حجۃ الوداع کی تفصیل حضرت جابر کی زبانی:01

 
مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 1095
 حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺنے ہجرت کے بعد مدینہ میں نو برس اس طرح گزارے کہ حج نہیں کیا البتہ آپ  ﷺنے عمرے کئے ۔ پھر جب حج کی فرضیت نازل ہوئی تو دسویں سال آپ   ﷺنے لوگوں میں اعلان کرایا کہ رسول اللہ حج کا ارادہ رکھتے ہیں جو لوگ حج کے لئے جانا چاہتے ہیں وہ رفاقت کے لئے تیار ہوجائیں اس اعلان کو سن کرمخلوق خدا کی ایک بہت بڑی تعداد مدینہ میں جمع ہوگئی چنانچہ آپ  ﷺکے ساتھ ماہ ذی قعدہ کے ختم ہونے سے پانچ  دن پہلے ظہر وعصر کے درمیان مدینہ سے روانہ ہوگئے جب لوگ ذوالحلیفہ پہنچے تو وہاں اسماء بنت عمیس ؓ  کے بطن سے محمد بن
ابوبکر پیدا ہوئے۔ اسماء نے کسی کو آنحضرت ﷺکی خدمت میں بھیجا اور دریافت کرایا کہ اب میں کیا کروں؟ آیا احرام باندھوں یا نہ باندھوں اور اگر باندھوں تو کس طرح باندھوں؟ آپ  ﷺنے کہلا بھیجا کہ غسل کر کے کپڑے کا لنگوٹ باندھو اور پھر احرام باندھ لو بہر کیف رسول کریم ﷺنے مسجد ذوالحلیفہ میں نماز پڑھی اور قصواء پر کہ جو آنحضرت ﷺکی اونٹنی کا نام تھا سوا رہوئے یہاں تک کہ جب آپ   ﷺکی اونٹنی آپ  ﷺکو لے کر بیداء کے میدان میں کھڑی ہوئی تو آپ  ﷺنے بآواز بلند تلبیہ کے یہ کلمات کہے:
لبیک اللہم لبیکلاشریک لک لبیک
 ان الحمد والنعمۃ لک والملک
 لا شریک لک
حاضر ہوں تیری خدمت میں اے اللہ! تیری خدمت میں حاضر ہوں، حاضرہوں
تیری خدمت میں ،تیرا کوئی شریک نہیں حاضر ہوں تیری خدمت میں ،
بے شک تعریف اور نعمت تیرے لئے ہے اور بادشاہت بھی تیرے ہی لئے ہے ،
تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔
حضرت جابر کہتے ہیں کہ ہم اس سے پہلے حج ہی کی نیت کیا کرتے تھے اور ہم حج کے مہینوں میں عمرہ سے واقف بھی نہیں تھے بہر کیف جب ہم آنحضرت ﷺکے ساتھ بیت اللہ پہنچے تو حجر اسود پر ہاتھ رکھا اور اس کو بوسہ دیا اور تین بار رمل یعنی تیز رفتار سے اور اکڑ کر خانہ کعبہ کا طواف کیا اور چارمرتبہ آپ نی رفتار سے یعنی آہستہ آہستہ چل کر طواف کیااورطواف کے بعد مقام ابراہیم کی طرف بڑھے اور یہ آیت پڑھی۔ واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی مقام ابراہیم کےاطراف کو نماز پڑھنے کی جگہ بناؤ یعنی وہاں نماز پڑھو پھر آنحضرت ﷺنے مقام ابراہیم اور بیت اللہ کو آپ نےدرمیان کر کے دو رکعت نماز پڑھی اور ایک روایت کے مطابق ان دورکعتوں میں قل ہواللہ اور قل یا ایہا الکافرون کی قرات کی پھر حجر اسود کی طرف لوٹے اور اس کو بوسہ دیا اس سے فارغ ہو کر مسجد کے دروازہ یعنی باب الصفاسےنکلےاور صفا پہاڑ کی طرف چلے چنانچہ جب صفا کے قریب پہنچے تو یہ اایت پڑھی۔ ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ بلاشبہ صفا اور مروہ اللہ کے دین کی نشانیوں میں سے ہیں اور فرمایامیں بھی اسی چیز کے ساتھ ابتداء کرتاہوں۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں پہلے صفا کا ذکر کیا ہے پھر مروہ کا اسی طرح میں بھی پہلے صفا پر چرھتا ہوں پھر مروہ پرچڑھوںگا، چنانچہ آپ  ﷺنے سعی کی ابتداء صفا سے کی اور اس پر چڑھے۔ یہاں تک کہ آپ  ﷺنے جب صفا
سے بیت اللہ کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی بڑائی بیان کی
یعنی لا الہ الا اللہاوراللہ
اکبر
کہا اور یہ کلمات فرمائے۔
لا
الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ
 لہ الملک ولہ الحمد
 وہو علی کل شیء قدیر
لا
الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ
انجز
وعدہ ونصر عبدہ وہزم الاحزاب وحدہ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں
اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے لئے تعریف ہے ،
اور وہی ہر چیز پر قادر ہے
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں
آپ نےاسلام کا بول بالا کرنے کا وعدہ پورا کیا اپنے بندوں کی مدد کی اور
کفار کے لشکر کو تنہا شکست دی یعنی غزوۂ خندق۔
پھر
اس کے درمیان دعا کی اور تین مرتبہ اسی طرح کہا (یعنی پہلے یہ کلمات کہے اور پھر
دعا کی اور اسی طرح تین مرتبہ کہا) اس کے بعد صفا سے اترے اور مروہ پہاڑ کی طرف
چلے یہاں تک کہ جب آپ  ﷺکے دونون قدم چڑھنے
لگے (یعنی نشیب سے مروہ کی بلندی پر چڑھنے لگے) تو (دوڑنا موقوف کر کے) آہستہ
آہستہ چلنے لگے اور پھر جب مروہ پر پہنچ گئے تو وہی کیا جو صفا پر کیا تھا یہاں تک
کہ جب آپ  ﷺنے مروہ پر سعی کا اختتام کیا
تو لوگوں کو آواز دی ۔آپ  ﷺمروہ کے اوپر
تھے۔ اور لوگ اس کے نیچے اور فرمایا اگر آپ کے بارےمیں مجھے پہلے سے وہ بات معلوم
ہوتی جو بعد کو معلوم ہوئی ہے تو ہدی (قربانی کاجانور)اپنے ساتھ نہ لاتا اور اپنے
حج کو عمرہ کردیتا لہٰذا تم میں سے جو شخص ہدی آپ نے ساتھ نہ لایا ہو وہ حلال
ہوجائے یعنی حج کا احرام کھول دے اور حج کو عمرہ بنالے یہ سن کر حضرت سراقہ بن
مالک بن جعشم کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ! ہمارے واسطے یہ حکم اسی سال
کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے؟ آنحضرت ﷺنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں
میں ڈال کر فرمایا عمرہ حج میں داخل ہوگیا ہے آپ  ﷺنے یہ بات دو مرتبہ کہی اور پھر فرمایا نہیں یہ
حکم خاص طور پر اسی سال کے لئے نہیں ہے بلکہ ہمیشہ کے لئے ہے کہ حج کے مہینوں میں
عمرہ جائزہے اس کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ جو یمن کے حاکم مقرر ہوگئے تھے…
 جاری ہے
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: