سیرت النبی ﷺ:ولادت تا نبوتؒ:01

رسول اکرم کی ولادت باسعادت

رسول اکرم مکہ مکرمہ کے مقام شعبِ بنی ہاشم میں عام الفیل (عربی میں فیل ہاتھی کو کہتے ہیں یعنی وہ سال جس میں ابرہہ (کافر) نے ہاتھیوں پر مشتمل ایک بہت بڑا لشکر لے کر مکہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی) 9 ربیع الاول بمطابق 22اپریل 571؁ عیسوی، موسم بہار میں پیر کے دن صبح کے وقت پیدا ہوئے۔آپ اکثر پیر کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ ایک صحابی ؓ نے آپ سے پیر کے دن روزہ رکھنے سے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا:
پیر کے دن میری ولادت ہوئی تھی اور اسی دن مجھ پر نزولِ وحی کی ابتدا ہوئی تھی۔(مسلم۔ عن ابن عباس ؓ )
آپ کی والدہ محترمہ کا نام آمنہ بنت وہب تھا۔ آپ کے والدمحترم جناب عبداﷲ بن عبدالمطلب آپ کی  پیدائش سے پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔ آپ کی پیدائش کے وقت دایہ کے فرائض سیّدنا عبدالرحمن بن عوف ؓ کی والدہ شفا بنت عمرو نے انجام دئیے۔ جب آپ پیدا ہوئے توآپ کی والدہ نے خواب میں دیکھا کہ ان کے جسم  سے ایک ایسا نور نکلا ہے جس سے ملک شام کے محلات روشن ہو گئے ہیں ۔ (مسند احمد)
آپ کی ولادت کے بعد آپ کی والدہ نے جناب عبدالمطلب کو ان کے پوتے کی خوشخبری بھجوائی تو وہ بہت زیادہ خوش ہوئے اور آپ کو اٹھا کر خانہ کعبہ میں لے گئے، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور آپ کے بارے اللہ تعالیٰ سےخوب دعائیں کیں اور آپ کا نام محمّد () رکھا، اس امید پر کہ آپ کی تعریف کی جائے گی۔ آپکی ولادت سے لے کر آج تک تمام آسمان و زمین والے آپ کی تعریف کرتے ہیں اور قیامت تک یہ سلسلہ  جاری رہے گا۔ (ان شآء اللّٰہ العزیز)
جناب عبدالمطلب نے آپ کی پیدائش کے ساتویں دن عرب کے دستور کے مطابق آپ کاختنہ اور عقیقہ کیااورعقیقہ کی دعوت میں قبیلہ والوں کو مدعو کیا۔ دعوت میں شریک ہونے والے لوگوں نے جب عبدالمطلب سےپوتےکےنام کے بارے پوچھا تو جناب عبدالمطلب نے جواب دیا:
میں نے ان کا نام محمّد ( ) رکھا ہے اور مجھے ہر طرف سے اس نام کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ (بیہقی)
رسول کریم کی رضاعت (دودھ پلانے) کے حالات
آپ کو آپ کی والدہ کے بعد سب سے پہلے آپ کے چچا ابو لہب کی کنیز سیّدنا ثُوَیْبَہ ؓ نے دودھ پلایا، ان کے بعد سیّدہ حلیمہ ؓ نے دودھ پلایا۔عرب کے شہری باشندوں کا دستور تھا کہ وہ اپنے بچوں کو اچھی آب و ہوا کی خاطردودھ پلانے والی دیہاتی عورتوں کے سپردکردیا کرتے تھے تاکہ ان کے جسم طاقتور اور اعصاب مضبوط ہوں اور وہ خالص عربی زبان سیکھ سکیں ۔ اسی دستور کے مطابق آپ کو بھی سیّدہ حلیمہ بنت ابی ذُوَیْبؓ (جن کا تعلق قبیلہ بنو سعد سے تھا) کے سپرد کیا گیا۔ ان کے شوہر کا نام حارث بن عبدا لعُزیٰ اور کنیت ابو کبشہ تھی۔ اس طرح حارث کےبچے اور بچیاں آپ کے رضاعی بہن بھائی ہوئے۔ جن کے نام یہ ہیں عبداللہ، ا نیسہ اور حذافہ(ان کا لقب شیماتھا) یہ آپ کو گود میں کھلایا کرتی تھیں ۔ رضاعت کے دوران حلیمہ ؓ نے آپ کی برکت کےایسےایسےمناظر دیکھے کہ وہ حیرت زدہ رہ گئیں ۔ آپ ؓ فرماتی ہیں کہ :
قحط سالی کے دنوں میں ہمارے پاس ایک کمزور گدھی تھی جس سے تیز چلا نہیں جاتاتھا اورایک اونٹی تھی جو بہت ہی کم دودھ دیتی تھی۔ میرے ہاں بھی غربت کی و جہ سے دودھ بہت کم آتا تھا جس کی و جہ سے میرا بچہ بے قراری س بلکتااورروتارہتاتھا۔ جب میں آہستہ آہستہ چلتی ہوئی مکہ پہنچی تو میرے ساتھ روانہ ہونے والی عورتیں مجھ سے پہلے مکہ پہنچ کر دودھ پلانےکےلئےنومولود بچے حاصل کر چکی تھیں ۔ مجھے پتا چلا کہ اب ایک ہی نومولود بچہ باقی ہے اور وہ بھی یتیم ہے۔ میں نےاسے غنیمت سمجھ کر لینے کا ارادہ کر لیا۔
جب میں نے جا کر اس بچہ کو دیکھا تو وہ اتنا خوبصورت لگاکہ اس جیسا بچہ میں نے پہلے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔ میں نےاسےگودمیں لیا اور جیسے ہی میں نے اسے اپنے سینہ سے لگایا تو مجھے اتنا سکون ملا جس کا بیان کرنا مشکل ہے۔جب میں آپ(
) کو لے کر واپس لوٹی تو وہ میری کمزور سی گدھی اتنی تیز چلنے لگی کہ پورے قافلہ سے آگے نکل گئی اور کوئی بھی سواری اس کا مقابلہ نہ کر سکی۔ میرے شوہر نے جب اونٹنی کے تھنوں کو ہاتھ لگایا تو وہ بھی دودھ سے بھرے ہوئے تھے۔ میرے سینہ میں بھی اتنا دودھ بھر گیا کہ آپ نے بھی خوب پیٹ بھر کر پیا اور میرے دوسرے بیٹے نے بھی جی بھرکرپیا۔ آپ کو گھر میں لانے کے بعد میری بکریوں نے بھی بہت زیادہ دودھ دینا شروع کر دیاجو کسی معجزہ سے کم نہیں تھا۔ سیّدہ حلیمہ سعدیہ ؓ کی پرورش میں آپ نے جب دو سال گزار لئے تو وہ آپ کو آپ کی والدہ کے سپرد کرنے کے لئے اس حال میں گھر سے روانہ ہوئیں کہ آپ کی جدائی کے غم سے اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ نبی کریم کی والدہ محترمہ آمنہ بنت وہب نے جب ان کی یہ حالت دیکھی توپوچھا: کیا تم میرے بچہ کو کچھ دن اوراپنے پاس رکھنا چاہتی ہو؟ سیّدہ حلیمہ سعدیہ ؓ نے عرض کیا : جی ہاں اگر آپ کچھ مزید عرصہ انہیں میرے پاس رہنےدیں تو آپ کی مہربانی ہوگی۔ میری اس درخواست پر انہوں نے خوشی سے مجھے اس کی اجازت دے دی۔
سیّدہ حلیمہ سعدیہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ آپ کی پہلی مرتبہ آمد ہی سے میرے گھر میں اللہ تعالیٰ کی برکتوں کا نزول تھا،اب نبی کریم کے دوبارہ تشریف لانے سے میرا گھر خیر وبرکات کے اعتبار سے تمام قبیلہ والوں کے لئے توجہ کامرکزبن گیا۔ آپ مزید دو سال تک حلیمہ سعدیہ ؓ کے پاس رہے۔
سیّدہ حلیمہ سعدیہ ؓ کے رضاعی ماں ہونے کی و جہ سے آپ ہمیشہ ان کے قبیلہ والوں کا ہرطرح سے خیال رکھتے۔ غزوۂ حنین
کے موقع پر جب حلیمہ سعدیہ
ؓ کے قبیلہ کے کچھ لوگ گرفتار کر کے آپ کے پاس لائے گئے تو آپ نے ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے انہیں رہا فرما دیا۔
واقعہ شق صدر (آپ کاسینہ مبارک چاک کیا جانا)
رسول اکرم کا پوری زندگی میں دو مرتبہ سینہ مبارک چاک کیا گیا۔پہلی مرتبہ جب آپ حلیمہ سعدیہ ؓ کی زیر تربیت پانچ سال کی عمر کو پہنچے اور دوسری مرتبہ معراج کے موقع پر۔ آپ جب پانچ سال کی عمر کو پہنچے تو ایک دن اپنے ہم عمربچوں کے ساتھ کھیل میں مصروف تھے کہ جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور انہوں نےآپکولٹاکرآپکا سینہ مبارک چاک کیا، آپ کا دل مبارک نکالا اور اس میں سے گوشت کا ایک لوتھڑا نکال کر فرمایا: یہ ٹکڑا شیطان کا حصّہ تھا جو باہر نکال دیا گیا ہے۔ پھر انہوں نے آپ کے دل مبارک کوسونےکےطشت میں زم زم کے پانی سے دھو کر اس کی جگہ پر رکھ کر سی دیا۔ ادھر سارے بچے دوڑ کر آپ کی رضاعی ماں سیّدہ حلیمہ ؓ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے: محمّد ( ) کو قتل کردیا گیا ہے۔
حلیمہ سعدیہ
ؓ اور ان کے گھر کے لوگ فوراً آپ کے پاس پہنچے تو دیکھا آپ کا چہرہ مبارک اترا ہواتھا (پھر سیّدہ حلیمہ ؓ آپ کو لے کر گھر تشریف لے آئیں ) سیّدنا انس ؓ فرماتے ہیں : میں (واقعہ شقِ صدرکےبعد)آپکے سینہ پر سلائی کا نشان دیکھا کرتا تھا۔ (مسلم۔ عن انس ؓ )
رسول اکرم اپنی والدہ محترمہ کی  تربیت میں
واقعہ شقِ صدر (سینہ کو چاک کئے جانے) کے بعدحلیمہ سعدیہ ؓ کو آپ کے بارے خطرہ محسوس ہوا۔ انہوں نے اس واقعہ کے بعد آپ کو آپ کی والدہ محترمہ (آمنہ بنت وہب) کے پاس مکہ پہنچا دیا اور آپ نے اپنی والدہ محترمہ کے سایہ محبت میں تقریباً دو سال گزارے پھر وہ (آمنہ)آپ ، اپنی خادمہ امّ ایمن اور اپنے سرپرست جناب عبدالمطلب کے ساتھ یثرب(مدینہ) تشریف لے گئیں جہاں آپ کا ننھیال اور آپ کے والد محترم کی قبرتھی۔ یثرب میں ایک ماہ رہ کر واپس مکہ آرہی تھیں ، راستہ میں بیمار ہوگئیں اور ا بواء (جگہ کا نام) پہنچ کر وفات پاگئیں اور انہیں وہیں  دفن کر دیا گیا۔
نبی کریم اپنے دادا محترم کی کفالت میں
آپ کی والدہ محترمہ کی وفات کے بعد آپ کے دادا جناب عبدالمطلب آپ کو لے کر مکہ مکرمہ تشریف لائے۔ آپ کے دادا آپ کی بڑی قدر کیا کرتے تھے۔وہ آپ کو اپنی اولاد سے بھی بڑھ کرچاہتےاورآپکی خوب عزت کیا کرتے تھے۔ ان کی ایک خاص مسند (بیٹھنے کی جگہ) تھی جس پران(عبدالمطلب)کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں بیٹھ سکتا تھا لیکن وہ اپنی مسند پر آپ کو بٹھاتے ، آپ کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے اور آپ کو دیکھ کر بہت زیادہ خوشی کا اظہار کیا کرتے تھے۔ ابھی آپ کی عمر آٹھ سال اور دو ماہ ہی ہوئی تھی کہ آپ کے دادا بھی وفات پا گئے۔
آپ اپنے چچا محترم کی کفالت میں

آپ کے دادا محترم وفات سے پہلے یہ وصیت کر کے گئے تھے کہ میرے بعد میرے اس پوتے (محمّد ) کی کفالت ان کے چچا ابو طالب کریں ۔ چنانچہ جناب عبدالمطلب کی وصیت کے مطابق جناب
ابوطالب نے آپ
کی کفالت کی ذمہ داری قبول کی۔ جناب ابو طالب آپ کے والد محترم کے سگے بھائی تھے۔وہ آپ سے بہت زیادہ محبت کرتے اورآپ کو اپنے بچوں سے بھی زیادہ
چاہتے تھے۔ وہ بہت زیادہ مالدار نہیں تھے لیکن آپ
کی کفالت کی ذمہ داری اٹھانے کے بعد اللہ ربّ ا لعزّت نے ان کے تھوڑے سے مال میں خوب برکت پیدا فرمادی تھی اور ان کا تھوڑا سا مال ان کےپورے کنبہ کے لئے کافی ہو جاتا تھا۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: