مدارس

مدارس سے ایسی ایسی نامور اور نادر روزگارہستیاں فارغ ہو کر نکلیں جنہوں نے اقطارِ عالم میں علم و فن  کےچراغ روشن کیے، زنگی کے مختلف شعبوں میں حیرت انگیز انکشافات اور ایجادات کیں کہ انہی  کوبنیادبناکراورانہی سے رہنمائی حاصل کر کے آج اقوام علوم و فنون کے میدان میں ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں۔
’’اسلامیہ تعلیم، حق تعالیٰ کی عبادت اور وراثتِ انبیاء ہے۔ یہ تعلیم ان کے دین و ایمان کی امانت اور دنیاوآخرت میں فلاح و کامرانی کا ذریعہ ہے۔‘‘
؎
آج اسلام خواہ ایک نظریہ کی حیثیت سے ہے۔  اگر زندہ ہے تو محض انہی مدارس کے طفیل زندہ ہے۔ سرکاری اعانت و معاونت سے محروم بلکہ مخالفت و حوصلہ فرسائی کی فضا میں ان مدارس نے دینِ قیم کی شمع کو روشن کررکھا ہے۔ روکھی سوکھی کھا کر، ٹوٹی پھوٹی چٹائیوں پر بیٹھ کر قرآن و حدیث، فقہ و کلام، تاریخ و سیر، صرف و نحو، بلاغت و ادب، منطق و فلسفہ اور ہیئت و ہندسہ جیسے دقیق علوم و فنون میں دسترس حاصل کرنا کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔ یہ وہ کام ہے جو جدید تعلیمی ادارے بھرپور سرکاری سرپرستی کے باوجود نہیں کر سکے۔

Advertisements
2 comments
  1. بی بی ۔ خوش آمدید ۔
    بات تو بڑی عمدہ ہیں لیکن یہ آپ نے خود لکھا ہے یا کہیں سے نقل کیا ہے ؟

  2. بی بی ۔ ایک بات رہ گئی ۔ بڑی مساجد دراصل جامعات یعنی یونیورسٹیاں ہوا کرتی تھیں ۔ اِن میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے دُور دراز سے طالب عِلم آیا کرتے تھے ۔ یہ جامعات خود کفیل ہوتی تھیں اور مسلمان حکمران اور دولتمند طالب علم بھی اعانت کرتے تھے ۔ برطانیہ اور یوروپ سے نکنے والے دولت کے متلاشی اور ُؒٹیرے جہاں جہاں گئے اُنہوں نے اس ادارے کو ختم کیا تاکہ اپنے جاہل پیروکار پیدا کر سکیں

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: