حضرت ابوبکر صدیق ؓ : 01

آپ ؓ سید السادات تھے، جب دیات کا معاملہ آپ ؓ کے سپرد کیا جاتا تو لوگ آپ ؓ کی تصدیق کرتے اور جب کسی دوسرے کے حوالہ کیا جاتا تو لوگ اس کو رسوا کرتے۔ آپ ؓ رفیع المرتبت اور عالی شان رکھتے تھے، آپ ؓ کی بات سنی جاتی تھی۔
نیز آپ
ؓ تجربہ کار تاجر اور صاحب بصیرت انسان تھے، آپ خواب و تعبیر کے بھی بڑے ماہر تھے عمدہ و اعلیٰ نسب اورخوب روئی کی وجہ سے عتیق کے نام سے موسوم ہوئے، آپ ؓ کی ذات میں کوئی قابل عیب چیز نہ تھی، آپ ذہین وفطین اور صائب الرائے بھی تھے، آپ ؓ خوبرو اور حسین چہرہ کے مالک تھے، رنگ سفید اور جسم دبلا تھا، آنکھیں اندر کودھنسی ہوئی تھیں، چہرے پر گوشت کم تھا، پیشانی روشن تھی داڑھی مبارک ہلکی تھی، نیز آپ ؓ حضورِ اکرم سے والہانہ محبت رکھتے تھے، آپ ؓ بلاتردد اور بلاتامل مسلمان ہوئے، آپ ؓ اعلیٰ ایمان کی نعمت سے سرفراز ہوئے، آپ ؓ نے دین کی خدمت اورکمزور مسلمانوں کو غلامی سے آزادی دلانے کے لیے اپنا مال وقف کر دیا، آپ ؓ مشرکین کی اذیتوں سے دو چار ہوئے۔ پھر جب ان کی تکلیفیں اور اذیتیں حد سے بڑھ گئیں تو آپ ؓ نے مکہ کو چھوڑا اوروہاں سے ہجرت کی، ابن الدغنہ کی پناہ پر واپس آگئے لیکن پھر اس کی پناہ کو ٹھکراتے ہوئے خدائے واحد و قہّار کے دین کا علم بلند کیا۔ آپ ؓ نے واقعۂ معراج میں بھی آنحضرت کی تصدیق کی اور حضور کا خوب دفاع بھی کیا۔ جس کی وجہ سے نبی کریم نے آپ ؓ کو ’’صدیق‘‘ کے لقب سے نوازا، حضور اقدس آپ ؓ کے حبیب و صدیق تھے، آپ ؓ نے اپنی صاحبزادی حضرت عائشہ طاہرہ وعفیفہ r کا نکاح آنحضرت سے کیا۔ آپ ؓ نے سحری کے وقت حضورِاکرم کے ساتھ ہجرت فرمائی، آپ ؓ غارِ ثور میں ’’ثانی اثنین‘‘ تھے، حضور اقدس کی رفاقت میں کئی غزوات میں شریک رہے، مشکلات کا مقابلہ کیا اور لڑائیوں میں جوانمردی دکھائی۔اللہ تعالیٰ نے آپ ؓ کو فتوحات سے نوازا۔ آپ ؓ بڑے شب بیدار اور دن کو روزہ رکھنے والے تھے، عوام الناس کے ساتھ بڑے متواضع و منکسرالمزاج تھے۔ دنیا سے بے رغبت اور دین کے عالم اور اس پر عمل کرنے والے تھے، آپ ؓ فضائل و خیرات کے جامع تھے، آپ ؓ نے نیکی کی کوئی راہ نہیں چھوڑی، آپ ؓ بڑی نرم طبیعت والے تھے کہ آنسو جلد نکل آتے تھے، آپ ؓ روشن چہرے والے تھے، آپ ؓ متقی اور پرہیز گار تھے، حضور نبی کریم نے آپ ؓ کو جہنم سے آزادی اور نیک لوگوں کے ہمراہ جنت میں داخل ہونےکی بشارت سنائی۔
جب لوگوں نے آپ ؓ کے دستِ مبارک پر بیعت خلافت کی تو آپ ؓ نے اسے چھوڑ کر گھر میں بیٹھ گئے، لیکن جب لوگوں نے آپ ؓ ہی کو اپنا امام بنانا طے کر لیا تو آپ ؓ نے حضرت اسامہ ؓ کا لشکر روانہ کیا،مرتدوں اور زکوٰۃ نہ دینے والے سرکشوں کے خلاف قتال کیا اور مختلف علاقوں میں اسلامی لشکر روانہ کیے جس کے دبدبے سے بادشاہوں کے قدم ڈگمگا گئے اور ایوان ہل گئے۔ آپ ؓ کو اس میں کامیابیاں اور فتوحات حاصل ہوئیں، آپ ؓ نے قرآن جمع کیا اور دین و ایمان کی نشر و اشاعت فرمائی۔ آپ ؓ خطیب بلیغ، خلیفہ معظم اور رأفت و حلم اور دین و علم جیسی صفات سے متصف تھے۔ آپ ؓ سابق الاسلام تھے، آپ سلام کو رواج دینے اور نماز کی امامت کرنے میں سب پر فائق اور سبقت لے جانے والے تھے۔ آپ ؓ خلیفہ بنے تو آپ ؓ نے بڑوں کے ساتھ اکرام و احترام اور چھوٹوں کے ساتھ محبت و شفقت کا رویہ رکھا۔ آپ ؓ کی نظر میں کمزور شخص طاقتور تھا یہاں تک کہ وہ اپنا حق وصول کر لے اور طاقتور آدمی کمزور تھا جب تک کہ اس سے دوسرے کا حق وصول کر لیا جائے۔ آپ ؓ خود پیدل چلتے لیکن دوسرے سپہ سالار سوار ہوتے۔ آپ ؓ خود اپنے ہاتھ سے بکریوں کا دودھ نکال کر محلہ کے بچوں کو دیتے اور پیتے۔ آپ ؓ نے چار شادیاں کیں اور آپ ؓ کی اولاد میں چھ بچے بچیاں تھیں۔
آپ ؓ عظیم المرتبت اور رقیقالقلب تھے۔ دنیا میں بھی حضور کے رفیق تھے اور قبر میں بھی آپ کے مصاحب بنے۔ نیز حوضِ کوثر پر بھی آنحضرت کے جلیس اور پیشی کے
دن بھی آنحضور
کے رفیق ہوں گے۔ آپ ؓ نے 13ھ کو مدینہ منورہ میں وفات پائی اور خیر البریہ، خاتم الانبیاء و امام الاصفیائ کے جوارِ مبارک میں مدفون ہوئے۔
تاریخ اسلام کے شہسوار حضرت ابوبکر ؓ نے ایک دن قریش کی زبانی ایک بات سنی جس کی وجہ سے قریش کے لوگ آپ ؓ کے رفیق و صدیق محمد امین کو طعن و تشنیع کر رہے تھے، آپ ؓ فوراً آنحضور کے پاس پہنچے اور دوزانو ہو کر نرم انداز میں آپ سے دریافت کرنے لگے: اے محمد! قریش مکہ جو کہہ رہے ہیں کہ آپ نے ان کے معبودوں کو چھوڑ دیا ہے اور ان کو بے وقوف قرار دیا ہے کیا یہ بات حق اور درست ہے؟ حضورِ اقدس نے فرمایا: ہاں، میں اللہ کا رسول اور اس کاپیغمبر ہوں، مجھے اللہ تعالیٰ نے اس لیے مبعوث فرمایا کہ میں اس کے پیغام کو لوگوںتک پہنچائوں اور میں تجھے بھی اللہ کی طرف حق کے ساتھ دعوت دیتا ہوں، خدا گواہ ہے کہ یہ بات حق ہے، اے ابوبکر ؓ ! میں تجھے اللہ وحدہ لا شریک کی طرف دعوت دیتا ہوں یہ کہ تم غیر اللہ کی عبادت نہ کرو اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری اختیار کرو، چنانچہ حضرت ابوبکر ؓ مسلمان ہو
گئے، انہوں نے اسلام قبول کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی۔ اس لیے کہ وہ حضور
کے سچے ہونے، آپ کی حسنِ فطرت اور عمدہ اخلاق سے واقف تھے، جب آپ ؓ نے لوگوں کی بات کو نہیں جھٹلایا تو بھلا اللہ تعالیٰ کی بات کو کیسے جھٹلاتے؟ نبی اکرم فرماتے تھے: ’’میں نے جس کو بھی اسلام کی دعوت دی اس نے پس و پیش کیا اور کچھ نہ کچھ غور و فکر کیا لیکن جب حضرت ابوبکر ؓ کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی تو انہوں نے بلا تردد اور بلا توقف اسلام کی دعوت کو قبول کیا۔‘‘
ْْْْْْْچاشت کا وقت تھا، آنحضرت بیت اللہ کے پاس تشریف فرما تھے، آپ کا دہن مبارک ذکر و تسبیح سے معطر ہو رہا تھا کہ خدا کے دشمن ابوجہل کی آپ پر نظرپڑی جو اپنے گھر سے نکل کر بیت اللہ کے اردگرد بے مقصد پھر رہا تھا، وہ بڑے فخر و تکبر کے انداز میں حضور پر نور کے قریب آیا اور ازراہِ مزاح کہنے لگا: اے محمد! کیا کوئی نئی بات پیش آئی ہے؟ حضورِ اکرم نے فرمایا: ’’ہاں، آج کی رات مجھے معراج کرائی گئی۔ ابوجہل، ہنسا اور تمسخر کے انداز میں کہنے لگا: کس طرف؟ حضور نے فرمایا: بیت المقدس کی جانب ابوجہل نے تھوڑی دیر کے لیے ہنسنے سے توقف اختیار کیا، پھر حضور کے قریب ہو کر آہستہ آواز میں متعجبانہ لہجہ میں کہنے لگا: رات آپ کو بیت المقدس کی سیر کرائی گئی اور صبح کو آپ ہمارے سامنے پہنچ بھی گئے؟ پھر مسکرایا اور پوچھنے لگا: اے محمد ()! اگر میں سب لوگوں کو جمع کروں تو کیا آپ وہ بات جو آپ نے مجھے بتائی ہے ان سب کو بھی بتا دیں گے؟ حضور نے فرمایا: ہاں! میں ان کو بھی بیان کر دوں گا۔ چنانچہ ابوجہل خوشی خوشی لوگوں کو جمع کرنے لگا اور ان کو آنحضور کی بتائی ہوئی بات بتانے لگا، لوگوں کا ایکاژدھام ہو گیا، لوگ اظہار تعجب کرنے لگے او راس خبر کو ناقابل یقین سمجھنے لگے، اسی دوران چند آدمی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس پہنچے اور ان کو بھی اس امید پر ان کے رفیق اور دوست کی
خبر سنائی کہ ان کے درمیان جدائی اور علیٰحدگی ہو جائے کیونکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ
یہ خبر سنتے ہی حضرت ابوبکر
ؓ، حضور کی تکذیب کر دیں گے لیکن جب حضرت ابوبکر ؓ نے یہ بات سنی تو فرمایا: اگر یہ بات حضور نے فرمائی ہے تو یقینادرست فرمائی ہے۔ پھر فرمایا: تمہارا ستیا ناس ہو! میں تو ان کی اس سے بھی بعید از عقل بات میں تصدیق کروں گا، جب میں صبح و شام آپ پر آنے والی وحی کی تصدیق کرتا ہوں تو کیا آپ کی اس بات کی تصدیق و تائید نہیں کروں گا کہ آپ کو بیت المقدس کی سیر کرائی گئی۔
پھر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان کو چھوڑا اور جلدی سے اس جگہ پر پہنچے جہاں حضورِ نبی کریم تشریف فرما تھے اور لوگ آپ کے اردگرد بیٹھے تھے اور حضور ان کو بیت المقدس کا واقعہ بیان کر رہے تھے، جب بھی حضور کوئی بات ارشاد فرماتے تو صدیق اکبر ؓ فرماتے کہ آپ نے سچ فرمایا، آپ نے سچ فرمایا: پھر اس روز سے آنحضرت نے آپ ؓ کا نام ’’الصدیق‘‘ رکھ دیا۔
جب کسی نے آپ ؓ کو یہ خبر دی کہ اے ابوبکر ؓ ! آپ کےساتھی کو مشرکین نے پکڑ لیا ہے آپ برہنہ سر دوڑتے ہوئے بیت اللہ شریف پہنچے تو دیکھا کہ مشرکین نے رسول اللہ کو ایک جگہ پر گرایا ہوا ہے اور آپ پر ٹوٹ پڑے ہیں اور حضور کو طعناً کہہ رہے ہیں تو وہی شخص ہے جس نے کئی معبودوں کو ایک ہی معبود بنا دیا ہے؟ تو حضرت ابوبکر ؓ نے اپنی جان کی بازی لگائی کسی کو دھکا دیا اورکسی کو مارا اور پھر فرمایا: تمہارا ستیا ناس ہو! کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرناچاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلائل بھی لے کر آیا ہے؟
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں:؟ کیا تم مجھے جواب نہیں دو گے؟ خدا کی قسم! ابوبکر ؓ کا ایک لمحہ آلِ فرعون کے مومن جیسے شخص زمین کے ہزاروں لمحوں سے بہتر ہے، اس آدمی نے اپنا ایمان چھپا رکھا تھا مگر اس شخص نے اپنے ایمان کا اعلان کیا۔
جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے نیا دین، دین اسلام، قبول کر لیا تو قریش کے چند سردار دار الندوہ میں جمع ہوئے انہوں نے آستینیں چڑھا لیں اور حضرت صدیق اکبر ؓ کے بارے میں باہم مشورہ کرنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ ایک آدمی کو مقرر کیا جائے جو ان کو پکڑ کر لائے اور ان کو اپنے معبودوں کی طرف دعوت دے،چنانچہ انہوں نے طلحہ بن عبید اللہ کو ان کے پاس بھیجا، طلحہ، حضرت ابوبکر ؓ کے پاس پہنچے، اس وقت صدیق اکبر ؓ لوگوں میں بیٹھے ہوئے تھے، طلحہ نے بلند آواز سے کہا: اے ابوبکر (ؓ)! میرے ساتھ آئو۔ حضرت ابوبکر ؓ نے پوچھا: تم مجھے کس کی طرف دعوت دیتے ہو؟ اس نے کہا: میں آپ کو لات و عزیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا: کون لات…؟ طلحہ نے کہا: اللہ کی بیٹیاں۔ حضرت ابوبکر ؓ نےفرمایا: تو پھر ان کی ماں کون سی ہے؟ (یہ سن کر) طلحہ خاموش ہو گئے، کوئی بات زبان سے نہیں نکالی: حضرت ابوبکر ؓ طلحہ کے ساتھیوں کی طرف ملتفت ہوئے اور فرمایا: اپنے ساتھی کوجواب دو، وہ بھی خاموش رہے، انہوں نے جواب نہیں دیا۔ طلحہ اپنے ساتھیوں کی طرف کافی دیر تک دیکھتے رہے کہ وہ خوفناک قسم کی خاموشی میں مستغرق و منہمک اور سرگردان ہیں تو دوبارہ کہنے لگے: اے ابوبکر ؓ اٹھو! میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ (یہ سن کر) حضرت ابوبکر ؓ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں رسول اللہ کے پاس لے گئے۔
صبح کی روشنی چہار سو پھیلی، اندھیرا ختم ہوا اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ اپنا سامان جمع کرنے لگے اور زادِ راہ تیار کرنےلگے، سفر کی تیاری کرنے کے بعد اپنا عصا لیا اور روانہ ہو گئے، اپنے دل میں ایمان کو لیتے ہوئے مکہ سے جدا ہوئے اور ایمان سے معمور دل کو لے کر حبشہ کی سر زمین کارُخ کیا۔ جب برک الغماد (یمن میں ایک مقام ہے) مقام پر پہنچے تو ابن الدغنہ کی آپ ؓ سے ملاقات ہوئی جو مشہور قبیلہ قارۃ کا سردار تھا، اس نے جوش بھری آواز میں پوچھا: اے ابوبکر ؓ! کہاں کا ارادہ ہے؟ حضرت ابوبکر ؓ نے بڑی نرمی سے جواب دیا کہ مجھے میری قوم نے نکال دیا۔ پس میں نے اب ارادہ کر لیا ہے کہ زمین کی سیاحت کروں تاکہ اپنے رب کی عبادت کر سکوں۔ ابن الدغنہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: اے ابوبکر ؓ ! آپ جیسا آدمی نہ نکلتا ہے اور نہ نکالا جاتاہے! آپ تو ضرورت مند کو کما کر دیتے ہیں، صلہ رحمی کرتے ہیں، یتیم اور بے سہارالوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، حق پر قائم رہنے کی وجہ سے آنے والے مصائب پر دوسروں کی مدد کرتے ہیں، میں آپ کو پناہ دیتا ہوں، آپ واپس چلئے اور اپنے شہر میں اپنے رب کی عبادت کیجئے۔ حضرت ابوبکر ؓ واپس لوٹ آئے، ابن الدغنہ بھی آپ کے ہمراہ چلا آیا۔ شام کے وقت ابن الدغنہ قریش کے سرداروں کے پاس گیا اور ان سے جا کر کہا:
ابوبکر
ؓ جیسا شخصنہ خود نکلتا ہے اور نہ اسے نکالا جاتا ہے، کیا تم ایسے آدمی کو نکالتے ہو جو غریبوں کے لیے کما کر لاتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے، بے کسوں کا بوجھ اٹھاتا ہے اور مہمان نوازی کرتا ہے اور حق پر قائم رہنے کی وجہ سے آنے والی مصیبتوں پر دوسروں کی مدد کرتا ہے؟ قریش مکہ نے ابن الدغنہ کی پناہ کو قبول کرتے ہوئے اس سے کہا: ابوبکر ؓ کو کہہ دوکہ وہ اپنے گھر میں اپنے رب کی عبادت کرے، وہاں جتنی چاہے نمازیں پڑھے اور قرآن کی تلاوت کرے، لیکن ہمیں اس وجہ سے تکلیف نہ دے اور یہ کام علی الاعلان نہ کرے،کیونکہ ہمیں خدشہ ہے کہ کہیں ہماری عورتیں اور ہمارے بچے اس فتنہ سے دوچار نہ ہوجائیں۔ حضرت ابوبکر ؓ ایک عرصہ تک گھر ہی میں اپنے رب کی عبادت کرتے رہے، نہ نمازعلی الاعلان پڑھتے اور نہ ہی کسی دوسرے گھر میں قرآن شریف کی تلاوت کرتے لیکن پھرحضرت ابوبکر ؓ کے دل میںکوئی بات آئی تو انہوں نے اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنا لی اور اس میں نمازپڑھنے لگے اور قرآن شریف کی تلاوت کرنے لگے، دیکھتے ہی دیکھتے مشرکین کی عورتیں اور بچوں کا اژدھام ہونے لگا، وہ حضرت ابوبکر ؓ کو دیکھتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ بڑے رونے والے انسان تھے، جب قرآن پڑھتے تو اپنے آنسوئوں کو نہ روک پاتے۔ اس صورتحال سے مشرکین میںسے اشرافِ قریش گھبرا گئے، چنانچہ انہوں نے ابن الدغنہ کو بلایا، جب وہ آیا تو اس سے کہنے لگے: ہم نے آپ کے پناہ دینے کی وجہ سے ابوبکر ؓ کو اس شرط پر پناہ دی تھی کہ وہ اپنے گھر میں اپنے رب کی عبادت کریں گے، انہوں نے تو اس سے تجاوز کرتے ہوئے اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنا لی ہے جہاں وہ کھلم کھلا نماز پڑھتے ہیں اور تلاوتِ قرآن کرتے ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہماری عورتیں اور ہماری اولاد اس فتنہ سے دوچار نہ ہو جائیں، لہٰذا تم اس کو باز کرو، اگر وہ (گھر ہی میں) اکتفاء کو پسند کرے تو ٹھیک ہے ورنہ وہ تیری دی ہوئی پناہ کو تجھے واپس کر دے۔ چنانچہ ابن الدغنہ، حضرت ابوبکر ؓ کے پاس آیا اور نہایت سکون و اطمینان سے بیٹھنے کے بعد آپ ؓ سے کہنے لگا: آپ ؓ وہ بات جانتے ہیں جس پر ہمارا اتفاق ہوا تھا، یا تو آپ ؓ اس پراکتفاء کریں یا پھر میری پناہ مجھے واپس لوٹا دیں، کیونکہ میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ عرب کے لوگ سنیں کہ میں نے ایک آدمی سے پناہ کا معاملہ کیا تھا جسے میں نے توڑ دیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے نہایت مضبوط دل سے اس کو جواب دیا کہ میں تیری پناہ تجھے واپس کرتا ہوں اور اللہ عزوجل کی پناہ پر راضی و خوش ہوں۔
حضورِ اکرم کے اصحاب ؓ کے لیے گھر تنگ پڑ گیا، ان کی تعداد اڑتیس کے قریب تھی، حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو فکر لاحق ہوئی کہ اس کلمۂ حق اور نئے دین ’’دین اسلام‘‘ کا برملا اعلان و اظہار ہو، چنانچہ آپ ؓ، آنحضور کے قریب ہوئے اور آپ سے اعلانِ حق اور بیت اللہ جانے کا اصرار کرنے لگے تو آپ نے فرمایا: اے ابوبکر ؓ! ہماری تعداد کم ہے،لیکن حضرت ابوبکر ؓ برابر اصرار کرتے رہے حتیٰ کہ رسول کریم باہر تشریف لائے تمام مسلمان بھی مسجد کی اطراف میں چلنے لگے اور ہر آدمی اپنے قبیلہ و خاندان کے ساتھ مسجد میں داخل ہو گیا۔ پھر حضرت ابوبکر ؓ لوگوں کے درمیان خطاب
کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، رسول اللہ
تشریف فرما تھے، دوسری طرف مشرکین غصہ سے پھٹ رہے تھے پھر ان مشرکین نے حضور، حضرت ابوبکر ؓ اوردوسرےمسلمانوں پر حملہ کر دیا اور ان کو خوب مارا پیٹا، کسی نے طمانچے مارے، کوئی مکےمار رہا تھا اور کوئی لاتیں مار رہا تھا، مارتے مارتے ان کی حالت غیر ہو گئی اور وہ ہلاکت کے قریب پہنچ گئے پھر بنو تیم نے حضرت ابوبکر ؓ کے جسم کو ایک کپڑے میں ڈالا اور ان کو ان کے گھر پہنچایا، ان کو حضرت ابوبکر ؓ کی وفات میں کوئی شک نہ تھا۔ پھر بنو تیم کے لوگ ننگے سر مسجد میں آئے اور اعلان کیا خدا کی قسم! اگر ابوبکر (ؓ اس صدمہ سے) فوت ہوئے تو ہم عتبہ بن ربیعہ کو ضرور قتل کر دیں گے۔ اس کے بعد وہ حضرت ابوبکر ؓ کے پاس واپس لوٹے، ابو قحافہ (والد صدیق اکبر ؓ) اور بنو تیم کے لوگ حضرت ابوبکر ؓ سے باتیں کرتے مگر ان کو کوئی ہوش نہ تھی، کوئی جواب نہیں دے رہے تھے، شام تک انہوں نے اپنےہونٹ بھی نہیں ہلائے۔ پھر (ہوش آنے کے بعد) پہلی بات جو ان کے منہ سے نکلی وہ یہ تھی کہ رسول کریم کا کیا حال ہے؟ بنو تیم کو حضرت ابوبکر ؓ کی اس بات پر غصہ آیا۔ پھر انہوں نے ان کی والدہ سے کہا:
دیکھو! اس کو کچھ کھلا دو یا کچھ پانی پلا دو۔ اس کے بعد وہ حضرت ابوبکر
ؓ کے اس فعل پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے واپس لوٹ گئے، لیکن حضرت ابوبکر صدیق ؓ یہی پوچھ رہے تھے کہ آنحضرت کا کیا حال ہے؟ امجمیل بنت خطاب نے کہا: ہاں وہ خیریت سے ہیں اور صحیح و سالم ہیں۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر ؓ کے ہونٹوں میں مسکراہٹ آئی اور چہرہ خوشی سے کھل گیا، پھر یہ کہتے ہوئے بستر سے اٹھے کہ آنحضرت (اس وقت)کہاں ہیں؟ ام جمیل نے کہا: وہ اس وقت دارِ ابن ابی ارقم میں ہیں۔ یہ سن کر حضرت
ابوبکر
ؓ نے کہا:
خدا کی قسم! جب تک میں رسول اللہ
کی خدمت میں حاضر نہیں ہو جائوں گا نہ کچھ کھائوں گا اور نہ کچھ پیوں گا۔ پھر حضرت ابوبکر ؓ جلدی سے آنحضرت کے پاس جانے لگے لیکن جب تکلیف کی شدت کی وجہ سے طاقت نہ ہوئی تواپنی والدہ اور ام جمیل کا سہارا لیے دارِ ابن ابی ارقم میں رسولِ کریم کے پاس پہنچ گئے۔ جب آنحضور نے حضرت ابوبکر ؓ کو دیکھاتو آپ ؓ پر جھک گئے او ران کو چومنے لگے، دوسرے مسلمان بھی آپ ؓ پر جھک گئے، یہ حالت دیکھ کر رسول اللہ پر شدت رقت طاری ہو
گئی۔ پھر حضرت ابوبکر
ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اب مجھے کوئی تکلیف نہیں، سوائےاس کے جو اس خبیث (عتبہ) نے میرے منہ پر مارا تھا، یہ میری والدہ ہیں، اپنے بیٹے پر بڑی مہربان ہیں اور آپ کی ذات بڑی بابرکت ہے، آپ انہیں اللہ کی طرف دعوت دیجیے اور ان کے لیے اللہ سے دعا کیجیے، امید ہے کہ آپ کی برکت سے اللہ تعالیٰ ان کو نارِ جہنم سے بچا لے گا۔ چنانچہ رسول اللہ نے ان کے لیے اللہ سے دعا فرمائی تو وہ اسلام لے آئیں۔
جس روز گرمی کی شدت چہروں کو جھلسا رہی تھی مکہ کی سر زمین گرمی کی آگ سے تپ رہی تھی اور عین دوپہر کے وقت لوگوں کی کھالیں جل رہی تھیں کہ حضور جلدی سے حضرت ابوبکر ؓ کے پاس پہنچے، آپ صبح یا شام کے وقت ہی تشریف لایا کرتے تھے لیکن اس روز آنحضرت خلافِ معمول اس کڑی دوپہر کے وقت تشریف لائے جس روز آپ کو مکہ سے ہجرت کرنے کی اجازت ملی۔ جب حضرت ابوبکر ؓ کی اپنے حبیب اور اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک (حضور ) پر نظر پڑی تو یکدم اٹھ کھڑے ہوئے اور دل میں کہنے لگے: رسول اللہ اس وقت ضرور کسی اہم واقعہ کی بناء پر تشریف لائے ہیں۔
جب آنحضور تشریف لے آئے تو حضرت ابوبکر ؓ آپ کے لیے اپنی چارپائی سے اٹھے اور آنحضرت تشریف فرما ہوئے۔ اس وقت حضرت ابوبکر ؓ کے پاس صرف حضرت عائشہ r اور حضرت اسماء r بیٹھی تھیں۔ حضورِ اکرم نے فرمایا! ان کو ذرا یہاں سے ہٹا دو۔ ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ دونوں میری بیٹیاں ہی تو ہیں، میرے ماں باپ آپ پر قربان!
پھر حضور
نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ہجرت کی اجازت دے دی ہے (یہ سن کر) صدیق اکبر ؓ دو زانو ہو کر بیٹھے، آپ کے دونوں رخساروں پر آنسو بہہ رہے تھے، عرض کیا: یا رسول اللہ ! مجھے بھی آپ کی رفاقت کا شرف حاصل ہو گا؟ رسول اللہ نے فرمایا: اے ابوبکر! ہاں، تجھے میری رفاقت حاصل ہو گی۔ سیدہ عائشہ r فرماتی ہیں کہ خداگواہ ہے کہ مجھے اس سے پہلے یہ بات معلوم نہیں تھی کہ کوئی شخص خوشی کے مارے بھی روتا ہے، میں نے اس دن ابوبکر ؓ کو (خوشی کے مارے) روتے دیکھا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنا سارا مال (جو پانچ ہزار درہم تھے) لیا اور حضور اکرم کے ہمراہ ہجرت کے لیے چل پڑے، ابو قحافہ آئے، وہ بہت بوڑھے تھے، ان کی بینائی بھی جاتی رہی تھی، بلند آواز میں کہنے لگے: خدا کی قسم! میراخیال یہ ہے کہ اس نے اپنے مال کی وجہ سے تمہیں تکلیف پہنچائی ہے۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر rنے ان سے کہا: ابا
جان! ایسی بات نہیں ہے، انہوں نے ہمارے لیے خیرِ کثیر چھوڑی ہے۔ چنانچہ حضرت اسماء
r نے گھر کے اس طاقچہ میں جہاں حضرت صدیق اکبر ؓ اپنا مال رکھتے تھے کچھ پتھر لے کر رکھ دیئے اور اس پر کپڑاڈال دیا پھر ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا: ابا جان! دیکھو! اس مال پر اپنا ہاتھ رکھیے،جب انہوں نے اپنا ہاتھ رکھا تو انہیں وہاں کچھ رکھا ہوا محسوس ہوا پھر خوش ہو کر کہنے لگے: کوئی حرج نہیں؟ جب وہ تمہارے لیے اتنا مال چھوڑ گیا ہے اس نے اچھا کام کیا، اس سے تمہارا کام بن جائے گا۔ حضرت اسماء r کہتی ہیں کہ خدا کی
قسم! حضرت ابوبکر
ؓ نے ہمارےلیے کوئی چیز نہیں چھوڑی، میں نے صرف یہ چاہا کہ اس طریقہ سے ان بزرگوں کو خاموش کرا دوں۔
جنگ چھڑ گئی، گرد و غبار اٹھا، دہکتے سورج کی روشنی میں تلواریں چمکیں اور لاشیں گرنے لگیں، مکہ میں یہ آواز اٹھی کہ اہل فارس، رومیوں پر غالب آگئے اور وہ جنگ جیت گئے۔ مشرکین کو اس پر خوشی ہوئی، کیونکہ مشرکین اور اہل فارس دونوں اہل کتاب میں سے نہیں تھے،مسلمان یہ چاہتے تھے کہ رومی ان پر غالب آجائیں، اس لیے کہ مسلمان اور رومی، اہل کتاب میں سے تھے، جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:
آلٓمٓo غُلِبَتِ الرُّوْمُo فِیْ اَدْنَی الْاَرْضِ وَ ھُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِھِمْ سَیَغْلِبُوْنَo فِی بِضْعِ سِنِیْنَo’’روم والے مغلوب ہو گئے قریب کی زمین میں، اور وہ مغلوب ہونےکے بعد چند ہی سالوں میں پھر غالب ہوں گے۔‘‘ (الروم: 1:4)
تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ مکہ کی گلیوں میں مذکورہ آیات بار بار دھرانے لگے۔ مشرکین نے (یہ دیکھ کر) کہا، اے ابوبکر ؓ ! تمہارا صاحب کہتا ہےکہ اہل روم چند سالوں کے اندر اہل فارس پر غالب آنے والے ہیں، کیا یہ سچ ہے؟ صدیق اکبر ؓ نےفرمایا: آپ نے سچ
فرمایا ہے۔ وہ کہنے لگے: کیا تم اس پر ہمارے ساتھ قمار بازی کرتے ہو (یہ قمار بازی کی حرمت سے پہلے کا واقعہ ہے)، چنانچہ سات سال تک چار جوان اونٹنیوں پر معاہدہ ہوگیا، جب سات سال گزر گئے اور کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا تو مشرکین بہت خوش ہوئےلیکن مسلمانوں پر یہ بات شاق گزرنے لگی، جب یہ بات آنحضرت
سے ذکر کی گئی تو آپ نے پوچھا: تمہارے نزدیک ’’بضع سنین‘‘ (چند سالوں میں) سے کیا مراد ہے؟ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا: دس سال سے کم مدت۔ آپ نے فرمایا: جائو! ان سے مزید دو سال کی مدت طے کر لو، چنانچہ حضرت ابوبکر ؓ گئے اور ان سے مزید دو سال کی مدت کا معاہدہ طے کیا، ابھی دوسال پورے نہ گزرے تھے کہ دونوں کی باہم جنگ ہوئی اور رومیوں کو غلبہ حاصل ہوا، اس طرح مسلمانوں کو وہ خوشخبری مل گئی۔
2 comments
  1. MS Chishti said:

    Very beautiful writing

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: