سیرتِ سیّدناحضرت حسینؓ

حضرت حسین ؓہجرت کے چوتھے سال 3شعبان پنجشنبہ 04ہجری کے دن آپ کی ولادت ہوئی۔آپ کا نام:حسینؓ ،کنیت:ابو عبد اللہ اور لقب :ریحانۃ النبی، سید شباب اہل الجنۃہے،
آپ کے والد حضرت علی المرتضیٰ ؓ(شیرِ خدا)اور والدہ سیدہ بتول جگر گوشہ رسولحضرت فاطمہ ؓبنتِ محمّدتھیں۔اس لحاظ سے آپ کی ذات گرامی قریش کا خلاصہ اور بنی ہاشم کا عطر تھی۔آپ کے بارے میں رسولِ اکرمکا ارشاد ہے کہ:
حسینؓ منی و انا من الحسین’ یعنی ‘حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسینؓ سے ہوں۔
شجرہ نسب:
حسیننﷺ علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف قریشی ہاشمی
پیدائش:
ابھی آپ شکم مادر میں تھے کہ حضرت حارث ؓکی صاحبزادی نے خواب دیکھا کہ کسی نے رسول اکرم کے جسم
اطہر کا ایک ٹکڑا کاٹ کر ان کی گود میں رکھ دیا ہے۔ انہوں نے آپ
سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! میں نے ایک ناگوار اور بھیانک خواب دیکھا ہے، آپ نے فرمایا کہ بیان کرو، آخر کیا ہے؟ چنانچہ آپ کےاصرار پر انہوں نے اپنا خواب بیان کیا ، آپ نے فرمایا: یہ تو نہایت مبارک خواب ہے، اور فرمایا کہ فاطمہ کےہاں لڑکا پیدا ہوگا اور تم اسے گود میں لوگی۔(مستدرک حاکم ج3 صفحہ176)
کچھ دنوں کے بعد اس خواب کی تعبیر ملی اور 3شعبان پنجشنبہ 04ہجری میں علی ؓکا کاشانہ حسینؓکے تولدسےرشک گلزار بنا، ولادت باسعادت کی خبر سن کر آپ تشریف لائے اور فرمانے لگے بچہ مجھے دکھاؤ، اس کا نام کیا رکھا ہے؟ والدین نے بچے کا نام حرب رکھا تھا، لیکن آپ کو یہ نام پسند نہ آیا پھر نبی نے نام بدل کر حرب سےحسینؓرکھا۔(اسد الغابۃ، ج2 ص 18)آپ نے نومولود بچے کو منگوا کر اس کے داہنے کان میں اذان اوربائیں میں اقامت کہی اور اپنی زبان منہ میں دے دیدی۔پیغمبر کا مقدس لعاب دہن حسینؓ کی غذا بنا۔
پھر فاطمہ زہرا ؓ کو ساتویں دن عقیقہ کرنے اور بچے کے بالوں کے مطابق چاندی خیرات کرنے کا حکم دیا، آپ کے حکم کے مطابق فاطمہ زہرا ؓ نے عقیقہ کیا۔(موطا مام مالک، کتاب العقیقۃ)آپ کی پیدائش سے تمام خاندان میں خوشی اور مسرت محسوس کی جاتی تھی۔
نشوو نما
پیغمبراسلام کی گود میں جو اسلام کی تربیت کاگہوارہ تھی اب دن بھردو بچّوں کی پرورش میں مصروف ہوئی ایک حسنؓدوسرے حسینؓ اور اس طرح ان دونوں کا اور اسلام کا ایک ہی گہوارہ تھا جس میں دونوں پروان چڑھ رہےتھے۔ایک طرف پیغمبر ُ اسلام جن کی زندگی کا مقصد ہی اخلاق انسانی کی تکمیل تھی اور دوسری طرف حضرت علیؓ جو اپنے عمل سے خدا کی مرضی کے خریدار بن چکے تھے تیسری طرف حضرت فاطمہ زہرا ؓ جو خواتین کے طبقہ میں پیغمبر کی رسالت کو عملی طور پر پہنچانے کے لیے ہی قدرت کی طرف سے پیدا ہوئی تھیں اس نورانی ماحول میں حسینؓ کی پرورش ہوئی۔
رسول کی محبت
حضرت محمّد اپنے دونوں نواسوں (حضرات حسن ؓو حسینؓ)کے ساتھ انتہائی محبت فرماتے تھے۔سینہ پربیٹھاتےتھے۔کاندھوں پر چڑھاتے تھے اور مسلمانوں کو تاکید فرماتے تھے کہ :ان سے محبت رکھو۔مگرچھوٹےنواسےکےساتھ آپ کی محبت کے انداز کچھ امتیاز خاص رکھتے تھے۔ایسا ہو اہے کہ نماز میں سجدہ کی حالت میں حسینؓ پشت ُ مبارک پرآگئے تو سجدہ میں طول دیا۔یہاں تک کہ بچہ خود سے بخوشی پشت پر سے علیٰحدہ ہوگیا۔اس وقت سر سجدے سے اٹھایا اور کبھی خطبہ پڑھتے ہوئے حسینؓ مسجد کے دروازے سے داخل ہونے لگے اور زمین پرگرگئے تو رسول نے اپنا خطبہ قطع کردیا منبر سے اتر کر بچے کوزمین سے اٹھایا اور پھر منبر پر تشریف لے گئے ۔
اخلاق و اوصاف
حضرت حسینؓ عصمت و طہارت کا مجسمہ تھے۔ آپ کی عبادت, آپ کے زہد, آپ کی سخاوت اور آپ کے کمال ُاخلاق کے دوست و دشمن سب ہی قائل تھے۔ پچیس حج آپ نے باپیادہ کئے۔ آپ میں سخاوت اور شجاعت کی صفت کو خودرسول
اللہ نے بچپن میں ایسا نمایاںپایا کہ فرمایا:حسین
ؓ میں میری سخاوت اور میری جراَت ہے۔چنانچہ آپکےدروازےپرمسافروں اور حاجتمندوں کا سلسلہ برابر قائم رہتا تھا اور کوئی سائل محروم واپس نہیں ہوتا تھا۔
اس وجہ سے آپ کا لقب ابوالمساکین ہو گیاتھا۔ راتوں کو روٹیوں اور کھجوروں کے پشتارے اپنی پیٹھ پراٹھاکرلےجاتےتھےاور غریب محتاج بیواؤں اور یتیم بچوں کو پہنچاتے تھے جن کے نشان پشت مبارک پر پڑ گئے تھے۔ حضرت ہمیشہ فرمایاکرتے تھے کہ :جب کسی صاحبِ ضرورت نے تمہارے سامنے سوال کے ليے ہاتھ پھیلا دیا تو گویا اس نے اپنی عزت تمہارے ہاتھ بیچ ڈالی۔ اب تمہارا فرض یہ ہے کہ تم اسے خالی ہاتھ واپس نہ کرو, کم سے کم اپنی ہی عزتِ نفس کا خیال کرو۔
غلاموں اور کنیزوں کے ساتھ آپ عزیزوں کا سا برتاؤ کرتے تھے۔ ذرا ذرا سی بات پر آپ انہیں آزاد کر دیتے تھے۔آپ
کے علمی کمالات کے سامنے دنیا کا سر جھکا ہوا تھا۔ مذہبی مسائل اور اہم مشکلات میں آپ کی طرف رجوع کی جاتی تھی۔ آپ رحمدل ایسے تھے کہ دشمنوں پر بھی وقت آنے پر رحم کھاتے تھے اور ایثار ایسا تھا کہ اپنی ضرورت کونظراندازکرکےدوسروں کی ضرورت کو پورا کرتے تھے۔ ان تمام بلند صفات کے ساتھ متواضع اور منکسر ایسے تھے کہ راستے میں چند مساکین بیٹھے ہوئے اپنے بھیک کے ٹکڑے کھا رہے تھے اور آپ کو پکار کر کھانے میں شرکت کی دعوت دی تو حضرت فوراً زمین پر بیٹھ گئے۔ اگرچہ کھانے میں شرکت نہیں فرمائی۔اس بناء پر کہ صدقہ آلِ محمّد پر حرام ہےمگرانکے پاس بیٹھنے میں کوئی عذر نہیں ہوا۔ اس خاکساری کے باوجود آپ کی بلندی مرتبہ کا یہ اثر تھا کہ جس مجمع میں آپ تشریف فرماہوتے تھے لوگ نگاہ اٹھا کر بات نہیں کرتے تھے ۔ آپ کی اخلاقی جراَت , راست بازی اور راست کرداری , قوتِ اقدام, جوش عمل اور ثبات و استقلال , صبر و برداشت کی تصویریں کربلا کے مرقع میں محفوظ ہیں۔ ان سب کے ساتھ آپ کی امن پسندی یہ تھی کہ آخر وقت تک دشمن سے صلح کرنے کی کوشش جاری رکھی مگر عزم وہ تھا کہ جان دے دی جو صحیح راستہ پہلے دن اختیار کر لیا تھا اس سے ایک انچ نہ ہٹے۔ انہوں نے بحیثیت ایک سردار کے کربلا میں ایک پوری جماعت کی قیادت کی۔ اس طرح کہ اپنے وقت میں وہ اطاعت بھی بے مثل اور دوسرے وقت میں یہ قیادت بھی لاجواب تھی۔
حسینؓاور عہدِ نبوی:
سیدنا حسینؓکے بچپن کے حالات میں صرف ان کے ساتھ آپ کے پیار اور محبت کے واقعات ملتےہیں،آپنےان کے ساتھ خلاف معمول شفقت فرماتے تھے، آپ تقریباً روزانہ دونوں بھائیوں کودیکھنےکےلئے سیدہ فاطمہ ؓ کے گھر تشریف لے جاتے اور دونوں بھائیوں کو بلاکر پیار کرتے اور کھلاتے، دونوں بھائی آپ نے بے حد مانوس اور شوخ تھے، لیکن آپ نے کبھی کسی شوخی پر انہیں تنبیہ نہیں فرمائی بلکہ ان کی شوخیاں دیکھ کو خوش ہوتے تھے، اور جب آپ کا سایہ شفقت سر سے اٹھ گیا تو اس وقت سیدنا حسینؓکی عمرسات برس کی تھی
عہد صدیقی اور حسینؓ :
سیدنا ابو بکر صدیق ؓکے زمانہ خلافت میں سیدنا حسینؓکی عمر 7 ,8 سال سے زیادہ نہ تھی اس لئے ان کے عہد کا کوئی خاص واقعہ قابلِ ذکر نہیں ہے۔
عہدِ فاروقی اور حسینؓ :
سیدنا عمر ؓکے ابتدائی عہد خلافت میں بھی سیدنا حسینؓکم سن تھے، البتہ آخری عہد میں سنِ شعور کو پہنچ چکے تھے،لیکن اس عہد کی مہمات میں ان کا نام نظر نہیں آتا۔اورسیدنا عمر ؓبھی سیدنا حسینؓپر بڑی شفقت فرماتے تھے اور قرابت رسول کا خاص خیال رکھتے تھے، چنانچہ جب بدری صحابہ کے لڑکوں کا دودو ہزار وظیفہ مقرر کیا تو سیدنا حسینؓکا قرابتِ رسول کا خیال رکھتے ہوئےپانچ ہزار ماہوار وظیفہ مقرر کیا۔(فتوح البلدان، بلاذری عطا عمر بن الخطاب)
سیدنا عمر ؓکسی بھی چیز میں سیدنا حسینؓکی ذات گرامی کو نظر انداز نہ ہونے دیتے ایک مرتبہ یمن سے بہت سے حلّے آئے، سیدنا عمر ؓنے تمام صحابہ کرام ؓ میں تقسیم کر دیئے، سیدنا عمر ؓروضہ نبوی اورمنبر کے درمیان تشریف فرماتھے لوگ ان حلّوں(جبُّوں) کو پہن کو شکریہ کے طور سیدنا عمر ؓکو آکر سلام کرتے تھے، اسی دوران سیدنا حسنؓو حسینؓ اپنے گھر سے نکلے تو ان کا گھر(حجرہ) مسجد کے درمیان میں تھا۔ سیدنا عمر ؓکی نظر ان دونوں بھائیوں پر پڑی تو ان کے جسموں پر حلے نظر نہ آئے یہ دیکھ کو سیدنا عمر ؓکو تکلیف پہنچی اور لوگوں سے فرمانے لگے کہ تمہیں حلے پہنا کر مجھے کوئی خوشی نہیں ہوئی، صحابہ کرام ؓ نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ حسنؓوحسینؓکے جسم ان حلوں سے خالی ہیں، اس کے بعد یمن کے حاکم کو خط بھیجا کہ جلد از جلد دو جبے بھیجیں۔ چنانچہ جبے منگوا کردونوں بھائیوں کو پہنانے کے بعد فرمایا، اب مجھے خوشی ہوئی ہے، ایک روایت میں ہے کہ پہلے والے جبے سیدنا حسنؓو حسینؓکے لائق نہ تھے،(ابن عساکرج4 ص321/232)
سیدنا عمر ؓسیدنا حسینؓکو اپنے صاحبزادے عبد اللہ ؓسے بھی زیادہ پسندکرتےتھے، جو عمر اور ذاتی فضل و کمال میں ان دونوں پر فائق تھے، ایک مرتبہ عمر ؓمنبر نبوی خطبہ دے رہےتھے، اتنے میں حسینؓآئے اور منبر پر چڑھ کر کہا کہ میرے باپ(رسول اللہ ) کے منبر سے اترو اور اپنے باپ کے منبر پر جاؤ، سیدنا عمر ؓاس طفلانہ شوخی پر فرمایا کہ میرے باپ کا تو کوئی منبر ہی نہیں تھا،، اور انہیں اپنے پاس بٹھالیا اور خطبہ ختم کرنے کے بعد انہیں اپنے ساتھ گھر لے گئے، راستے میں سیدنا عمرؓنے پوچھا کہ یہ تم کوکس نے سکھایا؟سیدنا حسینؓنے جواب دیا کہ واللہ ! کسی نے نہیں۔ پھر سیدناعمر ؓنے فرمایاکہ کبھی کبھی میرے پاس آیا کرو، چنانچہ اس ارشاد کے بعد ، ایک مرتبہ سیدناحسینؓان کے پاس گئے، اس وقت سیدنا عمر ؓسیدنامعاویہ ؓکے ساتھ گفتگو کر رہے تھے اور ابن عمرؓدروازے پر کھڑے تھے، سیدنا حسینؓبھی ان ہی کے پاس کھڑےہوگئے اور سیدنا عمر ؓسے بغیر ملے واپس چلے گئے اس کے بعد جب سیدنا عمر ؓسے ملاقات ہوئی توپوچھا کہ تم آئے کیوں نہیں؟ سیدنا حسینؓنے جواب دیا کہ میں ایک مرتبہ آیا تھا، مگر آپ سیدنا معاویہ ؓکے ساتھ محو گفتگو تھے، اس لئے میں عبد اللہ کے ساتھ کھڑا رہا، پھر ان کے ساتھ لوٹ گیا،سیدنا عمر ؓنے فرمایا کہ تم ان کا ساتھ دینے کی کیا ضرورت تھی، تم تو ان سے زیادہ حقدار ہو، جو کچھ ہماری عزت ہے، وہ اللہ کے بعد تم ہی لوگوں کی دی ہوئی ہے۔(اصابہ ج 2 ، ص 150)
عہدِ عثمانی اور حسینؓ :
سیدنا عثمان ؓکے زمانہ خلافت میں سیدنا حسینؓپورے جوان ہوچکے تھے۔چنانچہ سب سے پہلے اسی عہد میں میدانِ جہاد میں قدم رکھا اور س 30 ھجری میں طبرستان کی فوج کشی میں مجاہدانہ شریک ہوئے۔(ابن اثیرج3 ص 83)
پھر جب سیدنا عثمان ؓکےخلاف بغاوت برپا ہوئی اور باغیوں نے قصر خلافت کا محاصرہ کیا تو سیدنا علی نے دونوں بھائیوں سیدنا حسنؓو حسینؓ کو سیدنا عثمان ؓجو کہ ان دونوں بھائیوں کا خالو تھا، کی حفاظت پر مامور کیا کہ باغی اندر گھسنے نہ پائیں، چنانچہ حفاظت کرنے والوں کے ساتھ ان دونوں نے بھی نہایت بہادری کے ساتھ باغیوں کو اندر گھسنے سے روکے رکھا اور جب باغی مکان پر چڑھ کر اندر گھس گئے اور سیدنا عثمان ؓکو شہید کر ڈالا اور جب سیدنا علی ؓکو شہادت کی خبر ہوئی تو انہوں نے دونوں بیٹوں کو بلا کر سخت ڈانٹا، اور باز پرس کی کہ تمہاری موجودگی میں باغی اندر کیسےگھس گئے؟(تاریخ الخلفا للسیوطی، ص 159)
شہادت حضرت حسینؓ:از قلم مفسر قرآن ابن کثیر
ؒ
حضرت حسینؓ کی شہادت کا دلدوز واقعہ بروز جمعہ 10محرم الحرام سن 61 ہجری (10 اکتوبر، 680 عیسوی)کو پیش آیا آپ کی شہادت کا واقعہ عراق کے اندر طف کے پاس ایک جگہ کربلا میں پیش آیا تھا۔اس وقت آپ کی عمر 58 سال کے قریب تھی۔حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ بارش کے فرشتہ نے اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضری کی اجازت چاہی آپ نے اسے شرف باریابی کا موقع دیا ، ام سلمہ ؓ سے فرمایا کہ دروازے کی طرف دھیان دینا
کوئی اندر نہ آنے پائے،لیکن حضرت حسین
ؓ کودتے پھاندتے اللہ کے رسول تک پہنچ گئے اور آپ کے کندھے مبارک پر کودنے لگے۔
فرشتے نے فرمایا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ اس سے محبت کرتے ہیں ؟
آپ نے فرمایا : کیوں نہیں۔!
فرشتے نے کہا کہ :آپ کی امت اسے قتل کردے گی اور اگر آپ چاہیں تو وہ مٹی لاکر آپ کو دکھلا دوں جہاں اسے قتل
کیا جائے گا۔
پھر فرشتے نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا اور لال رنگ کی ایک مٹھی مٹی اللہ کے رسول کی خدمت میں رکھ دی(مسنداحمد،ج:3، ص:242۔265)
(مسند احمد کے محققین نے اس حدیث کو ضعیف بتلایا ہے ، لیکن اس معنی میں متعدد روایات آئی ہیں جس سے معلوم ہوتاہے کہ اس کی کچھ نہ کچھ اصل ضرور ہے چنانچہ حضرت ذہبی لکھتے ہیں کہ اس کی سندحسن ہے دیکھئے السیر :3/289)
نجی بن سلمہ الحضرمی سے مروی ہے کہ میں حضرت علی ؓ کے ساتھ صفین جارہا تھا جب فرات کے کنارے پہنچے تو آپ نے ہمیں آواز دی اور فرمایا : اے ابو عبد اللہ ذرا ٹھہرجاؤ۔ ہم نے عرض کیا۔ آپ کیا چاہتے ہیں ؟
فرمانے لگے کہ ایک دن میں اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہوا ، دیکھا کہ آپ کی مبارک آنکھوں میں آنسو ہیں۔ہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول آپ کو کس بدبخت نے ناراض کیا؟آپ کو کس نے رلایا ؟
آپ نے فرمایا کہ ابھی ابھی ہمارے پاس سے جبرئیل علیہ السلام تشریف لے گئے اور بتلایا کہ حسینؓ فرات کےکنارے شہید کئے جائیں گے اور فرمایا کہ کیا تم اس مٹی کو سونگھنا اور دیکھنا چاہتے ہو ؟ پھر اپنا ہاتھ بڑھا کر ایک مٹھی مٹی مجھے دے دی۔اسے دیکھ کر مجھے سے برداشت نہیں ہوا اور میری آنکھیں بھر آئیں۔( مسند احمد :1/85)
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ :ٹھیک دوپہر کے وقت اللہ کے رسول کو ہم نے خواب میں دیکھا کہ آپ کے بال اور چہرہ مبارک غبار آلود ہے اور آپ کے ساتھ ایک شیشی ہے جس میں خون ہے۔
ہم نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں یہ کیا چیز ہے آپ نے فرمایا کہ یہ حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے۔ (مسند احمد :1/283)(اس معنی میں ایک روایت حضرت ام سلمہ ؓ سے سنن الترمذی :3771 میں موجود ہے)
اس حدیث کے راوی عمار بیان فرماتے ہیں کہ :جب اس کا حساب لگایا تو حضرت حسینؓ کی شہادت کاواقعہ اسی دن پیش آیا تھا۔(علامہ احمد شاکر اور دوسرے بہت سے اہل علم نے اسے صحیح بتلایا ہے)
طبقات ابن سعد میں ہے حضرت شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ام المومنین ام سلمہ ؓ کے پاس موجود تھے کہ باہر سے ایک لونڈی کے چیخنے کی آواز سنائی دی،اور اسی حالت میں وہ ام سلمہ ؓ تک پہنچ کر کہنے لگی کی
حضرت حسین
ؓ کو شہید کردیا گیا۔
ام المومنین نے فرمایا:بدبختوں نے ایسا کردیا۔اللہ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھردے یہ کہہ کر وہ بیہوش ہوکر
گرگئیں۔ یہ دیکھ کر ہم لوگ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔ ( سیر اعلام النبلاء :3/318)
تاریخ بغداد میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے ارشاد فرمایا کہ :اللہ تبارک وتعالی نے حضرت محمّد کی طرف وحی کی کہ ہم نے یحی بن زکریا علیہ السلام کے بدلے ستر ہزار بنو اسرائیل کو قتل کیاتھااورحسینؓکےبدلےسترہزار اور ستر ہزار قتل ہوں گے۔
شیعوں نے عاشوراء سے متعلق بہت ہی مبالغہ آمیزی سے کام لیا ہے اور بہت ہی جھوٹی حدیثیں اور قصے گڑھ لئے ہیں ،جیسے کہ اس دن سورج میں ایسا گہن لگا کہ دوپہر میں تارے نظر آنے لگے۔اور جب بھی کوئی پتھر اٹھایا گیا تو اس کےنیچے جمع ہوا خون تھا۔آسمان کے کناروں پر دم حسینؓ کی وجہ سے سرخی چھاگئی۔ان دنوں جب سورج نکلتا تھا تواس کی شعاعیں ایسی لگتی تھیں کہ گویا سارا آسمان ایک خون کے لتھڑا جیسا ہوگیاہے۔ستارے ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے ،آسمان سے خون کی بارش ہوئی۔اس سے قبل آسمان میں سرخی نہ تھی وغیرہ۔
اور جب حسینؓ کا سر گورنر ہاوس میں لایا گیا تو دیواروں سے خون بہنے لگا اور تین دن تک زمین بالکل تاریک رہی۔اس دن جس کسی نے بھی مشک اور زعفران کا استعمال کیا وہ جل کر راکھ ہوگیا۔بیت المقدس میں جب بھی
کوئی پتھر اٹھایا گیا اس کے نیچے جمع شدہ خون ضرور ملا۔اور حسین
ؓ سے لوٹے ہوئے اونٹوں کو لوگوں نے ذبح کرکےپکایا تو وہ ایلوا جیسا کڑوا ہوگیا۔اسی قسم کی اور بھی بہت سی من گھڑت باتیں جو سرتاپا بے بنیاد ہیں شیعوں نے لوگوں میں رائج کردی ہیں۔
ہاں جو باتیں قاتلین حسینؓ کے مصائب اور فتن میں پڑنے سے متعلق نقل کی گئی ہیں ان میں سے اکثر صحیح ہیں کیوں کہ جن لوگوں نے آپ کو شہید کیا تھا ان میں کا شاید ہی کوئی ہو جو دنیاوی مصیبت سے محفوظ رہا ہو۔اس دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے سبھی کسی نہ کسی مہلک مرض میں ضرور مبتلا ہوئے ہیں اور اکثر تو پاگل اور مجنون ہوکر مرے ہیں شیعوں اور رافضیوں نے حسینؓ کی شہادت سے متعلق بہت زیادہ غلط بیانیاں اور بہتان سے کام لیا ہے۔اور یہاں پر اب تک جو کچھ بھی ہم نے ذکر کیا وہ کافی ہے حالانکہ بہت سی وہ باتیں جو ہم نے ذکر کی ہیں ان پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔اگر ابن جریر اور دوسرے علماء نے ان کا تذکرہ نہ کیا ہوتا تو میں بھی انہیں نہ چھیڑتا کیوں کہ یہ تفصیلات لوط بن یحی کی بیان کردہ ہیں جو شیعی اور ائمہ کے نزدیک ضعیف ہے۔لیکن چونکہ وہ تاریخی روایات کا حافظ ہے اور ان واقعات سے متعلق بہت سی تفصیلات صرف اسی کے پاس ملتی ہیں اس لئے بعد کے مورخین نے انہیں نقل کیا ہے۔اب اللہ ہی بہتر جانتا
ہے کہ ان میں حقیقت اور سچائی کہاں تک ہے۔
چوتھی صدی ہجری کے قریب حکومت بنی بویہ کے رافضی اس سلسلے میں بہت زیادہ آگے بڑھے ، بغداد میں اور اس کےارد گرد بازاروں میں عاشوراء کے دن ڈھول پیٹے گئے۔ سڑکوں اور راستوں پر راکھ اور مٹیاں پھینکی گئیں۔ دکانوں پر ٹاٹ اٹکائے گئے۔ لوگوں نے غم و ماتم کا اظہار کیا بہت سے لوگوں نے اس رات پانی پینا ترک کیا تاکہ حضرت حسینؓؓکی موافقت ہو کیوں کہ آپ پیاسے شہید کئے گئے تھے۔
اور اسی پر بس نہیں بلکہ مزید براں عورتیں بے پردہ ، اپنے چہروں کو کھولے ہوئے ، نوحہ وماتم کرتی ہوئی اپنےچہرےاورسینوں کو پیٹتی ہوئی ننگے پیر بازاروں میں نکلتی تھیں۔ اس کے علاوہ اور بہت سی بری بدعتیں ، خرافاتیں اوربدتمیزیاں ایجاد کی گئیں جس سے ان کا مقصد دولت بنی امیہ کو بدنام کرنا تھا۔ کیونکہ حسینؓ انہیں کے عہد حکومت میں شہید کئے گئے تھے۔
اس کے برعکس شام کے ناصبیوں نے یوم عاشوراء کو شیعوں اور رافضیوں کی مخالفت میں اچھے سے اچھے قسم کا کھانا پکوایا ،نہانے دھونے کا اہتمام کیا۔خوشبو و عطر کا استعمال کیا۔اچھے سے اچھا کپڑا پہنا اور اس دن کو یوم عید قرار دیا۔
اس دن طرح طرح کے کھانے کا انتظام کیا۔جس سے ان کا مقصد رافضیہ کی مخالفت اور دشمنی تھی۔
کچھ لوگوں نے آپ کے قتل کی یہ تاویل کی کہ آپ مسلمانوں کے بیچ پھوٹ ڈالنے آئے تھے جب کہ اس وقت مسلمان ایک حضرت کی بیعت پر متفق تھے کیوں کہ ایسے کام سے ہر مسلمان کو منع کیا گیا ہے جیسا کہ مسلم شریف میں ہے۔ حالانکہ اگر کچھ نادان لوگوں نے یہ تاویل کی بھی تو ان کے لئے کسی بھی صورت میں یہ جائز نہیں تھا کہ حسینؓ کوقتل کرتے بلکہ ان کے اوپر واجب تھا کہ جن تین باتوں کا مطالبہ ان سے حضرت حسینؓ نے کیا تھا اسے مان لیتے۔۔اسی لئے بہت سے اگلے پچھلے ائمہ نے ان کے اور ان کے ساتھیوں کے قتل کو ناپسند کیا۔ہاں ! کوفہ کےکچھ ملعون لوگ تھے جنہیں اس سے خوشی حاصل ہوئی ہے اور وہ اکثر وہی لوگ تھے جنہوں نے آپ کو خط و کتابت کرکے بلایا تھا تاکہ اپنے گندے مقاصد اور غلط خواہشات تک رسائی حاصل کریں۔ اسی لئے جب عبید اللہ بن زیاد کو ان کا مقصد معلوم ہوا کہ وہ کچھ دنیاوی مال و متاع چاہتے تھے تو انہیں دے کر ان کا مقصد پورا کیا اور ڈرا دھمکا کر اور کچھ کو لالچ دلا کر حضرت حسینؓ سے انہیں روکا۔نتیجۃ وہ حضرت حسینؓ کا ساتھ چھوڑ کر ہٹ گئے اور پھر آپ کو شہید کر ڈالا۔اور یہ بھی حقیقت ہے کہ پوری فوج اس حادثہ پر راضی نہیں تھی اورنہ ہی یزید اس پر راضی تھا۔
اور ویسے تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ یزید نے اسے زیادہ ناپسند بھی نہیں کیا۔لیکن جہاں تک گمان غالب ہے کہ اگر شہادت سے پہلے حضرت حسینؓ کی ملاقات اس سے ہوجاتی تو انہیں معاف کردیتا جیسا کہ اس کے باپ نے اس سےکہاتھااورخوداس نے اس کا اقرار کیا اور عبیدا للہ بن زیاد کو برا بھلا کہا اور اس پر لعنت بھیجی۔ لیکن نہ تو اسے معزول کیا اور نہ ہی اس کےپاس ناراضگی کا خط لکھا۔
اس لئے ان کی شہادت پر غمگینی مسلمانوں کا حق ہے کیونکہ وہ مسلمانوں کے سردار ہیں ، علماء صحابہ میں سے ہیں آپکے نواسے اور آپ کی سب سے پیاری اور افضل بیٹی کے صاحبزادے ہیں ، آپ بڑے ہی بہادر اور عبادت گزاراورسخی تھے۔
لیکن کسی مسلمان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ ان خرافات کو جائز سمجھے جو شیعہ کوتے ہیں جیسے چیخ وپکار اور رونا چلانا اور شاید یہ سب ریا و نمود ہے کیونکہ ان کے والد حضرت علی ؓ جو ان سے افضل و بہتر تھے انہیں شہید کیا گیا لیکن ان کے شہادت کے دن کو یوم ماتم نہیں منایا گیا ، حضرت علی ؓ کا یوم شہادت جمعہ 17رمضان المبارک سن 40 ہجری ہے جب کہ آپ صبح کی نماز کے لئے جارہے تھے۔اسی طرح حضرت عثمان غنی ؓ جو اہل سنت و الجماعت کے نزدیک حضرت علی ؓ سے بھی افضل ہیں بدبختوں نے انہیں اپنے ہی گھر میں محصور کرکے ایام تشریق کے موقعہ پر ان کا کھانا پانی بند کرکے بھیڑ بکری کی طرح ذبح کر ڈالا لیکن لوگوں نے ان کے یوم شہادت کو یوم ماتم نہیں ٹھہرایا ،اس سے بھی آگے دیکھیں کہ حضرت عمر ؓ جو ان تمام سے افضل تھے نماز کی حالت میں قرآن پڑھتے ہوئے انہیں شہید کیا گیا لیکن ان کے بھی یوم شہادت کو یوم ماتم نہیں بنایا گیا ،ا سی طرح اس امت کے صدیق جو حضرت عمر ؓ سے بھی افضل تھے لیکن لوگوں نے ان کے یوم وفات کو رونے اور سینہ کوبی کا دن نہ سمجھا۔
حتی کہ اگلے پچھلے مخلوقات کے سردار کو بھی اللہ تعالی نے دوسرے انبیاء کی طرح اس دنیا سے اٹھا لیا لیکن آپ کے یوم وفات کو بھی کسی نے یوم ماتم نہ قرار دیا جیسا کہ ان جاہلوں نے حضرت حسینؓ کے یوم شہادت کو بنایا ہے اور نہ ہی کسی نے ان خرافات مثلا سورج کا گہن میں آجانا وغیرہ کا تذکرہ کسی کی شہادت یا وفات کے موقعہ پر کیا ہے۔
اس دن کا سب سے اچھا کام
سب سے بہتر کام جو اس قسم کی کسی مصائب اور یوم شہادت سے متعلق کیا جائے وہ یہ ہوسکتا ہے:
حضرت علی بن حسینؓ زین العابدین اپنے نانا اللہ کے رسول سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا : 
ما من مسلم یصاب بمصیبۃ فیتذکرھا و ان تقام عہدھا فیتحدث لھااسترجاعا الا اعطاہ اللہ من الاجر مثل یوم اصیب منھا
یعنی کسی مسلمان کو اگر کسی مصیبت پہونچتی ہے اور مدت گزر جانے کے بعد بھی اسے یاد کرتا ہے اور یاد کرکے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ لیتا ہے تو اللہ تبارک وتعالی اسے اتنا ہی اجر وثواب دیتا ہے جتنا کہ مصیبت پہونچنے کے دن دیا تھا۔( رواہ احمد و ابن ماجہ ۔ضعیف جدا – ضعیف الجامع)(البدایہ و النھایہ :8/203)

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: