مذہبِ شیعہ کی ابتداء:ان کافرقوں میں بٹنا:03

شیعہ مذہب میں تیسرا انقلاب
شیعہ مذہب میں تیسرا نقلاب يہ ہوا کہ جب حضرت امام زین العابدین ؓ اس عالم فانی سے دار بقاءکو سدھارنے، تو زید بن علی بن حسین ؓ نے جو زید شہید کے لقب سے مشہور ہیں۔ ہشام بن عبدالملک بن مروان خلیفہ وقت پر چڑھائی کر دی۔ جب آپ کوفہ وعراق کے گرد ونواح میں پہنچے تو شیعہ مخلصین کی ايک جماعت آپ کے ساتھ ہو گئی ۔ اس لئے کہ  مروانکی اولاد، اپنے عاملوں کے ظلم وستم کے سبب اور ان کو اس سے روکنے میں ناکام رہنے کے باعث ریاست کی ظاہری قابلیت اور دبدبہ سے بھی محروم ہو گئی تھی ۔حضر ت زید شہید کے اپنے ساتھیوں،مخلص شیعوں کے علاوہ 30ہزار کی  ايک جمعیت۔ تبرائی شیعوں کی بھی شامل ہو گئی تھی ۔جس کی اکثریت کیسانیوں اور مختاریوں پر مشتمل تھی ۔ يہ پورالشکریوسف بن عمر ثقفی سے قتال کرنے کے لئے روانہ ہوا جو اس وقت ہشام کی طرف سے امیر العراقین تھے۔
جب حضرت زید شہید ؒ نے تبرائیوں کا سب وشتم اورتبری سنا تو با ربار ان کو ڈانٹا، دھمکایا، اور ان لوگوں کے سرداروں کوپابند کیا کہ وہ اپنے ماتحتوں کو اس لائق نفرت فعل سے باز رکھیں۔ جب بات زبانی کلامی حددو اور سب وشتم سےآگےبڑھ کر تلوار اور بھالے تک پہنچی۔ اور محبان اہل بیت شیعوں کی عملی آزمائش کی گھڑی آپہنچی توسارےکےسارے تبرائی، آپ کی رفاقت سے منہ موڑ کر اور آپ کے دشمنوں کے حوالے کر کے گھروں میں جاگھسے۔ اور عذر يہ گھڑا کہ ہم کو صحابہ پر تبرا بازی سے کیوں روکا۔گویا تاریخ نے اپنے آپ کو پھر دہرایا اور کوفہ کے شقی لوگوں نے جناب امام حسین ؓ سے غداری کو جو سلوک کیا تھا وہی سلوک ان کیسانیوں اور مختاریوں نے جناب زیدشہید ؒسےکیا ۔ نتیجہ ً جناب زید شہید ہو گئے، آپ کی شہادت کے بعد مذہب شیعہ میں ايک عجیب انقلاب آیا کہ وہ جماعت جو جناب زید شہید ؒ کے ساتھ رہ گئی تھی۔ اس نے اپنا لقب شیعہ خالص رکھا ۔وہ اس کے قائل تھے کہ حضرت امام حسین ؓ کے بعد حضرت زیدشہید ہی امام برحق تھے اور شہادت جو ان کے باپ دادا کی میراث تھی ۔ ان کو نصیب ہوئی ۔  راہ خدا میں اپنی جان پر کھیل گئے اور يہی امام کے شایان شان ہے کہ سوائے خدا کے کسی سے نہ ڈرےاورتلوارلےکراٹھ کھڑا ہو، کسی انسان کی رفاقت اور مفادقت کی اس پر کو پرواہ نہ ہو۔
اور ان لوگوں کو جو جناب زید شہید ؒ کو مدیان جنگ میں چھوڑکر اپنے گھروں کو بھا گ گئے تھے۔روافض کا لقب دیا۔بلکہ خود جناب زید شہید ؒ نے ان جھوٹے،بیوفا اور غداروں کے حق میں فرمایا:
رفضنا فھم الروافض یعنی انہوں نے ہم کو چھوڑا تو وہ روافض ہوئے۔
پھر جب حضرت زید ؒ کے يہ ساتھی اپنے گھروں کو واپس ہوئے تو ان کے سامنے اپنے لئے امام منتخب کرنے کا سوال آیا۔ اس جماعت نے اپنے لئے امامیہ لقب چنا۔ ان میں سے کچھ جناب حسن مثنیٰ بن حسن مجتبیٰ ؓ کی امامت کے قائل ہوئے ۔ جب کہ اکثریت نے امام محمد باقر ؒ کو اپنا امام تسلیم کیا۔ جو اس وقت اہل بیت میں سب سے افضل،عالم اور سب سے زیادہ  پرہیزگار اور عبادت گذار تھے۔ اور ان لوگوں نے کیسانیہ اور مختاریہ فرقوں کو اپنے مذہب کی دعوت دینا شروع کی۔ اس مذہب کے داعی جو اس گروہ کے سردار تھے يہ لوگ تھے ۔ہشام بن الحکم احول۔ ہشام بن سالم جوالیقی۔ شیطان الطاق مثیمی اور زرارہ بن اعین کوفی۔
امام باقر ؒ کی وفات کے بعد اس گروہ میں پھر اختلاف ہوا۔بعض نے کہا کہ وہ زند ہ ہیں مرے نہیں ۔ اور ايک جماعت ان کی موت کی قائل ہوئی اورآپ کے صاحبزادے سے حضر ت زکریا ؒ کو اپنا امام مانا يہ عقیدہ رکھتے ہوئے کہ وہ زندہ ہیں مریں گے نہیں۔
کچھ لوگوں نے حضرت جعفر صادق ؒ کو امام مانا۔ يہ گروہ تعداد میں بڑھ گیا کیونکہ بہت سے لوگ ان کے ہم خیال ہوگئے۔ انہوں نے امامیہ کا لقب اپنے لئے مخصوص قرار دے دیا۔ اور حضرت زید شہید ؒ کو امام ماننے والوں کو زیدیہ کے نام سےموسوم کیا گیا۔
پھر امامیہ فرقہ میں سرداروں کی بھرمار کے سبب مذہبی نزاع رونما ہوا۔ ہررئیس اور سردار نے اپنی خواہش کے مطابق نیامذہب تراشا اور اپنا گروہ علیحدہ بنایا، اس لئے لا محالہ سرداروں کے ناموں پر ہشامیہ،سالمیہ، شیطانیہ،مشمیہ اور زراريہ  فرقے ان میں پیدا ہوئے۔
شیعہ مذہب میں چوتھا انقلاب
شیعوں کی مذہبی تاریخ میں يہ چوتھا بڑا فرقہ اور ہولناک انقلاب تھا جو حضرت جعفرصادق کی وفات پر رونما ہوا۔ کچھ نے یہ عقیدہ قائم کر لیا کہ جناب صادق زندہ ہیں، غائب ہو گئے ہيں،پھر ظاہر ہو گئے۔ ايک فرقہ آپ کی موت کا قائل ہوا۔ اور اس نے آپ کے بعد آپ کے صاحبزادے جناب کاظم موسی بن جعفر ؒ کی امامت کو تسلیم لیا۔ ايک دوسرےگروہ نے جناب اسماعیل بن جعفر ؒ کو امام ٹھہرایا۔
پھر اس اسماعیلوں میں بھی تفرقہ پڑا۔ بعضوں نے کہا کہ اسماعیل آخری امام ہیں ان کے بعد کوئی امام نہیں اور ان کےمتعلق وحی لایموت کاعقیدہ قائل لر لیا۔ اور بعض دوسرے ان کی موت اور ان کے بيٹے محمد بن اسماعیل ؒ کی امامت کے قائل ہوئے۔
پھر ان میں بھی پھوٹ پڑ گئی ۔اس سبب سے کہ جناب اسماعیل بن جعفر ؒ حضرت جعفر ؒ کی حیات میں وفات پاگئے۔اوراپنے پيچھے اپنا بیٹا محمد چھوڑا۔ وہ اپنے دادا کے ہمراہ بغداد گئے وہیں وفات پا کر مقام قریش میں مدفون ہوئے۔
ان کا ايک غلام مبارک نامی تھا ۔ جو خوش نویسی،نقش ونگار سازی اور دستکاری میں یکتائے روز گار تھا۔عبداﷲ بن میمون اقداح اہوازی اس غلام سے آکر ملا۔ اور حضرت جعفر صادق ؒ کی وفات کے بعد اس سے کہا کہ میں تیرے آقا ومولیٰ  حضرت محمد ؒ کے شیعوں میں سے ہوں،غلام کے ساتھ کچھ عرصہ اٹھنے بيٹھنے اور بے تکلف ہونے کے بعد تنہائی میں اس  سے کہا کہ مجھے تیرے آقا سے بعض ايسے اسرار اور بھید ملے ہیں کہ ان کی ميرے سوا کسی کو انہوں نے ہوا بھی نہیں لگنےدی۔ پس مقطعات قرآنی کے متعلق فسلفیانہ انذار کی باتیں تبانی شروع کیں کچھ شعبدے،سحر اور طلسمات بھی مبارک کو کھائے اور سکھائے۔ اس کے متعلق محمد بن زکریا رازی نے کتاب المحاریق میں کچھ ذکر کیا ہے۔ يہ عبداﷲ بن میمومن اقداح ملحد، بدعقیدہ، زندیق اور دین اسلام کا پکا دشمن تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ کسی طرح اسلام میں فتنہ وفسادبرپاکرے لیکن کوئی مناسب موقعہ نہیں ملتا تھا ۔ اب مبارک کی دوستی میں اس کو اپنی ناپاک خواہش برلانےکاموقعہ میسرآگیا تھا ۔
خلاصہ کلام يہ کہ کچھ عرسہ کے یارانہ کہ بعد دونوں میں باہم کچھ عہد و پیمان ہوئے اور دونوں ايکدوسرےسےجداہوگئے۔ مبارک تو کوفہ چلا گیا اور وہاں اسماعیلی مذہب کا داعی بن کر اس کی دعوت دينےلگااوراپنےفرقہ کا نام مبارکیہ اور قرمطیہ رکھا کیونکہ مبارک اس کانام اور قرمطہ لقب تھا۔ادھرعبداﷲ بن میمون کو ہستان عراق پہنچا اور کوہستانیوں کو طلسمات و نیر نجات کے زور پر اپنے جال میں پھانسا، وہ اپنے ہر متبع کو ان الفاظ میں نصیحت کرتا۔ استرذھبک وذھابک ومذھبک (اپنے سونے، اپنے سفر اور اپنے مذہب کو چھپا) اس نے اپنے گروہ میمونیہ کا لقب دیا۔
جب کوہستانیوں کی طرف سے اس کو پورا پورا اطمینان ہو گیا اور اپنا بازو قوی بنا لیا تو خلف نامی ايک شخص کو اپنا نائب بنایااور دعوت مذہب کی ہدایت کر کے کو اس کو خراسان ،قم اور کاشان کی طرف روانہ کیا اور خود بصرہ کا رخ کیا۔ اوروہاں کے لوگوں کو اگمراہ کرنے اور بہکانے میں مشغول ہو گیا۔
خلف پہلے طبرستان گیا اور وہاں کے شیعوں کو مذہب میمونیہ کی دعوت دينے لگا۔ وہ کہتا تھا کہ اہل بیت کا مذہب يہی ہےاور اہل البیت ادری بما فیہ (صاحب خانہ ہی گھر کی چیزوں کو اچھی طرح جانتاہے) اورمسلمانوں کی اکثریت نےاپنےاپنے الگ مذہب گھڑ لئے ہیں اسی وجہ سے وہ مصائب اور تکالیف کا شکار ہوئے اورلذائد وطیبات سے يہی دست۔وہاں سے اس نے نیشاپور کا رخ کیا۔ اور وہاں کے شیعوں کو بھی اسی آفت میں ڈالا۔ اور خودنیشا پورکے کسی گاں میں اقامت پذیر  ہوگیا۔ اہل سنت کو جب اسکی فتنہ پروازیوں کی خبر ہوئی تو وہ اس کے پيچھے پڑگئے اوروہ چھپ کربھاگ گیا۔ وہاں سے رے پہنچا اور وہاں بھی يہی فتنہ انگیزی شروع کر دی۔ غرض جب تک زندہ رہا۔یہی کرتارہا۔جب وہ مر گیا تو اس کے بیٹے احمد نے باپ کی جگہ لے لی۔ اور غیاث نامی ايک شخص کو اپنا نائب بنا کر عراق میں بھیجا۔غیاث ادیب، شاعر،مکار اور غدار آدمی تھا۔
فرقہ باطینہ کا بانی صبائی اور اول منصف یہی ہے۔”مذہب ِباطنیہ کے اصول کے بیان میں“ نامی کتاب اسی نے لکھی ہے۔جسے دل پذیر اشعار اور امثال عرب سے مزین کیا۔اور اپنی دلیل میں آیات واحادیث کے بہت حوالے دیتا ہے۔ وضو،نماز، روزہ، حج، زکوة اور دیگر احکامات کو باطنی فرقہ کے مطابق بیان کر کے ثبوت میں لغت کے حوالے پیش کرتاہے۔اور کہتا ہے کہ ان سب امور سے شارع (علیہ السلام) کی يہی مراد ہے ،عام لوگوں نے ان کے جو معانی ومطالب سمجھے ہیں سراسر غلط ہیں۔
غیاث کے زمانہ میں باطنی فرقہ نے بڑا زور پکڑا۔ اور عوام کو يہ نیا اور آسان طریقہ جس میں بے باکی اور پوری پوری آزادی ملتی تھی بہت مرغوب اور دلچسپ معلوم ہوا، یہی وجہ کہ ہزاروں جاہل اور فاسق وفاجر اس کی اطاعت کے جال میں پھنس گئے۔ اور دور دراز کے شہروں سے سمٹ سمٹ کر اس کی طرف آنے لگے۔ یہ واقعہ202ھ کا ہے۔ جس کی طرف حدیث صحیح کے الفاظ ظہور الایات بعد الائتین، میں صاف اشارہ ملتا ہے کہ”دوسری صدی کے بعد نشانیوں کےظہور ہوگا“ اس وقت شیعہ مذہب گویا کفر وفلسفہ کا معجون مرکب بن گیا تھا۔ جس کی مثال بول وبراز اور خون حیض کے ملغوبے کی سی تھی۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: