حضرت عمر الفاروقؓ : 03

ایک دن حضرت عمر بن الخطاب ؓ کا ایک پادری کے پاس سے گزر ہوا جو اپنی کتاب کامطالعہ کر رہا تھا، اس کے قریب گئے اور اس سےپوچھا کیا تم اپنی کتابوں میں کچھ ہمارا ذکر بھی پاتے ہو؟ پادری نے کہا کہ ہاں، تم لوگوں کی صفات اور اعمال کا ذکر تو پاتے ہیں لیکن تمہارے نام نہیں پاتے۔ حضرت عمر ؓ نے پوچھا: اچھا، تم مجھے کیسا پاتے ہو؟ پادری نے کہا کہ لوہے کا سینگ۔ حضرت عمرؓنےپوچھا کہ لوہے کے سینگ سے کیا مراد ہے؟ اس نے کہا کہ سخت مزاج حاکم۔ حضرت عمر ؓ نے خوش ہوتے ہوئے کہا: اللہ اکبر، الحمد للہ۔
حضرت ابن عباس w فرماتے ہیں کہ میں ایک سال تک ارادہ کرتا رہا کہ حضرت عمر بن الخطاب ؓ سے ایک آیت کے متعلق پوچھوں گامگر ان کے رعب کی وجہ سے پوچھنے کی ہمت نہ کر سکا۔ ایک دن وہ حج کے لیے نکلے تو میں بھی ان کے ہمراہ ہو گیا، جب ہم واپس لوٹےاورکسی راستہ میں تھے کہ حضرت عمر ؓ اپنی کسی ضرورت سے پیلو کے درخت کی طرف مڑ گئے میں نےآپؓکاانتظارکیاجب فارغ ہوئے تو میں آپ کے ساتھ چلنے لگا اور میں نے ان سے پوچھا کہ اے امیر المؤمنین! ازواج مطہرات g میں سے کن دو ازواج نے حضور کے لیے باہمی تعاون کیا تھا، یعنی منصوبہ سازی کی تھی وہ کون ہیں؟ آپ ؓ نے فرمایا کہ وہ حفصہ اور عائشہ w ہیں۔ حضرت ابن عباس w نے عرض کیا کہ بخدا! میں آپ سے اس آیت کے بارے میں ایک سال سے پوچھنے کا ارادہ کرتارہامگر مجھے آپ کے رعب کی وجہ سے ہمت نہ ہو سکی۔
امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق ؓ تک ایک عورت کی خبر پہنچی جس کا خاوند سفر پر گیا ہوا تھا کہ وہ عورت، مردوں سے زیادہ باتیں کرتی ہے۔ آپ ؓ کو یہ بات سخت ناگوار گزری اور اس عورت تک پیغام بھیج دیا، اور اس کو بلا لیا۔ اس عورت نے کہا کہ عمر ؓ کو میرے کام سے کیا تعلق ہے؟ وہ کون ہوتا ہے؟ پھر حضرت عمر ؓ کے پاس حاضر ہونے کے لیے چلی تو راستہ میں دردِ زہ میں گرفتار ہو گئی، گھر واپس آئی اور بچہ جنا، بچے نے پیدا ہوتے ہی دو چیخیں ماریں اور دم توڑ گیا۔ حضرت عمر ؓ نے اصحاب نبی سے اس بارے مشورہ لیا توبعضوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ ؓ کے اوپر کچھ نہیں آتا، آپ تو والی اور مؤدب ہیں۔ حضرت علی ؓ خاموش تھے۔ امیرالمؤمنین حضرت عمر ؓ، حضرت علی بن ابی طالب ؓ کے قریب گئے جو خاموش بیٹھے تھے، پوچھا: آپ کیا کہتے ہیں؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اگر ان لوگوں نے اپنی رائے دی ہے تو غلط رائے دی ہے اور اگر آپ کی خواہش کے احترام میں کچھ کہا ہے تو انہوں نے آپ کے ساتھ خیر خواہی نہیں کی ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ اس کی دیّت (خون بہا) آپ کے ذمہ ہے، کیونکہ آپ نے اس عورت کوگھبراہٹ میں مبتلا کیا تھا، وہ گھبرائی اور آپ  کے پاس آتے ہوئے بچہ جنم دیا چنانچہ حضرت عمر ؓ نے اس کی دیت ادا کی اور حضرت علیؓ کو حکم دیا کہ وہ اس کی دیت قریش کے لوگوں میں تقسیم کر دیں۔
لوگ حضرت عمر بن الخطاب ؓ سے عطیات وصول کرنے کے لیے جمع تھے، لوگوں کا اژدھام لگا ہوا تھا۔ اس دوران حضرت عمرؓنے سر اٹھایا تو ایک آدمی پر نظر پڑی جو لوگوں کی صفوں سے آگے بڑھ رہا تھا اور اس کے چہرہ پر چوٹ کا نشان نظر آرہا تھا جس نےاس کی کھال کو چیر دیا تھا، حضرت عمر ؓ نے اس سے پوچھا یہ کیا ہوا ہے؟ اس نے بتایا کہ اسے ایک جہاد میں یہ زخم لگا ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اس کو ایک ہزار کی رقم دو چنانچہ اس آدمی کو ایک ہزار کی رقم دے دی گئی۔ پھر دوبارہ فرمایا اس کو ایک ہزارمزیددو،اسکو ایک ہزار مزید دے دیا گیا۔ آپ ؓ نے چار مرتبہ فرمایا، ہر مرتبہ اس کو ہزار کی رقم دی، پھر اس آدمی کو کثرت عطاسے حیا آئی اور لوگوں کے مجمع سے نکلتا ہوا چلا گیا۔ حضرت عمر ؓ نے اس آدمی کے متعلق پوچھا کہ وہ کہاں گیا؟ بتایا گیا کہ ہم نےدیکھا کہ اس کو زیادہ دینے کی وجہ سے حیائی آئی اور وہ چلا گیا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: خدا کی قسم! اگر وہ یہاں رکتا تو میں اس کودیتارہتا حتیٰ کہ کوئی درہم یا مال باقی نہ بچتا۔ اس آدمی کو اللہ کی راہ میں چوٹ آئی، سارا چہرہ زخمی ہو گیا۔
حضرت عمر فاروق ؓ بازاروں میں چکر لگا رہے تھے، لوگوں کی ضروریات معلوم کر رہے تھے کہ ایک نوجوان عورت ملی جس پر حاجت مندی کے آثار نمایاں تھے۔ حیا و شرم سے کہنے لگی: اے امیر المؤمنین! میرے شوہر کی وفات ہو گئی، اس نےچھوٹےچھوٹےبچےچھوڑےہیں، خدا گواہ ہے ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے، مجھے ان بچوں کے ضائع ہو جانے کا اندیشہ ہے اور میں خُفاف بن ایماء الغازی کی بیٹی ہوں جو حدیبیہ میں حضور اکرم کے ساتھ موجود تھے۔ حضرت عمر فاروق ؓ (یہ سن کر) رک گئے،اور بشاشتِ وجہ سے اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: قریبی نسب پر خوش آمدید، خوش آمدید! پھر اپنے گھر تشریف لے گئے جہاں ایک اونٹ بندھا ہوا تھا، اس پر دو بوریاں غلہ کی بھر کر لادیں، اور کپڑے اور ضروری سامان رکھا، پھر اس کی مہار اس کے ہاتھ میں دیتےہوئے فرمایا: یہ لے جائو، یہ سامان ختم نہیں ہو گا تا وقتیکہ اللہ تعالیٰ تمہیں خیر و بھلائی عطا فرمائیں۔ ایک آدمی نے جو اس عطا و بخشش کودیکھ رہا تھا، کہا کہ اے امیر المؤمنین! آپ نے اس کو بہت زیادہ دے دیا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: تیرا ناس ہو! خدا کی قسم! میں اس عورت کے باپ اور بھائی کو دیکھتا تھا، ان دونوں نے ایک مدت تک قلعہ کا محاصرہ کر رکھا تھا، پھر اس کو فتح کیا اور ہم لوگ اس میں ان کے حصے غنیمت کے طور پر دینے لگے۔
ایک انصاری آدمی نے بدر کی لڑائی کے موقع پر حضرت عباس ؓ کو قید کیا۔ انصار نے ان کے قتل کا ارادہ کر لیا۔ حضور نبی کریمنے فرمایا:
آج رات مجھے اپنے چچا عباس کی وجہ سے نیند نہیں آئی۔ انصار کہتے ہیں کہ وہ اس کو قتل کریں گے۔ حضرت عمر
ؓ نے کہا کہ تو کیا میں خودان کے پاس جائوں؟ آنحضور نے فرمایا کہ ہاں،چنانچہ حضرت عمر ؓ، انصار کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ عباس کو چھوڑ دو۔ انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم! ہم اس کو نہیں چھوڑیں گے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا کہ اگر رسول اللہ خود یہ چاہتے ہوں تو؟ انہوں نے کہا کہ اگر حضور کی رضا ہے تو لے جائو۔حضرت عمر ؓ نے حضرت عباس کو پکڑا، جب حضرت عباس ؓ، حضرت عمرفاروقؓ کے پاس میں آگئے تو حضرت عمر ؓ نے حضرت عباس ؓ سے فرمایا کہ مسلمان ہو جائو خدا گواہ، اگر تومسلمان ہوجائےتو یہ بات مجھے اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ (میرا باپ) ’’خطاب‘‘ مسلمان ہو۔ اور اس کا سبب صرف یہ ہے کہ رسولاللہتمہارے مسلمان ہونے کو پسند کرتے ہیں۔
ایک دن حضرت عمر بن الخطاب ؓ کسی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے کہ حضرت سعید بن العاص کا گزر ہوا۔ انہوں نے اپناچہرہ حضرت عمر ؓ سے پھیر لیا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ تیرے دل میں کوئی بات ہے، شاید تم یہ سوچ رہے ہو کہ میں نے تمہارے باپ کا بدر میں قتل کر دیا تھا، دیکھو! اگر میں نے اس کو قتل کیا تھا تو اس کے قتل پر میں تجھ سے کوئی معذرت خواہی نہیں کروں گا۔ البتہ میں نے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن المغیرہ کو قتل کیا ہے، اور باقی رہی تمہارے باپ کی بات تو میرا گزر ہوا تو وہ یوں ڈھونڈرہا تھا جیسے بیل اپنے سینگوں سے ڈھونڈتا ہے پس میں اس سے ایک طرف کو ہوا، پھر تیرے ابن عم نے قصد کیا اور اس کو قتل کر دیا۔
سنان بن سلمۃ الھذلی ایک دن نکلے، وہ ان دنوں غلام تھے، مدینہ کے چند لڑکوں کے ساتھ مل کر کھجور کے درختوں سے گری ہوئی کچی کھجوریں اٹھانے لگے۔ دریں اثناء کہ وہ اپنی جھولیوں میں کچی کھجوریں اکٹھی کر رہے تھے کہ اچانک ان کی نظر عمر بن الخطاب ؓ پر پڑی۔ تمام لڑکے ادھر اُدھر بھاگ گئے مگر سنان بن سلمۃ اپنی جگہ پر کھڑے رہے۔ جب حضرت عمر ؓ آئے تو انہوں نے عرض کیا: اے امیرالمؤمنین! یہ کھجوریں ہوا سے گری ہیں (میں نے نہیں توڑیں) حضرت عمر ؓ کی نظر سنان کی جھولی پر پڑی تو فرمایا، تو سچ کہتا ہے۔ سنان نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ نے ان لڑکوں کو دیکھا ہے؟ حضرت عمر ؓ نے کہا کہ ہاں، سنان نے کہا کہ جب آپ مجھےچھوڑکرچلے جائیں گے تو یہ لڑکے مجھ پر دھاوا بول دیں گے اور میری ساری کھجوریں مجھ سے چھین لیں گے۔
چنانچہ حضرت عمر
ؓ بڑوں کی سی متواضعانہ حالت میں اس غلام کے ساتھ ساتھ رہے، یہاں تک وہ غلام امن کی جگہ میں پہنچ گیا۔
حضرت عمر بن الخطاب ؓ کا اثنائے سفر ایک غلام کے پاس سے گزر ہوا وہ بکریاں چرا رہا تھا۔ آپ ؓ نے اس سے کہا کہ اےغلام!ایک بکری ہمیں بیچ دو۔
غلام نے کہا کہ یہ بکریاں میری نہیں ہیں، میرے مالک کی ہیں۔ حضرت عمر
ؓ نے اسے آزمانے کے لیے کہا کہ اپنے مالک سے کہہ دینا کہ کوئی بھیڑیا اس کو کھا گیا۔ غلام نے جواب دیا کہ جب میں اپنے مالک سے یہ کہہ دوں کہ بھیڑیا اس کو کھا گیا تو قیامت کے دن اپنے رب سےکیا کہوں گا؟ حضرت عمر ؓ رو پڑے، پھر اس کے مالک کے پاس گئے اور اس سے وہ غلام خرید کر آزاد کر دیا اور غلام سے فرمایا کہ میں نے تجھے اس دنیا میں اس بات پر آزادی دلائی کہ مجھے امید ہے کہ تو آخرت میں انشاء اللہ مجھے آزادی دلائے گا۔
معاویہ بن خدیج اسکندریہ کی فتح کی خوش خبری لے کر امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق ؓ کے پاس آئے تو دیکھا کہ حضرت عمرؓچت لیٹے ہیں۔ معاویہ کہنے لگے: امیر المؤمنین سو رہے ہیں۔ حضرت عمر ؓ فوراً گھبرا کر اٹھے اور فرمایا کہ اے معاویہ! جب تم مسجد میں آئے تو تم نے کیا کہا؟ معاویہ نے کہا کہ میں نے کہا کہ امیر المؤمنین سو رہے ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے کہا کہ تو نے برا گمان کیا۔ اگر میں دن کے وقت سو گیا تو رعایا کو برباد کروں گا اور اگر رات کو سو گیا تو اپنی ذات کو برباد کر دوں گا۔ اے معاویہ! بھلااسکےباوجودنیندآسکتی ہے۔
 
دربار فاروقی میں ایک باوقار نوجوان عورت آئی۔ اس کے چہرے پر رنج و غم اور خوف و گھبراہٹ کے آثار نمایاں ہو رہے تھے۔ گردنوں کو پھلانگتی ہوئی امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب ؓ کے پاس پہنچی اور کپکپاتی ہوئی آواز میں کہنے لگی: مجھے ایک شیر خوار بچہ ملا تھا اس کے پاس ایک تھیلی تھی جس میں سو دینار تھے، میں نے ان دیناروں سے ایک مرضعہ (دودھ پلانے والی) اجرت پر رکھ لی اب چار عورتیں آتی ہیں اور اس بچہ کو چومتی ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ ان میں سے کون سی عورت اس بچہ کی ماں ہے؟ حضرت عمر ؓ نے اس کو کہا کہ جب وہ عورتیں آئیں تو مجھے بتا دینا، وہ عورت چلی گئی، جب وہ چار عورتیں آئیں تو اس نے حضرت عمر ؓ کو پیغام بھیج دیا۔ جب حضرت عمرؓ تشریف لائے تو ان عورتوں سے پوچھا کہ تم میں سے کون اس بچہ کی ماں ہے؟ ان میں سے ایک عورت نے کہا کہ اےعمرؓ!آپ نے اچھا سلوک نہیں کیا، آپ نے ایک ایسی عورت سے پردہ اٹھانے کا قصد کیا جس کی اللہ تعالیٰ نے پردہ پوشی کی تھی۔ حضرت عمر ؓ نے حیا کرتے ہوئے فرمایا، تو نے سچ کہا، پھر آپ ؓ نے اس عورت کو جس کے پاس وہ بچہ تھا، یہ فرمایا کہ جب یہ عورتیں تمہارے پاس آئیں تو تم نے مجھ سے کسی بات کا سوال نہیں کرنا، اور اس بچہ کی اچھی دیکھ بھال کرتی رہو، (فرما کر) واپس تشریف لے گئے۔
حضرت عمیر بن سعد ؓ کو حمص میں ایک سال کا عرصہ گزر گیا مگر انہوں نے امیر المؤمنین ؓ کو نہ کوئی خط لکھا اور نہ مسلمانوں کےبیت المال میں کوئی درہم دینار بھیجا۔ حضرت عمر ؓ کے دل میں خیال آیا اور ان کے متعلق شک گزرا چنانچہ آپ نے حضرت عمیربن سعد ؓ کو مکتوب لکھا کہ ’’جب میرا یہ مکتوب تمہارے پاس پہنچے تو فوراً میرے پاس چلے آنا اور مسلمانوں کا مال فئی (بغیر جنگ کےحاصل ہونے والا مال غنیمت) بھی ساتھ لیتے آنا۔‘‘
حضرت عمیر بن سعد
ؓ نے خط پڑھ کر لپیٹا اور ایک تھیلا لیا، اس میں اپنا زاد راہ ڈالا، اور ایک پیالہ اور وضو کا برتن ساتھ لیا اور اپنے ہاتھ میں اپنا نیزہ پکڑا اور پیادہ پا چلتے ہوئے مدینہ پہنچے اور حضرت عمر فاروق ؓ کے سامنے اس حال میں پیش ہوئے کہ رنگ بدلا ہوا ہے، جسم لاغر اور کمزور ہے، سر کے بال پراگندہ ہیں اور سفر کی مشقت کے آثار نمایاں ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے دیکھا تو پوچھا: یہ تیری کیا حالت بنی ہے؟ عمیر ؓ نے کہا: آپ میری کیا حالت دیکھتے ہیں؟ کیا آپ ؓ مجھے تندرست بدن اور صاف ستھرا نہیں دیکھ رہے؟ میرے پاس دنیا کی دولت ہے جس کی گرانباری تلے دبا جا رہا ہوں۔ حضرت عمر ؓ نے پوچھا: اپنے ساتھ کیا لائے ہو؟ حضرت عمیر ؓ نے جواب دیا کہ میرے پاس ایک تھیلا ہے جس میں اپنا زاد راہ ڈالتا ہوں اور وضو کرنے اور پینے کے لیے ایک مشکیزہ ہے اور یہ میرا نیزہ ہے اس پرٹیک لگاتا ہوں اور اگر دشمن سے مقابلہ ہو جائے تو اس کے ذریعہ لڑتا ہوں۔ خدا کی قسم! دنیا میرے سامان کے تابع ہے (یعنی میرے پاس بس یہی کچھ ہے)۔
حضرت عمر ؓ نے پوچھا: کیا تم پیدل چل کر آئے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ حضرت عمر ؓ نے پوچھا: کیا وہاں کوئی ایسا آدمی نہیں تھاجوتجھے سواری کے لیے کوئی جانور دے دیتا؟ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے ایسا کیا اور نہ میں نے ان سے سواری کے لیے کوئی جانورمانگا۔ حضرت عمر ؓ نے کہا: جن لوگوں کے پاس تم آئے ہو وہ برے مسلمان ہیں؟ حضرت عمیر ؓ نے کہا کہ اے عمر ؓ! خدا سے ڈرو! اللہ تعالیٰ نے غیبت سے منع کیا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے پوچھا: بیت المال کے لیے جو مال لائے ہو وہ کہاں ہے؟ حضرت عمیرؓ نے کہا: میں تو کچھ بھی نہیں لایا۔ آپ ؓ نے پوچھا کہ کیوں؟
حضرت عمیر
ؓ نے کہا کہ جب آپ نے مجھے وہاں بھیجا تو میں نے اس شہر میں پہنچ کر وہاں کے نیک لوگوں کو جمع کیا اور ان کو مال فئی جمع کرنے کا ذمہ دار بنا دیا، یہاں تک کہ جب انہوں نے مال جمع کر لیا تو میں نے وہ مال اس کی جگہ پر رکھ دیا، (یعنی ضرورت مندوں میں صرف کر دیا) اگر آپ اس سلسلہ میں سے لیتے ہیں تو میں آپ کو لا دوں گا۔ حضرت عمر ؓ نے اپنے کاتب سے کہا کہ عمیر ؓ کے لیے عہدہ کی تجدید کرو (یعنی ان کو دوبارہ عہدہ سنبھالنے کو کہا) حضرت عمیر ؓ کہنے لگے: نہیں نہیں، میں اس چیز کا طالب نہیں ہوں اور نہ آپؓکے لیے کام کروں گا اور نہ آپ ؓ کے بعد کسی کا کام کروں گا اے امیر المؤمنین!۔
اس کے بعد حضرت عمیر
ؓ نے گھر جانے کی اجازت چاہی، آپ کا گھر مدینہ کے آس پاس ہی تھا۔ حضرت عمر ؓ نے عمیر ؓ کا امتحان لینا چاہا۔ چنانچہ حضرت عمر ؓ نے ان کی طرف ایک آدمی ’’حارث‘‘ بھیجا۔ حارث کو فرمایا کہ تم عمیر ؓ کے گھر بطور مہمان قیام کرو۔ اگر عمیر ؓ کو ناز و نعمت میں دیکھو تو واپس چلے آنا (اور مجھے بتانا) اور اگر اس کو تنگ حالی میں پائو تو یہ سو دینار اس کو دے دینا۔ حضرت عمر ؓ نے حارث کو سو دینار کی ایک تھیلی دے دی۔ حارث نے حضرت عمیر ؓ کے گھر تین روز تک بطور مہمان قیام کیا، اس دوران حضرت عمیر ؓ ہر روز جو کا ایک ٹکڑا نکالتے تھے۔ جب تیسرا دن ہوا تو حارث سے کہنے لگے: تو نے تو ہمیں بھوکا مار دیا۔ اگر تم یہاں سے جا سکتے ہو تو چلے جائو۔  اس وقت حارث نے دینار نکالے اور ان کے سامنے رکھ دیے۔ حضرت عمیر ؓ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟حارث نے کہا کہ امیر المؤمنین نے آپ کے لیے بھیجے ہیں۔ حضرت عمیر ؓ نے کہا: یہ دینار ان کو واپس کر دو، ان کو میرا سلام کہنااور عرض کرنا کہ عمیر کو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ حضرت عمیر ؓ کی بیوی ان دونوں کی گفتگو سن رہی تھی۔ اس نےپکارکرکہااےعمیر ؓ! یہ دینار  لے لو۔ اگر آپ کو ان کی ضرورت ہوئی تو خود خرچ کر لینا وگرنہ ان دیناروں کو ان کی جگہ میں رکھ دینا۔ یہاں ضرورت مند لوگوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔ جب حارث نے عمیر ؓ کی بیوی کی بات سنی تو وہ دینار حضرت عمیرؓکےسامنے پھینکے اور خود چلے آئے۔ حضرت عمیر ؓ نے وہ دینار لیے اور ان کو چھوٹی چھوٹی چند تھیلیوں میں ڈال دیا اور اس وقت تک نہیں سوئے جب تک کہ وہ تھیلیاں ضرورت مندوں میں تقسیم نہ کر دیں اور شہداء کی اولاد کو اس میں سے خصوصی طور پر دیا۔ حارث واپس مدینہ آئے تو حضرت عمر ؓ نے ان سے پوچھا۔ اے حارث! تو نے کیا دیکھا؟ حارث نے بتایا کہ اے امیر المؤمنین! میں نےان کو بڑی تنگ حالی میں دیکھا۔ آپ ؓ نے پوچھا: تو پھر کیا ان کو دینار دے دیے؟ حارث نے کہا کہ جی ہاں، اے امیر المؤمنین! حضرت عمر ؓ نے پوچھا: اس نے ان دیناروں کا کیا کِیا؟ حارث نے کہا کہ یہ تو مجھے معلوم نہیں، باقی میرا نہیں خیال کہ وہ اپنے لیے ایک درہم بھی رکھیں گے۔ حضرت عمر ؓ نے عمیر بن سعد ؓ کو خط لکھا کہ جونہی یہ میرا خط تم کو پہنچے فوراً میرے پاس چلے آنا۔ جب مکتوب گرامی پہنچا تو حضرت عمیر بن سعد ؓ نے مدینہ کے لیے رخت سفر باندھا۔ مدینہ پہنچ کر امیر المؤمنین ؓ کے پاس حاضر ہوئے۔ حضرت عمر ؓ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ ان کو مرحبا کہا اور اپنے ساتھ بٹھایا۔ پھر پوچھا: اے عمیر ؓ! ان دیناروں کا تم نے کیا کِیا؟ عمیر ؓ نے جواب دیا کہ میں نے جو کرنا تھا کیا، آپ کیوں سوال کرتے ہیں؟ حضرت عمر ؓ نے کہا کہ میں تجھے قسم دےکرپوچھتاہوں، بتائو تو نے ان دیناروں کا کیا کیِا؟ حضرت عمیر ؓ نے جواب دیا کہ میں نے ان کو اپنے لیے ذخیرہ کر لیا ہے تاکہ میں ان سے اس دن انتفاع کروں جس دن نہ مال نفع دے گا اور نہ اولاد۔ (یہ سنتے ہی) حضرت عمر ؓ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ آپؓ نے فرمایا: اللہ تجھ پر رحم کرے۔ پھر حضرت عمیر ؓ کے لیے غلے اور دو کپڑوں کا حکم دیا۔ حضرت عمیر ؓ نے کہا کہ اےامیر المؤمنین! غلہ کی تو مجھے ضرورت نہیں، کیونکہ میں اپنے گھر میں دو صاع جو کے چھوڑ کر آیا ہوں، فراخی رزق تک ہم اس کو کھاتےرہیں گے ہاں، البتہ یہ کپڑے لے لیتا ہوں، کیونکہ فلاں کی ماں (مراد ان کی بیوی) کے کپڑے کافی پرانے اور بوسیدہ ہو گئے ہیں کہ اس کے برہنہ ہونے کا خطرہ ہے۔
کچھ عرصہ کے بعد جب حضرت عمیر
ؓ کا انتقال ہو گیا تو حضرت عمر فاروق ؓ کو ان کی وفات پر بے حد رنج و غم ہوا۔ اظہار حسرت کرتے ہوئے فرمایا: کاش! میرے پاس عمیر بن سعد ؓ جیسے آدمی ہوتے میں ان سے مسلمانوں کے انتظامی معاملات میں معاونت لیتا۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کے غلام ابو لؤلؤہ نے صبح کی نماز میں آپ ؓ کے پہلو پر خنجر کے وار کیے۔ تین دن زندہ رہنے کے بعد وفات
ہوئی اور نبی کریم
اور اپنےرفیق حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پہلو میں مدفون ہوئے۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: