نبوت مل جانے کے بعد 9برس تک نبی اکرم مکہ مکرمہ میں تبلیغ فرماتے رہے اور قوم کی ہدایت اور اصلاح کی کوشش فرماتےرہے،لیکن تھوڑی سی جماعت کے سوا جو مسلمان ہوگئی تھی اور تھوڑے سے ایسے لوگوں کے علاوہ جو باوجود مسلمان نہ ہونےکےآپ کی مدد کرتے تھے ۔ اکثر کفارمکہ آپ کو اور آپ کے صحابہ ؓ کو ہر طرح کی تکلیفیں پہنچاتے تھے ۔ مذاق اڑاتےتھےاورجوہوسکتا تھا اس سے درگذر نہ کرتے تھے ۔ حضور کے چچا ابو طالب بھی انہی نیک دل لوگوں میں تھے جو باوجود مسلمان نہ ہونے کے حضور کی ہر قسم کی مدد فرماتے تھے ۔

دسویں سال میں جب ابو طالِب کا بھی انتقال ہوگیا تو کافروں کو اور بھی ہر طرح کھلے مہار اسلام سے روکنے اور مسلمانوں کو تکلیف پہنچانےکاموقع ملا۔ حضور اقدس اس خیال سے طائف تشریف لے گئے کہ وہاں قبیلہ ثقیف کی بڑی جماعت ہے، اگر وہ قبیلہ مسلما ن ہو جائے تو مسلمانوں کو ان تکلیفوں سے نجات ملے اور دین کے پھیلنے کی بنیاد پڑ جائے ۔ وہاں پہنچ کرقبیلہ کے تین سرداروں سےجوبڑےدرجے کے سمجھے جاتے تھے گفتگو فرمائی اور اللہ کے دین کی طرف بلایااور اللہ کے رسول کی یعنی اپنی مدد کی طرف متوجہ کیا ۔ مگر ان لوگوں نے بجائے اس کے کہ دین کی بات کو قبول کرتے یا کم سے کم عرب کی مشہور مہمان نوازی کے لحاظ سے ایک نووارد مہمان
کی خاطرمدارات کرتے صاف جواب دے دیا اور نہایت بے رخی اور بد اَخلاقی سے پیش آئے۔
اُن لوگوں نے یہ بھی گوارا نہ کیا کہ آپ یہاں قیام فرمالیں جن لوگوں کو سردار سمجھ کر بات کی تھی کہ وہ شریف ہوں گے اور مہذب گفتگوکریں گے اُن میں سے ایک شخص بولا کہ اوہو آپ ہی کو اللہ نے نبی بناکر بھیجا ہے۔ دوسرا بولا کہ اللہ کو تمہارے سوا کوئی اور ملتا ہی نہیں تھاجس کو رسول بناکر بھیجتے۔ تیسرے نے کہا کہ میں تجھ سے بات کرنا نہیں چاہتا اس لئے کہ اگر تو واقعی نبی ہے جیسا کہ دعویٰ ہےتوتیری بات سے انکار کردینا مصیبت سے خالی نہیں ، اور اگر جھوٹ ہے تو میں ایسی شخص سے بات کرنا نہیں چاہتا۔ اس کے بعد ان لوگوں سے نہ امید ہو کر حضورِاکرم
نے اور لوگوں سے بات کرنے کا ارادہ فرمایا کہ آپ تو ہمت اور استقلال کے پہاڑ تھے مگر کسی نے بھی قبول نہ کیا۔ بلکہ بجائے قبول کرنے کے حضور سے کہا کہ ہمارے شہر سے فورًا نکل جاؤ۔ اور جہاں تمہاری چاہت کی جگہ ہو وہاں چلے جاؤ۔حضورِاکرم جب ان سے بالکل مایوس ہو کر واپس ہونے لگے تو ان لوگوں نے شہر کے لڑکوں کو پیچھے لگا دیا کہ آپ کا مذاق اُڑائیں ، تالیاں پیٹیں ، پتھر ماریں ، حتیٰ کہ آپ کے دونوں جوتے خون کے جاری ہونے سے رنگین ہو گئے ۔ حضورِ اقدس اسی حالت میں واپس ہوئے جب راستہ میں ایک جگہ ان شریروں سے اطمینان ہوا تو حضور نے یہ دُعا مانگی:
اَللّٰھُمَّ اِلَیْکَ اَشْکُوْ ضُعْفَ قُوَّتِیْ وَ قِلَّۃَ حِیْلَتِیْ وَ ھَوَانِیْ عَلَی النَّاسِ یَا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ اَنْتَ رَبُّ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ وَ اَنْتَ رَبِّی اِلٰی مَنْ تَکِلُنِیْ، اِلٰی بَعِیْدٍ یَتَجَھَّمُنِیْ اَمْ اِلٰی عَدُوٍّ مَلَّکْتَہٗ اَمْرِیْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ بِکَ عَلَیَّ غَضَبٌ فَلَا اُبَالِیْ وَ لٰکِنْ عَا فِیَتُکَ ھِیَ اَوْسَعُ لِیْ اَعُوْذُ بِنُوْرِ وَ جْھِکَ الَّذِیْ اَشْرَقَتْ لَہُ الظُّلُمٰاتُ وَ صَلُحَ عَلَیْہِ اَمْرُ الدُّنْیٰا وَ الْآخِرَۃِ مِنْ اَنْ تُنْزِلَ بِیْ غَضَبکَ اَوْ یَحُلَّمیں عَلَیَّ سَخَطُکَ لَکَ الْعُتْبٰی حَتّٰی تَرْضٰی وَ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِک۔ فی سیرۃ ابن ھشام قلت: و اختلف الروایات فی الفاظ الدعاء کما فی قرۃ العیون۔
’’اے اللہ تجھی سے شکایت کرتا ہوں میں اپنی کمزوری اور بیکسی کی اور لوگوں میں ذلت اورسوائی کی ۔ اے ار حم الراحمین تو ہی ضعفاء  کارب ہے اور تو ہی میرا پروردگار ہے، تو مجھے کس کے حوالے کرتا ہے ۔ کسی اجنبی بیگانہ کے جو مجھے دیکھ کر ترش رُو ہوتا ہے اور منہ چڑھاتاہے یاکہ کسی دشمن کے جس کو تو نے مجھ پر قابو دیدیا۔ اے اللہ اگر تو مجھ سے ناراض نہیں ہے تو مجھے کسی کی بھی پرواہ نہیں ہے۔ تیری حفاظت مجھے کافی ہے میں تیرے چہرہ کے اُس نورکے طفیل جس سے تمام اندھیریاں روشن ہو گئیں اورجس سے دنیا اور آخرت کےسارے کام درست ہو جاتے ہیں اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ مجھ پر تیرا غصہ ہو یا تو مجھ سے ناراض ہو تیری نارضگی کا اس وقت تک دورکرنا ضروری ہے جب تک تو راضی نہ ہو، نہ تیرے سوا کوئی طاقت ہے نہ قوتمالک الملک کی شان قہاری کو اس پر جوش آنا ہی تھا کہ حضرت جبرئیل نے آکر سلام کیا اور عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی وہ گفتگوجو آپ سے ہوئی سنی اور اُن کے جوابات سنےاورایک فرشتہ کو جس کے متعلق پہاڑوں کی خدمت ہے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ جو چاہیں اس کو حکم دیں ، اس کے بعد اس فرشتہ نے سلام کیا اور عرض کیا کہ جو اِرشاد ہو میں اس کی تعمیل کروں اگر ارشاد ہو تو دونوں جانب کے پہاڑوں کو ملا دوں جس سے یہ سب درمیان میں کچل جائیں یا اور جو سزا آپ تجویز فرمائیں ۔ حضور کی رحیم وکریم ذات نے جواب دیا کہ میں اللہ سے اس کی امید رکھتا ہوں کہ اگر یہ مسلمان نہیں ہوئے تو اُن کی اولاد میں سے ایسے لوگ پیدا ہوں جو اللہ کی پرستش کریں اور اس کی عبادت کریں ۔

امام نسائی ؒ کا اصل نام ابو عبدالرحمن احمن بن شعیب ہے۔آپ چونکہ خراسان کے شہر نسائ میں پیدا ہوئے اس لیے اس نسبت سےآپکونسائی کہتے ہیں۔امت مسلمہ میں آپ کی پہچان ایک محدث کی ہے،آپ نے سنن نسائی کے نام سے صحیح احادیث کا ایک عظیم الشان مجموعہ ترتیب دیا۔آپ نے بڑی عرق ریزی سے قابل اعتماد احادیث نبویﷺکو جمع کیا ،اس مقصد کے لیے آپ نےدوردرازکےسفر کیے اوربہت تکالیف بھی برداشت کیں ۔امت مسلمہ میں کل دس کتب احادیث کو سند کادرجہ حاصل ہے ،چھ اہل سنت کے ہاں جنہیں صحاح ستہ کہاجاتا ہے جس کامطلب  چھ صحیح کتابیں ہے اور چار اہل تشیع کے ہاں جنہیں  کتب اربعہ کہاجاتا ہے یعنی  چارکتابیں ۔امام نسائی ؒ کی سنن نسائی کاشمار صحاح ستہ میں ہوتاہے۔
امام نسائی ؒ کی پیدئش 215ھ میں ہوئی ،اس وقت خراسان ممالک اسلامیہ کا بہت اہم صوبہ سمجھاجاتاتھا۔خراسان کا اسلامی تاریخ میں جہاں بہت اہم سیاسی کردارہے وہاں یہ علاقہ اپنی علمی کاوشوں میں بھی پیچھے نہیں رہا،امام نسائی ؒ سمیت امت کے بہت وقیع بزرگ اس خطےسےتعلق رکھتے ہیں۔امام نسائی نے پندرہ سال کی عمر میں حدیث کاعم سیکھنا شروع کیا۔علم حدیث نبویﷺ کے حصول کے لیے آپ نے خراسان جیسے دوردراز علاقے سے حجاز،عراق،شام اور مصر جیسے ممالک تک کا سفر کیا۔اس زمانے میں علم کے حصول کےلیےسفرکرنابہت ضروری خیال کیاجاتا تھا،کسی کو اس وقت تک اچھاعالم نہ سمجھاجاتا جب تک کہ وہ دوردرازکےسفرکرکےتواچھےاچھے اور قابل اساتذہ فن سے حصول علم نہ کرآتا۔آپ کاآبائی وطن اگرچہ خراسان تھا لیکن آپ نےخدمت حدیث نبویﷺ کے لیے ہجرت کی اور مصر میں مستقل سکونت اختیارکرلی۔
علمی دنیاکی یہ حسین روایت ہے کہ استاد اپنے شاگرد سے اور شاگرد اپنے استاد سے پہچانا جاتاہے۔گم نام اساتذہ کو انکاکوئی شاگرد روشن کردیتاہے اور نالائق طالب علم کسی استاد کی نسبت سے آسمان کا ستارہ بن جاتاہے۔لیکن علمی تاریخ انسانیت نے وہ دن بھی دیکھے کہ جب استاد اور شاگرد دونوں آسمان علم کے سورج چاند ستارے تھے۔حضرات قتیبہ بن سعید،اسحاق بن راہویہ،سلیمان بن اشعث جو امام  ابوداودکے نام سے معروف ہیں اور ابوعبداﷲ بن اسمائیل جنہیں ایک زمانہ امام بخاری کے نام سے پہچانتاہے اور سعید بن نصر ،محمد بن غشار اور علی بن حجرجیسے نابغہ روزگار لوگوں امام نسائی ؒ نے حصول علم کیا۔
آپ سے اگرچہ ہزارہالوگوں نے سماع حدیث کیا یعنی حدیث کاعلم حاصل کیا۔آپ جب درس حدیث دیاکرتے تھے تو مساجد کے صحن میں جگہ کم پڑ جاتی تھی ،مخلوق خدا امڈ امڈ کر آپ کے درس میں شرک سماع ہوتی ۔نہ صرف قرب و جوار سے بلکہ دوردراز سے اور بہت اچھےاوراعلی دینی و دنیاوی مراتب کے لوگ آپ کے سامنے طالب علم بن کر بیٹھتے تھے۔تاہم تاریخ نے آپ کے جن شاگردوں کے نام اپنے سینے میں محفوظ کیے ہیں ان میں سے حافظ ابوقاسم اندلسی ،علی بن ابوجعفرطحاوی،ابوبکربن حداد فقیہ،ابوالقاسم الطبرانی ،حافظ ابوعلی نیشاپوری ،ابوعلی حسن السیوطی اور الحسن العسکری لوگ قابل ذکرہیں،یہ اگرچہ اپنی اپنی جگہ مکمل دبستان علوم ورشدہیں لیکن امام نسائی کا شاگرد ہونا بھی انکے لیے قابل فخرامورمیں شامل ہے۔
دولت مندلوگ جس طرح اپنا سرمایا اپنی اولاد میں چھوڑ جاتے ہیں ،اہل اقتدار جس طرح اپنی جاگیر اپنے وارثوں کے نام کرجاتے ہیں اسی طرح اہل علم لوگوں کی میراث انکی کتب اور انکی نصانیف ہوتی ہیں جو انکی روحانی اولاد اپنے سینے سے لگا۔ امام نسائی ؒ نے اگرچہ بہت سی نصانیف چھوڑیں اور ان میں سب سے اہم سنن نسائی ہی ہے لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سی تصانیف آپ کا روشن سرمایا ہیں۔ان تصانیف میں سے خصائص علی رضی اﷲ عنہ،المجتبی،مسندامام مالک ؒ،فضائل صحابہ رسولﷺ،کتاب الجرح والتعدیل ،اسماءالرواة اور مناسک حج زیادمشہور ہیں۔آپ چونکہ بنیادی طور پر محدث تھےاسلیےاسی میدان علم سے متعلق کتب و تصانیف ہی آپ کے قلم سے پھوٹنے والی روشنیاں ہیں۔
امام نسائی ؒ سرخ و سفید چہرے اوروجیہ شخصیت کے مالک تھے۔آپ کا دسترخوان انواع و اقسام کے کھانوں سےپررہتاتھا۔خوش لباسی اور خوش خوراکی کے کئی قصے آپ سے منسوب ہیں ۔اما م نسائی ؒ بھناہوا مرغ بہت شوق سےکھاتےتھے اور اس وقت کے مروج بہت اچھے اچھے مشروب کھانے کے بعد پیاکرتے تھے۔آپ کچھ عرصہ حمص شہرمیں قاضی بھی رہے لیکن بوجوہ یہ منصب ترک کردیااور زیادہ وقت تصنیف و تالیف اور درس و تدریس کودینےلگے۔دمشق کی ایک مسجد میں ایک بار آپ حضرت علیؓ کی منقبت میں اپنی کتاب کے اقتباسات سنا رہے تھے توبعض لوگ طیش میں آگئے اورحضرت کو مارناپیٹناشروع کر دیا۔بہت زخمی حالت میں جوش ایمان آپ کو حجاز مقدس کھینچ چلا،حرم کعبہ پہنچ جانے کے باوجود بھی آپ کی علالت باقی تھی اور اسی حالت میں صفاومروہ کے درمیان خالق حقیقی سےجاملے۔یہ13صفر 303ھ کی تاریخ تھی۔
امام ابو عبدالرحمن نسائی ؒ کی وجہ شہرت انکی شہرہ آفاق تالیف  سنن نسائی شریف ہے۔اسکا شمار صحاح ستہ میں ہوتا ہے۔ سنن اس کتاب حدیث نبوی ﷺ کو کہتے ہیں جس کے ابواب کی ترتیب فقہ کی کتابوں کے مطابق تیار کی گئی ہو۔ امت کے بے شمار بزرگ اس کتاب سنن نسائی شریف کی تعریف میں رطب اللسان ہیں حتی کہ بعض علمائے حدیث نبویﷺاس کتاب  سنن نسائی شریف کو بخاری و مسلم پر بھی ترجیح دیتے ہیں ۔پہلے امام نسائی ؒ نے  سنن کبری تصنیف
کی تھی۔یادرہے کہ یہ وہ وقت تھا جسے تاریخ حدیث میں دور فتن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ امام نسائی ؒ نے یہ کتاب جب امیر رملہ کو پیش کی تو اس نے پوچھا کیا اس میں سب صحیح احایث ہیں ؟آپ نے جواب دیا نہیں ،تب امیر رملہ نے کہا کہ میرے لیے ایک ایسی کتاب تیار کریں جس میں سب احادیث صحیح ہوں ۔اس پر امام صاحب نے  سنن نسائی شریف کی تدوین کی۔
احادیث نبوی ﷺ کے اس مجموعہ  سنن نسائی شریف میں امام نسائی ؒ نے وہی اسلوب اختیار کیا ہے جو امام بخاری اؒور امام مسلم ؒنے اپنی تالیفات میں اختیار کیا ہے۔
امام نسائی ؒ نے ایک حدیث کو متعدد مقامات پر تحریر کیاہے اور اس سے مسائل بھی اخذ کیے ہیں۔امام صاحب نےمتعددمسائل کے لیے مختلف ابواب تشکیل دیے ہیں ۔ایک حدیث کو بہت سارے لوگ روایت کر رہے ہوں تو امام نسائی ؒ اس حدیث کے سب راویوں کا ذکر کر دیتے ہیں ۔فن اصول حدیث کی اصطلاح میں ایک حدیث کے بہت سارےراویوںکے سلسلے کو  طرق کہتے ہیں ۔حدیث کا بیان کرنے والا راوی اپنے سے زیادہ مرتبہ کے آدمی کی مخالفت کرےتوامام نسائی ؒ اس کا بھی تفصیل سے ذکر کرتے ہیں ایسی حدیث کو شاذ کہتے ہیں۔
حدیث بیان کرنے والے پہلے زمانے کے لوگ صحابہ کرام ؓ تھے ،ان کے بعد تابعین آئے،پھر تبع تابعین آئے اس کےبعدفقہا کا دور شروع ہوتا ہے تب محدثین کا زمانہ آتاہے ۔کسی بھی حدیث میں کسی بھی زمانے کے راوی میں کوئی خامی ہو تو امام نسائی ؒ اسکا بھی ذکر کرتے ہیں اس عمل کو فن اصول حدیث کی اصطلاح میں  راوی پر نقدکرنا کہتے ہیں۔ بعض اوقات متن حدیث پر بھی نقد و جرح کرتے ہیں اور یہ آپ کی کسر نفسی ہے کہ بعض اوقات طویل بحث کرچکنےکےبعدبھی لکھ دیتے ہیں کہ  میں اس بات کو حسب منشا نہیں سمجھا ۔
علمائے حدیث نے امام نسائی ؒ کی اخذکردہ احادیث کو تین اقسام میں تقسیم کیا ہے:
پہلی قسم کی وہ احادیث ہیں جو امام بخاری ؒاور امام مسلم ؒنے بھی اپنی کتابوں میں درج کی ہیں ،یہ اعلی درجے کی احادیث ہیں۔
دوسری قسم کی وہ احادیث ہیں جو امام نسائی ؒ نے درج کی ہیں اور وہ امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ کی قائم کردہ سخت شرائط پر بھی پوری اترتی ہیں لیکن ان دونوں بزرگوں امام بخاری ؒو امام مسلم ؒنے بوجوہ ان حدیثوں کو درج نہیں کیا۔
تیسری قسم کی احادیث وہ ہیں مزکورہ بالا دونوں اقسام میں نہیں آتیں۔
امام نسائی ؒ نے اپنی اس نابغہ روزگار کتاب  سنن نسائی شریف میں کم و بیش ساڑھے پانچ ہزار احادیث رقم کی ہیں ۔اس کتاب کے قبول عام کا اندازہ اس بات سے بھی لگایاجاسکتاہے کہ صدیاں گزرجانے کے باوجود یہ کتاب زندہ ہے ،آج بھی مشرق سے مغرب تک علوم اسلامیہ کے طلبہ و طالبات اور علماءو عالمات اس کتاب کی درس و تدریس سے وابسطہ ہیں ۔اس کتاب کی بہت سی شروحات لکھی گئی ہیں ، الاعان فی شرح سنن نسائی ، زوائد نسائی اور زہرالربی علی اللمجتبی بہت مشہور ہیں آخرالزکرشرح کی تالیف حافظ جلال الدین سیوطی ؒ جیسی ہستی کے قلم کامبارک نتیجہ ہے۔اﷲ تعالی امام نسائی ؒ کو غریق رحمت کرے اور اﷲ کرے اس کتاب سے پھوٹنے والی کرنیں باغ حدیث نبویﷺ کو تاقیامت روشن و تابندہ رکھیں۔
6ھ؁ میں حضور اقدس عمرہ کے ارادہ سے مکہ تشریف لے جارہے تھے۔ کفارِمکہ کو اسکی خبر ہوئی اوروہ اس خبرکو اپنی ذلت سمجھے اس لئے مزاحمت کی اور حدیبیہ میں آپکورکناپڑا۔جاںنثارصحابہ ؓ ساتھ تھے جو حضور پر جان قربان کرنا فکر سمجھتے ۔ لڑنے کو تیار ہوگئے۔مگر حضور نے مکہ والوں کی خاطر سے لڑنے کا ارادہ نہیں فرمایا اور صلح کی کوشش کی اور باوجود صحابہ ؓ کی لڑائی پر مستعدی اور بہادری کے حضور اکرم نے کفار کی اس قدر رعایت فرمائی کہ ان کی ہر شرط کو قبول فرمالیا۔ صحابہ ؓکو اس طرح دب کر صلح کرنا بہت ہی ناگوارتھامگرحضورکےارشادکے سامنے کیا ہو سکتا تھا کہ جاں نثار تھے اور فرمانبردار،اس لئے حضرت عمر ؓجیسے بہادروں کو بھی دبنا پڑا۔ صلح میں جو شرطیں طے ہوئیں ان شرطوں میں ایک یہ شرط بھی تھی کہ کافروں میں سے جو شخص اسلام لائے اور ہجرت کرے مسلمان اس کو مکہ واپس کردیں اور مسلمانوں میں سے خدانخواستہ اگر کوئی مرتدہوکرچلاآئےتووہ واپس نہ کیا جائے یہ صلح نامہ ابھی تک پورالکھابھی نہیں گیا تھا کہ حضرت ابوجندل ؓایک صحابی تھے جو اسلام لانے کی وجہ سے طرح طرح کی تکلیفیں برداشت کررہے تھے او ر زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے ۔ اسی حالت میں گرتےپڑتے مسلمانوں کے لشکر میں اس امید پر پہنچے کہ ان لوگوں کی حمایت میں جاکر اس مصیبت سے چھٹکارا پاؤں گا۔ اُن کے باپ سہیل نے جو اس صلح نامہ میں کفارکی طرف سےوکیل تھے اور اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے، فتح مکہ میں مسلمان ہوئے۔انہوں نےصاحبزادےکےطمانچےمارےاورواپس لے جانے پر اصرار کیا۔ حضورنےارشادفرمایاکہ ابھی صلح نامہ مرتب بھی نہیں ہوا اس لئے ابھی پابندی کس بات کی مگر اُنہوں نےاصرارکیا۔ پھر حضور نے فرمایا کہ ایک آدمی مجھے مانگا ہی دے دو ۔ مگر وہ لوگ ضد پر تھے نہ مانا۔ ابو جندل ؓنے مسلمانوں کو پکار کر فریاد بھی کی کہ میں مسلمان ہو کر آیا اور کتنی مصیبتیں اُٹھا چکا اب واپس کیا جارہا ہوں ، اس وقت مسلمانوں کے دلوں پر جو گذررہی ہوگی اللہ ہی کو معلوم ہے مگر حضور ا رشاد سے واپس ہوئے حضور نے تسلی فرمائی اورصبرکرنے کا حکم دیا،اور فرمایا کہ عنقریب حق تعالیٰ شانہٗ تمہارے لئے راستہ نکالیں گے صلح نامہ کے مکمل ہوجانے کے بعد ایک دوسرے صحابی ابو بصیر ؓبھی مسلمان ہو کر مدینہ منورہ پہنچے ۔ کفار نے ان کو واپس بلانے کے لئے دو آدمی بھیجے حضورِ اقدسنے حسب وعدہ واپس فرمادیا۔ ابو بصیر ؓنے عرض بھی کیاکہ یا رسول اللہ میں مسلمان ہو کر آیا آپ مجھےکفار کے پنجہ میں پھر بھیجتے ہیں ۔ آپ نے ان سے بھی صبر کرنے کو ارشاد فرمایا اور فرمایا کہ انشاء اللہ عنقریب تمہارے واسطے راستہ کھلے گا۔ یہ صحابی ان دونوں کافروں کے ساتھ واپس ہوئے۔ راستہ میں ان میں سے ایک سے کہنے لگے کہ یار تیری یہ تلوار تو بڑی نفیس معلوم ہوتی ہے۔ شیخی بازآدمی ذرا سی بات میں پھول ہی جاتا ہے وہ نیام سے تلوار نکال کر کہنے لگا کہ ہاں میں نےبہت سے لوگوں پر اس کا تجربہ کیا ہے یہ کہہ کر تلوار ان کے حوالہ کردی۔ اُنہوں نے اسی پر اس کا تجربہ کیا۔ دوسرا ساتھی یہ دیکھ کر کہ ایک کو تو نمٹا دیا اب میرا نمبر ہے۔ بھاگا ہوا مدینہ آیااورحضور اکرم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میرا ساتھی مر چکا ہے اب میرا نمبر ہے۔ اس کی بعد ابو بصیر ؓپہنچے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ اپنا وعدہ پورا فرما چکے کہ مجھے واپس کر دیا اور مجھ سے کوئی عہد ان لوگوں کا نہیں ہے جس کی ذمہ داری ہو ۔ وہ مجھے میرے دین سےہٹاتےہیں ۔ اس لئے میں نے یہ کیا۔ حضور نے فرمایا کہ لڑائی بھڑکانے والا ہے۔ کاش کوئی اس کا معین ومدد گار ہوتا وہ اس کلام سے سمجھ گئے کہ اب بھی اگر کوئی میری طلب میں آئےگاتو میں واپس کر دیا جائوں گا۔ اس لئے وہ وہاں سے چل کر سمندر کے کنارے ایک جگہ آپڑے۔ مکہ والوں کو اس قصہ کا حال معلوم ہوا تو ابو جندل ؓبھی جن کا قصہ پہلے گذرا چھپ کر وہیں پہنچ گئے۔ اسی طرح جو شخص مسلمان ہوتا وہ انکے ساتھ جا ملتا۔ چند روز میں یہ ایک مختصرسی جماعت ہو گئی جنگل میں جہاں نہ کھانے کا کوئی انتظام، نہ وہاں باغات اور آبادیاں ، اس لئے ان لوگوں پر جو گذری ہو گی وہ تو اللہ ہی کو معلوم ہے۔ مگر جن ظالموں کے ظلم سے پریشان ہوکر یہ لوگ بھاگے تھے انکا ناطقہ بند کر دیا۔ جو قافلہ ادھر کو جاتا اس سے مقابلہ کرتے اور لڑتے۔حتیٰ کہ کفار مکہ نے پریشان ہو کر حضورکی خدمت میں عاجزی اور منت کرکے اللہ کااوررشتہ داری کا واسطہ دے کر آدمی بھیجا کہ اس بے سری جماعت کو آپ اپنے پاس بلا لیں کہ یہ معاہدہ میں تو داخل ہو جائیں اور ہمارے لئے آنے جانے کا راستہ کھلے ۔لکھا ہے کہ حضورکااجازت نامہ جب ان حضرات کے پاس پہنچا تو ابو بصیر ؓمرض الموت میں گرفتار تھے ۔ حضور کا والا نامہ ہاتھ میں تھا کہ اسی حالت میں انتقال فرمایا۔
آدمی اگر اپنے دین پر پکا ہو، بشرطیکہ دین بھی سچا ہو تو بڑی سے بڑی طاقت اس کو نہیں ہٹاسکتی اور مسلمان کی مدد کاتو اللہ کا وعدہ ہے بشرطیکہ وہ مسلمان ہو۔
رسول کریم پر وحی کا آغاز

قوم کے اندر پھیلی ہوئی خرافات اور برائیوں کو دیکھ کر آپ غمزدہ رہنے لگے اورآپ بار بار یہ سوچنے لگے کہ انہیں  کس طرح ہلاکت سے بچایا جائے یہ غم اور خواہش بڑھتی گئی یہاں تک کہ آپ رمضان کے مہینہ میں (جبل نورپرواقع)غار حرا (جس کی لمبائی 4گز اور چوڑائی پونے 2گز ہے) میں جا کر سیّدنا ابراہیم علیہ السلام کی تعلیمات کے مطابق اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے میں مصروف ہو گئے اور مہینہ پورا کر کے آپ بیت اللہ تشریف لاتے، بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد اپنے گھر چلے جاتے۔ تین سال تک آپ کا یہی معمول رہاپھر جب آپ کی عمر مبارک 40 سال کےقریب ہوئی توآپ کو سچے خواب آنا شروع ہو گئے پھر روشنی نظر آنے لگی اور بے جان چیزوں کی آواز سنائی دینےلگی۔رسول اکرم فرماتے ہیں : میں مکہ کے ایک پتھر کو پہچانتا ہوں جو نبوت ملنے سے پہلے مجھے سلام کیاکرتاتھا۔(مسلم)
تیسرے سال رمضان کے مہینہ میں جب آپ کی عمرمبار ک 40 سال 6 ماہ اور 12 دن ہو گئی۔ 21 رمضان المبارک بروز پیر بمطابق  10 اگست 610؁ عیسوی میں آپ غارِ حرا میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف تھے کہ اچانک جبرائیل علیہ السلام سامنے آئے اور کہا:
اِ قْرَاْ آپ ( ) پڑھئے۔ آپ نے فرمایا: مَا اَنَا بِقَارِیٍٔ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ۔ جبرائیل علیہ السلام نےآپکو اپنے سینہ سے لگاکر دبایا پھر کہا : اِ قْرَأْ پڑھئے۔ آپ نے دوبارہ وہی جواب دیا: مَا اَنَا بِقَارِیٔ میں پڑھنانہیں جانتا۔ سیّدنا جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو تیسری بار سینہ سے لگاکر دبایا اور کہا:
اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۝ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۝ اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ۝ الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۝ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ۝
(اے محمّد )اپنے رب کا نام لے کر پڑھئے جس نے (پورے عالم کو) پیدا کیا۔جس نے انسان کو خون کےلوتھڑےسےپیدا کیا۔ پڑھئے آپ کا رب بڑاکریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعہ سے(انسان کو) علم سکھایا اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اسے علم نہ تھا۔ ( العلق 96 : آیات 1تا 5)
ان آیات کو سیکھ کر آپ گھر تشریف لائے۔ اس وقت آپ کا دل گھبراہٹ کی وجہ سے کانپ رہاتھا۔ آپ نے سیّدہ خدیجہ ؓ سے فرمایا: مجھے کمبل اُڑھادیجئے، مجھے کمبل اُڑھادیجئے۔ انہوں نےآپکو کمبل اُڑھا دیا۔کچھ دیر بعد آپ کی گھبراہٹ ختم ہو ئی توآپ نے سیّدہ خدیجہؓکو غار والا پورا واقعہ سنایا اور کہا: مجھے اپنی جان کے بارے میں خوف محسوس ہورہاہے۔ سیّدہ خدیجہؓ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے کہا:اللہ کی قسم، ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ آپکوکبھی رُسوا نہیں کرے گااس لئے کہ آپ (رشتہ داروں سے) صلہ رحمی کرتےہیں،بےسہارالوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں ، تنگ دست لوگوں کی مدد کرتے ہیں ، مہمانوں کی میزبانی کرتےہیں اور مصیبت کے وقت لوگوں کی مدد کرتے ہیں ۔ اس کے بعدآپ ؓ آپ کو اپنےچچازادبھائی ورقہ بن نَوفل کے پاس لے کر گئیں جو کہ عیسائی عالم تھے اور انجیل کا عبرانی زبان میں ترجمہ کررہے تھے۔ اس وقت وہ بوڑھے اور نابینا ہو چکے تھے۔سیّدہ خدیجہ ؓ نے کہا: بھائی جان، آپ اپنے بھتیجے کی باتیں سنیں ۔
ورقہ بن نَوفل نے کہا: اے بھتیجے، سناؤ۔ آپ
کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا تھا، آپ نے وہ پورا واقعہ سنایا۔ اس واقعہ کو سنتے ہی انہوں نے کہا: یہ تو وہی ناموس (وحی لانے والا فرشتہ) ہے جو موسیٰ علیہ السلام پرنازل ہوا تھا پھر کہنے لگے: کاش، میں اُس وقت تک زندہ رہوں ، جب آپ کی قوم آپکویہاں(مکہ)سے نکال دے گی۔ آپ نے پوچھاکہ واقعی میری قوم مجھے یہاں سے نکال دےگی؟
ورقہ نے کہا: جی ہاں جب بھی کوئی رسول آپ جیسا پیغام لے کر آیا تو اس سے ضرور دشمنی کی گئی۔ اگر میں نے تمہارا وہ(نبوت والا)زمانہ پا لیا تو ضرور تمہاری مدد کروں گا۔ اس کے کچھ عرصہ بعدہی ورقہ وفات پاگئےاورکچھ عرصہ تک آپ
پر وحی کا سلسلہ بندہوگیا۔(بخاری،مسلم )
وحی کا بندہونا اور آپ کی اضطرابی کیفیت
پہلی وحی کے بعد کچھ عرصہ کے لئے آپ پروحی آنا بند ہو گئی۔آپ بہت زیادہ غمگین رہنےلگے۔کئی مرتبہ آپ پہاڑ کی چوٹی پر تشریف لے کر گئے تاکہ وہاں سے لڑھک جائیں لیکن آپ جب بھی کسی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے تو جبرائیل علیہ السلام نمودار ہوتے اور فرماتے کہ :اے محمّد آپ اﷲ کے برحق رسول ہیں ۔ اس تسلی سے آپ کے دل کو قرار آجاتا اور آپ واپس گھرتشریف لےآتے۔(بخاری)
وحی کی یہ بندش اس لئے تھی تاکہ پہلی وحی کی و جہ سے آپ پر جو خوف طاری ہوگیا تھا وہ ختم ہوجائےاور آپ کے دل میں دوبارہ وحی کی آمد کا شوق وانتظار پیدا ہوجائے۔ جب آپ کا شوق وانتظار اس لائق ہوگیا کہ آئندہ وحی کی آمد پر آپ اس بوجھ کو بآسانی اٹھالیں گے تو جبرائیل علیہ السلام دوبارہ تشریف لائے۔ آپ نے دوبارہ وحی نازل ہونے کا واقعہ اس طرح بیان فرمایا : میں چل رہا تھا۔ اچانک مجھے آسمان سے ایک آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھاکر دیکھا تو وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا، آسمان وزمین کے درمیان ایک کرسی پر اس طرح پر پھیلا کر بیٹھا ہے کہ آسمان کے کنارے اس سےچھپ گئے ہیں ۔ میں اس منظر سے خوفزدہ ہو کر اپنے اہل خانہ کے پاس آیا اور کہا: مجھے کمبل اُڑھادیجئے،مجھے کمبل اُڑھادیجئے۔ اہل خانہ نے مجھے کمبل اُڑھادیا اس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں :
يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ۝ قُمْ فَاَنْذِرْ۝ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ ۝ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ۝ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ ۝
اے کپڑا اوڑھنے والے۔ اٹھئے اور( لوگوں کو عذاب الٰہی سے) ڈرائیے۔اور اپنے رب کی بڑائی بیان کیجئے۔ اوراپنےکپڑوں کو پاک رکھئے۔ اور (بتوں کی) ناپاکی سے دور رہئے۔ ( المدثر 74:آیات 1تا 5) پھر وحی کا سلسلہ
باقاعدگی سے جاری ہوگیا۔ (بخاری۔عن جابر
ؓ )
وحی کے آغاز پر جنوں اور شیاطین پر آسمانی باتیں سننے پر پابندی
آپ کو نبوت ملنے سے پہلے جنات آسمان سے قریب ہو کر فرشتوں کی باتیں بآسانی سن لیا کرتےتھےلیکن  جب رسول اکرم کو نبوت عطا کی گئی تو وحی کو ان کی دخل اندازی سے محفوظ رکھنے کے لئے جنات کےآپکی باتیں سننے پر پابندی لگا دی گئی۔اب جو بھی شیطان باتیں سننے کی کوشش کرتا، اسے انگاروں سےماراجاتا۔ جب جنات کے آسمانی باتیں سننے پر پابندی لگی تو وہ آپس میں کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے ضرورزمین پرواقع ہونے والے کسی عظیم کام کا فیصلہ کیا ہے۔اس لئے وہ اس(عظیم کام) کی تلاش کے لئے زمین میں مختلف ٹولیوں کی صورت میں پھیل گئے۔ ان میں سے ایک جماعت نے آپ کو مکہ کے قریب وادی نخلہ (جگہ کانام) میں صحابہ کرام ؓ کو فجر کی نماز میں قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے پایاتو وہ جماعت فوراً سمجھ گئی کہ یہی وہ عظیم کام ہے جس کی وجہ سے ہمارے آسمان پر جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔لہٰذا یہ جماعت اسی وقت آپ پر ایمان لے آئی اور جاکر اپنی قوم کو بھی تبلیغ کرنے لگی۔ ( بخاری،مسلم)
فرمان الٰہی ہے : اور (جنوں نے کہا)ہم نے آسمان کو ٹٹول کر دیکھا تو اسے سخت پہرے داروں اور شعلوں سےبھرا ہوا پایا اوریہ کہ ہم(باتیں ) سننے کے لئے اس (آسمان ) میں جگہ جگہ بیٹھا کرتے تھے مگر اب جو بھی (سننے کے لئے) کان لگاتا ہے تو وہ اپنے لئے گھات لگائے ہوئے شعلہ کوتیار پاتا ہے اور بلا شبہ ہم نہیں جانتےکہ زمین والوں کے لئے کسی برے معاملہ کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب نے ان کے ساتھ بھلائی کاارادہ کیاہے۔ (الجن72 : آیا ت 8 تا 10)
اللہ ربّ العالمین کے فرشتے آسمانوں پر چوکیداری کرتے ہیں تاکہ شیاطین آسمان والوں کی باتیں نہ سن سکیں۔ اب چوری چھپے جو شیاطین بھی آسمانی باتیں سننے کی کوشش کرتے ہیں تو آسمان کے ستارے شعلہ بن کر ان پرگرتے ہیں چونکہ شیطان آسمانی باتیں سن کر کاہنوں کو بتلادیا کرتے تھے اور وہ (کاہن)اپنی طرف سے جھوٹ ملا کر لوگوں کے سامنے بیان کیا کرتے تھے۔
فرمان الٰہی ہے : شیاطین اس (قرآن) کو لے کر نازل نہیں ہوئے اور نہ یہ ان کے لائق ہے اور نہ انہیں اس کی طاقت ہے بلکہ وہ تو سننے سے بھی محروم کردیئے گئے ہیں ۔ ( الشعرآء 26 : آیات 210 تا 212)
وحی الٰہی کو شیطانی دراندازی(بدگوئی) سے بالکل محفوظ کردیا گیا ہے کیونکہ شیاطین کا مقصد صرف شروفساداورشرک و بدعات کو پھیلانا ہوتا ہے، جب کہ قرآن مجید سرچشمہ ہدایت ہے اور اس کو نازل کرنےکامقصد نیکی کاحکم دینا اور برائی سے روکنا ہے۔ جب جنوں کو بھی آپ پر نازل ہونے والی وحی سننےکا موقع ملا تو وہ بھی ایمان لائے بغیر رہ نہ سکے۔
فرمان الٰہی ہے : (اے محمّد) آپ کہہ دیں کہ مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نےاسے(قرآن کو) غور سے سنا اور کہاکہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو صحیح راہ کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔ ہم اس (قرآن) پر ایمان لاچکے۔ اب ہم ہرگز کسی کو بھی اپنے رب کا شریک نہ بنائیں گے۔ (الجن72:اآیات1تا 2)
آپ پر نزول وحی کے طریقے
فرمان الٰہی ہے :کسی انسان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اللہ سے آمنے سامنے کلام کرسکے، مگر وحی کے ذریعہ سےیا پردہ کے پیچھے سے یا وہ کوئی فرشتہ بھیجتا ہے اور وہ اپنے حکم سے جو چاہتا ہے وحی کرتا ہے۔ یقینا اللہ سب سے بلند، خوب حکمت والا ہے۔ (الشوریٰ 42: آیت51)
آپ پرحسب ذیل طریقوں سے وحی نازل ہوئی :
فرشتہ انسانی شکل اختیار کرکے آپ کو مخاطب کرتا پھر جو کچھ وہ کہتا آپ اُسے یاد کرلیتے۔
کبھی صحابہ کرام ؓ بھی فرشتہ کو دیکھتے تھے۔
کبھی آپ فرشتے کو اُس کی اصل حالت میں دیکھتے۔ اسی حالت میں وہ اﷲتعالیٰ کے حکم سےآپپروحی نازل کرتا۔اصلی صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا۔ چند دن وحی موقوف رہنے کے بعد جب دوبارہ وحی کا نزول ہوا ،معراج کے موقع پر۔(بخاری)
کبھی آپ کے پاس وحی گھنٹی کی آواز(ٹن ٹنانے) کی صورت میں آتی۔ وحی کی یہ صورت سب سے سخت ہوتی۔ جب فرشتہ آپ سے ملتا اور وحی آتی تو سخت سردی کے موسم میں بھی آپ کی پیشانی پرپسینہ آجاتا تھا۔ آپ اونٹنی پر سوار ہوتے تو وہ بوجھ کی وجہ سے زمین پر بیٹھ جاتی۔
براہ راست اﷲسبحانہٗ و تعالیٰ نے پردہ کے پیچھے سے آپ سے گفتگو فرمائی جیسے معراج کی رات میں نمازاورسورہ بقرہ کی آخری(2) آیات کا تحفہ دیااور شرک نہ کرنے والے کے لئے مغفرت کا وعدہ کیا۔(بخاری)
کبھی آپ پرسچے خواب کی صورت میں وحی نازل ہوتی۔ آپ جو کچھ خواب میں دیکھتے وہ صبح آپکے سامنے آجاتا۔
فرشتہ آپ کودکھائی دئیے بغیر آپ کے دل میں بات ڈال دیتا تھا۔
اللہم صل علی محمّد وعلی آل محمّد، کما صلیت علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم انک حمیدمجید،
اللہم بارک علی محمّد وعلی آل محمّد کما بارکت علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم انک حمید مجید
کتب،کتاب کی جمع ہے جس کے معنی مکتوب (نوشتہ) کے ہیں۔یہاں کتب سے مراد وہ کتابیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نےمخلوق کی ہدایت کے لیے رسولوں پر نازل فرمایا تاکہ ان کے ذریعے وہ وہ دنیا و آخرت کی سعادت سے بہرہ وہ ہو سکیں۔

کتابوں پر ایمان چار امور پر مشتمل ہے
اس بات پر ایمان کہ یہ کتابیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل ہوئیں اور برحق ہیں۔
ان آسمانی کتابوں پر ایمان جن کے نام ہمیں معلوم ہیں،مثلا قرآن کریم جو حضرت محمدﷺپرنازل ہوا، تورات کا نزول موسی علیہ السلام پر ہوا۔ انجیل عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئی اور زبور داودعلیہ السلام کودی گئی۔ان سب پر مفصل ایمان لانافرض ہے اور ان کے علاوہ جن صحیفوں اور کتابوں کے نام ہمیں معلوم نہیں،ان سب پر ہمارا ایمان مجمل ہو گا۔
قرآن کریم کی تصدیق کرنا اور ان سابقہ کتب سماوی کی ان خبروں اور آیات کی تصدیق بھی جزوایمان ہے جن میں کوئی تحریف نہیں کی گئی۔
ان کتابوں کے ان احکامات پر برضا و رغبت عمل کرنا بھی ایمان کا حصہ ہے جو منسوخ نہیں ہوئے۔خواہ ہم ان احکام کی حکمت کا ادراک کر سکے ہوں،یا ایسا کرنے سے قاصر رہے ہوں،یاد رہے کہ سابقہ تمام کتب سماوی قرآن کریم کےذریعےسے منسوخ ہو چکی ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ بِٱلْحَقِّ مُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ ۖ
اور (اے رسول) ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ہے جو سابقہ کتابوں کی تصدیق کرنے والی اور ان کے مضامین کی محافظ ونگران ہے۔ (سورۂ المائدہ،آیت 48)
یعنی قرآن مجید دیگر آسمانی کتابوں پر حاکم ہے،لہذا پہلی کتابوں کے احکام میں سے کسی حکم پر عمل کرررنا جائز نہٰن ہےسوائے اس کے کہ وہ یقینی طور پر درست ہو اور قرآن کریم نے اسے منسوخ نہ کیا ہو بلکہ (پہلی حالت پر)برقراررکھاہو۔
کتابوں پر ایمان لانے کے ثمرات
بندوں پر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کا علم حاصل ہوتا ہے کہ اس نے ہر قوم کی ہدایت کےلیےایک کتاب نازل فرمائی۔
شریعت سازی میں اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ کا پتہ چلتا ہے کہ اس نے ہر قوم کے لیے ان کےمناسب احوال شریعت عطا کی۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
لِكُلٍّۢ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةًۭ وَمِنْهَاجًۭا ۚ
تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک دستور (شریعت) اور ایک راہ عمل مقرر کی۔ (سورۂ المائدۃ،آیت 48)
اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر لازم آتا ہے جو انعامات الہی کے اثبات و دوام کی اولین شرط ہے۔
حضرت بلال حبشی ؓمشہور صحابی ہیں جو مسجد نبوی کے ہمیشہ مؤذن رہے۔ شروع میں ایک کافر کے غلام تھے۔ اسلام لے آئے جس کی وجہ سے طرح طرح کی تکلیفیں دیئے جاتے تھے ۔ امیہ بن خلف جو مسلمانوں کا سخت دشمن تھا ان کو سخت گرمی میں دوپہر کے وقت تپتی ہوئی ریت پر سیدھالٹاکر ان کے سینہ پرپتھر کی بڑی چٹان رکھ دیتا تھا تاکہ وہ حرکت نہ کر سکیں اور کہتا تھا کہ یا اس حال میں مرجائیں اور زندگی چاہیں تو اسلام سے ہٹ جائیں مگر وہ اس حالت میں بھی اَحد اَحدکہتے تھے یعنی معبود ایک ہی ہے۔ رات کو زنجیروں میں باندھ کرکوڑےلگائے جاتے اور اگلے دن ان زخموں کو گرم زمین پر ڈال کر اور زیادہ زخمی کیا جاتا تاکہ بے قرار ہو کر اسلام سے پھر جاویں یا تڑپ تڑپ کر مر جائیں ۔ عذاب دینے والے اُکتا جاتے۔ کبھی ابو جہل کا نمبر آتا۔ کبھی امیہ بن خلف کا، کبھی اوروں کا، اور ہر شخص اس کی کوشش کرتا کہ تکلیف دینے میں زور ختم کر دے۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓنے اس حالت میں دیکھا تو اُن کو خرید کر آزاد فرمایا۔

چونکہ عرب کے بت پرست اپنے بتوں کو بھی معبود کہتے تھے اس لئے اُن کے مقابلہ میں اسلام کی تعلیم توحید کی تھی، جس کی وجہ سے حضرت بلال ؓکی زبان پر ایک ہی ایک کاوردتھا۔یہ تعلق اور عشق کی بات ہے ہم جھوٹی محبتوں میں دیکھتے ہیں کہ جس سےمحبت ہوجاتی
ہے اس کا نام لینے میں لطف آتا ہے۔ بے فائدہ اس کو رٹا جاتا ہے تو اللہ کی محبت کاکیاکہناجودین اور دنیا میں دونوں جگہ کام آنے والی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت بلالؓکوہرطرح سے ستایا جاتا تھا۔سخت سے سخت تکلیفیں پہنچائی جاتی تھیں ۔ مکہ کےلڑکوں کے حوالہ کر دیا جاتا کہ وہ اُنکوگلی کو چوں میں چکر دیتے پھریں اور یہ تھےکہ’’ایک ہی ایک ہے‘‘ کی رٹ لگاتے تھے۔ اسی کا یہ صلہ ملا کہ پھرحضورکےدربارمیں مئوذن بنے اورسفر حضر میں ہمیشہ اذان کی خدمت اُن کے سپردہوئی ۔ حضور کے وصال کےبعد مدینہ طیبہ میں رہنا اورحضورکی جگہ کو خالی دیکھنامشکل ہوگیا۔ اس لئے ارادہ کیا کہ اپنی زندگی کے باقی دن ہیں جہاد میں گزاردوں اسلئےجہاد میں شرکت کی نیت سےچل دیئے۔ ایک عرصہ تک مدینہ منورہ لوٹ کرنہیں آئے۔ایک مرتبہ حضورکی خواب میں زیارت کی۔ حضورنے فرمایا بلال یہ کیاظلم ہےہمارے پاس کبھی نہیں آتے تو آنکھ کھلنےپرمدینہ طیبہ حاضرہوئے۔ حضرت حسنؓ حسینؓ نےاذان کی فرمائش کی۔ لاڈلوں کی فرمائش ایسی نہیں تھی کہ انکار کی گنجائش ہوتی۔ اذان کہنا شروع کی اور مدینہ میں حضورکےزمانہ کی اذان کانوں میں پڑ کرکہرام مچ گیا۔عورتیں تک روتی ہوئی گھر سے نکل پڑیں ۔ چند روز قیام کے بعد واپس ہوئےاور۲۰ھ؁کےقریب دمشق میں وصال ہوا۔(اسد الغابہ)

میری بیوی (بانو قدسیہ)اپنے بیٹے کو، جو سب سےبڑا بیٹا ہے، اس کوغالب پڑھا رہی تھی، وہ سٹوڈنٹ تو سائنس کاتھا، B.Scکا،اردو اس کا آپشنل مضمون تھا۔ غالب وہ پڑھا رہی تھی تو وہ اوپر بیٹھا کچھتوجہ نہیں دے رہا تھا۔ میں نیچے بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔ ہماری ایک میانیسی ہے اس پر بیٹھ کر پڑھ رہے تھے تو میری بیوی نے آواز دےکرشکایت کی کہ دیکھو جی یہ شرارتیں کر رہا ہے، اور کھیل رہا ہے کاغذ کے ساتھ ، اور توجہ نہیں دے رہا۔ میں اس کو پڑھارہی ہوں۔ تو اس نے کہا، ابو اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ امی کاقصور ہے۔ اس سے پوچھ رہا ہوں۔ امی محبوب کیاہوتاہے،اور یہ بتا نہیں سکتیں کہ محبوب کیا ہے۔ میں نے کہا، بیٹے میں بتاتا ہوں کہ محبوب وہ ہوتا ہے جس سےمحبت کی جائے۔ کہنے لگا، یہ تو آپ نے ٹرانسلیشن کردی۔ ہم تو سائنس کے سٹوڈنٹ ہیں ہم اس کی Definition جاننا چاہتے ہیں کہمحبوب کیا ہوتا ہے۔ یہ امی نے بھی نہیں بتایا تھا۔ آپ ایک چھوڑ کر دوادیب ہیں۔ دونوں ہی  ناقص العقل ہیں کہ آپ سمجھا نہیں سکے۔ میں نے کہا، یہ باتتو ٹھیک کہہ رہا ہے۔ یہ تو ہم نےاسکاٹرانسلیشن کر دیا، لیکن محبوب  کی Definition تو نہیں دے سکے اسے۔ میں نے کہا بانو قدسیہ اور وہ میرا بیٹانیچے اتر آئے۔ میں نے کہا، چلو جی بابا جی کے پاس چلتے ہیں ڈیرے پر، وہاںسے پوچھتے ہیں یہ محبوب کیاہوتاہے۔ اس نے کہا، چھوڑیں آپ ہر بات میںبابا کو لے آتے ہیں۔ وہ بےچارے ان پڑھ آدمی ہیں۔ بکریاں وکریاں رکھی ہیں،گڈریا قسم کے ، وہ کیا بتائیں گے۔ میں نے کہا نہیں مجھے جانے دیں پلیز۔

بانوقدسیہ بھی ساتھ بیٹھ گئی ۔ گاڑی لے کر ہم نکلے، وہاں پہنچے۔انفنٹری روڈ پر۔ بابا جی ہانڈی وغیرہ پکانے میں مصروف تھے۔ دال پکا رہےتھے۔ ساتھ تنور تھا۔ روٹیاں لگوانے کےلئے لوگ بیٹھے ہوئے تھے، تو یہ میری بیوی اتری جلدی سے جیسے آپ پنجابی میں کہتی ہیں اگل واہنڈی پہلے ہی پہن چکے، اس نے جلدی سے اونچی آواز میں یہ کہا کہ جوباہر مجھے سنائی دی۔ میںتالا لگا رہا تھا گاڑی کو۔ اس نے اونچی آواز میں کیا، باباجی محبوب کیاہوتا ہے۔ تو بابا جی کی
عادت تھی کہ وہ انگلی اُٹھا کر بات کرتے تھے۔ جب
کوئی Definition دینی ہوتی تھی، کوٹ ایبل کوٹ ہوتی تھی تو ہمیشہ انگلیاٹھا کر بات کرتے تھے، اور انہوں نے ایک انگریزی کا لفظ، پتا نہیں کہاں سےسیکھا تھا، نوٹ (Note)
تو ہم
Attentiveہو جاتے تھے کہ اب اس کے بعد کوئیضروری بات آ رہی ہے، تو انہوں نے ڈوئی چھوڑ دی جوپھیر رہے تھے۔ کہنےلگے:

نوٹ:

"محبوب وہ ہوتا ہے جس کا نہ ٹھیک بھی ٹھیک نظر آئے

یہ Definition تھی ۔ بچوں کی کافی چیزیں نا ٹھیک ہوتی ہیں، لیکن ماں اس سےمحبت کرتی ہے۔ اس کی ہرچیزنہ ٹھیک ہوتی ہے۔ وہ محبوب ہوتا ہے جس کے نہ ٹھیک کا پتا ہوتا ہے کہ نہ ٹھیک ہے، لیکن ٹھیک نظر آتا ہے۔

آج جدید تعلیم کی ایک خرابی یہ ہے کہ اسے حاصل کرکے انسان جس قدر ترقی کرتا چلا جاتا ہے ، خودغرض ، مکّار، بزدل
اور اپنوں سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک مقام وہ بھی آتا ہے جب اس کی دنیا صرف اپنے بچوں تک محدود ہوکر رہ جاتی ہے۔ سماجی، خونی اور دوسرے تمام انسانی رشتے اس کے لیے بے معنی ہوکر رہ جاتے ہیں ۔ ان عیوب سے صرف وہی لوگ پاک ہوتے ہیں ، جنھیں دین کا کچھ شعور ہوتا ہے۔ ورنہ ان کے سامنے بس ایک ہی مقصد ہوتا ہے وہ یہ کہ زیادہ سے زیادہ دولت کمالی جائے اور معاشرے میں  کروفرکے ساتھ زندگی بسر کی جائے۔اسی کو عقل مندی شمار کیا جاتا ہے۔ حالاں کہ اگر دولت کمالینا ہی عقلمندی کی دلیل ہے تو رشوت خور،گھوٹالے باز، اسمگلر، چور، ڈاکو اور انسانیت کے دوسرے تمام دشمن بھی اس طرح کی عقلمندی کے مظاہرے کرتے رہتے ہیں ۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق تو ہر وہ شخص ناکام و نامراد ہے، جو آخرت کے امتحان میں ناکام ہوجائے۔ خواہ دنیا کی زندگی میں اس نے کتنا ہی عروج حاصل کیا ہو۔لیکن صرف دنیا کی زندگی کے اعتبار سے بھی اگر غور کیا جائے تو کسی انسان کاضمیر اگر اس قدر مردہ ہوچکا ہو کہ اپنےذاقی فائدے کے علاوہ اسے کچھ نظر ہی نہ آتا ہوتو ایسے شخص کو چالاک، مکّار، اور خود غرض تو کہا جاسکتا ہے ، عقلمند افراد میں اس کاشمارکرنا تو انسانیت کے ساتھ دشمنی ہوگی۔ایسے ترقی یافتہ افراد سے تو دیہات کے وہ سیدھے سادے لوگ بہتر ہیں ، جن میں غربت اورتعلیم کی کمی کی وجہ سے دوسری کئی برائیاں تو ہوسکتی ہیں ، لیکن وہ انسان اور جانور میں فرق کرنا جانتے ہیں ۔ نوجوان نسل کے کارناموں کودیکھ کر تو کئی بار دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ اے رب رحیم و کریم میری اولاد کو ایسی ترقی سے محفوظ رکھ، جہاں پہنچ کر وہ اپنوں کوپہچاننےسے بھی انکار کردے۔
ایک صاحب نے شہر کی ایک بہترین کالونی میں ایک کوٹھی خریدی ۔ کوٹھی کا معائنہ کرتے ہوئے، جب وہ اس کی خوبیوں بگھاررہےتھےتوایک اہم خوبی انھوں نے یہ بھی بتائی کہ ’بڑا ہی پرسکون ماحول ہے ۔ یہاں شفٹ ہوئے ہم لوگوں کو 6ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزرچکاہے، لیکن ابھی تک نہ تو ہم نے ہی کسی سے ملنے کی کوشش کی ہے اور نہ ہم سے ہی کوئی ملنے آیا ہے۔ پرانے پڑوس کی طرح نہیں ہےکہ جب دیکھا منھ اٹھائے چلے آرہے ہیں ۔ دراصل تعلیم اورجہالت کا یہی فرق ہوتا ہے۔ یہاں پر سب ہی لوگ پڑھے لکھے اور مہذب ہیں ۔ اُنھیں نہ اپنی زندگی میں کسی کادخل پسند ہے اور نہ خود کسی کی زندگی میں دخل انداز ہوتے ہیں ۔
غور کیجیے لوگوں کی سوچ میں کس قدر تبدیلی آچکی ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ بہت ہی ملنسار ہونا خوش اخلاقی کی علامت تھی، لیکن جدیددورمیں جب لوگ ایک دوسرے سے ملنا جلنا بند کردیں تو یہ ان کے مہذب ہونے کی علامت تصور کیا جانے لگا۔
ایک اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز ایک صاحب ہیں ۔ خانپور کے کسی دیہات کے رہنے والے ہیں ۔ ایک بارانھوں نے خود بتایا کہ 36 سال کی نوکری ہے، لیکن آج تک گاؤں جانا نہیں ہوسکا ۔ والد، والدہ، بہن بھائی سب لوگ ہیں لیکن نوکری اور گھر کے اتنے کام لگے رہتے ہیں کہ گاؤں جانے کے لیے کبھی وقت ہی نہیں نکال سکا۔ کبھی کبھی وہی لوگ آجاتے ہیں تو ملاقات ہوجاتی ہے۔ غور کیجیے 36 سال کا عرصہ تھوڑانہیں ہوا کرتا۔ ان موصوف کو اس طویل عرصے میں کبھی اتنا وقت نہیں مل سکا کہ خود جاکر اپنے گاؤں والوں ، رشتے داروں اوراپنےوالدین کی خیرخیریت معلوم کرسکیں ۔ جناب جس وقت یہ سب کچھ بتا رہے تھے، ان کے چہرے کے تاثرات کو پڑھنے کی کوشش کی گئی ۔ تو محسوس کر لیا گیا کہ اپنے کیے پر نہ انھیں کوئی افسوس ہے اورنہ احساس ندامت۔ ترقی کے غرور سے اکڑاہوا بالکل بے حس اورسپاٹ چہرہ سامنے تھا۔
انسان کس قدر گھٹیا، نیچ اور پتھر دل ہوسکتا ہے، اس سے متعلق اپنے ساتھ گزرا ہوا ایک واقعہ دوست نے اس طرح بیان کیا:
 شہر کے ایک مشہور ڈاکٹر کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ ڈاکٹر صاحب سے تو ملاقات نہیں ہوسکی۔ برآمدے میں بیٹھا ہوا ایک شخص کوئی کتاب پڑھ رہا تھا۔ عمر تقریباً 70 سال تھی، بکھرے اور بے ترتیب بال، بڑھی ہوئی داڑھی، میلا کچیلا لباس، پھٹی ہوئی دھوتی، معلوم ہوا کہ وہ محترم ڈاکٹر صاحب کے والد ہیں ۔کوٹھی کے باہر ایک پیڑ تھا۔ ہم لوگ وہیں کھڑے ہوکر بات کرنے لگے۔
ضعیف آدمی نے اپنی داستان غم کچھ اس طرح بیان کی:
ہم لوگ مظفرنگر کے ایک دیہات کے رہنے والے ہیں ۔ ڈاکٹر میرا اکلوتا بیٹا ہے۔ گاؤں میں تھوڑی بہت زمین تھی۔ زندگی مشکل ضرورتھی لیکن پھر بھی عزت و سکون کے ساتھ گزر رہی تھی۔ زمین بیچ کر اسے ڈاکٹر بنایا، زمین بیچ کر ہی اس کا کلینک اور نرسنگ ہوم بنوایاگیا۔ گھر،  جانور اور جو بھی تھوڑی بہت زمین باقی بچی تھی اسے بیچ کر یہ کوٹھی بنوائی گئی۔ سب کچھ بک چکا تھا۔ لیکن اس کےباوجود میں خوش تھا۔ میں بھی اپنے کو بڑا آدمی شمار کر رہا تھا۔ سچ بات یہ ہے کہ بڑا آدمی ہونے کا احساس ہی کچھ عجیب ہوتا ہے۔ بہت دن کھیتی میں ہڈیوں کو پانی کیا۔ سوچتا تھا اب کچھ عیش کی گزاری جائے۔ لیکن شہر آکر جلد ہی معلوم ہوگیا کہ عیش کےدن تو وہی تھے، جو میں دیہات میں گزار کر آیا ہوں ۔ جب تک بیوی حیات تھی پھر بھی غنیمت تھا۔ لیکن اس کے بعد سے تو حال یہ ہے کہ نوکرانی بھی کھانا اس طرح پٹک کرجاتی ہے، جیسے وہی میری اَن داتا ہے۔ بیٹااور بہو، مجھ سے کبھی بات نہیں کرتے۔
پوتے کے ساتھ کھیل کر دل بہلانا چاہتا ہوں ، لیکن کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے اسے بھی بلالیاجاتا ہے۔ بوڑھا رورہا تھا، لیکن آخر میں اس نےجوکچھ کہا وہ بھی ترقی یافتہ معاشرے پر ایک بہترین تبصرہ ہے۔بیٹا یہ جو شاندار بنگلے اور کوٹھیاں تم دیکھ رہے ہو، ان میں انسان نہیں زندہ لاشیں بساکرتی ہیں ۔ یہ وہ تعلیم یافتہ ، مہذب اور بڑے لوگ ہیں جہاں والدین سے زیادہ کتوں کی قدر کی جاتی ہے۔
اس طرح کے بے شمار واقعات ہم لوگ دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں ، جو ہمارے  معاشرے کے ٹوٹنے اور بکھرنے کی دلیل ہیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ معاشرے میں جوبگاڑ آرہا ہے اس کا اصل ذمے دار کون ہے؟
اس کا ایک اہم سبب ہمارا نظام تعلیم ہے۔ غور کیجیے ہمارے تعلیمی اداروں میں جو تعلیم دی جارہی ہے، اس کامقصد کیا ہے؟ ڈاکٹر،پروفیسر،انجینئر بناتے وقت ہم انھیں یہی تو تعلیم دیتے ہیں کہ دولت کمانے کا آسان طریقہ کیا ہے؟ گھر سے لے کر کالج تک ہرکوئی بڑا آدمی بننے کی تعلیم دے رہا ہوتا ہے۔ انسان بنانے کی فکر کسی کو نہیں ہوتی۔ بڑاآدمی بننے کایہی جنون انسان کو جائز وناجائز دولت کمانےپر مجبور کرتا ہے۔ انسان جب زندگی کے 25،30 سال یہی سیکھنے اور سمجھنے میں گزاردیتا ہے تو بڑاآدمی بننے کایہ جنون اس پراس قدرسوار ہوچکا ہوتا ہے کہ یہی اس کا مقصد حیات بن جاتا ہے۔ ہر وہ رشتہ اور تعلق جو اس کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے، اس سے وہ دامن بچاناچاہتا ہے ۔ دوست احباب اور عزیز و اقارب کے ساتھ وقت گزارنا اسے وقت کی بربادی دکھائی دیتا ہے۔ اپنے مقصدحیات کےسامنےیہ تمام رشتے اسے بونے نظر آنے لگتے ہیں ۔یہاں تک کہ وہ اپنوں سے اس قدر کٹ چکا ہوتا ہے کہ والدین بھی اسے ایک بوجھ نظر آنے لگتے ہیں اور ان کے لیے بھی وقت نکالنا اس کے لیے مشکل ہوجاتا ہے۔ معاشرہ بھی عموماً اُنھی لوگوں کو عزت دیتا ہے ،جنکےپاس دولت ہوتی ہے ۔ اخلاق و کردار اور حرام وحلال ہمارے لیے بے معنی ہوچکے ہیں ۔ اگر ہمارا معیار یہی ہے تو ہمیں خوش ہوناچاہیےکہ ہماری نئی نسل ترقی کی تمام بلندیوں کو چھونے میں لگی ہوئی ہے اور اگر انسانی معاشرے کے لیے اخلاق وکردار کی بھی کوئی اہمیت ہے تو ہمیں اپنےطریقۂ تعلیم اور اس کا مقصد، دونوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
نئی نسل کے بگاڑ کا دوسرا اہم سبب یہ ہے کہ ہم لوگ، اپنے چھوٹوں کے سامنے اپنے کردار کا کوئی اچھا نمونہ پیش نہیں کر رہے ہیں ۔ جب ہم ناجائز اور حرام طریقوں سے دولت حاصل کرکے گھر میں لا تے ہیں تو غیر شعوری طور پر ہم لوگ اپنی اولاد کی یہ تربیت کر رہے ہوتے ہیں کہ ہر وہ کام کرو جس میں تمھیں اپنا فائدہ نظر آتا ہے۔ ہر اس کام سے دوررہو جس میں کسی بھی قسم کے نقصان کا اندیشہ ہو۔ اب اگر ہر کام کرتے وقت صرف ذاتی نفع ونقصان کو ہی اہمیت دی جانے لگے تو اس اعتبار سے توبوڑھے والدین کی ذمے داری قبول کرنافائدےکاسوداتونہیں ہوسکتا۔ ہمارا خود کا کردار اگر یہی ہے کہ معاشرے کے حقوق کی ہمیں کوئی پروا نہیں ہے تو آنے والی نسل سے یہ امید کیسے کی  جاسکتی ہے کہ وہ دوسروں کے حقوق کی پروا کرے گی۔ خواہ وہ اس کے والدین ہی کیوں نہ ہوں ۔
کسی بھی نسل کا کوئی بگاڑ اس میں اچانک پیدا نہیں ہوا کرتا۔ برائی ہو یا بھلائی، دونوں ایک نسل سے دوسری نسل کو وراثت میں ملا کرتی ہیں ۔یہ تو ہوسکتا ہے کہ آنے والی نسل ہم سے دوچار قدم آگے نکل جائے، لیکن یہ بات طے ہے کہ جس خرابی کے برے نتائج آج ہم بھگت رہے ہوتے ہیں ، اس کی ابتدا پہلے ہی کبھی ہوچکی ہوتی ہے۔ لیکن اس وقت جب برائی کی ابتدا تھی تو اس کے برے نتائج کا یا تو ہمیں پوری طرح احساس و شعور ہی نہیں تھا یا پھر ہم نے اس کی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کی تھی اور اگراصلاح کی کوئی کوشش ہوئی بھی تھی تو وہ اس
قدر کمزور تھی کہ اس برائی پر قابو پانے میں ناکام ہوگئی۔ اس بگاڑ سے جڑا ایک اہم ترین سوال یہ بھی ہے کہ والدین کو یہ حق کس نےدیاہےکہ ان کے ساتھ نیک سلوک کیاجائے۔ یہ حق اسی مالک کائنات نے دیا ہے جو ہم سب کا رب ہے۔ قرآن کریم اس بات پر گواہ ہے کہ ہر بچہ نیک فطرت پر پیدا کیاجاتا ہے یہ ہم انسان ہی ہوتے ہیں جو اسے خدا کا کافر اور نافرمان بھی بناتے ہیں اور مومن ، مسلم اور مطیع فرمان بھی۔ کسی بچے کی پرورش اگر جانوروں کی طرح کی جائے گی تو جانوروں کی صفات ہی اس میں پیدا ہوں گی جو شہوت اور پیٹ سےآگے سوچ ہی نہیں پاتے۔ اولاد کی تربیت اگر اس طرح کی جائے کہ وہ خدا کا شکر کرنے والی بن جائے تو ایسی اولاد سے ضرور توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ تمام انسانوں کے حقوق کی قدر کرنے والی ہوگی۔ اگر ہم خود ہی اپنے مالک و آقا کے شکر گزار نہیں ہیں تو پھر اس بات کی ضمانت بھی کوئی  ہیں دے سکتا کہ ہماری اپنی اولاد بھی ہمارے حقوق کااحترام کرنے والی ہوگی۔
(ڈاکٹر نوشاد علی*)
نماز قائم کرنا

یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے جو مقررہ اوقات میں ثابت قدمی اور خاص کیفیات کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔
نماز کے ثمرات:   شرح صدر،آنکھوں کی ٹھنڈک کا حصول ،بےحیائی اور دیگر بری عادات سے بچاؤ،اس کے ثمرات ہیں۔
زکٰوۃ ادا کرنا
یہ بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے جو اپنے مال و دولت میں سے واجب مقدار میں ادا کرنے سے پوری ہوتی ہے۔
زکٰوۃ کے ثمرات:بری عادات مثلا بخل وغیرہ سے دلوں کی پاکیزگی ،دین اسلام اور مسلمانوں کی ضرورتوں کا پورا کرنا ،اس کے ثمرات میں سے ہے۔
رمضان کے روزے رکھنا
یہ بھی عبادت الہی ہے جو ماہ رمضان کے دنوں میں کھانے پینے کی چیزوں اور نفسانی خواہشات سے اپنے آپ کوروکےرکھنےسے پوری ہوتی ہے۔
روزے کے ثمرات:                      اللہ عزوجل کی رضا کا مطیع ہونا،اس کے جملہ فوائد میں سے ہے۔
بہت سے مفسرين كے قول كے مطابق ادريس عليہ السلام،نوح عليہ السلام كے دادا تھے ان كا نام توريت ميں”اخنوخ”اور عربى ميں ادريس عليہ السلام  ہے جسے بعض”درس”كے مادہ سے سمجھتے ہيں،كيونكہ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے قلم كے ساتھ خط لكھا،مقام نبوت كے علاوہ وہ علم نجوم علم ہئيت ميں بھى ماہر تھے وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے انسان كو لباس سينے كاطريقہ سكھايا_
اس عظيم پيغمبر كے بارے ميں قرآن ميں صرف دو مرتبہ،وہ بھى مختصر سے اشاروں كے ساتھ بيان آيا ہے،ايك تو يہى سورہ مريم آيت 56 ميں اور دوسرا سورہ انبياء كى آيات 85سے86ميں، مختلف روايات ميں ان كى زندگى كے بارے ميں تفصيلى طور پر بيان كيا گيا ہے كہ جسے ہم پورے كا پورا معتبر نہيں سمجھ سكتے_اسى وجہ سے ہم مذكورہ اشارے پر قناعت كرتے ہوئے اس بحث كو ختم كرتے ہيں_
%d bloggers like this: