حضرت عمر الفاروقؓ : 01

آپ کا نام و کنیت ابو حفص عمر بن الخطاب بن نُفیل بن عبد العُزّیٰ بن ریاح بن عبد اللہ بن قرط بن رَزَاح بن عدی بن کعب  بن لُوَیّ بن غالب القرشی العدوی ہے۔ آپ ؓ، امیر المؤمنین، دوسرے خلیفۂ راشد، صاحبِ کرامات اور قائدِ فتوحات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نےآپؓکےذریعہ اسلام کو قوت بخشی۔ آپ ؓ نے مسلمانوں سے تکالیف دور کیں، اللہ تعالیٰ نے آپ ؓ کے ذریعہ حق وباطل میں امتیاز کیا۔ بہت سے امور میں آپ ؓ سبقت و اولیت رکھتے ہیں۔ آپ ؓ کی رائے، قرآن کے موافق ہوئی،آپؓکےہاتھوں دین و ایمان کی نشر و اشاعت ہوئی۔ شیطان بھی آپ ؓ سے خوف زدہ ہوتا۔ آپ ؓ دینی تصلّب اورحمیت کے حامل تھے۔ لوگوں کی ضروریات کو پورا فرماتے۔ آپ ؓ ذی وقار اور ہیبت دار شخصیت کے مالک تھے۔ آپ ؓ اہلِ جنت کے چراغ اور لوگوں کی تقصیرات سے درگزر کرنے والے تھے۔ آپ ؓ کے آنسو جلد رواں ہو جاتے، چہرہ بارونق اوردلکش تھا۔ آپ ؓ بوڑھوں کےخادم اور مفلسوں کے مددگار تھے، نیز آپ ؓ عادل حکمران اور باکمال خلیفۂ راشد تھے۔ آپ ؓ نے تمام  غزوات میں شرکت فرمائی۔ آپ ؓ دین کے لیے مضبوط قلعہ تھے۔ آپ ؓ پہلے شخص ہیں جنہوں نے علی الاعلان بیت اللہ کے پاس نماز پڑھی اور ببانگِ دہل ہجرت فرمائی۔ آپ ؓ سچی زبان اور کلمۂ حق کے اظہار میں معروف تھے۔ اللہ کے دین کے معاملہ میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہیں ڈرتے تھے، نیز حدودِ خداوندی کو قائم رکھنے والے تھے۔ آپ ؓ کا نسب، کعب بن لُوَیّ بن غالب پر پہنچ کر حضورِ اکرم کے ساتھ مل جاتا ہے۔
آپ کی ولادت، عام الفیل کے تیرہ سال بعد ہوئی، اور ہجرت سے پانچ سال پہلے مسلمان ہوئے۔حضورِاکرمنےانکےلیےدعافرمائی کہ ’’اے اللہ! ان دو عمروں میں سے جو آپ کو محبوب ہے اس کے ذریعہ اسلام کوقوت عطا فرما‘‘ ایک عمرو بن ہشام (ابوجہل) اور دوسرے عمر بن الخطاب، چنانچہ حضرت عمر ؓ، اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ثابت ہوئے۔آپؓ کے عظیم فضائل ہیں۔
نبیِ کریم
نے فرمایاکہ اللہ جل شانۂ نے حق بات کو عمر ؓ کی زبان اور دل میں رکھ دیا ہے۔
آنحضور نے فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی پیغمبر ہوتا تو عمر ؓ ہوتا۔ نیز آپ نے فرمایا کہ میں شیاطینِ انس و جن کو دیکھ رہاہوں کہ وہ عمر (کے ڈر سے) بھاگ کھڑے ہوئے ہیں۔
نیز آنحضرت نے فرمایا کہ تم سے پہلے لوگوں میں محدّث ہوا کرتے تھے اور اگر میری امت میں کوئی محدّث ہے تو عمر ؓ ہے۔
حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے فرمایا کہ ہمارے پیغمبر کے بعد اس امت کے بہترین شخص ابوبکر ؓ ہیں، پھر عمر ؓ ہیں۔
حضرت عمر ؓ کو بہت سی چیزوں میں دوسروں پر سبقت اور اوّلیت حاصل ہے۔ چنانچہ آپ ؓ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اعلانیہ طورپر ہجرت کی۔
آپ
ؓ پہلے شخص ہیں جو امیر المؤمنین کے لقب سے ملقب ہوئے۔ آپ ؓ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہجری تاریخ مقررکی۔آپؓ پہلے شخص ہیں جنہوں نے لوگوں کو قیامِ رمضان کے لیے جمع کیا۔ آپ ؓ پہلے شخص ہیں جنہوں نے قرآن جمع کرنے کا مشورہ دیا۔ آپ ؓ پہلے شخص ہیں جنہوں نےاپنے محافظ کو انعامات سے نوازا۔ آپ ؓ پہلے شخص ہیں جنہوں نےناداراوربوڑھے ذمیوں سے جزیہ (ٹیکس)ساقط کیا۔ آپ ؓ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ذمیوں کے لیے علامات وضع کیں، اسی طرح آپ ؓ پہلے شخص ہیں جنہوں نے فوجی بھرتی کو لازمی قراردیا۔ آپ ؓ پہلے شخص ہیں جنہوں نے قاضیوں اور مرشدین کولشکرکےساتھ روانہ کیا۔ آپ ؓ پہلے شخص ہیں جنہوں نے مکتوب شکل میں فیصلے کیے۔ نیز آپ ؓ پہلے شخص ہیں جنہوں نےقائدین اور والیوں کے لیے مجلسِ مشاورت قائم کی۔ آپ ؓ پہلے شخص ہیں جو راتوں کو لوگوں کے احوال معلوم کرنےکےلیےگشت کرتے تھے، آپ ؓ پہلے شخص ہیں جنہوں نے رجسٹر مقرر کیے جس میں لشکر والوں کے نام اور وظائف کا اندراج ہوتا تھا اور آپ ؓ پہلے شخص ہیں جنہوں نے مہمان خانے بنائے۔
ایک عورت اپنے ہاتھ میں لاٹھی لیے راستہ ڈھونڈ رہی تھی، وہ زمانہ کی مصیبتوں کی ماری ہوئی تھی، اس نے حضرت عمر بن الخطابؓکوجولوگوں کے درمیان کھڑے تھے، روکا اور ایک طرف لے گئیں۔ حضرت عمر ؓ اس کے قریب ہوئے،اسکےکندھےپر ہاتھ رکھا اور اپنے کان اس کی طرف لگائے۔ حضرت عمر ؓ نے کافی دیر تک اس کی نحیف آواز کی طرف کان لگائے رکھے اور اس وقت تک انصراف نہیں کیا جب تک کہ اس کی ضرورت کو پورا نہیں فرما دیا۔ اس کے بعد جب حضرت عمر ؓ ان لوگوں کی طرف واپس آئے جو کافی دیر سے کھڑے ان کا انتظار کر رہے تھے تو کسی آدمی نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ ؓ نے اس بڑھیا کی خاطر قریش کے آدمیوں کو روکے رکھا؟ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ تیرا ناس ہو! جانتے بھی ہو کہ یہ بڑھیا کون تھی؟
اس آدمی نے کہا کہ میں نہیں جانتا۔ حضرت عمر
ؓ نے فرمایا کہ یہ وہ خاتون ہیں جن کا شکوہ اللہ تعالیٰ نے ساتوں آسمان کے اوپر سنا، یہ خولہ بنت ثعلبہ r ہیں۔ خدا کی قسم! اگر وہ رات تک میرے پاس سے واپس نہ جاتیں تو میں بھی ان کی ضرورت پوری کرنے تک واپس نہ لوٹتا۔
مدینہ منورہ سے دور کسی جگہ پر ایک چھوٹی سے جھونپڑی تھی جب وہاں سے چراغ کی دھیمی دھیمی سی روشنی محسوس ہوئی توعمرفاروقؓاس جھونپڑی کے قریب گئے تو دیکھا کہ ایک بڑھیا سیاہ رنگ کے کپڑے پر بیٹھی ہے اور اندھیرا چھا رہا ہے، اس چراغ کےباوجود اندھیرا بدستور قائم ہے اور وہ غمگین حالت میں یہ شعر پڑھ رہی ہے:
علٰی محمدٍ صلاۃ الابرار
صلّی علیک المصطفوان الخیار
قِد کنتَ قوامًا بکیّ الاسحار
یا لیت شعری و المنایا اطوار
ھل تجمعی و حبیبی الدّار
’’محمد پر نیک لوگوں کا درود ہو، نیک برگزیدہ لوگ تجھ پر درود بھیجیں، بے شک تو نگران اور وقتِ سحر رونے والاتھا، کاش! مجھے معلوم ہوتا اور خدائی فیصلے مقرر ہیں، کیا تم مجھے اور میرے حبیب کو اس گھر میں جمع کر دو گے۔‘‘
بڑھیا کی یہ باتیں حضرت عمر ؓ کے دل پر اثر انداز ہوئیں اور ان کو گزرا ہوا زمانہ یاد آگیا، پھر زار و قطار رونے لگے اوراس کے گھر کا دروازہ  کھٹکھٹایا۔ بڑھیا نے پوچھا: کون ہے؟ حضرت عمر ؓ نے کہا میں عمر بن الخطاب ؓ ہوں۔ کہنے لگیں: مجھے عمر ؓ سے کیاکام! اور اس وقت عمر ؓ کیا لینے آیا؟ حضرت عمر ؓ نے کہا کہ دروازہ کھولو! اللہ تم پر رحم کرے، تم گھبرائو نہیں، چنانچہ بڑھیا نے دروازہ کھولااورحضرت عمر ؓ اندر تشریف لے گئے، پھر فرمایا کہ ابھی جو الفاظ تم کہہ رہی تھیں وہ دوبارہ دہرائو، جب بڑھیا وہ الفاظ کہہ کر فارغ ہوئی تو فرمایا کہ میری درخواست ہے کہ مجھے بھی اپنے ساتھ شامل کر لو، چنانچہ اس بڑھیا نے کہا: ’’و عمر فاغفرلہ یا غفّار‘‘ یعنی اےغفار! ہمارے ساتھ عمر ؓ کی بھی مغفرت فرما۔ حضرت عمر ؓ خوش ہو گئے اور واپس چلے گئے۔
مدینہ منورہ میں نجار کے چند وفود آئے ہر طرف ہنگامہ اور شور برپا ہونے لگا۔ حضرت عمر ؓ نے حضرت عبد الرحمن بن عوفؓسےفرمایا کہ آئو چلو! ہم اس رات چوری وغیرہ سے لوگوں کو بچانے کے لیے پہرہ داری کریں۔ چنانچہ وہ دونوں رات بھر پہرہ داری کرتے رہے اور جس قدر اللہ نے ان کے لیے لکھا تھا نمازیں پڑھتے رہے، اسی دوران حضرت عمر بن الخطاب ؓ نے کسی بچےکےرونے کی آواز سنی تو آواز کی طرف متوجہ ہوئے اور جا کر اس کی ماں سے کہا، جو اس کو چپ کرانے کی کوشش کر رہی تھی،خداکاخوف کرو، اپنے بچے کا خیال کرو، یہ کہہ کر اپنی جگہ واپس تشریف لے آئے، پھر تھوڑی دیر کے بعد بچہ کے رونے کی آواز آئی تودوبارہ اس کی ماں کے پاس گئے اور اسی طرح اس کو سمجھا کر واپس آگئے، رات کے آخری حصہ میں اس بچے کے رونے کی پھر آواز آئی توحضرت عمر ؓ اس بچہ کی ماں کے پاس آئے اور سختی سے کہا کہ تیرا ناس ہو! لگتا ہے کہ تم بری ماں ہو، کیا بات ہے کہ تمہارا یہ بچہ ساری رات بے چین رہا؟ ماں نے پریشانی اور بھوک کے عالم میں جواب دیا کہ اے اللہ کے بندے! تو نے مجھے آج کی رات پریشان کیا، میں اصل میں اس بچہ کو دودھ چھڑانے کی مشق کرا رہی ہوں مگر یہ انکار کرتا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے حیران ہو کر پوچھا کہ ایسا کیوں کر رہی ہو؟ بچہ کی ماں نے کہا کہ اس لیے کہ عمر ؓ اسی بچہ کا وظیفہ مقرر کرتے ہیں جس کا دودھ چھڑا لیا گیا ہو (یہ سن کر) حضرت عمر ؓ خوف سےتھرانے لگے اور اس سے پوچھا کہ اس بچہ کی کتنی عمر ہے۔
اس کی ماں نے بتایا کہ اتنے مہینے ہے۔ حضرت عمر
ؓ نے کہا کہ تیرا ناس ہو! تو اس کا دودھ جلدی نہ چھڑا۔ یہ کہہ کر حضرت عمرؓواپس آگئے۔ فجر کی نماز پڑھائی تو لوگوں نے آپ ؓ کی قرأت کے دوران آہ و بکا کا غلبہ محسوس کیا۔ جب سلام پھیرا تو فرمایا کہ عمر ؓ کے لیے تنگی ہو! مسلمانوں کے کتنے بچے مر گئے؟اس کے بعد حالتِ اسلام میں پیدا ہونے والے ہر بچہ کے لیے وظیفہ کا حکم جاری فرمایا اور تمام علاقوں میں یہ فرمان نامہ لکھ کر بھیج دیا۔
مدینہ کی ایک جانب ایک چھوٹا سا گھر تھا جس میں ایک نابینا بوڑھی عورت رہتی تھی، جس کے پاس ایک ڈول، ایک بکری اور کھجور کے پتوں سے بنی چٹائی کے سوا دنیا کا کچھ سامان نہیں تھا، حضرت عمر بن الخطاب ؓ ہر شب اس عورت کی خبر گیری کیا کرتے تھے، اس کے لیے پانی کا انتظام کرتے اور اس کی حالت سنوارتے۔ اس بات کو ایک عرصہ بیت گیا۔ ایک دن حضرت عمر ؓ اس کے گھر تشریف لے گئے تو دیکھا کہ ہر چیز با سلیقہ اور ترتیب کے ساتھ رکھی ہوئی ہے۔ فوراً سمجھ گئے کہ ضرور ان سے پہلے کوئی شخص آیا ہو گا جس نے سارا کام درست کر دیا، اس کے بعد آپ ؓ کئی بار آئے اور ہر مرتبہ دیکھتےکوئی شخص ان سے پہلے آکر گھر کا کام کر جاتا ہے اور گھر کی صفائی وغیرہ کر جاتا ہے۔ (ایک دن) حضرت عمر ؓ یہ معلوم کرنے کے لیے کہ آخر کون ان سے پہلے آکر کام کر جاتا ہے، گھر کے قریب کسی کونے میں چھپ گئے۔ اچانک ایک آدمی کو گھر کے قریب آتے دیکھا، اس نے دروازہ کھٹکھٹایا، پھر اندر چلا گیا، وہ ابوبکر صدیق ؓ تھے جو ان دنوں مسلمانوں کے خلیفہ تھے۔ حضرت عمر ؓ اس پوشیدہ جگہ سے باہرآئے، آپ ؓ کے لیے حقیقت امر واضح ہو گئی، اپنے آپ سے اظہارِ تعجب کرتے ہوئے کہنے لگے ابوبکر! خدا کی قسم! تم ہی ہو سکتے ہو، خدا کی قسم! تم ہی ہو سکتے ہو۔
فضائوں میں طواف کرنے والوں کی آوازیں گونج رہی تھیں، وہ بیت اللہ کو تکبیر و تہلیل کے عطرسےمعطرکررہےتھےاورانکی آنکھوں سے آنسو سیلاب کی طرح رواں تھے کہ اچانک اِن محبوبانِ خدا کے پیچھے ایک بدّونظرآیاجوقدکالمباتھا،اسکےشانےچوڑے تھے، جوانی سے بھرپور تھا، اس نے اپنے کندھے پر اپنی بوڑھی ماں کواٹھایاہواتھاجوایک بڑی سی ٹوکری میں چہار زانوں بیٹھی تھی۔ وہ بدّو یہ اشعار گن گنا رہا تھا:
انا مطیتھا لا انفرْ
و اذا الرکاب ذُعرب لا اذعر
و ما حملتنی و ارضعتنی اکثر
لبیک اللّٰھم لبیک…
’’یعنی میں اس کی سواری ہوں، مجھے کوئی ناگواری نہیں، جب کہ سواری کا اونٹ گھبرا جاتا ہے مگر میں نہیں گھبراتا، میری ماں نے مجھے پیٹ میں اٹھایا اور دودھ پلایا وہ اس سے کہیں زیادہ ہے،
لبیک اللّٰھم لبیک…‘‘
حضرت علی ؓ جو بیت اللہ کی ایک جانب عمر فاروق ؓ کے ساتھ کھڑے تھے اور طواف کرنے والوں کو دیکھ رہے تھے،فرمایاکہ اے ابو حفص! (حضرت عمر ؓ کی کنیت) چلو! ہم بھی طواف کریں تاکہ ہم سب پر رحمتِ خداوندی کا نزول ہو۔  چنانچہ وہ دونوں اس دیہاتی آدمی کے پیچھے پیچھے طواف کرنے لگے اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ اس بدو کو یوں جواب دینے لگے:
ان تبرّھا فاللّٰہ اشکر                               یجزیک بالقلیل الا کثیر
’’اگر تو اس کے ساتھ نیکی کرتا ہے تو اللہ کا شکر ادا کر، اللہ تجھے تھوڑے عمل پر زیادہ اجر دیں گے۔‘‘
مدینہ منورہ میں ایک عابد و زاہد نوجوان رہتا تھا، اس نے مسجد کو ہی اپنا مسکن بنایا ہوا تھا، اکثر مسجد میں ہی رہتا تاکہ صحابہ کرام ؓ  کی زبان سے تازہ تازہ احادیث کی سماعت نصیب ہو۔ اس کا ایک بوڑھا باپ تھا، جب یہ نوجوان عشاء کی نمازسےفارغ ہو جاتا تو اپنے بوڑھے باپ کے پاس چلا جاتا، راستہ میں ایک عورت کا گھر پڑتا تھا، وہ عورت اس نوجوان پرفریفتہ ہو گئی، ایک دن وہ نوجوان وہاں سے گزرا تو وہ عورت اس کو بار بار بہکانے لگی حتیٰ کہ وہ نوجوان اس کے پیچھے لگ گیا۔ جب اس کے گھر میں داخل ہونے لگا تو اسے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان یاد آگیا کہ
اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّھُمْ طٰیئفٌ مِنَ الشَّیْطٰنِ تَذَکَّرُوْا فَاِذَا ھُمْ مُبْصِرُوْنَo (الاعراف: 201)
’’یقینا جو لوگ خدا ترس ہیں جب ان کو کوئی خطرہ شیطان کی طرف سے آجاتا ہے تو وہ یاد میں لگ جاتے ہیں سو یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔‘‘
فوراً بے ہوش ہو کر گر گیا۔ اسی حالت میں اس کو اس کے والد کے پاس لے جایا گیا۔ نوجوان اسی حالت بے ہوشی
میں رہا حتیٰ کہ رات کا تہائی حصہ گزر گیا۔ پھر جب اسے ہوش آیا تو اس کے باپ نے پوچھا کہ کیا ہوا تھا؟ اس نوجوان نے سارا واقعہ کہہ سنایا، باپ نے اس کو کہا کہ اے بیٹے! تو نے کون سی آیت پڑھی تھی؟ اس نے وہ آیت پڑھی تو پھربےہوش ہو کر گر گیا، جب گھر کے تمام افراد اور آس پاس کے پڑوسی جمع ہوئے اور اس کو ہلایا تو دیکھا وہ مراہواہے،چنانچہ اس کو غسل دے کر رات کے وقت دفن کر دیا۔ صبح ہوئی تو حضرت عمر
ؓ کو اس واقعہ کی خبر پہنچی تو اس نوجوان کے باپ کے پاس آئے، تعزیت کی پھر اس نوجوان کی قبر پر تشریف لے گئے اور چلا کر کہا کہ اے فلاں!
وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِo’’جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا ہے اس کے لیے دو باغ ہیں۔‘‘(الرحمٰن: 46)
اس نوجوان نے قبر سے جواب دیا کہ اے عمر ؓ! مجھے میرے رب نے جنت میں وہ دو باغ دے دیے ہیں۔ (اس نے دومرتبہ کہا)

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: