin Missiles.
    They have also made millions through insider trading, falsifying accounts, and bribing officials.3) Northrop Grumman:B-2 Stealth bomber. یہی وہ کمپنی ہے جس نے سعودی شہزادوں کو عراقی نیشنل آرمی کے خلاف Tune کرکے $48 millions کی رشوت دی اور عراق کو مروایا۔”Above board, their job is simply selling death
    (4) General Dynamics: F-16, Abrams tanks and trident subs.بلین ڈالرز کی ٹریڈنگ کرتی ہے۔)
    (5) Raytheon: Means ” light from the gods”.
    گلوبلائزیشن کی عالمگیر تحریک میں یہی کمپنی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی دفاعی backbone سمجھی جاتی ہے۔ اس کے اندر ایک sub-section ہے جو MDA of raytheon سے موسوم ہے۔ (Missile defence agency of raytheon) جس کی ٹائیگر ٹیم,
    (Ballistics Missile Defense Organization(BMDO)
    ,Department of defense(DOD)
    Pentagon اور USAF امریکی ایئر فورس کو,National Missile Defense (NMD) امریکن اور ان کے اتحادیوں کی Latest research ہے جو کہ روس کی توڑ پھوڑ کے بعد Donald Ramsfeld کی سرپرستی میں 1996 ء میں شروع کی گئی ہے، اس پر بلین ڈالرز
    اور دوسرے وسائل خرچ ہوچکے ہیں لیکن تاحال کامیابی نہ ہو سکی ہے، اسی پروگرام اور سسٹم پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی حالیہ جنگWar On terror کادارومدار ہے، آج تک منصوبہمکمل نہ ہو سکا ہے۔ اس کی کچھ قومی اور بین الاقوامی کمزوریاں ہیں جس کی بنا پر تاحال NMD ہچکولے کھا رہاہے۔ ناکامی کے اسباب مندرجہ ذیل ہیں:۔
    This system is rushing to failure in case of America’sا
    war on terror spreading day by day and has no solution to control nuclear weapons at international level or small range missile attack to the US coastal states through smuggling as Richard L.Garwin say 50 years expert involvement in nuclear weapons and ballastic Missiles.Ref. 03605NMD P Draft 1 of 03/05/05.
    The threat by S.Korea Missile programme to toepo-dong-1,and TD-2 Long range ICBM.
    National Intelligence estimate emerging missile threat to North America during the next five years.
    The evolution in the threat assessments culminated with the 15 July 1998 of the Commission report to access ballistic missile threat, chaired by US Defence Secretary Donald Rumsfeld.
    Russia, China, S.Korea objections.
    Totally depend on RADAR Tech(i.e. X-band-(Space base infrared sys) (SBIRS) by USAF- weak performance. Upgrade Early Warning RADAR (UEWR)
    Space + Missile tracking system.
    More budgetary and huge infrastructure.
    Capable to conventional defense at limited range.
    Booster assembly+electrical system is beyond scientists grip.
    Accelerated+re-empty system.
    Fixed based not mobile, dormant,ready for use.
    Wastage of time, manpower, material, budget and other resources etc.
    Non availability of "Genius”, lack of confidence in case of failure during tests/trials of NMD.
    According to Lt.Col.Rick Lehner a spokeman for the pentagon (BMDO) ” An emergency defense sytem, Ref: FAS (Federation of American Scientists) Report vol.52, No. 6 Nov.Dec.1999.
    With comments of President Bill Clinton, politicians and Lt.Gen.Lester L Lyles, Dir.Ballestic Missile Defense Organization. 20 Januvery, 1999 (BMDO)
    امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے دفاعی مشن کا اصول بھی چار زاویوں پر مشتمل ہے۔
    1) Field a missile defense system that meets the ballistic missile threat at the time of a deployment decision.
    2) Detect the launch of every ballistic missile(s) and track.
    3) Continue tracking of ballistic missile(s) using ground base radars.
    4) Engage and destroy the ballistic missile warhead above the earth’s atmosphere by force of impact.
    امریکیوں اور ان کے اتحادیو ں کی current جنگی حکمت عملی pre-emptive, attack strategy کا دارومدار Booster Phase Interceptor (BPI)(1999) پر ہے۔ جس Concept کے بانی تباہ کن ایٹمی ہتھیاروں اور بیلیسٹک میزائل کے پچاس سالہ تجربہ کار (Richard Garwin) ہیں۔ 2003 ء میں America Physical Society Study Group(APS)نے بہترین مستندرپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ روس اور چین کے vast (وسیع) زمینی اور سمندری نظ

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

Moneeb Junior

Journalist, Android Application Developer and Web Designer. My website is best Platform to find out Amazing information & Career guide in the interviews of World's Expert Professionals.

Urdu Islamic Downloads

Audio | Video | Software | Documents

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سرائے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Online Free Islamic Books

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

Mushk Pur مشک پور

زین کا بلاگ

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

PIECEMEAL

"Religion is sincerity" Prophet Muhammad (pbuh)...To get things organized is just one step away from betterment. "Well begun is half done"...Aristotle

ii85 - Urdu Novels & Stories

Urdu Stories & Novels

Yasir Imran Mirza

Pakistani Blogger, Graphic Designer and Web Developer

Hijab-e-Shab

شب کی باتیں

%d bloggers like this: