حضرت اُمِ سَلمَہ بنت امیہ ؓ :03

حضرت ابو سَلمَہ ؓ کی وفات

 مدینۂ منورہ پہنچ کر حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ اپنے شوہر کے پاس رہنے لگیں اور وہاں ایک لڑکا اور دو لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ لڑکے کا نام عمر اور ایک لڑکی کا نام درّہ اور دوسری کا نام زینب رکھا۔
 حضرت ابو سَلمَہ ؓ نے جنگ بد رمیں شرکت کی اپنی جواں مردی کے جوہر دکھائے اور غازی بن کر لوٹے۔ دوبارہ جنگ احد میں بھی شریک ہوئے اس معرکے میں آپ کے بازو میں دشمن کا ایک تیر ایسا لگا کہ آپ بہت زیادہ زخمی ہو گئے۔ ایک مہینے تک علاج چلتارہا۔جس کی وجہ سے آپ کا زخم کچھ حد تک بھر گیا۔ اسی دوران سریۂ قطن کا واقعہ پیش آیا۔ نبیِ مکرم نے انھیں ایک دستہ کا امیر بنا کر روانہ فرمایا۔جنگ سے واپسی پر آپ کا پرانا زخم ہرا ہو گیا اور اسی کے اثر سے جمادی الاخریٰ 4ھ میں آپ نےوفات پائی۔
حضرت ابو سَلمَہ ؓ نے اپنی پوری زندگی اسلام کی حفاظت اور نبیِ کریم کی وفاداری اور جاں نثاری میں بسر کی اور ایک مثالی کردارادا کیا۔ آپ کی نمازِ جنازہ خود رسولِ رحمت نے پڑھائی اور نمازِ جنازہ میں نو مرتبہ تکبیر پڑھی۔ صحابہ ؓ کے پوچھنے پر نبیِ کریم نے فرمایا:’’ یہ ہزار تکبیروں کے مستحق ہیں۔‘‘ سبحان اللہ!

نبیِ کریم کا حضرت ابو سَلمَہ ؓ سے نکاح

 حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ کو اپنے پہلے شوہر حضرت ابو سَلمَہ ؓ سے بے پناہ محبت و الفت تھی۔ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ نے ان سےکہاکہ مَیں نے سنا ہے کہ اگر مرد اور عورت دونوں جنتی ہوں اور عورت مرد کے بعد کسی سے نکاح نہ کرے تو وہ عورت جنت میں اسی مرد کو ملے گی۔ اسی طرح مرد اگر دوسری عورت سے نکاح نہ کرے تو وہی عورت اسے ملے گی۔ اس لیے آؤ ہم عہد کریں کہ ہم میں سے جو پہلے اس دنیاسےچلاجائےوہدوسرا نکاح نہ کرے۔
 یہ سُن کر حضرت ابو سَلمَہ ؓ نے فرمایا :’’ تم میرا کہا مان لو گی؟ ‘‘
 حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ فرماتی ہیں کہ:’’ ماننے کے لیے ہی مشورہ کر رہی ہوں۔‘‘
 حضرت ابو سَلمَہ ؓ نے فرمایا :’’ تم میرے بعد نکاح کر لینا۔‘‘
اس کے بعد حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ دعا مانگا کرتی تھیں کہ یا اللہ! مجھے ان سے بہتر شوہر عطا فرما۔لیکن پھر سوچتیں کہ ابو سَلمَہ سے بہتر اور کون ہو گا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت ابو سَلمَہ ؓ اپنے اعلیٰ اخلاق و کردار کی وجہ سے ان کی نظروں میں ایک مثالی شوہر کی حیثیت رکھتے تھے۔ انھیں کیا پتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نےاُن کے لیے کیسے عظیم ترین شوہر کا انتخاب کر رکھا ہے ؟
 شوہر کے انتقال کے وقت حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ حمل سے تھیں۔ ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کانام زینب رکھا گیا۔ اس کی ولادت پر عدت بھی ختم ہو گئی۔ عدت گذر جانے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ سے نکاح کرنے کا پیغام بھیجا تو انھوں نے معذرت طلب کر لی۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ ان کے بعد حضرت عمر فاروق ؓ نے بھی اُن کو نکاح کا پیغام بھیجا لیکن اس مرتبہ بھی انھوں نے عذر پیش کر دیا۔
 چند دنوں کے بعد حضرت عمر فاروق ؓ ، حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ کے پاس نبیِ کریم کی طرف سے نکاح کا پیغام لے کر آئے۔ اس پر انھوں نےیہ عذر کیا کہ میرے بچے زیادہ ہیں، میری عمر بھی زیادہ ہے ، کوئی میرا وارث بھی نہیں اور میرے مزاج میں غیرت بھی بہت ہے۔ اس کے جواب میں نبیِ کریم نے جواب بھیجا کہ عمر کی بات تو یہ ہے کہ میر ی عمر تم سے زیادہ ہے۔ اور بچوں کا اللہ نگہبان ہے ان کی پرورش میں تمہیں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ مَیں بھی ان کا خیال رکھوں گا۔ اور اللہ سے دعا کروں گا کہ تمہاری غیرت والی بات جاتی رہی ہے۔ تمہارا کوئی ولی میرے ساتھ رشتے کو ناپسند نہیں کرے گا۔
 اس کے بعد حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ نے یہ پیغام قبول کر لیا۔چناں چہ شوال 4ھ کی آخری تاریخوں میں آپ کا نکاح نبیِ کریم سے ہو گیا۔ اور اس  طرح آپ کی دعا اعلیٰ ترین انداز میں قبولیت کے منصب پر فائز ہوئی۔ اور آپ ’’ام المؤمنین‘‘ کے لقب سے سرفراز ہوئیں۔
 حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ سے نبیِ کریم کا جب نکاح ہو گیا تو آپ نے ان کو اسی حجرے میں ٹھہرایا جس میں اُمِ المساکین حضرت زینب بنت خزیمہ ؓ رہا کرتی تھیں۔ انھوں نے وہاں دیکھا کہ ایک مٹکے میں جَو رکھے ہیں اور ایک چکّی اور ہانڈی بھی موجود ہے۔ لہٰذا خود جَو پیسے اور چکنائی ڈال کرمالیدہ بنایا اور پہلے ہی دن نبیِ کریم کو مالیدہ کھلایا جسے خود اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا۔

حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ کی دانش مندی

 اُمِ المؤمنین حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ بڑی دانش مند اور سمجھ دار تھیں۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب نبیِ کریم کو کفارِ مکہ سے صلح کے بعد صحابہ ؓ کی طرف سے ایک معاملہ پیش آیا تو وہ حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ کی بہترین رائے سے ہی حل ہوا۔ واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ نبیِ کریم 6ھ میں اپنےصحابہؓ کے ساتھ عمرہ کے لیے مدینۂ منورہ سے مکۂ معظمہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مکہ کے مشرکین کو اس بات کی خبر ہوئی تو انھوں نے مزاحمت کی اور آپ کو حدیبیہ کے مقام پر رکنا پڑا۔ جاں نثار صحابہ ؓ چوں کہ اپنے آقا نبیِ مکرم پر اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار تھے۔ اس لیے
اس موقع پر وہ جنگ کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ لیکن نبیِ کریم
نے لڑائی کی بجائے صلح کرنا پسند فرمایا۔ اس وقت صحابہ ؓ جنگ کے لیے بالکل تیار تھے۔ نبیِ کریم نے بڑی رعایت کے ساتھ کفارِ مکہ سے صلح فرمائی تھی کہ آپ نے ان کی ہر شرط قبول فرمالی جو ظاہر میں مشرکین کے لیے فائدے مند اور مسلمانوں کے لیے نقصان دہ لگ رہی تھی۔ صلح کی شرائط میں سے ایک یہ بھی تھی کہ اس سال مسلمان عمرہ نہیں کریں گے آیندہ سال عمرہ کےلیےآسکتے ہیں۔ صلح نامہ سے فارغ ہو کر نبیِ کریم نے اپنے صحابہ ؓ سے ارشاد فرمایا کہ اپنے احرام کھول دو، قربانی کے جانور ذبح کرلواوراپنےسر منڈوا لو۔ صحابۂ کرام ؓ جو اپنے آقا سیدِ عالم پر مر مٹنے کے جذبات سے سرشار تھے۔ ان کی طبیعتیں اس بات پر آمادہ نہ ہوئیں کہ ہم بغیرعمرہ کیے مدینۂ منورہ واپس چلے جائیں۔ لہٰذا اپنے پیارے نبیِ مکرم کے فرمانے پر کوئی بھی نہ ٹھا۔ یہاں تک کہ آپ نے تین مرتبہ حکم دیاجب کسی نے بھی اس پر عمل نہ کیا تو نبیِ کریم اُمِ المؤمنین حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ کے پاس تشریف لائے اور ان سے واقعہ ذکر فرمایا۔ اُمِ المؤمنین حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ نے عرض کی :’’ یارسول اللہ! کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ سب احرام کھول دیں ؟تو پھر ایسا کریں کہ آپ باہر نکل کر کسی سے کوئی بات نہ کریں اور اپنے جانور ذبح فرما دیں اور بال مونڈنے والے کو بلا کر اپنے بال مونڈا لیں۔‘‘
 چناں چہ نبیِ کریم نے ایسا ہی کیا اور باہر نکل کر اپنا جانور ذبح کر دیا اور بال منڈالیے۔ جب جاں نثار اور وفادار صحابۂ کرام ؓ نے اپنے آقا رسول
مکرم
کو دیکھا تو بے تابانہ وہ بھی آگے بڑھے اور اپنے اپنے احرام کھول دئیے اور اپنے اپنے جانور ذبح کر ڈالے اور آپس میں ایک دوسرےکاسرمونڈنے لگے۔
 اُمِ المؤمنین حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ کی اس رائے کے بارے میں جس سے یہ معاملہ حل ہوا حضر ت حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ :’’ حدیبیہ کے موقع پرنبیِ کریم کو حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ کے رائے دینے سے یہ پتا چلتا ہے کہ وہ بڑی عقل مند اور ٹھیک رائے رکھنے والی خاتون تھیں۔‘‘(الاصابہ)
 صلح حدیبیہ میں نبیِ کریم نے کفارِ مکہ کی تمام شرائط مان لی تھیں، جو کہ بہ ظاہر مسلمانوں کے لیے نقصان دہ محسوس ہو رہی تھیں۔ لیکن آیندہ سال یوں ہوا کہ مکہ فتح ہو گیا اور نبیِ کریم اور صحابۂ کرام ؓ بڑی شان و شوکت سے مکۂ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ صلح حدیبیہ میں کفار کی شرائط کا تسلیم کرلینادراصل نبیِ کریم کے اعلیٰ ترین سیاسی تدبر کو ظاہر کرتا ہے۔
حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ نے نبیِ کریم سے خوب علوم سیکھے اور ان کو عام کیا
 اُمِ المؤمنین حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ جب نبیِ کریم کے نکا ح میں آ گئیں تو انھوں نے اسے بہت بڑی سعادت مندی تصور کیا اور آپ کی مصاحبت کو غنیمت جانا۔آپ اچھے قوتِ حافظہ کی مالکہ تھیں۔ نبیِ کریم جو بھی ارشاد فرماتے انھیں اپنے ذہن میں محفوظ کرتی جاتیں اورآپسے سوالات کر کے اپنے علم میں اضافہ کرتیں۔
 اُمِ المؤمنین حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ نے نبیِ کریم سے علوم سیکھے ہی نہیں بل کہ ان کو خوب پھیلایا بھی۔ حدیث میں ان کے شاگردوں میں صحابہ بھی تھے اور تابعین بھی(ؓ)۔ اُمِ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کو بھی بعض سیرت نگاروں نے ان کے شاگردوں میں شمار کیا ہے۔ حدیث شریف کی کتابوں میں حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ سے جو روایتیں ملتی ہیں ان کی تعداد 378 ہیں۔آپ کا شمار محدثین کےتیسرےطبقےمیں ہوتا ہے۔
 محمود بن لبید فرماتے ہیں کہ:’’ نبیِ کریم کی سب ہی ازواجِ مطہرات آپ کے ارشادات کو سن کر یاد کرتی تھیں لیکن اُمِ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ اور اُمِ المؤمنین حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ کی ہم پلہ اس میں کوئی اور بیوی نہ تھی۔ ‘‘
مروان بن الحکم اُمِ المؤمنین حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ سے مسائل دریافت کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم کسی اور سے کیوں پوچھیں جب کہ ہمارےدرمیان نبیِ کریم کی بیویاں موجود ہیں۔سیرت کی کتابوں میں آتا ہے کہ اگر اُمِ المؤمنین اُمِ سَلمَہ ؓ کے فتاویٰ جمع کیے جائیں تو خاصی تعداد میں جمع
ہوسکتے ہیں اور ان کے مجموعہ کا ایک رسالہ بن سکتا ہے۔
 آپ سے بڑے بڑے صحابہ ؓ نے حدیث کا علم حاصل کیا۔ جن کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ چند ایک کے نام یہ ہیں :
 حضرت عبدالرحمن بن ابو بکرؓ،    اسامہ بن زیدؓ،   ہند بن الحارث الفراسیہؓ،   صفیہ بنت شیبہؓ،     عمر و زینب ؓ(اولادِ حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ ) ،   مصعب بن عبداللہ ؓ(حضرت اُمِ سَلمَہ کے بھائی) ، بنہان ؓ( غلام مکاتب)،     عبداللہ بن رافعؓ،   شعبہؓ،       ابو بکیرؓ،خیرہ والدہ حسن بصریؓ،سلیمان بن یسارؓ،  ابو عثمان الہندیؓ،     حمیدؓ،    سعید  بن مسیبؓ،     ابو وائلؓ،        صفیہ بنت محصنؓ،             شعبیؓ،     عبدالرحمن
ابن حارث بن ہشامؓ،         عکرمہؓ،   ابو بکر بن عبدالرحمنؓ،       عثمان بن عبداللہ ابن موہبؓ، عروہ بن زبیرؓ،          کریب مولیٰ ابن عباسؓ،        قبیصہ بن زویبؓ،                       اور  نافر مولیٰ بن مملک ؓ وغیرہ۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: