عظیم الشان،بلند و بالا عمارتیں:قیامت کی علامتیں، از:مُفتِی نَاصِر الدین مَظاہری:09

گورنروں کے نام! حضرت عمرؓ کا پیغام!

حضرت عثمان بن عطاء ؒ کہتے ہیں کہ :جب حضرت عمربن خطابؓ نے بہت سے شہر فتح کرلئے تو ان شہروں کے گورنروں کو خط لکھے چنانچہ حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ بصرہ کے گورنر تھے، انہیں خط میں یہ لکھاکہ سارے شہر کے لئے  جمعہ کی نماز کے لئے  ایک جامع مسجد بنائیں اورہرقبیلہ کے لئے الگ الگ مسجد بنائیں (ہرقبیلہ والے پانچوں نمازیں اپنی مسجد میں پڑھا کریں لیکن )جمعہ کے دن سب جامع مسجد میں آکرجمعہ پڑھا کریں، اسی مضمون کا خط کوفہ کے گورنرحضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو، مصرکے گورنرحضرت عمروبن العاص ؓ کواوردیگرلشکروں کے امیروں کو لکھا اور یہ بھی لکھا کہ دیہات میں رہائش نہ رکھیں بلکہ شہروں میں رہیں اور ہر شہرمیں ایک ہی مسجدبنائیں اور جیسے کوفہ، بصرہ اور مصروالوں نے مسجدیں بنائی ہیں اس طرح ہر قبیلہ والے اپنی اپنی مسجد نہ بنائیں چنانچہ لوگ حضرت عمرؓ کے اس  فرمان کے پابند ہو گئے۔(حیاۃ الصحابۃ ۳/۱۲۳بحوالہ ابن عساکر)

ذرا سوچئے!

مذکور ہ بالا احادیث کی روشنی میں ہم اپنا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ اس سلسلہ میں ہم سے کس قدر کوتاہیاں سرزد ہو رہی ہیں شدید ممانعت اور وعیدات کے باوجود کیا ہم نے تعمیرات کے سلسلہ میں اپنا ہاتھ روک لیا ہے ؟ کیا بقدرِ ضرورت اور بقدرِ کفاف پر ہمارا عمل ہورہاہے؟کیاقسم قسم کی تعمیرات اور ان پر دولت کا بے دریغ اسراف کر کے ہم اللہ اور اس کے رسول اکے احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی نہیں کر رہے ہیں ؟کیا نت نئے ڈیزائنوں، بلند و بالا عمارتوں، وسیع و عریض کوٹھیوں، شاندار و جاندار بلڈنگوں، خوبصورت و خوشنما محلوں، دیدہ زیب و نفیس، نقش و نگار اور خوب سے خوب تر بنانے میں ہماری دولت، ثروت، دماغ اور وقت ضائع نہیں ہو رہا ہے ؟ فخرومباہات،عجب و تکبر، ریا و نفاق اور اپنی مالداری کا مظاہرہ کرنے کے لئے  نقشہ نویسوں سے لے کر انجینئروں تک میں ایک دوڑاورہوڑلگی ہوئی ہے، مہنگے ترین انجینئروں کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں، طرح طرح کے نقشے اور دیدہ زیب چارٹ بنوانے پر آج اتنی رقم صرف کر دی جاتی ہے، کہ اتنی رقم میں رہائش کے لئے ایک سادہ مکان تیار ہو سکتا ہے پھر طرفہ تماشا یہ ہے کہ:
ان عمارتوں اور بلڈنگوں میں ہم کتنے دن رہیں گے جس وقت بلاوا آ جائے گا سب کچھ چھوڑ چھاڑ بلکہ دنیائے دنیٰ سے ہاتھ جھاڑ کے ہر کسی کوجانا ہے، نہ عمارتیں ساتھ جائیں گی، نہ شہرت کام آئے گی، نہ دولت و ثروت کچھ تعاون کر سکیں گی اور نہ ہی قرب الٰہی کا ذریعہ بن سکیں گی بلکہ الٹے ہماری یہ ہی عمارتیں جان لے لیتی ہیں، زلزلوں کی صورت میں ان عمارتوں کا نقصان ظاہر ہوتا ہے۔
طلب میں دنیا کی ہو گو کسی کی عمردراز
رہاکرے مئے عیش و سرور سے دمساز
ولیک اس کی مثل اس طرح ہے آخر

دنیا کو اجاڑنے یعنی سادگی کا حکم

 مکان ایسا بنانا چاہیے کہ جو مکین کو نہ لے بیٹھےحکیم الامت حضرت تھانویؒ فرماتے ہیں:
’’آ ج کل یہ بھی مرض ہے کہ: بہت اونچی اونچی عمارتیں بناتے ہیں پھر جب وہ گرتی ہیں تو کسی چیز کا پتہ نہیں چلتا سب کو لے کر بیٹھ جاتی ہیں،ان آفات سے محفوظ گاؤں کے مکان ہیں جو نیچا ہونے کی وجہ سے زلزلہ میں بھی نہیں گرتی، ۲۸اپریل منگل کے دن کانگڑے میں زلزلہ آیا، زلزلہ میں شدت تھی ایک تو زلزلہ کی شدت دوسرے بڑے اور اونچے مکانوں میں حرکت، تو میں نے کہا یا اللہ تیرا شکر ہے کہ: ہمارے مکان چھوٹے چھوٹے ہیں جو زلزلوں کے اثر سے محفوظ ہیں اس واسطے کہ یہ قاعدہ ہے کہ: مرکز سے محیط کو جس قدر بعد ہو گا اس میں حرکت زیادہ ہو گی، دیواریں جس قد ر لمبی ہوں گی، زلزلہ میں حرکت زیادہ ہو گی، یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ: نیچے نیچے گھر والے دنیا میں بھی شدتِ زلزلہ سے محفوظ رہیں گے اور خدا تعالیٰ کے یہاں بھی محفوظ رہیں گے، خدا تعالیٰ کو یہ مسئلہ بھی بتانا تھا کہ مکان ایسا بنانا چاہیے کہ جومکین کو نہ لے بیٹھے اور کچے مکانوں اور نیچے گھروں میں گو بعض تکالیف ہوتی ہیں مگر راحتیں زیادہ ہیں اگر کبھی گر پڑا تو جلدی سے دوسراویسا بن سکتا ہے
؎
خدا گر بہ حکمت بہ بندد درے
کشاید بہ فضل وکرم دیگرے
اور یہاں اللہ تعالیٰ نے تاسیس بنیان پر نکیر نہیں فرمایا بلکہ مقید بقید خاص پر نکیر فرمایا ہے معلوم ہوا کہ خود مکان بنانا مذموم نہیں بلکہ وہ تواگر بقدر ضرورت ہو تو محمود ہے ‘‘ ۔(حقیقت ماہ و جاہ )

حضرت موسیٰ ؑ کا ارشاد؟

حضرت موسیٰ ؑ نے ایک بڑھیا کو روتے ہوئے دیکھا وجہ معلوم کی تو بڑھیا نے عرض کیا کہ میرا ایک بچہ صرف ڈیڑھ سو سال کی عمر میں انتقال کر گیا اس کی کم عمری میں انتقال پر روتی ہوں آپ نے فرمایاکہ:بڑی بی ! ایک امت آنے وا لی ہے جس کی اوسط عمریں ساٹھ اور ستر سال کےدرمیان ہوں گی لیکن وہ اونچی اونچی عمارتیں تعمیر کریں گی بڑھیا نے کہا کہ خدا کی قسم اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ میری عمر اس قدر کم ہوگی تو اتنی زندگی  تو میں کسی پیڑ کے نیچے رہ کر گذار دوں گی۔

اپنی آخرت کے لئے عمل کرو!

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ روایت فرماتے ہیں:
بنی ملک من الملوک بنیاناً ثم صنع للناس طعاماً۔ فدخلوا ینظرون الیہ ویسألہم قوم من اہلہ
ہل ترون عیباً؟فیقولون لا، حتیٰ دخل علیہم عابدان فقالا:نعم نری عیباً، قال:وماعیبہ؟قالا:یخرب ویموت اھلہ، ثم سالہم الملک ہل عاب واحد بنیانی؟ قالوا:لا، الارجلین تافہین لیسابشی،قال،ہل تعرفونہما؟ قالوا: لا، قال اطلبوہما، فطلبوہما، فجاء وا بہما، فقال ہل تعلمان فی بنیانی عیباً، قال نعم، قال: ماہو؟ قالا، یخرب ویموت اہلہ
فرفعوا، منزلتہما، قال :فماتامرانی؟قالا:تعمل لآخرتک۔
بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ نے ایک عمارت تعمیر کرائی، پھر لوگوں کو کھانے پر بلایا(دعوت کی)پس لوگ آئے اور ان سے پوچھا گیا کہ کیا تم لوگوں نے اس عمارت میں کوئی عیب دیکھا ہے؟ان لوگوں نے کہا نہیں :یہاں تک کہ دو عابد اس عمارت میں داخل ہوئے تو ان دونوں نے کہا، ہاں ہم وے ایک عیب دیکھا، تو ان سے پوچھا گیا کہ کیا عیب دیکھا؟انہوں نے کہا یہ عمارت ٹوٹ جائے گی اور اس کے مکین مر جائیں گے۔ پھر بادشاہ نے درباریوں سے پوچھا کہ کیا کسی نے کوئی عیب نکالا؟انہوں نے کہا مگر دو درویش صفت لوگوں نے جن کی کوئی اہمیت نہیں ہے:بادشاہ پوچھا کیا تم انہیں جانتے ہو؟کہا، نہیں، بادشاہ نے انہیں طلب کیا، وہ آئے تو بادشاہ نے ان سے پوچھا کیا تم اس عمارت کا کوئی عیب جانتے ہو؟کہا جی ہاں ! پوچھا وہ کیا؟انہوں نے کہا یہ عمارت ٹوٹ جائے گی اور اس کے رہنے والے مر جائیں گے اور ان کے عہدے و مرتبے اٹھ جائیں گے، بادشاہ نے کہا کہ ہمیں کوئی حکم دیجئے!انہوں نے کہا کہ اپنی آخرت کے لئے عمل کرو!
(کتاب الزہدوالرقاق ۴۳، جزء الرابع)

تعمیرات میں تنوع، مستقل فیشن

مفتی محمد سلمان صاحب منصور پوری لکھتے ہیں :’’آج جس کے پاس بھی پیسہ ہے وہ ضروری اور غیر ضروری تعمیرات پر اسے بے دریغ خرچ کر رہا ہے جس شہر میں چلے جائیے، نت نئی ڈیزائنوں کی بلڈنگیں جابجا نظر آئیں گی اس معاملہ میں اس قدر اسراف ہو رہا ہے جو ناقابل بیان ہے، بڑے بڑے سرمایہ دار جو دینی ضرورتوں میں چند روپیہ دیتے ہوئے بھی جھجکتے ہیں اور دسیوں حیلے بہانے بناتے ہیں وہ اپنی ذاتی تعمیرات میں بلا ضرورت بے حساب رقم خرچ دیتے ہیں اور انہیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہم کتنی بڑی فضول خرچی کے مرتکب ہورہےہیں۔
آج کل تعمیرات میں تنوع بھی ایک مستقل فیشن بن گیا ہے ہر مالدار یہ چاہتا ہے کہ: اس کا گھر اس ڈیزائن کا بنے جیسا آج تک دنیا میں کسی نے نہ بنوایا ہو یہ سب شوخیاں اور شو بازیاں اللہ تعالیٰ کو اور رسول اللہ ﷺ کو بالکل پسند نہیں ہیں، پیغمبر ؑ نے فرمایا: ہے اللہ تعالیٰ جس کی رقومات کو ضائع کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے پیسہ کو مٹی گارے (تعمیرات )میں خرچ کرا دیتا ہے ‘‘ ۔(لمحات فکریہ ص ۷۱بحوالہ الزواجر ۱/۴۲۸)

ہلاکت کا وقت

حضرت عمر فاروق فرماتے ہیں کہ: نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:
’’جب کسی قوم کا کام بگڑتا ہے تو وہ اپنی مسجدوں کو نقش و نقوش اور بیل بوٹوں سے آراستہ کرنے لگتے ہیں ‘‘ ۔(ابن ماجہ)

حضور قلب میں خلل انداز

حضرت ابوہریرہؓ  فرماتے ہیں کہ: نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:
’’جب تم اپنی مساجد کو مزین کرنے لگو(جو کہ نماز میں مخل ہو)اور اپنے قرآنوں کو ایسا آراستہ کرو (جو حضور قلب میں خلل انداز ہو)توسمجھ لو کہ یہ تمہاری ہلاکت کا وقت ہے’‘ ۔                     (کنز)
حضرت ابوہریرہ  ؓ روایت کرتے ہیں کہ عیسی ٰ ؑ نے فرمایا:
اتخذوا المساجدمساکن، والبیوت منازل، وکلومن بقل البریۃ وانجوامن الدنیابسلام۔
مسجدوں کو اپنا مسکن بنا لو!گھروں کو اپنی منزل بناؤ!اور کھاؤ ہر نیکی کے پھل کو اور دنیا سے امن و سلامتی کے ساتھ نجات حاصل حاصل کرلو۔ (شریکؒ کہتے ہیں کہ میں سلیمانؒ سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے مزید اضافہ  فرمایا کہ’’ماء قرح پیو)
(قال شریک:فذکرت ذالک لسلیمان فزادنی ’’واشربوالماء القرح’‘  (کتاب الزہدوالرقاق ۱۹۸)

یہود و نصاریٰ کی تقلید

حضرت ابن عباس ؓ مساجد کی بے جا آرائش کو یہود و نصاریٰ کا دستور فرماتے ہیں: اور اس سے ناراضی کے لہجہ میں فرماتے ہیں کہ: تم مساجد کومزین کرو گے جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے کیا(ابوداؤد)

دجال کا خروج

حضرت معاذ ؓ سے روایت ہے کہ: آپﷺ  نے فرمایا:
عمران بیت المقدس خراب یثرب، وخراب یثرب  خروج الملحمۃ فتح القسطنطنیۃ وفتح القسطنیطنۃ خروج الدجال۔                (ابوداؤد )

الحذر!الحذر!

حضرت عبداللہ بن مسعود  ؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ  نے فرمایا:
سیأتی علی الناس زمان تمات فیہ الصلوۃ ویشرف فیہ البنیاد ویکثر فیہ الحلف والتلاعن ویفشوا فیہ الرشا والزناوتباع الآخربالد نیافاذارأیت ذلک فالنجا النجا، قیل : وکیف النجا؟ قال: کن حلسا من احلاس بیتک وکف لسانک ویدک
لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ: نمازیں فوت کی جائیں گی، عمارتیں بنائی جائیں گی، قسم اور لعنت و ملامت کی کثرت ہوجائےگی،بارش اور زنا عام ہو گا آخرت کو دنیا سے فروخت کیا جائے گا پس جب ایسی حالت دیکھو تو نجات حاصل کرو، پوچھا گیا کہ نجات کیسے حاصل کی جائے گی،فرمایا  گھروں کے گوشوں میں دُبک کر بیٹھ جاؤ اپنی زبان اور ہاتھ کو تھام کر رکھو اور خاموشی اختیار کرو۔ ۔(الاشاعۃ ۱۷۲، ابن ابی الدنیا)
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: