حضرت عمر الفاروقؓ : 02

حضور نبی کریم صحابہ کرام ؓ  کو انفاق فی سبیل اللہ اور صدقہ و خیرات کی ترغیب دے رہے تھے، ان صحابہ کرام ؓ  میں حضرت عمر بن الخطاب ؓ بھی تھے جن کا سینہ کھل گیا اور چہرہ چمک اٹھا کیونکہ ان کے پاس (صدقہ کرنےکےلیے) مال موجود تھا۔ حضرت عمر ؓ (اپنے دل میں) کہنے لگے! آج میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ پر سبقت لے جائوں گا۔ چنانچہ وہ ہوا کی طرح دوڑتے ہوئے گئے اور واپس آئے تو ہاتھ میں مال سے بھری ایک بڑی تھیلی تھی۔ آپ ؓ نے وہ تھیلی آنحضرت کی خدمت میں پیش کر دی۔ حضور نبی پاک نے اس بڑی تھیلی کی طرف دیکھا، پھر پوچھا: اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟ حضرت عمر ؓ نے کہا کہ میں ان کے لیے اسی قدر مال چھوڑ کر آیا ہوں۔ اس کے بعد حضرت عمر ؓ، آنحضور کے ساتھ بیٹھ گئے، تھوڑی دیر نہ گزری ہو گی حضرت ابوبکر صدیق ؓ اپنے ہاتھ میں ایک بہت بڑا تھیلا جو حضرت عمرؓکےلائےہوئےتھیلےسےبڑاتھا،اٹھائےہوئےمسجدمیں داخل ہوئے اور حضور نبی کریم کے سامنے لا کر رکھ دیا۔ حضور مسکرائے اور پوچھا: ’’تم اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟‘‘ ابوبکر صدیق ؓ نے متواضعانہ انداز میں جواب دیاکہ ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول (کی محبت)چھوڑ کر آیا ہوں۔ حضرت عمر ؓ نے صدیق اکبر ؓ پر اپنے تعجب کوظاہرکرتے ہوئے فرمایا: اے ابوبکر ؓ! میں کسی کام میں تجھ پر کبھی بھی سبقت نہیں لے سکتا۔

حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ، امّ المؤمنین حضرت ام سلمہ r کے پاس تشریف لائے۔ آپ ؓ بڑے مال دار تھے۔ حضرت اُمّ سلمہ ؓ نے انفاقِ مال کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا کہ میں نے رسولِ کریم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعض صحابہ ؓ  میری وفات کے بعد مجھے کبھی نہ دیکھ سکیں گے (یہ ارشاد سنتے ہی) حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ کانپ اٹھے اور خوف و گھبراہٹ کی حالت میں وہاں سے اٹھے اور حضرت عمر بن الخطاب ؓ کے پاس گئے، وہاں جا کر حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے کہا: سنو آپ ؓ کی ماں کیا کہتی ہیں۔
پھر انہوں نے حضرت ام سلمہ
r کی حدیث سنائی تو حضرت عمر ؓ نے بھی خوف محسوس کیا، جیسے نیچے سے زمین ہل رہی ہو، پھر جلدی سےاٹھے اور ام المؤمنین حضرت ام سلمہ r کے پاس پہنچے جب حاضر ہوئے تو دو زانو ہو کر بیٹھے اور عرض کیا کہ میں آپ کو خدا کی قسم دےکر پوچھتا ہوں کہ آیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ ام سلمہ r نے فرمایا کہ نہیں، اور میں آپ کے بعد کسی کو بے قصور نہیں ٹھہرائوں گی۔
لوگوں کا ایک ہجوم بیت للہ میں جمع تھا اور طواف میں مشغول تھا، تکبیر و تہلیل کی ندائوں میں آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے کہ اس اژدھام کے بیچ میں حضرت عمر ؓ کی ایک جذام زدہ عورت پر نظر پڑی کہ وہ طواف کر رہی ہے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا کہ اے خدا کی بندی! لوگوں کو تکلیف نہ پہنچائو، اگر تو اپنے گھر میں بیٹھتی تو زیادہ بہتر تھا۔ امیر المؤمنین کی اس بات پر اس عورت کو حیا آئی اور اپنے گھر میں جا کر بیٹھ گئی، حتیٰ کہ جب حضرت عمر ؓ کا انتقال ہو گیا تو ایک آدمی کا اس عورت کے پاس گزر ہوا تو اس نے کہا کہ جس نے تجھے (طواف کرنے سے) منع کیا تھا وہ فوت ہو گیا ہے، لہٰذا اب تم باہر نکل آئو۔ وہ کہنے لگی! بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ زندگی میں تو اس کی اطاعت کروں اور مرنے کے بعد اس کی نافرمانی کروں۔ چنانچہ وہ عمر بھر گھر میں ہی رہی حتیٰ کہ انتقال ہوا۔
پُر وقار اور باعظمت انداز میں نبی کریم تشریف فرما تھے، آپ کے ہونٹ مبارک سے تسبیح و تقدیس کے کلمات نمایاں ہورہے تھے اور سینہ مبارک سے احادیثِ مبارکہ کا ایک بحرِ ذخار موج زن ہو رہا تھا۔ آپ کے اردگرد صحابہ ؓ  کی جماعت حلقہ بنائے بیٹھی تھی کہ یکایک آنحضور نے اپنا خواب مبارک ذکر کرتے ہوئے فرمایا: دریں اثناء کہ میں محوِ خواب تھا کہ میں نےاپنےآپ کو جنت میں دیکھا، میں نے دیکھا کہ ایک عورت وہاں کے ایک محل کے پاس وضو کر رہی ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کےلیےہے؟ بتایا گیا کہ عمر ؓ کے لیے ہے۔ پھر حضورِ اکرم نے فرمایا کہ مجھے عمر ؓ کی غیرت یاد آئی تو میں وہاں سےآگےچلا گیا۔ (یہ سن کر) حضرت عمر بن الخطاب ؓ رونے لگے اور عرض کرنے لگے: یا رسول اللہ!کیامیںآپکےمقابلہ میں غیرت کروں گا؟
عراق سے ایک وفد سخت گرمی کے زمانہ میں جب عرب کا ریگستان آفتاب کی تمازت سے آتشِ دوزخ کا منظر پیش کر رہا تھا، آیا۔ جس کی قیادت حضرت احنف بن قیس ؓ کر رہے تھے۔ وہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق ؓ کو ڈھونڈتے ہوئے جب پہنچے تو دیکھا کہ عمامہ اترا ہوا ہے، کمر پر گون باندھی ہوئی ہے اور زکوٰۃ میں آئے ہوئے اونٹوں کا علاج معالجہ کر رہے ہیں۔ جب عمر فاروق ؓ کی نظر حضرت احنف ؓ پر پڑی تو فرمایا، اے احنف ؓ! کپڑے تبدیل کرو اور آئو۔ اس اونٹ کے علاج معالجہ میں امیر المؤمنین کے ساتھ تعاون کرو، اس میں یتیموں، مسکینوں اور بیوائوں کا حق ہے۔ ان لوگوں میں سے کسی نے کہا کہ اے امیر المؤمنین! اللہ تعالیٰ آپ ؓ کی مغفرت فرمائے۔ آپ اپنے کسی غلام کو حکم فرما دیتے، وہ یہ کام انجام دے دیتا؟ حضرت عمر ؓ نے عاجزانہ انداز میں فرمایا کہ بھلا مجھ سے بڑا غلام بھی کوئی ہو گا، اور یہ احنف ؓ کون ہے؟ جو شخص مسلمانوں کے امور کا ذمہ دار ہو وہ مسلمانوں کا غلام ہے، جس طرح ایک غلام پراپنےآقا کی خیر خواہی اور امانت کی ادائیگی ضروری ہے اسی طرح ان پر بھی ان امور کا بجا لانا ضروری ہے۔
چلچلاتی دھوپ میں حضرت عمر ؓ مدینہ منورہ سے باہر گئے ہوئے تھے، سر مبارک پر اپنی چادر رکھی ہوئی تھی کہ ایک غلام گدھےپرسوارہوئے آپ ؓ کے پاس سے گزرا۔ آپ ؓ نے کہا کہ اے غلام! مجھے بھی اپنے ساتھ سوار کر لو۔ غلام نے فوراً اپنی سواری کو روکا اور اپنے گدھے سے نیچے اتر کر عاجزانہ انداز میں عرض کیا: اے امیر المؤمنین! لیجئے! آپ ؓ سوار ہو جائیں۔ آپؓنےکہا کہ نہیں: تم سوار ہو جائو، میں تمہارے پیچھے سوار ہوتا ہوں، کیا تم مجھے پست جگہ پر سوار کرنا چاہتے ہو اور خود سخت جگہ پرسوار ہونا چاہتے ہو۔ بہرحال! غلام کا یہ اصرار تھا کہ حضرت عمر ؓ آگے بیٹھیں اور وہ پیچھے بیٹھے گا جب کہ حضرت عمر ؓ کا اصراریہ تھا کہ غلام آگے سوار ہو اور وہ پیچھے بیٹھیں گے۔ بالآخر غلام نے امیر المؤمنین کی بات مان لی اور یوں حضرت عمر ؓ مدینہ منورہ ایک غلام کے پیچھے بیٹھے داخل ہوئے اور لوگ یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ایک دن حضرت عمر ؓ کے بیٹے، حضرت عمر ؓ کے پاس آئے۔ بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی اور عمدہ پوشاک زیب تن تھا۔ (تعیش پسندی دیکھ کر) حضرت عمر ؓ نے اپنے بیٹے کو درّہ سے اتنا مارا کہ وہ رونے لگے۔ حضرت حفصہ r نے کہا کہ آپ نے اسے کیوں مارا؟ آپؓ نے فرمایا کہ میں نے اس کو دیکھا کہ یہ خود پسندی میں مبتلا ہے اس لیے میں نے چاہا کہ اس کے نفس کو اس کےسامنےحقیربنائوں۔
حضرت عمر ؓ نے اپنے کندھے سے نیند کا غبار جھاڑا اور رعایا کی خبر گیری کے لیے نکل پڑے۔ آپ ؓ نے دیکھا کہ ایک عورت اپنی کمر پر پانی کی مشک اٹھائے ہوئے ہے اور ننگے پائوں چلی جا رہی ہے۔ حضرت عمر ؓ نے اس کے احوال دریافت کیے تو اس نے بتایا کہ وہ ایک عیال دار عورت ہے اور اس کے پاس کوئی خادمہ نہیں ہے۔ اس لیے وہ اپنے بچوں کو پانی پلانے کے لیے رات کے وقت خود ہی نکلی ہےاور دن کے وقت خوف کی وجہ سے اسے نکلنا  پسند نہیں ہے۔ حضرت عمر ؓ نے جب اس کے حالات سنے تو بڑے پسیجے اور خود اس کی مشک اٹھا کر اس کے گھر تک گئے۔ پھر فرمایا کہ تم صبح کے وقت عمر ؓ کے پاس آنا، وہ تمہارے لیے کسی خادمہ کا انتظام کر دیں گے۔ وہ کہنے لگی کہ میں ان تک نہیں پہنچ سکتی۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ تمہیں ان شاء اللہ وہ مِل جائیں گے۔ چنانچہ جب وہ عورت صبح کے وقت ان کے پاس پہنچی تو دیکھا کہ عمر ؓ تو وہی ہیں۔ اس عورت نے حضرت عمر ؓ کو پہچان لیا۔ پھر بھاگ گئی، حضرت عمر ؓ نے اس کےلیے خادمہ اور نفقہ کا حکم دیا اور اس کے چلے جانے کے بعد اس کو بھیج دیا۔
امیر المؤمنین حضرت عمر ؓ کے پاس کہیں سے بہت سے کپڑے آئے تو آپ نے لوگوں میں وہ کپڑے تقسیم کر دیے۔ ہر آدمی کوکپڑاملا،پھر آپ ؓ منبر پر جلوہ افروز ہوئے۔ آپ ؓ کے بدن پر کپڑوں کا جوڑا تھا۔ آپ ؓ نے فرمایا: لوگو! میری بات سنو۔ حضرت سلمان ؓ نے کہا کہ ہم نہ آپ کی بات سنتے ہیں اور نہ مانتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے متعجب ہو کر کہا کہ اے ابو عبد اللہ! کیوں؟
انہوں نے کہا کہ آپ نے ہم میں تو ایک ایک کپڑا تقسیم کیا اور اپنی ذات کے لیے دو کپڑے رکھے۔ حضرت عمر
ؓ نے فرمایا کہ اےابوعبد اللہ! جلدی نہ کرو، پھر آواز دی۔ اے عبد اللہ بن عمر ؓ! ابن عمر w نے کہا کہ امیر المؤمنین! میں حاضر ہوں، فرمائیے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں تجھے خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ جو کپڑا میں نے پہنا ہوا ہے، کیا یہ تیرا کپڑا ہے؟انہوں نے کہا کہ جی ہاں، یہ میرا ہے۔ حضرت سلمان ؓ نے فرمایا کہ ہاں، اب ہم آپ کی بات سنیں گے اور اطاعت بھی کریں گے۔
حضرت یزید بن ابی سفیان ؓ کے متعلق یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ وہ طرح طرح کے کھانے تناول کرتے ہیں اور یہ خبر یثرب(مدینہ) کے تمام اطراف میں پھیل گئی۔ یہاں تک کہ جب امیر المؤمنین ؓ کو بھی اس بات کا علم ہوا تو آپ ؓ نے اپنےایک غلام ’’یَرْفأ‘‘ سے کہا کہ جب تجھے پتہ چلے کہ وہ کھانے میں حاضر ہے تو مجھے بتا دینا۔ چنانچہ جب یزید بن ابی سفیانؓکھاناکھانےکےلیےبیٹھے تو غلام نے آپ ؓ کو مطلع کر دیا۔ حضرت عمر ؓ فوراً تشریف لائے اور سلام کر کے اجازت طلب کی، اجازت ملی تو اندر تشریف لائے اور ان کےقریب بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد ثرید اور گوشت آیا۔ حضرت عمر ؓ نے بھی ان کے ساتھ تناول کیا، پھر بھنا ہوا گوشت آیا تو یزید نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو حضرت عمر ؓ نے روک دیا اور سرزنش کرتےہوئےفرمایا،خداکا خوف کرو! اے یزید بن ابی سفیان ؓ! کیا کھانا کھا لینے کے بعد پھر دوبارہ کھائو گے؟ اس ذات کی قسم! جس کےقبضہ میں عمر ؓ کی جان ہے اگر تم لوگوں کے طریقہ کے خلاف چلو گے تو وہ بھی تمہارے طریقہ کے خلاف ہی چلیں گے۔
سحری کے وقت حضرت عمر ؓ مدینہ کی گلی کوچوں میں گھوم رہے تھے اور لوگوں کے حالات معلوم کر رہے تھے کہ اچانک آپؓکے کان میں ایک پریشان حال عورت کی آواز پڑی جو اپنے جذبات کا ان دو شعروں میں اظہار کر رہی تھی:
تطاول ھذا اللیل و اسود جانبہ
و ارّقنی ان لا حبیب ألا عبہ
فلولا حِذار اللّٰہِ لا شیٔ مثلہ
لزعزع من ھذا السریر جوانبہ
’’رات طویل ہو گئی اور اس کے طراف میں تاریکی پھیل گئی، اگر خدا کا خوف نہ ہوتا جس کے مثل کوئی نہیں تو اس چارپائی کی تمام جوانب زور سے ہلا دی جاتیں۔‘‘
ان دو شعروں نے حضرت عمر ؓ پر بڑا اثر کیا، اس عورت سے اجازت لی، پھر تشریف لا کر پوچھا، تو کیوں پریشان ہے؟ اس نےغمگین ہوکر کہا کہ آپ ؓ نے میرے خاوند کو اتنے مہینوں سے جلا وطن (شہر سے دور) کر رکھا ہے۔ حالانکہ مجھے اس کا اشتیاق ہو رہا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے سنجیدگی سے پوچھا کہ کیا تمہارا ارادہ کسی برائی کا ہے؟ اس عورت نے کہا کہ معاذ اللہ! ہرگز نہیں۔ حضرت عمرؓنےفرمایا کہ حوصلہ رکھو، تمہارے شوہر تک پیغام پہنچ جائے گا۔ بعد ازاں حضرت عمر ؓ، (اپنی صاحبزادی) حضرت حفصہr کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تم سے ایک اہم بات پوچھنا چاہتا ہوں، تم اس کی وضاحت کر دو، پھر دھیمی آواز میں پوچھا کہ عورت کتنے عرصہ تک اپنے خاوند سے صبر کر سکتی ہے؟
ام المؤمنین حضرت حفصہ r نے اپنا سر شرم کے مارے نیچے کر لیا تو حضرت عمر ؓ نے ان پر تخفیف کرتے ہوئے فرمایا کہ بیٹی! بیشک اللہ تعالیٰ حق بات کہنے سے شرم نہیں فرماتے! حضرت حفصہ r نے حیام و شرم کی وجہ سے زبان سے تو نہیں جواب دیا، البتہ ہاتھ کے اشارہ سے کہا کہ تین ماہ تک یا زیادہ سے زیادہ چار ماہ تک۔ چنانچہ حضرت عمر ؓ نے پھر یہ فرمان جاری کر دیا کہ کوئی لشکر تین ماہ سے زیادہ نہ روکاجائے۔
ایک دن حضرت عمر ؓ منبر پر چڑھے اور لوگوں کے ایک کثیر مجمع سے مخاطب ہو کر فرمایا:
لوگو! عورت کے مہر زیادہ نہ باندھو، (آئندہ) مجھے کسی کے متعلق یہ خبر نہ پہنچے کہ اس نے اس مقدار سے زیادہ مہر دیا ہے، جس مقدار میں رسول کریم نے مہر دیا یا اس کی طرف بھیجا گیا ہے۔ اِلّا یہ کہ میں اس سے زیادہ مقدار بیت المال میں مقرر کروں۔ یہ فرماکرمنبرسےنیچے اتر آئے۔ راستہ میں ایک قریش کی عورت نے آپ ؓ کو روک لیا اور کہنے لگی۔ اے امیر المؤمنین! یہ بتائیے! اللہ کی کتاب(قرآن)اتباع کی زیادہ حق دار ہے یا آپ ؓ کی بات؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ کی کتاب ہی اتباع کی زیادہ حق دار ہے، لیکن ہوا کیا ہے؟ وہ کہنے لگی: آپ ؓ نے ابھی ابھی لوگوں کو عورتوں کا زیادہ مہر باندھنے سے منع کیا ہے، حالانکہ اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے:
وَ اِنْ اَرَدتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَکَانَ زَوْجٍ وَ اٰتَیْتُمْ اِحْدالھُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْہُ شَیْئًاo (النسائ: 20)
’’اور اگر تم بجائے ایک بی بی کے دوسری بی بی کرنا چاہو اور تم اس ایک کو انبار کا انبار مال دے چکے ہو تو تم اس میں سے کچھ بھی مت لو۔‘‘
حضرت عمر ؓ نے کہا کہ ہر ایک عمر سے زیادہ فقیہ ہے۔ پھر واپس منبر کی طرف تشریف لے گئے اور لوگوں سے فرمایا کہ میں نے تمہیں عورتوں کا مہر مقررہ مقدار سے زیادہ باندھنے سے منع کیا تھا لیکن اب حکم یہ ہے کہ ہر شخص جیسے چاہے اپنے مال میں تصرف کرے۔
مسلمانوں کا ایک گروہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، لوگ ان سے کہنے لگے: آپ ؓ حضرت عمر بن الخطابؓ سے بات کریں۔ حضرت عمر ؓ نے ہمیں خوف میں ڈال دیا ہے۔ خدا کی قسم! ہم انہیں نگاہیں بھر کر نہیں دیکھ سکتے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ اس مجلس سے اٹھے اور امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق ؓ کے پاس گئے اور ان کو سارا واقعہ بتایاتوحضرت عمر ؓ نے غضبناک ہوتے ہوئے فرمایا: یہ لوگ ایسی بات کرتے ہیں خدا کی قسم! میں ان کے لیے نرم ہوا حتیٰ کہ اس پرمجھےخدا کا خوف آیا اور میں نے ان پر سختی کی حتیٰ کہ مجھے اس پر بھی خدا کا خوف آیا، خدا کی قسم! مجھے ان لوگوں سے زیادہ خوف ہے، اب اس سے کوئی راہِ فرار ہے؟ پھر آپ زار و قطار رونے لگے، آپ ؓ کے ہونٹ کپکپانے لگے حتیٰ کہ رونے کی وجہ سے آپ کے سینہ سےگونج دار آواز آنے لگی، پھر اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔عبد الرحمن بن عوف ؓ نے کہا: آپ ؓ کے بعد لوگوں کو ستیاناس ہو۔
عینیہ بن حصین ؓ مدینہ آئے اور اپنے بھتیجے حُرّ بن قیس بن حصین کے ہاں قیام کیا۔ وہ حضرت عمر ؓ کے مقرب لوگوں میں سےتھے۔ عینیہ نے اپنے بھتیجے سے کہا کہ اگر حاکم وقت سے ملاقات کی کوئی صورت ہو تو آپ میرے لیے ان سے ملنے کی اجازت طلب کریں؟ حضرت عمر ؓ نے ان کو اجازت دے دی۔ جب وہ آپ ؓ کے پاس آئے تو کہنے لگے: اے ابن خطابؓ!توہمارےدرمیان انصاف نہیں کرتا ہے اور ہمیں چند ٹکڑوں کے سوا کچھ نہیں دیتا ہے۔ (یہ سنتے ہی) حضرت عمرفاروقؓ غضبناک ہوگئے اور اس کو سزا دینے کا ارادہ کر لیا۔ حُرّ بن قیس نے آگے بڑھ کر عرض کیا: اےامیر المؤمنین! یہ شخص جاہل ہے اور جاہل کے متعلق قرآن میں آیا ہے کہ اس سے در گزر کرو۔ آپ ؓ اس کی بات کا خیال نہ کیجیے۔ قرآن میں آیا ہے:
خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰھِلِیْنَo’’آپ درگزر کیجیے اور نیکی کا حکم دیں اور جاہلوں سے اعراض کریں۔‘‘(الاعراف:199)
حُر بن قیس کہتے ہیں کہ خدا گواہ ہے جب اس نے یہ آیت تلاوت کی تو حضرت عمر ؓ نے ایک قدم آگے نہیں بڑھایا۔ آپ ؓ کتاب اللہ کے آگے رک جانے والے تھے۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: