شیعی رسومات کی تاریخ ایجاد و آغاز

لعنت کا آغاز:351ھ میں معزالدولہ(احمد بن بُویہ دیلمی) نے جامع مسجد بغداد کے دروازے پر نعوذ باللہ نقل کفر کفر نہ باشد یہ  عبارت لکھوا دی۔
(لعن اللہ معاویۃ بن ابی سفیان ومن غصب فاطمۃ فدکا ومن منع من دفن الحسن عند جدہ ومن نفی اباذرومن خرج العباس عن الشوری)
عید غدیر کی ایجاد:معزالدولہ نے 18ذوالحجہ 351ھ کو بغداد میں عید منانے کا حکم دیااور اس عید کا نام عید خم غدیر رکھا، خوب ڈھول بجائے گئے اور خوشیاں منائی گئیں۔ اسی تاریخ کو یعنی 18 ذوالحجہ 35ھ کو حضرت عثمانؓ غنی چونکہ شہیدہوئےتھےلہٰذااس روز شیعوں کےلیے خم غدیر کی عید منانے کا دن تجویز کیا گیا۔ احمد بن بویہ دیلمی یعنی معزالدولہ کی اس ایجاد کو جو 351ھ میں ہوئی، شیعوں نے یہاں تک رواج دیا کہ آج کل کے شیعوں کا یہ عقیدہ ہے کہ عید غدیر کا مرتبہ عیدالاضحٰی سے زیادہ بلند ہے۔
ماتم اور تعزیہ داری کی ایجاد:352ھ کے شروع ہونے پر ابن بویہ مذکور نے حکم دیا کہ 10 محرم کو حضرت امام حسین کی شہادت کے غم میں تمام دکانیں بند کردی جائیں، بیع و شراء بالکل موقوف رہے، شہر و دیہات کے لوگ ماتمی لباس پہنیں اوراعلانیہ نوحہ کریں۔ عورتیں اپنے بال کھولے ہوئے، چہروں کو سیاہ کیے ہوئے، کپڑوں کوپھاڑتے ہوئے سڑکوں اور بازاروں میں مرثیے پڑھتی، منہ نوچتی اور چھاتیاں پیٹتی ہوئی، نکلیں۔ شیعوں نے اس حکم کی بخوشی تعمیل کی مگر اہل سنت دم بخوداورخاموش رہے کیونکہ شیعوں کی حکومت تھی۔ آئندہ سال 353ھ میں پھر اسی حکم کا اعادہ کیا گیا اور سنیوں کو بھی اس کی تعمیل کا حکم دیا گیا۔اہل سنت اس ذلت کو برداشت نہ کرسکےچنانچہ شیعہ اور سنیوں میں فساد برپا ہوا اور بہت بڑی خون ریزی ہوئی۔ اس کے بعد شیعوں نے ہر سال اس رسم کو زیر عمل لانا شروع کردیا اور آج تک اس کا رواج ہندوستان میں ہم دیکھ رہےہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہندوستان (متحدہ) میں اکثر سنی لوگ بھی تعزیے بناتے ہیں۔ ( تاریخ اسلام اکبر خان نجیب آبادی۔ ج:2، ص 566، طبع کراچی)
شیعیت کا فتنہ:بنی بویہ نہایت متعصب شیعہ تھے، چند دنوں تک وہ خاموش رہے پھر ان کے تعصب کا ظہور ہونے لگا۔ دولت عباسیہ کے بہت سے ورزاء اور متوسل عجمی اور شیعہ تھے لیکن ان میں سے کسی نے علانیہ شیعیت کی ترویج واشاعت کی جرأت نہ کی تھی۔ معز الدولہ نے خلفاء کی قوت ختم کرنے کے ساتھ ہی بغداد میں شیعیت کی تبلیغ شروع کردی اور 351ھ میں جامع اعظم کے پھاٹک پر یہ تبرا لکھوایا۔
 معاویہ بن ابی سفیان، غاصبین فدک، امام حسن کو روضہ نبوی میں دفن کرنے سے روکنے والوں ، حضرت ابو ذر کو جلاوطن کرنے والوں ، عباس کو شوری سے خارج کرنے والوں پر لعنت ہو۔ (تاریخ ابن اثیر، ج: 8، ص: 179)
خلیفہ میں اس بدعت کو روکنے کی طاقت نہ تھی، کسی سنی نے رات کو یہ عبارت مٹا دی، معزالدولہ نے پھر لکھوانے کاارادہ کیا لیکن اس کے وزیر مہلبی نے مشورہ دیا کہ صرف معاویہ کے نام کی تصریح کی جائے اور ان کے نام کے بعد والظالمین لآل محمد یعنی آل محمدپر ظلم کرنے والوں کا فقرہ بڑھا دیا جائے۔ معزالدولہ نے یہ مشورہ قبول کرلیا۔
غالباً تبرا کی اس منافقانہ شکل کی ابتداء اسی سے ہوتی ہے۔
معزالدولہ نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ بغداد میں شیعوں کے تمام مراسم جاری کردیے عید غدیر کے دن عام عید اور جشن مسرت منانے کا حکم دیا۔ محرم کے لیے حکم جاری کیا کہ عاشورے کے دن تمام دکانیں اور کاروبار بند رکھے جائیں، کل مسلمان خاص قسم کی ٹوپیاں پہن کر نوحہ و ماتم کریں۔
عورتیں چہرے پر بھبھوت مل پریشان مووگریبان چاک سینہ کوبی کرتی ہوئی شہر میں ماتمی جلوس نکالیں، سینوں پر یہ احکام بہت شاق گزرے لیکن شیعوں کی قوت اور حکومت کے کے سامنےبے بس تھے اس لیے ان احکام کو منسوخ تو نہ کرا سکے لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ محرم 353ھ میں شیعوں اور سنیوں میں سخت فساد ہوا۔ اور بغداد میں بڑی بدامنی پھیل گئی۔ (ابن اثیر،ج:8،ص:184۔ تاریخ اسلام ، شاہ معین الدین احمد ندوی، اعظم گڑھ، ج:4، ص:12، 13)
اہل سنت کے غور وفکر کے لیے چند باتیں
 ماہ محرم کی ان بدعات و رسومات غیر شرعیہ کے علاوہ واقعۂ کربلاسے متعلق بھی اکثر اہل سنت کا زاویہ ٔ فکر صحیح نہیں۔ اس سلسلے میں چند باتیں پیش خدمت ہیں، امید ہے کہ اہل سنت حلقے اس پر پوری سنجیدگی، متانت اور علم وبصیرت کی روشنی میں غور فرمائیں گے۔
کیا یہ معرکہ ، حق و باطل کا تھا یا عام معمول کے مطابق ایک حادثہ؟اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ اہل سنت کےخطباءاوروعاظ فلسفہ شہادت حسین کو بالعموم اس طرح بیان کرتے ہیں جو خالصتاً شیعی انداز فکر اور رافضی آئیڈیالوجی  کامظہرہوتاہےاوراس کے متعلق یہ باور کرایا جاتا ہے کہ یہ تاریخ اسلام میں حق و باطل کا سب سے بڑامعرکہ تھا۔ یہ واعظین خوش بیان یہ نہیں سوچتے کہ اگر ایسا ہی ہوتا تو اس دور خیر القرون میں جب کہ صحابہ ٔ کرام کی بھی ایک معتدبہ جماعت موجود تھی اور ان کے فیض یافتگان تابعین تو بکثرت تھے اس معرکے میں حضرت حسینؓ ہی اکیلے کیوں صف آراء ہوتے؟ معرکہ ہوتا حق و باطل اور کفر واسلام کا اور صحابہ و تابعین اس سے نہ صرف یہ کہ الگ رہتے بلکہ حضرت حسینؓ کو بھی اس سےروکتے،کیاایساممکن تھا؟ شیعی آئیڈیالوجی تو یہی ہے کہ وہ (معاذ اللہ) صحابۂ کرام کے کفر و ارتداد اور منافقت کے قائل ہیں اور وہ یہی کہیں گے کہ ہاں اس معرکہ ٔ کفر و اسلام میں ایک طرف حضرت حسینؓ تھے اور دوسری طرف صحابہ سمیت یزید اوردیگر ان کے تمام حمایتی ، صحابہ و تابعین اس جنگ میں خاموش تماشائی بنے رہے اور حسین نے اسلام کو بچانے کے لیے جان کی بازی لگا دی۔
لیکن کیا اہل سنت اس نقطہ ٔ نظر کو تسلیم کرلیں گے؟
کیا صحابہ وتابعین کی اس بے غیرتی و بے حمیتی کی وہ تصدیق کریں گے جو شیعی انداز فکر کا منطقی نتیجہ ہے؟
کیا صحابہ نعوذ باللہ بے غیرت تھے؟ ان میں دینی حمیت اور دین کو بچانے کا جذبہ نہیں تھا؟
یقیناً اہل سنت صحابہ کرامؓ کے متعلق اس قسم کا عقیدہ نہیں رکھتا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی بڑی تلخ ہے کہ اہل سنت شہادت حسین کا جو فلسفہ بیان کرتے ہیں وہ اسی تال سر سے ترتیب پاتا ہے جو شیعیت کا مخصوص راگ ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ سانحۂ کربلاکو معرکہ حق و باطل باور کرانے سے صحابہ کرامؓ کی عظمت کردار اور ان کی دینی حمیت مجروح ہوتی ہے اور شیعوں کا مقصد بھی یہی ہے لیکن یہ ہمارے سوچنے کی بات ہے کہ واقعہ ایسا ہے یا نہیں؟ تو حقیقت یہ ہے کہ یہ حق و باطل کا تصادم نہیں تھا، یہ کفر واسلام کا معرکہ نہیں تھا، یہ اسلامی جہاد نہ تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو اس راہ میں حضرت حسینؓ اکیلے نہ ہوتے،ان صحابہ کرامؓ کا تعاون بھی انہیں حاصل ہوتا جن کی پوری عمریں اعلائے کلمۃ اللہ میں گزریں جو ہمہ وقت باطل کےلیے شمشیر برہنہ اور کفر وارتداد کےلیے خدائی للکار تھے۔ یہ تصادم دراصل ایک سیاسی نوعیت کا تھا اس نکتےکوسمجھنےکےلیےحسب ذیل پہلو قابل غور ہیں۔
¦        واقعات کربلا سے متعلقہ سب ہی تاریخوں میں ہے کہ حضرت حسینؓ جب کوفے کی طرف کوچ کرنےکےلیےتیارہوگئے تو ان کے رشتہ داروں اور ہمدردوں نے انہیں روکنے کی پوری کوشش کیاور اس اقدام کے خطرناک نتائج سے ان کو آگاہ کیا۔ ان میں حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت ابو سعید خدری، حضرت ابو الدرداء،حضرت ابو واقد لیثی، جابر بن عبداللہ، حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت حسینؓ کے بھائی محمد بن الحنفیہ نمایاں ہیں۔ آپ نے ان کے جواب میں نہ عزم
سفر ملتوی فرمایا نہ اپنے موقف کی کوئی دلیل پیش کی،ورنہ ممکن ہے کہ وہ بھی اس موقف میں ان کے ساتھ تعاون کے لیے آمادہ ہوجاتے۔ دراصل حضرت حسینؓ
کے ذہن میں یہ بات تھی کہ اہل کوفہ ان کو مسلسل کوفہ آنے کی دعوت دے رہے ہیں ،یقیناً وہاں جانا ہی مفید رہے گا۔
¦        یہ بھی تمام تاریخوں میں آتا ہے کہ ابھی آپ راستے ہی میں تھے کہ آپ کو خبر پہنچی کہ کوفے میں آپ کےچچیرےبھائی مسلم بن عقیل شہید کردئیے گئے جن کو آپ نے کوفے کے حالات معلوم کرنے کےلیے ہی بھیجا تھا۔ اس المناک خبر سے آپ کا اہل کوفہ پر سے اعتماد متزلزل ہوگیا اور واپسی کا عزم ظاہر کیا، لیکن حضرت مسلم کے بھائیوں نے یہ کہہ کرواپس ہونے سے انکار کردیا کہ ہم تو اپنے بھائی مسلم کا بدلہ لیں گے یا خود بھی مر جائیں گے اس پر حضرت حسینؓ نےفرمایا:تمہارے بغیر میں بھی جی کر کیا کروں گا؟
(فھم ان یرجع وکان معہ اخوۃ مسلم بن عقیل فقالواواللہ لا نرجع حتی نصیب بثارنا او نقتل) (تاریخ الطبری: 292/4، مطبعۃ الاستقامۃ، قاہرۃ: 1939ء)
 چنانچہ حضرت حسینؓ نے واپسی کا ارادہ کرلیا، لیکن آپ کے ساتھ مسلم بن عقیل کے جو بھائی تھے، انہوں نے کہا کہ ہم تو اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک کہ ہم انتقام نہ لے لیں یا پھر خود بھی قتل ہوجائیں۔
اور یوں اس قافلے کا سفر کوفے کی طرف جاری رہا۔
¦        پھر اس پر بھی تمام تاریخیں متفق ہیں کہ حضرت حسینؓ جب مقام کربلا پر پہنچے تو گورنر کوفہ ابن زیاد نے عمر بن سعدکو مجبور کرکے آپ کے مقابلے کےلیے بھیجا۔ عمر بن سعد نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ سے گفتگو کی تومتعددتاریخی روائتوں کے مطابق حضرت حسینؓ نے ان کے سامنے یہ تجویز رکھی۔
¦         (اختر منی احدیٰ ثلاث اما ان الحق بثغر من الثغور واما ان ارجع الی المدینۃ واما ان اضع فی ید یزید بن معاویۃ فقبل ذلک عمر منہ) (الاصابۃ:  71/2الطبعۃ 1995ء، دارالکتب العلمیۃ)
یعنی تین باتوں میں سے ایک بات مان لو۔ میں یا تو کسی اسلامی سرحد پر چلا جاتا ہوں یا واپس مدینہ منورہ لوٹ جاتا ہوں یا پھر میں (براہ راست جاکر) یزید بن معاویہ کی ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیتا ہوں(یعنی ان سے بیعت کرلیتا ہوں) عمر بن سعد نے ان کی یہ تجویز قبول کرلی۔
ابن سعد نے خود منظور کرلینے کے بعد یہ تجویز ابن زیاد (گورنر کوفہ ) کو لکھ کر بھیجی مگر اس نے اس تجویزکوماننےسےانکارکردیااور اس بات پر اصرار کیا کہ پہلے وہ (یزید کے لیے)میرے ہاتھ پر بیعت کریں۔
(فکتب الیہ عبید اللہ (ابن زیاد) لا اقبل منہ حتی یضع یدہ فی یدی) (الاصابۃ: 71/2، الطبری: 293/4)
حضرت حسینؓ اس کے لیے تیار نہ ہوئے اور ان کی طبع خوددار نے یہ گوارا نہیں ، چنانچہ اس شرط کو مسترد کردیا جس پر لڑائی چھڑ گئی اور آپ کی مظلومانہ شہادت کا یہ حادثہ ٔ فاجعہ پیش آگیا۔
(فانا للہ وانا الیہ راجعون۔ فامتنع الحسین فقاتلوہ۔۔۔ ثم کان آخر ذلک ان قتل ؓ وارضاہ)
اس روایت کے مذکورہ الفاظ جس میں حضرت حسینؓ نے بیعت یزید پر رضا مندی کا اظہار فرمایا الاصابہ کے علاوہ *تہذیب التہذیب، 328/2، 353 *تاریخ طبری، 293/4 *تہذیب تاریخ ابن عساکر، 325/4، 337*البدایۃ والنہایۃ،170/8۔175 *کامل ابن اثیر،283/3 اور دیگر کئی کتابوں میں بھی موجود ہیں ۔ حتی کہ شیعی کتابوں میں بھی ہیں۔ ان کے دوسرے الفاظ بھی ہیں تاہم نیتجے میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔
ان تاریخی شواہد سے معلوم ہوا کہ اگر یہ حق و باطل کا معرکہ ہوتا توکوفے کے قریب پہنچ کر جب آپ کو مسلم بن عقیل کی مظلومانہ شہادت کی خبر ملی تھی۔ آپ واپسی کا عزم ظاہر نہ فرماتے۔ ظاہر بات ہے کہ راہ حق میں کسی کی شہادت سے احقاق حق اورابطال باطل کا فریضہ ساقط نہیں ہوجاتا۔
پھر ا ن شرائط مصالحت سے جو حضرت حسینؓ نے عمر بن سعد کے سامنے رکھیں، یہ بات بالکل نمایاں ہوجاتی ہے ہے کہ آپ کے ذہن میں کچھ تحفظات تھے بھی تو آپ ان سے دست بردار ہوگئے تھے ، بلکہ یزید کی حکومت تک کو تسلیم کرلینے پر آمادگی ظاہر کردی تھی۔
ایک یہ بات اس سے واضح ہوئی کہ سیدنا حسین، امیر یزید کو فاسق و فاجر یا حکومت کا نااہل نہیں سمجھتے تھے، اگر ایسا ہوتا تو وہ کسی حالت میں بھی اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دینے کے لیے تیار نہ ہوتے جیسا کہ وہ تیار ہوگئے تھے، بلکہ یزید کے پاس جانےکےمطالبے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو ان سے حسن سلوک ہی کی توقع تھی۔ ظالم وسفاک بادشاہ کے جانے کی آرزو (آخری چارہ ٔ کارکے طور پر بھی) کوئی نہیں کرتا۔
اس تفصیل سے اس حادثے کے ذمہ دار بھی عریاں ہوجاتے ہیں اور وہ ہے ابن زیاد کی فوج، جس میں سب وہی کوفی تھے جنہوں نے آپ کو خط لکھ کر بلایا تھا، انہی کوفیوں نے عمر بن سعد کی سعیٔ مصالحت کو بھی ناکام بنادیا جس سے کربلا کا یہ المناک سانحۂ شہادت پیش آیا۔ وَكَانَ أَمْرُ ٱللَّهِ قَدَرًا مَّقْدُورًا 
حضرت عثمانؓ اور عمر فاروقؓ کی شہادت:جب واقعہ یہ ہے کہ یہ معرکہ سیاسی نوعیت کا حامل ہے، حق وباطل کا معرکہ نہیں ہے ، تو بہتر ہے کہ ایام محرم میں اس موضوع ہی سےاحتراز کیا جائے کہ ان دنوں میں اس سانحے کو اپنے بیان و خطابت کا موضوع بنانا بھی شیعیت کو فروغ دینا ہےکیونکہ تاریخ اسلام میں اس سے بھی زیادہ اہم شہادتوں کو نظر انداز کرکے سانحۂ کربلاکواجاگرکرنایہ بھی رفض و تشیع ہی کا انداز ہے۔حضرت عثمانؓ غنی کی شہادت کچھ کم جگر سوز اور دل دوز ہے جو 18 ذو الحجہ کو ہوئی؟ حضر ت عمر فاروقؓ کی شہادت ِ عظمیٰ کیا معمولی سانحہ ہے جو یکم محرم کو پیش آیا؟ اسی طرح اور بڑی بڑی شہادتیں ہیں لیکن ان سب کو نظر انداز کرکے صرف شہادت حسین کو اپنی زبان و قلم کا موضوع بنانا کسی طرح صحیح نہیں، اور جو شخص ایساکرتا ہے وہ بالواسطہ اور شعوری یا غیر شعوری طور پر شیعی انداز فکر کو فروغ دینے کا باعث بنتا ہے۔
امام اور علیہ السلام:اسی طرح اہل سنت کی اکثریت حضرت حسینؓ کو بلا سوچےسمجھے اما م حسین علیہ السلام بولتی ہے حالانکہ سیدنا حسین کے ساتھ امام کا لفظ بولنا اور اسی طرح ؓ کے بجائے علیہ السلام کہنا بھی شیعیت ہے۔ ہم تمام صحابہ ٔ کرام کے ساتھ عزت و احترام کے لیے حضرت کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر ، حضرت عثمان، حضرت علیؓ وغیرہ۔ ہم کبھی امام ابو بکر صدیق، امام عمر نہیں بولتے۔ اسی طرح ہم صحابہ کرامؓ کے اسمائے گرامی کے بعد ؓ لکھتے اور بولتے ہیں۔ اور کبھی ابوبکر صدیق علیہ السلام یا حضر ت عمر علیہ السلام نہیں بولتے، لیکن حضرت حسینؓ کے ساتھ ؓ کے بجائے علیہ السلام بولتے ہیں۔ کبھی اس پر بھی غور کیا کہ ایسا کیوں ہے؟ دراصل یہ شیعیت کا وہ اثر ہے جو غیر شعوری طور پر ہمارے اندر داخل ہوگیا ہے اس لیےیاد رکھیے کہ چونکہ شیعوں کا ایک بنیادی مسئلہ امامت کا بھی ہے اور امام ان کے نزدیک انبیاء کی طرح من جانب اللہ نامزداورمعصوم ہوتا ہے۔ حضرت حسینؓ بھی ان کے بارہ اماموں میں سے ایک امام ہیں، اس لیے ان کے لیے امام کا لفظ بولتے ہیں اور اسی طرح ان کے لیے علیہ السلام لکھتے اور بولتے ہیں۔ ہمارے نزدیک وہ ایک صحابی ٔ رسول ہیں امام معصوم نہیں، نہ ہم شیعوں کی امامت معصومہ کے قائل ہی ہیں۔ اس لیے ہمیں انہیں دیگر صحابہ ٔ کرام کی طرح حضرت حسینؓ ؓ لکھنا اور بولنا چاہیے۔ امام حسین علیہ السلام نہیں۔ کیونکہ یہ شیعوں کے معلوم عقائد اور مخصوص تکنیک کے غماز ہیں۔
یزید پر سب و شتم کا مسئلہ:اسی طرح ایک مسئلہ یزید پر سب و شتم کا ہے جسے بدقسمتی سے رواج عام حاصل ہوگیاہےاوربڑےبڑے علامہ فہامہ بھی یزید کا نام برے الفاظ سے لیتے ہیں ، بلکہ اس پر لعنت کرنے میں بھی کوئی حرج نہین سمجھتے اور اس کو حب حسین اور حب اہل بیت کا لازمی تقاضا سمجھتے ہیں حالانکہ یہ بھی اہل سنت کے مزاج اور مسلک سے ناواقفیت کانتیجہ ہے محققین علمائےاہل سنت نے یزید پر سب و شتم کرنے سے بھی روکا ہے اور اسی ضمن میں اس امر کی صراحت بھی کی ہےکہ یزید کا قتل حسین میں نہ کوئی ہاتھ ہے نہ اس نے کوئی حکم دیا اور نہ اس میں اس کی رضا مندی ہی شامل تھی۔ ہم یہاں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کے اقوال کے بجائے امام غزالی کی تصریحات نقل کرتے ہیں جن سے عام اہل سنت بھی عقیدت رکھتےہیں۔ علاوہ ازیں امام ابن تیمیہ کا موقف کتاب کےآخر میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔امام غزالی فرماتے ہیں:
(ما صح قتلہ للحسین ؓ ولا امرہ ولا رضاہ بذٰلک ومھما لم یصح ذٰلک لم یجز ان یظن ذٰلک فان اسآءۃالظن ایضا بالمسلم حرام قال اللہ تعالیٰ: }يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱجْتَنِبُوا۟ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ ٱلظَّنِّ إِثْمٌۭ {۔۔۔فھذا الامر لا یعلم حقیقہ اصلا واذا لم یعرف وجب احسان الظن بکل مسلم یمکن احسان الظن بہ) (وفیات الاعیان: 450/2، طبع جدید)
یعنی حضرت حسینؓ کو یزید کا قتل کرنا یا ان کے قتل کرنے کا حکم دینا یا ان کے قل پر راضی ہونا، تینوں باتیں درست نہیں اورجب یہ باتیں یزید کے متعلق ثابت ہی نہیں تو پھر یہ بھی جائز نہیں کہ اس کے متعلق اسی بدگمانی رکھی جائے کیونکہ کسی مسلمان کے متعلق بدگمانی حرام ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے، بنا بریں ہر مسلمان سے حسن ظن رکھنے کے وجوب کا اطلاق یزیدسےحسن ظن رکھنے پر بھی ہوتا ہے۔
اسی طرح اپنی معروف کتاب احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:
 (فان قیل ھل یجوز لعن یزید بکونہ قاتل الحسین او آمراً بہ قلنا ھٰذا لم یثبت اصلاً ولا یجوز ان یقال انہ قتلہ او امر بہ مالم یثبت)(131/3)
 یعنی اگر سوال کیا جائے کہ کیا یزید پر لعنت کرنی جائز ہے کیونکہ وہ (حضرت حسینؓ کا ) قاتل ہے یا قتل کاحکم دینے والا ہے ؟
تو ہم جواب میں کہیں گے کہ یہ باتیں قطعاً ثابت نہیں ہیں اور جب تک یہ باتیں ثابت نہ ہوں اس کے متعلق یہ کہنا جائز نہیں کہ اس نے قتل کیا یا قتل کا حکم دیا۔
پھر مذکورۃ الصدر مقام پر اپنے فتوے کو آپ نے ان الفاظ پر ختم کیا ہے:
(واما الترحم علیہ فجائز بل مستحب بل ہو داخل فی قولنا فی کل صلوٰۃ اللھم اغفر للمؤمنین والمؤمنات فانہ کان مؤمنا۔ واللہ اعلم) (وفیات الاعیان: 450/3، طبع جدید)
یعنی یزید کے لیے رحمت کی د عا کرنا (رحمۃ اللہ علیہ کہنا) نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے اور وہ اس دعا میں داخل ہے جو ہم کہاکرتےہیں ۔ (یا اللہ! مومن مردوں او ر مومن عورتوں سب کو بخش دے) اس لیے کہ یزید مومن تھا! واللہ اعلم
مولانا احمد رضا خاں کی صراحت:مولانا احمد رضا خاں فاضل بریلوی، جو تکفیر مسلم میں نہایت بے باک مانےجاتےہیں،یزیدکے بارے میں یہ وضاحت فرمانے کے بعد کہ امام احمد اسے کافر جانتے ہیں او رامام غزالی وغیرہ مسلمان کہتےہیں، اپنامسلک یہ بیان کرتے ہیں کہ:
 اور ہمارے امام سکوت فرماتے ہیں کہ ہم نہ مسلمان کہیں نہ کافر، لہٰذا یہاں بھی سکوت کریں گے۔۔۔ (احکام شریعت،ص:88،حصہ دوم)
فسق و فجور کے افسانے؟رہی بات یزید کے فسق وفجور کے افسانوں کی، تو یہ بھی یکسر غلط ہے جس کی تردید کے لیے خود حضرت حسینؓ کے برادر اکبر محمد بن الحنفیہ کا یہ بیان ہی کافی ہے جو انہوں نے اس کے متعلق اسی قسم کے افسانے سن کردیا تھا۔
(ما رایت منہ ما تذکرون وقد حضرتہ واقمت عندہ فرایتہ مواظباً علی الصلوٰۃ متحریا للخیر یسال عن الفقہ ملازماً للسنۃ) (البدایۃ والنہایۃ: 236/8، دارالدیان للتراث، الطبعۃ 1988ء)
یعنی تم ان کے متعلق جو کچھ کہتے ہو میں نے ان میں سے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی، میں نے ان کے ہاں قیام کیا ہے اور میں نےانہیں پکا نمازی ، خیر کا متلاشی، مسائل شریعت سے لگاؤ رکھنے والا اور سنت کا پابند پایا ہے۔ (البدایۃ والنہایۃ، ج:8، ص:233)
غزوۂ قسطنطنیہ کے شرکاء کی مغفرت کے لیے
بشارت نبوی:
علاوہ ازیں کم از کم ہم اہل سنت کو اس حدیث کے مطابق یزید کو برا بھلا کہنے سے باز رہنا چاہیے جس میں رسول اللہنے غزوۂ قسطنطنیہ میں شرکت کرنے والوں کے متعلق مغفرت کی بشارت دی ہے اور یزید اس جنگ کا کمانڈر تھا۔ یہ بخاری کی صحیح حدیث ہے اور آنحضرت کا فرمان ہے، کسی کاہن یا نجومی کی پیشین گوئی نہیں کہ بعد کے واقعات اسے غلط ثابت کردیں۔ اگر ایساہوتو پھر نبی کے فرمان اور کاہن کی پیشین گوئی میں فرق باقی نہ رہے گا۔ کیا ہم اس حدیث کی مضحکہ خیزتاویلیں کرکے یہی کچھ ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ یہ حدیث مع ترجمہ درج ذیل ہے:
(أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ) (صحیح البخاری ، الجہاد والسیر، باب ما قیل فی قتال الروم، ح: 2924)
 میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) میں جہاد کرے گا، وہ بخشا ہوا ہے۔
مؤلف : حافظ صلاح الدین یوسف
14 comments
  1. Maryam2010 said:

    Very nice post, jazakallaj

  2. تحریم بہنا ۔بہت ہی مفید اور معلوماتی مضمون لکھا ہے۔اللہ جزائے خیر عطاء فرمائے۔

  3. RIZWAN AHMED said:

    بہنا آداب ۔۔۔۔۔ بہنا معلومات کا خزانہ دیا ہے آپ نے بہت بہت شکریہ

  4. noor said:

    جزاک اللہ خیرا۔۔۔ مجھے یہ معلومات چاہیے تھیں یہاں سے مل گِیں آپکا بہت بہت شکریہ۔🙂

  5. aRmaaNi said:

    سب بکواس
    جاھل لوگ

  6. وقار said:

    ماشاءاللہ. آپ نے بہت محنت سے کام لیا ہے.آپ اپنے بارے میں بھی بائیں تاکہ ہمیں پتہ چلے کہ ھم کس کی تحریریں پڑھ رہے ہیں.
    شکریہ

  7. دشمن یزید said:

    اگر ایسا ہے تو آپ کو اپنے بیٹوں کا نام بھی یزید رکھنا چاہئے اور اگر میں آپ کو یزید کی اولاد کہوں تو آپ کو خوش ہونا چاہئے ۔ بلکہ آپ ایسا کریں کہ آپ ایک مہم شروع کریں جس میں اپنے خاندان ، اہل علاقہ اور دوسرے لوگوں کو بھی بتائیں کہ آپ یزیدی ہیں اور یزید کے پیرو کار ہیں اور آپ کو یزیدی کہہ کر بلایا جائے اور اگر اس پر بھی دل مطمئن نہ ہو تو اپنے خاندان میں ہونے والے ہر بچے کا نام یزید رکھ لیں۔ ہو سکتا ہے اس طرح جب آپ کے خاندان کے ہر بچے کا نام یزید ہوگا تو لوگ پوچھیں گے اس کی وجہ تو جب آپ ان کو یہ سب بتائیں گی تو ہو سکتا ہے کہ لوگ آپ کی باتوں سے قائل ہو جائیں اور اپنے بچوں کا نام بھی یزید رکھنا شروع کر دیں۔ لعنت ہے تم پر یزید کی اولاد

  8. shahid said:

    yazeed 28 hijri main paida hua..ghazwa e qustantunia 18 hijri main hazrat ummar ke daur main pesh aya..doosri baat ye ke jab hazrat imam hussain ka sar yazeed ke samne laya gaya tu usne sar mubarak ko dafan nahin kiya aur ahanat bhi ki..imam hussain sahabi e rasool the kia ek sahabi ka qatal zulm nahin hai jo yazeed ne kia..

  9. Joji KhN said:

    چلو جو کچھ آپ نے تحریر کیا میں اس کومان بھی لیتا ہوں
    مگر ایک بات سمجھ نہیں آرہی اگر یذید ان سب باتوں سے لاعلم تھا تو جب اس کو علم ہوا اس نے کچھ کیا کیوں نہیں
    اور آل محمد کی ایک بیٹی کی موت یذید کی قید میں شام کے مقام پر ہوئی تھی
    اس کا کیا جواب ہے

  10. Joji KhN said:

    میں مانتا ہو کے یذید ابنِ ماویہ کا بیٹا ہے
    میں بھی اس کو برا بھلا نہیں کہتا
    مگر کچھ سوال جو میری سمجھ میں نہیں آرہے کیا آپ مجھے سمجھا سکتے ہو
    میں تو شعیہ کو بھی کافر نہیں کہتا
    جب تک حق نا جان لو کسی کو کافر نہیں کہونگا

  11. abduljalil said:

    yazid paleed pe lanat یزید پلید په لعنت اگر یزید کا حضرت امام حسین علیه السلام کا قاتل نهین جیسا که تم نے لکها تو پهر دربار یزید مین نبی کی صاحبزادیان کیون پیش کی گئی ان کو قید کیون کیا گیا ؟ خانه کعبه پر حمله کیون کیا گیا ؟ مدیه مین مسجد نیوی کی بے حرمتی کس نے کی؟ مدینه کی پاک بی بیبون کیساته زنا کس نے کیا ؟ شرابی کون تها یزید تها؟ قاتل حسین کون یزید پلید لعنت هو اس پر اور اس کے طرفدارون پر . اے الله جو یزید کے طرفدار هین ان کو اس کے ساته محشور کر قیامت کے دن یزید کساته جهنم مین جائین اور جو امام حسین علیه السلام کے طرفدار هین ان کو سردار جنت حضرت امام حسین علیه السلام جن پر اے الله آپ بهی دردود و سلام بهیجتے هین ان کیساته محشور فرما آمین ثم آمین ایک بار پر یزید پلید اور اس کے ساتهیون په لعنت بے شمار
    قرآن مین حضرت موسی اور فرعون کا ذکر هے کیا یه دونون برابر هین آپ کی نظر مین ؟ تو پهر کربلا مین حسین اور یزید کیسے برابر هو سکتے هین یزید تو فرعون قوت تها تاریخ دیکهین اس نے کتنا ظلم کیا هے آنکهین کهولین اورحقیقت کو تسلیم کرین یزیدیون په لعنت

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: