وَٹَُہ سَٹَُہ اور اسلام

 الحمد للّٰہ الذی لم یتخذ ولدا ولم یکن لہ شریک فی الملک وخلق کل شیٔ فقدرہ تقدیرا وصلی اللّٰہ علی محمد النبی الامی المرسل الی الناس کافۃ بشیرا و نذیرا وعلی الہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا۔

شغار:
یہ عربی لفظ ہے جو شرعاً نکاحِ باطل کی ایک قسم کے لئے مستعمل ہے جس کی تعریف یہ ہے کہ ایک شخص اپنی متعلقہ عورت کا دوسرے شخص کو اس شرط پر نکا دے کہ وہ بھی اسے اپنی متعلقہ کانکا ح دے۔۔۔خواہ تقررمہرہویا نہ۔
شغار کی لفظی تحقیق:
 لغت میں اس کے اصلی معنی رفع یعنی اُٹھانے کے ہیں۔ کہا جاتا ہے، شغر الکلب اذا رفع رجلھالیبول(کتنے نے پیشاب کے لئے ٹانگ اُٹھائی) اور جب باب مفاعلہ سے ہو تو رفع میں مشارکت ہو گی۔
شغار باب مفاعلہ کا مقصدر ہے جس کی تائیدابی ریحانہ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ لفظ یہ ہیں:۔
ان النبی () نھٰی عن المشاغرۃ (اخرجہ ابو الشیخ فی کتاب النکاح)
یعنی حدیث میں شغار اور مشاغرہ دونوں لفظ آئے ہیں جو باب مفاعلہ کی مصار ہیں۔
امام اللغۃ ابن قیتبہؒ کے معنی میں فرماتے ہیں:
’’کل واحد منھما یشغر عند الجماع‘‘
شغار شرعی اسی محاورہ سے ماخوذ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ’’شغر البلد اذا خلا‘‘ (یعنی شہر محافظ سے خالی ہوگیا۔) سے ماخوذ ہے۔اور اس کا اصل معنی بعد اور خلو ہے اور شغار کو مہر سے خالی ہونے کی وہ سے  شغار کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ مرجوح ہے کیوں کہ شغار (شرع میں) منقول ہے اور شغار لغوی منقول عنہ۔ منقول کی اپنے منقول عنہ سے مناسبت ضروری ہوتی ہے۔
اگر غور کیا جائے تو مناسبت تامہ پہلے محاورہ سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ کیونکہ اس صورت میں فریقین میں رفع رجل للجماع میں مشارکت مراد ہو گی جو شعر الکلب لیبول سے بہت مناسب ہے اور لغۃ میں شعر الرجل المرئۃ بھی مستعمل ہے لیکن شغر البلد سے ایسی مناسبت حاصل نہیں کیونکہ نکاح کے مہر سے خالی ہونے کی حیثیت ثانوی ہے۔
شغار کی معنوی تحقیق:
شغار کی دو صورتیں ہیں:          (۱) شغار بہ تقرر مہر۔   (۲) شغار بلا تقرر مہر۔
حدیث نمبر ۱:
رسول اللہ (ﷺ) نے شغار سے مطلقاً منع فرمایا ہے۔ مسند احمد اور صحیح مسلم میں ابو ہریرہؓ سے روایت ہے:۔
نھی رسول اللّٰہ () عن الشغار، والشغار ان یقول الرجل زوجنی ابنتک وازوجکابنتی او زوجنی اختک وازوجک اختی۔
رسول اللہ (ﷺ) نے شغار سے منع فرمایا اور شغار یہ ہے کہ ایک شخص (دوسرے سے) کہے کہ میں تجھے اپنی بیٹی یا بہن کا نکا ح دیتا ہوں (اس شرط پر) کہ تو مجھے اپنی بہن یا بیٹی کا نکاح دے۔
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے ابو ہریرہؓ نے نکا شغار کی جو تفسیر روایت کی ہے، اس میں آپ نےتقرراورحدم تقرر مہر کی کوئی شرط نہیں لگائی۔
شبہ:
اگر کوئی کہے کہ شغار کی یہ تفسیر حضرت ابو ہریرہ کی ہے خود آنحضرت ﷺ کی نہیں۔
ازالہ شبہ:
جواب دو طرح سے ہے:
اولاً:
یہ ظاہر کے خلاف ہے کیونکہ جب حدیث کا پہلا حصہ مرفوع ہے تو دوسرا (تفسیرشغار) بھی مرفوع ہوگادوسرےحصہ کو موقوف ثابت کرنے کے لئے دلیل کی ضرورت ہے جو مجود نہیں۔ اگر یہ شبہ اس وجہ سےوارد ہوا ہے کہ تفسیرِ شغار کے الفاظ ابو ہریرہؓ کے بھی ہو سکتے ہیں، جیسا کہ پہلا حصہ ان کے الفاظ ہیں جس کا مفہوم رسول اللہ (ﷺ) سے ہی ہےے تو اس کی وضاحت یوں ہے کہ مرفوع حدیث کے لئے صرف مفہوم رسول اللہ (ﷺ) سے ہونا ضروری ہوتا ہے۔ الفاظ کبھی صحابیؓ کے ہوتے ہیں اور کبھی رسول اللہ(ﷺ) کے۔
صحابی اس مفہوم کے لئے اگر اپنے الفاظ بھی استعمال کرے تو حدیث مرفوع ہی ہو گی۔ جیسا کہ پہلے حصہ حدیث میں مسلم ہے۔ نیز دوسرے حصہ کے لئے کوئی ایسا اشارہ بھی نہیں جس سے ثابت ہو کہ  ابو ہریرہؓ نے رسول اللہ (ﷺ) کے الفاظ نقل نہیں کیے بلکہ لفظوں میں شغار کی تفسیر کی ہے۔ اس قسم کے کمزورشبہات سے اس کو ابو ہریرہؓ پر موقوف نہیں بنایا جا سکتا۔
ثانیا:
اگر بالفرض یہ تفسیر لفظاً موقوف ہو پھر بھی حکماً  ہے کہ کیوں کہ ابو ہریرہؓ اہلِ لسان ہیں۔ ان دنوں کےمروجہ شغار سے خوب واقف تھے اور صحابی کے لئے غالب خیال یہی ہوتا ہے کہ اس نے یہ معنی نبی(ﷺ)سےسمجھےہیں۔ اسی بنا پر ایسی موقوف حدیث حکماً مرفوع سمجھی جاتی ہے۔ کما تقرر فی الاصول۔
حدیث نمبر ۲:
مسلم میں ابن عمرؓ اور ابن حبان میں انسؓ سے روایت ہے:۔
لا شغار فی الاسلام (یعنی اسلام میں شغار نہیں ہے۔)
اس حدیث میں لائے نفی جنس اسلام میں ایسے شغار کے وجود اور انعقاد کی نفی کر رہا ہے اور اس حدیث میں ان لوگوں کی صاف تردید ہے جو ناجائز تو کہتے ہیں مگر نکاح کے واقع ہو جانے کے قائل ہیں۔
لائے نفی جنس بطلان کی دلیل ہے:
جمہور نحاۃ کے نزدیک لائے نفی جنس حرف ہے جو کسی شے کی جنس کی نفی کرنے کے لئے آتا ہے اور اس معنی کے لئے نص ہے۔ بنو تمیم اسے فعل منفی (انتفی) کے معنی میں لیتے ہیں اور ’’لا‘‘ کی خبر کو صفت بناتے ہیں۔
دونوں صورتوں میں لا شغار فی الاسلام کے الفاظ شغار کے بطلان کی دلیل ہیں۔ جو سلب کلی کا صور (علامت) کی وجہ سے شغار کے ہر فرد شغار بہ تقرر مہر اور شغار بغیر تقرر مہر کو باطل قرار دیتا ہے۔
بعض لوگ نکاح شغار کو متبر قرار دینے کے لئے لائ کی خبر کی تقدیر ایسی کرتے ہیں جس سے حرام ہونےکےباوجود نکاح منعقد ہو جائے۔ حالانکہ وہ عربیت سے ناواقف ہیں، کیونکہ لائے نفی جنس کی تقدیر ہی خبرکاقانون حس ذیل ہے:
’’خبر یا تو مطلق (افعال عامہ سے) ہو گی یا مقید، مقید کی دو صورتیں ہیں یا تو مقید بر ظرف ہو گی یامقیدبغیرظرف یعنی افعالِ خاصہ سے ہو گی۔ افعال خاصہ کی صورت میں اس کا حذف منع ہے باقی صورتوں میں حذف بہت ہے۔‘‘
اب وجود شغار باقی رکھنے کے لئے لا شغار فی الاسلام میں خبر افعال خاصہ سے بنانی عربیت کے خلاف ہے۔ کیوں کہ اس صورت میں حذف خبر منع ہے۔ حالانکہ یہاں خبر محذوف ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ یہاں خبر افعالِ عامہ سے ہے۔
لائے نفی جنس کی طرح نہی بھی تحریم اور بطلان کے لئے ہے:
نہی میں اصل تحریم ہے جیسا کہ خطابی نے ’’معالم السنن‘‘ میں کہا ہے اور اس نکاح کو ایسا ہی باطل قراردیاہےجس طرح نکاحِ متعہ اور لڑکی پر اس کی خالہ اور پھوپھی کا نکاح باطل ہے۔ امام شافعیؒ نے ’’کتاب الام‘‘ میں شغار اور متعہ میں صحۃ اور عدمِ صۃ کا فرق کرنے والوں کی کلام کا تفصیلی معارضہ پیش کیا ہے اور امام بخاریؒ نے اسے ناجائز حیلہ قرار دیا ہے۔
اس نہی کو اصل معنی تحریم اور بطلان سے پھیرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ اسی طرح لائے نفی جنس کو اصلی معنی سے پھیر کر مبالغہ قرار دینا بے دلیل ہے۔
تحریم شغار اور اجماع، علما:
مذکورہ بالا احادیث سے مطلق شغار کی ممانعت نبی (ﷺ) سے ثابت ہو چکی ہے۔ نبی ﷺ نے بہ تقررمہراوربغیر تقررمہر کا کوئی فرق نہیں کیا لیکن بعض علما نے شغار کی مذکورہ بالا نبوی تفسیر سے واقف نہ ہونے کی بنائ پر اس کی تعریف میں اختلاف کیا ہے جبکہ شغار کی حرمت پر سب کا اتفاق ہے۔ امام نوویؒ فرماتےہیں:۔
’’اس پر سب متفق ہیں کہ نکاح شغار ناجائز ہے۔‘‘
شغار کی تعریف بعض علما کی غلطی کی وجہ سے میں رسول اللہ (ﷺ) سے مطلقاً ممانعت ذکر کرنے کے بعد الگ الگ احادیث سے بھی شغار کی دونوں صورتوں کی حرمت بیان کر رہا ہوں جو حسب ذیل ہے:
نکاحِ شغار بہ تقرر مہر:
عن عبد الرحمن بن ھرمز الاعرج ان العباس ابن عبد اللّٰہ بن العباس انکح بن الحکم ابنتہ وانکحہ عبد الرحمٰن بنتہ وقد کانا جعل صداقا فکتب معاویۃ بن ابی سفیان الی مروان بن الحکم یامرہ بالتفریق بینھما وقال فی کابہ: ھذا الشغار الذی نھی عنہ رسول اللّٰہ() اخرجہ احمد و ابو داؤد
عبد الرحمن الاعرج سے روایت ہے کہ عباس بن عبد اللہ بن عباس نے عبد الرحمن بن الحکم کو اپنی بیٹی کا نکاح دیا اور عبد الرحمن بن الحکم نے عباس بن عبد اللہ کو اپنی بیٹی کا اور دونوں نے مہر بھی رکھا پس معاویہؓ نےمردان بن الحکم کو ان کے درمیان جدائی کرا دینے کا حکم لکھا اور اپنی چٹھی میں لکھا کہ یہ وہی شغار ہےجس
سے رسول اللہ (ﷺ) نے مفنع فرمایا تھا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نکاح مبادلہ بہ تقرر مہر شغار رہی ہے۔
شبہ:
اگر کوئی کہے کہ منتقی مع شرح نیل الاوطار میں وقد کانا جعلا صداقا کی جگہ وقد کانا جعلاہ صداقا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں جعل مرکب ہے جس کا پہلا مفعول (ضمیر) محذوف ہے اور معنی یہ ہے کہ انہوں نے اسی نکاح کو مہر قرار دیا تھا جو عدم تقرر مہر ہی کی صورت ہے۔
ازالہ شبہ:
وقد کانا جعلاہ صداقا (ضمیر کے ساتھ) نقل کی غلطی ہے۔ منتقی متن کے نسخوں، مسند احمد اور ابو داؤد اصل کتابوں میں وقد کانا جعلا صداقا (بغیر ضمیر کے) ہے۔
نیز اسے محذوف جاننا قواعد عربیہ کے خلاف ہے جس کی تفصیل یوں ہے کہ:
’’جعل دو قسم کا ہوتا ہے: بسیط + مرکب۔ جعل مرکب مبتدا خبر کے افعال سے ہے اور فعل تحویل کہلاتا ہے۔ اگر بغیر قرینہ کے اس کا مفعول حذف کیا جائے تو تحویل کےمعنی واضح نہ ہوں گے۔ نیز پہلا مفعول معنی مبتدا ہے جس کا تعین و تخصص ہونا چاہئے اور حذف میں ابہام پایا جاتا ہے۔ حذف سے جعل (مرکب) کا جعل (بسیط) سے التباس بھی لازم آئے گا جو مانع حذف ہے۔ نیز ضرورت کے بغیر حذف فصاحت و بلاغت کے خلاف ہے۔ خصوصاً جب کہ التباس ہو۔ اس لئے یہاں کوئی مفعول (ضمیر) محذوف نہیں بلکہ جعل(بسیط)ہےاوروقدکاناجعلا صداقا کے معنی یہ ہیں کہ ان دونوں نے مہر رکھا تھا۔‘‘
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے شغار مع تقرر مہر سے منع فرمایا ہےاور حضرت معاویہؓ نےجوتفریق کا حکم دیا وہ نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق تھا۔ ’’نہیٰ عنہ رسول اللہ ﷺ‘‘ کے الفاظ اس کےمرفوع ہونے کی دلیل ہیں۔ باقی رہا یہ وہم کہ شاید حضرت معاویہؓ نے یہ اپنی طرف سے کیا ہے، قابلِ التفات نہیں کیوں کہ جس طرح صحابی رسول اللہ ﷺ کے الفاظ نقل کرے تو حدیث مرفوع ہوتی ہے۔ اسی طرح وہ مفہوم بیان کر تو بھی مرفوع ہو گی۔ یہاں امیر معاویہؓ نے اپنا مفہوم بیان کیا ہے۔
وضاحت:
حدیث کے الفاظ ’’ہذا الشغار‘‘ میں مبتدا خبر دونوں معرفہ ہیں اور ایک معرف باللام ہے۔ اس لئے معرف باللام محصور ہے اور یہ حصرا دعائی ہے جس سے مبالغہ مراد ہے یعنی اس صورت (مع تقرر مہر) کا شغار میں داخل ہونا ایسا یقینی ہے۔ جیسا کہ صرف یہی شغار (ممنوعہ) ہے۔ اس مبالغہ سے مقصد حضرت معاویہؓ کا۔
یہ ہے کہ اس صورت کے شغار سے خارج ہونے کا کسی قسم کا شہ نہ کیا جائے۔
نکاح شغار بلا تقرر مہر:
حدثنی نافع عن ابن عمر ان رسول اللّٰہ () نھی عن الشغار، قلت لنافع: ما الشغار؟ قال
ینکح ابن
ۃ الرجل وینکحہ ابنتہ بغیر صداق، وینکح اخت الرجل وینکحہ اختہ بغیر صداق اخرجہ البخاری (فی کتاب الحیل وفی باب الشغار)
ومسلم واحمد وابو داو
ٔد والترمذی والنسائی وابن ماجہ ولفظ ابی داؤد زاد سددنی حدیثہ قلت لنافع وما الشغار؟               (الحدیث)
عبید اللہ روایت کرتے ہیں کہ نافع نے مجھے عبد اللہ بن عمر سے یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہﷺنےشغارسےمنع فرمایا ہے۔ میں نے نافع سے کہا، شغار کیا ہے؟ کہا، ایک شخص دوسرے کی بیٹی س نکاح کرتاہےاور اس بغیر مہر کے اپنی بیٹی کا نکاح دیتا ہے اور کسی کی بہن سے نکاح کرتا ہے اور اسے اپنی بہن کانکاح بغیر مہر کے دیتا ہے۔
اسے جماعت نے روایت کیا اور ابو داؤد کے لفظ یہ ہی۔ زاد سددنی حدیثہ قلت لنافع: ما الشغار؟ یعنی مسددنے(شغار کی ممانعت کے ذکر کے بعد اور شغار کی تعریف سے قبل) زیادہ کیا ہے۔ میں نے نافع سےپوچھا:شغار کیا ہے؟‘‘ یعنی بعد والی شغار کی تعریف نافع نے کی۔
یہ تعریف جو نافع نے کی ہے۔۔۔ شغار کی وہ صورت ہے جس میں مہر مقرر نہیں ہوتا۔
یہ تفسیر شغار اگرچہ نافع کی ہے لیکن نبی ﷺ کا شغار مطلق (بہ تقرر مہر و بلا تقرر مہر) سے منع کرناحدیث ابی ہریرہ میں گزر چکا ہے۔ اس لئے نافع کی بیان کردہ صورت بھی شغار ممنوعہ کی ایک شکل ہے۔
طبرانی  وغیرہ کتب حدیث میں نکاح شغار کے یان میں جن احادیث میں ’’لا صداق بینہما‘‘ یا ’’بغیر صداق‘‘ وغیرہ الفاظ آئے ہیں وہ سب شغار کی مذکورہ بالا منہی عنہ صورت کا بیان ہے اگرچہ وہ احادیث ضعیف ہیں۔
تفریق:
مندرجہ بالا دلائل سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ نکاح شغار باطل ہے اور اگر ایسا نکاح ہو جائے تو منعقد نہیں ہوگااور تفریق (جدائی) کرائی جائے گی۔ جیسا کہ حضرت معاویہؓ نے کرائی۔ رسول اللہ ﷺ کے فرمان لا شغار فی الاسلام کا یہی مطلب ہے۔
نوٹ:
نکاح شغار، نکاح مبادلہ اور نکاح وٹہ سٹہ ایک ہی ہیں اور نکاح میں ایسی شروط نکاح کو باطل کر دیتی ہیں۔ خواہ وہ نکاح کے وقت ہوں یا اس سے قبل کیونکہ نکاح سے قبل کی ہوئی شرط بھی نیت میں ہوتی ہے۔
؎ھذا ما عندی واللّٰہ اعلم بالصواب
از افادات شیخ التفسیر   :      حضرت مولانا حافظ محمد حسین امرتسری روپڑیؒ

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: