گلوبلائزیشن:Globalization01:

عالم اسلام کے نامور محققین ’’ ڈاکٹر اڈورڈ سعید ‘‘ اور ’’ ڈاکٹر انور عبدالملک‘‘کےمطابق ۱۹۷۳ء فرانس کےشہر’’پیرس ‘‘ میں، مستشرقین کی انیسویں عالمی کا نفرنس منعقدہ ہوئی،جس میں امریکہ کے یہودی مستشرق ’’برنارڈلوئیس ‘‘ نے کہا کہ :
 ’’ اب ہمیں مستشرق کی اصطلاح کو تاریخ کے حوالے کر دینا چاہیے، چناں چہ اتفاق رائےسے اس اصطلاح کااستعمال ترک کر دیا گیا اور ایک نئی اصطلاح استعمال کرنےپراتفاق کیا گیا اور استشراق کے نئے نقشِ راہ کی قیادت امریکہ کو سونپ دی گئی، یہ اصطلاح’’ گلوبلائزیشن ‘‘ کے نام سے عالمی حلقوں میں مشہور ہوئی(ایضاً)، بس فرق اتناتھاکہ پہلے استشراق کا نشانہ صرف اور صرف اسلام تھا، اس کو دیگر مذاہب سے کوئی سروکارنہ تھا، اس مرتبہ گلوبلائزیشن کا نشانہ دنیا کے تمام مذاہب ہیں، البتہ اسلام عالم گیریت کے لیے اس حیثیت سے سب سے بڑا خطرہ ہےکیوں کہ اس میں گلوبلائزیشن کا مقابلہ کرنے کی طاقت ہے، جب کہ دوسرے مذاہب اس طاقت سےمحروم ہیں پہلے استشراق کا میدانِ کا ر، صرف مذہب اور اس کے متعلقات تھے، اس مرتبہ گلوبلائزیشن کا میدانِ کار مذہب اواس کے متعلقات کے ساتھ ساتھ اقتصاد وسیاست بھی ہیں، گویا گلوبلا ئزیشن کی اصطلاح نے استشراق اوراستعمار(سامراجیت) کو باہم متحد کر دیا، ماضی میں دونوں کی منزل اگر چہ ایک تھی، مگر راہیں الگ الگ تھیں،لیکن آج منزل بھی ایک ہے اور اس منزل تک پہنچنے کی راہ بھی ایک ہے۔

گلو بلا ئزیشن کی تعریف:

(۱) ڈاکٹر ’’ ترکی الحمد ‘‘ کہتے ہیں کہ:
 ’’ گلو بلائز یشن سرمایہ دارانہ نظام کی ترقی کا طریقۂ کار ہی نہیں، بل کہ اس طریقۂ کار کو اپنانے کی ہمہ گیر دعوت کا نام ہے، یہ پوری دنیا پر تسلط کے ارادے کو بلا واسطہ طور پر وجود بخشنے کا ایک ذریعہ ہے، مختصراً عالم گیریت،اقتدار و بالا دستی کی طرف پیش قدمی کرنے اور ہر نا فع چیز کو معدوم کرنے کا نام ہے۔ (روز نامہ الخلیج:۵/۲/ ۲۰۰۰)
(۲)ڈاکٹر ترکی نے ثقافتی عالم گیریت کو الگ سے ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
 جہاں تک ثقافتی عالم گیریت کا تعلق ہے، تو اس کی تعریف میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ مختلف ثقافتوں اورتہذیبوں کو غصب کر کے ان پر مغربی تہذیب مسلّط کرنا ہے ‘‘۔ (۲ ایضاً)
(۳) ڈاکٹر مصطفی النّشار ‘‘ کہتے ہیں کہ:
 ’’عالم گیرت کا مطلب ہر گز مختلف تہذیبوں کو ایک دوسرے کے قریب کرنا نہیں ہے، بل کہ اس کا مطلب تمام مقامی اور قومی تہذیبوں کو مٹا کر پوری دنیا کو مغربی رنگ میں رنگ دینا ہے‘‘۔ ( رسالہ المنتدی، عدد ۱۹۳، اگست ۱۹۹۹ء)
(۴) ڈاکٹر ’’ عبد الوہاب المسیری ‘‘ کہتے ہیں کہ:
 ’’ عالم گیریت مغربی روشن خیالی کی دعوت و تحریک کا نام ہے، جس کا مقصد تہذیبی اور انسانی خصوصیات کا خاتمہ کرنا ہے۔‘‘ ( ماہنامہ المستقبل عدد ۱۳۰، صفر ۱۴۲۳ھ مئی ۲۰۰۲ء)
(۵) ڈاکٹر ’’ مصطفی محمود ‘‘ کہتے ہیں کہ :
 ’’ گلو بلا ئز یشن وطن کی وطنیت اور قوم کی قومیت کا خاتمہ کرنے کے لیے معرضِ وجود میں آیا ہے، یہ کسی بھی قوم کے دینی، معاشرتی اور سیاسی انتساب کو ختم کرنے کا داعی ہے، تاکہ اس قوم کی حیثیت بڑی طاقتوں کےسامنےادنی خادم کی سی رہ جائے۔(رسالہ الاسلام وطن عدد ۱۳۸ص ۱۲ ۱۹۹۸ء)
 گلوبلائزیشن سیاسی و اقتصادی اصولوں، معاشرتی و ثقافتی اقتدار اور زندگی کے طرز اور طریق کے ڈھانچے کا نام ہے،جو پوری دنیا پر زبر دستی مسلّط کیا جائے گا اور لوگوں کو اسی کے کھینچے ہوئے دائرے میں زندگی گزارنےپرمجبورکیاجائے گا۔(العر ب والعو لمۃ از محمد عابد الجابری: ص ۱۳۷)
(۷) گلوبلا ئزیشن امریکی تہذیب اور وہاں کے طرز ز ندگی کو پو ری دنیا پر تھوپنے کی کوشس کا نام ہے، یہ ایک ایسا نظریہ ہے، جو سارے عالم پر بلاواسطہ اقتدار و بالا دستی کا عکاس ہے۔ ( ایضاً)
(۸) عالم گیریت سیکولر اور مادّیت پر فلسفے اور اس سے متعلق اقدار و قوانین اور اصول تصورات کو باشند گانِ عالم پر مسلّط کرنے کی کوشس کا نام ہے (۱)الاسلام والعولمۃ، از محمد ابراہیم المبروک ص : ۱۰۱، طبع قاہر ۃ ۱۹۹۹ء )
 (۹) گلوبلائزیشن ایک ایسی تحریک ہے، جس کا مقصد مختلف اقتصادی، ثقافتی اور معاشرتی نظاموں، رسوم و رواج اوردینی، قومی اور وطنی امتیازات کو ختم کر کے، پور ی دنیا کو امریکی نظریے کے مطابق، جدید سرمایہ دارانہ نظام کے دائرے میں لانا ہے۔( العولمۃ، از صالح الرقب :۶)
(۱۰)ڈاکٹر ’’صادق جلال العظم ‘‘گلوبلائزیشن کی تعریف کرتے ہیں کہ :’’یہ تمام ممالک کو ایک مرکزی ملک(امریکہ)کے رنگ میں رنگنے کا نام ہے ‘‘۔ (ماالعولمۃ ؟ا زحسن حنفی و صادق جلال ص :۱۳۶، طبع دارالفکربیروت)
(۱۱)بہت سے مفکر ین نے نہایت مختصر انداز میں عالم گیریت کی یہ تعریف کی ہے کہ :’’گلوبلائیزیشن کے معنی ’’حدود کا اختتام ‘‘یہ جامع تعریف بڑی طاقتوں کے منصوبے کی ترجمانی کرتی ہے کہ مستقبل میں ہر قسم کی حدبندی،خواہ اس کا تعلق اقتصادسے سیاست سے، تہذیب یا ثقافت سے، علم و دانش سے ہویا طرزِ زندگی سے، ختم کر دی جائے گی اور دنیا مختلف رنگوں کے بجائے ایک ہی رنگ کی ہو گی‘‘۔

 گلو بلائز یشن کی راہ کس نے ہموار کی ؟

 عالم گیریت کے پالیسی ساز اداروں نے جدید عالمی نظام، کو قابل عمل بنا نے کے لیے، جن وسائل کے ذریعے راہ ہموار کی، ان میں سے چند
مندرجہ ذیل ہیں :

(۱) آزاد عالمی تجارت :

 اس طرز تجا رت کا مقصد یہ ہے کہ ایک عالمی منڈی میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک تجارت کے میدان میں طبع آزمائی کریں، اس منڈی کے دروازے تمام عالمی اقتصاد ی طاقتوں کے لیے کھلے ہوے ہوں، اور وہ آزاد مقابلہ آرائی کے اصول کے تابع ہو ں۔(العولمۃ، از صالح الرقب:ص۸) ایسی صورت میں ترقی یافتہ ممالک کی کمپنیوں کاغالب آ جانا یقینی ہے، جن کے پاس اپنی مصنوعات کی تشہیر اوراس کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے اتنا سرمایہ ہے، جو بعض ملکوں کے سالانہ بجٹ سے بھی متجاوز ہے، ایسی مغربی کمپنیوں کے سامنے ترقی پذیر ممالک کی کمپنیاں باقی نہیں رہ پائے گی، جن کے پا س نہ تشہیر کے بھر پور وسائل ہیں اور نہ اپنی مصنوعات کو اعلی معیار کا حامل بنا نے کے لیے مطلوب سر ما یہ، اس لیے یہ کھلا بازار اقتصادی میدان میں ایک نظر یے کی حامل کمپنیوں کی اجا رہ داری اور عالم گیریت کے نفاذ کی راہ میں زینے کی حیثیت رکھتا ہے۔

(۲)براہ راست غیر ملکی سرما یہ داری :

 کسی ملک میں باہر کی کمپنیوں کا تجارت کر نا، اپنی کمپنیاں کھول لینا اور سرمایہ لگانا، ’’براہ راست غیرملکی سرمایہ داری‘‘ کہلاتا ہے،
اس کو اقتصادیات کی اصطلاح میں
Foreign Direct Investment (فارن ڈائرکٹ انوسٹمنٹ )کہا جاتاہے۔(ایضاً)
 عالمی طاقتوں نے ترقی پذیر ممالک سے معاہدے کر کے اور کانفرنسوں میں منشور جاری کر کے، دوسرے ممالک میں سرمایہ کاری کو قانونی حیثیت دے دی ہے، اب کوئی بھی کمپنی کسی بھی ملک میں تجارت کر سکتی ہے، اسی سنہر ےموقع کے ہاتھ آ جانے کے بعد، مغربی کمپنیاں ترقی پذیر ممالک میں لنگر انداز ہو گئیں اور وہاں کی اقتصادیات کونگلنا شروع کر دیا، یہ کمپنیاں اپنی مصنوعات کے ساتھ سا تھ مغربی اقدار، ثقافت اور تہذیب لاتی ہیں، مزید برآں ان کمپنیوں کی ترقی ممالک میں آمد اتنی کثیر المقاصد ہے کہ جہاں ان کو سرمایہ کاری کے نتیجے میں خود فائدہ پہنچتاہے،وہیں چند عالمی بنکوں کو بھی درست نفع ہوتا ہے، جو یہودی لابی کے زیر اثر ہیں، کیوں کہ عالمی کمپنیاں جوبھی سرمایہ لگاتی ہیں، وہ انہی عالمی بنکوں کے واسطوں سے لگایا جاتا ہے، اس لیے یہ عالمی بنک اس سرمایےسےبھاری نفع حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ تجارتی لین دین پر بھی نظر رکھتے ہیں اور اپنے ملک کی معیشت کو بھی تقویت پہنچاتے ہیں۔

(۳) ٹکنا لوجی کے میدان میں انقلاب :

 ٹکنالوجی کے میدان میں ترقی اس دور کا اہم ترین امتیاز ہے، جو ملک بھی اس میدان میں آگے ہے وہ اقتصادیات کے دروبست پر بھی حاوی ہے، اس ترقی کے نتیجے میں پوری دنیا ایک دوسرے کے قریب ہو گئی، مشرق و مغرب کی دریاں سمٹ گئیں اور لفظ ’’مسافت‘‘ کی اب کوئی حقیقت نہیں رہی، اس ترقی کی وجہ سے مال، سامان اورسروسز(خدمات) کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر نا کچھ مشکل نہیں رہ گیا ہے، انٹرنیٹ کے ذریعے ایک بٹن دباکرمطلوبہ چیز حاصل کر نا ایک حقیقت بن چکا ہے؛ لیکن ٹکنالوجی کے میدان میں ترقی بھی صنعتی ممالک کےحصے میں آئی ہے، جو اس ٹکنالوجی کی مدد سے اپنی صنعت کو مضبوط کر رہے ہیں اور مصنوعات کودنیاکےکونےکونے میں پہنچا رہے ہیں، ٹکنالوجی بالخصوص انفارمیشن ٹکنا لوجی نے عالم گیریت کی راہ کی تمام رکاوٹوں کو دور کر دیا ہے۔(ایضاً:ص۹)

(۴)کثیر الملکی کمپنیوں کا پھیلاؤ:

 موجودہ دور کو جہاں عالم گیریت کا دور کہا جاتا ہے، وہیں اس کو کثیر الملکی (ملٹی نیشنل) کمپنیوں کے دور سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں، اس لیے کہ یہ کمپنیاں گلوبلائزیشن کی اہم ترین کا آلۂ کار ہیں، اور عالمی اُفق پر ان کی بڑی حیثیت ہے، کیوں کہ جغرافیائی حدود کی پابندی نہ ہونے کی بنا پریہ کمپنیاں کئی ممالک میں سرمایہ کاری کرتی ہیں، اور ان کی اقتصادیات پرسانپ بن کر بیٹھ جاتی ہیں، اور پھروہی ہوتا ہے جوان کمپنیوں کو منظور ہوتا ہے، ترقی پذیر ممالک ان کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں، اور ان کے مالکان کے سامنے دست بستہ نظر آتے ہیں، کم از کم اقتصادی میدان میں ان کی خواہشات کے مطابق قوانین بنتے اور ٹوٹتے ہیں۔
 (العولمۃ ص:۹ بہ حوالہ: العولمۃ والعالم الإسلامی:ارقام و حقائق، از عبد اسما عیل، الاندلس الخضراء ۲۰۰۱ء)

عالم گیریت کی تمہید ات:

 اس گفتگو سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ گلوبلائزیشن کا مقصد مختصر الفاظ میں امریکنائزیشن(Americanization)یادوسرے الفاظ میں، پوری دنیا پر امریکی بالا دستی کو تھوپنا ہے۔ یہاں یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ عالم گیریت اچانک رونما نہیں ہوئی، بل کہ سرمایہ دار طاقتوں کی طرف سے اس کے لیے منصوبہ بند اور مؤثر کوششیں ہوئیں، میدان صاف کیا گیا، اور راہیں ہموار کی گئیں، اگر ہم گذشتہ نصف صدی کی تاریخ پرنظر ڈالیں، تو اندازہ ہو گا کہ بہت سے ایسے واقعات رو نما ہوئے ہیں، جن کو عالم گیریت کی تمہیدیامقدمےکےسواکچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔
 چناں چہ لیگ آف نیشنز اور پھر اقوام متحد ہ کا قیام عمل میں آیا، جس کے ذیلی اداروں میں ’’عالمی بنک‘‘اور’’انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ‘‘ قابل ذکر ہیں، جن کی سرپرستی میں عالم گیریت نے اقتصادی میدان میں فتح حاصل کی ہے، پھر ۱۹۴۷ء کو’’ جنیوا‘‘میں ۲۳صنعتی ملکوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا، جو ’’گاٹ‘‘ معاہدے (تجارت اورکسٹم ڈیوٹی پر ہونے والا معاہدہ)کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس معاہدے کا مقصد یہ تھا کہ آزاد تجارت کو فروغ دیاجائےاور معاہدے پردستخط کرنے والے ممالک، اپنی منڈیوں کے دروازے ایک دوسرے کے لیے کھول دیں،اس معاہدے نے۱۹۴۷ء میں صرف۲۳ممالک کی سرپرستی میں اپنا سفر شروع کیا، ۱۹۹۳ء تک اس میں ۱۱۷ممالک شریک ہوچکے تھے، اسی طرح کا ایک اور معاہدہ’’ماسٹریکٹ‘‘کے نام سے مشہور ہوا، جو ۱۵صنعتی ممالک کے درمیان عمل میں آیا۔
 بہت سے سیاسی واقعات بھی عالم گیریت کے لیے ’’مقدمۃ الجی‘‘ ثابت ہوئے، چناں چہ سرد جنگ کا اختتام ہوا، اس سے پہلے پوری دنیا دو طاقتوں کے درمیان منقسم تھی، روس کی شکست کے بعداس کے زیر اثر ممالک پر بھی امریکی اجارہ داری کا آغاز ہو گیا، سابق روسی صدر ’’میخائیل گوربا چیوف‘‘ نے امریکی اشارے پر ۱۹۸۵ء میں کمیونزم کے اقتصادی نظام کی اصلاح کا اعلان کیا، جس کو اس وقت’’بیروسٹویکا‘‘ کا نام دیا گیا، یہ اعلان درحقیقت کمیونزم‘‘ کی ناکامی اور ’’سوویت یونین‘‘ کے سقوط کا اعلان تھا، افغانستان کے بلند و بالا پہاڑوں سے ٹکرانے کے بعد، کمیونزم اسی سرزمین میں دفن ہو گیا، اور اس طرح دنیا کی دوسری بڑی طاقت، جو’’سوویت یونین ‘‘کے نام سے جانی پہچانی جاتی تھی،تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی۔ ۱۹۸۹ء میں ’’دیوار برلن‘‘ کے انہدام اور مشرقی و مغربی جر منی کے اتحاد کےبعد، ’’کمیونزم‘‘ کا مشرقی یورپ سے بھی جنازہ نکل گیا، پھر ۱۹۹۱ء میں خلیجی جنگ کا آغاز ہوا، جس کےبہانےامریکہ کو خلیج کے علاقے میں اپنے فو جی اڈے قائم کر نے کا موقع مل گیا، ان تمام واقعات نے امر یکہ کو عالمی اقتدار کے عرش پر بیٹھنے اور جدید عالمی نظام کی قیادت کر نے کا موقع فراہم کر دیا۔
 اپر یل ۱۹۹۵ء میں مرا کش کی راجدھانی ’’رباط‘‘ میں عالمی تجارت تنظیم (ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن) کا قیام عمل میں آیا، جو در اصل ’’گاٹ‘‘ معاہدے کی تجدید کی ایک کامیاب کوشش تھی، یہ تنظیم گلوبلائزیشن کونافذکرنےکےسلسلےمیں ’’عالمی بینک‘‘ اور انٹرنیشنل مانٹری فنڈ‘‘ کی مددگار کی حیثیت رکھتی ہے، عالم گیریت کی عمارت میں اس وقت آخری اینٹ رکھ دی گئی، جب سوئٹزرلینڈ کے شہر ’’جنیوا ‘‘میں فروری ۱۹۹۷ء کو عالمی تجارتی تنظیم کے بینر تلے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے آزادانہ استعمال سے متعلق عالمی معاہدہ ہوا، جس سے اس ٹکنالوجی کیاآزادانہ استعمال سے متعلق عالمی معاہدہ ہوا، جس سے اس ٹکنالوجی پر کنٹرول رکھنے والے ترقی یافتہ ممالک، خصوصاًامریکہ کو ترقی پذیر ممالک میں اپنے اقدار و نظریات اور اپنی تہذیب و ثقافت کو رواج دینے کا موقع مل گیا۔ مشرقی یورپ کی ’’ناٹو‘‘ میں شمولیت اور بہت سے عرب ممالک کے عالمی تجارت تنظیم ‘‘ کا ممبر بن جانے کی وجہ سے بھی گلوبلائز یشن کو نہایت سرعت کے ساتھ پھیلنے میں مدد ملی ہے، پھر اسرائیل کے اقتصادی ایجنڈا بھی عالم گیریت کے لیے مدد گار ثابت ہوئے، جن کا مقصد ’’عظیم تر اسرائیل کا خواب دیکھنے والے صہیونیوں کے مفادات کے مطابق، مشرق وسطی کی عالم کاری کرنا ہے، اپنے خواب کی تعبیر تلاش کرنے کے لیے انھوں نے عرب ممالک کے ساتھ امن معاہدوں اور اس ضمن میں اقتصادی معاہدوں کا سہارا لیا، جن کی سرپرستی کے لئے امریکہ ہمیشہ حاضرباش رہا، ان معاہدوں سے امریکہ کاسب سے بڑا حلیف اور عالم گیروں کا اصل وطن ’’اسرائیل ‘‘ جہاں سیاسی اعتبار سے مضبوط ہوا، وہیں اقتصادی اعتبار سے بھی طاقت ور بن گیا۔
 پھر مختلف ممالک میں قائم عالمی ’’اسٹاک ایکس چینجز‘‘ نے بھی عا لم گیریت کوا بھر نے میں بڑا تعاون دیا ہے،کیوں کہ ان اسٹا ک مارکیٹوں کی وجہ سے جو شخص جہاں بھی اور جتنا بھی سر ما یہ تجا رت میں لگا رہا ہے، اس کا سر مایہ عالمی سطح پر لگ رہا ہے اور عا لم گیریت کا مقصد بھی یہی ہے کہ سر ما یہ کاری کسی ملک میں محدود نہ رہے بلکہ عالمی سطح پر ہو، تا کہ آزادانہ عالمی تجا رت کو فروغ مل سکے۔
 یہ چند سیا سی اور اقتصاد ی حالات ہیں جنھوں نے ’’عالم گیریت کو روا ج دینے میں بنیا دی کرداراداکیاہےاوراسکواس نظر یے سے حقیقت اور فکر و خیال سے واقعے کا روپ دے د یا ہے، ان واقعات کےجائزےسےاندازہ ہو جا تا ہے کہ ’’عالم گیریت‘‘ اچانک پیدا نہیں ہو ئی، جد ید عالمی نظام بیٹھے بیٹھے نہیں بن گیا، بل کہ یہودی دماغوں نے سالہا سا ل کی کوششوں اور سازشوں سے گلو بلائزیشن کے لیے راہ ہموار کی اورایسےحالات پیداکیے کہ مذکورہ واقعات’’ نئے عالمی نظام ‘‘ کی تمہید بن گئے۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: