دیدہ انجم میں ہے تیری زمیں آسماں

آہ کہ صدیوں سے ہے تیری فضابے اذاں

کون سی وادی میں ہے ، کون سی منزل میں ہے

عشق بلا خیز کا قافلہ سخت جاں

٭ میں وہ مسجد ہوں جس کی سرزمین کو خالق ارض وسماءنے بابرکت قرار دیا ہے (سورة الاسراء 1)

٭ میں وہ مسجد ہوں جس کو دنیا کی افضل ترین قوم نے اپنا قبلہ اول بنایاہے ۔ (بخاری ومسلم)

٭ میں وہ مسجد ہوں جہاں سے حضور پاک ﷺکو معراج کرايا گيا تھا ۔ (مسلم)

٭ میں وہ مسجد ہوں جہاں پر خاتم النبیین محمد ﷺکی اقتداء میں جملہ انبیائے کرام نے نماز ادا فرمائی ۔ (مسنداحمدصحیح)

٭ میں وہ مسجد ہوں جس ميں ايک نمازادا کرنے سے دو سو پچاس نمازوں کا ثواب ملتا ہے ۔ (حاکم، بیہقی صحیح)

٭ میں وہ مسجد ہوں جس ميں دجال کا داخلہ ممنوع ہے۔ (احمد صحیح)

٭ میں وہ مسجد ہوں جسے دنیا کی دوسری مسجدہونے کا شرف حاصل ہے ۔(بخاری ،مسلم)

٭ میں وہ مسجد ہوں جس کا شمار ان تین مساجد میں ہوتا ہے جس کی طرف بغرض عبادت کوچ کرنا جائز ہے ۔ (بخاری ومسلم)

٭ میں وہ مسجد ہوں کہ جو کوئی بھی اس میں نماز پڑھنے کے ارادہ سے آئے وہ (گناہوں سے دھلاہوا) ایسے لوٹتاہے گویاکہ آج ہی اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہے ۔ (ابن ماجہ صحیح)

٭ میں وہ مسجد ہوں جس کی سرزمین پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُتریں گے اور وہیں پر دجال کوبھی قتل کریں گے۔(ترمذی صحیح)

٭ میں وہ مسجد ہوں جس کی سرزمین بروزقیامت ارض محشر ہوگی ۔ (احمد،ابوداؤد صحیح)

آج مجھے نسل پرست صہیونیوں نے اپنايرغمال بنارکھاہے ۔آئے دن میرے تقدس کو پامال جارہا ہے۔ میری آبادکاری کےراستے میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں ۔بلکہ مجھے مسمار کرنے کی منظم پالیسی بنالی گئی ہے ۔

میرے دامن میں مسلسل سرنگ کھودے جارہے ہیں تاکہ میں بے بس ہوکر دم توڑدوں اور میری جگہ ہیکل سلیمانی نام کاشیطانی بت نصب کردیا جائے۔

دین اسلام پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جو کچھ بطور دین نازل ہوا ہے ننہ صرف اس کی تصدیق کی جائے بلکہ (دل سے)اسے قبول کرنا اور اس کی پیروی کرنا بھی ضروری ہے۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ جو دین لےکرآئےتھے اس کی تصدیق ،اور اس بات کی گواہی کہ یہ دین تمام دینوں سے بہتر ہے،ایمان کا لازمی جزہے۔یہی وجہ ہے کہ ابو طالب رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانےوالوں میں شامل نہیں ہو سکے۔
دین اسلام ان تمام مصلحتوں کا ضامن ہے جن کی ضمانت سابقہ ادیان میں موجود تھی۔اس دین کی امتیازی خصوصیات یہ ہے کہ یہ ہرزمانہ ،ہر جگہ ہر امت کے لیے درست اور قابل عمل ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ﷺ)کو مخاطب کرتےہوئے فرماتاہے:
وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ بِٱلْحَقِّ مُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ ۖ
 اور ہم نے آپ کی طرف ایک ایسی کتاب بازل کی ہے جو خود بھی سچائی کے ساتھ موصوف ہے،اور اس سےپہلےجو(آسمانی)کتابیں ہیں ان کی بھی تصدیق کرتی ہے اور ان کی محافظ ہے۔ (سورۂ المائدہ آیت 48)
ہر دور،ہر جگہ اور ہر امت کے لیے دین اسلام کے درست اور قابل عمل ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس دین کے ساتھ مضبوط تعلق کسی بھی زمانہ ،مقام اور قوم کی مصلحتوں کے ہر گز منافی نہیں ہو سکتا بلکہ یہ تو ان کے عین مطابق ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دین ہر دور ،ہر جگہ اور ہر قوم کا تابع ہے،جیسا کہ بعض کج فہم لوگ سمجھتے ہیں۔
دین اسلام بالکل سچا اور برحق دین ہے ،جو اس کے دامن کو مضبوطی سے تھام لے ،اللہ تعالیٰ نے اس کی مددفرمانےاوراسے غالب کرنے کی ضمانت دی ہے،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
هُوَ ٱلَّذِىٓ أَرْسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلْهُدَىٰ وَدِينِ ٱلْحَقِّ لِيُظْهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُشْرِكُونَ 
اللہ وہی ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کردے،خواہ مشرکین کویہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ (سورہ الصف،آیت 9)
وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنكُمْ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ كَمَا ٱسْتَخْلَفَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ ٱلَّذِى ٱرْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّنۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًۭا ۚ يَعْبُدُونَنِى لَا يُشْرِكُونَ بِى شَيْـًۭٔا ۚ وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَفَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَٰسِقُونَ 
تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں،اللہ تعالیٰ وعدہ فرما چکے ہیں کہ ان کوزمین میں خلافت عطا فرمائے جس طرح ان سے پہلے (اہل ہدایت)لوگوں کو خلافت عطا کی تھی اور جس دین کو (اللہ تعالیٰ نے)انکےلیےپسندفرمایاہےاس دین کو ان کے لیے جما دے گا،اور ان کے خوف و خطر کو امن و امان میں بدل دےگا۔پس وہ میری عبادت کریں،میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اس کے بعد بھی جو کفر کریں وہ یقینا فاسق ہیں۔ (سورۂ النور،آیت 55)
یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک عبادت ہے جو شعائر حج ادا کرنےکی غرض سے بیت اللہ کی زیارت کے ذریعے سے پوری ہوتی ہے۔
حج کے ثمرات:     اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کےلیے مستعد ہونا اور جہاں تک ہو سکے مالی اور جسمانی جدوجہداورقربانی کےلیےاپنے دلوں کو مطیع بنانا اس کے فوائد میں سے ہے۔ حج بھی جہاد فی سبیل اللہ ہی ایک قسم ہے۔
 یاد رہے کہ پہلے ہم نے جن ثمرات کا ذکر کیا ہے،ان کا تعلق اسلام کی بنیاد سے ہے،اور جو چیزیں ہم ذکر نہیں کرپائےان میں سےبہت سی ایسی ہیں جو ایک قوم کو پاک صاف،اللہ تعالیٰ کے دین حق پر ثابت قدم اور مخلوق کے ساتھ عدل و سچائی کا معاملہ کرنےوالی عظیم اسلامی امت بنا دیتی ہیں۔کیونکہ ان کے علاوہ جو بھی شرائع اسلام ہیں ان کی درستی بھی انھی بنیادوں پر منحصرہے۔کسی قوم کے حالات،اس کے دینی امور کی درستی ہی سے ٹھیک ہوتے ہیں۔پس جس امت کے دینی معاملات مین جس قدر بگاڑموجودہوگا،اسی نسبت سے اس کے حالات و معاملات ابتر ہوں گے۔جو شخص اس حقیقت کی وضاحت کا خواہش مند ہو،اسے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد پوری توجہ سے پڑھ لینا چاہیے:
وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ ٱلْقُرَىٰٓ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّقَوْا۟ لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَٰتٍۢ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ وَلَٰكِن كَذَّبُوا۟ فَأَخَذْنَٰهُم بِمَاكَانُوا۟يَكْسِبُونَ ﴿٦٩96أَفَأَمِنَ أَهْلُ ٱلْقُرَىٰٓ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَٰتًۭا وَهُمْ نَآئِمُونَ ﴿97٧٩﴾أَوَأَمِنَ أَهْلُ ٱلْقُرَىٰٓ أَن يَأْتِيَهُم  بَأْسُنَا ضُحًۭى وَهُمْ يَلْعَبُونَ ﴿٨٩98أَفَأَمِنُوا۟ مَكْرَ ٱللَّهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْخَٰسِرُونَ ﴿٩٩99
اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور پرہیز گاری اختیار کرتے تو ہم سن پر آسمان اور زمین سے برکتیں نچھاور کر دیتے لیکن انہوں نےجھٹلایا ،پس ہم نے ان کو ان کے اعمال کے بدلے میں پکڑ لیا،کیا بستیوں والے اس بات سے بے خوف ہوگئےہیں کہ ان پرہماراعذاب راتوں رات آ پہنچے،جبکہ وہ (بے خبر)سو رہے ہوں،اور کیا بستیوں والے اس بات سےبےخوف ہیں کہ ان پر دن چڑھےہمارا عذاب آ پہنچے،اس حال میں کہ وہ کھیلتے ہوں۔کیا وہ اللہ کے داؤ سے بے خوف ہو گئے ہیں؟سنو ! اللہ کے خوف سےگھاٹاپانےوالی قوم کے علاوہ کوئی بے فکر نہیں ہوتا۔ (سورۂ الاعراف،آیت96تا99)
اگر سابقہ لوگوں کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اس میں عقل و خرد کے لیے عبرت اور جن کے دلوں پر پردے نہیں پڑے ہوئے،ان کے لیے بصیرت کا بڑاسامان موجود ہے۔
حضرت انس بن نضر ؓایک صحابی تھے جوبدر کی لڑائی میں شریک نہیں ہو سکے تھے ۔ ان کو اس چیزکاصدمہ تھا اس پر اپنے نفس کو ملامت کرتے تھے کہ اسلام کی پہلی عظیم الشان لڑائی اور تو اس میں شریک نہ  ہوسکا۔ اس کی تمنا تھی کہ کوئی دوسری لڑائی ہو تو حوصلے پورے کروں ۔ اتفاق سے احد کی لڑائی پیش آگئی جس میں یہ بڑی بہادری اور دلیری سے شریک ہوئے ۔ احد کی لڑائی میں اول اول تو مسلمانوں کو فتح ہوئی  تو کافروں کو بھاگتا ہوا دیکھ کر یہ لوگ بھی اپنی جگہ سے یہ سمجھ کر ہٹ گئے کہ اب جنگ ختم ہوچکی اسلئےبھاگتے ہوئے کافروں کاپیچھا کیا جائے اور غنیمت کا مال حاصل کیا جائے۔ اس جماعت کےسردارنے منع بھی کیا کہ حضور کی ممانعت تھی ۔تم یہاں سے نہ ہٹو ۔مگر ان لوگوں نے یہ سمجھ کر کہ حضور کاارشاد صرف لڑائی کے وقت کے واسطے تھا ۔ وہاں سے ہٹ کر میدان میں پہنچ گئے۔بھاگتےہوئے کافروں نے اس جگہ کو خالی دیکھ کر اس طرف سے آکر حملہ کر دیا۔ مسلمان بےفکرتھے اس اچانک بے خبری کے حملہ سے مغلوب ہوگئے اور دونوں طرف سے کافروں کے بیچ میں آگئےجس کی وجہ سے اِدھر اُدھر پریشان بھاگ رہے تھے۔ حضرت انسؓ نے دیکھا کہ سامنےسےایکدوسرے صحابی حضرت سعد بن معاذ ؓآرہے ہیں ۔ ان سے کہا کہ اے سعد کہاں جارہے ہو، خدا کی قسم جنت کی خوشبو احد کے پہاڑ سے آرہی ہے ۔ یہ کہہ کر تلوارتو ہاتھ میں تھی ہی کافروں کی ہجوم میں گھس گئے اور اتنے شہید نہیں ہو گئے واپس نہیں ہوئے شہادت کے بعد ان کے بدن کو دیکھا گیا تو چھلنی ہو گیاتھا۔ اسی سے زیادہ زخم تیر اور تلوار کے بدن پر تھے ،اُن کی بہن نے اُنگلیوں کےپوروں سے اُن کو پہچانا۔
جو لوگ اخلاص اور سچی طلب کےساتھ اللہ کے کام میں لگ جاتےہیں اُن کو دنیا ہی میں جنت کا مزہ آنے لگتا ہے ۔ یہ حضرت انسؓزندگی ہی میں جنت کی خوشبو سونگھ رہے تھے۔ اگراخلاص آدمی میں ہو جاوے تو دنیا میں بھی جنت کا مزہ آنے لگتاہے۔ میں نےایک معتبرشخص سے جو حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالرحیم صاحب رائے پوری ؒ کے مخلص خادم ہیں حضرت کا مقولہ سنا ہے کہ ’’جنت کا مزہ آرہا ہے”
نبوت مل جانے کے بعد 9برس تک نبی اکرم مکہ مکرمہ میں تبلیغ فرماتے رہے اور قوم کی ہدایت اور اصلاح کی کوشش فرماتےرہے،لیکن تھوڑی سی جماعت کے سوا جو مسلمان ہوگئی تھی اور تھوڑے سے ایسے لوگوں کے علاوہ جو باوجود مسلمان نہ ہونےکےآپ کی مدد کرتے تھے ۔ اکثر کفارمکہ آپ کو اور آپ کے صحابہ ؓ کو ہر طرح کی تکلیفیں پہنچاتے تھے ۔ مذاق اڑاتےتھےاورجوہوسکتا تھا اس سے درگذر نہ کرتے تھے ۔ حضور کے چچا ابو طالب بھی انہی نیک دل لوگوں میں تھے جو باوجود مسلمان نہ ہونے کے حضور کی ہر قسم کی مدد فرماتے تھے ۔

دسویں سال میں جب ابو طالِب کا بھی انتقال ہوگیا تو کافروں کو اور بھی ہر طرح کھلے مہار اسلام سے روکنے اور مسلمانوں کو تکلیف پہنچانےکاموقع ملا۔ حضور اقدس اس خیال سے طائف تشریف لے گئے کہ وہاں قبیلہ ثقیف کی بڑی جماعت ہے، اگر وہ قبیلہ مسلما ن ہو جائے تو مسلمانوں کو ان تکلیفوں سے نجات ملے اور دین کے پھیلنے کی بنیاد پڑ جائے ۔ وہاں پہنچ کرقبیلہ کے تین سرداروں سےجوبڑےدرجے کے سمجھے جاتے تھے گفتگو فرمائی اور اللہ کے دین کی طرف بلایااور اللہ کے رسول کی یعنی اپنی مدد کی طرف متوجہ کیا ۔ مگر ان لوگوں نے بجائے اس کے کہ دین کی بات کو قبول کرتے یا کم سے کم عرب کی مشہور مہمان نوازی کے لحاظ سے ایک نووارد مہمان
کی خاطرمدارات کرتے صاف جواب دے دیا اور نہایت بے رخی اور بد اَخلاقی سے پیش آئے۔
اُن لوگوں نے یہ بھی گوارا نہ کیا کہ آپ یہاں قیام فرمالیں جن لوگوں کو سردار سمجھ کر بات کی تھی کہ وہ شریف ہوں گے اور مہذب گفتگوکریں گے اُن میں سے ایک شخص بولا کہ اوہو آپ ہی کو اللہ نے نبی بناکر بھیجا ہے۔ دوسرا بولا کہ اللہ کو تمہارے سوا کوئی اور ملتا ہی نہیں تھاجس کو رسول بناکر بھیجتے۔ تیسرے نے کہا کہ میں تجھ سے بات کرنا نہیں چاہتا اس لئے کہ اگر تو واقعی نبی ہے جیسا کہ دعویٰ ہےتوتیری بات سے انکار کردینا مصیبت سے خالی نہیں ، اور اگر جھوٹ ہے تو میں ایسی شخص سے بات کرنا نہیں چاہتا۔ اس کے بعد ان لوگوں سے نہ امید ہو کر حضورِاکرم
نے اور لوگوں سے بات کرنے کا ارادہ فرمایا کہ آپ تو ہمت اور استقلال کے پہاڑ تھے مگر کسی نے بھی قبول نہ کیا۔ بلکہ بجائے قبول کرنے کے حضور سے کہا کہ ہمارے شہر سے فورًا نکل جاؤ۔ اور جہاں تمہاری چاہت کی جگہ ہو وہاں چلے جاؤ۔حضورِاکرم جب ان سے بالکل مایوس ہو کر واپس ہونے لگے تو ان لوگوں نے شہر کے لڑکوں کو پیچھے لگا دیا کہ آپ کا مذاق اُڑائیں ، تالیاں پیٹیں ، پتھر ماریں ، حتیٰ کہ آپ کے دونوں جوتے خون کے جاری ہونے سے رنگین ہو گئے ۔ حضورِ اقدس اسی حالت میں واپس ہوئے جب راستہ میں ایک جگہ ان شریروں سے اطمینان ہوا تو حضور نے یہ دُعا مانگی:
اَللّٰھُمَّ اِلَیْکَ اَشْکُوْ ضُعْفَ قُوَّتِیْ وَ قِلَّۃَ حِیْلَتِیْ وَ ھَوَانِیْ عَلَی النَّاسِ یَا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ اَنْتَ رَبُّ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ وَ اَنْتَ رَبِّی اِلٰی مَنْ تَکِلُنِیْ، اِلٰی بَعِیْدٍ یَتَجَھَّمُنِیْ اَمْ اِلٰی عَدُوٍّ مَلَّکْتَہٗ اَمْرِیْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ بِکَ عَلَیَّ غَضَبٌ فَلَا اُبَالِیْ وَ لٰکِنْ عَا فِیَتُکَ ھِیَ اَوْسَعُ لِیْ اَعُوْذُ بِنُوْرِ وَ جْھِکَ الَّذِیْ اَشْرَقَتْ لَہُ الظُّلُمٰاتُ وَ صَلُحَ عَلَیْہِ اَمْرُ الدُّنْیٰا وَ الْآخِرَۃِ مِنْ اَنْ تُنْزِلَ بِیْ غَضَبکَ اَوْ یَحُلَّمیں عَلَیَّ سَخَطُکَ لَکَ الْعُتْبٰی حَتّٰی تَرْضٰی وَ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِک۔ فی سیرۃ ابن ھشام قلت: و اختلف الروایات فی الفاظ الدعاء کما فی قرۃ العیون۔
’’اے اللہ تجھی سے شکایت کرتا ہوں میں اپنی کمزوری اور بیکسی کی اور لوگوں میں ذلت اورسوائی کی ۔ اے ار حم الراحمین تو ہی ضعفاء  کارب ہے اور تو ہی میرا پروردگار ہے، تو مجھے کس کے حوالے کرتا ہے ۔ کسی اجنبی بیگانہ کے جو مجھے دیکھ کر ترش رُو ہوتا ہے اور منہ چڑھاتاہے یاکہ کسی دشمن کے جس کو تو نے مجھ پر قابو دیدیا۔ اے اللہ اگر تو مجھ سے ناراض نہیں ہے تو مجھے کسی کی بھی پرواہ نہیں ہے۔ تیری حفاظت مجھے کافی ہے میں تیرے چہرہ کے اُس نورکے طفیل جس سے تمام اندھیریاں روشن ہو گئیں اورجس سے دنیا اور آخرت کےسارے کام درست ہو جاتے ہیں اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ مجھ پر تیرا غصہ ہو یا تو مجھ سے ناراض ہو تیری نارضگی کا اس وقت تک دورکرنا ضروری ہے جب تک تو راضی نہ ہو، نہ تیرے سوا کوئی طاقت ہے نہ قوتمالک الملک کی شان قہاری کو اس پر جوش آنا ہی تھا کہ حضرت جبرئیل نے آکر سلام کیا اور عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی وہ گفتگوجو آپ سے ہوئی سنی اور اُن کے جوابات سنےاورایک فرشتہ کو جس کے متعلق پہاڑوں کی خدمت ہے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ جو چاہیں اس کو حکم دیں ، اس کے بعد اس فرشتہ نے سلام کیا اور عرض کیا کہ جو اِرشاد ہو میں اس کی تعمیل کروں اگر ارشاد ہو تو دونوں جانب کے پہاڑوں کو ملا دوں جس سے یہ سب درمیان میں کچل جائیں یا اور جو سزا آپ تجویز فرمائیں ۔ حضور کی رحیم وکریم ذات نے جواب دیا کہ میں اللہ سے اس کی امید رکھتا ہوں کہ اگر یہ مسلمان نہیں ہوئے تو اُن کی اولاد میں سے ایسے لوگ پیدا ہوں جو اللہ کی پرستش کریں اور اس کی عبادت کریں ۔

امام نسائی ؒ کا اصل نام ابو عبدالرحمن احمن بن شعیب ہے۔آپ چونکہ خراسان کے شہر نسائ میں پیدا ہوئے اس لیے اس نسبت سےآپکونسائی کہتے ہیں۔امت مسلمہ میں آپ کی پہچان ایک محدث کی ہے،آپ نے سنن نسائی کے نام سے صحیح احادیث کا ایک عظیم الشان مجموعہ ترتیب دیا۔آپ نے بڑی عرق ریزی سے قابل اعتماد احادیث نبویﷺکو جمع کیا ،اس مقصد کے لیے آپ نےدوردرازکےسفر کیے اوربہت تکالیف بھی برداشت کیں ۔امت مسلمہ میں کل دس کتب احادیث کو سند کادرجہ حاصل ہے ،چھ اہل سنت کے ہاں جنہیں صحاح ستہ کہاجاتا ہے جس کامطلب  چھ صحیح کتابیں ہے اور چار اہل تشیع کے ہاں جنہیں  کتب اربعہ کہاجاتا ہے یعنی  چارکتابیں ۔امام نسائی ؒ کی سنن نسائی کاشمار صحاح ستہ میں ہوتاہے۔
امام نسائی ؒ کی پیدئش 215ھ میں ہوئی ،اس وقت خراسان ممالک اسلامیہ کا بہت اہم صوبہ سمجھاجاتاتھا۔خراسان کا اسلامی تاریخ میں جہاں بہت اہم سیاسی کردارہے وہاں یہ علاقہ اپنی علمی کاوشوں میں بھی پیچھے نہیں رہا،امام نسائی ؒ سمیت امت کے بہت وقیع بزرگ اس خطےسےتعلق رکھتے ہیں۔امام نسائی نے پندرہ سال کی عمر میں حدیث کاعم سیکھنا شروع کیا۔علم حدیث نبویﷺ کے حصول کے لیے آپ نے خراسان جیسے دوردراز علاقے سے حجاز،عراق،شام اور مصر جیسے ممالک تک کا سفر کیا۔اس زمانے میں علم کے حصول کےلیےسفرکرنابہت ضروری خیال کیاجاتا تھا،کسی کو اس وقت تک اچھاعالم نہ سمجھاجاتا جب تک کہ وہ دوردرازکےسفرکرکےتواچھےاچھے اور قابل اساتذہ فن سے حصول علم نہ کرآتا۔آپ کاآبائی وطن اگرچہ خراسان تھا لیکن آپ نےخدمت حدیث نبویﷺ کے لیے ہجرت کی اور مصر میں مستقل سکونت اختیارکرلی۔
علمی دنیاکی یہ حسین روایت ہے کہ استاد اپنے شاگرد سے اور شاگرد اپنے استاد سے پہچانا جاتاہے۔گم نام اساتذہ کو انکاکوئی شاگرد روشن کردیتاہے اور نالائق طالب علم کسی استاد کی نسبت سے آسمان کا ستارہ بن جاتاہے۔لیکن علمی تاریخ انسانیت نے وہ دن بھی دیکھے کہ جب استاد اور شاگرد دونوں آسمان علم کے سورج چاند ستارے تھے۔حضرات قتیبہ بن سعید،اسحاق بن راہویہ،سلیمان بن اشعث جو امام  ابوداودکے نام سے معروف ہیں اور ابوعبداﷲ بن اسمائیل جنہیں ایک زمانہ امام بخاری کے نام سے پہچانتاہے اور سعید بن نصر ،محمد بن غشار اور علی بن حجرجیسے نابغہ روزگار لوگوں امام نسائی ؒ نے حصول علم کیا۔
آپ سے اگرچہ ہزارہالوگوں نے سماع حدیث کیا یعنی حدیث کاعلم حاصل کیا۔آپ جب درس حدیث دیاکرتے تھے تو مساجد کے صحن میں جگہ کم پڑ جاتی تھی ،مخلوق خدا امڈ امڈ کر آپ کے درس میں شرک سماع ہوتی ۔نہ صرف قرب و جوار سے بلکہ دوردراز سے اور بہت اچھےاوراعلی دینی و دنیاوی مراتب کے لوگ آپ کے سامنے طالب علم بن کر بیٹھتے تھے۔تاہم تاریخ نے آپ کے جن شاگردوں کے نام اپنے سینے میں محفوظ کیے ہیں ان میں سے حافظ ابوقاسم اندلسی ،علی بن ابوجعفرطحاوی،ابوبکربن حداد فقیہ،ابوالقاسم الطبرانی ،حافظ ابوعلی نیشاپوری ،ابوعلی حسن السیوطی اور الحسن العسکری لوگ قابل ذکرہیں،یہ اگرچہ اپنی اپنی جگہ مکمل دبستان علوم ورشدہیں لیکن امام نسائی کا شاگرد ہونا بھی انکے لیے قابل فخرامورمیں شامل ہے۔
دولت مندلوگ جس طرح اپنا سرمایا اپنی اولاد میں چھوڑ جاتے ہیں ،اہل اقتدار جس طرح اپنی جاگیر اپنے وارثوں کے نام کرجاتے ہیں اسی طرح اہل علم لوگوں کی میراث انکی کتب اور انکی نصانیف ہوتی ہیں جو انکی روحانی اولاد اپنے سینے سے لگا۔ امام نسائی ؒ نے اگرچہ بہت سی نصانیف چھوڑیں اور ان میں سب سے اہم سنن نسائی ہی ہے لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سی تصانیف آپ کا روشن سرمایا ہیں۔ان تصانیف میں سے خصائص علی رضی اﷲ عنہ،المجتبی،مسندامام مالک ؒ،فضائل صحابہ رسولﷺ،کتاب الجرح والتعدیل ،اسماءالرواة اور مناسک حج زیادمشہور ہیں۔آپ چونکہ بنیادی طور پر محدث تھےاسلیےاسی میدان علم سے متعلق کتب و تصانیف ہی آپ کے قلم سے پھوٹنے والی روشنیاں ہیں۔
امام نسائی ؒ سرخ و سفید چہرے اوروجیہ شخصیت کے مالک تھے۔آپ کا دسترخوان انواع و اقسام کے کھانوں سےپررہتاتھا۔خوش لباسی اور خوش خوراکی کے کئی قصے آپ سے منسوب ہیں ۔اما م نسائی ؒ بھناہوا مرغ بہت شوق سےکھاتےتھے اور اس وقت کے مروج بہت اچھے اچھے مشروب کھانے کے بعد پیاکرتے تھے۔آپ کچھ عرصہ حمص شہرمیں قاضی بھی رہے لیکن بوجوہ یہ منصب ترک کردیااور زیادہ وقت تصنیف و تالیف اور درس و تدریس کودینےلگے۔دمشق کی ایک مسجد میں ایک بار آپ حضرت علیؓ کی منقبت میں اپنی کتاب کے اقتباسات سنا رہے تھے توبعض لوگ طیش میں آگئے اورحضرت کو مارناپیٹناشروع کر دیا۔بہت زخمی حالت میں جوش ایمان آپ کو حجاز مقدس کھینچ چلا،حرم کعبہ پہنچ جانے کے باوجود بھی آپ کی علالت باقی تھی اور اسی حالت میں صفاومروہ کے درمیان خالق حقیقی سےجاملے۔یہ13صفر 303ھ کی تاریخ تھی۔
امام ابو عبدالرحمن نسائی ؒ کی وجہ شہرت انکی شہرہ آفاق تالیف  سنن نسائی شریف ہے۔اسکا شمار صحاح ستہ میں ہوتا ہے۔ سنن اس کتاب حدیث نبوی ﷺ کو کہتے ہیں جس کے ابواب کی ترتیب فقہ کی کتابوں کے مطابق تیار کی گئی ہو۔ امت کے بے شمار بزرگ اس کتاب سنن نسائی شریف کی تعریف میں رطب اللسان ہیں حتی کہ بعض علمائے حدیث نبویﷺاس کتاب  سنن نسائی شریف کو بخاری و مسلم پر بھی ترجیح دیتے ہیں ۔پہلے امام نسائی ؒ نے  سنن کبری تصنیف
کی تھی۔یادرہے کہ یہ وہ وقت تھا جسے تاریخ حدیث میں دور فتن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ امام نسائی ؒ نے یہ کتاب جب امیر رملہ کو پیش کی تو اس نے پوچھا کیا اس میں سب صحیح احایث ہیں ؟آپ نے جواب دیا نہیں ،تب امیر رملہ نے کہا کہ میرے لیے ایک ایسی کتاب تیار کریں جس میں سب احادیث صحیح ہوں ۔اس پر امام صاحب نے  سنن نسائی شریف کی تدوین کی۔
احادیث نبوی ﷺ کے اس مجموعہ  سنن نسائی شریف میں امام نسائی ؒ نے وہی اسلوب اختیار کیا ہے جو امام بخاری اؒور امام مسلم ؒنے اپنی تالیفات میں اختیار کیا ہے۔
امام نسائی ؒ نے ایک حدیث کو متعدد مقامات پر تحریر کیاہے اور اس سے مسائل بھی اخذ کیے ہیں۔امام صاحب نےمتعددمسائل کے لیے مختلف ابواب تشکیل دیے ہیں ۔ایک حدیث کو بہت سارے لوگ روایت کر رہے ہوں تو امام نسائی ؒ اس حدیث کے سب راویوں کا ذکر کر دیتے ہیں ۔فن اصول حدیث کی اصطلاح میں ایک حدیث کے بہت سارےراویوںکے سلسلے کو  طرق کہتے ہیں ۔حدیث کا بیان کرنے والا راوی اپنے سے زیادہ مرتبہ کے آدمی کی مخالفت کرےتوامام نسائی ؒ اس کا بھی تفصیل سے ذکر کرتے ہیں ایسی حدیث کو شاذ کہتے ہیں۔
حدیث بیان کرنے والے پہلے زمانے کے لوگ صحابہ کرام ؓ تھے ،ان کے بعد تابعین آئے،پھر تبع تابعین آئے اس کےبعدفقہا کا دور شروع ہوتا ہے تب محدثین کا زمانہ آتاہے ۔کسی بھی حدیث میں کسی بھی زمانے کے راوی میں کوئی خامی ہو تو امام نسائی ؒ اسکا بھی ذکر کرتے ہیں اس عمل کو فن اصول حدیث کی اصطلاح میں  راوی پر نقدکرنا کہتے ہیں۔ بعض اوقات متن حدیث پر بھی نقد و جرح کرتے ہیں اور یہ آپ کی کسر نفسی ہے کہ بعض اوقات طویل بحث کرچکنےکےبعدبھی لکھ دیتے ہیں کہ  میں اس بات کو حسب منشا نہیں سمجھا ۔
علمائے حدیث نے امام نسائی ؒ کی اخذکردہ احادیث کو تین اقسام میں تقسیم کیا ہے:
پہلی قسم کی وہ احادیث ہیں جو امام بخاری ؒاور امام مسلم ؒنے بھی اپنی کتابوں میں درج کی ہیں ،یہ اعلی درجے کی احادیث ہیں۔
دوسری قسم کی وہ احادیث ہیں جو امام نسائی ؒ نے درج کی ہیں اور وہ امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ کی قائم کردہ سخت شرائط پر بھی پوری اترتی ہیں لیکن ان دونوں بزرگوں امام بخاری ؒو امام مسلم ؒنے بوجوہ ان حدیثوں کو درج نہیں کیا۔
تیسری قسم کی احادیث وہ ہیں مزکورہ بالا دونوں اقسام میں نہیں آتیں۔
امام نسائی ؒ نے اپنی اس نابغہ روزگار کتاب  سنن نسائی شریف میں کم و بیش ساڑھے پانچ ہزار احادیث رقم کی ہیں ۔اس کتاب کے قبول عام کا اندازہ اس بات سے بھی لگایاجاسکتاہے کہ صدیاں گزرجانے کے باوجود یہ کتاب زندہ ہے ،آج بھی مشرق سے مغرب تک علوم اسلامیہ کے طلبہ و طالبات اور علماءو عالمات اس کتاب کی درس و تدریس سے وابسطہ ہیں ۔اس کتاب کی بہت سی شروحات لکھی گئی ہیں ، الاعان فی شرح سنن نسائی ، زوائد نسائی اور زہرالربی علی اللمجتبی بہت مشہور ہیں آخرالزکرشرح کی تالیف حافظ جلال الدین سیوطی ؒ جیسی ہستی کے قلم کامبارک نتیجہ ہے۔اﷲ تعالی امام نسائی ؒ کو غریق رحمت کرے اور اﷲ کرے اس کتاب سے پھوٹنے والی کرنیں باغ حدیث نبویﷺ کو تاقیامت روشن و تابندہ رکھیں۔
6ھ؁ میں حضور اقدس عمرہ کے ارادہ سے مکہ تشریف لے جارہے تھے۔ کفارِمکہ کو اسکی خبر ہوئی اوروہ اس خبرکو اپنی ذلت سمجھے اس لئے مزاحمت کی اور حدیبیہ میں آپکورکناپڑا۔جاںنثارصحابہ ؓ ساتھ تھے جو حضور پر جان قربان کرنا فکر سمجھتے ۔ لڑنے کو تیار ہوگئے۔مگر حضور نے مکہ والوں کی خاطر سے لڑنے کا ارادہ نہیں فرمایا اور صلح کی کوشش کی اور باوجود صحابہ ؓ کی لڑائی پر مستعدی اور بہادری کے حضور اکرم نے کفار کی اس قدر رعایت فرمائی کہ ان کی ہر شرط کو قبول فرمالیا۔ صحابہ ؓکو اس طرح دب کر صلح کرنا بہت ہی ناگوارتھامگرحضورکےارشادکے سامنے کیا ہو سکتا تھا کہ جاں نثار تھے اور فرمانبردار،اس لئے حضرت عمر ؓجیسے بہادروں کو بھی دبنا پڑا۔ صلح میں جو شرطیں طے ہوئیں ان شرطوں میں ایک یہ شرط بھی تھی کہ کافروں میں سے جو شخص اسلام لائے اور ہجرت کرے مسلمان اس کو مکہ واپس کردیں اور مسلمانوں میں سے خدانخواستہ اگر کوئی مرتدہوکرچلاآئےتووہ واپس نہ کیا جائے یہ صلح نامہ ابھی تک پورالکھابھی نہیں گیا تھا کہ حضرت ابوجندل ؓایک صحابی تھے جو اسلام لانے کی وجہ سے طرح طرح کی تکلیفیں برداشت کررہے تھے او ر زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے ۔ اسی حالت میں گرتےپڑتے مسلمانوں کے لشکر میں اس امید پر پہنچے کہ ان لوگوں کی حمایت میں جاکر اس مصیبت سے چھٹکارا پاؤں گا۔ اُن کے باپ سہیل نے جو اس صلح نامہ میں کفارکی طرف سےوکیل تھے اور اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے، فتح مکہ میں مسلمان ہوئے۔انہوں نےصاحبزادےکےطمانچےمارےاورواپس لے جانے پر اصرار کیا۔ حضورنےارشادفرمایاکہ ابھی صلح نامہ مرتب بھی نہیں ہوا اس لئے ابھی پابندی کس بات کی مگر اُنہوں نےاصرارکیا۔ پھر حضور نے فرمایا کہ ایک آدمی مجھے مانگا ہی دے دو ۔ مگر وہ لوگ ضد پر تھے نہ مانا۔ ابو جندل ؓنے مسلمانوں کو پکار کر فریاد بھی کی کہ میں مسلمان ہو کر آیا اور کتنی مصیبتیں اُٹھا چکا اب واپس کیا جارہا ہوں ، اس وقت مسلمانوں کے دلوں پر جو گذررہی ہوگی اللہ ہی کو معلوم ہے مگر حضور ا رشاد سے واپس ہوئے حضور نے تسلی فرمائی اورصبرکرنے کا حکم دیا،اور فرمایا کہ عنقریب حق تعالیٰ شانہٗ تمہارے لئے راستہ نکالیں گے صلح نامہ کے مکمل ہوجانے کے بعد ایک دوسرے صحابی ابو بصیر ؓبھی مسلمان ہو کر مدینہ منورہ پہنچے ۔ کفار نے ان کو واپس بلانے کے لئے دو آدمی بھیجے حضورِ اقدسنے حسب وعدہ واپس فرمادیا۔ ابو بصیر ؓنے عرض بھی کیاکہ یا رسول اللہ میں مسلمان ہو کر آیا آپ مجھےکفار کے پنجہ میں پھر بھیجتے ہیں ۔ آپ نے ان سے بھی صبر کرنے کو ارشاد فرمایا اور فرمایا کہ انشاء اللہ عنقریب تمہارے واسطے راستہ کھلے گا۔ یہ صحابی ان دونوں کافروں کے ساتھ واپس ہوئے۔ راستہ میں ان میں سے ایک سے کہنے لگے کہ یار تیری یہ تلوار تو بڑی نفیس معلوم ہوتی ہے۔ شیخی بازآدمی ذرا سی بات میں پھول ہی جاتا ہے وہ نیام سے تلوار نکال کر کہنے لگا کہ ہاں میں نےبہت سے لوگوں پر اس کا تجربہ کیا ہے یہ کہہ کر تلوار ان کے حوالہ کردی۔ اُنہوں نے اسی پر اس کا تجربہ کیا۔ دوسرا ساتھی یہ دیکھ کر کہ ایک کو تو نمٹا دیا اب میرا نمبر ہے۔ بھاگا ہوا مدینہ آیااورحضور اکرم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میرا ساتھی مر چکا ہے اب میرا نمبر ہے۔ اس کی بعد ابو بصیر ؓپہنچے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ اپنا وعدہ پورا فرما چکے کہ مجھے واپس کر دیا اور مجھ سے کوئی عہد ان لوگوں کا نہیں ہے جس کی ذمہ داری ہو ۔ وہ مجھے میرے دین سےہٹاتےہیں ۔ اس لئے میں نے یہ کیا۔ حضور نے فرمایا کہ لڑائی بھڑکانے والا ہے۔ کاش کوئی اس کا معین ومدد گار ہوتا وہ اس کلام سے سمجھ گئے کہ اب بھی اگر کوئی میری طلب میں آئےگاتو میں واپس کر دیا جائوں گا۔ اس لئے وہ وہاں سے چل کر سمندر کے کنارے ایک جگہ آپڑے۔ مکہ والوں کو اس قصہ کا حال معلوم ہوا تو ابو جندل ؓبھی جن کا قصہ پہلے گذرا چھپ کر وہیں پہنچ گئے۔ اسی طرح جو شخص مسلمان ہوتا وہ انکے ساتھ جا ملتا۔ چند روز میں یہ ایک مختصرسی جماعت ہو گئی جنگل میں جہاں نہ کھانے کا کوئی انتظام، نہ وہاں باغات اور آبادیاں ، اس لئے ان لوگوں پر جو گذری ہو گی وہ تو اللہ ہی کو معلوم ہے۔ مگر جن ظالموں کے ظلم سے پریشان ہوکر یہ لوگ بھاگے تھے انکا ناطقہ بند کر دیا۔ جو قافلہ ادھر کو جاتا اس سے مقابلہ کرتے اور لڑتے۔حتیٰ کہ کفار مکہ نے پریشان ہو کر حضورکی خدمت میں عاجزی اور منت کرکے اللہ کااوررشتہ داری کا واسطہ دے کر آدمی بھیجا کہ اس بے سری جماعت کو آپ اپنے پاس بلا لیں کہ یہ معاہدہ میں تو داخل ہو جائیں اور ہمارے لئے آنے جانے کا راستہ کھلے ۔لکھا ہے کہ حضورکااجازت نامہ جب ان حضرات کے پاس پہنچا تو ابو بصیر ؓمرض الموت میں گرفتار تھے ۔ حضور کا والا نامہ ہاتھ میں تھا کہ اسی حالت میں انتقال فرمایا۔
آدمی اگر اپنے دین پر پکا ہو، بشرطیکہ دین بھی سچا ہو تو بڑی سے بڑی طاقت اس کو نہیں ہٹاسکتی اور مسلمان کی مدد کاتو اللہ کا وعدہ ہے بشرطیکہ وہ مسلمان ہو۔
اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

A mom's blog

“A child is God's opinion that the world should go on.”

Urdu Islamic Books

Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books in English, Urdu, Arabic, Read online, free Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

ammarnasir

A fine WordPress.com site

اردو بلاگ

www.deoband.net

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magzine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

Faisalain...فیصلعین

The world as I see it..یہ دنیا میری نظر سے

101 Books

Reading my way through Time Magazine's 100 Greatest Novels since 1923 (plus Ulysses)

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

Reality is Often Bitter . حقيقت اکثرتلخ ہوتی ہے

Humanity is declining by the day because an invisible termite, Hypocrisy, eats human values instilled in human brain by the Creator . . . . . . . . . . . I dedicate my blog to reveal ugly faces of this monster and will try to find ways to guard against it

Mujassam777's Blog

A great WordPress.com site

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

SarwatAJ- ثروت ع ج

اس نے خوشبو کی طرح میری پزیرائی کی

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

chaaidaani

A potpourri of my thoughts, rants & genuine journalism, fueled by passion & cups of tea

Shaista Thinks....

......of relationships and other demons....

shoaibtanoli

The greatest WordPress.com site in all the land!

Mahmedtarazi's Blog

'' میری آواز ''

karachireports

All the news that’s fit to print.

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

سحر نو (Saher e noo)

Insights about Pakistan and Pakistanies

mosaicofmuslimwomen

Recognizing Extraordinary Muslim Women

SST

Urdu Tutorials Blog

ارتقاءِ حيات

اسلامی شعور کو جِلا بخشنے کی مبہم کوشش

Telecom Recorder

IT & Telecom News Resource of Pakistan

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Assorted Mundanities.

Coherence is overrated.

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

The World As I see it

You can like it or dislike it but you can't ignore it.

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 128 other followers

%d bloggers like this: