سیر ت طیبہ پرایک نظر

تخلیق انسانیت سے لے کر آج تک اربوں کھربوں نفوس پردہ ٔ کتم سے پردہ شہود پر جلوہ گر ہوئے ان میں نیک وبد،امیروغریب ،شاہ وگدا سب اپنا مقررہ وقت مکمل کرکے اس دار فانی سے ابدی جہاں کے راہی بن گئے بہت کم ایسےلوگ ہوں گے جن کے حالات سے دنیا آشنا ہوگئی ۔انسانیت کی تاریخ میں ایک ہی ایسا چمکتا چہرہ نظر آتا ہے جس کےتمام حالات وواقعات اور مبارک زندگی کے تمام خدوخال اور اس کی حیات کا ہر گوشہ اپنی عطر بیزیوں سے تمام عالم کومعطر کیے ہوئے ہے ان کا نام نامی اسم گرامی ہے محمّدﷺ۔
نسب نامہ:
یوں ہے کہ محمّدﷺ بن عبداللہ بن عبدالمطلب(اصل نام شیبہ)بن ہاشم(اصل نام عمرو)بن عبد مناف (اصل نام المغیرہ) بن قصی(اصل نام زید)بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر بن مالک بن النضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مرہ( عامر)بن الیاس بن مضر بن نزاربن معد بن عدنان ۔ (یہاں تک سیرت نویسوں اور اہل علم کا اجماع ہے ۔اس  کے اوپر سلسلہ نسب کے اسماء میں اہل تاریخ کا اختلاف ہے ۔اس لیے ازراہ احتیاط اس کو ذکر نہیں کیا جاتا)
آپ کی ولادت باسعادت واقعہ فیل کے پچاس یا پچپن روز بعد 8ربیع الاول پیر بمطابق اپریل 570ء مکہ مکرمہ میں صبح  صادق کے وقت ابوطالب کے مکان میں ہوئی۔اس کے علاوہ 2۔10اور12 ربیع الاول کے اقوال بھی مورخین نے  ذکرکیے ہیں لیکن علامہ محمّد ادریس کاندھلوی  کی تحقیق کے مطابق ولادت باسعادت کی تاریخ میں مشہورقول یہ ہے کہ حضوراکرم ﷺ12 ربیع الاول کو پیداہوئے جبکہ جمہورمحدثین اور مورخین کے نزدیک راجح اور مختار قول یہ ہے کہ آپ ﷺکی پیدائش 8 ربیع الاول کوہوئی ۔اسی بات کو امام احمد بن محمّدالقسطلانی نے اپنی کتاب  المواہب اللدنیہ میں لیاہے اور احمد رضاخان کے حساب کے مطابق بھی8ربیع الاول کوولادت بنتی ہے۔اہل السنت والجماعت کانظریہ یہ ہےکہ حضوراکرم ﷺکی ولادت کاتذکرہ کرنا مستحب ہے او ر موجب ثواب ہے اور اجر عظیم کاباعث ہے لیکن اکابراسلاف نے اس دن میں کی جانے والی بدعات کا بڑی شدومد سے انکار کیا ہے یعنی اس دن کو خاص کرلینا اور اس
میں جشن میلاد منانے کو ہی کل اسلام سمجھنا اور میلاد نہ منانے والوں کو مطعون کرناہرگز صحیح نہیں ۔
آپ ﷺکی وفات
آپ ﷺنے دنیاوی زندگی میں کل عمر مبارک 63برس گزاری ۔نبی اکرم ﷺ کی وفات 12 ربیع الاول بروزپیر11ھ کو ہوئی ۔
آپ کی نماز جنازہ
امام الانبیاء کی نماز جناز ہ امام کے بغیراس صورت میں اداکی گئی ترتیب یہ تھی کہ سب سےپہلےمردپھرعورتیں  پھربچےاورآخر میں غلام آتے اور آکر آپ پر سلام پیش کر کے چلے جاتے۔
آپ کی چاربیٹیاں ہیں۔
اہل السنت والجماعت کے ہاں آپ کی چار صاحبزادیاں ہیں بعض لوگ حضرت فاطمۃ الزہرا کے علاوہ باقی بنات رسول کاانکار کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ آپ کی صرف ایک صاحبزادی تھیں یعنی حضرت فاطمہ جبکہ خود انہی کی کتابوں میں اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ آپ کی صاحبزادیوں کی تعداد 4ہے ۔
1-سیدہ زینب ؓ2-سیدہ رقیہ ؓ3-سیدہ ام کلثوم ؓ4-سیدہ فاطمہؓ
بنات رسول کے نکاح کن کن سے ہوئےحضرت زینب ؓکانکاح حضرت ابوالعاص ؓسے ہوا۔حضرت رقیہ  ؓاورام کلثوم  ؓکانکاح حضرت عثمان ؓ سے ہوا  اورحضرت فاطمہ  ؓکانکاح حضرت علی  ؓسے ہوا۔

Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: