سیرتِ امام ابو حنیفہؒ از علّامہ شِبلی نُعمانیؒ-1

شخصی احوال

نام و نسب

نعمان نام، ابو حنیفہ کنیت اور امام اعظم آپ کا لقب ہے۔ خطیب بغدادیؒ نےشجرۂ نسب کے سلسلہ میں امام صاحبؒ کےپوتےاسماعیل کی زبانی یہ روایت نقل کی ہے کہ
’’میں اسماعیل بن حماد بن نعمان بن ثابت بن نعمان بن مرزبان ہوں۔ ہم لوگ نسلِ فارس سے ہیں اور کبھی کسی کی غلامی میں نہیں آئے۔ ہمارےدادا ابو حنیفہ ۸۰ھ میں پیدا ہوئے۔ ہمارے پر دادا ثابت بچپن میں حضرت علیؓ کی خدمت میں حاضرہوئےتھے، حضرت علیؓ نے ان کے لئے بر کت کی دعا کی،اللہ نے یہ دعا ہمارے حق میں قبول فرمائی۔
امام صاحبؒ عجمی النسل تھے۔ آپؒ کے پوتے اسماعیل کی روایت سے اس قدر اور ثابت ہے کہ ان کا خاندانفارس کا ایک معززاور مشہور خاندان تھا۔ فارس میں رئیسِ شہر کو مر زبان کہتے ہیں جو امام صاحبؒ کے پر دادا کا لقب تھا۔
اکثر مورخین فرماتےہیں کہ آپ ۸۰ھ میں عراق کے دارالحکومت کوفہ میں پیدا ہوئے۔ اُس وقت وہاں صحابہ میں سے عبداللہ بن ابی اوفیؓ موجود تھے، عبد الملک بن مروان کی حکومت تھی اور حجاج بن یوسف عراق کا گورنر تھا۔یہ وہ عہد تھا کہ رسول اللہﷺ کے جمالِ مبارک سے جن لوگوں کی آنکھیں روشن ہوئی تھیں (یعنی صحابہؓ ) ان میں سے چند بزرگ بھی موجودتھےجن میں سے بعض امام حنیفہؒ کےآغازِ شباب تک زندہ رہے۔ مثلاً انس بن مالکؓ جو رسول ﷺ کے خادمِ خاص تھے۹۳ھ میں انتقال کیا اور ابو طفیل عامر بن واثلہؓ ۱۱۰ھ تک زندہ رہے۔ ابن سعد نے روایت کی ہے۔ جس کی سند میں کچھ نقصان نہیں۔ کہ امام ابو حنیفہؒ نے انس بن مالکؓ کو دیکھا تھا حافظ ابن حجر نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے کہ امام صاحبؒ نے بعض صحابہؓ کو دیکھا تھا۔  

جائےولادت

کوفہ جوامام ابو حنیفہؒ کا مولد و مسکن ہے، اسلام کی وسعت و تمدن کا گویا دیباچہ تھا۔ اصل عرب کی روز افزوں ترقی کے لئے عرب کی مختصر آبادی کافی نہ تھی۔اس ضرورت سے حضرت عمرؓ نے سعد بن وقاصؓ کو جو اس وقت حکومتِ کسریٰ کا خاتمہ کر کے مدائن میں اقامت گزیں تھے، خط لکھا : ’’مسلمانوں کے لئے ایک شہربساؤجوان کا دارالہجرت اور قرار گاہ ہو‘‘ سعدؓ نے کوفہ کی زمین پسند کی۔
۱۷ھ میں اس کی بنیاد کا پتھر رکھا گیا۔ اور معمولی سادہ وضع کی عمارتیں تیار ہوئیں۔ اسی وقت عرب کے قبائل ہر طرف سے آ کر آباد ہونے شروع ہوئے۔ یہاں تک کہ تھوڑے دنوں میں وہ عرب کا ایک خطہ بن گیا۔
حضرت عمرؓ نے یمن کے بارہ ہزار اور نزار کے آٹھ ہزار آدمیوں کے لئے جو وہاںجا کر آباد ہوئے روزینے مقرر کر دیئے۔ چند روز میں جمعیت کے اعتبار سے کوفہ نے وہ حالت پیدا کی کہ جنابِ فاروقؓ کوفہ کو ’’رمح اﷲ، کنز الایمان،جم جمۃ العرب‘‘ یعنی خدا کا علم، ایمان کا خزانہ، عرب کا سر، کہنے لگے۔ اور خط لکھتے تو اس عنوان سےلکھتے تھے ’’الیٰ رأس الا سلام، الی رأسالعرب۔ ‘‘ بعد میں حضرت علیؓ نے اس شہر کو دارالخلافہ قرار دیا۔
صحابہؓ میں سے ایک ہزار پچاس اشخاص جن میں چوبیس وہ بزرگ تھے جو غزوۂ بدر میں رسولاﷲﷺکے ہمرکاب رہے تھے، وہاں گئے اور بہتوں نے سکونت اختیار کر لی۔ انبزرگوں کی بدولت ہر جگہ حدیث و روایت کے چرچے پھیل گئے تھے اور کوفہ کا ایکایک گھر حدیث و روایت کی درسگاہ بنا ہوا تھا۔

بشارتِ نبویﷺ

ایک حدیث میں نبیﷺ نے فرمایا: لوکان الا یمان عند الثریا لاتنالہ العرب لتناولہ رجل من ابناء فارس۔
اگر ایمان ثریا ستارہ کے پاس بھی ہو اور عرب ا س کو نہ پا سکتے ہوں تو بھی اس کوایک فارسی آدمی پالے گا۔
جلیل القدر عالم و حافظ علامہ جلال الدین سیوطیؒ اس حدیث سے قطعی طور پر امام ابو حنیفہؒ کو مراد لیتے ہیں اس لئے کہ کوئی بھی فارس کا رہنے والا امام صاحبؒ کےبرابرعلم والا نہیں ہو سکا۔

شکل و صورت

خطیب بغدادیؒ نےامام ابو یوسفؒ سے روایت کیا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ متوسط قد، حسین وجمیل، فصیح و بلیغ اور خوش آواز تھے، دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ امامصاحبؒ خوبصورت  داڑھی، عمدہ کپڑے، اچھے جوتے، خوشبودار اور بھلی مجلس والےرعب دار آدمی تھے۔ آپ کی گفتگو نہایت شیریں، آواز بلند اور صاف ہواکرتی تھی۔ کیسا ہی پیچیدہ مضمون ہو نہایت صفائی اور فصاحت سے ادا کرسکتےتھے۔ مزاج میں ذرا تکلف تھا۔ اکثر خوش لباس رہتے تھے، ابو مطیعانؒ کےشاگرد کا بیان ہے کہ ’’میں نے ایک دن ان کو نہایت قیمتی چادر اور قمیص پہنے دیکھا جن کی قیمت کم از کم چار سو درہم رہی ہو گی۔

بچپن کا زمانہ

امام صاحبؒ کے بچپن کا زمانہ نہایت پر آشوب زمانہ تھا۔ حجاج بن یوسف، خلیفہ عبدالملک کی طرف سے عراق کاگورنرتھا۔ہرطرف ایک قیامت برپا تھی۔ حجاج کی سفاکیاں زیادہ تر انہیں لوگوں پر مبذول تھیں جو ائمہ مذاہب اور علم و فضل کی حیثیت سے مقتدائے عام تھے۔
خلیفہ عبد الملک نے ۸۶ھ میں وفات پائی اوراس کا بیٹا ولید تخت نشین ہوا۔اس زمانہ کی نسبت حضرت عمر بن عبدالعزیزؒفرمایاکرتےتھے۔ ’’ولید شام میں، حجاج عراق میں، عثمان حجاز میں، قرہ مصر میں، واللہ تمام دنیا ظلم سے بھری تھی‘‘۔ملک کی خوش قسمتی تھی کہ حجاج ۹۵ھ میں مر گیا۔ ولید نے بھی ۹۶ھ میں وفات پائی۔ ولیدکےبعد سلیمان بن عبد الملک نے مسندِ خلافت کو زینت دی جس کی نسبت مورخین کا بیان ہے کہ خلفاء بنو امیّہ میں سب سے افضل تھا۔ سلیمانؒ نے اسلامی دنیاپر سب سے بڑا یہ احسان کیا کہ مرتے دم تحریری وصیت کی کہ میرے بعد عمر بن عبد العزیزؒ تخت نشیں ہوں۔ سلیمان نے ۹۹ھ میں وفات پائی اور وصیت کےموافق عمر بن عبد العزیزؒ مسندِ خلافت پر بیٹھے جن کا عدل و انصاف اور علمو عمل معروف ومشہور ہے۔
غرض حجاج و ولید کے عہد تک تو امام ابوحنیفہؒ کو تحصیلِ علم کی طرف متوجہ ہونے کی نہ رغبت ہو سکتی تھی نہ کافی موقع مل سکتا تھا۔ تجارت باپ دادا کی میراث تھی اس لئے خز (ایک خاص قسم کے کپڑے) کا کارخانہ قائم کیا اور حسنِ تدبیر سے اسکو بہت کچھ ترقی دی۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: