سیرتِ امام ابو حنیفہؒ از علّامہ شِبلی نُعمانیؒ-13

تلامذہ و علماء کے ساتھ فیاضی

شاگردوں کے ساتھ سخاوت

امام صاحبؒ شاگردوں میں جس کو تنگ حال دیکھتے اس کی ضروریاتِ خانگی کی کفالتکرتے کہ اطمینان سےعلم کی تکمیل کر سکے۔ بہت سےلوگ جن کو مفلسی کی وجہسے تحصیلِ علم کا موقع نہیں مل سکتا تھا امام صاحبؒ ہی کی دستگیری کیبدولت  بڑےبڑےرتبوں پر پہنچے، انہی میں قاضی ابو یوسفؒؒ بھی ہیں۔
قاضیابو یوسفؒ فرما تے ہیں کہ ابو حنیفہؒ نے دس سال تک میرا اور میرے اہل و عیالکا نفقہ برداشت کیا میں نے ان سے بڑھ کراخلاقِ حسنہ کا جامع کسی کو نہیں دیکھا۔
امام ابو یوسفؒ فرماتے ہیں کہ جب میں امام صاحبؒ سے کہتا کہ میںنے آپ سے بڑھ کر سخی نہیں دیکھا تو فرماتے کہ اگر تم  میرے استاد حمادؒ کودیکھتے تو ایسا نہ کہتے۔
اسحاقؒ بن اسرائیلؒ نے فرمایا کہ میں نے اپنےوالدِ محترم سے سنا کہ امام ابو حنیفہؒ بہت سخی تھے۔ اپنے دوستوں اور شاگردوںکی  بڑی غم خواری کرتے تھے۔ خاص کر عید کے موقع پر خوب تحائف بھیجتے۔ جسکو شادی کی ضرورت ہوتی اس کی شادی کرواتے۔ سارا خرچ خود برداشت کرتے، اس کی ضروریات کی بھر پور کفالت کرتے۔
حسن بن سلیمانؒ کہتے ہیں کہ انہوںنے امام ابو حنیفہؒ سے بڑا سخی نہیں دیکھا۔ اپنے شاگردوں میں سے ایک جماعتکا ماہانہ وظیفہ مقرر کر رکھا تھا۔ اس کے علاوہ سالانہ الگ سے مقرر تھا۔
حسن بن زیادؒ فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ نے اپنے ایک شاگرد کے بدن پرخراب کپڑے دیکھے۔ جب وہ جانے لگا تو اس سے کہا ’’بیٹھے رہو۔ ‘‘ جب لوگ چلےگئے اور وہ تنہا رہ گیا تو فرمایا ’’مصلی اٹھاؤ جو کچھ اس کے نیچے ہے لےلو اور اپنی حالت درست کرو۔ ‘‘ اس نے مصلیٰ اٹھایا تو اس کے نیچے ایک ہزاردرہم تھے۔ 
فضل بن عیاضؒ سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ اپنےشاگردوں کی بہت مدد کرتے تھے۔ اگر کوئی محتاج ہوتا تو غنی کر دیتے۔ اس کےعیال پر بھی طالب علمی کے زمانہ میں خرچ کرتے۔ جب وہ پڑھ چکتا تو فرماتے کہاب تم بہت بڑی مالداری تک پہنچ چکے کیونکہ حلال اور حرام کوسمجھ گئے ہو۔
علی بن جعدؒ سے روایت ہے کہ الحاجؒ نے امام صاحبؒ کو ایک ہزار جوتے ہدیہ میںبھیجے انہوں نے طلبہ کو تقسیم کر دیئے۔ اس کے بعد ان کوجوتے خریدنے کیضرورت پڑی کسی نے عرض کیا حضرت وہ جوتے کیا ہوئے؟ فرمایا اس میں سے کوئیبھی میرے گھر نہیں پہنچا، وہ سب میں نے ساتھیوں کو بخش دیئے تھے۔
قیس بن ربیعؒ سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ ہر اس شخص کے ساتھ بہت زیادہ احسانو مروت کرتے تھے جو ان سے رجوع کرتاتھااوراپنےاخوان پر بے حد فضل فرماتے تھے۔

علماء کی خدمت میں ہدایا

امام صاحبؒ نے شیوخ و محدثینکے لئے تجارت کا ایک حصہ مخصوص کر دیا تھا۔ اس سے جو نفع ہوتا تھا سال کے سال ان لوگوں کوپہنچادیاجاتاتھا۔
امام ابو حنیفہؒ بغداد میں نقودبھیجتے تھے۔ اس سے سامان خرید کر کوفہ لایا جاتا اور بیچا جاتا تھا۔ اسسے جو نفع ہوتا اس کو جمع کرتے پھر محدثین کرام کی ضروریات، کپڑے، کھانےکی چیزیں خرید کر انہیں ہدیہ کرتے۔ بعد میں بچی ہوئی رقم نقد کی صورت میں پیش کرتےاورفرماتےکہ صرف اﷲ کی تعریف کریں میری نہیں اس لئے کہ میں نےاپنے مال میں سے کچھ نہیں دیا ہے بلکہ اﷲ تعالیٰ کے فضل سے دیا ہے جو اسنے مجھ پر کیا۔ بخدا یہ آپ لوگوں کی امانت ہے جس کو اﷲ رب العزت میرےہاتھوں آپ لوگوں تک پہنچا رہا ہے۔
وکیع بن جراح سے روایت ہے کہ امامابو حنیفہؒ نے فرمایا کہ چالیس سال سے میرا دستور یہ ہے کہ جب چار ہزار درہمسے زیادہ کا مالک ہوجاتاہوں تو زیادتی کو خرچ کر دیتا ہوں۔ اس کو اس لئےروکتا ہوں کہ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ’’چار ہزار درہم اور اس سے کم نفقہ ہے۔ ‘‘ اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میں لوگوں کا محتاج ہو جاؤں گا تو ایکدرہم بھی اپنے پاس نہ روکتا۔
امام ابو یوسفؒ سےروایت ہے کہ امامابو حنیفہؒ سے جب کسی حاجت کا سوال کیا جاتا وہ پوری فرماتے۔ اسماعیل بن حماد بن ابو حنیفہؒ سے روایت ہے کہ جب حمادؒ (امام صاحب کے بیٹے) نے الحمدشریف مکمل کی تو معلم کو پانسو (500) درہم انعام بھیجے۔ معلم کو جب رقمپہنچی تو اس  نے کہا میں نے کیا کیا ہے جو اتنی بڑی رقم انعام میں دی؟ امامصاحبؒ کو خبر ہوئی تو خود حاضرِ خدمت ہوئے اور فرمایا بزرگوار ! جو کچھ آپ نےمیرے بچے کو پڑھا دیا اس کو حقیر مت سمجھئے۔ میرے پاس اگر اس سے زیادہہوتا تو قرآن کریم کی تعظیم میں اور زیادہ پیش کرتا۔
سفیان بن عیینہ سےروایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کثیر الصیام  و الصدقات تھے جو مال بھی ان کونفع ہوتا تھا، اس کو خرچ کر دیتےتھے۔میرےپاس ایک مرتبہ بہت زیادہ ہدیہبھیجا۔ اتنا زیادہ کہ مجھ کو اس کی زیادتی سے وحشت ہوئی۔ میں نے ان کے بعض
ساتھیوں سے شکایت کی۔ انہوں نے کہا یہ کیا ہے اگر آپ ان تحائف کو دیکھتےجو انہوں نے سعید بن عروبہؒ کو بھیجے تھے تو ہرگز تعجب نہ کرتے۔ پھرفرمایا کہ کوئی محدث ایسا نہیں تھا جس کے ساتھ آپؒ بے پناہ احسان نہ کرتےہوں۔مسعر بن کدامؒ سےروایت ہے کہ امام ابوحنیفہؒ کا دستور تھا کہ جباپنے اہل و عیال کے لئے کچھ خریدتے تو اتنا ہی کبارِ علماء پر خرچ کرتے اورجب اہل و عیال کےلئےکپڑاخریدتےتوعلمائے مشائخ کے لئے بھی اتنی ہیمقدار خریدتے اور جب پھلوں اور کھجوروں کا موسم آتا تو جو چیز اپنے اوراہل وعیال کے لئے خریدنے کا ارادہ کرتے پہلے علماء و مشائخ کے لئے اتنا ہیخرید لیتے جتنا بعد میں اپنے لئے خریدتے۔

تلامذہ اور ان کی تصنیفات

شاگردکا رتبۂ اعزاز استاد کے لئے باعثِ فخر خیال کیا جاتا ہے۔ اگر یہ فخر صحیحہے تو اسلام کی تمام تاریخ میں کوئی شخص امام ابو حنیفہؒ سے بڑھ کر اس فخرکا مستحق نہیں ہے۔ امام صاحبؒ اگر یہ دعویٰ کرتے تو بالکل بجا تھا کہ جولوگ امام صاحبؒ کے شاگرد تھے وہ بڑے بڑے ائمہ مجتہدین کے شیخ اور استادتھے۔ امام شافعیؒ ہمیشہ کہا کر تے تھے کہ میں نے امام محمدؒ سے ایک بارشتر علم حاصل کیا ہے۔ ‘‘ یہ وہی امام محمدؒ ہیں جوامام ابو حنیفہؒ کے مشہورشاگرد ہیں اور ان کی تمام عمر امام صاحبؒ کی حمایت میں صرف ہوئی۔
حافظابوالمحاسن شافعیؒ نو  سو اٹھارہ شخصیتوں کے نام بقیدِ نام و نسب لکھے ہیںجو امام صاحبؒ کے حلقۂ درس سے مستفید ہوئے تھے۔ ان لوگوں کے حالات صرفامام ابو حنیفہؒ کی تاریخ سے وابستہ نہیں ہیں بلکہ اس سے عام طور پر حنفیفقہ کے متعلق ایک اجمالی خیال قائم ہوتا ہے۔ یعنی ان لوگوں کی عظمت و شانسے فقہ حنفی کی خوبی اور عمدگی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی امام صاحبکا بلند رتبہ ہونا ثابت ہوتا ہے کہ جس شخص کے شاگرد اس رتبہ کے ہوں گے وہخود کس پایہ کا ہو گا؟
خطیب بغدادی نے وکیع بن الجراح کے حال میں جوایک مشہور محدث تھے لکھا ہے کہ ایک موقع پر وکیع کے پاس چند اہلِ علم جمع
تھے کسی نے کہا اس مسئلہ میں ابو حنیفہؒ نے غلطی کی۔ وکیع بولے ’’ابو حنیفہؒکیونکر غلطی کر سکتے ہیں ! ابویوسفؒ وزفرؒ قیاس میں، یحیٰٰ بن
زائدہؒ، حفص
بن غیاثؒ، حبان اور مندلؒ حدیث میں، قاسم بن معنؒ لغت وعربیت میں، داؤدالطائیؒ وفضیل بن عیاضؒ زہد و تقویٰ میں،اس رتبہ کے لوگ جس شخص کے ساتھ ہوںوہ کہیں غلطی کر سکتا ہے۔ اور کرتا بھی تو یہ لوگ اس کو کب غلطی پر رہنےدیتے،،۔

آ پ کے تلامذۂ محدثین

یحیٰ بن سعید القطانؒ

فن رجالکا سلسلہ ان ہی سے شروع ہوا۔ علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ فن رجال میں اولجس شخص نے لکھا وہ یحی بن سعید القطانؒ ہیں۔ امام احمد بن حنبلؒ کا قول ہے ’’ میں نے اپنی آنکھوں سے یحیٰ کا مثل نہیں دیکھا۔ ‘‘
اس فضلو کمال کے ساتھ امام ابو حنیفہؒ کے حلقۂ درس میں اکثر شریک ہوتے اور انکیشاگردی پر فخر کرتے تھے۔ علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ یحیٰ بن سعید القطانؒاکثر امام ابو حنیفہؒ کے قول پر ہی فتوی دیا کرتے تھے۔ 120ھ میں پیدا ہوئےاور 198ھ میں بمقام بصرہ وفات پائی۔

عبداللہ بن مبارکؒ 

محدثین انکو امیر المؤمنین فی الحدیث کے لقب سے پکارتے ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم میں ان کی روایت سے سیکڑوں حدیثیں مروی ہیں۔
یہ امام ابو حنیفہؒ کے مشہور شاگردوں میں ہیں اور امام صاحبؒ کے ساتھ ان کاخاص خلوص تھا۔ ان کو اعتراف تھا کہ جو کچھ مجھ کو حاصل ہواوہ امام ابوحنیفہؒ اور سفیان ثوریؒ کے فیض سے حاصل ہوا ہے۔ ان کا مشہور قول ہے کہ ’’اگر اللہ نے ابو حنیفہؒ و سفیان ثوریؒ کے ذریعہ سے میری دستگیری نہ کیہوتی تو میں ایک عام آدمی سے بڑھ کر نہ ہوتا۔ ‘‘ مرو کے رہنے والے تھے۔ 118ھ میں پیدا ہوئے اور 181ھ
میں بمقام ہیت وفات پائی۔

یحیٰ بن زکریا بن ابی زائدہؒ

مشہور محدث تھے۔ علامہ ذہبیؒ نے تذکرۃ الحفاظ میں انہیں حافظ الحدیث میںشمار کیا ہے۔ صحاحِ سۃ میں ان کی روایت سے بہت سی حدیثیں ہیں۔ وہ محدث اورفقیہ دونوں تھے۔ اور ان دونوں فنون میں بہت بڑا کمال رکھتے تھے۔  
یہامام ابو حنیفہؒ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ اور مدت تک ان کے ساتھ رہے۔ یہاں تک کہ علامہ ذہبیؒ نے تذکرۃ الحفاظ میں ان  کوصاحب ابی حنیفہؒ کا لقبدیا ہے۔ تدوینِ فقہ میں امام صاحبؒ کے شریکِ اعظم تھے۔ خاص کر تصنیف وتحریر کی خدمت انہی سے متعلق تھی۔ مدائن میں منصب قضا پر ممتاز تھے اور وہیں182ھ میں تریسٹھ برس کی عمر میں وفات پائی۔

وکیع بن جراحؒ

فنِحدیث کے ارکان میں شمار کئے جاتے ہیں۔ امام احمد بن حنبلؒ کو ان کیشاگردی پر فخر تھا۔ بخاری و مسلم میں اکثر ان کی روایت سے حدیثیں مذکور ہیں۔ فنِ حدیث و رجال کے متعلق ان کی روایتیں اور رائیں نہایت مستند خیال کیجاتی ہیں۔  
یہ امام ابو حنیفہؒ کے شاگردِ خاص تھے اور ان سے بہت سیحدیثیں سنی تھیں۔ خطیب بغدادیؒ نے لکھا ہے کہ اکثر امام صاحبؒ کے قول کےموافق فتوی دیتے تھے۔ علامہ ذہبیؒ نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ 197ھ میںوفات پائی۔

حفصبن غیاثؒ

بہت بڑے محدث تھے۔ خطیب بغدادیؒ نے انکوکثیر الحدیث لکھا ہے۔ اور علامہ ذہبیؒ نے انکو حفاظ حدیث میں شمار کیا ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ، علی بن المدینیؒ وغیرہ نے ان سے حدیثیں روایت کیہیں۔ یہ اس خصوصیت میں ممتاز تھے کہ جو کچھ روایت کر تے تھے زبانی  کرتےتھے۔ کاغذ یا کتاب پاس نہیں رکھتے تھے۔ چنانچہ اس طرح جو حدیثیں روایت کیان کی تعداد تین یا چار ہزار ہے۔یہ امام صاحبؒ کے  ارشد تلامذہ میںسے تھے۔ امام صاحبؒ کے شاگردوں میں چند بزرگ نہایت مقرب اور با اخلاص جنکینسبت تھے وہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’تم میرے دل کی تسکیں  اور میرے غم کےمٹانے والے ہو۔ ‘‘
حفصؒ کی نسبت بھی امام صاحبؒ نے یہ الفاظ ارشاد فرمائے
ہیں۔ 117ھ میں پیدا ہوئے اور تیرہ برس کوفہ میں اور دو برس  بغدادمیںقاضی رہے 196ھ میں وفات پائی۔

ابو عاصم النبیلؒ

انکا نام ضحاک بنمخلد اور لقب نبیل  ہے۔ مشہور محدث ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں ان کیروایت سے بہت سی حدیثیں مروی ہیں۔ علامہ ذہبیؒ نے میزان الاعتدال میںلکھا ہے کہ ان کی توثیق پر تمام لوگوں کا اتفاق ہے۔ نہایت پارسا اورمتورع انسان تھے۔ امام بخاریؒ نےروایت کی ہے کہ ابو عاصمؒ نے خود کہا کہ ’’جب سے مجھے معلوم ہوا کہ غیبت حرام ہے میں نے آج تک کسی کی غیبت نہیںکی۔
یہ بھی امام صاحبؒ کے مختص شاگردوں میں تھے۔ خطیب بغدادیؒ نےاپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ کسی نے ان سے پوچھا کہ سفیان ثوریؒزیادہ فقیہ ہیں یا ابو حنیفہؒ؟ بولے کہ ’’موازنہ تو ان چیزوں میں ہو تا ہےجو ایک دوسری سے ملتی جلتی ہوں۔ امام ابو حنیفہؒ نے فقہ کی بنیاد ڈالی ہےاور سفیان ثوریؒ صرف فقیہ ہیں۔ ‘‘ 212ھ میں نوے برس کی عمر وفات پائی۔

عبد الرزاق بن ہمامؒ

بہتبڑے نامور محدث تھے۔ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ ان کی روایتوں سے مالا مالہیں۔ امام احمد بن حنبلؒ سے کسی نے پوچھا کہ حدیث کی روایت میں آپ نے عبدالرزاق سے بڑ ھ کر کسی کو دیکھا؟ جواب دیا کہ ’’نہیں‘‘ بڑے بڑے ائمہ حدیثمثلاً امام سفیان بن عیینہؒ، یحیٰ بن معینؒ، علی بن المدینیؒ اور اماماحمد بن حنبلؒ فن حدیث میں ان کے شاگرد تھے۔
حدیث میں ان کی ایک ضخیم تصنیف موجود ہے۔ جو ’’جامع عبد الرزاق ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ امام بخاریؒنے اعتراف کیا ہے کہ ’’میں اس کتاب سے مستفید ہوا ہوں۔ ‘‘ علامہ ذہبیؒ نےاس کتاب کی نسبت میزان الاعتدال میں لکھا ہے کہ ’’علم کا خزانہ ہے۔ ‘‘
انکو امام ابو حنیفہؒ سے فن حدیث میں تلمذ تھا۔ امام ابو حنیفہؒ کی صحبتمیں بہت زیادہ رہے چنانچہ ان کے اخلاق و عادات کے متعلق ان کے اکثر اقوالکتابوں میں مذکور ہیں۔ ان کا قول تھا کہ’’ میں نے ابو حنیفہؒ سے بڑھ کر کسیکو حلیم نہیں دیکھا۔

داؤد الطائیؒ

خدا نے عجیب حسنِ قبول دیاتھا۔ فقہاء کرام ان کے تفقہ اور اجتہاد کے قائل ہیں۔ محدثین کا قول ہے کہ ’’ثقۃ بلانزاع‘‘۔ اور حقیقت یہ ہے کہ وہ ان تمام القاب کے مستحق تھے۔  
یہامام ابو حنیفہؒ کے مشہور شاگرد ہیں۔ خطیب بغدادیؒ، ابن خلکانؒ، علامہذہبیؒ، اور دیگر مؤرخین نے جہاں ان کے حالات لکھے ہیں، امام صاحبؒ کیشاگردی کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا ہے۔ تدوینِ فقہ میں امام صاحبؒ کے شریکتھے اور مجلس کے معزز ممبر تھے۔ 160ھ میں وفات پائی۔
ان بزرگوں کے سوااور بھی بہت سے نامور محدثین مثلا فضل بن دکینؒ، حمزہ بن الزیاتؒ، ابرہیمبن طہمانؒ۔ سعید بن اوسؒ، عمر بن  میمونؒ، فضل بن موسیٰؒ، وغیرہ  وغیرہامام صاحبؒ کے تلامذہ میں داخل ہیں لیکن ہم نے صرف ان لوگوں کا ذکر کیاہے۔ جو تلامذۂ خاص کہے جا سکتے ہیں اور جو مدتوں امام صاحبؒ کی صحبتوں سےمستفید ہوئے ہیں۔

تلامذۂفقہاء

بعد میں آنےوالے امام صاحبؒ کے تلامذہ کا آپ کے مذہب کو نقل کر کے محفوظ کر دینا بلاشبہ ایک عظیم خدمت ہے اور اس سے امامؒ کی جلالتِ شان میں قابلِ قدر اضافہہوا کیونکہ یہ اصحاب بذات خود ائمہ فقہ تھے۔

امام یوسفؒ

قاضیابو یوسفؒ (یعقوب بن ابراہیم ) بن حبیب انصاری، کوفہ میں پیدا ہوئے۔ وہیںتعلیم پائی اور کوفہ میں سکونت پذیر رہے۔ آپ عربی النسل تھے۔ موالی میں سےنہ تھے۔ 133ھ میں ولادت ہوئی اور 182ھ میں وفات پائی۔
آپ بچپن میں بہت غریب تھے۔ ابو حنیفہؒ کی مالی امداد سے آپ نے تعلیم حاصلکی۔امام ابن جریر طبریؒ لکھتے ہیں ’’قاضی ابو یوسفؒ بڑےفقیہ عالم اور حافظ تھےحفظِ حدیث میں بڑی شہرت رکھتے تھے محدث کے یہاں حاضر ہو تے اور پچاس یا ساٹھ احادیث تک یاد کر لیتےپھر کھڑے ہو کر املا کرا دیتے۔ بڑے کثیر الحدیثتھے۔ آپ تین خلفاء خلیفہ مہدی، ہادی اور ہارون رشید کے قاضی رہے۔

جب امام ابو یوسف نے الگ حلقۂ درس قائم کر لیا

ایکمرتبہ امام صاحبؒ نے امام ابو یوسفؒ کے بارے میں لوگوں سے معلومات کیںتو لوگوں نے بتلایا کہ انہوں نے اپنا حلقۂ درس الگ قائم کرلیا ہے۔امامصاحبؒ نے ایک معتبر آدمی کو بلایا کہ ابو یوسفؒ کی مجلس میں جاؤ اور یہمسئلہ معلوم کرو کہ ایک آدمی نے ایک دھوبی کو کپڑا دیا کہ دو درہم میں اسکو دھو کر دے۔ کچھ دنوں کے بعد جب دھوبی کے پاس کپڑا لینے گیا تو دھوبی نےکپڑے ہی کا انکار کر دیا اور کہا تمہاری کوئی چیز میرے پاس نہیں۔ وہ آدمیواپس آگیا پھر دوبارہ اس کے پاس گیا اور کپڑا طلب کیا تو دھوبی نے دھلاہوا کپڑا اسے دے دیا۔ اب دھوبی کو دھلائی کی اجرت ملنی چاہئے یا نہیں۔ اگروہ کہیں ہاں تو کہنا آپ سے غلطی ہو ئی اور اگر کہیں اس کو مزدوری نہیں ملےگی تو بھیکہنا غلط ہے۔
وہ آدمی امام ابو یوسفؒ کی مجلس میں گیا اورمسئلہ معلوم کیا۔ امام ابو یوسفؒ نے فرمایا اس کی اجرت واجب ہے اس آدمی نے کہا غلط۔ امام ابو یوسفؒ نے غور کیا پھر فرمایا نہیں اس کو اجرت نہیںملے گی۔ اس آدمی نے پھر کہا غلط۔ امام ابو یوسفؒ فوراً اٹھے امامابو حنیفہؒ کی مجلس میں پہنچ گئے۔امام صاحبؒ نے فرمایا معلوم ہو تا ہےکہ آپ کو دھوبی کا مسئلہ لایا ہے۔ ابو یوسف نے عرض کیا جی ہاں۔ امامصاحب نے فرمایا سبحان اللہ جو شخص اس لئے بیٹھا ہو کہ لوگوں کو فتویٰ دے۔ اس کام کے لئے حلقۂ درس جما لیا، اللہ تعالیٰ کے دین میں گفتگو کرنے لگااور اس کا مرتبہ یہ ہے کہ اجارہ کے ایک مسئلہ کا صحیح جواب نہیں دےسکتا۔ ابو یوسفؒ نے عرض کیا استاذِ محترم! مجھے بتلا دیجئے۔ امام صاحبؒ نےفرمایا اگر اس نے دینے سے انکار کے بعد دھویا ہے تو اجرت نہیں کیونکہ اسنے اپنے لئے دھویا ہے اور اگر غصب سے پہلے دھویا تھا، تو اس کو اجرت ملے گی اس لئے کہ اس نے مالک کے لئے دھو یا تھا۔
قاضی ابو یوسفؒ  امام ابو  حنیفہؒ کے پہلے شاگرد ہیں۔ جنہوں نے فقہ حنفی میں تصنیفات کیں جن میںانہوں نے اپنے اور اپنے استاذ امام ابو حنیفہؒ کے افکار و نظریات کو مدونکیا ہے۔ مختلف علوم میں ان کی تصنیفات بہت ہیں، ابن الندیم لکھتے ہیں کہابو یوسفؒ کی تصانیف یہ ہیں :
( 1 ) کتاب الصلاۃ ( 2 ) کتاب الزکوۃ ( 3 ) کتابالصیام ( 4 ) کتاب الفرائض ( 5 ) کتاب البیوع ( 6 ) کتاب الحدود ( 7 ) کتاب الوکالۃ (8)کتاب الوصایا ( 9 )کتاب الصید و الذبائح  ( 10 ) کتاب الغضب و الاستبراء ( 11 ) کتاب اختلاف الامصار ( 12 ) کتاب الرد علی مالک بن انس ( 13 ) مسائلِ خراج پر مشتمل ایک مکتوب بنام ہارون الرشید، کتاب الجوامع جو آپ نے یحی بنحامدؒ کے لئے تصنیف کی یہ چالیس کتابوں پر مشتمل ہے۔ اس میں انہوں نے لوگوںکے اختلاف اور قابل عمل رائے کا ذکر کیا ہے۔
یہ ابن ندیمؒ کا بیانہے لیکن انہوں نے بعض کتابوں کا ذکر نہیں کیا۔ ان کتابوں میں امام ابوحنیفہؒ کے افکار و نظریات اور ان کی طرف سےدفاع پر مشتمل ہیں اور وہ کتابیںیہ ہیں :کتاب الآثار، اختلاف ابن ابی لیلی، الرد علی سیر الاوزاعی، کتابالخراج۔

کتابالخراج

امام ابو یوسفؒ کی مشہور تصنیف کتاب الخراجہے جس کو ہارون رشید کی درخواست پر تحریر کی تھی۔ اس میں مختلف مضامینہیں لیکن زیادہ خراج کے مسائل ہیں۔ اور اس لئے اس کو ہر زمانہ کا قانونِمال گزاری کہہ سکتے ہیں۔ اس کتاب میں زمین کے اقسام، لگان کی مختلف  شرحیں کاشتکاروں کی  حیثیتوں کا اختلاف، پیداوار کی قسمیں اور اس قسم کے دوسرےمسائل کو بہت ہی خوبی اور دقتِ نظر سے منضبط کیا اور ان کے قواعد اورہدایتوں کے ساتھ جابجا ان ابتریوں کا ذکر ہے جو انتظامات سلطنت میں موجودتھیں۔ اور ان پر نہایت بے باکی کےساتھ خلیفۂ وقت کو متوجہ کیا ہے۔

امام محمدؒ

آپکا نام محمد بن حسن شیبانیؒ ہے اور کنیت ابو عبد اللہ تھی۔ چونکہ قبیلۂشیبان کے مولی سے تھے، اس لئے شیبانی کہلائے۔ آپ نسباً قبیلۂ شیبان سےمتعلق تھے۔ آپ کی ولادت 132ھ اور وفات 189ھ میں ہوئی۔امام محمدؒفقہ الرائے اور فقہ الحدیث کے جامع تھے۔ وہ ایک طرف عراقی فقہ کے راویتھے تو دوسری جانب مؤطاء امام مالکؒ کے راوی۔  تدوین فقہ کی طرف آپکی خاص توجہ تھی۔ سچی بات یہ ہے کہ عراقی فقہ کو متاخرین تک نقل کرنے کاسہرا امام محمدؒ کے سر ہے۔ اس پر طرّہ یہ کہ آپ صرف عراقی فقہ کے ناقل نہتھے بلکہ آپ نےامام مالکؒ سے مؤطا روایت کی اور اسے مدون کیا۔ مؤطاامام مالک کے راویوں میں امام محمدؒ کی روایت۔ عمدہ روایات۔ میں سے تسلیمکی گئی ہے۔
عراقی فقہ کے حلقہ بگوش ہونے کے باعث آپ امام مالکؒ اوراہل حجاز کی تردید بھی کرتے تھے۔ امام محمدؒکو عراقی فقہاء میں جو مقامبلند حاصل ہوا اس کے وجوہ و اسباب یہ تھے ( 1 ) آپ ایک صاحبِ اجتہاد امام تھےاور آپ کے فقہی نظریات بڑے بیش قیمت تھے جن میں بعض آراء کو حق سے بہتقریب کر دیا ہے۔ ( 2) آپ اہلِ عراق اور اہلِ حجاز دونوں کی فقہ کے جامع تھے۔ (3 ) عراقی فقہ کے جامع راوی اور اسے اخلاف تک پہنچانے والے تھے۔امام محمدؒ کی تصانیف حنفی فقہ کی اولین مرجع سمجھی جاتی ہیں۔
اماممحمدؒ کی تصنیفات عداد میں بہت زیادہ ہیں۔ اور آج فقہ حنفی کا مدار انہی کتابوں پر ہے۔ ہم ذیل میں ان کتابوں کی فہرست لکھتے ہیں جن میں ابوحنیفہؒ کے مسائل روایتاً مذکور ہیں اس لئے وہ فقہ حنفی کے اصلِ اصول خیالکئے جاتے ہیں۔  

مبسوط

یہ کتاب قاضی ابو یوسفؒ کی تصنیف ہے جن کے مسائل کو امام محمد نے زیادہ توضیح اور خوبی سے لکھا ہے۔

جامع صغیر

مبسوطکے بعد تصنیف ہوئی۔ اس کتاب میں امام محمدؒ نے قاضی ابو یوسف کی روایت سےامام ابو حنیفہؒ کے تمام اقوال لکھے ہیں۔ اس کتاب کی تیس چالیس شرحیں لکھی گئیں جن کے نام اور مختصر حالات کشف الظنون میں ملتے ہیں۔

جامع کبیر

جامعصغیر کے بعد لکھی گئی ضخیم کتاب ہے۔ اس میں امام ابو حنیفہؒ کے اقوال کےساتھ قاضی ابو یوسفؒ اور امام زفرؒ کے اقوال بھی لکھےہیں۔ہر مسئلہ کےساتھ دلیل لکھی ہے۔ متأخرین حنفیہ نے اصول فقہ کے جو مسائل قائم کئے ہیںزیادہ تر اسی کتاب کے طرزِ استدلال اور طریق استنباط سے کئے ہیں۔ بڑے بڑ ےفقہاء نے اس کی شرحیں لکھیں جن میں سے بیالیس شرحوں کا ذکر کشف الظنونمیں ہے۔

زیادات

جامع کبیر کی تصنیف کے بعد جو فروع یاد آئے وہ اس میں درج کئے اور اسی لئے زیادات نام رکھا۔

مؤطا امام محمدؒ

حدیثمیں ان کی کتاب مؤطا مشہور ہے (یہ امام مالکؒ کی مؤطا سے الگ ہے) جو اسزمانہ سے آج تک تمام مدارس اسلامیہ میں داخل نصاب ہے۔ اس کے علاوہ کتابالحج جو امام مالک کی رد میں لکھی ہے اس میں اول امام محمدؒ ابو حنیفہؒ کاقول نقل کر تے ہیں پھر مدینہ والوں کا اختلاف بیان کر کے حدیث، اثر، قیاسسے ثابت کرتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ کا مذہب صحیح ہے اور دوسروں کا غلط۔ امام رازیؒ نے مناقب الشافعی میں اس کتاب کا ذکر کیا ہے۔ یہ کتاب چھپ گئی ہے۔ اور ہر جگہ ملتی ہے۔

سیر صغیر و کبیر

یہ سب سے اخیرتصنیف ہے اور جب ’’سیر صغیر‘‘ لکھی تو اس کا ایک نسخہ امام اوزاعیؒ کی نظرسے گزرا۔ انہوں نے طعن سے کہا کہ اہلِ عراق کو فن سیر سے کیا نسبت !
اماممحمدؒ نے سنا تو ’’سیر کبیر‘‘ لکھنی شروع کی، تیار ہو گئی تو ساٹھ جزوں میںآئی امام محمدؒ اس ضخیم کتاب کو گھوڑے پر رکھوا کر ہارون رشید کے پاس لےگئے۔ ہارون رشید کو پہلے سے خبر ہو چکی تھی۔ اس نے قدردانی کے لحاظ سےشہزادوں کو بھیجا کہ خود جا کر امام محمدؒ کا استقبال کریں اور ان سے اسکی سند لیں۔

امام محمدؒ کی دیگر تصنیفات

امام محمدؒ کی دو کتابیںاور ہیں جنہیں عام طور پر علماء ذکر نہیں کرتے
( 1 ) ’’الرد علی اہل المدینہ‘‘یہ کتاب دو لحاظ سے بڑی قیمتی ہے اول یہ کہ  سندا ً یہ ثابت اور روایۃًصادق ہے۔ اس کے مستند ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ امام شافعیؒ نے ’’کتاب الامّ ‘‘ میں اسے روایت کیا اور اس کی تدوین فرمائی۔ دوسرے یہ کہکتاب مدلل ہے اور اس میں قیاس سنت اور آثار پر مشتمل دلائل ذکر کئے گئےہیں۔ اس حیثیت سے یہ فقہ کے تقابلی مطالعہ کی کتاب ہے۔  
ایسے ہی ایکدوسری کتاب’’ کتاب الآثار‘‘ ہے۔ اس میں انہوں نے وہ احادیث اور آثار جمعکر دئے ہیں جو عراقی فقہاء میں عام طور پر  متداول تھے اور امام ابو حنیفہؒنے انہیں روایت کیا تھا، اس کی اکثر روایات امام ابو یو سفؒ کی کتابالآثار سے ملتی جلتی ہیں۔ یہ دونوں کتابیں امام ابو حنیفہؒ کی مسند سمجھیجاتی ہیں۔ یہ ہر دو کتب اس نقطۂ نظر سے بڑی قدرو قیمت رکھتی ہیں کہ ان سےامام ابو حنیفہؒ کے حدیث، آثارِ صحابہؓ و تابعینؒ سے متعلق مقدارِ علم کاپتہ چلتا ہے اور معلوم کیا جا سکتا ہے کہ استدلال و احتجاج کرتے وقت آپاحادیث و آثار پر کہاں تک اعتماد کرتے تھے۔ قبولِ روایت میں امام صاحبؒکے نزدیک کون سے شروط تھے حنفی مذہب کا مدارِ استدلال کیا ہے کیونکہ انمیں مندرجہ تمام فتاوی اور فیصلے نصوص سے مدلل کئے ہیں پھر ان سے علل کااستنباط کیا گیا۔ اور ان پر قیاس کی عمارت تعمیر کی گئی ہے، تفریعاتنکالی گئیں اور قواعد و اصول وضع کئے گئے۔  
مذکورہ بالا تصنیفات امامابو حنیفہؒ کے خاص شاگرد امام محمدؒ اور امام ابو یوسفؒ کی ہیں یہ دونوں فقہحنفی کے دو بازو ہیں۔ جن کی تمام عمر امام صاحب کی حمایت میں صرف ہوئی۔

زفرؒ

زفر بن ہذیلؒ امام صاحب کے دونوں ارشد تلامذہ امام ابو یوسفؒ و امام محمدؒ سے صحبت کے اعتبار سے مقدم تھے۔آپ110ھ میں پیدا ہوئے اور158ھ میں وفات پائی۔آپکے والد عربی النسل اور والدہ فارس کی رہنے والی تھیں اس لئے آپ میں دونوںعناصرکےخصوصیات جمع ہو گئے۔ آپ زورِ کلام اور قوتِ بیان سے متصف تھے۔
امام ابو حنیفہؒ سے فقہ الرائے حاصل کی اور اسی کے ہو کر رہ گئے۔ آپ قیاسو اجتہاد میں بڑے تیز تھے۔ تاریخِ بغداد میں چاروں فقیہ بزرگوں کا تقابلکرتے ہوئے لکھا ہے ’’ ایک شخص امام مزنیؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اہلِعراق کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے امام مزنیؒ سے کہا ابو حنیفہؒ کے بارےمیں آپ کی کیا رائے ہے؟ امام مزنیؒ نے کہا۔ ’’اہلِ عراق کے سردار ہیں۔ ‘‘ اسنے پھر پوچھا اور ابو یوسف کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ امام مزنیؒ بولے ’’ وہ سب سے زیادہ حدیث کی اتباع کرنے والے ہیں۔ ‘‘ اس شخص نے پھر کہا اورامام محمدؒ کےبارے میں کیا فرماتے ہیں؟ مزنیؒ فرمانے لگے ’’وہ تفریعاتمیں سب پر فائق ہیں۔ ‘‘ وہ بولا اچھا تو زفرؒ کے متعلق فرمائیے؟ امام مزنی بولے ’’وہ قیاس میں سب سے زیادہ ہیں۔‘‘
امام ابو حنیفہؒ ان کی نسبت فرمایا کرتے تھے کہ۔ ’’ اقیس اصحابی ‘‘۔

حسن بن زیادؒ

حسن بن زیاد لولوی کوفی المتوفی 204ھ کا بھی ان فقہائے حنفیہمیں شمار ہو تا ہے جو آراء امام ابو حنیفہؒ کے راوی ہیں۔  لوگ کثرت سے آپ کی فقہ کے ثنا خواں تھے۔ یحیٰبن آدم کا قول ہے ’’میں نے حسن بن زیادؒ سے بڑھ کر فقیہ نہیں دیکھا۔ ‘‘ابن الندیمؒ اپنی کتاب الفہرست میں لکھتے ہیں ’’طحاویؒ فرماتے ہیں کہ حسنبن زیادؒ امام ابو حنیفہؒ کی کتاب المجرد کے راوی ہیں نیز انہوں نے یہ کتبتصنیف کیں : کتاب ادب القاضی، کتاب الخصال، کتاب معانی الایمان، کتابالنفقات، کتاب الخراج، کتاب الفرائض، کتاب الوصایا،۔ (حیات حضرت امام ابوحنیفہ)
انصاف یہ ہے کہ امام صاحبؒ کے بعض شاگرد اس رتبہ کے عالم تھےکہ اگر امام ابو حنیفہؒ کی تبعیت سے الگ ہو کر مستقل اجتہاد کا دعویٰ کرتے تو ان کا جدا طریقہ قائم و جاتا اور امام مالکؒ و شافعیؒ کی طرح انکے بھی ہزاروں لاکھوں مقلد ہو جاتے۔ اس سے ابو حنیفہؒ کا بلند مرتبہ ہوناثابت ہوتا ہے کہ جس کے شاگرد اس رتبہ کے ہوں گے۔ وہ خود کس پایہ کا ہو گا؟

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: