نورِ مشرق:نور الصباح بیگم

ریاست رامپور اپنی اہمیت اور جاہ و حشمت کی وجہ سے ہندوستان بھرمیں ایک اہم مقام کا حامل تھا۔اس ریاست میں  امراء و رؤساء کے بے شمار خانوادے تھے۔ان خانوادوں میں نواب دولہا ہی خوب شہرت تھی۔ان کا اصل نام "تجمل  شاہ خان "تھا۔وہ ریاست بھر میں اپنے اعٰلی ذوق کی وجہ سے عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔نواب دولہا کی شادی قدوسی بیگم سے ہوئی تھی۔ان کے گھر میں 1908؁میں ایک بچی نے جنم لیا ۔بچی کی ولادت اذانِ فجر سے ذراقبل ہوئی اس لئے اس کا نام "نورالصباح”رکھا گیا ۔
نورالصباح جب ذرا بڑی ہوئی تو اس کی کھلکھلاہت اور شوخیاں دیکھ کر نواب دولہا کہتے تھے کہ "یہ توہمارےگھرکانورہےاور اس کے بغیر تو گھر میں اندھیرا ہے۔”
بچی ذرا اور بڑی ہوئی تو اس کی تعلیم و تربیت کے لئے ایک اچھےاتالیق کی تلاش شروع ہوئی۔کافی تلاش بسیارکےبعدمظفر نگر کے ایک استاد "مصباح الدین "ہاتھ آگئے،انہیں بچی کا اتالیق مقرر کیا گیا۔اٹھنے بیٹھنے باتیں کرنے کا سلیقہ سکھانے کی ذمہ داری انہی کو سونپ دی گئی ۔تعلیم و تربیت کا انتظام کر کے نواب دولہا مطمئن ہوگئے،اس لئے کہ مصباح الدین ایک نرم مزاج مگر اچھی شہرت رکھتے تھے۔۔وہ بچی کو قرآن ِ پاک کی تعلیم کےساتھ فارسی اور اردو بھی پڑھاتے تھے،حساب اور انگریزی کی بھی تعلیم دیا کرتے تھے۔ان کی بھرپور توجہ سے بچی نے کم عمری میں ہی بہت کچھ سیکھ لیا تھا۔فارسی اور انگریزی میں تو نورالصباح کو عبور حاصل ہو گیا تھا۔اس زمانےکاچلن تھا کہ بچی کو کم عمری میں ہی رخصت کر دیا جاتا تھا۔
25/26دسمبر1920؁میں نورالصباح ریاست شیر پور کے چشم و چراغ "محمد ظہیر الدین خان "کے ساتھ شادی کےبندھن میں بندھ گئیں۔اس وقت ان کی عمر صرف 12سال تھی اور تیرہویں میں قدم رکھا تھا۔
نواب شیر پور کا شمار یو پی کی اہم شخصیت میں ہوتا تھا۔وہ 1911؁ سے کانگریس کے پلیٹ فارم سے سیاست میں کلیدی رول ادا کررہے تھے۔تحریکِِ آزادی میں انہیں ایک خاص اہمیت حاصل تھی۔شوہر کی وجہ سے وہ بھی سیاست میں  دلچسپی لینے لگیں۔1922؁میں ان کی زندگی میں ایک اہم موڑ تب آیا کہ جب وہ اپنے شوہر کے ہمراہ خلافت  موومنٹ کی جانب راغب ہوئیں اور ان کی ملاقات”بی امّاں”سے ہوئی۔
مولانا محمد علی و مولانا شوکت علی کی والدہ "بی امّاں”نے نور الصباح کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا،ماضی میں ان کےکپڑے،جوتے،خوشبویات وغیرہ سب لندن سے آتے تھےاور وہ شیر پور میں شہزادیوں کی سی زندگی بسر کیا کرتی تھیں۔مگر بی امّاں سے ملاقات کےبعد انہوں نے اپنا سب کچھ غرباء میں تقسیم کر دیا اور معمولی سوتی کپڑے زیب تن کرنے لگیں۔
1937؁میں تحریکِ پاکستان کی گونج شیر پور میں پہنچی تو انہوں نے "آل انڈیا مسلم لیگ”میں دلچسپی لینا شروع کر دی  ۔بچوں کی پڑھائی کی وجہ سے وہ 1941؁میں دہلی منتقل ہو گئیں اور وہاں خواتین کی معاشرتی سرگرمیوں میں حصہ لینےلگیں۔1945؁ میں قائدِاعظم نے ان سے ملاقات کی،اور مسلم لیگ دہلی کی پہلی سیکریٹری پھر صدر بنا دیا۔یہ نورالصباح کے لئے بہت اہمیت کی بات تھی کیونکہ بیگم مولانا محمد علی جوہر کے بعد وہی ایک ایسی خاتون تھیں جو مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی میں شامل تھیں انہوں نے مسلم امراء و رؤساء اور افسران کی بیگمات کو مسلم لیگ میں شامل کرانے کی مہم شروع کی ۔
وہ دور ہی کچھ ایسا تھا کہ مسلمان افسران بھی تحریک پاکستان کے نام سے گھبراتے تھے،مگر وہ بےخوف ہو کر ان کی بیگمات کو جلسے میں کھینچ کر لےآتیں اور پھر انہوں نے پرانی دلُی کا رخ کیا اور روایت کی پابند عورتوں کو جلسوں میں
لانے کا انتظام کرنے لگیں۔
فروی1947؁میں نورالصباح خضر حیات ٹوانہ کی حکومت کے خلاف چلائی گئی مہم میں حصہ لینے کے لئے لاہور آئیں توانہیں گرفتار کر لیا گیا ۔1945؁ہی مین بیگم مولانا محمد علی جوہر نے مسلم لیگ شعبہ خواتین کل ہند بنیاد پر تشکیل دی تووہ مرکزی کمیٹی کی ممبر منتخب ہوگئیں۔بالآخر ان کی اور ان جیسی ہزاروں دیگر خواتین اور مردوں کی کوششیں رنگ لائیں،اور پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔
وہ ریاست شیر پور کی جائداد اور خزانہ سب کچھ پاکستان کے نام پر قربان کر کے 17ستمبر 1947؁کو پاکستان منتقل ہوگئیں۔پاکستان بننے کے بعد انہیں مسلم لیکگ سندھ ورکنگ کمیٹی اور کاؤںسل آف آل پاکستان مسلم لیگ کاممبربنالیا گیا،لیکن جب 1958؁میں مارشل لاء نافذ ہوا تو انہوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی اورلکھنےلکھانے کا شوق پورا کرنے لگیں۔
14جولائی1978کو نورالصباح اپنے7 بچوں کو روتا بلکتا چھوڑ کر شیرپور ہاؤس کراچی میں انتقال کر گئیں ۔
بعد ازمرگ14اگست 1992؁کووزیراعظم پاکستان نے انہیں گولڈمیڈل دیا اور اس محسن پاکستان "نور الصباح بیگم”کو کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: