حجۃ الوداع کی تفصیل حضرت جابر کی زبانی:03

حجۃ الوداع کے موقع پر آنحضرت ﷺکے ساتھ کتنے آدمی تھے؟
 اس بارے میں مختلف اقوال ہیں چنانچہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس حج میں آنحضرتﷺکےساتھ90ہزارآدمنیٰ تھے، بعض حضرات نے 1 لاکھ 30ہزار اور بعضوں نے اس سے بھی زائدتعداد بیان کی ہے۔
حضرت اسماء بنت عمیس پہلے حضرت جعفر بن ابی طالب کے نکاح میں تھیں ان کے انتقال کے بعد حضرت ابوبکرصدیق کے نکاح میں آئیں ۔ حضرت ابوبکر کے انتقال کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ان سے نکاح کیا۔ چنانچہ جب آنحضرت ﷺحجۃ الوداع کے لئے روانہ ہوئے ہیں تو اس وقت یہ حضرت ابوبکر صدیق کےنکاح
میں تھیں اور ان سے محمد بن ابوبکر پیدا ہوئے۔
آنحضرت ﷺکی طرف سے حضرت اسماء کو غسل کرنے کی ہدایت اس بات کی دلیل ہے کہ نفاس والی عورت کو احرام کے لئے غسل کرنا مسنون ہے اور
یہ غسل نظافت یعنی ستھرائی کے لئے ہوتا ہے طہارت یعنی پاکی کے لئے نہیں، اسی لئے
نفاس والی عورت کو تیمم کرنے کا حکم نہیں دیا گیا اور یہی حکم حائضہ کا بھی ہے نیز
ان کو آپ  ﷺکے اس حکم کہ ” اور پھر
احرام باندھ لو یعنی احرام کی نیت کرو اور لبیک کہو” سے یہ بات ثابت ہوتی
ہوتی ہے کہ نفاس والی عورت کا احرام صحیح ہوتا ہے ۔ چنانچہ اس مسئلہ پر تمام علماء
کا اتفاق ہے۔
(رسول
کریم ﷺنے مسجد ذوالحلیفہ میں نماز پڑھی)کا مطلب یہ ہے کہ آپ  ﷺنے احرام کی سنت دو رکعت نماز پڑھی، اس بارےمیں
مسئلہ یہ ہے کہ اگر میقات میں مسجد ہو تو مسجد ہی میں یہ دو رکتعتیں پڑھنا زیادہ
بہتر اور اولیٰ ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص مسجد کے علاوہ کسی دوسری جگہ پڑھ لے تو بھی
کوئی مضائقہ نہٰں، نیز اوقات مکروہہ میں یہ نماز نہ پڑھ جائے ، علماء یہ بھی لکھتے
ہیں کہ تحیۃ المسجد کی طرح فرض نماز بھی اس نماز کے قائم مقام ہو جاتی ہے۔
لسنا نعرف العمرۃ (اور ہم عمرہ سے واقف نہیں تھے۔
یہ جملہ درآس پہلے جملہ لسنا ننوی الا الحج ہم حج ہی کی نیت کیا کرتے تھے) کی
تاکید کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ان جملوں کی وضاحت یہ ہے کہ ایام جاہلیت میں یہ
معمول تھا کہ لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کو بڑا گناہ سمجھتے تھے ، چنانچہ اس
وقت آنحضرت ﷺنے اس کا رد کیا اور حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کا حکم فرمایا اس کی
تفصیل آگے آئے گی۔
جب ہم آنحضرت ﷺکے ساتھ بیت اللہ پہنچے یعنی پہلے
ہم ذی طویٰ میں اترے اور رات کو وہیں قیام کیا اور پھر ١٤ذی الحجہ کو نہا دھو کر
ثنیہ علیا کی طرف سے یعنی جانب بلند سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور پھر اباب
السلام کی جانب سے مسجد حرام میں آئے اور وہاں آکر تحیۃ المسجد کی نماز نہیں پڑھی
کیونکہ بیت اللہ کا طواف ہی وہاں کا تحیۃ ہے۔
(3
بار رمل کیا اور 4مرتبہ آپ نے تیزرفتار سے طواف کیا )اس بارے  میں یہ تفصیل جان لینی چاہئے کہ خانہ کعبہ کے
گرد مطاف پر 7 چکر کرنے کو طواف کہتے ہیں۔ کل طواف کے ساتھ چکر ہوتے ہیں اور ہر
چکر حجر اسود سے شروع ہو کر حجر اسود ہی پر ختم ہوتا ہے ہر چکر کو اصطلاح شریعت
میں ” شوط” کہا جاتا ہے۔
طواف کے 7 چکروں میں سے پہلے 3چکر میں تو رمل
کرنا چاہئے اور پہلوانوں کی طرف کندھے ہلا ہلا کر ، اکڑ کر اور کچھ تیزی کے ساتھ
قریب قریب قدم رکھ کر چلنا ” رمل” کہلاتاہے ، طواف کے باقی 4 چکروں میں
آہستہ آہستہ یعنی آپ نی معمولی چال کے ساتھ چلنا چاہئے۔
"رمل”
یعنی اکڑ کر تیز تیز چلنے کی وجہ یہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺعمرۃ القضاء کے لئے مکہ
تشریف لائے تو مشرکین نے آپ  کو دیکھ کر
کہا کہ تپ یثرب یعنی مدینہ کے بخار نے ان کو بہت ضعیف وسست کردیا ہے لہٰذا آنحضرت ﷺنے
مسلمانوں کو حکم دیا کہ اس طرح چل کر اپنی قوت وچستی کا اظہار کرو۔ وہ وقت تو گزر
گیا مگر اس علّت اور وجہ کے دور ہوجانے کے بعد بھی یہ حکم باقی رہا چنانچہ یہ
طریقہ اب تک جاری ہے۔
اس حدیث میں ” اضطباع ” کا ذکر نہیں
کیا گیا ہے لیکن طواف کے وقت اضطباع بھی مسنون ہے چنانچہ دوسری احادیث میں اس کا
ذکر موجود ہے۔
چادر کو اس طرح اوڑھنا کہ ان کا ایک سرا داہنے
کاندھے سے اتار کر اور داہنی بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کاندھے پر ڈال لیا جائے
اضبطاع کہلاتا ہے چادر کو اس طرح اورھنے کا حکم بھی اظہار قوت کے لئے دیا گیا تھا
ور یہ حکم بھی بعد میں باق رہا۔
"مقام
ابراہیم ” کے معنی ہیں حضرت ابراہیم کے پاؤں کے نشان بن گئے تھے جو آج تک
قائم ہیں۔
بعض حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ مقام ابراہیم ایک
پتھر ہے کہ جب حضرت ابراہیم آپ نے فرزند حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو دیکھنے مکہ
آتے تھے تو اونٹ سے اسی پتھر پر اترتے تھے اور جب جانے لگتے تو اسی پتھر پر کھڑے
ہو کر سوار ہوتے اس پتھر پر ان کے دونں مبارک قدموں کا نشان بن گیا ہے! بہر کیف یہ
پتھر اب خانہ کعبہ کے آگے ایک حجرے میں رکھا ہوا ہے، آنحضرت ﷺنے طواف سے فارغ ہو
کر اسی مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی یہ دو رکعت نماز اگرچہ اسی جگہ
کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے لیکن جائز حرم میں ہر جگہ پڑھنا ہے چاہے مسجد حرام میں
پڑھی جائے اور چاہے مسجد حرام سے باہر نیز ہر طواف کے بعد یہ نماز حضرت امام اعظم
ابو حنیفہ کے نزدیک واجب ہے جب کہ حضرت امام شافعی کے ہاں سنت ہے۔
ان دورکعتوں میں قل ہواللہ احد اور قل یا ایہا
الکافرون کی قرات کی اس عبادرت سے بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺنے قل ہواللہ
احد پہلی رکعت میں پڑھی اور قل یا ایہا الکافرون دوسری رکعت میں جب کہ اس طرح سورہ
مقدم پر سورہ متاخر کی تقدیم یعنی بعد کی سورت کو پہلے اور پہلے کی سورت کو بعد
میں پڑھنے کی صورت لازم آتی ہے، اس لئے علماء نے اس کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ
حدیث میں اس بارےمیں جو عبارت نقل کی گئی ہے اس میں حرف واؤ صرف اظہار جمع کے لئے
یعنی آپ  کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ آپ  ﷺنے ان دونوں رکعتوں میں یہ دونوں سورتیں پڑھیں،
اب یہ کہ ان میں سے کون سی پہلی رکعت میں پڑھی اور کون سی سورت دوسری رکعت میں ؟ اس
کی وضاحت نہ اس سے مقصود ہے اور نہ یہاں اس کی وضاحت موجود ہی ہے اس توجیہ کے پیش
نظر کوئی اشکال پیدا نہیں ہوسکتا۔ پھرطیبی نے اس عبارت میں ان دونوں سورتوں کے ذکر
کی مذکورہ ترتیب کے بارےمیں یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ قل ہواللہ احد، اللہ تعالیٰ کی
وحدانیت کے اثبات واظہار کے لئے ہے اور قل یا ایہا الکافرون شرک سے بیزاری کے
واسطے ہے، اس لئے توحید کی عظمت شان اور اس کی سب سے زیادہ اہمیت کی بناء پر اس
سورت کو پہلے ذکر کیا جس سے توحید کا اثبات ہوتا ہے۔
ان تمام باتوں کے علاوہ بعض روایتوں میں اس عبارت
کو اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ اس میں پہلے قل یا ایہا الکافرون ذکر ہے اور بعد میں
قل ہواللہ احد کا اس صورت میں بات بالکل ہی صاف ہوجاتی ہے۔
آپ  ﷺنے
صفا اور مروہ کے درمیان سعی 7 بار کی، بایں طور کہ صفا سے مروہ تک 1بار، مروہ سے
صفا تک دوسری بار، اسی طرح آپ  ﷺنے 7پھیرے
کئے اس طرح سعی کی ابتداء تو صفا سے ہوئی اور ختم مروہ پر ہوئی جیسا کہ حدیث کے
الفاظ یہاں تک کہ جب آپ  ﷺنے مروہ سعی کا
اختتام کیا سے بھی یہی ثابت ہوتاہے۔

سعی یعنی صفا مروہ کے درمیان پھیرے کرنا واجب ہے اس کی اصل یہ ہے کہ حضرت
اسمٰعیل علیہ السلام جن دنوں چھوٹے تھے تو ان کی والدہ حضرت ہاجرہ پانی کی تلاش کو
گئیں جب نشیب میں پہنچیں تو حضرت اسمٰعیل ان کی نظر سے پوشیدہ ہوگئے وہ صفا اور
مروہ پر چڑھ کر ان کو دیکھنے کے لئے ان دونوں کے درمیان پھیرے کرتی تھیں، چنانچہ
یہ سعی انہیں کی سنت ہے جسے آنحضرت ﷺنے پورا کیا اب صفاومروہ کے درمیان چونکہ مٹی
بھرگئی ہے اس لئے وہ نشیب باقی نہیں رہا البتہ وہاں نشان بنادیئے گئے ہیں اور حضرت
ہاجرہ کی سنت کو پورا کرنے کے لئے وہاں دوڑتے پھرتے ہیں۔

 جاری ہے

Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: