ارتقاءِ حيات

میرا بلاگ تاریخی،اسلامی،سوانحی،سائنسی اور ادبی تخلیقات پر مشتمل تحریریں شائع کرے گا

عبد الماجد دریا بادی (حصہ پنجم)

Posted by ارتقاءِ حيات on February 23, 2012

10سالہ جنگ جو ان کے باطن میں نظریات و افکار کی چھڑی ہوئی تھی اس کے خاتمے کا دور آنے ہی والا تھا ۔ایک ہلچل کو مچی تھی اس کو قرار ملنے ہی والا تھا۔تشکیک و الحاد کے اس حملے سے جس سے وہ مغلوب ہوا تھا اب اس سے نجات کا دن قریب آرہا تھا۔اس کی عقل پر ابر جہالت کا پھاڑ کر ایک نیا سورج طلوع ہونے ہی والا تھا اس کے اندر ایک نیا انسان بیدار ہونے ہی والا تھا۔ اور اس نئے انسان کی بیداری میں اس کے دوستوں کا بڑا ہاتھ تھا جو اس کے دور الحاد میں بھی اس کے ساتھ ہی رہے۔اس کو ٹوکتے رہتے،اس میں ایک ہاتھ ان کتابوں کا بھی تھا جو اس کے مطالعے میں رہتی تھیں انہوں نے اسے روشنی دی ۔کتابوں ہی نے اے بھٹکایا اور اب کتابیں ہی اسے راہ راست پر لا رہی تھیں۔حکیم کنفیو شس کی تعلیمات، بھگوت گیتا، مثنوی مولانا روم، یہ وہ کتابیں تھیں جو اسے کچھ سوچنے پر مجبور کیا کرتی تھیں۔مگر خاص طور پر شبلی کی سیرت النبیﷺ کے مطالعے نے اس کی کایا ہی پلٹ دی تھی ۔نفس شوم کو جو سب سے بڑی ٹھوکر لگی تھی وہ سیرت اقدس ﷺ کی ہی تو تھی۔اور خاص طور پر غزوات و محاربات کا سلسلہ،ظالموں نے نجانے کیا کچھ اس کے دل میں بٹھا دیا تھا ۔اور ذات مبارکﷺ کو نعوذباللہ ایک ظالم فاتح قرار دیا تھا۔ سیرت النبیﷺ نے اصل دوا اسی دردکی ۔

مثنوی مولانا روم کے دفاتر کا مطالعہ شروع کیا پڑھتے گئے اور آنسو بہاتے گئے۔پھر یہی حال مکتوبات مجدد سرہندی کو پڑھ کر ہوا کہ کہیں کہیں چینخ بھی پڑے۔والد مرحوم نے اپنے لخت جگر کے لئے غلاف کعبہ پکڑ کر جو دعا مانگی اس کی قبولیت کا وقت آچکا تھا۔الحاد کی گرہ کھل چکی تھی۔

مدتوں بعد وضو کر کےوہ مصلّے پر بیٹھےاور خدا کے حضور کھڑے ہو گئے کہ جسے وہ بھول چکے تھے۔گناہوں کا خیال آیا تو چینخیں نکل گئیں۔عفت کی آنکھ کھولی تو دیکھا بھٹکے ہوئے عبدالماجد راہ راست پر آچکے تھے۔خدا کا شکر ادا کیا اور شوہر کے آنسوؤں میں ان کے آنسو بھی شامل ہو گئے۔رات بھر گھر میں استغفار کی آوازیں گونجتی رہیں اور صبح ہوئی تو فجر کی نماز کے لئے مسجد کو چل پڑے۔

مسجد میں نما ز کے لئے آستین اونچی کی تو ایک باریش بزرگ نے ہاتھ پر کھدے ناخن کو دکھ کر عجیب سا منہ بنا لیا زبان سے تو کچھ نہ کہا ۔اگلی نماز کے لئے گھر سے وضو بنا کر گئےکہ آستین اونچی نہ کرناپڑے۔ وہ آنکھیں عبدالماجد کو بڑے عرصے تک یاد آتی رہیں۔

اسی چھپا چھپی میں کئی دن گذر گئے احساس شرمندگی نے اسے جب نڈھال کر دیا تو مذہبی کتب میں نام کھدوانے کی وعیدیں دیکھیں اور اپنے دوست ڈاکٹر عبدالعلیٰ کو بلا لیا۔اور سارا ماجرا کہہ ڈالا اور ماضی کی اس یاد گار کو کھرج ڈالنے کے ارادے کا اظہار فرمایا۔انہوں نے بہت سمجھایا تکلیف دہ عمل کی وضاحتیں دیں پر وہ اللہ کی راہ پر چلنے کے لئے ہر تکلیف سہنے کا مصمم ارادہ کر چکے تھے۔نام کھرچ دیا گیا روزآنہ عرصہ تک مرہم پٹی ہوتی رہی ۔لکھنے پڑھنے کے لئے بایاں ہاتھ استعمال کرنے رہے۔

ایک دن گھر پر بیٹھے بیٹھے اپنے نکاح کا خیال آگیا کہ میں تو اس وقت کسی اسلامی رسم کا قائل ہی نہ تھا جب نکاح ہو رہا تھا تو میں دل میں ہنس رہا تھا بس نمائش میں بیٹھا تھا دل سے تو قبول نہیں کیا تھا ۔بس تجدید نکاح کی ٹھان لی بیوی سے ذکر کیا تو وہ ہنسنے لگیں کہ اس عمر میں دولہن بنواؤ گے؟انہوں نے سنجیدگی سے جواب دیا دلہن دلہا بننے کو کون کہہ رہا ہے بس تجدید نکاح ہوگا۔ بیوی نے کہا کہ وہم میں نہ پڑو ،اللہ نیت دیکھتا ہے۔انہوں نے کہا جبھی تو کہہ رہا ہوں کہ اس وقت میری نیت ٹھیک نہ تھی۔ عفت بھی تنک کر فوراًبولیں یعنی آپ مجھے بیوی بنانے پر آمادہ نہ تھے؟انہوں نےپھر سنجیدگی سے کہا کہ بالکل تھا ،مگر ایسے جیسے کہ ایک ہندو ہوتا ہے ،نکاح کے وقت جب آیات پڑھی جارہی تھیں تب میں یہی سوچ رہا تھا کہ یہ کلام الہیٰ نہیں ہے۔پھر عفت کے پاس کہنے سننے کے لئے کچھ نہ رہ گیا تھا۔ایک مولوی بلوایا گیا اور دوبارہ نکاح پڑھوایا گیا۔

تجدید اسلامی کے بعد جوش اٹھا تو آستانہ اجمیری پر حاضری دی۔قوالیوں کی آوازیں چہار سو تھیں ،لوگ چادریں چڑھا رہے تھے منتیں مانی جا رہی تھیں عرس کا زمانہ جو تھا ہر جانب لوگ ہی لوگ تھے کسی نے اشارہ کر دیا کہ وہ دیکھو عبدالماجد دریا بادی۔کھدر کا لباس(گاندھی جی سے عقیدت کے باعث پہننا شروع کر دیا تھا)گورا رنگ،داڑھی سفید گول اور نورانی، نکلتا ہوا قد،آنکھوں پر چشمہ،لباس پر کھدر کی ایک عبا،اور سر پر اپنے ہی طرز کی ٹوپی جس کی بناوٹ اور اونچائی عام توپیوں سے ہٹ کر تھی۔

عارفانہ کلام پڑھا جا رہا تھا اور عبدالماجد جھوم رہے تھے۔لوگ حیران تھے مگر ان کے قلب کی کیفیت کو کوئی سمجھ نہیں پا رہا تھا۔پھر چشم فلک نے انہیں درگاہ خواجہ بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ میں دیکھا ،لکھنؤ میں شاہ مینا رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دیتے دیکھا۔ خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کے پھیرے کاٹتے دیکھا ۔جب تمام مزاروں کے چکر کاٹ چکے تو لکھؤ کی رنگینی کو خیر باد کہہ کر مستقلاً دریا باد منتقل ہو گئے ۔ حویلی سے متصل ان کے مورث اعلٰی حضرت مخدوم آبگش رحمتہ اللہ علیہ کا مزار تھا اس کی صفائی ستھرائی کرائی ،عرس کا زمانہ آیا تو قولوں کو محمد علی جوہر اور اپنی تیار کردہ نعتیہ غزلیں یاد کروائیں،اور محفل سماع منعقد کروایا۔

دریا باد کی خاموشی میں کام کرنے کا خوب موقع ملا۔وقت کے زیاں سے دور رہنے کے لئے طریقہ نکالا کہ جو بھی ملنے والا آتا اس کے سامنے ایک ٹائم پیس رکھ دی جاتی جو ہر 15منٹ بعد بجتی اور ملنے والا سمجھ جاتا کہ وقت ملاقات ختم ہوا۔دوسروں کے گھر جانے سے پرہیز کرتے کہ وہاں آدمی صاحب خانہ کا محتاج ہو جاتا ہے۔

وقت کی بچت کے لئے انہوں نے دوپہر کا کھانا چھوڑ دیا کہ دوپہر کے کھانے کے بعد جم کر لکھنے پڑھنے کا کام نہیں ہوپاتا۔بصارت بھی کمزور ہو چکی تھی سو علمی کاموں کی انجام دہی کے لئے دن کے اوقات ہی میسر تھے۔مغرب سے پون گھنٹہ پہلے سب کچھ سمیٹ کر گھر کے باہری حصے میں آجاتے جہاں علام لوگوں کے لئے گویا دیدار عام کی رسم ادا کی جاتی تھی۔

اسلام کے شرف سے دوبارہ مشرف ہونے کے بعد ان کا میلان زیادہ تر قرآن اور متعلقات قرآن ہی پر وقف ہو گیا تھا۔ایسے ادبی مضامین قلم سے نکلے کہ جو ہمیشہ یاد رکھے گئے۔ان کے ادبی مضامین نے تنقید کی دنیا میں ایک نئی جہت کا آغاز کیا۔”غالب کا ایک فرنگی شاگرد،مرزا رسوا کےقصّے،اردو کا واعظ شاعر، پیام اکبر، اردو کا ایک بدنام شاعر،گل بکاؤلی اور مسائل تصوف اور موت میں زندگی ایسے ہی چند مضامین ہیں۔

تصوف اور قرآن اس دور میں خاص موضوع رہا خد بھی اسی دور سے گذر رہے تھے سو تحقیق اور عقیدت کا شاہکار اور ایک کتاب “تصوف اسلام”شائع کرادی۔رومی کے ملفوطات کو ترتیب دیا۔ قرآن کے انگریزی ترجمے اور تفسیر جیسے بلیغ کام کا آغاز کر دیا۔تفسیر لکھتے لکھتے کئی کتابیں ظہور میں آئیں جو بعد میں”اعلام القرآن، ارض القرآن، مشکلات القرآن”وغیرہ کے نام سے شائع ہوئیں۔

بیسویں صدی کا ہندوستان “اخبارات ” کا ہندوستان تھا کئی اکابرین نے صحافت کے نئے باب رقم کئے تھے، ہندوستان کی سیاسی و مذہبی لہروں کی گونج اخبارات میں سنائی دے رہی تھی۔خود عبدالماجد ایک عرصہ اخبارات سے وابستہ رہے تھے سو جانتے تھے کہ ہنگامی موضوعات کو عوام تک پہنچانے کے لئے اخبارات سے بہتر کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔سوچا کیوں نہ اپنا ایک اخبار ہی نکالا جائے۔مولانا عبدالرحمٰن نگرامی نے اس کی حمایت کی اور اخبار کا نام “سچ” بھی تجویز کر دیا۔وجہ تسمیہ یہ بتائی کہ انگریزی میں ایک ہفتہ وار “ٹرتھ”کے نام سے “گیا”شہر میں وہ رسالے “ندیم” سے وابستہ تھے تو یہ ہر ہفتہ لندن سے منگواتے تھے۔

تیاریاں مکمل ہوئی اور عبدالماجد کی زیر ادارت ہفتہ وار اخبار پابندی سے نکلنا شروع ہوگیا۔اصلاح معاشرہ ،ردبدعات ، تجدد اور ترقی پسندی کی مخالفت اس اخبار کے خاص موضوعات تھے۔

اسلام کی جانب واپسی پر خاندانی رویات بھی واپس آرہی تھی۔خاندان نیم صوفی خاندان تھا ۔والد صاحب بدعات سے بچتے ہوئے محفل سماع میں شریک ہوتے اور مزارات کے بھی معتقد تھے ان کی والدہ تک سلسلہ قادریہ رزاقیہ (بانسہ) میں بیعت تھیں،عبدالماجد بھی کسی سے بیعت کا سوچنے لگے۔مسلم تصوف کی اہم کتابوں کے مطالعہ سے وہ بیعت کی اہمیت کے قائل ہو چکے تھے ۔اب سوال تھا کہ بیعت کس سے کی جائے۔ عبدالماجد عام آدمی تو نہ تھے کہ آنکھ بند کر کے کسی کے بھی مرید ہو جائیں ان کا مرشد بھی انہی کے معیار کا ہونا چاہیئے تھا۔کبھی سوچا کہ محمد علی جوہر سے بیعت کروں تو کبھی کسی دوسرے کا خیال آتا۔ پھر آخر کار ہر جگہ سے مایوس ہو کر ایک راہ سوجھی کہ سفر پر نکلا جائے گوہر مقصود جہاں ملے .حیدر آباد ، دہلی، لکھنؤ، امیر ، کلیر ، دیوہ، بانسہ اور ردولی میں ہر چھوٹے بڑے مرکز میں جا کر بزرگان دین سے مل آئے ۔حال والے بھی دیکھے اور قال والے بھی ۔جھوٹوں کو بھی دیکھا اور سچوں سے بھی ملاقات ہوئی۔ کہین کچھ دیر کو دل اٹکا مگر پھر اکھڑ گیا ۔واپس دریا باد آگئے۔ دنوں تک سوچ بچار کی دھیان میں پھر ایک نام”دیو بند” کا آیا ۔کسی نے وہاں مولانا حسین احمد مدنی کا نام لیا وہ ان کے دیکھے بھالے بھی تھی کہ خلافت کمیٹی کے سلسلے میں ان سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔

اسی سوچ و بچا رمیں تھے کہ وصل بلگرامی جن سے عبدالماجد کا ادیب کی حیثیت سے بڑا یارانہ تھا وہ خود اشرف علی تھانوی کے مرید تھے عبدالماجد کو بھی انہیں کا نام تجویز کیا ۔ عبدالماجدنے جواب دیا کہ کیا سمجھتے ہو اتنا بڑا نام زیر غور نہ ہوگا۔پوچھا گیا پھر تکلف کس بات کا ہے ؟ماجد نے بیان کیا کہ تحریک خلافت کے سخت مخالف ہیں اسی لئے اعتراض برت رہا ہوں۔وصل بلگرامی نے انہیں تھانوی صاحب کے “مواعظ”پڑھنے کو دیئے کہ اس کو پڑھ کر فیصلہ کیجئے ۔

مواعظ پڑھنا تھے کے حقائق و معارف سامنے آکھڑے ہوئے۔ایسا لگا حجاب ہٹ کر سامنے تھانوی قبلہ خود کھڑے ہیں۔دل خود ان کی جانب کھنچتا چلا گیا۔تھانوی صاحب سے مراسلات شروع کوئے 1 سال تک مراسلات پر دلوں کا حال بیان ہوا پھر خود تھانہ بھون پہنچ گئے۔طویل نشستیں رہیں اور آخر کار عبدالماجد کو بیان دینا ہی پڑا کہ اگر میں عقیدہ تناسخ کا قائل ہوتا تو کہہ اٹھتا کہ اماز غزالی رحمۃ اللہ دوبارہ تشریف لے آئے ہیں۔تھانوی صاحب نے عبدالماجدکا میلان دیکھتے ہوئے حسین احمد مدنی کو مشورہ دیا کہ وہ عبدالماجد کو بیعت کر لیں۔ عبدالماجددیوبند گئے اور مدنی صاحب کے ہاتھ پر بیعت فرمائی۔بیعت معدنی صاحب کی ہوئی مگر مرکز عقیدت تھانہ بھون ہی رہا ۔پھر عشق اتنا بڑھ گیا کہ تھانوی صاحب پر پوری ایک پوری کتاب لکھ ڈالی اور کتاب بھی ایسی کہ مرید کا نذرانہ مرشد کے لئے۔کئی لوگ عرصے تک اسی غلط فہمی کا شکار رہے کہ عبدالماجد اشرف علی تھانوی کے نیازمند نہیں مرید ہیں۔

دوسری جانب اخبار “سچ” ایسی معرکہ آرائیوں میں حصہ لے رہا تھا کہ جو اس کی مقبولیت کا سبب بن رہی تھیں۔سچ لکھنے کے لئے عبدالماجد نے کبھی مصلحت کو آڑے آنے نہ دیا ۔خواجہ حسن نظامی ان کے نہایت اچھے دوست تھےلیکن جب نظامی صاحب نے مولانا محمد علی جوہر کو فاسق اور یزید کے نازیبا القابات سے یاد کیا اور متواتر اپنے پرچے میں ان کے خلاف لکھنا شروع کر دیا تو عبدالماجد سے ایک مصلح قوم کی توہین برداشت نہ ہو سکی،سو عبدالماجد نے خواجہ صاحب کی تعریضات کا “نوٹس” “سچ”کے صفحات میں لینا شروع کر دیااور کوب جواب دیا۔خواجہ حصن نظامی نے جب اپنے پرچے “منادی”میں خود کو برٹش گورنمنٹ کا ہمیشہ سے خیر خواہ ظاہر کیا پھر تو عبدالماجد نےخواجہ صاحب کے خوب لتے لئے۔

ایک صاحب تھے”سید نذیر نیازی”انہوں نے “جوزف ہیل”کی ایک کتاب عربوں کا تمد اردو میں ترجمہ کراکے شائع کرادی ،جس میں اسلام اور حضرت محمد ﷺ اور آل محمد ﷺ سے متعلق نازیبا اور دل آزار کلمات تھے۔ عبدالماجدنے نہ صرف کتاب کی مخالفت و مذمت کی بلکہ دوسرے لکھنے والوں کیو بھی اس مہم میں شامل کر لیا،جس میں مولانا ابو الکلام آزاد بھی شامل تھے۔ان حضرات کے مضامین اور مختصر احتجاجی مراسلے “سچ” میں شائع ہوئے،یہاں تک کہ جامعہ ملیہ کو یہ کتاب اپنی فہرست سے خارج کرنا پڑی۔

Posted in کالم | 2 Comments »

امین اسماعیل گل جی

Posted by ارتقاءِ حيات on February 23, 2012


پاکستان کے نامور مصور اور خطاط .پشاور میں1926؁ میں پیدا ہوئے۔ گل جی کی پیشہ ورانہ زندگی کا سفر بحیثیت ایک انجینئر، تصویری مصور، اسلامی خطاط اور تجریدی مصور کے نظر آتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گل جی نے مصوری کا آغاز امریکہ میں بحثییت انجنیئر اپنی تعلیم کے حصول کے دوران کیا۔ یہ تعلیم انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی اور بعد میں امریکہ کے مایہ ناز تعلیمی ادارے ہارورڈ سے حاصل کی۔گل جی کی تصاویر کی پہلی نمائش 1950 میں منعقد ہوئی۔ 1959 سے پہلے تک گل جی کا فن ایک تصویری مصور کی حیثیت سے جانا جاتا ہے اور یہی دور تھا جب انہوں نے افغانستان کے پورے شاہی خاندان کی تصاویر تخلیق کیں۔ 1960 کے بعد انہیں ایک ایسے تجریدی مصور کے طور پر دیکھا گیا جس کی تخلیقات میں اسلامی خطاطی کی روایت کا خاصا دخل نظر آتا ہے۔گل جی کبھی فاقہ مست فنکار نہیں رہے بلکہ کہا جاتا ہے کہ نہ صرف انہیں ہمیشہ حکومتی مدد میسر رہی بلکہ ان کے فن کو با اثر اور ذی حیثیت لوگوں کی سرپرستی بھی حاصل رہی۔ یہ سرپرستی ان کی پیشہ ورانہ زندگی کے اوائل میں ایک تصویری مصور کے دور میں زیادہ نظر آتی ہے لیکن گل جی کو عالمی سطح پر فنون لطیفہ کے حلقوں میں بحیثیت ایک تجریدی مصور کے ہی شہرت حاصل ہے۔اسلامی خطاطی کی روائیت سے متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ گل جی 50 اور 60 کی دھائیوں میں شروع ہونے والی ایکشن پینٹنگ موومنٹ سے بھی خاصے متاثر نظر آتے ہیں۔ جن میں بین الاقوامی سطح پر جیکسن پولک اور ایلیین ہیمیلٹن جیسے فنکاروں کے کام کو خاصی اہمیت حاصل ہے۔ گل جی کے کام میں اسلامی خطاطی اور ایکشن پینٹنگ کی ہم آہنگی کی ایک وجہ شاید ان دونوں جہتوں میں ’طاقت کی روانی‘ کی قدر مشترک ہے۔گل جی کا اپنی تصاویر میں مختلف غیر روایتی چیزوں کا استعمال انہیں خاصا مختلف بناتا ہے۔ وہ اپنی آئل پینٹنگز میں شیشہ، اور سونے اور چاندی کے ورق استعمال کرنے پر بھی جانے جاتے ہیں۔ 1960 کے بعد گل جی نے پینٹنگ کے ساتھ ساتھ مجسمہ سازی کی طرف بھی توجہ دی جو ان کی پینٹنگز کی طرح اسلامی خطاطی سے متاثر نظر آتی ہے۔ تانبے میں ڈھالے گئے یہ فن پارے اسلامی خطاطی سے نہ صرف دیکھنے میں متاثر لگتے ہیں بلکہ بعض قرآنی آیات کی تشریح کے طور پر تخلیق کیے گئے ہیں۔ان کی پینٹگز چمکدار اور رنگوں سے بھرپور ہوتی تھیں جس میں ان کی حساسیت اور شدتِ جذبات کی جھلک نظر آتی۔ان کی خطاطی کے چند نمونے اسلام آباد میں فیصل مسجد میں آویزاں کیے گئے ہیں۔ دنیا کی کئی مشہور ہستیوں اور سربراہ مملکت کی تصاویر انہوں نے بنائیں۔ فیصل مسجد کے میناروں پر موجود چاند بھی گل جی کی ڈیزائن کردہ ہیں۔پاکستان کا پارلیمنٹ ہاؤس بھی ان کی مصوری سے مزین ہے۔گل جی کو عالمی اور قومی سطح پر کئی ایوارڈ دیئے گئے اور وہ اپنی کیلیگرافی اور پورٹریٹس کی وجہ سے مشہور تھے۔ان کے بیٹے امین گل جی نے فن مصوری اور مجسمہ سازی میں بہت اہم مقام حاصل کیا۔

دسمبر 19،2007؁میں اپنی رہائش گاہ میں گل جی اپنی اہلیہ زرینہ اور نوکرانی سمیت مردہ حالت میں پائے گئے۔ تینوں کے منہ پر کپڑا بندھا ہوا پایا گیا ۔

Posted in کالم | Leave a Comment »

سنت نبویﷺ کی اہمیت

Posted by ارتقاءِ حيات on February 20, 2012

“کیا ہم اپنے نبی سروردوعالمﷺ کی سنت کو ان احمق قوتوں کی تہذیب کی خاطر ترک کر دیں؟”
یہ وہ الہامی جملہ ہے جو مشہور صحابی حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس وقت ارشاد فرمایاکہ جب کفار کی ایک سپر طاقتور کے شاہی دربار میں کھانا کھاتے ہوئے ان کے ہاتھ سے ایک لقمہ کر جاتا ہے اور آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ اسے سنت نبویﷺ کے مطابق صاف کر کے کھا لیتے ہیں۔اس پر قریب بیٹھے شخص نے تنبیہ کی کہ گرے ہوئے لقمے کو اٹھا کر کھانا دربارشاہی کے آداب کے خلاف ہے اس پر یہ لوگ مسلمانوں کے حرص و افلاس پر بھی استدلال کر سکتے ہیں۔تب حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ ایمان افروز جملہ ارشاد فرمایا تھا۔

اب کچھ ہم اپنے اطور پر بھی نگاہ دوڑا لیں۔۔۔
————————

Posted in کالم | 7 Comments »

دعوت نامہ

Posted by ارتقاءِ حيات on February 15, 2012

دسویں صدی عیسوی کا ایک دعوت نامہ :
یہ دعوت نامہ اسماعیل بن عباد نے اپنے ایک دوست کو لکھا تھا:
“ہماری رفاقت میں سب احباب موجود ہیں،صرف آپ کی کمی ہے۔گل نرگس بہ چشم والا اور گل لالہ بہ عارض روشن آپ کے منتظر ہیں۔نیبو اور نارنگی کے درخت اپنے پھولوں کی خوشبو ہر طرف بکھیر رہے ہیں ،پھول ہنس رہے ہیں ، کلیاں مہک رہی ہیں۔ضیافت کے سجے ہوئے کمرے کے دروازے آپ کے لئے کھلے ہیں۔اور نقیب آپ کی آمد کا اعلان کرنے کے لئے مستعدی سے ایستادہ ہے۔آپ کی آمد پر ہم سمجھیں گے کہ گویا ہم جنت میں پہنچ گئے ہیں۔ہم آپ کو اپنے سچے موتیوں کے ہار میں مرکزی دانہ بنا کر پرولیں گے۔

(احیائے اسلام:از خدا بخش)

Posted in مہک, مستعدی, مطالعہ, نقیب, نیبو, نارنگی, کلیاں, کالم, پھول, آمد, احیائے اسلام, احباب, ادب, اسماعیل بن عباد, اعلان, بڑے لوگ, تہذیب, تمدّن, تاریخی, تحقیقات, تحریر, تخلیقات, ترجمہ, تصنیف و تالیف, تصانیف, تعلیم, جنت, خوشبو, خدا بخش, دوست, دروازے, درخت, دعوت نامہ, زبان, سچے موتی, سجاوٹ, شخصیات, ضیافت, علم, علماء | 1 Comment »

عبد الماجد دریا بادی (حصہ چہارم)

Posted by ارتقاءِ حيات on February 13, 2012

 

گزشتہ سے پیوستہ
2کتابیں خاص طور پر اس کے زیر مطالعہ رہیں ۔ایک مرضیات دماغی اور دوسری عضویات دماغی۔خصوصاً مرضیات دماغی اسے عروج پر لے گئی۔ اس کتاب میں  اتنی جسارت کی گئی تھی کہ مصنف نے “وحی”کو بھی اس بیماری کا نتیجہ تصور کر لیا۔اور یہ بھی لکھا کہ ممکن ہے اس بیماری میں مبتلا شخص دنیا کے لئے کوئی بڑا کارنامہ کر جائے۔بس یہ پڑھنا تھا کہ عبدالماجد کے دل سے وحی کا تقدس بھی اٹھ گیا۔اور پھر تو وہ سمجھنے لگا کہ (نعوذباللہ )جتنا  بھی قرآن و احادیث ہیں وہ سب حضور ﷺ کے اپنے خیالات تھے۔مغرب کے بہت سے لوگ قرآن کو انسانی تصنیف کہا کرتے تھے وہ بھی اس کا قائل ہو گیا۔
ابھی تو بہت کچھ ہونا باقی تھا ۔والد صاحب حج پر جا رہے تھے تمام عزیز و اقارب کے ساتھ وہ بھی انہیں حج پر بھیجنے گیا دل میں سوچ رہا تھا کہ یہ کون سا رونے کا موقع ہے وہ والد صاحب کے آنے پر گلے مل لے گا اور ویسے بھی وہ حج کو عبادت کا درجہ بھی دینے سے منکر تھا ۔مگر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ عبدالقادر صاحب کا وہیں حج پر انتقال ہو گیا ۔
اسی سال بی اے میں اسے کامیابی ملی ۔کالج میں ایم اے (فلسفہ)کا انتظام نہ تھا وہ علی گڑھ چلا گیا۔ایم اے او کالج میں اس نے فلسفہ میں داخلہ لے لیا۔کالج کو اب تک یورنیورسٹی کا درجہ نہ مل سکا تھا۔امتحانات الٰہ آباد یورنیورسٹی کے تحت امتحانات ہوا کرتے تھے ۔اس بار بد قسمتی سے وہ امتحان میں ناکام رہا،سو دلّی کا رخ کیا اور سینٹ اسٹیفنز کالج میں داخل ہوا۔جہاں پروفیسر شارپ جیسا فلسفہ کا استاد موجود تھا مگر والد کے انتقال کی بناء پر معاشی بحران پیدا ہو چکا تھا ۔زندگی بھر کا جمع کیا پیپلز بینک میں رکھوایا گیا تھا ایک دن خبر آئی بینک دیوالیہ ہوگیا ہے ساری پونجی ڈوب گئی۔ اب تعلیم چھوڑ معاش کی فکر میں لگ گئے۔
پہلا خیال اپنا مادر علمی کیتگ کالج کا آیا وہاں فلسفہ کی اسامی خالی تھی۔مولانا شبلی کا سفارشی خط بھی ہمراہ لیا جو پہلے ہی لکھنؤ میں موجود تھی۔ اور اس کے “الحاد” کے باوجود اور یہ خیال کئے بغیر کہ “الکلام”پر تنقید بھی اس ی کے قلم سے نکلی تھی محض اس کے علم و فضل کو مدّ نظر رکھ کر ایک پر زور خط لکھ ہی دیا۔
قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا کہ کالج کے پرنسپل  ڈاکٹر کیمرون بھی اس سے خوش تھے ،مگر اس کی قابلیت کے باوجود اس کے پاس مطلوبہ ڈگری نہ تھی۔سو وہاں مایوسی ہی ملی۔
ایک بار پھر قلم کا سہارا لے کر اردو کے 2ماہناموں “ادیب”(الٰہ آباد) اور “الناظر” میں مضامین لکھنا شروع کئے۔کچھ معاوضہ ملا مگر نا کافی تھا ۔اسی دوران پوسٹ آفس اور ریلوے میں افسر گریڈ کے لئے کوششیں بھی کیں مگر ناکامی کا سامنا ہوا۔
مولانا شبلی ان کی بے روزگاری کو دیکھ رہے تھے ان دنوں “سیرت انبیﷺ” پر کام کررہے تھے ایسے آدمی کی تلاش بھی تھی جو انگریزی ماخذات کی تلاش میں ان کی مدد کر سکے 50روپے ماہوار پر انہیں مامور کرلیا،مگر ان کی الحاد پرستی اب کسی سے چھپی نہ تھی لوگوں کو اعتراض ہوا کہ ایک مرتد سیرت محمدی ﷺ پر کام کر رہا ہے بیگم بھوپال کو شکایت لکھ بھیجی گئی جو کہ شبلی کی سیرت نگاری میں مالی اعانت کر رہی تھیں ان کے حکم پر ماجد کو سیرت اسٹاف سے الگ کرنا پڑا۔
مولانا شبلی  کے علاوہ ہندوستان بھر کے اہم ادیبوں سے بھی ان کے مراسم قائم ہو چکے تھے ان میں سے اکبر الٰہ آبادی اور حسن نظامی بھی ان کی بے روزگاری کی وجہ سے فکر مند تھے اس کے لئے پنجاب یورنیورسٹی  میں اردو کے استاد کی جگہ خالی تھی اس سلسلے میں بھی بات کی گئی مگرناکامی مقدر لکھ دی گئی تھی،سو ملازمت نہ مل سکی۔
شیخ محمد یوسف الزماں آنریری مجسٹریٹ تھے۔اور عبدالقادر صاحب مرحوم سے قرابت داری بھی تھی ۔ان کی صاحبزادی عفت النساء کی ٹانگوں میں شدید درد رہنے لگا جو کسی طرح ختم ہونے ہی نہ آتا تھا، ہر حکیم و ڈاکٹر کو آزما لیا ۔ان کے بیٹے شیخ مسعود الزماں نے ایک دن یوسف صاحب سے عبدالماجد سے علاج کی درخواست کی یوسف صاحب حیران ہوئے کہ وہ کب سے ڈاکٹر ہوئے؟جواب ملا کہ وہ علم تنویم کے ماہر بھی ہیں ۔(یہ ایک نفسیاتی علاج ہوتا ہے جس مین مریض یا مریضہ کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ بیمار نہیں ہے)اجازت مل گئی اور عبدالماجد ایک شام انگریزی لباس میں وہاں پہنچ گئے۔دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پہلی ہی ملاقات میں پسند کر لیا ۔چند روز علاج چلتا رہا اور عفت بھلی چنگی ہو گئی۔لیکن عبدالماجد مریض ہوگیا۔عبدالماجد عفت النساء سے محبت کرنے لگا تھا۔
غیر کا گھر تو تھا نہیں کہ آنے جانے پر پابندی ہوتی یا کوئی پردہ ہوتا ،مزید یہ کہ مسعود الزماں انٹرمیڈیٹ سے اس کے ہم جماعت تھے جبکہ مجسٹریٹ صاحب بھی اس کے خالہ زاد تھے۔بلا تکلف آنا جانا ہوتا تھا باتوں میں عفت بھی شرکت کر لیا کرتی تھی ۔آتش عشق بڑھی تو عبدالماجد شاعر بھی بن گیا غزلوں پر غزلیں ہونے لگیں ۔ان کچھ دنوں کے لئے وہ نہ مسلمان تھا نہ ملحد بس عاشق بن گیا تھا ۔
کچھ غزلیں جمع ہوئیں تو سوچا کہ اکبر الٰہ آبادی کو دکھا دیں ۔اکبر کی جانب سے حوصلہ افزا جواب آیا تو دوسری غزل روانہ کی جس کا شعر تھا:
جانبازیوں کو خبط سے تعبیر کر چلے
تم یہ تو خوب عشق کی توقیر کر چلے
اکبر نے خوب داد دی کو خوشی اور تعجب کا اظہار کیا ۔
عفت کو اکثر غزلیں سنائی جاتیں تو وہ شرما سی جاتیں اور داد بھی دیتیں۔دونوں کو عبدالماجد کی ملازمت کا انتظار تھا کہ ملازمت ہو اور وہ ایک ہو سکیں۔
اسی عشق کے نشے میں ایک دن ان کی نگاہ ہاتھ گدوانے والے پر پڑی اور ہ آستین الٹ کر بیٹھ گیا۔انگریزی میں “عفت”ہاتھ پر گدوا لیا اور ساتھ میں ایک بڑا سا گلاب کا پھول بھی۔
عفت نے دیکھا تو کہا کہ اس کی تو اسلام میں ممانعت ہے ،گناہ ہے گناہ۔ جواب میں عبدالماجد نے کہ کہ میں ان فرسودہ باتوں کو نہیں مانتا۔ بات آئی گئی ہو گئی۔
محبت میں دیوانگی کی حد عبدالماجد ضرور چھو رہا تھا مگر اپنے علمی مرتبے سے بھی غافل نہ تھا۔اس کی 2 کتابیں ۔”سائکالوجی آف لیڈر شپ “اور “فلسفہ اجتماع “آگے پیچھے شائع ہوئیں۔اس نے ان کتابوں میں یہ جسارت کی کہ پیغمبران عظام پر تعریضات کی تھیں اور ان پر خود غرضی کے الزامات لگائے تھے۔
یہ ایسی جسارت تھی کہ اخبارات و رسائل خاموش نہ رہ سکے۔ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔مخالفانہ تبصرے شائع ہوتے چلے گئے۔سب سے اہم فتویٰ وہ تھا جو احمد رضا خان بریلوی کی جانب سے شائع ہوا اور عبدالماجدکو کافر قرار دیا گیا۔اس کے ساتھ ہی بہت سے فتوے اس کی عدم تکفیر میں بھی شائع ہوئے۔جن میں مولانا عبدالباری فرنگی  محلی ، سید سلمان ندوی اور مولانا شیر علی جیسے جید نام بھی تھے۔
وہ حضرات یہ سمجھتے تھے کہ عبدالماجد غلط راستے پر پڑ گیا ہے اگر نرمی کا برتاؤ کیا جائے تو جلد ہی راستے پر آجائے گا اگر سختی کی گئی تو مزید ضد پر آجائے گا ۔علما کا یہ برتاؤ اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ عبدالماجد کی علمی وقعت کے قائل ہیں۔وہ دھیرے دھیرے نرمی کے ساتھ اسے اسلام کی طرف لانا چاہ رہے تھے۔اس کے ساتھیوں کو اس سے بڑی محبت تھی ان میں مہدی افادی بھی شامل تھے۔وہ اسے محافظ عقلیات کے لقب سے یاد کیا کرتے تھے اس کی ان کتابوں سے انہیں بھی دکھ ہوا تھا۔
اس کی ان کتابوں کی وجہ سے اس کے خاندان میں بھی چہ مگویاں بڑھ گئی تھیں ماں نے یہ حل سمجھا کہ اس کی شادی کر دی جائے ۔حالانکہ ابھی تک ملازمت کا معاملہ حل نہ ہوا تھا۔
اس وقت معاشرے میں بچپن کی شادی اور منگنی کا رواج تھا عبدالماجدکی نسبت بھی 7-8سال کی عمر میں اپنے حقیقی چچا زاد سے طے ہو چکی تھی۔اب بڑے چاہتے تھے کہ شادی جلد از جلد ہو مگر اب عفت درمیان میں تھی عفت کا پلّہ بھی بھاری تھا کہ پڑھی لکھی معاشرت سے واقف کار ،آنریری مجسٹریٹ کی بیٹی  الکھنؤ کی رہنے والی ور سب سے بڑھ کر اس کی محبت جبکہ منگیر دریا باد جیسے فرسودہ ماحول کی رہنے والی۔
سب کے سامجھانے کے باوجود بھی عبدالماجد نہ مانا اور بالآخر طرفین کو اس کی ضد کے آگے ہار ماننی پڑی اور 2جون1916؁ کو اس کا نکاح لکھنؤ میں انجام پا گیا۔
ممتاز شعرانے تاریخیں نکالیں اور سہرے لکھے۔
لایا ہے پیام یہ خوشی کا قاصد
نوشاہ بنے ہیں آج عبدالماجد
وہ روز سعید بھی خدا لائے جلد
بن جائیں جب وہ کسی کے والد ماجد
——–
منکر ہو نہ کوئی اپنی ہمتائی کا
یہ کام کبھی نہیں ہے دانائی کا
اللہ نے اب غرور ان کا توڑا
دعویٰ تھا مرے دوست کو یکتائی کا
(سید سیلمان ندوی)
ماجد کی اہلیہ کا تعلق سندیلہ کے مشہور خاندان دیوان جی سے تھا ۔اس کے خسر اپنی ثروت کی بناء پر “نوٹوں والے”کے نام سے جانے جاتے تھے۔اب شادی کے بعد محبوب بیوی کی آسائش و آرام کی فکر لاحق ہوئی اور ملازمت کے لئے تگ و دو شروع کر دی۔اب کی بار بیوی کی قسمت بھی ساتھ تھی ۔
علی گڑھ کے صاحبزادہ آفتاب احمد خان نے ان کی کتاب “دی سائیکالوجی آف لیڈر شپ” پڑھ رکھی تھی ،خط لکھ کر علی گڑھ بلوایا ۔ایجوکیشنل کانفرنس کے لٹریری اسسٹنٹ کے طور پر 200روپے ماہوار تنخواپ پر ملازم رکھ لیا۔مسئلہ یہ تھا کہ نئی بیوی سے الگ علی گڑھ میں رہنا تھا فیصلہ گراں تھا پر بیوی نے حوصلہ دیا اور وہ چلا گیا۔
وہاں ہنچ کر محمد علی جوہر کو اطلاع دی نوکری کا احوال بتلایا ۔ محمد علی  کے جوابی خط  نے اسے چوکنا کر دیا ۔اس خط کا مفہوم کچھ یوں تھا کہ آفتاب احمد خان کے ساتھ نباہ کرنا خاصہ مشکل کام ہیں ۔وہ اس سے نوکری کا تجربہ کر چکے ہیں اور نباہ نہ ہو سکا تھا۔محمد علی جوہر کے خط سے صاحبزادہ کے لئے اچھی رائے کا اظہار نہ ہوا اس کا تماشہ خود اس نے بھی دیکھ لیا صاحب زادہ کے مزاج میں سختی اور درشتی تھی بات بات پر الجھ پڑتے تھے۔خود عبدالماجد بھی مزاج کا اکل کھرا تھا۔کسی کی آدھی بات سننے کا حوصلہ نہ تھا جس سرعت سے ملازمت ملی اتنی جلدی چھوٹ بھی گئی۔
انہی دنوں ھیدر آباد میں جامعہ عثمانیہ کےقیام کے لئے تیاریاں جاری تھیں ذریعہ تعلیم اردو ہونا تھا ،کتب کے ترجمہ کے لئے “دارالترجمہ”کا قیام عمل میں آیا بطور اہل علم عبدالماجد کا نام بھی نکل آیا جن کے بیشتر ترجمے داد وصول کر چکے تھے۔
1917؁ میں عبدالماجد حیدر آباد روانہ ہوئے۔اس بار بیوی ہمراہ تھیں۔اور تنخواہ300روپے ماہانہ۔سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا مگر ریاستی سیاست سے ان کا نباہ کرنا مشکل ہو رہا تھا مزید یہ کہ ان کے اور مولوی عبدالحق کے درمیان زبردست شورش پیدا ہو گئی تھی۔یہاں کے ایک اخبار”صحیفہ”نے بھی اس  کو خوب چوکھا رنگ دیا ۔ان کی کتابیں پھر سے تبصرے کی زد میں آگئیں۔فضاایسی خلاف ہو گئی کہ ان پر کفر کا فتویٰ لگا دیا گیا۔وہ اتنی شدید مخالفت کا سامنا نہ کر سکے اور استعفیٰ دے کر واپس آگئے۔
معاشی پریشانی لاحق ہو نی تھی کہ اس وقت دار المصنفین اعظم گڑھ ان کے کام آگیا۔انہوں نے دارالمصنفین کی فرمائش پر انہوں نے جارج برکلے کی مشہور انگریزی کتاب کا ترجمہ”مکالمات برکلے”کے نام سے کیا جو اس خوبی سے ہوا کہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہو گیا۔اس کے ساتھ ہی “معارف”کے لئے معاوضے پر لکھنا شروع کر دیا اور گزر بسر ہوتی رہی۔
1919؁ کے اوائل میں ماجد نے نظام حیدر آباد کو وظیفہ علمی کے لئے درخواست دی جس کی ضروری تفصیلات کے لئے انہیں ایک بار پھر سے حیدر آباد جانا پڑا ۔وہاں ان شرائط پر وضیفہ کی منظوری ہوئی کہ وہ سال میں 1تصنیف پیش کیا کریں گےاور اسکے خاکے کا مسودہ محکمہ احتساب کی نظر سے گزارنا ہوگا ،محکمے کی منظوری کے بعد وہ کتاب مکمل کریں گے۔شرائط شائد اسی لئے لگائی گئی ہوں گی کہ عبدالماجدکے الحادی نظریات کو جانچ سکیں ۔
125روپے ماہانا تا حیات منظور ہو گیا جو گھر بیٹھے انہیں ہر ماہ ملنے لگا ۔قیام کی کوئی قید نہ تھی جہاں چاہیں رہ سکتے ہیں۔اس دور میں متعدد ترجمے ان کے قلم سے نکلے جن میں “تاریخ ،تمدّن ، تاریخ اخلاق یورپ”اور ناموران سائنس”بڑی اہم ثابت ہوئیں۔
جاری ہے

Posted in کالم | 2 Comments »

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.