مذہبِ شیعہ کی ابتداء:ان کافرقوں میں بٹنا:02

پہلا فرقہ
ان مخلصین اور جاں نثارساتھیوں کا ہے جو اہل سنت والجماعت کے مقتداء وپیشوا ہیں يہ حضرات، اصحاب کبار، ازواج  مطہراتؓ کی حق شناسی اور ظاہر و باطن کی پاسداری نیز جنگ وجدل کے باجود سینہ کے بے کینہ اور پاک و صاف رکھنےمیں جناب علی المرتضیٰ ؓ کے قدم بقدم رہے۔ ان کو ہی شیعان اولیٰ، اور شیعان مخلصین کہتے ہيں اور مصداق آیت  کریمہ لیس لک عليھم سلطان (البتہ میرے خاص بندوں پر تیرا غلبہ نہ ہو سکے گا)
يہ حضرات ہر حیثیت سے اس دھوکہ باز شیطان کے شر سے محفوظ و مامون رہے۔ اور ان کے دماغ پر اس شیطان کےگندے عقائد کاکوئی دھبہ نہ لگ سکا۔ حضرت علی ؓ نے خود اپنے خطبوں میں ان لوگوں کی مدح فرمائی اور ان کےرويہ کو سراہا۔
دوسرا فرقہ
تفضیلی شیعوں کا تھا۔ جو حضرت علی ؓ کو تمام صحابہ کرام ؓ سے افضل کہتے تھے! يہ اِبنِ سَبا کے ادنی شاگردوں میں سے تھے کہ انہوں نے اس وسوسہ کے ايک مختصر سے حصے کو تسلیم کیا۔لیکن حضرت علی ؓ نے ان کو بھی ڈانٹا ڈپٹا اور فرمایا کہ اگر کسی  کے بارے میں، میں نے يہ سنا کہ وہ مجھے جناب شیخین ؓ پر فضلیت دیتا ہے تو میں اسے افترا کی شرعی حد 80کوڑے ماروں  گا۔
تیسرا فرقہ
تبرائی شیعوں کا تھا ان کو شیعہ سبیہ بھی کہتے ہیں، يہ لوگ عقیدة صحابہ کرام (ؓ)کو ظالم، غاصب، بلکہ کافرو منافق مانتےاورکہتے تھے۔گویا يہ اس شیطان مجسم کے درمیانی درجہ کے شاگرد تھے ۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ، اور حضرات طلحہ و زبیر ؓ سے حضرت علی ؓ کا تنازعہ ان لوگوں کے مذہب کےلئےمویداور ان کے خیال کےلئے محرک بن گیا۔ اور چونکہ ان جھگڑوں کی بنا خلیفہ سوم ؓ کی شہاد ت تھی۔ اس لئےلا محالہ ان لوگوں نے ان کی شان میں بھی زبان طعن دراز کی ، اور جب کہ خلیفہ سوم ؓ کی خلافت کی بنا شیخین ؓ کی خلافت پر تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ اس کے ہم خیال صحابہ کرام ؓ بحیثیت ثالث بانی مبانی تھے اس لئے ان بدبختوں کے تیر ملامت کا يہ حضرات بھی نشانہ بنے اور مخلصین کے ذریعہ جب بھی اس وشنام وتبری كی اطلاع حضرت علی ؓ کے سمع مبارک تک پہنچی۔ آپ خطبہ عام کے وقت ان لوگوں کو برا بھلا کہتے اور ان لوگوں سے اپنی کھلی بیزاری کااظہار فرماتے۔
چوتھا فرقہ
غالی شیعوں کا تھا۔ اور يہ اِبنِ سَبا کے خاص الخاص شاگردوں اور راز دار دوستوں کا گروہ تھا۔ اور ےہی گروہ جناب امیرالمومنین ؓ کی الوہیت کا قائل تھا۔اور جس طرح قرآنی آیت
ونفخنا فیہ من روحنا۔ (کہ ہم نے ان میں اپنی روح پھونکی )
سے دھوکہ کھا کر نصاری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اپنے مذہب کی صحت ثابت کرتے ہیں۔ اسی طرح يہ لوگ بھی حضرت علی ؓ کے بعض کلمات کی لچر اور دوراز کار تاویلات سے اپنے لچرو بیہودہ عقیدہ کی صحت کی کوشش کرتےرہے۔
تو يہ ہے کہ شیعہ مذہب کے وجود میں آنے کی حقیقت اور اصل بنیاد کا موجد اور بانی يہی بدباطن، نفاق پیشہ يہودی تھا۔ جيسے دنیا عبداﷲ بن سبا کے نام سے جانتی پہچانتی ہے۔ يہ ہر شخص کو اسی کے مذاق وصلاحیت کے مطابق اپنے جال میں پھانستا اور سبز باغ دکھا کر اپنے قابو میں رکھتا تھا۔
غالی فرقہ کی کمی اور تبرائی فرقہ کی کثرت کی وجہ
فرقہ وارانہ تفریق واختلاف کے بعد ايسے امور بکثرت رونما ہوئے جو تبرائی عقیدہ کے لئے مہمیز ثابت ہوئے ۔مثلاً:
1-اتفاقاً ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ و حضرت طلحہ وزبیر ؓ سے جنگ جمل چھڑ گئی اور يہ چونکہ سب خلیفہ اول ؓ کےقریبی متعلقین تھے اور خلیفہ سوئم حضرت عثمان ؓ کے قصاص کے دعویدار! اس لئے لا محالہ تبرائی فرقہ کے لوگوں کےدلوں میں دونوں خلفاءکی طرف سے بغض وعناد نے جگہ بنا لی۔ اور ان کے نزدیک شیعیت مرتضیٰ گویا صرف اسی بغض کا نام قرار پایا۔ اور جناب امیر المومنین ؓ کے وہ اقوال جو شیخین ؓ کی مدح وتعریف میں صادر ہوئے تھے اور اصول دلداری و ظاہرواری پر محمول کرتے ،جو اکثر دنیا طلب سردار برتا کرتے ہیں۔
خلیفہ اول کے ساتھ برائیوں کا بغض وعناد ہی خلیفہ دوم کے ساتھ بغض کا سبب بنا اس لئے کہ خلیفہ دوم ؓ کی خلافت خلیفہ اول ؓ کی خلافت کے تابع تھی اور ہر دو اصحاب کا رويہ اور طریقہ زندگی ايک ہی تھا۔ يہاں تک کہ گویا ہر دو حضرات نےسیرت اور طریقہ زندگی میں ايک دوسرے کی اتباع و اقتدا کو لازمی جان رکھا تھا۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے عہد مبارک میں حضرت فاروق اعظم عمر بن الخطاب ؓ کی حیثیت وزیر ومشیر کی سی تھی۔
سیدة النساءحضرت فاطمہ ؓ کو فدک سے باز رکھنے نیز دیگر تنازعات میں آپ خلیفہ اول کے ہم خیال اور شریک کار تھے۔
يہ واقعات واسباب تبرائیوں کے ذہن وخیال پر اس بری طرح حاوی ہوئے کہ وہ تعلقات و نسبت خاص جو حضرت عمر ؓکوحضرت علی ؓ سے تھی مثلاً داماد ہونا۔رشتہ دار ہونا۔ دین وخلافت کے اہم معاملات میں حضر ت علی ؓ سے طلب رائےاور شریک مشورہ بنانا، ان سب کو تقیہ پر اور جناب مرتضیٰ ؓ کی کمزوری اور بیچارگی پر محمول کرتے رہے۔
اور اسی پر بس نہیں کی بلکہ اکثر برگزیدہ انصارو مہاجرین صحابہ کرام ؓ کو بھی طعن کا نشانہ بنایا جو آنحضرت ﷺکی اتباع کی طرح ان خلفاء رسول کی اتباع کرتے، ان کی مدد اورپشت پناہی کرتے ان کے احکامات کی بجاآوری کواپنے اوپر لازم اور فرض گرادنتے تھے۔
2- حضرت علی ؓ اور آپ کے بعد حسنین ؓ اور آپ کی اولاد مثلاً زید شہید رحمہ اﷲ تعالی علیہ یا دیگر سادات حسینیہ ہمیشہ شام  کے مروانی نواصب (خارجیوں) اور عراق کے عباسی نواصب کے ساتھ برسر نزاع اور برسرپیکار رہے اورباہم کینہ پردری فروغ پاتی رہی۔ اس لئے ادھر تو بعض نواصب گمراہی کے انتہائی درجےتک پہنچ کر روسیاہی کی زندگی گذارتےاور حضرات مذکورہ کی شان گرامی میں بڑی بے دادبی کا مظاہرہ کرتے۔شیخین اورحضرت عثمان ؓ کو نیکی سےیادکرتے۔ بلکہ مرداینوں نے تو خود حضرت عثمان ؓ کی طرف داری میں شرارت و گمراہی کا اندازاختیار کر رکھا تھا۔ تودوسری طرف تبرائی فرقہ بھی ان نواصب کے مقابلہ میں ”بغض معاویہ“ کے مظاہرہ میں پیچھے نہ رہا اور مسلمانوں کےاسلاف ہرسہ خلفاء ؓ کے متعلق ہرزہ سرائی وطیرہ بنالیا۔
چنانچہ دونوں نے اپنی اپنی طرف سے جی بھر کے داد بے حیائی دی ۔
3-جناب علی مرتضیٰ ؓ اور دیگر تمام آئمہ اطہار ؒ ان بدبخت خارجیوں کی ظاہری شرارت، بدذاتی اور خباثت و بدطینی کےپیش نظر گاہے گاہے کچھ کلمات لعن آمیز عام اوصاف کی آڑ میں ارشادفرماتے رہے۔ مثلاً نواصب کا ظلم وغضب،اہل بیت کے ساتھ تعصب وبغض،سنت رسول کو بدل ڈالنا، بدعات اختراع کرنا اور خلاف شرع احکام گھڑلینا۔و غیرہ گو جناب مرتضیٰ اور آئمہ کروئے سخن نواصب کی طرف تھا، مگر حقیقت شناس حضرات سمجھتے تھے کہ بدخیال اور جلدبار گروہ نے ان کلمات کو صحابہ کرام ؓ اور ازواج مطہرات ؒ کی شان میں استعمال کیا کیونکہ وہ اپنے لغو عقیدہ کی بناء پر ان ہی حضرات کو ان کلمات کا محمل سمجھتے تھے ۔ جب ان لوگوں سے کہا گیا کہ اگر جناب مرتضیٰ اور آئمہ اہل بیت ؓ کاروئے سخن ان بزرگ اسلاف کی طرف تھا تو ان حضرات نے ان کے نام کیوں نہ لئے ، تو اس کا ان کے پاس ايك ہی گھڑا گھڑایا جواب ہوتا تھا کہ مصلحت وقت اور تقیہ اس کا سبب تھا۔
زمانہ امیر ؓ کے تبرائی ايک سوچی سمجھی اسکیم کی وجہ سے جانتے پوجھتے صحابہ کرام ازواج مطہرات اور خلفاء راشدین ؒ پر لعن طعن کرتے تھے۔ تو بعد میں آنے والوں کے لئے ان کا يہ طرزعمل نص صریح بن گیا۔ اور اب لعن وطعن شیعی سیاست کی بجائے مذہب بن گیا۔
حاصل کلام يہ کہ ان اورجن جيسے اسباب کی وجہ سے تبرائی فرقہ دوسرے تمام فرقوں سے قوت اور تعداد میں بڑھ گیا ۔ کیونکہ پے بہ پے ایسے واقعات رونما ہوتے چلے گئے جو ان کے عقیدہ کے ممد ثابت ہوئے۔
تبرائیوں کے مقابلہ میں غالی فرقہ کاحال روز بروز پتلا ،قوت کم اور ذلت و ادبازفزوں تر ہوتا رہا۔ اور يہ حال ہو گیا کہ عقیدہ کے کھلے بطلان اور ان وحشت انگیز کلمات کی کھلی برائی کے سبب ان کے بکواس پر اب کوئی کان دھرنے کو بھی تیار نہ تھا۔
اور اگر کوئی بطور” فیشن “يہ عقیدہ اپنا بھی لیتا تو کبھی اپنی ہی عقل کی رہنمائی یا کنبہ برادری کے افراد کی نصیحت جلد اس عقیدے سے ہٹا دیتی۔
اب رہے تفضیلی، تو وہ لا فی العیر ولافی النفیر ۔ کی تصویر بن کر رہ گئے تھے،
کہ نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے۔
تبرائی ان کو نہ منہ  لگاتے نہ اپنے میں شامل کرتے ، او رکہتے کہ يہ اہل بیت کی محبت کے حق ادا نہیں کرتے جو تبرائیوں کے عقیدہ کے مطابق بعض صحابہ کرام اور ازاوج مطہرات کو گالی بک کر اور لعن طعن کر کے ادا ہوتا ہے۔
دوسری طرف مخلصین ان کو حضرت علی ؓ کے رويہ کے خلاف چلتا دیکھ کر اور آپ ؓ کی دھمکیوں کا موردجان کرحقیروذلیل سمجھتے تھے ۔
اور تعجب کی بات يہ ہے کہ ہنوز تبرائی ان اہل سنت اور خارجیوں میں فرق وتمیز نہیں کرتے ۔ حالانکہ اہل سنت حضرت علی ؓ کے مخلصین خاص ہیں خاندان نبوت پر دل وجان سے فدا ہیں۔ شام وعراق اور مغرب کے ناصبوں سے نہ صرف علمی اور زبانی لڑائی لڑنے میں مشغول ہیں، بلکہ تلواروں کی لڑائی میں بھی دو بدد ہو چکے ہیں۔
اور احکام شریعت کی مدد اور مروانی بدعات کا قلع قمع بھی کر چکے ہیں۔ نواصب کو نہایت بدزبان سمجھتے ہیں۔
اور تعجب بالائے تعجب اس بات پر ہے کہ تبرائیوں کے علماء جو اپنے متعلق يہ غلط فہمی رکھتے ہیں کہ وہ اسلاف کےاخباراوراہل علم کے اقوال سے باخبر ہیں وہ بھی نواصب کا لفظ شیعان اولی پر بولتے ہیں۔
کسی دانا کیا خوب کہاہے
ہر بیماری کی ايک دوا ہے جس سے وہ جاتی رہتی ہے
مگر حماقت کہ وہ اپنے معالج کو عاجز کرتی ہے
معلوم ایسا ہوتا ہے کہ شیعی لغت میں نواصب کا لفہ ہر اس شخص کے لئے ہے جو ان کے عقیدہ کے خلا ف عقیدہ رکھتاہو۔اس اصول کی بناء پر غالی شیعہ، تبرائی شیعہ کو اور تبرائی شیعہ، تفضیلی شیعہ کو اورتفضیلی شیعہ شیعان  اولی(مخلصین)کونواصب جانتے اور گردانتے ہیں۔
ان شیعان اولی، کی حالت واقعی قابل رحم ہے کہ شیعوں کے تمام گمراہ فرقوں اور خارجیوں دونوں کی لعنت و ملامت کانشانہ بنے اور سب کے ساتھ مخالفت اختیار کی۔ گویا حضرت علی ؓ کی وراثت میں مسکنت اورغربت عظمی ان ہی کےنصیب میں آئی۔ اور جنگ وجدال اور مجاہدات شاقہ کےلئے ان کے صحيح وارث يہی قرار پائے۔
درحقیقت يہ حدیث ان ہی کے حال پر ٹھیک منطبق ہوئی اور ان کے انجام کا پتہ دیتی ہے۔
ان الدین بداء غریباً وسیعرو غریباً فطوبی للغرباء
انشاء اﷲتعالی اس آگے چل کر يہ بات کھلے گی کہ شیعان والی مہاجرین و انصار کی اس جماعت کا شمار ہے جن میں سےاکثرسعادت مآب جناب مرتضیٰ ؓ کی ہمرکابی میں باغیوں ،اور قرآن میں تاویل کرنے والوں کے مقابلہ میں جنگ لڑچکے تھے ! ایسے ہی جناب رسول اﷲ ﷺاور خلفاء ثلاثہ ؓ  کی رفاقت میں منکرین قرآن سے لڑائیوں میں شریک رہےتھے۔ اور ان میں سےبعض ايسے تھے جو انتہائی پرہیز گاری اور احتیاط سے کام ليتے ہوئے اور اہل کلمہ اور اہل قبلہ کے قتل سے گریز کرتے ہوئے چند عذر پیش کرکے گوشہ نشینی اختیار کر چکے تھے اور جن کے سب عذر حضرت علی ؓ نےقبول فرمائے تھے اور باوجود اس گوشہ نشینی کے انہوں نے آپ ؓ کے مناقب و فضائل کو پھیلانے اور آپ ؓ کی محبت پرلوگوں کو ابھارنے اور آپ ؓ کی عزت وتعظیم کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔چنانچہ انہوں نے اپنے عمل سے اس آیت کی ترجمانی فرمائی :۔
لیس علی الضعفا ءوعلی المرضی ولا علی الذین لا یجدون ما ینفقون حرج اذا انصحوا ﷲ ورسولہ۔ ما علی المحسنین من سبیل
نہیں ہے ان ضعیفوں،مریضوں اور ان لوگوں پر جو خرچ کے لئے کوئی مال نہیں رکھتے کوئی حرج، جب کہ وہ اﷲ و رسول کے خیر خواہ ہوں اور نیکوں پر کوئی الزام نہیں۔
اور آگے چل کر آپ کو يہ بھی معلوم ہوگا کہ بیعت رضوان کے حاضرین میں سے تقریباً 800حضرات نے جنگ صفین
میں داد جاں نثاری دی اور 300نے جام شہادت نوش کیا، ان کے علاوہ دوسرے صحابہ و تابعین ؓ  نے جو خدمات دین وخلافت کی انجام دیں نہ کسی زبان کو اس کے بیان کا یارا ہے نہ کسی قلم کو يہ تاب کہ ان کو رقم کر سکے۔
لیکن چونکہ دور خلافت ختم ہو چکا تھا اور خاتم الخلفاءحضرت امیر ؓ کا جام حیات لبریز ہو چکا تھا اس لئے دنیاوں طور پر يہ قربانیاں باآور نہ ہو سکیں۔ بجز اس کے کہ وہ حضرات ثواب آخرت اور جنت میں درجات بلندکےحقدارٹھیرےجومنجملہ دو بھلائیوں کے ايک بھلائی ہے ۔
امیر المومنین حضرت علی ؓ کے عہد میں شیعیت کے جنم لینے اور چار فرقوں میں بٹ جانے کے بعد شیعی مذہب میں اوربھی نئی نئی باتیں رونما ہوتی رہیں اس تغیر وتبدل اور فرقہ بازی کا راز يہ ہے کہ ہر انقلابی موڑ پر اس مذہب نےنیاچولابدلا۔ اور نئے روپ اور نئے مذہب کی شکل میں دنیا کے سامنے آیا اور اس قسم کے اکثر نقلابات آئمہ کرام کی شہادت کے موقعہ پر رونما ہوتے رہے۔
جب عراق کے بدبختوں نے یزید کی سیاست میں آ کر بدبخت زیاد کے بھڑکانے اور اکسانے پر حضرت امام حسین ؓ کوشہید کیا تو کیسان نامی نے جو سبط اکبر حسن مجتبیٰ ؓ کے متبعین میں سے تھا اور آنجناب کی وفات کے بعد آپ کے بھائی محمدبن علی ؒ کی جو محمد بن الحنفیہ کے نام سے مشہور ہیں صحبت اٹھا چکا تھا۔ بلکہ ان عجیب عجیب علوم کا استفادہ بھی کر چکا تھا۔
امام شہید ؓ کے انتقام کا مدعی بن کر اٹھا۔ اور لوگوں کو بھی اس مہم میں شرکت کےلئے آمادہ کر لیا۔ چنانچہ حضرات شیعان اولی میں سے مثلاً سلیمان بن صرد خزاعی اور رفاعہ وغیرہ اور کچپ لوگ تبرائی شیعوں میں سے اس کے ساتھ ہوگئے۔ اور ايک جتھہ بنا کر ابن زیاد اور اس کے عاملوں سے اپنا لیڈر اور سردار بنایا۔مختار حکومت وسیاست،فن جنگ وجدال اورحرب وقتال میں ماہر تھا۔ اور سیاست زمانہ پر گہری نظر رکھتا اور مکرو فریب میں اِبنِ سَبا ہی کی طرح دسترس رکھتا تھا۔ مختار کی سرداری کے ساتھ ساتھ ابراہیم بن مالک اشترکو امیر الامراءمقرر کیا۔
ابن زیاد کے ساتھ مختار کے کئی معرکے ہوئے۔ اوربالآخر ابن زیاد مختار کے ہاتھوں مارا گیا۔ مختار نے اس کے بعد کیسان کامذہب قبول کر لیا۔ کیسان ابتداء میں حضرات حسنین ؓ کی امامت کا قائل نہیں تھا۔ بلکہ اس کے نزديک حضرت علی ؓ کےبعد،براہ راست جناب محمد ابن الحنیفہ امامت کے مستحق اور حقدار تھے۔ اس کے نزديک حضرت امام حسن ؓ تو اہلیت امامت اس وجہ سے کھو چکے تھے کہ انہوں نے حضرت معاويہ ؓ اور اہل شام سے صلح کر لی تھی اور امام حسین ؓ نے چونکہ بڑے بھائی کی متابعت کی تھی گو بادل نخواستہ تھی اسلئے وہ بھی اس کے عقیدہ کے معیار پر پورے نہیں تھے۔ اوروہ بھی اہلیت امامت سے محروم رہ گئے تھے ۔لہٰذا مجبور ہو کر محمد بن علی ؓ کو ہی اس نے سرمرتضوی کا خازن اور لواء امامت کاحامل قرار دے لیا تھا۔اور ان کے متعلق بیان کرتا تھا کہ ان کو جناب امیر ؓ سے وراثت میں کرامتیں اور عجیب و غریب علوم ملے ہیں۔
مختار زمانہ سازی اورحالات کے مطابق اپنے آپ کو بدل کر فائدہ اٹھانے کا فن خوب جانتا تھا اور اب تو حکومت واقتدارکی چاٹ لگ گئی تھی ۔ اس لئے بادل نخواستہ کوفہ کے عوام کو رام کرنے کےلئے کیسان کے عقیدہ کے خلاف حضرات حسنین ؓ کی امامت کا انکار نہ کرسکا۔ کیونکہ کوفہ کے عوام ان ہردو حضرات کے انتہائی مطیع وفرمانبردار تھے۔
لہٰذا اس نے اب يہ کہنا شروع کر دیا کہ امام شہید ؓ کے بعد حق امامت محمد بن علی ؓ کی طرف منتقل ہوا ہے۔ اورنواصب(خارجیوں) سے لڑنے اور امام شہید ؓ کا بدلہ لینے کے لئے ہمیں انہیں نے مامور کیا ہے۔
اور اس سلسلہ میں جناب محمد بن علی ؓ کی طرف سے جھوٹے اور جعلی مہر شہد فرامین تیار کر کے لوگوں  کودکھانےلگا۔اورکیسان کی اپنے ساتھ موافقت بطور شہادت پیش کرنے لگا۔ چنانچہ يہ جعل سازی اور چال باز کامیاب رہی اور بہت سے لوگوں کو اپنے ادم تزویر میں پھنسا لیا ۔ اور عراق کے شہروں ویابکر، اہواز اور آزربیجان پراپنااقتدارقائم کر لیا۔
تا آنکہ حضرت معصب بن زبیر ؓ نے جوحضرت عبد اﷲ بن زیبر ؓ کے بھائی اور امام شہید ؓ کے داماد تھے۔ کیونکہ جناب سکینہ ؓ آپ کی زوجہ محترمہ تھیں۔مختار کی بداطواریاں دیکھ اور سن کر اس پر فوچ کشی کی۔ اور اسے واصل جہنم کے کے خلق خداکو اس کے جو روتشدد سے رہائی دلائی۔
مختار نے اپنے ماننےوالوں کے لئے مختاریہ کا لقب دیا تھا۔ آخر میں تو اس نے نبوت کا دعوی ہی کر دیا تھا اورکہتا تھا کہ جبرئیل علیہ السلام ميرے پاس آتے اور امراء، صوبہ داروں اور لشکریوں کی خبریں مجھے بتا جاتے ہیں۔
ادھر جناب محمد بن الحنیفہ ؒ مدینہ منورہ میں مختار کے گندے اور بیہودہ عقائد و بداطواریوں پر لعنت بھیجتے تھے اوراس کےکرتوتوں سے اظہار بیزاری فرماتے تھے ۔
مختار ہی وہ پہلا شخص ہے جس نے رسم ماتم عاشورہ اور نوحہ گری کی بنیاد ڈالی ،اور وہ يہ سیاست گری اور سارا کھیل اس  لئے کھیلتا تھا یا کہ اہل کوفہ کو بھڑکا کر اہل شام کے ساتھ جدال وقتال پر کھڑا کرے اور اس کی آڑ میں زمام سلطنت واقتدارپر اپنا قبضہ مضبوط رکھے۔ اس کو امام حسین ؓ سے کیا واسطہ تھا۔ وہ تو خود پیغمبر بن بیٹھا تھا اوراس کے پیرو علی الاعلان صحابہ کرام ؓ  پر سب وشتم کرتے  تھے۔
جب جناب محمد بن الحنیفہ ؒ کی وفات ہو گئی تو کیسانیہ انتخاب امام میں باہم مختلف ہو گئے۔ کہ اب امامت کس کی طرف منتقل ہوئی ۔ ابوکریب جو اس فرقہ کے سرداروں میں سے تھا يہ کہنے لگا کہ محمد بن علی ؒ خاتم الائمہ ہیں۔ وہ فوت نہیں ہوئے بلکہ دشمنوں کے خوف سے روپوش ہوگئے کچھ عرصہ بعد ظہور فرمائیں گے۔ اورمطلب اس سے يہ تھا کہ لوگ کسی دوسرےکے پیرو اور گردیدہ نہ ہو جائیں۔ بدستور سابق میرے ہی مطیع وفرمانبردار بنے رہیں۔
اس کے برخلاف ايک دوسرے سردار اسحاق نامی نے رسل ورسائل کے ذریعہ حضرت ابو ہاشم بن محمد بن الحنیفہ ؒ سےاپنارشتہ جوڑا اور کہنے لگا کہ اب وہ امام ہیں اور انہوں نے مجھے نائب و نمائندہ مقرر کیا ہے۔ ابو ہاشم ؒ کے بعد اسحاقیہ فرقہ ان کی اولاد میں امامت منتقل ہونے کا قائل ہوا۔
ادھر ابن حرب جو اسحاقیہ فرقہ کا سردار تھا خود امامت کا دعوی کرنے لگا۔ايک اور جماعت جو عبد اﷲ بن جعفرکےچیلےچانٹوں پر مشتمل اور پہلے اسحاقیہ میں شامل تھے حضرت ابو ہاشم ؒ کے بعد عبداﷲ بن معاويہ بن عبداﷲ بن جعفرکی امامت کی قائل ہوگئی اور کوفہ کے شیعوں کی بڑی اکثریت ان کے تابع ہو گئی ۔
کیسانیہ ہی کی ايک جماعت نے يہ کہا کہ حضرت ابو ہاشم ؒ کے بعد امامت اولاد ابو طالب سے منتقل ہو کر اولاد عباس رضی اس عنہ کو ملی۔ چنانچہ انہوں نے علی بن عبد اﷲ بن عباس ؓ کو امام مانا اور ان کے بعد ان کے اولاد میں امامت کاسلسلہ چلایاتو آنکہ منصور دوانقی عباسی کا زمانہ آیا تو يہ سلسلہ بھی موہوم سا ہوا۔
اس سلسلہ میں عجیب تربات يہ ہے کہ يہ لوگ جن کو اپنے خیال میں امامت کا درجہ ديتے تھے اور ان کی
امامت کا ڈھنڈوا پیٹتے پھرتے تھے وہ خود اس دعوے سے پورے طور پر بیزاری کا اظہار فرماتے اور اپنے آپ کو اس کھڑاک سے بے تعلق ظاہر کرتے۔اور يہ بے حیا لوگ، ان کا انکار اور بیزاری اورکنارہ کشی کو ان کے تقیہ اور دشمنوں کے خوف پر محمول کرتے،کیونکہ ہنوز مدینہ منورہ پر مردانیوں کا قبضہ و تسلط تھا ۔
اس زمانہ میں مذہب تشیع صرف دو فرقوں۔کیسانيہ اور مختاریہ میں بٹا ہوا تھا اورکوفہ کے شیعہ اسی مذہب کے پیرو تھے۔ غالی شیعہ اور تفضیلی شیعہ فرقے بہت کم اور ذلیل و حقیر ہو کر رہ گئے تھے۔ البتہ کیسانیہ فرقہ میں زبردست پھوٹ تھی  اور وہ خودکئی فرقوں پر تقسیم ہو چکا تھا ۔
محمد راشد حنفی

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: