ماہ محرم اور عاشورۂ محرم

عشرۂ محرم(محرم کے ابتدائی دس دن) میں شیعہ حضرات جس طرح مجالس عزا اور محافل ماتم برپا کرتے ہیں، ظاہر بات ہے کہ یہ   سب اختراعی چیزیں ہیں اورشریعت اسلامیہ کے مزاج سے قطعاً مخالف۔اسلام نےتو نوحہ و ماتم کے اس انداز کو جاہلیت  سےتعبیرکیا ہے اور اس کام کو باعث لعنت بلکہ کفر تک پہنچا دینے والا بتلایا ہے۔
بدقسمتی سے اہل سنت میں سے ایک بدعت نواز حلقہ اگرچہ نوحہ و ماتم کا شیعی انداز تو اختیار نہیں کرتا لیکن ان دس دنوں میں بہت سی ایسی باتیں اختیار کرتا ہے جن سے رفض و تشیع کی ہمنوائی اور ان کے مذہب باطل کا فروغ ہوتا ہے۔ مثلاً:
¦        شیعوں کی طرح سانحۂ کربلاکو مبالغے اور رنگ آمیزی سے بیان کرنا
¦        حضرت حسینؓ اور یزید کی بحث کے ضمن میں جلیل القدر صحابہ کرامؓ (معاویہ اور مغیرہ بن شعبہؓ وغیرہ) کو ہدف طعن و ملامت بنانے میں بھی تامل نہ کرنا۔
¦        دس محرم کو تعزیے نکالنا، انہین قابل تعظیم پرستش سمجھنا، ان سے منتیں مانگنا، حلیم پکانا، پانی کی سبیلیں لگانا اپنے بچوں کوہرے رنگ کےکپڑے پہنا کر انہیں حسین کا فقیر بنانا۔
¦        دس محرم کو تعزیوں اور ماتم کے جلوسوں میں ذوق و شوق سے شرکت کرنا اور کھیل کود (گٹکے اور پٹہ بازی) سےان محفلوں کی رونق میں اضافہ کرنا، وغیرہ
¦        ماہ محرم کو سوگ کا مہینہ سمجھ کر اس مہینے میں شادیاں نہ کرنا۔
¦        ذوالجناح (گھوڑے) کے جلوس میں ثواب کا کام سمجھ کر شرکت کرنا۔اور اسی انداز کی کئی چیزیں ہیں۔ حالانکہ یہ سب چیزیں بدعت ہین جن سے نبی ٔ اکرم کے فرمان کے مطابق اجتناب ضروری ہے۔ آپ نے مسلمانوں کو تاکید کی ہے: فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِفَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ
مسلمانو!تم میری سنت اور ہدایت یافتہ  خلفائے راشدینؓ کے طریقے ہی کو اختیار کرنا اوراسے مضبوطی سے تھامے رکھنا اور دین میں اضافہ شدہ چیزوں سے اپنے کو بچا کررکھنا، اس لیے کہ دین میں نیاکام (چاہے وہ بظاہر کیسا ہی ہو) بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
(مسند احمد:126/4۔127 وسنن ابی داؤد، السنۃ، ح:4607 وابن ماجہ، اتباع سنۃ الخلفاءالراشدین المھدیین، ح: 42 وجامع الترمذی، العلم، ح: 2676)
یہ بات ہر کہ و مہ پر واضح ہے کہ یہ سب چیزیں صدیوں بعد کی پیداوار ہیں، بنا بریں ان کے بدعات ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور نبی نے ہر بدعت کو گمراہی سے تعبیر فرمایا ہے جس سے مذکورہ خود ساختہ رسومات کی شناعت وقباحت کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے۔
محرم میں مسنون عمل:محرم میں مسنون عمل صرف روزے ہیں۔ حدیث مین رمضان کے علاوہ نفلی روزوں میں محرم کےروزوں کو سب سے افضل قرار دیا گیا ہے۔
(أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ) رمضان کے بعد ، سب سے افضل روزے ، اللہ کے مہینے ، محرم کے ہیں۔ (صحیح مسلم، الصیام، باب فضل صوم المحرم، ح: 1163)
10 محرم کے روزے کی فضلیت:بالخصوص دس محرم کے روزے کی حدیث میں یہ فضیلت آئی ہے کہ یہ ایک سال گزشتہ کاکفارہ ہے۔(صحیح مسلم، باب استحباب صیام ثلاثہ ایام۔۔۔حدیث: 1162)
اس روز آنحضر ت بھی خصوصی روز ہ رکھتے تھے(ترغیب) پھر نبیکے علم میں یہ بات آئی کہ یہودی بھی اس امر کی  خوشی میں کہ دس محرم کے دن حضرت موسیٰ کو فرعون سے نجات ملی تھی ، روزہ رکھتے ہیں تو نبی نے فرمایا کہ عاشورہ(دس محرم) کا روزہ تو ضرور رکھو لیکن یہودیوں کی مخالفت بھی بایں طور کرو کہ اس کے بعد یا اس سے قبل ایک روزہ اور ساتھ ملا لیا کرو۔ 9، 10 محرم یا 10، 11 محرم کا روزہ رکھا کرو۔صُومُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَخَالِفُوا فِيهِ الْيَهُودَ صُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا أَوْ بَعْدَهُ يَوْمًا (مسند احمد بتحقیق احمد شاکر ، ح: 2154 و مجمع الزوائد: 434/3، مطبوعۃ دارالفکر،  1414ھ/1994ء)
ایک اور حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ نے عاشورے کا روزہ رکھا اور مسلمانوں کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم  فرمایا، تو صحابہ نے آپ کو بتلایا کہ یہ دن تو ایسا ہے جس کی تعظیم یہود و نصاریٰ بھی کرتے ہیں ، اس پر رسول اللہ نے فرمایا:(لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ)
اگرمیں آئندہ سال زندہ رہا تو نویں محرم کا روزہ (بھی) رکھوں گا۔ (صحیح مسلم،الصیام، باب ای یوم یصام فی  عاشوراء، ح؛ 1134)
لیکن اگلا محرم آنے سے قبل ہی آپ اللہ کو پیارے ہوگئے،ﷺ۔
ایک ضروری وضاحت:بعض علماء کہتے ہیں کہ میں نویں محرم کا روزہ رکھوں گا کا مطلب ہے کہ صرف محرم کی 9 تاریخ کا روزہ  رکھوں گا یعنی دس محرم کا روزہ نہیں، بلکہ اس کی جگہ 9 محرم کا روزہ رکھوں گا۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ اب صرف 9 محرم کا روزہ رکھنا مسنون عمل ہے۔ 10 محرم کا روزہ رکھنا بھی صحیح نہیں اور 10 محرم کے ساتھ 9 محرم کا روزہ ملا کر رکھنا بھی سنت نہیں ۔ بلکہ اب سنت صرف 9 محرم کا ایک روزہ ہے۔ لیکن یہ رائے صحیح نہیں۔ نبی کے فرمان کا مطلب ہے کہ میں 10 محرم کےساتھ 9 محرم کا روزہ بھی رکھوں گا، اسی لیے ہم نے ترجمے میں ۔۔بھی۔۔ کا اضافہ کیا ہے، کیونکہ 10 محرم کا روزہ تو آپ نےحضرت موسیٰ کے نجات پانے کی خوشی میں رکھا تھا، اس اعتبار سے 10 محرم کے روزے کی مسنونیت تو مسلم ہے، لیکن یہودیوں کی مخالفت کے لیے آپ نے اس کے ساتھ 9 محرم کا روزہ رکھنے کی خواہش کا اظہار فرمایا جس پر عمل کرنے کا موقع آپ کونہیں ملا۔ بعض دیگر روایات سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے ، اسی لیے صاحب مرعاۃ مولانا عبیداللہ رحمانی مبارکپوری امام ابن قیم اور حافظ ابن حجر نے اسی مفہوم کو زیادہ صحیح اور راجح قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: مرعاۃ المفاتیح، 270/3، طبع قدیم)
توسیع طعام کی بابت ایک من گھڑت روایت
محرم کی دسویں تاریخ کے بارے میں جو روایت بیان کی جاتی ہے کہ اس دن جو شخص اپنے اہل وعیال پر فراخی کرےگا ، اللہ تعالیٰ سارا سال اس پر فراخی کرے گا، بالکل بے اصل ہے جس کی صراحت شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور دیگر ائمہ محققین نے کی ہے۔ چنانچہ امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں:
 10 محرم کو خاص کھانا پکانا، توسیع کرنا وغیرہ من جملہ ان بدعات ومنکرات سے ہے جو نہ رسول اللہ کی سنت سے ثابت ہےنہ خلفائے راشدینؓ سے ، اور نہ ائمہ مسلمین میں سے کسی نے اس کو مستحب سمجھا ہے۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ: 354/2)
اور امام احمد کا یہ قول مذکورہ روایت کے متعلق امام ابن تیمیہ نے نقل کیا ہے کہ :لا اصل لہ فلم یرہ شیئاً اس کی کوئی اصل  نہیں،( امام احمد نے اس روایت کو کچھ نہیں سمجھا) (منہاج السنۃ ، 248/2 اور فتاویٰ مذکور)
اسی طرح امام صاحب کی کتاب اقتضاء الصراط المستقیم میں اس کی صراحت موجود ہے۔ (ص:301، طبع مصر 1950ء)
اور امام محمد بن وضاح نے نے اپنی کتاب البدع والنھی عنھا میں امام یحییٰ بن یحییٰ (متوفی 234ھ) سے نقل کیا ہے۔
 میں امام مالک  کے زمانے میں مدینہ منورہ اور امام لیث ، ابن القاسم او ر ابن وہب کے ایام میں مصر میں تھا اور یہ دن(عاشورا)وہاں آیا تھا میں نے کسی سے اس کی توسیع رزق کا ذکر تک نہیں سنا۔ اگر ان کے ہاں کوئی ایسی روایت ہوتی تو باقی  احادیث کی طرح اس کا بھی وہ ذکر کرتے۔ (کتاب مذکورص45)
اس روایت کی پوری سندی تحقیق حضرت الاستاذ المحترم مولانا محمد عطاء اللہ حنیف نے اپنے ایک مفصل مضمون میں کی ہےجوالاعتصام 13 مارچ 1970ء میں شائع ہوا تھا۔ من شآء فلیراجعہ۔یہ تمام مذکورہ امور وہ ہیں جو اہل سنت عوام کرتے ہیں، شیعہ ان ایام میں جو کچھ کرتے ہیں ، ان سے اس وقت بحث نہیں، اس وقت ہمارا روئے سخن اہل سنت کی طرف ہے کہ وہ بھی دین اسلام سے ناواقفیت ، عام جہالت اور ایک برخود غلط فرقے کی دسیسہ کاریوں سے بے خبری کی بنا پر مذکورہ بالا رسومات بڑی پابندی اور اہتمام سے بجا لاتے ہیں حالانکہ یہ تمام چیزیں اسلام کے ابتدائی دور کے بہت بعد کی ایجاد ہیں جو کسی طرح بھی دین کا حصہ نہیں اور نبی کے فرمان: مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ دین میں نو ایجاد کام مردود ہے۔ (صحیح البخاری، الصلح، باب اذا اصطلحوا علی صلح جور فالصلح مردود، ح2697 وصحیح مسلم،الاقضیۃ،باب نقض الأحکام الباطلۃ۔۔۔، ح: 1718)کے مصداق ان سے اجتناب ضروری ہے۔
مذکورہ بدعات اور رسومات کی ہلاکت خیزیاں
دین میں اپنی طرف سے اضافے ہی کو بدعت کہا جاتا ہے۔ پھر یہ چیزیں صرف بدعت ہی نہیں ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ شرک و بت پرستی کے ضمن میں آجاتی ہیں۔ کیونکہ :
اولاً: تعزیے میں روح حسین کو موجود اور انہیں عالم الغیب سمجھا جاتا ہے، تب ہی تو تعزیوں کو قابل تعظیم سمجھتے اور ان سےمددمانگتے ہیں حالانکہ کسی بزرگ کی روح کو حاضر ناظر جاننا اور عالم الغیب سمجھنا شرک و کفر ہے، چنانچہ حنفی مذہب کی معتبرکتاب فتاوی بزازیہ میں لکھا ہے من قال ارواح المشائخ حاضرۃ تعلم یکفر جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ
بزرگوں کی روحیں ہر جگہ حاضر وناظر ہیں اور وہ علم رکھتی ہیں ، وہ کافر ہے۔
ثانیاً: تعزیہ پرست تعزیوں کے سامنے سر نیہوڑتے  ہیں جو سجدے ہی کی ذیل میں آتا ہےاور کئی لوگ تو کھلم کھلاسجدےبجالاتےہیں اور غیر اللہ کو سجدہ کرنا ، چاہے وہ تعبدی ہو یا تعظیمی ، شرک صریح ہے۔ چنانچہ کتب فقہ حنفیہ میں بھی سجدۂ غیر اللہ کو کفر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ شمس الائمہ سرخسی کہتے ہیں:
ان کان لغیر اللہ تعالیٰ علی وجہ التعظیم کفر غیر اللہ کو تعظیمی طور (بھی)سجدہ کرنا کفر ہے۔
اور علامہ قہستانی حنفی فرماتے ہیں یکفروا لسجدۃ مطلقا یعنی غیر اللہ کو سجدہ کرنے والا مطلقاً کافر ہے چاہے عبادۃًہو یا تعظیماً (ردالمحتار)
ثالثاً: تعزیہ پرست نوحہ خوانی و سینہ کوبی کرتے ہیں اور ماتم و نوحہ میں کلمات شرکیہ ادا کرتے ہیں ، اول تو نوحہ خوانی بجائےخودغیراسلامی فعل ہے جس سے رسول اللہ نے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ نبی نے فرمایا: لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے رخسار پیٹے، گریبان چاک کیے اور زمانۂ جاہلیت کے سے بین کیے۔ (صحیح البخاری، الجنائز، باب لیس منا من ضرب الخدود، ح  1297)
یہ صورتیں جو اس حدیث میں بیان کی گئی ہیں ، نوحہ و ماتم کے ضمن میں آتی ہیں، جو ناجائز ہیں۔ اس لیے فطری اظہار غم کی جو بھی مصنوعی اور غیر فطری صورتیں ہوں گی ، وہ سب ناجائز نوحے میں شامل ہوں گی۔ پھر ان نوحوں میں مبالغہ کرنا اور زمین و آسمان کے قلابے ملانا اور عبدومعبود کے درمیان فرق کو مٹادینا تو وہی جاہلانہ شرک ہے جس کے مٹانے کے لیے ہی تو اسلام آیا تھا۔
رابعاً: تعزیہ پرست تعزیوں سے اپنی مرادیں اور حاجات طلب کرتے ہیں جو صریحاً شرک ہے۔ جب حضرت حسینؓ میدان کربلا میں مظلومانہ شہید ہوگئے اور اپنے اہل و عیال کو ظالموں کے پنجے سے نہ بچا سکے تو اب بعد از وفات وہ کسی کے کیا کام آسکتےہیں؟
خامساً: تعزیہ پرست حضرت حسینؓ کی مصنوعی قبر بناتے ہیں اور اس کی زیارت کو ثواب سمجھتے ہیں حالانکہ حدیث میں آتا ہے:
من زار قبرا بلا مقبور کانما عبدالصنم یعنی جس نے ایسی خالی قبر کی زیارت کی جس میں کوئی میت نہیں تو گویا اس نے بت کی پوجا کی۔ (رسالہ تنبیہ الضالین، از مولانا اولاد حسن، والد نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ تعالیٰ)
مولانا احمد رضا خاں بریلوی کی صراحت:علاوہ ازیں اہل سنت عوام کی اکثریت مولانا احمد رضاخاں بریلوی کی عقیدت کیش ہے، لیکن تعجب ہے کہ اس کے باوجود وہ محرم کی ان خودساختہ رسومات میں خوب ذوق وشوق سے حصہ لیتے ہیں۔ حالانکہ مولانااحمد رضا خاں بریلوی نے بھی ان رسومات سے منع کیا ہے اور انہیں بدعت ، ناجائز اور حرام لکھا ہے اور ان کو دیکھنے سے بھی روکا ہے۔ چنانچہ ان کا فتویٰ ہے تعزیہ آتا دیکھ کر اعراض و روگردانی کریں۔ اس کی طرف دیکھنا ہی نہیں چاہیے۔ (عرفان شریعت، حصہ اول، صفحہ: 15)
ان کا ایک مستقل رسالہ تعزیہ داری ہے، اس کے صفحہ 4 پر لکھتے ہیں:
¦  غرض عشرۂ محرم الحرام کہ اگلی شریعتوں سے اس شریعت پاک تک نہایت بابرکت محل عبادت ٹھہرا تھا، ان بے ہودہ رسوم نے جاہلانہ اور فاسقانہ میلوں کا زمانہ کردیا۔
¦ یہ کچھ اور اس کے ساتھ خیال وہ کچھ کہ گویا خودساختہ تصویریں بعینہٖ حضرات شہداء رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جنازے ہیں۔
¦  کچھ اتارا باقی توڑا اور دفن کردیے۔ یہ ہر سال اضاعت مال کے جرم دو وبال جداگانہ ہیں۔ اب تعزیہ داری اس طریقۂ نامرضیہ کانام ہے۔ قطعاً بدعت و ناجائز حرام ہے۔
صفحہ 11 پر لکھتے ہیں:
¦  تعزیہ پر چڑھایا ہوا کھانا نہ کھانا چاہیے۔ اگر نیاز دے کر چڑھائیں، یا چڑھا کر نیاز دیں تو بھی اس کے کھانے سے احتراز کریں۔
اور صفحہ 15 پر حسب ذیل سوال، جواب ہے۔
سوال: تعزیہ بنانا اور اس پر نذر ونیاز کرنا، عرائض بہ امید حاجت برآری لٹکانا اور نہ نیت بدعت حسنہ اس کو داخل حسنات جاننا کیسا گناہ ہے؟
جواب: افعال مذکورہ جس طرح عوام زمانہ میں رائج ہیں، بدعت سیئہ و ممنوع و ناجائز ہیں۔
 اسی طرح محرم کی دوسری بدعت مرثیہ خوانی کے متعلق عرفان شریعت کے حصہ اول صفحہ 16 پر ایک سوال و جواب یہ ہے۔
سوال: محرم شریف میں مرثیہ خوانی میں شرکت جائز ہے یا نہیں؟
جواب: ناجائز ہے، وہ مناہی و منکرات سے پر ہوتے ہیں۔
 محرم کو سوگ کا مہینہ سمجھا جاتا ہے ، اس لیے بالعموم ان ایام میں سیاہ یا سبز لباس پہنا جاتا ہےاور شادی بیاہ سے اجتناب کیاجاتاہے،اس کے متعلق مولانا احمد رضا خاں لکھتے ہیں: محرم میں سیاہ، سبز کپڑے علامت سوگ ہیں اور سوگ حرام۔ (احکام  شریعت،71)
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں مسائل ذیل میں؟
1۔ بعض اہل سنت جماعت عشرۂ محرم میں نہ تو دن بھر روٹی پکاتے اور نہ جھاڑو دیتے ہیں، کہتے ہیں بعد دفن روٹی پکائی جائے گی۔
2۔ ان دس دن کپڑے نہیں اتارتے۔3۔ ماہ محرم میں شادی بیاہ نہیں کرتے۔
الجواب: تینوں باتیں سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے۔ (احکام شریعت ، حصہ اول 71)
 قرآن و حدیث کی ان تصریحات اور مولانا احمد رضا خان بریلوی کی توضیح کے بعد امید ہے کہ بریلوی علماء اپنے عوام کی صحیح رہنمائی فرمائیں گے اور عوام اپنی جہالت اور علماء کی خاموشی کی بنا پر جو مذکورہ بدعات وخرافات کا ارتکاب کرتے ہیں یا کم از کم ایساکرنےوالوں کے جلوسوں میں شرکت کرکے ان کے فروغ کا سبب بنتے ہیں، ان کو ان سے روکنے کی پوری کوشش کریں گے۔
مؤلف : حافظ صلاح الدین یوسف

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: