مذہبِ شیعہ کی ابتداء:ان کافرقوں میں بٹنا:01

خلفائے ثلاثہ ؓ کےدور میں يہود ونصاری، مجوس ومشرکین کے دیار و امصار اﷲ تعالی کی عنایت سے صحابہ کرام و تابعین عظام ؓ کے ہاتھ پر فتح ہوئے اور کفار کو قتل وقید اور ذلت و ادبار سے سابقہ پیش آیا۔ غلامی کی ذلت برداشت کرنی پڑی اورجزيہ ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ تو اس حالت سے نکلنے کے لئے اول دو خلفائے کرام ؓ کے زمانہ میں انہوں نے بہت ہاتھ پاں مارے۔ میدان حرب وضرب گرم کئے۔مگر چونکہ نصرت الٰہی اسلام کی پشت پناہ تھی اس لئے بجز ذلت وخواری کچھ ہاتھ نہ آیا۔ تو انہوں نے کھلے کفر کو منافقت کا حلہ پہنانے کا فیصلہ کیا اورخلیفہ سوئم ؓ کے عہد میں ان میں سےبہت سے لوگ کلمہ پڑھ کر مسلمانوں میں شامل ہو گئے ، اور در پردہ نور اسلام کو بجھانے اورمسلمانوں میں فتنہ وفساداو بغض وعناد کو ہوا دينے کی تدبیروں میں لگ گئے۔ ناگاہ جب تقدیر الٰہی سے دور خلافت ختم ہونے لگا تو مصریوں کی ايک جماعت نے خلیفہ ثالث ؓ کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا ۔اور ان کی اطاعت سے منکر ہوگئے۔ بغاوت کی آگ بھڑکانے میں يہ گروہ سب سے زیادہ پیش پیش تھا۔ اس گروہ کے ديگر افراد جو اطراف و اکناف خصوصاً کوفہ اور نواحی عراق میں پھیلے ہوئے تھے موقعہ غنیمت جان کر مدینہ میں سمٹ آئيے اور وہ سارے فتنہ انگیز پروگرام جو سالوں سےترتیب دے جا رہے تھے اور جن کو دبدبہ اسلام کے سبب زبان پر لانے کی جرات نہ کر پا رہے تھے ۔ علی الاعلان ان پر عمل شروع کر دیا۔ جس کے نتیجہ میں حضرت عثمان ؓ کی شہادت اور خاتم خلفاءحضرت علی ؓ کی خلافت قائم ہوئی۔ تومنافقوں کے اس گروہ نے اپنے آپ کو حضرت علی ؓ کے مخلص محبین کے رنگ میں پیش کرنا شروع کر دیا۔ اور اپنے اپ کو شعیان علی ؓ کہنے لگے۔ وہ اس انقلاب پر بے حد خوش تھے اب انہوں نے اپنے لئے حالات سازگار دیکھ کراپنےپروگرام کو بروئے کار لانے کے لئے ہاتھ پاں مارنے شروع کردئيے۔
عبدا ﷲ بن سبایمنی،صنعانی تھا۔ جو اصلا ً یہودی تھا،جو يہودی ہونے کے زمانہ میں اسلام و مسلمانوں کا کھلا دشمن تھا۔ دھوکہ اور فریب کاری کا ماہر، حرب وضرب کی چالوں سے خوب واقف، فتنہ انگیزی میں يکتا سیاسی چالوں سے آشنا، اس نے جب دیکھا کہ جو شوروش خلیفہ ثالث ؓ کی شہادت کے وقت برپا ہوگئی تھی ۔ اب ماند پڑتی جا رہی ہے اور جو فتنہ ان لوگوں نے کھڑا کر دیا تھا وہ اپنی موت آپ مرتا جا رہا ہے۔ اور مسلمانوں میں افتراق و انتشار کو جو منصوبہ ان کے پیش نظر تھا وہ نا کام ہوا چاہتا ہے۔ تويہودی سیاست کو بروئے کار لار کر اس نے طریقہ واردات بدل دیا۔ اور اجتماعی ہنگامہ آرائی سے ہٹ کر افراد پر توجہ دینی شروع کی۔ اورہر فتنہ پرواز کو نئے طریق سے فریب دینا شروع کیا اور ہر ايک کی استعداد کے مطابق اس کے دل میں گمراہی کی کاشت کرنے لگا۔
اس نےسب سے پہلے خاندان نبوی ﷺ کے ساتھ خلوص ومحبت کا حربہ اختیار کیا اور لوگوں کو اہل بیت کی محبت پرمضبوط و پختہ رہنے کی تلقین کرنے لگا خلیفہ برحق کی جانبداری، دوسروں کے مقابلہ میں ان کو ترجيح، اور ان کےمخالفین کی باتوں پر کان نہ دھرنے کی پالیسی اختیار کرنے کو کہنے لگا۔ اور يہ باتیں ایسی تھیں کہ ہر خاص و عام کا مطمح نظر تھیں اور کہیں سے بھی ان کی مخالفت متوقع نہیں تھی ۔ اس ليے ان کی کافی پذیرائی ہوئی اور لوگوں میں اس کااعتمادبہت بڑھا۔ اور اس کو مسلمانوں کا خیر خواہ سمجھا جانے لگا۔ اس کے بعد اس نے يہ کہنا شروع کیا کہ جناب رسول اﷲﷺ کے بعد حضرت علی ؓ سے سے افضل ہيں اور نبی کريم ﷺ سے سب سے اقرب انسان ہیں۔ کیونکہ آپ رسول اﷲ کے وصی، بھائی اور داماد ہیں۔ اور حضرت علی ؓ سے متعلق قرآن مجید میں جو آیات فضائل ہیں یا احادیث مروی ہیں وہ سب اور اسی کے ساتھ اپنی طرف سے احادیث گھڑگھڑ کر لوگوں میں پھیلانی شروع کیں۔ جب اس نےديکھا کہ اس کے شاگرد اور ماننے والے حضرت علی ؓ کی افضلیت پر ایمان لے آئے اور ان کے ذہنوں میں يہ بات جڑپکڑ گئی کہ تو اپنے بہت ہی خاص لوگوں اور اپنے بھائیوں کو نہایت راز داری کے ساتھ بتایا کہ حضرت علی ؓ پیغمبرعلیہ السلام کے وصی تھے اور نبی کريم ﷺ نے کھلے الفاظ میں ان کو اپنا خلیفہ مقرر فرمایا تھا اور يہ کہ آپ کی خلافت قرآن مجید کی اس آیت انما ولیکم اﷲ رسولہ سے ظاہر ہوتی ہے۔
لیکن صحابہ (ؓ ) نے مکر سے اور اقتدار کی خاطر آنحضرت ﷺ کی وصیت کو ضائع کر دیا اور خدا و رسول کی اطاعت نہیں کی۔ اور حضرت علی(ؓ ) کے حق کو تلف کر دیا۔ دنیا کے لالچ میں آ کر دین بھی چھوڑ بيٹھے۔ اور باغ فدک کے سلسلہ میں سیدة النساءؓ اور خلیفہ اول ؓ کے مابین شکر رنجی ہوگئی۔ جو صلح و صفائی کے بعد ختم بھی ہوگئی تھی۔ اپنے قول کے ثبوت میں
سند و دلیل کے طور پر بیان کیا۔ اور ان حواریوں کو يہ راز چھپانے کی از حد تاکیدکی۔ اور يہ کہا، کہ اگر لوگوں سے اس مسئلہ پرتمہاری بحث ہو جائے تو بطور حوالہ میرانام ہرگز نہ لینا۔ بلکہ مجھ سے نفرت و بیزاری ظاہر کرنا۔ کیونکہ میں نام
و نمود اور شہرت اخواہاں نہیں۔ نہ جاہ و مرتبہ کی خواہش رکھتا ہوں۔ اس نصیحت سے میرا مقصد صرف ايک حق بات کہنااور ايک واقعہ کو ظاہر کر دینا ہے۔
اِبنِ سَبا کی اس وسوسہ اندازی کا يہ نتیجہ نکلا کہ خود جناب علی ؓ کی فوج میں ان باتوں کا تذکرہ اور خلفاء پر طعن و وشنام کاسلسلہ شروع ہوگیا۔ مناظرہ بازی اور جھگڑوں کا آغاز ہو گیا۔ حتی کہ خود حضرت علی ؓ نے برسر منبر خطبوں میں اس جماعت سے اپنی نفرت وبیزاری کا اظہار فرمایا دیا۔ بعض سر گرم لوگوں کو دھمکایا اور شرعی سزا کا خو ف دلایا۔
اِبنِ سَبا نے دیکھاکہ تیر نشانہ پر بیٹھا اور شہد کی انگلی کام کر گئی اورمسلمانوں کے عقیدہ میں فتنہ وفساد کا بیج بارآور ہو گیا۔ مناظرہ بازی میں ايک دوسرے کی عزت و آبرو کا کوئی پاس نہیں رہا۔ تو اگلے قدم کے طور پر اپنے مخصوص ترین شاگردوں کی ايک اور جماعت منتخب کی اور راز داری کا حلف لينے کے بعد، پہلے بھید سے بھی زیادہ باریک اورنازک”راز“کا انکشاف کیا۔ کہ جناب علی مرتضیٰ(ؓ ) سے چند ایسی باتوں کا ظہور ہوتا ہے جو انسانی طاقت کے بالاتر ہیں۔ مثلاً کرامتیں، ذاتوں کا بدل دینا، غیب کی خبریں سنانا۔ مردوں کو زندہ کردینا۔ اﷲ کی ذات اور دنیا کے حقائق بیان کرنا۔ باریک اور گہری جانچ۔ حاضر جوابی۔ الفاظ وعبارت میں فصاحت وبلاغت۔ زہدو پرہیز گاری۔ بلند درجہ بہادری اور وہ قوت وطاقت کہ دنیا والوں نے نہ دیکھی نہ سنی۔
تم جانتے ہو يہ سب کچھ کیوں اور کيسے ہے؟ اور اس کا راز کیا ہے ؟ سب نے عاجزی کا اظہار کر کے کہا نہیں(استاد) ہم نہیں جانتے آپ فرمائيے۔ جب ان کے جذبہ شوق کو خوب بھڑکا چکا تو رازوں کو چھپانے کی تاکید مزید کر کے کہنے لگا کہ يہ سب کچھ خواص الوہیت ہیں، جولباس بشریت میں جلوہ گرہیں۔غیر فانی لباس فنا میں خود کو نمودار کر رہا ہے۔
فاعلموا ان علیا ھو الا الہ ولا الہ الاھو یعنی جان لو کہ علی ہی معبود ہیں ان کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔
اور اپنے قول کی شہادت وتائيد میں حضرت علی ؓ کے وہ کلمات پیش کئے۔ جو بحالت وجدوکیفیت جو کبھی اولیاء اﷲ پرغالب و طاری ہو جاتی ہے۔آپ کہ منہ سے نکلے تھے۔
مثلاً انا حی الاموات میں زندہ ہوں نہیں مروں گا۔ انا ابعث من فی القبور قبروں سے مردوں کو میں اٹھاؤں گا۔
انا مقیم القیامة میں ہی قیامت برپا کروں گا۔
چنانچہ ہونٹوں نکلی کوٹھوں چڑھی، کے مصداق يہ نازیبا کلام بھی راز نہ رہا۔ اور لوگوں میں پھیلتا چلا گیا اور جناب امیرالمومنین ؓ کے سمع مبارک تک بھی پہنچا۔ آپ نے استاد شاگرد سب کو پکڑا۔ اور فرمایا تم نے ان خرافات سے توبہ نہ کی تو سب کو آگ میں جلا کر مار ڈالوں گا۔ چنانچہ سب نے توبہ کی۔ اس کے بعد اِبنِ سَبا کو مدائن میں چلا وطن کر دیا گیا۔ مگر وہ وہاں بھی اپنی حرکتوں اور غلط اور گمراہ عقائد کی تعلیم واشاعت سے باز نہیں آیا۔ اپنے خاص گر گوں کو آوزبائیجان اور عراق کے علاقہ میں پھيلا دیا۔

اور ادھر حضرت علی ؓ شام کی مہم اور کار خلافت کے سبب اتنے مصروف و مشغول رہے کہ اِبنِ سَبا اور اس کے چیلوں کی طرف توجہ نہ دے سکے۔ يہاں تک کہ اس ملعون کے پھيلائے غلط عقائد نے لوگوں کے دلوں میں جڑ پکڑلی، اور وہ  وب مشہور ہوئے۔ جناب امیر ؓ کے فوجی اس وسوسہ کو قبول کرنے اور نہ کرنے کی بناء پر چار فرقوں میں بٹ گئے۔
جاری ہے:

محمد راشد حنفی

محمد راشد حنفی

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: