ارتقاءِ حيات

اسلامی شعور کو جِلا بخشنے کی مبہم کوشش

آپﷺ کیسے تھے؟-6

Posted by ارتقاءِ حيات on May 21, 2013

آپﷺ کو صفائی و سادگی پسند تھی
رسول اللہ ﷺ صفائی ستھرائی اور پاکیزگی کا انتہائی خیال رکھتے تھے۔ اسی لئے تو آپﷺ نے فرمایا ہے۔
صفائی آدھا ایمان ہے
ایک دفعہ ایک شخص بہت ہی میلے کپڑے پہن کر آپ کے پاس آیا تو آپﷺ نے فرمایا کیا یہ آدمی اپنے کپڑے دھونے کی تکلیف بھی برداشت نہیں کر سکتا؟
ایک بار ایک خوشحال شخص آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ وہ بہت ہی گھٹیا درجہ کے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ آپﷺ نے اس سے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نےتم
کو مال و دولت دی ہے اس کا اظہار تمہاری ظاہری حالت سے بھی ہونا چاہئے۔
مسجد کی دیواروں پر اگر تھوک وغیرہ کے نشانات دیکھتے تو آپ کو بہت برا معلوم ہوتا۔ آپ خود چھڑی سے کھرچ کر اُسے صاف کر دیتے۔ مسجد میں خوشبو کے لیےلوبان وغیرہ سلگانے کی ہدایت فرماتے۔
آپﷺ خود بھی سادہ زندگی گزارتے تھے اور صحابہ کو بھی اس کی تلقین فرماتے ، آپ اپنا کام خود کر لیا کرتے تھے۔
آپﷺ نفاست پسند تھے
نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں عربوں میں نفاست پسندی بالکل نہ تھی۔ وہ جہاں چاہتے تھوک دیتے اور راستہ میں رفع حاجت کر لیا کرتے تھے۔ پیارے نبی ﷺ اس عادت کو بہت ناپسند فرماتے تھے اور اس سے منع کرتے تھے۔ احادیث میں کثرت سے روایتیں موجود ہیں کہ حضورﷺ نے ان لوگوں پر لعنت کی ہے جو راستوں میں یا درختوں کے سایہ میں پیشاب پاخانہ کرتے ہیں ۔ امراء اپنی کاہلی کی وجہ سے کسی برتن میں پیشاب کر لیا کرتے تھے۔ آپﷺ اس سے بھی منع فرماتے تھے۔ آپﷺ نے بیٹھ کر پیشاب کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔
عرب میں پیشاب کر کے استنجا کرنے یا پیشاب سے کپڑوں کو بچانے کا کوئی دستور نہ تھا۔ حضورﷺ ایک دفعہ کہیں تشریف لیے جا رہے تھے ، راستہ میں دو قبریں نظر آئیں ، آپﷺ نے فرمایا ان میں سے ایک پر اس لیے عذاب ہو رہا ہے کہ وہ اپنے کپڑوں کو پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچاتا تھا۔
آپﷺ دوستوں کا خیال رکھتے تھے
نبی اکرم ﷺ اپنے ساتھیوں سے بیحد محبت کرتے تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ سچا مسلمان وہ ہے جو اپنے دوستوں سے سچی محبت کرے اور اس کے دوست اس سے محبت کریں ۔ آپﷺ کی سیرت کے مطالعہ سے ہمیں دوستی کے سلسلہ میں حسب ذیل ہدایت ملتی ہیں:
٭ہمیشہ نیک ، شریف اور سچے شخص سے دوستی کرنا چاہئے۔
٭دوستی خلوص کے ساتھ کرنی چاہئے۔ اس میں کوئی مطلب یا غرض شامل نہ ہو۔
٭دوستوں پر بھروسہ کرنا چاہئے ، ان کے ساتھ خیر خواہی اور وفاداری سے پیش آنا چاہئے۔
٭ان کے دکھ درد میں ہمیشہ شریک رہیں اور مسکراتے ہوئے ملیں ۔
٭اگر وہ کسی معاملے میں مشورہ چاہیں تو نیک نیتی اور سچے دل سے مشورہ دیں ۔
٭دوست کی طرف سے اگر کوئی بات طبیعت کے خلاف بھی ہو تو زبان پر قابو رکھیں اور نرمی سے جواب دیں ۔
٭اگر کسی بات پر آپس میں اختلاف ہوجائے تو جلد ہی صلح صفائی کر لیں ۔
٭اپنی اور اپنے دوست کی اچھے ڈھنگ سے اصلاح و تربیت کی کوشش کرتے رہیں ۔

Posted in کالم | 1 Comment »

ام الفضل حضرت لبابہ بِنتِ حارث ؓ

Posted by ارتقاءِ حيات on May 19, 2013

نبی اکرم ﷺ کو اپنے چچا حضرت عباس بِن عبدالمطلب ؓسے بڑی محبت بھی تھی اور ان کا بے حد احترام بھی کرتے تھے۔وہ آنحضورﷺ کے لیے بمنزلہ باپ تھے ۔ آپ فرمایا کرتے تھے ” عباس عمی وصنو ابی” کہ عباس میرے چچا ہیں اور میرے لیے باپ کا درجہ رکھتے ہیں۔
حضرت عباس کا اپنا بھی بلند مقام تھا۔قبیلہ قریش میں اہم مناصب اور ذمہ داریوں کی جو تقسیم تھی اس کے مطابق حضرت عباس ؓچشمہ زم زم کے ناظم و نگران تھے ۔حضرت عباس ؓکے فضائل بلاشبہ ذاتی تھے لیکن اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ انہیں ان کی اہلیہ لبابہ بِنتِ حارث (المعروف ام الفضل ) کا شوہر ہونے کی وجہ سے بھی بڑامقام حاصل ہواتھا۔انسان کے مقام و مرتبہ کو گھٹانےاور بڑھانے میں خاتون خانہ کا کردار ہوتاہے۔ام الفضل ؓ کے بارے میں کہا گیاہے کہ ان جیسی عورتیں شاذو نادرہی جنم لیاکرتی ہیں۔حضرت ام الفضل آنحضورﷺ کی زوجہ ام المومنین میمونہ ؓ کی حقیقی بہن تھیں۔ان کی ایک اور بہن حضرت سلمیٰ ؓ شیرخداحضرت حمزہ بِن عبدالمطلب ؓکی اہلیہ تھیں جبکہ ان کی ماں شریک بہن سیدہ اسماءبِنتِ عمیس حضرت جعفر طیار ؓکی نامور زوجہ تھیں۔ یہ چاروں بہنیں نہ صرف درجہ صحابیت پر فائز ہوئیں بلکہ امت کے اعلیٰ ترین افرادکےگھروں میں ملکہ بِن کر آئیں۔لوگ ان کے والدین پر رشک کیا کرتےتھے ۔
حضرت عباس ؓشروع سے آنحضورﷺ سے مانوس بھی تھے اوردل سے اسلام کے قدردان بھی لیکن قبول اسلام کا اعلان فتح مکہ سے کچھ عرصہ قبل ہی کر سکے ۔ جنگ بدر میں وہ نہ چاہتے ہوئے بھی کافروں کے اصرار پر لشکر قریش میں شامل ہوئے اورجنگ کے بعدجنگی قیدی بنا لیےگئے۔حضرت ام الفضل ؓ بالکل ابتدائی ایام میں مسلمان ہو گئیں۔اگرچہ ان کے شوہر نام دارنےاسلام قبول کرنےمیں کافی تاخیر کی لیکن چونکہ وہ اسلام کےبارے میں نرم گوشہ رکھتے تھےاس لیےام الفضل کو اپنے قبول اسلام کی وجہ سے گھر میں کبھی کوئی مشکل اوردقت پیش نہ آئی ۔
حضرت عباس ؓنے قبول اسلام کا اعلان کر دیا تو حضرت ام الفضل ؓ نے اصرار کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کا فیصلہ کر لیا۔وہ جانتی تھیں کہ فتح سے قبل ہی ہجرت کا مقام اور درجہ ہے۔آنحضورﷺ مدینہ منورہ میں اپنے چچا کے گھراکثر تشریف لے جاتے تھےاوردوپہر کو قیلولہ بھی وہیں کرتےاور کھانا بھی آل عباس کے ساتھ تناول فرماتے۔ایسے مواقع پرحضرت ام الفضل ؓ بہت خوش ہوا کرتی تھیں۔مکے میں حضرت خدیجہ ؓ کے ساتھ ان کی بڑی دوستی تھی اورحضرت خدیجہ ؓ کے ذریعے ہی وہ حلقہ بگوش اسلام ہوئی تھیں۔یہ بھی ایک وجہ تھی کہ آنحضورﷺ اپنی اس چچی سے بے پناہ محبت کیا کرتے تھے۔ام الفضل ؓ کی کنیت ان کے بیٹے فضل بِن عباس کی نسبت سے ہے۔
حضرت ام فضل ؓنے آنحضورﷺ کے نواسےحضرت حسین ؓکودودھ پلایا تھا اور اکثر وبیش تر انہیں اپنے گھر رکھا کرتی تھیں۔حضرت حسین کو دیکھنے کے لیے بھی آنحضورﷺان کے ہاں اکثرتشریف لے جاتی تھیں۔حضرت ام الفضل بڑی جرات مندخاتون تھیں ۔ مکے میں ہونے اور ابتدائی ایام میں ہجرت سے محروم رہنے کی وجہ سے وہ اگرچہ جنگوں میں شریک نہ ہو سکیں مگرمکےمیں رہتے ہوئے بھی انہوں نے جرات کے کارنامے سرانجام دیے۔جنگ بدر میں ان کے خاوند کافروں کی طرف سےشریک تھےاوروہ گرفتار بھی ہوگئے لیکن انہوں نے مکے میں فتح کی خوشخبری سنی تو بہت مسرور ہوئیں ۔
حضرت عباس کے زیر کفالت ایک کمزور مسلمان ابورافع مکے میں مقیم تھے ۔ وہ نیزے سیدھے کرنے کا کام کرتے تھے اور حضرت عبا س کے لیے وہ اس حرفت میں بڑے ممد تھے۔ جنگ بدر کے حالات بنو ہاشم کےفردابو سفیان بِن حارث کی زبانی اہل مکہ کے سامنے پہنچےتوان کالب لباب یہ تھاکہ :مسلمانوں نے ہمیں گاجرمولی کی طرح کاٹا اور بھیڑ بکریوں کی طرح باندھ لیا۔ہمارے مدمقابل جولوگ لڑ رہے تھےان کےساتھ ہم نےعجیب قسم کی مخلوق دیکھی۔یہ سرخ وسفید رنگ کے نوجوان ابلق گھوڑوں پر سوار زمین وآسمان کے درمیان معلق نظرآ رہے تھے ۔
ابو لہب اپنے بھتیجے کی زبانی یہ رپورٹ سن کرپریشان ہوگیا۔ابھی اس نے کوئی تبصرہ نھیں کیا تھاکہ چاہ زم زم کے قریب ایک حجرے میں بیٹھے ابو رافع پردہ سرکا کر بولے ”خداکی قسم یہ عجیب مخلوق اللہ کے فرشتے تھے۔“ابو لہب نےان کی زبانی یہ بات سنی توبپھرگیا۔ان پرجھپٹا اور انہیں گرا کر ان کے سینے پر چڑھ بیٹھا۔حضرت ام الفضل نے یہ منظر دیکھاتودوڑ کر آئیں اور ابو لہب کے سر پر ایک چوب دے ماری اور اسےسخت الفاظ میں ڈانٹتے ہوئے کہا ” اس مسکین پر کیوں ظلم ڈھاتےہو،اس کا کیا قصور ہے ۔
ابو لہب کاحوصلہ توپہلےہی پست ہوچکا تھااورفطری طور پر تھا بھی بزدل آدمی۔اس ضرب کاری نے رہی سہی کسربھی نکال دی۔اس واقعہ کے تھوڑے عرصےبعدابولہب ذلت و رسوائی کے ساتھ موت کی وادی میں اتر گیا ۔اس واقعے سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت ام الفضل ؓ کےاندرجرات بھی تھی اور غیرت ایمانی بھی۔خاندانی عصبیت کے بت پاش پاش کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن انہوں نے یہ کارنامہ کر دکھایا۔
آنحضورﷺ کے سفر حجۃ الوداع اور جملہ مناسک کی تفصیلات حدیث میں ملتی ہیں۔اس میں ایک بہت دلچسپ واقعہ یہ بھی ہے کہ عرفہ کےدن لوگوں کو خیال ہواکہ شاید آنحضورﷺنے روزہ رکھاہواہے۔عرفہ کےدن کاروزہ بلاشبہ بڑی فضیلت رکھتاہے لیکن فی الحقیقت آنحضورﷺنےاس دن روزہ نہیں رکھاتھا۔اس میں حکمت یہ تھی کہ حج شدیدگرم موسم میں بھی آتا ہےاورایسے موسم میں عرفہ کا دن خاصاسخت اورلمبا ہوتاہے۔اگر یہ مشہور ہو جاتا کہ آپ نے روزہ رکھا ہواہےتوبعدمیں بھی اکثرلوگ اس کا اہتمام کرتے اور انہیں خاصی زائد مشقت اٹھانا پڑتی۔حضرت ام الفضل ؓنے اسی حکمت کے تحت اس روز آنحضورﷺ کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیجا جسے آپ نے لوگوں کے سامنےنوش فرمایا۔یوں لوگوں کا شک دور ہو گیا۔
حضرت عباس ؓکے چھے بیٹے اور ایک بیٹی ام الفضل سےپیداہوئی اوراللہ کی رحمت سے یہ سبھی شہرت و بلندی کے آسمان پر ستارے بِن کر چمکے۔حضرت ام الفضل کے بیٹے اکثر آنحضورﷺ کے ساتھ سفر کے دوران آپ کی سواری کے پیچھے بیٹھےدیکھےگئے۔حجۃ الوداع میں فضل بِن عباس آپ کے پیچھےسوارتھے۔ان میں سب سے زیادہ معروف تو عبداللہ بِن عباس رضی اللہ عنہما ہیں لیکن باقی یعنی عبیداللہ ، عبدالرحمن،قثم اور معبدبھی شہرت کی بلندیوں پر فائز تھے۔بیٹی ام حبیبہ بھی صحابیہ ہیں۔
حضرت ام الفضل ؓ مدینہ میں مقیم ہوگئی تھیں۔اگرچہ مکےمیں بھی ا ن کاگھرموجود تھامگران کا دل مدینہ ہی میں لگتاتھا۔ مدینہ ہی میں ان کی وفات ہوئی۔وہ مدینۃالنبی سے دور رہنا پسند نہیں کرتی تھیں ۔ حضرت عباس ؓا ن کی وفات کے وقت زندہ تھے۔خلیفہ ثالث حضرت عثمان غنی ؓنے نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں وہ آسودہ خاک ہوئیں ۔

Posted in کالم | Leave a Comment »

خَتمِ نبَّوت پر حملے:-6

Posted by ارتقاءِ حيات on May 19, 2013

67ہجری مختار بن عبید ثقفی: 

اس نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا تھا جس کی سرکوبی حضرت مصعب بن زبیر ؓ نے فرمائی۔ زمانہ خلافت راشدہ کے بعد بھی کچھ طالع آزماؤں نے نبوت کا دعویٰ کیااورارتدادو دعوائے نبوت کی وجہ سے انہیں مسلم حکمرانوں اور اس عہد کے علماء و مشائخ نے انہیں خارج از اسلام قرار دینے کے ساتھ ساتھ گرفتار کرکے سزائے موت دی۔ حتیٰ کہ بعض عرصے تک عبرت کے لیے سولی پر لٹکا کر رکھے گئے۔
 69 ہجری حارث دمشقی:
شعبدے بازی کا ماہر تھا ۔بھوکا رہتا ۔کم بولتا۔کم سوتا ایسے افعال کو استدراج کہتے ہیں ۔یہ خلیفہ عبدالمالک بن مروان کا زمانہ تھا دمشق کے ایک رئیس قاسم بن بحیرہ نےمروان سے شکایت کی ۔گرفتاری کا حکم ملا پولس گئی تب تک وہ بیت المقدس کی جانب فرار ہو چکا تھا  اور وہاں بھی لوگوں کو گمراہ کر رہا تھا۔بصرہ کا ایک آدمی اس کا حامی بنا اور پھر جا کر عبدالمالک بن مروان کو اس کی اطلاع دی جس پر 40 سپاہی اس کے ہمراہ کئے گئے اور وہ زنجیر سے باندھ کر اسے گرفتار کر لے گئے ۔وہاں بھی شعبدہ دکھا کر زنجیر توڑ دی دوبارہ باندھا گیا پھر 2 بار ایسے ہی شعبدے سے اس نے زنجیر یں توڑیں مگر بصری جو قیادت کر رہا تھا سپاہیوں کی وہ مرعوب نہ ہوا اور خلیفہ کے سامنے اسے پیش کر دیا ۔خلیفہ نے اس سے باز پرس کی اس نے نبوّت پر اٹل رہنے کا اعلان کیا اور وحی کی آمد کا اقرار کیا ۔ عبدالمالک بن مروان نے محافظ کو حکم دیا نیزہ  مار کر  ہلاک کر دے ۔محافظ نے عمل کیا لیکن نیزے لگنے سے بھی حارث پر اثر نہ ہوا حارث نے کہا میں اللہ کا نبی ہوں اور مجھ پر یہ اثر نہ ہو گا ۔ عبدالمالک بن مروان نے حکم دیا کہ بسم اللہ پڑھ کر نیزہ مارا جائے اب جو نیزہ مارا گیا تو آر پار ہوا اور وہ تڑپ تڑپ کر ہلاک ہو گیا ۔
119ہجری میں مغیرہ بن سعید عجلی :
یہ خالد بن عبداللہ قسری والی کوفہ کا آذاد کردہ غلام تھا ۔ امام محمد باقر کی رحلت کے بعد اس نے پہلے امامت اور پھر نبوّت کا دعویٰ کیا ۔جادو تونے کا ماہر تھا اورجھوٹی پیشن گوئیاں کرتا رہتا تھا۔جب اس کی ایک بڑی پیشن گوئی جھوٹی صابت ہوئی تو اس پر اس کے مریدوں ہی نے لعنتیں بھیجنا شروع کر دی۔
خالد بن عبداللہ قسری جو خلیفہ ہشام بن عبدالمک کی طرف سے عراق کا حاکم تھا اسے علم ہوا تو میں اس نے سپاہ بھیج کر اس کو گرفتار کروایا اور پھر بازپرس کی نتیجہ میں اس نے ہٹ دھرمی دکھائی اور ثبوت ملنے پر اس کو سر کنڈے کی گھٹے سے بندھوا کر تیل چھڑک کر اسے زندہ جلوا دیا گیا۔
119 ہجری میں بیان بن سمعان تمیمی :
 ہشام بن عبدالملک کے دور میں اس کا ظہور ہوا ۔اہل ہنود کی طرح حلول اور تناسخ کا نظریہ اس کا اپنایا ہوا تھا۔ ثبوت ملنے پر اسے بھی مغیرہ  زندہ جلوا دیا گیا۔۔

Posted in کالم | Leave a Comment »

پردہ ضروری کیوں-4؟

Posted by ارتقاءِ حيات on May 18, 2013

اصل چیز حیا اور احسا س ہے اورہر برائی کے عمومی ارتکاب کی اصل وجہ حیا یعنی احساسِ زیاں (احساس ِخیروشر) کا ختم ہوناہے۔حیااورپردہ ایک دوسرے کیلئے لازم وملزوم ہیں حیا پردے کی روح ہے اور
پردہ احساسِ حیاکومضبوط کرنے کاذریعہ ہے ۔ حیا کے عدم احساس کی وجہ سے انسان مختلف قسم کے گنا ہ کرتاہے جس میں بے پردگی بھی شامل ہے۔ زبردستی اور دکھلا وے کا پردہ دین و دنیا کے لحاظ سے کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ اسی لئے حضور ﷺنے فرمایا:ترجمہ : جب تجھ میں حیا نہ رہے تو تیرا جو جی چاہے کر(بخاری ) اس ضمن میں ٹیلی ویژن کاکرداربڑاتباہ کن رہاہے مگرالمیہ یہ ہے کہ اب تواچھے اچھے لوگوں نے بھی ٹیلی ویژن کا جواز نکال لیاہے ۔
اسلام کا فلسفہ یہ ہے کہ مرد اور عورت حقوق میں یکساں ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے :وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃٌ۔۔۔عورتوں کے ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں ۔ (سورۃ البقرۃ2:آیت228)
مزید یہ کہ عورتوں کے لئے انکی طبعی کمزوی اور اہم ذمہ داریوں مثلاً حمل ، ولادت ، رضاعت اور پرورش جیسے کاموں کی وجہ سے مراعات زیادہ اوردیگر ذمہ داریاں کم رکھی گئی ہیں ۔اس کے بر عکس  مردوں کو جسمانی اور اعصابی طور پر مضبوط بنایا گیا ہے اورتمام بیرونی ذمہ داریاں ان کی سختی اور شدت کی وجہ سے مردوں کے ذمہ لگائی گئی ہیں ۔ مردوں کو صرف انتظامی امور کی انجام دہی اور ذمہ داری(Responsibility) کے تعین ا ور درجہ بندی(Level) کے حوالے سے عورتوں پر با اختیار(Authorize) کیا گیاہے اورفوقیت(Priority) دی گئی ہے اور یہ منطقی طور پر صحیح اور حکمت پر مبنی ہے۔کیونکہ نظام چلانے کے لئے کسی ایک کی اِمارت (Authority) لازمی ہے اور یہ اِمارت اسلام نے مرد کو تفویض کی ہے اور عورت کو اسلامی تحفظات کے ساتھ مرد کے ماتحت رکھا گیا ہے ۔ مگر شیطان نے آزادیٔ نسواں کے نام پرانسانوں کو دھوکے میں ڈالا اور مفاد پرست انسانوں نے برابری اور حقوق کے دھوکے میں عورتوں کو گھر سے نکالنے کا جواز پیدا کیا اور یوں بیرونی کاموں کی نوعیت کے تقاضوں کے تحت بے پردگی کی مجبوری (Compulsion) اور مصالحت (Compromise)کا آغاز ہوا ۔
اسلام نے بیرونی ذمہ داریوں کے تحت عورت کو باہر نکلنے کا مکلف ہی نہیں بنایا۔اسلام نہیں چاہتاکہ عورتیں باہر نکلیں اوران پر بیرونی ذمہ داریوں کاکوئی دباؤ ہو۔ نہ ہی ان کو ستایا جائے اورنہ ہی نقصان پہنچایاجائے ۔ اسلام میں عورت کی ضرورتوں ، سامانِ تفریح ،آرام اورمسائل کا حل غرض ساری امکانی صورتوں کا انتظام گھرکی چار دیواری کے اندراورمردوں کے ذمہ لگایاگیاہے۔چنانچہ اس حوالے سے اسلام کا نقطۂ نظر واضح اور دو ٹوک ہے ۔عورتیں حتی الامکان طورپر گھر میں ہی رہیں اوربلا ضرورت گھرسے نہ نکلیں ۔عبادات کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہیں ۔
اپنے شوہر اور اولاد کے حقوق کے حوالے سے گھریلو ذمہ داریوں میں مصروف رہیں ۔فارغ وقت کی مصروفیت کے حوالے سے وہ قرآن کریم کا ترجمہ و تلاوت اور تدبرّ میں مصروف رہیں ۔اس لیے کہ قرآن کریم تمام ضروری علوم کامنبع ہے ۔گھرسے باہرنکلنے کی صورت میں احکام ستروحجاب پر عمل درآمدکریں ۔
انتہائی مجبوری اوراستثنائی صورتوں میں اگر غیر مرد سے معاملہ ہو تو وہ بھی حجاب میں رہتے ہوئے اوربات کرنے کے انداز میں نسبتاً سختی کے ساتھ نہ کہ نرمی اورلگاوٹ کے انداز میں ۔غریب یا مجبور عورت کے گھرسے باہر نکلنے کی ذمہ داری ریاست پر آتی ہے کیونکہ یتیموں ،بیواؤں ،معذوروں اورضعیفوں کی کفالت ریاست پر ہے ۔کیونکہ فی زمانہ ایک مکمل اسلامی ریاست کا نمونہ عدم دستیاب ہےاس لئے معاشرے میں کچھ پیچیدگیاں نظرآتی ہے اوربعض عورتیں مجبورہوجاتی ہے کہ وہ روزی کی تلاش یاعلاج معالجے کیلئے گھرسے باہرنکلیں مگر وہ عورت جو ملازمت کی مجبوری کے نام پرگھر سےبناؤ سنگھار کرکے نکلتی ہے اوردفتروں میں مردوں کے سامنے انداز دکھاکر نرمی سے باتیں کرتی ہے وہ توواضح طورپر دین کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہے۔
جہاد کے موقع پر خواتین کا باہر نکلناجو لوگ ابتدائی دورکے غزوات میں خواتین کے کردارکے حوالے سے خواتین کے باہر نکلنے کوجواز بناتے ہیں توان کو معلوم ہوناچاہئے کہ جنگ ایک انتہائی استثنائی معاملہ ہے اوراس میں بھی احکات ستروحجاب کالحاظ رکھاجاتاتھا۔ وہ صحابیات آج کے نام نہاد مسلمانوں کی طرح بے پرد انداز سے نہیں نکلتی تھیں ۔آج کے زبانی شیر مسلمان عورت تو کیا مرد بھی جنگ کے موقع پر مٹی کے مادھو ثابت ہونگے یہ تاریخ کاسبق ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے اپنی دینی اقدارکو فراموش کیا وہ ناکام ہوئے اوردشمنوں کیلئے ترنوالہ ثابت ہوئے ۔تاریخ کے اس سبق کو دشمنانِ اسلام خوب یاد رکھتے ہیں اوروقتا فوقتابے شرمی اوربے حیائی کے طریقوں کو اپنے حربے کے طورپر استعمال کرکے مسلمانوں کی ایمانی کیفیت کو کمزورکرتے رہتے ہیں ۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں اپنے مقاصد کیلئے کے حصول کیلئے مگرالمیہ ہے کہ جب مسلمان خیرخواہی کے حوالے سے آپس میں نصیحت کرتے ہیں تومسلمانوں ہی کے رہنمااوردانشورچراغ پا ہوجاتے ہیں گویا درپردہ وہ دشمن کے ایجنٹ کاہی کام کرتے ہیں!
یہ بات قابل توجہ ہے کہ جب اسلام کے ذیلی نظاموں مثلاً نظامِ معیشت ،نظامِ عدل ،نظامِ حکومت،نظامِ اخلاقیات کا مکمل اوربیک وقت اطلاق ہوگا تووہ مختلف پیچیدگیاں جن کے اثرات کے تحت عورتوں کے باہرنکلنے کا جوا ز بنایاجاتاہے ان میں سے اکثرپیچیدگیاں پیداہی نہیں ہونگی مثلاً گھرچلانے کی ذمہ داریاں وغیرہ۔ اسلام پیچیدگیوں پرکنٹرول لاتاہے تاکہ باہرآنے کی ضرورت ہی نہ آئے مزیدیہ کہ اسلام کا بنیادی تقاضایہ ہے کہ سادگی کے ساتھ دنیاکی زندگی گزاردی جائے اورمقصدِ حیات اس دنیاکے متعلقات پر محنت نہیں بلکہ آخرت کی زندگی کیلئے ہو یہ نکتہ بھی مختلف قسم کی ان پیچیدگیوں کوزائل کرنے میں مدددیتاہے جن کو گھرسے باہرنکلنے کا جوازبنایاجاتاہے۔
چنانچہ اگر مندرجہ بالا اصولوں کا اطلاق ہوگا تو عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے کی شرح میں لازمی کمی آئے گی اور یوں ستر و حجاب کی خلاف ورزی سے متعلق مسائل بھی کم سے کم ہوں گے ۔
اصل ذمہ داری مردوں کی ہے مردوں کی افراط وتفریط نے اسلام کے اس اعلیٰ اورزریں اصول کی افادیت کو غیرموثرکردیا۔پردے کے ثمرات اس وقت تک سامنے نہیں آئیں گے جب تک اس کےاحکامات پر کامل عمل درآمدنہیں ہوگا ۔ مثلاًغض بصر(نگاہ نیچی رکھنے ) کا حکم مردوعورت دونوں کیلئے ہے اوربنی آدم کے لفظ میں مرد وعورت دونوں شامل ہیں ۔بے مقصد گھر سے نکلنامرداورعورت دونوں کیلئے منع ہے ۔ مردوں کے لئے بھی بیوٹی پارلروں کا استعمال، بالوں کی تزئین وآرائش ، تنگ وچست لباس ،نیکروں کااستعمال اورگریبان کھلا رکھنا وغیرہ سب ممنوع ہیں ۔چنانچہ مرد حضرات بھی ستر وحجاب کے احکامات سے کسی طور پر مستثنیٰ نہیں ہے بلکہ ان کی ذمہ داریاں ازخود عمل کے حوالے سے زیادہ ہیں ۔ کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ کسی معاشرے میں مرد با حیا ہوں اوروہاں کی عورتیں بے حیا اور بے پردہ رہیں ۔

Posted in کالم | Leave a Comment »

حضرت زیدؓاور حضرت سعيدؓبن زیدؓ

Posted by ارتقاءِ حيات on May 17, 2013

ايک سعادت مندباپ اور عظيم بيٹا عرب ميں جس وقت شرک،بت پرستی،قتل وغارت گری، قبائلی تعصب کا عفريت عربوں کا خون بہار ہا تھا۔ جہالت کا کینسر لڑکیوں کو زندہ دفن کرار ہا تھا۔اس وقت بھی چند ایسے نفوس موجود تھے،جوملت ابراہیمی کے دين حنیف پر قائم تھے اور توحید کے قائل تھے۔

یہ داستان بھی ایک ایسے ہی پاک نفس کی ہے ۔حضرت زید ؓان سعادت مند بزرگوں میں تھے،جنہوں نے اسلام سے پہلے ہی توحید کی مٹھاس اپنے قلب ميں محسوس کر لی تھی اور اپنے زمانے کے تمام فسق و فجور اور جاہلانہ رسموں سے نفرت کر تے تھے۔ یہا ں تک کہ و ہ مشرکین کے ذبیح سے بھی بچتے تھے۔
اسلام سے پہلے ایک دفعہ آنحضرت ﷺا سے وادی بلدح میں حضرت زید ؓکی ملاقا ت ہوئی۔(یہ تنعیم کے راستے میں ایک مقام کا نام تھا) وہاں کے لوگوں نے آنحضرت ﷺاکے سامنے کھانا پیش کیا۔آپ ﷺنے مشرکین کے اس کھانے سے انکار کیا تو حضرت زید ؓنے بھی انکار کر دیا اور کہا کہ میں تمہارے بتو ں کا چڑھایا ہوا ذبیحہ نہیں کھاتا۔کفر و شرک سے نفرت کرنے والایہ دل راہ حق سے دور تھا۔ ان کا توحید تک کا سفر دلچسپ اور سبق آموزہے۔حق کی تلاش میں انہوں نے عرب سے چل کر کئی ملکوں کی خاک چھانی۔شام پہنچ کر ایک یہودی سے اپنا مقصد بیان کیا۔اس نے کہا کہ اگر اللہ کے غضب سے حصہ لینا ہے تو ہمارا مذہب حاضر ہے ۔حضرت زید ؓنے کہا :میں اسی سے تو بھاگا ہوں ۔پھر اس میں گرفتار نہیں ہو سکتا۔البتہ اگر کوئی دوسرا مذہب بتا سکتے ہو تو بتاو ۔اس نے کہا :ایسا مذہب دین حنیف ہے۔انہوں نے پوچھا:د ين حنیف کیا ہے؟اس نے بتایا کہ د ين حنیف حضرت ابراہیم کا مذہب ہے،جو نہ یہودی تھے اور نہ عیسائی،بلکہ صرف خدائے واحد کی پرستش کرتے تھے ۔ یہاں سے روانہ ہوئے تو ايک عیسا ئی عالم سے رہنمائی چاہی۔اس نے کہا اگر اللہ کی لعنت کا طوق چاہتے ہوتو ہمارا مذہب موجود ہے۔ حضرت زید ؓنے کہا خدارا! کوئی ایسا مذہب بتاؤ جس میں
نہ اللہ کا غضب ہو، نہ لعنت۔ ميں ان دونو ں سے بھاگتا ہوں ۔ بولا ميرے خیال ميں ایسا مذہب صر ف دين حنیف ہے ۔
غرض جب ہر طرف سے دین ابراہیم کی طرف رہنمائی ہوئی تو وہ شام سے واپس ہوئے۔اور دونوں ہاتھ اٹھا کرکہا خدایا!میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ اب میں دین حنیف کا پیروکار ہوں ۔
یہا ں قدرے حيرت کے ساتھ ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت زید ؓکے سوال کے جواب ميں یہودی اور عیسا ئی دونوں عالموں نے اپنے اپنے مذہب کو اللہ تعالیٰ کے غضب اور لعنت کا سبب بتایا۔ ایک سوال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اپنے مذہب کے بارے ميں یہ کھلا سچ کیوں کہہ دیا۔اور ان کو اپنے مذہب کی طرف دعوت کیوں نہ دی؟غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسلام سے کچھ پہلے کا زمانہ ہے ۔یہودیوں اور عیسا ئیوں کی کتابوں میں ایک آخری رسول کے آنے کی خبريں دی گئی تھيں ۔ یہ دونوں عالم اس رسول کے آنے کے منتظر تھے۔ ان کا خيال تھا کہ وہ رسول بھی بنی اسرائیل سے ہوگا۔اور دين کی طرف دعو ت دے گا۔اس لیے انہوں نے حضرت زید ؓکو اسی دين کی طرف رہنمائی کی ،جس کی طرف وہ خود بھی جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔
ليکن ان لوگوں کے گمان کے برعکس جب وہ رسول بنی اسرائیل کے بجائے عرب ميں مبعوث ہوا تو محض نسبی تعصب کی بنا پر اس رسول کی نبوت سے انکار کر دیا۔
حضرت زيد ؓکو اس کفرستان عرب ميں اپنے موحد ہونے پرنہایت فخر تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓکی صاحبزادی حضرت اسما ء ؓکا بیان ہے کہ ميں نے ايک دفعہ زيد ؓکو دیکھا کہ(بعثت سے پہلے) وہ کعبہ سے پشت لگا کر کہہ رہے تھے:
اے گروہ قريش!خدا کی قسم میرے سوا تم ميں کوئی بھی دین ابراہیم پر قائم نہیں ہے ۔ان کی عا دت تھی کہ جاہلیت ميں جب عرب اپنی لڑکيوں کو زندہ دفن کرديتے تھے تواس اللہ لا شريک کے بندے کو ان لڑکيوں کو بچانے ميں خاص لطف محسوس ہو تا تھا۔جب کوئی ظالم باپ اپنی لڑکی کو قتل کرنا چاہتا تو یہ اس لڑکی کی کفالت اپنے ذمے لے ليتے تھے۔اور جب وہ جوان ہوجاتی تواس کے باپ سے کہتے جی چا ہے لے لویا میری ہی کفالت ميں رہنے دو(بخاری)
يہ تو ايک سعادت مند باپ کی داستان تھی۔اب ان کے عظیم بيٹے کا حال سنيے۔ان کا يہ عظيم بيٹا کون ہے؟يہ حضرت سعيدؓبن زيد ؓؓکی ذات مبارک ہے۔کون سعيدؓبن زيد ؓؓ؟وہی جو حضرت عمرؓکے
بہنوی تھے۔ ا ور جب حضرت عمر ؓآنحضرت ﷺکے قتل کے ارادے سے نکلے تو راستے ميں کسی نے کہا کہ پہلے اپنی بہن کی خبر لو۔ اورحضرت عمرؓنے اپنی بہن اور ا س بہنو ی ؓپرسختياں کیں اور دونوں کو لہولہان کر ديا۔ ان دونوں کی غير معمولی استقامت ہی نے عمربن خطاب کو فاروق اعظم ؓبنا دیا۔
حضرت سعيدؓبن زيد ؓؓکے فضائل اور کارنامے عام طور پر منظر عام پر نہیں آئے۔ ظاہر ہے کہ وہ سابقين اولين ميں سے ہيں ۔مہاجرين اولين کے ساتھ مدينہ منورہ ہجرت کی۔سن 2 ہجری ميں قريش مکہ کا وہ قافلہ جو شام سے سامان جنگ لے کر واپس آرہا تھا۔جو بعد ميں غزوه بدر کا پيش خيمہ ثابت ہوا۔ اس قافلہ کے تفصيلی حالات معلوم کر نے کے ليے آنحضرت ﷺنے ان کو اور حضرت طلحہ ؓکو جاسوسی کی مہم پر روانہ فرمايا۔ یہ لوگ حدود شام ميں داخل ہو کر کسی واقف کار کے مہمان ہوئے۔جب قريش کا قافلہ شام سے روانہ ہوا تو یہ دونوں تمام حالات سے باخبر ہوکر قافلے سے نظر بچاکر تيزی سے مدينہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے۔لیکن قافلے کو کچھ گن سن لگ گئی اور انہوں نے راستہ بدل لیا ۔ ادھر رسول اللہ ﷺکو ان دونوں کے پہنچنے سے پہلے ہی واقعہ کی خبر مل چکی تھی اور آپ نے جنگ بدر کی تیاری شروع کردی۔ یہی وہ غزوہ ہے جس نے اسلام کو ہميشہ کے ليے سر بلند کر ديا۔
جس وقت حضرت سعيدؓبن زيدؓمدينہ منورہ پہنچے تو اس وقت اسلام کے غازی فاتحانہ سُرور کے ساتھ مدينہ منورہ ميں داخل ہورہے تھے۔ يہا ں بھی حضرت سعيدؓبن زيد ؓؓکو اعزاز حاصل ہوا کہ آنحضرت ﷺنے ان کو بدر کے مالِ غنيمت ميں حصہ عطا فرمايا۔کیونکہ وہ بھی اس سلسلے کی ايک مہم پر تھے۔ اور بشارت دی کہ ان کو بھی بدر ميں جہاد کا ثواب ملے گا۔ان کے ليے جنت کی پیش گوئی ہے۔
غزوۂ بدر ميں بذات خود شريک نہ ہونے کے علاوہ تمام غزوات ميں مردانگی اور شجاعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺاکے ساتھ شريک رہے۔ حضرت سعيدؓبن زيد ؓؓکے تفصيلی حالات کتابوں میں بہت کم ملتے ہیں۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا دل دنیاوی جاہ وحشمت،مال ودولت اورشہرت وغیرہ سے مستغنی تھا۔اس کا اندازہ اس واقعہ سے کیجئے کہ عہد فاروقی ؓمیں شام پر باقاعدہ فوج کشی ہوئی تو حضرت عبيدہ ؓکی سرکردگی میں نہایت جانبازی سے مختلف محاذوں پر کامیابی کے کا رنامے انجام دئے۔ اسی دوران حضرت عبيدہ ؓنے ان کو شام کی گورنری کا منصب عطا کیا۔ کچھ ہی عرصہ میں شوق جہاد نے ان کو اس منصب سے بیزارکردیا۔ انہوں نے حضرت عبيدہ ؓکو لکھا کہ میں ایسا ایثار نہیں کر سکتا کہ آپ لوگ جہاد کريں اور ميں اس سے محروم رہوں ۔ اس ليے اس خط کے ملتے ہی کسی کو ميری جگہ بھیج ديجيے۔ ميں عنقریب آپ کے پاس پہنچتاہوں ۔مجبورہوکرحضرت عبيدہ ؓنے یزید بن ابی سفیان کو ان کی جگہ مقرر کيااور حضرت سعيدؓؓپھر ميدان کا ر زار ميں پہنچ گئے۔
حضرت اميرمعاویہ ؓکے عہد ميں ايک عورت اروی نامی نے مدينہ کے عامل مروان بن حکم سے شکایت کی کہ حضرت سعيدؓنے اس کی کچھ زمين دبالی ہے۔ اس کی جاگير حضرت سعيدؓکی زمين سے ملی ہوئی تھی۔ تحقيقات کے ليے دو آدمی متعین ہوئے۔ان کو خبر ہوئی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہے کہ جو اپنے مال کے آگے(حفاظت ميں )قتل ہو ،وہ شہيد ہے۔ مروان بن حکم کو زمين دبانے والے کے ليے وعيد کی حديث سنائی۔ اس نے قسم کھانے کو کہاتو يہ دستبر دار ہوگئے۔(روایت حديث ميں احتیاط کی وجہ سے قسم نہيں کھائی)۔ليکن اس عورت کے حق ميں بددعا کی کہ وہ اندھی ہو کر مرے۔ اور اس کے گھر کا کنواں خود اس کی قبربنے۔دعا قبول ہوئی،وہ عورت جلد ہی بصارت سے محروم ہوئی اور گھر کے کنويں ميں ڈوب کر مری۔
ايک دفعہ کوفے کے گورنر مغيرہ بن شعبہ ؓکے پاس آئے۔اسی دوران ايک اور آدمی اندر آیا اور حضرت علی ؓکی شان ميں غیر مہذب کلمات استعمال کر نے لگا۔ حضرت سعيدؓؓسے ضبط نہ ہوسکا۔فرمایا۔مغيرہ!مغيرہ! لوگ تمہارے سامنے رسو ل اللہ ﷺکے جان نثاروں کو گالياں ديتے ہيں اور تم منع نہيں کرتے؟ اس کے بعد حضرت سعيدؓنے عشرہ مبشرہ(دس صحابہ جن کو زندگی ميں جنت کی بشارت دی گئی)ميں شامل آٹھ صحابہ کے نام ليے اور فرمايا کہ رسو ل اللہ ﷺنے ان کو جنت کی بشارت دی ہے۔اور اگر چاہو تو ميں نويں آدمی کانام بھی لے سکتا ہوں ۔لوگوں نے اصرار کيا کہ نويں آدمی کانام بھی بتاديں ۔جواب ميں فرمایا۔نواں ميں ہوں ۔گویا حضرت سعيدؓؓعشرہ مبشرہ ميں سے ہيں ۔
آپ نے اپنی بقیہ زندگی سکون و خاموشی ميں گزاری۔ مدينہ کے قريب مقام عقيق ميں آپ کا مستقل مسکن تھا۔ وہيں 70برس کی عمر ميں وفات پائی۔حضرت عبداللہ بن عمر ؓنے نماز جنازہ پڑھائی۔اور مدينہ لا کر (بقيع ميں ) سپر دخاک کيا۔

Posted in کالم | Leave a Comment »

حضرت عائشہؓ

Posted by ارتقاءِ حيات on May 16, 2013

نام و نسب:
عائشہ نام، صدیقہ اور حمیرا لقب، ام عبداللہ کنیت، حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی صاحبزادی ہیں۔ ماں کا نام زینب تھا، ام رومان کنیت تھی اور قبیلہ غنم بن مالک سے تھیں،
حضرت عائشہ ؓ بعثت کے بار سال بعد شوال کے مہینہ میں پیدا ہوئیں، صدیق اکبر کا کاشانہ وہ برج سعادت تھا، جہاں خورشید اسلام کی شعاعیں سب سے پہلے پرتوفگن ہوئیں، اس بنا پر حضرت عائشہ ؓ اسلام کی ان برگزیدہ شخصیتوں میں ہیں، جن کے کانوں نے کبھی کفروشرک کی آواز نہیں سنی، خود حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب
سے میں نے اپنے والدین کو پہچانا انکو مسلمان پایا،(بخاری ج1ص252)
حضرت عائشہ کو وائل کی بیوی نے دودھ پلایا، وائل کی کنیت ابو الفقیعس تھی، وائل کے بھائی افلح، حضرت عائشہ کےرضاعی چچا کبھی کبھی ان سے ملنے آیا کرتے تھے، اور رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے وہ انکے سامنے آتی تھیں،(ایضاً ص320) رضاعی بھائی بھی کبھی کبھی ملنے آیا کرتا تھا،(ایضاًص361)
نکاح:
تمام ازواجِ مطہرات ؓ ن میں یہ شرف صرف حضرت عائشہ ؓ کو حاصل ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کی کنواری بیوی تھیں، آنحضرت ﷺ سے پہلے وہ جبیر بن مطعم کے صاحبزادے سے منسوب ہوئی تھیں، لیکن جب حضرت خدیجہ ؓ کے انتقال کے بعد خولہ ؓ بنت حکیم نے آنحضرت ﷺ سے اجازت لیکر ام رومان سے کہا، اور انہوں نے حضرت ابوبکر ؓ سے ذکر کیا، تو چونکہ یہ ایک قسم کی وعدہ خلافی تھی، بولے کہ جبیر بن مطعم سے وعدہ کر چکا ہوں، لیکن مطعم نے خود اس بنا پر انکار کر دیا کہ اگر  ضرت عائشہ ؓ انکے گھر گئیں تو تو گھر میں اسلام کا قدم آ جائے گا،بحرحال حضرت ابوبکر ؓ نے خولہ کے ذریعہ سے آنحضرت ﷺ سے عقد کر دیا، پانچ سو درہم مہر قرار پایا، یہ سن دس نبوی کا واقعہ ہے، اس وقت حضرت عائشہ ؓ چھ برس کی تھیں،یہ نکاح اسلام کی سادگی کی حقیقی تصویر تھا، عطیہ ؓ اسکا واقعہ اس طرح بیان کرتی ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ لڑکیوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں، انکی انّا آئی اور انکو لے گئی، حضرت ابوبکر ؓ نے آکت نکاح پڑھا دیا، حضرت عائشہ ؓ خود کہتی ہیں کہ  جب میرا نکاح ہوا تو مجھکو کچھ خبر تک نہ ہوئی جب میری والدہ نے باہر نکلنے میں روک ٹوک شروع کی، تب میں سمجھی کہ میرا نکاح ہو گیا، اسکے بعد میری بعد میری والدہ نے مجھے سمجھا بھی دیا (طبقات ابن سعدج8ص40)
نکاح کے بعد مکہ میں آنحضرت ﷺ کا قیام تین سال تک رہا، سن تیرہ نبوی میں آپ ﷺ نے ہجرت کی تو حضرت ابوبکر ؓ ساتھ تھے۔ اور اہل وعیال کو دشمنوں کے نرغہ میں چھوڑ آئے تھے جب مدینہ میں اطمینان ہوا تو حضرت ابوبکر ؓ نے عبداللہ بن اریقط کو بھیجا کہ ام رومانؓ ، اسماء ؓ اور عائشہ ؓ کو لے آئیں، مدینہ میں آکر حضرت عائشہ سخت بخار میں مبتلاہوئیں، اشتداد مرض سے سر کے بال جھڑ گئے،(صحیح بخاری، باب الہجرة)صحت ہوئی تو ام رومان کو رسم عروسی ادا کرنے کا خیال آیا، اس وقت حضرت عائشہ ؓ کی عمر نو سال کی تھی، سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھیں کہ ام رومان نے آواز دی، انکو اس واقعہ کی خبر تک نہ تھی، ماں کے پاس آئیں، انہوں نے منہ دھویا بال درست کیئے گھر میں لے گئیں انصار کی عورتیں انتظار میں تھیں، یہ گھر میں داخل ہوئیں تو سب نے مبارکباد دی، تھوڑی دیر کے بعد خود آنحضرت ﷺ تشریف لائے،(صحیح بخاری تزویج عائشہ ؓ و سیرة النبی مجلد2)شوال میں نکاح ہوا تھا اور شوال ہی میں یہ رسم ادا کی گئی،حضرت عائشہ ؓ کے نکاح سے عرب کے بعض بیہودہ خیالات میں اصلاح ہوئی
(1)عرب منہ بولے بھائی کی لڑکی سے شادی نہیں کرتے تھے، اسی بنا پر جب خولہ نے حضرت ابوبکر ؓ سے آنحضرت صلی ﷺ کا ارادہ ظاہر کیا، تو انہوں نے حیرت سے کہا کیا یہ جائز ہے؟ عائشہ تو رسول اللہ ﷺ کی بھتیجی ہے  لیکن آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ انت اخ فی السلام تم تو صرف مذہبی بھائی ہو
(2)اہل عرب شوال میں شادی نہیں کرتے تھے، زمانہ قدیم میں اس مہینہ میں طاعون آیا تھا۔ حضرت عائشہ ؓ کی شادی اور رخصتی دونوں شوال میں ہوئیں،
عام حالات:
غزوات میں سے صرف غزوہ احد میں حضرت عائشہ ؓ کی شرکت کا پتہ چلتا ہے صحیح بخاری میں حجرت انس ؓ سے منقول ہے کہ میں نے عائشہ ؓ اور ام سلیم ؓ کو دیکھا کہ مشک بھر بھر کر لاتی تھیں اور زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں(بخاری ج2ص581)
غزوہ بنی مصطلق میں کہ سن پانچ ہجری کا واقعہ ہے۔ حضرت  عائشہ ؓ آپکے ساتھ تھیں، واپسی میں انکا ہار کہیں گر گیا، پورے قافلے کو اترنا پڑا، نماز کا وقت آیا تو پانی نہ ملا، تمام صحابہ پریشان تھے، آنحضرت ﷺ کو خبر ہوئی اور تیمم کی آیت نازل ہوئی، اس اجازت سے تمام لوگ خوش ہوئے، اسیّد بن حفیر ؓ نے کہا، اے آلِ ابوبکر ؓ ! تم لوگوں کے لیے سرمایہ برکت ہو،اسی لڑائی میں واقعہ افک پیش آیا۔ یعنی منافقین نے حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگائی احادیث اور سیر کی کتابوں میں اس واقعہ کو نہایت  تفصیل کے ساتھ نقل کیاہے، لیکن جس واقعہ کی نسبت قرآن مجید میں مذکور ہے، کہ سننے کے ساتھ لوگوں نے یہ کیوں نہیں کہدیا کہ بالکل افترا ہے اسکو تفصیل کے ساتھ لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں۔سن نو ہجری میں تحریم اور ایلاء و تخییر کا واقعہ پیش آیا اور واقعہ تحریم کی تفصیل حضرت حفصہ ؓ کے حالات میں آئے گی۔ البتہ واقعہ ایلاء کی تفصیل اس مقام پر کی جاتی ہے،آنحضرت ﷺ زاہدانہ زندگی بسر فرماتے تھے۔ دو دو مہینے گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، آئے دن فاقے ہوتے رہتے تھے، ازواج مطہرات گو شرف صحبت کی برکت سے تمام انبائے جسم سے ممتاز ہو گئیں تھیں۔ تاہم بشریت بالکل معدوم نہیں ہو سکتی تھی، خصوصاً وہ دیکھتی تھیں کہ فتوحات اسلام کا دائرہ بڑھتا جاتا ہے۔ اور غنیمت کا سرمایہ اس قدر پہنچ گیا ہے کہ اسکا ادنی حصہ بھی انکی راحت و آرام کے لیے کافی ہو سکتا ہے، ان واقعات کا اقتضا تھا کہ انکے صبر قناعت کا جام لبریز ہو جاتا۔
ایک مرتبہ حضرت ابوبکر و عمر ؓ ما خدمت نبوی میں حاضر ہوئے، دیکھا کہ بیچ میں آپ ﷺ ہیں ادھر ادھر بیویاں بیٹھی ہیں، اور توسیع نفقہ کا تقاضا ہے، دونوں اپنی صاحبزادیوں کی تنبیہہ پر آمادہ ہو گئے، لیکن انہوں نے عرض کی کہ ہم آئندہ آنحضرت ﷺ کو زائد مصارف کی تکلیف نہ دینگے۔
دیگر ازواج اپن مطالبہ پر قائم رہیں، آنحضرت ﷺ کے سکون خاطر میں یہ چیز اس قدر خلل انداز ہوئی، کہ آپ نے عہد فرمایا کہ ایک مہینہ تک ازواج مطہرات سے نہ ملیں گے اتفاق یہ کہ اسی زمانہ میں آپ گھوڑے سے گر پڑے اور ساق مبارک پر زخم آیا آپ نے بالا خانے پر تنہا نشینی اختیار کی، واقعات کے قرینہ سے لوگوں نے یہ خیال کیا کہ آپ نے تمام ازواج کو طلاق دے دی؟ تو آپ نے فرمایا نہیں  یہ سن کر حضرت عمر ؓ اللہ اکبر پکار اٹھے،جب ایلاء کی مدت یعنی ایک مہینہ گزر چکا تو آپ بالا خانہ سے اتر آئے، سب سے پہلے حضرت عائشہ ؓ کے پاس تشریف لائے، وہ ایک ایک دن گنتی تھیں، بولیں  یا رسول اللہﷺ آپ نے ایک مہینہ کے لیے عہد فرمایا تھا، ابھی تو انتیس ہی دن ہوئے ہیں،  ارشاد ہوا مہینہ کبھی انتیس کا بھی ہوتا ہے۔
اسکے بعد آیت تخییر نازل ہوئی، اس آیت کی رو سے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا کہ ازواج مطہرات کو مطلع فرما دیں کہ دو چیزیں تمہارے سامنے ہیں، دنیا اور آخرت، اگر تم دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمکو رخصتی جوڑے دیکر عزت و احترام کے ساتھ رخصت کر دوں، اور اگر تم خدا اور رسول اور ابدی راحٹ کی طلبگار ہو تو خدا نے نیکوکاروں کے لیے بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے، چونکہ حضرت عائشہ ؓ ان تمام معاملات میں پیش پیش تھیں، آپ نے انکو ارشاد الہی سے مطلع فرمایا، انہوں نے کہا میں سب کچھ چھوڑ کر خدا اور سول کو لیتی ہوں،  تمام ازواج مطہرات نے بھی یہی جوابدیا،(صحیح بخاری(جلد2ص793)و صحیح مسلم الایلاء)
ربیع الاول سن گیارہ ہجری میں آنحضرت ﷺ نے وفات پائی، تیرہ دن علیل رہے، جن میں آٹھ دن حضرت عائشہ ؓ کے حجرہ میں اقامت فرمائی، خلق عمیم کی بنا پر ازواج مطہرات سے صاف طور پر اجازت نہیں طلب کی بلکہ پوچھا کہ کل میں کس کے گھر رہونگا؟دوسرا دن(دوشنبہ) حضرت عائشہ ؓ کے ہاں قیام فرمانے کا تھا، ازواج مطہرات نے مرضی اقدس سمجھ کر عرض کی کہ آپ جہاں چاہیں قیام فرمائیں، ضعف اس قدر زیادہ ہو گیا تھا کہ چلا نہیں جاتا تھا، حضرت علی وحضرت عباس ؓ ما دونوں بازو تھام کر بمشکل حضرت عائشہ ؓ کے حجرہ میں لائے،وفات سے پانچ روز پہلے(جمعرات کو) آپکو یاد آیا کہ حضرت عائشہ ؓ کے پاس کچھ اشرفیاں رکھوائی تھیں، دریافت فرمایا، عائشہ !وہ اشرفیاں کہاں ہیں؟ کیا محمّد خدا سے بدگمان ہو کر ملے گا، جاؤ انکو خدا کی راہ میں خیرات کر دو، (مسندابن حنبل ج6ص49)جس دن وفات ہوئی(یعنی دو شنبہ کے روز) بظاہر طبیعت کو سکون تھا لیکن دن جیسے جیسے چڑھتا جاتا تھا، آپ پر غشی طاری ہوتی تھی، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ جب تندرست تھے تو فرمایا کرتے تھے کہ پیغمبروں کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ خواہ موت کو قبول کریں یا حیات دنیا کو ترجیح دیں۔ اس حالت میں اکثر آپکی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوتے رہے مع الذین انعم اللہ علیھم اور کبھی یہ فرماتے اللہم فی الرفیق الاعلی وہ سمجھ گئیں کہ اب صرف رفاقت الہی مطلوب ہے۔وفات سے ذرا پہلے حضرت ابوبکر ؓ کے صاحبزادے عبدالرحمن ؓ خدمت اقدس میں آئے، آپ حضرت عائشہ ؓ کے سینہ پر سر ٹیک کر لیٹے تھے، عبدالرحمن ؓ کے ہاتھ میں مسواک تھی، مسواک کی طرف نظر جما کر دیکھا، حضرت عائشہ ؓ سمجھیں کہ آپ  مسواک کرنا چاہتے ہیں، عبدالرحمن ؓ سے مسواک لیکر دانتوں سے نرم کی، اور خدمت اقدس میں پیش کی، آپ نے بالکل تندرستوں کی طرح مسواک کی، حضرت عائشہ ؓ فخریہ یہ کہا کرتی تھیں کہ تمام بیویوں میں مجھی کو یہ شرف حاصل ہوا کہ آخر وقت میں بھی میرا جھوٹا آپ نے منہ میں لگایا۔اب وفات کا وقت قریب آ رہا تھا، حضرت عائشہ ؓ آپکو سنبھالے بیٹھی تھیں کہ دفعتہً بدن کا بوجھ معلوم ہوا، دیکھا تو آنکھیں پھٹ کر چھت سے لگ گئیں تھیں اور روح پاک ﷺ عالم اقدس میں پرواز کر گئی تھی، حضرت عائشہ ؓ نے سراقدس تکیہ پر رکھ دیا اور رونے لگیں۔حضرت عائشہ ؓ کے ابواب مناقب کا سب سے زریں باب یہ ہے کہ انکے حجرہ کو آنحضرت ﷺ کا مدفن بننا نصیب ہوا، اور نعش مبارک اسی حجرہ کے ایک گوشہ میں سپردخاک کی گئی۔ چونکہ ازواج مطہرات کے لیے خدا نے دوسری شادی ممنوع قرار د ی تھی اس لیے آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت عائشہ ؓ نے 48 سال بیوگی کی حالت میں بسر کیئے، اس زمانہ میں انکی زندگی کا مقصد واحد قرآن و حدیث کی تعلیم تھا، جسکا ذکر آئندہ آئے گا، آنحضرت صلی اللہ ولیہ وسلم کی وفات کے دو برس بعد سن تیرہ ہجری میں ابوبکرؓ نے انتقال فرمایا اور حضرت عائشہ ؓ کے لیے یہ سایہ شفقت بھی باقی نہ رہا۔حضرت ابوبکر ؓ کے بعد حضرت عمر ؓ خلیفہ ہوئے، انہوں نے جس قدر حضرت عائشہ کی دلجوئی کی وہ خود اسطرح بیان فرماتی ہیں۔ ابن خطاب نے آنحضرت ﷺ کے بعد مجھ پر بڑے بڑے احسانات کیئے،(مستدرک حاکم ج4ص78)حضرت عمر ؓ نے تمام ازواج مطہرات کے لیے دس دس ہزار سالانہ وظیفہ مقرر فرمایا تھا، لیکن حضرت عائشہ ؓ کے لیے وظیفہ بارہ ہزار تھا، جسکی وجہ یہ تھی کہ وہ آنحضرت ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب تھیں،(مستدرک)
حضرت عثمان ؓ کے واقعہ شہادت میں حضرت عائشہ ؓ مکہ میں مقیم تھیں، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر ؓ ما نے مدینہ جا کر انکو واقعات سے آگاہ کیا تو دعوت اصلاح کے لیے بصرہ گئیں اور وہاں حضرت علی ؓ سے جنگ پیش آئی، جو جنگ جمل کے نام سے مشہور ہے، جمل اونٹ کو کہتے ہیں، چونکہ حضرت عائشہ ؓ ایک اونٹ پر سوار تھیں، اور اس نے اس معرکہ میں بڑی اہمیت حاصل کی تھی، اسلیئے یہ جنگ بھی اسی کی نسبت سے مشہور ہو گئی، یہ جنگ اگرچہ بالکل اتفاقی طور پر پیش آ گئی تھی تاہم حضرت عائشہ ؓ کو ہمیشہ اسکا افسوس رہا۔بخاری میں ہے کہ وفات کے وقت انہوں نے وصیت کی کہ مجھے روضہ نبوی میں آپکے ساتھ دفن نہ کرنا، بلکہ بقیع میں ازواج کے ساتھ دفن کرنا، کیونکہ میں نے آپکے بعد ایک جرم(کتاب الجنائز و مستدرک حاکم جلد4ص8) کیا ہے  ابن سعد میں ہے کہ وہ جب یہ آیت پڑھتی تھیں وَقَرنَ فِی بُیُوتِکُنَ اے پیغمبر کی بیویو! اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ بیٹھو۔  تو اس قدر روتی تھیں کہ آنچل تر ہو جاتا تھا،(طبقات ابن سعد ص59جزثانی)
حضرت علی ؓ کے بعد حضرت عائشہ ؓ اٹھارہ برس اور زندہ رہیں اور یہ تمام زمانہ سکون اور خاموشی میں گزرا،
وفات:
امیر معاویہ کا اخیر زمانہ خلافت تھا کہ رمضان سن اٹھاون ہجری میں حضرت عائشہ ؓ نے رحلت فرمائی، اس وقت سرسٹھ برس کا سن تھا، اور وصیت کےمطابق جنت البقیع میں رات کے وقت مدفون ہوئیں، قاسم بن محمّد، عبداللہ بن عبدالرحمن، عبداللہ بن ابی عتیق، عروہ بن زبیر ؓ م نے قبر میں اتارا، اس وقت ابو ہریرہ ؓ ، مروان بن حکم کی طرف سے مدینہ کے حاکم تھے، اس لیے انہوں نے نماز جنازہ پڑھائی،
اولاد:
حضرت عائشہ ؓ کے کوئی اولاد نہیں ہوئی، ابن الاعرابی نے لکھا ہے کہ ایک ناتمام بچہ ساقط ہوا تھا، اسکا نام عبداللہ تھا، اور اسی کے نام پر انہوں نے کنیت رکھی تھی، لیکن یہ قطعاً غلط ہے، حضرت عائشہ ؓ کی کنیت ام عبداللہ انکے بھانجے عبداللہ بن زبیر کے تعلق سے تھی، جنکو انہوں نے متبنی بنایا تھا،
حلیہ:
حضرت عائشہ ؓ خوش رو اور صاحب جمال تھیں، رنگ سرخ و سفید تھا،
فضل و کمال:
علمی حیثیت سے حضرت عائشہ ؓ کو نہ صرف عورتوں پر نہ صرف دوسری امہات المومنین پر، نہ صرف خاص خاص سحابیوں پر بلکہ باستثنائے چند تمام صحابہ پر فوقیت حاصل تھی، جامع ترمذی میں حضرت ابوموسی اشعری سے روایت ہے، ہمکو کبھی کوئی ایسی مشکل بات پیش نہیں آئی جسکو ہم نے عائشہ سے پوچھا ہو اور انکے پاس اس سے متعلق کچھ معلومات نہ ملے ہوں،
امام زہری جو سرخیل تابعین تھے، فرماتے ہیں، عائشہ ؓ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عالمہ تھیں، بڑے بڑے اکابر صحابہ ان سے پوچھا کرتے تھے،(طبقات ابن سعدجزو2قسم2ص26)
عروہ بن زبیر ؓ کا قول ہے، قرآن، فرائض، حلال و حرام، فقہ و شاعری، طب، عرب کی تاریخ اور نسب کا عالم عائشہ ؓ سے بڑھکر کسی کو نہیں دیکھا،امام زہری کی ایک شہادت ہے، اگر تمام مردوں کا اور امہات المومنین کا علم ایک جگہ جمع کیا جائے تو حضرت عائشہ ؓ کا علم وسیع تر ہو گا۔حضرت عائشہ ؓ کا شمار مجتہدین صحابہ ؓ م میں ہے، اور اس حیثیت سے وہ قس قدر بلند ہیں کہ بےتکلف انکا نام حضرت عمر، حضرت علی، عبداللہ بن مسعود اور عبداللہ بن عباس ؓ م کے ساتھ لیا جا سکتا ہے، وہ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان ؓ م کے زمانہ میں فتوے دیتی تھیں، اور اکابر صحابہ ؓ م پر انہوں نے جو دقیق اعتراضات کیئے ہیں انکو علامہ سیوطی نے ایک رسالہ میں جمع کر دیا ہے، اس رسالہ کا نام عین الاصابہ فی ما استدرکتہ عائشہ ؓ علی الصحابہ ہے،حضرت عائشہ ؓ کثرین صحابہ میں داخل ہیں، ان سے 2210 حدیثیں مروی ہیں، جن میں 174 حدیثوں پہ شیخین نے اتفاق کیا ہے، امام بخاری نے منفرداً ان سے 54 حدیثیں روایت کی ہیں، 6 حدیثوں میں امام مسلم منفرد ہیں، بعض لوگوں کا قول ہے کہ امام شرعیہ میں سے ایک چوتھائی ان سے منقعول ہے،علم کلام کے متعدد مسائل انکی زبان سے ادا ہوئے ہیں، چنانچہ رویت باری، علم غیب، عصمت انبیاء، معراج، ترتیب خلافت اور سماع موتیٰ وغیرہ کے متعلق انہوں نے جو خیالات ظاہر کیئے ہیں، انصاف یہ ہے کہ ان میں انکی وقت نظر کا پلہ بھاری نظر آتا ہے،علم اسرارالدین کے متعلق بھی ان سے بہت سے مسائل مروی ہیں، چنانچہ قرآن مجید کی ترتیب نزول، مدینہ میں کامیابی اسلام کے اسباب، غسل جمعہ، نماز قصر کی علت، صوم عاشورہ کا سبب ، ہجرت کے معنی کی انہوں نے خاص تشریحیں کی ہیں،طب کے متعلق وہی عام معلومات تھیں، جو گھر کی عورتوں کو عام طور پر ہوتی ہیں۔البتہ تاریخ عرب میں وہ اپنا جواب نہیں رکھتی تھیں، عرب جاہلیت کے حالات انکے رسم و رواج، انکے انساب اور انکی طرز معاشرت کے متعلق انہوں نے بعض ایسی باتیں بیان کیں ہیں، جو دوسری جگہ نہیں مل سکتیں، اسلامی تاریخ کے متعلق بھی بعض اہم واقعات ان سے منقول ہیں مثلاً آغازِ وحی کی کیفیت، ہجرت کے واقعات، واقعہ افک، نزول قرآن اور اسکی ترتیب، نماز کی صورتیں، آنحضرت ﷺ کے مرض الموت کے حالات، غزوہ بدر، احد، خندق، قریظہ کے واقعات، غزوہ ذات الرقاع میں نماز خوف کی کیفیت، فتح مکہ میں عورتوں کی بیعت، حجة الوداع کے ضروری  الات، آنحضرت ﷺ کے اخلاق و عادات، خلافت صدیقی، حضرت فاطمہ ؓ اور ازواج مطہرات ؓ ن کا دعوی میراث، حضرت علی ؓ کا ملال خاطر اور پھر بیعت کے تمام مفصل  الات ان ہی کے ذریعہ سے معلوم ہوئے ہیں۔ادبی حیثیت سے وہ نہایت شیریں کلام اور فصیح اللسان تھیں، ترمذی میں موسی ابن طلحہ کا قول نقل کیا ہے، میں نے عائشہ ؓ سے زیادہ کسی کو فصیح اللسان نہیں دیکھا۔ (مستدرک حاکم ج4ص11)
اگرچہ احادیث میں روایت بالمعنی کا عام طور پر رواج ہے، اور  روایت باللفظ کم اور نہایت کم ہوتی ہے تاہم جہاں حضرت عائشہ کے اصل الفاظ محفوظ رہ گئے ہیں، پوری حدیث میں جان پڑ گئی ہے، مثلاً آغاز وحی کے سلسلہ میں فرماتی ہیں، آپ جو خواب دیکھتے تھے سپیدۂ سحر کی طرح نمودار ہو جاتا تھا،آپ پر جب وحی کی کیفیت طاری ہوتی، تو جبیں مبارک پر عرق آ جاتا تھا اسکو اسطرح ادا کرتی ہیں، پیشانی پر موتی ڈھلکتے تھے،  واقعہ افک میں انہیں راتوں کو نیند نہیں آتی تھی، اسکو اسطرح بیان فرماتی ہیں، میں نے سرمۂ خواب نہیں لگایا،صحیح بخاری میں انکے ذریعہ سے ام زرع کا جو قصہ مذکور ہے، وہ جان ادب ہے اور اہل ادب نے اسکی مفصل شرحیں اور حاشیے لکھے ہیں،خطابت کے لحاظ سے بھی حضرت عمر اور حضرت علی ؓ ما کے سوا تمام صحابہ ؓ م میں ممتاز تھیں جنگ جمل میں انہوں نے جو تقریریں کی ہیں، وہ جوش اور زور کے لحاظ سے اپنا جواب نہیں رکھتیں، ایک تقریر میں فرماتی ہیں، لوگو! خاموش، تم پر میرا مادری حق ہے، مجھے نصحیت کی عزت حاصل ہے، سوا اس شخص کے جو خدا کا فرمانبردار نہیں ہے، مجھکو کوئی الزام نہیں دے سکتا، آنحضرت ﷺ نے میرے سینہ پہ سر رکھے ہوئے وفات پائی ہے، میں آپکی محبوب ترین بیوی ہوں خدا نے مجھکو دوسروں سے ہر طرح محفوظ رکھا اور میری ذات سے مومن و منافق میں تمیز ہوئی اور میرے ہی سبب تم پر خدا نے تیمم کا حکم نازل فرمایا،پھر میرا باپ دنیا میں تیسرا مسلمان ہے اور غار حرا میں دو کا دوسرا تھا اور پہلا شخص تھا جو صدیق کے لقب سے مخاطب ہوا۔ آنحضرت ﷺ نے اس سے خوش ہو کر اور اسکو طوق خلافت پہنا کر وفات پائی اسکے بعد جب مذہب اسلام کی رسی ہلنے ڈلنے لگی تو میرا ہی باپ تھا جس نے اسکے دونوں سرے تھام لیے، جس نے نفاق کی  باگ روک دی، جس نے ارتداد کا سرچشمہ خشک کر دیا، جس نے یہودیوں کی آتش افروزی سرد کی، تم لوگ اس وقت آنکھیں بند کیے غدر و فتنہ کے منتظر تھے اور شوروغوغا پر گوش برآواز تھے۔ اس نے شگاف کو برابر کیا، بیکارکو درست کیا، گرتوں کو سنبھالا، دلوں کی مدفون بیماریوں کو دور کیا، جو پانی سے سیراب ہو چکے تھے، انکو تھان تک پہنچادیا، جو پیاسے تھے انکو گھاٹ پر لے آیا، اور جو ایک بار پانی پی چکے تھے انکو دوبارہ پانی پلایا جب وہ نفاق کا سر کچل چکا، اور اہل شرک کے لیے آتشِ جنگ مشتعل کر چکا اور تمہارے سامان کی گٹھڑی کو ڈوری سے باندھ چکا تو خدا نے اسے اٹھا لیا۔،ہاں میں سوال کا نشانہ بن گئی ہوں کہ کیوں فوج لیکر نکلی؟ میرا مقصد اس سے گناہ کی تلاش اور فتنہ کی جستجو نہیں ہے، جسکو میں پامال کرنا چاہتی ہوں، جو کچھ کہہ رہی ہوں سچائی اور انصاف کے ساتھ تنبہہ اور اتمامِ حجت کے لیے۔ (عقد الفرید باب، الخطیب وذکرواقعۂ جمل ص14)
حضرت عائشہ ؓ گو شعر نہیں کہتی تھیں، تاہم شاعرانہ مذاق اس قدر عمدہ پایا تھا کہ حضرت حسان ابن ثابت ؓ جو عرب کے مسلم الثبوت شاعر تھے، انکی خدمت میں اشعار سنانے کے لیے حاضر ہوئے  تھے، امام بخاری نے ادب میں المفرد میں لکھا ہےکہ حضرت عائشہ ؓ کو کعب بن مالک کا پورا قصیدہ یاد تھا، اس قصیدہ میں کم وبیش چالیس اشعار تھے، کعب کے علاوہ انکو دیگر جاہلیت اور اسلامی شعراء کے اشعار بھی بکثرت یاد تھے، جنکو وہ مناسب موقعوں پر پڑھا کرتی تھیں چنانچہ وہ احادیث کی کتابوں میں منقول ہیں،حضرت عائشہ ؓ نہ صرف ان علوم کی ماہر تھیں، بلکہ دوسروں کو بھی ماہر بنا دیتی تھیں، چنانچہ انکے دامن تربیت میں جو لوگ پرورش پاکر نکلے،اگرچہ انکی تعداد دو سو کے قریب ہے لیکن ان میں جنکو زیادہ قرب و اختصاص حاصل تھا، وہ حسب ذیل ہیں،
عروہ بن زبیر، قاسم بن محمّد، ابو سلمہ بن عبدالرحمان، مسروق، عمرة، صفیہ بنت شیبہ، عائشہ بنت طلحہ، معاوة عدویہ،
اخلاق عادات:
اخلاقی حیثیت سے بھی حضرت عائشہ ؓ بلند مرتبہ رکھتی تھیں، وہ نہایت قانع تھیں، غیبت سے احتراز کرتی تھیں، احسان کم قبول کرتیں، اگرچہ خود ستائی ناپسند تھی تاہم خود دار تھیں، شجاعت و دلیری بھی انکا خاص جوہر تھا،انکا سب سے نمایاں وصف جودوسخا تھا، حضرت عبداللہ بن زبیر فرمایا کرتے تھے کہ میں نے ان سے زیادہ سخی کسی کو نہیں دیکھا، ایک مرتبہ امیر معاویہ ؓ نے انکی خدمت میں لاکھ درہم بھیجے تو شام ہوتے ہوتے سب خیرات کر دیئے اور اپنے لیے کچھ نہ رکھا، اتفاق سے اس دن روزہ رکھا تھا، لونڈی نے عرض کی کہ افطار کے لیے کچھ نہیں ہے، فرمایا پہلے سے کیوں نہ یاد دلایا،(مستدرک حاکم ج4ص13)
ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ جو انکے متبنی فرزند تھے انکی فیاضی دیکھ کر گھبرا گئے اور کہا کہ اب انکا ہاتھ روکنا چاہیے، حضرت عائشہ ؓ کو معلوم ہوا تو سخت برہم ہوئیں اور قسم کھائی کہ ان سے بات نہ کرینگی، چنانچہ ابن زبیر ؓ مدت تک معتوب رہے اور بڑی دقت سے انکا غصہ فرو ہوا،(صحیح بخاری باب مناقب قریش)
نہایت خاشع، متضرع اور عبادت گزار تھیں، چاشت کی نماز برابر پڑھتیں، فرماتی تھیں کہ اگر میرا باپ بھی قبر سے اٹھ آئے، اور مجھکو منع کرے تب بھی باز نہ آؤں گی، آنحضرت ﷺ کے ساتھ راتوں کو اٹھ کر تہجد کی نماز ادا کرتی تھیں اور اسکی اس قدر پابند تھیں، کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جب کبھی یہ نماز قضا ہو جاتی تو نماز فجر سے پہلے اٹھ کر اسکو پڑھ لیتی تھیں، رمضان میں تراویح کا خاص اہتمام کرتی تھیں، ذکوان انکا غلام امامت کرتا اور وہ مقتدی ہوتیں۔اکثر روزے رکھا کرتی تھیں، حج کی بھی شدت سے پابند تھیں اور ہر سال اس فرض کو ادا کرتی تھیں، غلاموں پر شفقت کرتیں، اور انکو خرید کر آزاد کرتی تھیں، انکے آزادک ردہ غلاموں کی تعداد 67 ہے،(شرح بلوغ المرام کتاب العتق)

Posted in کالم | Leave a Comment »

سورۃ الفاتحہ

Posted by ارتقاءِ حيات on May 15, 2013

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
الْحَمْدُلِله تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں :
یعنی اے اللہ کے بندو! تم کہو الحمد للہ  , اور ہم بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہیں کہ اللہ تعالى کا فرمان ہے اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ [العلق : 1] (اپنےاس رب کے نام سے پڑھیئے جس نے پیدا فرمایا ہے ) اور  قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى [النمل : 59] ( کہہ دیجئے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اورسلامتی اللہ کے چنیدہ بندوں پر 
رَبِّ الْعَالَمِينَ جہانوں کا رب  :
 جس نے انہیں پیدا فرمایا ہے اور انکے رزق کے اسباب پیدا کیے ہیں , اللہ تعالى کا فرمان ہے قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَندَاداً ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ۔ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِن فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاء لِّلسَّائِلِينَ [فصلت : 9,۱۰]   کہہ دیجیئے کیا تم اس ذات کا کفر کرتے ہو اور اسکے شریک بناتے ہو ؟ جس نے زمین کو دو دنوں میں پیدا کیا ہے وہ رب العالمین ہے ! ۔ اور اس نے چار دنوں میں اس (زمین) میں اسکےاوپرسےپہاڑ بنا دیے اور اس میں برکت ڈالی اور اس میں رزق رکھ دیا , ضرورت مندوں کے لیے یکساں طور پر  ۔
الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  بڑا مہربان ,نہایت رحم کرنیوالا  :
وہی ذات باری اپنے بندوں کی تخلیق فرما کر , انہیں ایمان کی ہدایت دے کر, اور دنیوی و اخروی خوش بختی کے اسباب مہیا فرما کر رحمت کی برکھا برسانے والی ہے ۔ اللہ تعالى فرماتے ہیں : الرَّحْمَنُ (1) عَلَّمَ الْقُرْآنَ (2) خَلَقَ الْإِنْسَانَ (3) عَلَّمَهُ الْبَيَانَ[الرحمن] , رحمان , اس نے قرآن سکھایا, انسان کو پیدا کیا , اور قوت بیان عطاء کی ۔
نیز فرمایا : هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا (الأحزاب :43) وہ اور اسکے فرشتے تم پر درود بھیجتے ہیں تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے اور وہ مؤمنوں پر نہایت رحم کرنیوالا ہے ۔ اور شاید یہ دنوں لفظ (یعنی رحمن اور رحیم ) مترادف ہیں ۔
مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ فیصلہ کے دن کا مالک ہے :
وہ قیامت کا دن ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالى نے فرمایا ہے : وَمَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ (17) ثُمَّ مَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ (18) يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئًا وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِلَّهِ (19) [المطففین] اور آپکو کیا پتہ فیصلہ کا دن کیا ہے ۔ پھر آپکو کیا علم کہ فیصلہ کا دن کیا ہے ۔ جس دن کوئی جان کسی جان کے لیے ذرہ بھی مالک نہ ہوگی , اور اس دن ہمہ قسم معاملہ اللہ کے سپرد ہوگا۔
إِيَّاكَ نَعْبُدُہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں :
ہر اس کام میں جس میں تو اخلاص کا حقدار ہے خواہ وہ خالص عبادت ہو یا کامل محبت , تجھے ہی یکتا رکھتے ہیں ۔کیونکہ فرمان الہی ہے : وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ [البینہ :۵] اور انہیں صرف اسی کام کا حکم دیا گیا کہ اللہ کے لیے یکسو ہوکر , اپنے دین کو اسی کے لیے خالص کرکے اسکی عبادت کرو ۔
 اور اللہ تعالى کا فرمان ہے : وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ [البقرہ : ۱۶۵] اور اہل ایمان محبت کے اعتبار سے اللہ کے لیے انتہائی پرجوش ہیں ۔
وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔
یعنی جو امور صرف تیرے ہی ہاتھ میں ہیں ان میں ہم صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں , کیونکہ اللہ کا فرمان ہے  وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ (79) وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ (80) وَالَّذِي يُمِيتُنِي ثُمَّ يُحْيِينِ (81) وَالَّذِي أَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ (82)  وہی ہے جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے ۔ اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفاء بخشتا ہے ۔ اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا ۔ اور وہی ہے کہ میں جس کے بارہ میں طمع کرتاہوں کہ وہ فیصلہ کے دن میری خطائیں معاف فرما دے ۔
نیز فرمایا : يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ (49) أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا [الشورى] جسے چاہتا ہے بیٹیاں دیتاہےاورجسےچاہتاہےبیٹے  عطاء کرتا ہے ۔ یا بیٹیاں اور بیٹے ملا کر دے دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ بنا دیتا ہے ۔
نیز فرمایا : أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ [ الروم:۳۷] کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ تعالى جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتاہےاورجسکےلیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے ۔
 نيز فرمايا : وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ [الشورى :۲۸] وہی ہے جو لوگوں کے مایوس ہو جانے کے بعد بارش نازل کرتا ہے اور اپنی رحمت پھیلاتا ہے۔اور وہ امور جو بندوں کے مقدور میں ہیں ان میں بندوں سے مدد لینا جائز ہے کیونکہ اللہ تعالى نے فرمایا ہے : وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى [ المائدہ : ۲] اور نیکی اور تقوى کے کاموں ایکدوسرے سے تعاون کرو ۔

Posted in کالم | Leave a Comment »

معراج کا تحفہ

Posted by ارتقاءِ حيات on May 14, 2013

نبوت کے12سال ہوچکے تھے ،بہت کم لوگوں نے اسلام قبول کیاتھا ،اسلام اورمسلمانوں کے لیے مکہ کی زمین گویا بنجر ہوچکی تھی ،ہر طرح سے ستایاگیا ،لیکن آپ ﷺکام میں لگے رہے ،پھر وہ وقت بھی آیا کہ آپ ﷺکی چہیتی بیوی خدیجہ ؓاور آپ کے چچا ابوطالب ؓدونوں دنیا سے چل بسے ۔ یہ سال اللہ کے رسولﷺ کے لیے اتنا کربناک تھا کہ غم کا سال کہلایا۔
مکہ کے لوگوں کی شرارت اور زیادہ ہونے لگی ۔طائف گئے اس امید سے کہ وہا ں کے لوگ اسلام قبول کرلیں گے تو سہارا بن سکتے ہیں ،لیکن طائف والوں نے آپ ﷺپر پتھر برسایا اور لہولہان کردیا ،بالآخر گرگئے، پہاڑوں کے فرشتے نے اجازت مانگی کہ اگر آپ ﷺکا حکم ہوتو ان کمبختوں کو دو پہاڑوں کے بیچ پیس دیاجائے ۔لیکن قربان جائیے اللہ کے رسول ﷺکے رحم وکرم پر کہ آپ ﷺنے جواب دیا :نہیں ایسا مت کرو،مجھے امید ہے کہ اللہ پاک ان سے ایسی نسل نکالے گا جو اللہ کی عبادت کرنے والی ہوگی ۔
جب مکہ کا رخ کیا تو مکہ میں جان کا خطرہ ہے ۔بالآخر مطعم بن عدی کی پناہ میں آکر مکہ میں داخل ہوپا رہے ہیں ….ایسے وقت اللہ پاک نے اپنے نبی کو اپنے پاس بلایا ۔مکہ سے رات کے ایک حصے میں مسجد اقصی کی سیر کرائی ۔اس کے بعد اسی رات آپ کو بیت المقدس سے آسمان دنیا پھر وہاں سے یکے بعد دیگرے ساتوں آسمان پر لے جایاگیا ،اس کے بعد آپ ﷺسدرة المنتہی تک لے جائے گئے، پھر آپ ﷺکے لیے بیت المعمور کو ظاہر کیا گیا۔
اس کے بعد اللہ تعالی سے پردے کی اوٹ میں ملاقات ہوئی ۔یہیں پر اللہ تعالی نے آپ ﷺکو نہایت اہم تحفہ دیا ۔یعنی 50وقت کی نمازیں فرض کیں ۔موسی علیہ السلام کے مشورے سے اللہ کے رسول ﷺنے ان میں تخفیف کرایا ۔یہاں تک کہ اللہ پاک نے 5نمازیں باقی رکھیں ۔ اس کے بعد پکار ا گیا :
اے محمد ﷺ! میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی ، ان 5نمازوں کا ثواب 50نمازوں کے برابر ہے ۔
اسرا ومعراج کے اس واقعے میں سب سے پہلا سبق ہمیں یہ ملتا ہے کہ ہر تنگی کے بعد آسانی ہے ۔ زمین والوں نے جب اپنے نبی ﷺکے ساتھ بدسلوکی کی تو اللہ پاک نے اپنے پاس بلالیا اور انسانوں کو یہ سبق دیا کہ تم نے اپنے حبیب ﷺکی قدر نہیں پہچانی ۔تم کیا ہو ….اِن کا وہ مقام ہے کہ ان کا استقبال تو آسمان والے کرتے ہیں۔
دوسرا سبق یہ ملتا ہے کہ اسلام ساری انسانیت کے لیے آیا ہوا مذہب ہے ، تب ہی تو اللہ پاک نے سارے انبیاءکرام کو اکٹھا کرکے آپ کی امامت میں ان کو نمازپڑھوائی ،اس سے آپ کی سارے انبیاءپر افضیلت بھی ثابت ہوئی اوریہ بھی ظاہر ہوا کہ اب دین محمدی ہی غالب رہے گا۔
اسی طرح آپ ﷺکو جنت اور جہنم کا سیر کرایا گیا ….جنت وجہنم کے نظارے دکھائے گئے ،اور سدرة المنتہی کی زیارت کرائی گئی ….یہ سب اس لیے تاکہ آپ ﷺغیبی امور کو اپنی پیشانی کی آنکھوں سے دیکھ لیں اورآپ ﷺکو علم الیقین حاصل ہوجائے ۔

نبوت کے12سال ہوچکے تھے ،بہت کم لوگوں نے اسلام قبول کیاتھا ،اسلام اورمسلمانوں کے لیے مکہ کی زمین گویا بنجر ہوچکی تھی ،ہر طرح سے ستایاگیا ،لیکن آپ ﷺکام میں لگے رہے ،پھر وہ وقت بھی آیا کہ آپ ﷺکی چہیتی بیوی خدیجہ ؓاور آپ کے چچا ابوطالب ؓدونوں دنیا سے چل بسے ۔ یہ سال اللہ کے رسولﷺ کے لیے اتنا کربناک تھا کہ غم کا سال کہلایا۔
مکہ کے لوگوں کی شرارت اور زیادہ ہونے لگی ۔طائف گئے اس امید سے کہ وہا ں کے لوگ اسلام قبول کرلیں گے تو سہارا بن سکتے ہیں ،لیکن طائف والوں نے آپ ﷺپر پتھر برسایا اور لہولہان کردیا ،بالآخر گرگئے، پہاڑوں کے فرشتے نے اجازت مانگی کہ اگر آپ ﷺکا حکم ہوتو ان کمبختوں کو دو پہاڑوں کے بیچ پیس دیاجائے ۔لیکن قربان جائیے اللہ کے رسول ﷺکے رحم وکرم پر کہ آپ ﷺنے جواب دیا :نہیں ایسا مت کرو،مجھے امید ہے کہ اللہ پاک ان سے ایسی نسل نکالے گا جو اللہ کی عبادت کرنے والی ہوگی ۔
جب مکہ کا رخ کیا تو مکہ میں جان کا خطرہ ہے ۔بالآخر مطعم بن عدی کی پناہ میں آکر مکہ میں داخل ہوپا رہے ہیں ….ایسے وقت اللہ پاک نے اپنے نبی کو اپنے پاس بلایا ۔مکہ سے رات کے ایک حصے میں مسجد اقصی کی سیر کرائی ۔اس کے بعد اسی رات آپ کو بیت المقدس سے آسمان دنیا پھر وہاں سے یکے بعد دیگرے ساتوں آسمان پر لے جایاگیا ،اس کے بعد آپ ﷺسدرة المنتہی تک لے جائے گئے، پھر آپ ﷺکے لیے بیت المعمور کو ظاہر کیا گیا۔
اس کے بعد اللہ تعالی سے پردے کی اوٹ میں ملاقات ہوئی ۔یہیں پر اللہ تعالی نے آپ ﷺکو نہایت اہم تحفہ دیا ۔یعنی 50وقت کی نمازیں فرض کیں ۔موسی علیہ السلام کے مشورے سے اللہ کے رسول ﷺنے ان میں تخفیف کرایا ۔یہاں تک کہ اللہ پاک نے 5نمازیں باقی رکھیں ۔ اس کے بعد پکار ا گیا :
اے محمد ﷺ! میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی ، ان 5نمازوں کا ثواب 50نمازوں کے برابر ہے ۔
اسرا ومعراج کے اس واقعے میں سب سے پہلا سبق ہمیں یہ ملتا ہے کہ ہر تنگی کے بعد آسانی ہے ۔ زمین والوں نے جب اپنے نبی ﷺکے ساتھ بدسلوکی کی تو اللہ پاک نے اپنے پاس بلالیا اور انسانوں کو یہ سبق دیا کہ تم نے اپنے حبیب ﷺکی قدر نہیں پہچانی ۔تم کیا ہو ….اِن کا وہ مقام ہے کہ ان کا استقبال تو آسمان والے کرتے ہیں۔
دوسرا سبق یہ ملتا ہے کہ اسلام ساری انسانیت کے لیے آیا ہوا مذہب ہے ، تب ہی تو اللہ پاک نے سارے انبیاءکرام کو اکٹھا کرکے آپ کی امامت میں ان کو نمازپڑھوائی ،اس سے آپ کی سارے انبیاءپر افضیلت بھی ثابت ہوئی اوریہ بھی ظاہر ہوا کہ اب دین محمدی ہی غالب رہے گا۔
اسی طرح آپ ﷺکو جنت اور جہنم کا سیر کرایا گیا ….جنت وجہنم کے نظارے دکھائے گئے ،اور سدرة المنتہی کی زیارت کرائی گئی ….یہ سب اس لیے تاکہ آپ ﷺغیبی امور کو اپنی پیشانی کی آنکھوں سے دیکھ لیں اورآپ ﷺکو علم الیقین حاصل ہوجائے ۔

Posted in کالم | Leave a Comment »

حضرت خدیجہ ؓ

Posted by ارتقاءِ حيات on May 13, 2013

نام و نسب:۔
خدیجہ نام، ام ہند کنیت، طاہرہ لقب، سلسلہ نسب یہ ہے۔ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی، قصی پر پہنچ کر انکا خاندان رسول ﷺ کے خاندان سے مل جاتاہے۔ والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا، اور لوری بن غالب کے دوسرے بیٹے عامر کی اولاد تھیں۔ حضرت خدیجہ ؓ کے والد اپنے قبیلے میں نہایت معزز شخص تھے۔ مکہ آکر اقامت کی، عبد الدارین ابن قصیٰ کے جوان کے ابن عم تھے، حلیف بنے اور یہیں فاطمہ بنت زائدہ سے شادی کی، جن کے بطن سے عام الفیل سے 15 سال قبل حضرت خدیجہ اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئیں،(طبقات ابن سعدج8و) سنِ شعور کو پہنچیں تو اپنے پاکیزہ اخلاق کی بنا پر طاہرہ(اصابہ ج8ص60) کے لقب سے مشہور ہوئیں،
نکاح:۔
باپ نے ان صفات کا لحاظ رکھ کر شادی کے لیے ورقہ بن نوفل کو جو برادر زادہ اور تورات و انجیل کے بہت بڑے عالم تھے، منتخب کیا، لیکن پھر کسی وجہ سے یہ نسبت نہ ہو سکی اور ابوہالہ بن بناش تمیمی سے نکاح ہو گیا۔(استیعاب ج2ص37 ابوہالہ کے بعد عتیق بن عابد مخزومی کے عقد نکاح میں آئیں، اسی زمانہ میں حرب الفجار چھڑی، جس میں حضرت خدیجہ ؓ کے باپ لڑائی کےلیےنکلےاورمارےگئے(طبقات ج8صفحہ9) یہ عام الفیل سے 20 سال بعد کا واقعہ ہے۔(ایضاًص81ج1ق1)
تجارت:۔
باپ اور شوہر کے مرنے سے حضرت خدیجہ ؓ کو سخت دقت واقع ہوئی، ذریعہ معاش تجارت تھی جسکا کوئی نگران نہ تھا تاہم اپنے اعزہ کو مال تجارت دیکر بھیجتی تھیں، ایک وقت مال کی روانگی کا وقت آیا تو ابو طالب نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ تمکو خدیجہ( ؓ ) سے جا کر ملنا چاہیے، انکا مال شام جائے گا۔ بہتر ہےکہ تم بھی ساتھ لےجاتے، میرے پاس روپیہ نہیں ورنہ میں خودتمھارےلیےسرمایہ مہیا کر دیتا۔ رسول اللہ ﷺ کی شہرت امین کے لقب سے تمام مکہ میں تھی اور آپکے حسن معاملت،راست بازی، صدق و دیانت اور پاکیزہ اخلاقی کا چرچا عام تھا، حضرت خدیجہ ؓ کو اس گفتگو کی خبرملی تو فورا پیغام بھیجا کہ آپ میرا مال تجارت لیکر شام جائیں،جومعاوضہ اوروں کو دیتی ہوں آپکو اسکا مضاعف دونگی۔ آنحضرت ﷺ نے قبول فرمالیا اور مالِ تجارت لیکر میسرہ(غلام خدیجہ ؓ ) کےہمراہ بصری تشریف لےگئے، اس سال کا نفع سال ہائے گزشتہ کے نفع سے مضاعف تھا،(طبقات ج اق اص81)
حضرت خدیجہ ؓ آنحضرت ﷺ کے عقد نکاح میں آتی ہیں:۔
حضرت خدیجہ ؓ کی دولت و ثروت اور شریفانہ اخلاق نے تمام قریش کو اپنا گرویدہ بنا لیاتھا، اور ہر شخص ان سے نکاح کا خواہاں تھا، لیکن کارکنان قضاوقدر کی نگاہ انتخاب کسی اور پر پڑچکی تھی، آنحضرت مال تجارت لیکر شام سے واپس آئے تو حضرت خدیجہ ؓ نے شادی کا پیغام بھیجا، نفیسہ بنت مینہ(یعلی بن امیہ کی ہمشیر) اس خدمت پر مقرر ہوئی،آپ ﷺ نے منظور فرمایا،(ایضاً ص84)
اور شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی، حضرت خدیجہ ؓ کے والد اگرچہ وفات پا چکے تھے تاہم انکے چچا عمروبن اسد زندہ تھے، عرب میں عورتوں کو یہ آزادی حاصل تھی کہ شادی بیاہ کے متعلق خودگفتگوکرسکتی تھیں، اسی بناء پر حضرت خدیجہ ؓ نے چچا کے ہوتے ہوئے خود براہ راست تمام مراتب طے کئے، تاریخ معین پر ابوطالب اور تمام رؤسائے خاندان جن میں حضرت حمزہ ؓ بھی تھے،حضرت خدیجہ ؓ کے مکان پر آئے، حضرت خدیجہ نے بھی اپنے خاندان کے چند بزرگوں کو جمع کیا تھا، ابوطالب نے خطبہ نکاح پڑھا۔ عمروبن اسد کے مشورہ سے 500 طلائی درہم مہر قرار پایا اور خدیجہ طاہرہ ؓ حرم نبوت ہو کر ام المومنین نے شرف سے ممتاز ہوئیں، اس وقت آنحضرت ﷺ پچیس سال کے تھے اور حضرت خدیجہ ؓ کی عمر چالیس برس کی تھی۔ یہ بعثت سے پندرہ سال قبل کا واقعہ ہے،(اصابہ ج8ص60)
اسلام:۔
پندرہ برس کے بعد جب آنحضرت ﷺ پیغمبر ہوئے اور فرائض نبوت کو ادا کرنا چاہا تو سب سے پہلے حضرت خدیجہ ؓ کو یہ پیغام سنایا وہ سننے سے پہلے مومن تھیں، کیونکہ ان سے زیادہ آپ ﷺ کےصدق دعویٰ کا کوئی شخص فیصلہ نہیں کر سکتا تھا، صحیح بخاری باب بدۤالوحی میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے اور وہ یہ ہے، حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ پر وحی کی ابتدارویائے صادقہ سے ہوئی آپ جو کچھ خواب میں دیکھتے تھے سپیدۂ۔۔۔ ۔۔ صبح کی طرح نمودار ہو جاتا تھا، اسکے بعد آپ ﷺ خلوت گزیں ہو گئے، چنانچہ کھانے پینے کا سامان لیکر غار حرا تشریف لے جاتے اور وہاں تخث یعنی عبادت کرتے تھے۔ جب سامان ہو چکتا تو پھر خدیجہ ؓ کے پاس تشریف لاتے اور پھر واپس جا کے مراقبہ میں مصروف ہوتے یہاں تک کہ ایکدن فرشتہ غیب نظر آیا کہ آپ سے کہہ رہا ہے پڑھ، آپ ﷺ نے فرمایا میں پڑھا لکھا نہیں، اس نے زور سے دبایا، پھر مجھکو چھوڑ دیا، اور کہا پڑھ تو میں نے پھر کہا کہ میں پڑھا لکھا نہیں پھر اس نے دوبارہ زور سے دبایا اور چھوڑ دیا اور کہا پڑھ پھر میں نے کہا میں پڑھا لکھا نہیں اسی طرح تیسری دفعہ دبا کر کہا کہ پڑھ اس خدا کا نام جس نے کائنات کو پیدا کیا۔ جس نے آدمی کو گوشت کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔
پڑھ تیرا خدا کریم ہے، آنحضرت ﷺ گھر تشریف لائے تو جلال الہی سے لبریز تھے، آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ ؓ سے کہا مجھکو کپڑا اڑھاؤ، مجھکو کپڑا اڑھاؤ، لوگوں نے کپڑا اڑھایا تو ہیبت کم ہوئی پھر حضرت خدیجہ ؓ سے تمام واقعہ بیان کیا اور کہا مجھکو ڈر ہے حضرت خدیجہ ؓ نے کہا آپ ﷺ متردد نہ ہوں، خدا آپکا ساتھ نہ چھوڑے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، بےکسوں اور فقیروں کے معاون رہتے ہیں، مہمان نوازی اور مصائب میں حق کی حمایت کرتے ہیں پھر وہ آپکو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو مذہباً نصرانی تھے عبرانی زبان جانتے تھے اور عبرانی زبان میں انجیل لکھا کرتے تھے، اب وہ بوڑھے اور نابینا ہو گئے تھے۔ خدیجہ نے کہا اپنے بھتیجے(آنحضرت ﷺ ) کی باتیں سنو، بولے ابن الاخ تو نے کیا دیکھا؟ آنحضرت ﷺ نے واقعہ کی کیفیت بیان کی تو کہا یہ وہی ناموس ہے جو موسی پر اترا تھا۔ کاش مجھ میں اس وقت قوت ہوتی اور زندہ رہتا جب آپکی قوم آپکو شہر بدر کرے گی، آنحضرت ﷺ نے پوچھا کیا یہ لوگ مجھے نکال دینگے؟ ورقہ نے جواب دیا ہاں جو کچھ آپ پر نازل ہوا جب کسی پر نازل ہوتا ہے تو دنیا اسکی دشمن ہو جاتی ہے اور اگر اس وقت تک میں زندہ رہا تو تمھاری وزنی مدد کرونگا۔ اسکے بعد ورقہ کا بہت جلدانتقال ہو گیا اور وحی کچھ دنوں کے لیے رک گئی،(صحیح بخاری ج اص2، 3 ) اس وقت تک نماز پنجگانہ فرض نہ تھی آنحضرت ﷺ نوافل پڑھا کرتے تھے حضرت خدیجہ ؓ بھی آپکے ساتھ نوافل میں شرکت کرتی تھیں، ابن سعد کہتے ہیں(طبقات ج8ص10)
آنحضرت ﷺ اور حضرت خدیجہ ؓ ایک عرصہ تک خفیہ طور پر نماز پڑھا کیئے۔ عفیف کندی سامان خریدنے کے لیے مکہ آئے، اور حضرت عباس ؓ کے گھر میں فروکش ہوئے، صبح کے وقت ایکدن کعبہ کی طرف نظر تھی۔ دیکھا کہ ایک نوجوان آیا اور آسمان کی طرف قبلہ رُخ کھڑا ہو گیا۔ پھر ایک لڑکا اسکے داہنی طرف کھڑاہوا،پھرایک عورت دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئی، نماز پڑھ کر یہ لوگ چلے گئے، تو عفیف نے حضرت عباس ؓ سے کہا کہ کوئی عظیم الشان واقعہ پیش آنےوالاہے،حضرت عباس ؓ نے جواب دیا، ہاں، پھر کہا جانتے ہو یہ نوجوان کون ہے؟ یہ میرا بھتیجا محمّد ہے، یہ دوسرا بھتیجا علی ہے اور یہ محمّد کی بیوی(خدیجہ ؓ)ہے،میرےبھتیجے کا خیال ہے کہ اسکامذہب پروردگار عالم کا مذہب ہے اور جو کچھ کرتا ہے اسکے حکم سے کرتا ہے، دنیا میں جہاں تک مجھ کو علم ہے اس خیال کے صرف یہی تین شخص ہیں،(ایضاًص10،11)
عقیلی اس روایت کو ضعیف سمجھتے ہیں، لیکن ہمارے نزدیک اسکے ضعیف ہونے کی کوئی وجہ نہیں، درایت کے لحاظ سے اس میں کوئی خرابی نہیں، روایت کی حیثیت سے اسکے ثبوت کے متعدد طریق ہیں محدث ابن سعد نے اسکو نقل کیا ہے، بغوی، ابویعلی اور نسائی نے اسکو اپنی کتابوں میں جگہ دی ہے، حاکم، ابن حثیمہ، ابن مندہ اور صاحبِ غیلانیات نے اسے مقبول مانا ہے۔ اور سب سے بڑھکر یہ کہ اسکو امام بخاری نے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے اور اسکو صحیح کہا ہے۔ حضرت خدیجہ ؓ نے صرف نبوت کی تصدیق ہی نہیں کی بلکہ آغاز اسلام میں آنحضرت ﷺ کی سب سے بڑی معین و مددگار ثابت ہوئیں، آنحضرت ﷺ کو جو چند سال تک کفار مکہ اذیت دیتے ہوئے ہچکچاتے تھے۔ اس میں بڑی حد تک حضرت خدیجہ ؓ کا اثر کام کر رہا تھا، اوپرگزرچکا ہے۔ کہ آغاز نبوت میں جب آنحضرت ﷺ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ مجھکو ڈر ہے تو انہوں نے کہا آپ متردد نہ ہوں، خدا آپکا ساتھ نہ چھوڑے گا دعوت اسلام کے سلسلے میں جب مشرکین نے آپکو طرح طرح کی اذیتیں پہنچائیں تو ضحرت خدیجہ ؓ نے آپکو تسلی اور تشفی دی، استیعاب میں ہے،(طبقات ج 2ص740)
آنحضرت ﷺ کو مشرکین کی تردید یا تکذیب سے جو کچھ صدمہ پہنچتا، حضرت خدیجہ ؓ کے پاس آکر ختم ہو جاتا تھا کیونکہ وہ آپکی باتوں کی تصدیق کرتی تھیں اور مشرکین کے معاملہ کو آپکے سامنے ہلکا کر کے پیش کرتی تھیں، سن 7 نبوی میں جب قریش نے اسلام کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تو یہ تدبیر سوچی کہ آنحضرت ﷺ اور آپکے خاندان کو ایک گھاٹی میں محصور کیا جائے، چنانچہ ابوطالب مجبور ہو کر تمام خاندان ہاشم کے ساتھ شعب ابوطالب میں پناہ گزین ہوئے، حضرت خدیجہ ؓ بھی ساتھ آئیں، سیرت ابن ہشام میں ہے۔(سیرت ابن ہشام ج اص192) اور وہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ شعب ابوطالب میں تھیں، تین سال تک بنو ہاشم نے اس حصار میں بسر کی یہ زمانہ ایسا سخت گزرا کہ طلح کے پتے کھا کھا کر رہتے تھے تاہم اس زمانہ میں بھی حجرت خدیجہ ؓ کے اثر سے کبھی کبھی کھانا پہنچ جاتا تھا۔ چنانچہ ایک دن حکیم بن حزام نے جو حضرت خدیجہ ؓ کا بھتیجا تھا۔ تھوڑے سے گیہوں اپنے غلام کے ہاتھ حضرے خدیجہ ؓ کے پاس بھیجے، راہ میں ابوجہل نے دیکھ لیا، اتفاق سے ابوالبختری کہیں سے آ گیا، وہ اگرچہ کافر تھا، لیکن اسکو رحم آیا، ابوجہل سے کہا ایک شخص اپنی پھوپھی کو کھانے کے لیے کچھ بھیجتا ہے تو کیوں روکتا ہے،(ایضاً)
وفات:۔
حضرت خدیجہ ؓ نکاح کے بعد 25 برس تک زندہ رہیں اور 11 رمضان سن 10 نبوی(ہجرت سے تین سال قبل(بخاری ج اص ا55)) انتقال کیا، اس وقت انکی عمر 64 سال 6 ماہ کی تھی، چنانچہ نماز جنازہ اس وقت تک مشروع نہیں ہوئی تھی۔ اسلیئے انکی لاش اسی طرح دفن کر دی گئی، آنحضرت ﷺ خود انکی قبر میں اترے، اور اپنی سب سے بڑی غمگسار کو داعی اجل کے سپرد کیا، حضرت خدیجہ ؓ کی قبر حجون میں ہے،(طبقات ابن سعد ج8ص11)اور زیارت گاہ خلائق ہے، حضرت خدیجہ ؓ کی وفات سے تاریخ اسلام میں ایک جدید دور شروع ہوا۔ یہی زمانہ ہے جو اسلام کا سخت ترین زمانہ ہے۔ اور خود آنحضرت ﷺ اس سال کو عام الحزن(سال غم) فرمایا کرتے تھے کیونکہ انکے اٹھ جانے کے بعد قریش کوکسی شخص کا پاس نہیں رہ گیا تھا، اور وہ نہایت بےرحمی و بیباکی سے آنحضرت ﷺ کو ستاتے تھے، اسی زمانہ میں آپ اہل مکہ سے ناامید ہو کر طائف تشریف لے گئے۔
اولاد:۔
حضرت خدیجہ ؓ کے بہت سی اولاد ہوئی، ابوہالہ سے جو انکے پہلے شوہر تھے، دو لڑکے پیدا ہوئے، جنکے نام ہالہ و ہند تھے، دوسرے شوہر یعنی عتیق سے ایک لڑکی پیدا ہوئی، اسکا نام بھی ہند تھا۔آنحضرت ﷺ سے چھ اولادیں پیدا ہوئیں، دو صاحبزادے جو بچپن میں انتقال کر گئے اور چار صاحبزادیاں! نام حسب ذیل ہیں،(زرقانی جلد3ص221)
(1)حضرت قاسم ؓ ،آنحضرت ﷺ کے سب سے بڑے بیٹے تھے، انہی کے نام پر آپ ابو القاسم کنیت کرتے تھے، صغرسنی میں مکہ میں انتقال کیا، اس وقت پیروں چلنے لگے تھے
(2) حضرت زینب ؓ آنحضرت ﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں
(3) حضرت عبد اللہ نے بہت کم عمر پائی، چونکہ زمانہ نبوت میں پیدا ہوئے تھے، اس لیے طیب اور طاہر کے لقب سے مشہور ہوئے
(4) حضرت رقیہ
(5)حضرت ام کلثوم
(6)حضرت فاطمہ زہرا، اس سب میں ایک ایک سال کا چھٹاپا بڑاپا تھا، حضرت خدیجہ ؓ اپنی اولاد کو بہت چاہتی تھیں، اور چونکہ دنیا نے بھی ساتھ دیا یعنی صاحب ثروت تھیں، اس لیے عقبہ کی لونڈی سلمہ کو بچوں کی پرورش پر مقرر کیا تھا، وہ انکو کھلاتی و دودھ پلاتی تھیں۔
ازواج مطہرات ؓ میں حضرت خدیجہ ؓ کو بعض خاص خصوصیتیں حاصل ہیں، وہ آنحضرت ﷺ کی پہلی بیوی ہیں، وہ جب عقد نکاح میں آئیں تو انکی عمر چالیس برس کے قریب تھی، لیکن آنحضرت ﷺ نے انکی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سوا آنحضرت ﷺ کی تمام اولاد انہی سے پیدا ہوئی۔
فضائل و مناقب:۔
ام المومنین حضرت خدیجہ طاہرہ ؓ کی عظمت و فضیلت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جب فرض نبوت ادا کرنا چاہا تو فضائے عالم سے ایک آواز بھی آپکی تائید میں نہ اٹھی، کوہ حرا، وادی عرفات، جبل فاران غرض تمام جزیرة العرب آپکی آواز پر پیکر تصویر بنا ہوا تھا، لیکن اس عالمگیر خاموشی میں صرف ایک آواز تھی جو فضائے مکہ میں تموج پیدا کر رہی تھی، یہ آواز حضرت خدیجہ طاہرہ ؓ کے قلب مبارک سے بلند ہوئی تھی، جو اس ظلمت کدہ کفر و ضلالت میں نور الہی کا دوسرا تجلی گاہ تھا، حضرت خدیجہ ؓ وہ مقدس خاتون ہیں، جنہوں نے نبوت سے پہلے بت پرستی ترک کر دی تھی، چنانچہ مسند ابن حنبل میں روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت خدیجہ ؓ سے فرمایا، بخدا میں کبھی لات و عزی کی پرستش نہ کرونگا انہوں نے جواب دیا کہ لات کو جانے دیجیئے، عزی کو جانے دیجیئے، یعنی انکا ذکر نہ کیجیئے۔ آنحضرت ﷺ اور اسلام کو انکی ذات سے جو تقویت تھی وہ سیرت بنوی کے ایک ایک صفحہ سے نمایاں ہے، ابن ہشام میں ہے، وہ اسلام کے متعلق آنحضرت ﷺ کی سچی مشیر کار تھیں۔ آنحضرت ﷺ سے انکو جو محبت تھی، وہ اس سے ظاہر ہے کہ باوجود اس تمول اور دولت و ثروت کے جو انکو حاصل تھی آنحضرت ﷺ کی خدمت خود کرتی تھیں، چنانچہ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل نے آنحضرت ﷺ سے عرض کی کہ خدیجہ ؓ برتن میں کچھ لا رہی ہیں۔ آپ انکو خدا کا اور میرا سلام پہنچا دیجیئے،(صحیح بخاری ج اص539) آنحضرت ﷺ کو حضرت زید بن حارثہ ؓ سے سخت محبت تھی، لیکن وہ مکہ میں غلام کی حیثیت سے رہتے تھے، حضرت خدیجہ ؓ نے انکو آزاد کرایا، اور اب وہ کسی دنیاوی رئیس کے خادم ہونے کی بجائے شہنشاہ رسالتﷺ کے غلام تھے، آنحضرت ﷺ کو بھی حضرت خدیجہ ؓ سے بےپناہ محبت تھی آپ نے انکی زندگی تک دوسری شادی نہیں کی، انکی وفات کے بعد آپکا معمول تھا کہ جب گھر میں کوئی جانور ذبح ہوتا تو آپ ڈھونڈ ڈھونڈ کر انکی سہیلیوں کے پاس گوشت بھجواتے تھے، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ گو میں نے حضرت خدیجہ ؓ کو نہیں دیکھا، لیکن مجھکو جس قدر ان پہ رشک آتا تھا کسی اور پر نہیں آتا تھا، جسکی وجہ یہ تھی کہ آنحضرت ﷺ ہمیشہ انکا ذکر کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ میں نے اس پر آپکو رنجیدہ کیا، لیکن آپ نے فرمایا کہ خدا نے مجھکو انکی محبت دی
ہے،(صحیح مسلم ج2ص333،)
ایک دفعہ حضرت خدیجہ ؓ کے انتقال کے بعد انکی بہن ہالہ آنحضرت ﷺ سے ملنے آئیں اور استیذان کے قاعدے سے اندر آنے کی اجازت مانگی، انکی آواز حضرت خدیجہ ؓ سے ملتی تھی آپکے کانوں میں آواز پڑی تو حضرت خدیجہ یاد آ گئیں اور آپ جھجھک اٹھے، اور فرمایا کہ ہالہ ہونگی۔ حضرت عائشہ بھی موجود تھیں انکو نہایت رشک ہوا، بولیں کہ آپ کیا ایک بڑھیا کی یاد کیا کرتے ہیں، جو مر چکیں، اور خدا نے ان سے اچھی بیویاں آپکو دیں، صحیح بخاری میں یہ روایت یہیں تک ہے، لیکن استیعاب میں ہے کہ اسکے جواب میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہرگز نہیں جب لوگوں نے میری تکذیب کی تو انہوں نے تصدیق کی، جب لوگ کافر تھے تو وہ اسلام لائیں، جب میرا کوئی نہ تھا تو انہوں نے میری مدد کی، اور میری اولاد ان ہی سے ہوئی۔ حضرت خدیجہ ؓ کے مناقب میں بہت سی حدیثیں مروی ہیں، صحیح بخاری و مسلم میں ہے، عورتوں میں بہترین مریم بنت عمران ہے اور پھر عورتوں میں بہترین خدیجہ بنت خویلد ہیں ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آنحضرت ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، خدیجہ آئیں تو فرمایا۔ انکو جنت میں ایک ایسا گھر ملنے کی بشارت سنا دیجیئے جو موتی کا ہو گا اور جس میں شوروغل اور محنت و مشقت نہ ہو گی۔

Posted in کالم | Leave a Comment »

خَتمِ نبَّوت پر حملے:-5

Posted by ارتقاءِ حيات on May 12, 2013

12ہجری سجاح بنت حارث:
یہ ایک عورت تھی مذہباً عیسائی تھی اور کاہنہ بھی تھی۔ فصیحہ اور بلیغہ اور بلند حوصلہ عورت تھی۔اس نے بنی تغلب میں اپنی نبوت کا دعویٰ کیا۔ چند ہوس پرست اس کے ہمنوا ہوگئے۔ ان میں بنو تمیم کا رئیس مالک بنن بیبرہ بھی تھا جو اسلام چھوڑ کر اس کا ہمنوا بن گیا۔سجاح کی قوت اتنی بڑھی کہ اس نے یمامہ میں مسلیمہ کےعلاقےجہاں مسلییمہ نے نبوت کی دکان سجا رکھی تھی پر قبضہ کرنے کی ٹھانی اور نکل پڑی مسلیمہ بھی اس کا جواب دینے کے لئے آگے بڑھا مگر وہیں احضرت ابوبکرصدیق کا بھیجا لشکر آنے کی خبر ملی تو وہ رک گیا اور وہ سجاح سے مذاکرات کے لئے تیار ہو گیا مسیلمہ کذاب جو 100 سال کا تھا اس جھوٹے نبی نے جھوٹی مدعیہ نبوت کی مقبولیت سے خائف ہوکر مبارکباد اور تحفے بھیجے اور ملاقات کرکے اس سے شادی بھی کرلی۔ مہر میں سجاح کے پیروکاروں سے فجر و عشاء کی نماز ساقط کردی
گئی۔ اتنے میں حضرت خالد کا لشکر آپہنچا اور ان پر غالب آیا۔ ایک روایت کے مطابق سجاح اور اس کے پیروکاروں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔
طلیحہ بن خویلد
طلیحہ بن خویلد نے بھی نبوت کا دعویٰ کر دیا یہ قبیلہ بنی اسد سے تھا۔او ر ” شنیمراد ” کو اپنا مستقر بنا لیا ہے، اس نے اپنے بھتیجے حباّل بن خویلد کو اپنی طاقت سے مطلع کرکے سمجھوتہ کرنے مدینہ روانہ کیا ہے ، آنحضرت ﷺ نے ان فتنوں سے نپٹنے کے لئے بجائے فوج کے قاصد روانہ فرمائے ، اس کی سرکوبی کا فریضہ بھی دورِ صدیقی میں حضرت خالد بن ولید کے ذریعے انجام پایا۔ قبیلہ فزار کے لوگ اس کے پیروکار تھے۔ حضرت صدیق اکبر ؓ نے حضرت خالد بن ولید ؓ کی کمان میں اس کی سرکوبی کےلیےاسلامی لشکر بھیجا۔ حضرت خالد بن ولید ؓ بنی طے میں پہنچے اور کوہِ سلمی اور کوہِ جاوا کے درمیان یہ لشکر ٹھہر گیا۔ آس پاس کے مسلمان بھی شریک لشکر ہوگئے۔ سب نے مل کر طلیحہ اور اس کے مکار حواری علینیہ بن حصین فزاری اور دیگر فزاریوں سے جنگ کی۔ فزاریوں کو شکست کا منہہ دیکھنا پڑا اور وہ اپنے سردار علینیہ سمیت اپنےجھوٹے نبی طلیحہ کو بے یار و مددگار چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
انجام
طلیحہ نے پہلے تو فرار کی راہ اختیار کی لیکن بعد میں امان لے کر حضرت خالد بن ولید کے پاس حاضر ہوگیا اور مسلمان ہوگیا۔ حتیٰ کہ جہادوں میں حصہ لیا۔ ایران کےمحاذوں پر حضرت سعد بن وقاص ؓ کی قیادت میں جہاد کیا اور دورِ فاروقی میں حضرت ساریہ کے ساتھ جنگ نہاوند میں شرکت کی اور شہادت پاکر داخل جنت ہوا اورانجام بخیر ہوا۔

Posted in کالم | Leave a Comment »

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 107 other followers

%d bloggers like this: