اعراف کا بیان

 اعراف کا بیان جن کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی وہ نہ دوزخ کے مستحق ہوں گے نہ جنت کے،لیکن جنت کی طمع رکھتے ہوں گے،وہ شروع میں اعراف میں رہیں گے اور آخر کار اللّٰہ تعالیٰ کے فضل سےجنت میں جائیں گے،اعراف بلند جگہ کو کہتے ہیں۔ جنت و دوزخ کے درمیان ایک دیوار ہے،جو جنت کی لذتوں کو دوزخ تک اور دوزخ کی تکلیفوں کو جنت تک پہنچنے سے روکتی ہے،اس دیوار کی بلندی پرجومقام ہو گا اس کو اعراف کہتے ہیں،بعض نے کہا کہ اعراف بمعنی معرفت ہے کہ اس مقام سےاہل جنت و اہل دوزخ ان کی پیشانیوں سے پہچانے جائیں گے،اصحابِ اعراف کے بارے میں مختلف اقوال ہیں راجح و صحیح یہ ہے کہ جن کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی وہ اصحاب اعراف ہیں یہ لوگ درمیان میں ہونے کی وجہ سے جنت و دوزخ دونوں طبقوں کی کیفیتوں سے متاثر ہوں گے،اعراف اور اس پر آدمیوں کا ہونا حق ہے اور اس کا انکار کفر ہے۔
 فائدہ
 جنت و دوزخ پیدا ہو چکی ہیں،حضرت آدم و حضرت حوا علیہماالسلام کے جنت میں رہنے اور پھر وہاں سےزمین پر اتارے جانے کا واقعہ قرآن مجید میں موجود ہے اور بھی بہت سی آیات و احادیث سے جنت ودوزخ کا موجود ہونا ثابت اور حد تواتر کے پہنچ چکا ہے اس کا انکار کفر ہے،ان کی حقیقت میں اختلاف ہےبعض روحانی اور بعض جسمانی کہتے ہیں مگر یہ ان کی لفظی بحث ہے،البتہ بعض احادیث سے یہ بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ ان نعمتوں کے علاوہ جو جنت میں پیدا ہو چکی ہیں دن بدن اور نعمتیں بھی پیداہوتی جاتی ہیں،یعنی جنت کا بعض حصہ ایسا ہے کہ اس میں ذکر و تسبیح و اعمالِ صالحہ سے اشجار !وغیرہ پیدا ہو جاتے ہیں۔
واللہ عالم بصواب
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: