سیرتِ امام ابو حنیفہؒ از علّامہ شِبلی نُعمانیؒ-10

نصائح اور دلپذیر باتیں

ہمارے تذکروں اوررجالکی کتابوں میں علماء کے وہ اوصاف جن کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا جاتا ہے،تیزی ذہن، قوتِ  حافظہ،بےنیازی، تواضع، قناعت، زہد غرض اسی قسم کےاوصاف ہوتے ہیں لیکن عقل و رائے، فراست و تدبیر کا ذکر تک نہیں آتا۔یہ باتیں دنیا داروں کے ساتھ ہیں۔بلا شبہ اس خصوصیت کے اعتبار سے امامابو حنیفہؒ تمام فرقۂ علماء میں ممتاز ہیں کہ وہ مذہبی امور کے ساتھ  دنیوی ضرورتوں کےانداز داں تھے۔ یہ ضرور ہے کہ ملکی تعلقات کے ساتھ مذہباور اخلاق کے فرائض کو سنبھالنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن امام صاحب اس سے بھی بے خبر نہ تھے وہ ہمیشہ شاگردوں کو ایسی ہدایتیں کرتے رہتے تھے۔

درباریوں کے متعلق نصیحتیں

قاضی ابویوسفؒ کےلئے جو ہدایت نامہ لکھاتھااُس تحریر میں پہلے سلطانِ وقت کے تعلقات کا ذکر کیا ہے۔چنانچہ لکھتے ہیں’’ بادشاہوں کےپاس بہت کم آمدورفت رکھنا جب تک کوئی خاص ضرورتنہ ہو دربار میں نہ جانا کہ اپنااعزازووقارقائم رہے۔ بادشاہ اگر تم کوعہدہ قضاپر مقرر کرنا چاہے تو پہلے دریافت کر لینا وہ تمہارے اجتہاد سےموافق ہےیانہیں۔ ایسا نہ ہو کہ سلطنت کے دباؤ سے تم کو اپنی رائےکےخلاف عمل کرنا پڑے جس عہدہ اور خدمت کی تم میں قابلیت نہ ہو ہرگز قبول نہ کرنا۔اگر کوئی شخص شریعت میں کسی بدعت کا موجد ہو تو علانیہ اس کیغلطی کا اظہار کرنا کہ اور لوگوں کو اس کی تقلید کی جرأت نہ ہواس بات کیکچھ پرواہ نہ کرنا کہ وہ شخص جاہ و حکومت رکھتا ہے کیونکہ اظہارِ حق میںخدا تمہارا مددگار ہو گا اور وہ اپنے دین کاآپ محافظ و حامی ہے۔ خودبادشاہ سے اگر نامناسب حرکت صادر ہو تو صاف یہ کہہ دینا کہ آپ کو آپ کیغلطی پر مطلع کر دینامیرا فرض ہے پھر بھی نہ مانے تو تنہائی میں سمجھاناکہ آپ کا یہ فعل قرآن مجید اور احادیث نبوی کے خلاف ہے اگر سمجھ گیاتوخیر، ورنہ خدا سے دعا کر نا کہ اس کے شر سے تم کو محفوظ رکھے۔

معمولاتِ زندگی کے متعلقہدایتیں

زندگیکے معمولی کاروبار کے متعلق بھی نہایت عمدہ ہدایتیں کی ہیں چنانچہ تحریرفرماتے ہیں کہ’’ تحصیل علم کو سب پر مقدم رکھنا۔اس سے فراغت ہو چکے تو شادیکرنا، ایسی عورت سے شادی نہ کرنا جو دوسرے شوہر سے اولاد رکھتی ہو۔ عامآدمیوں سےاور خصوصاً دولت مندوں سے کم میل جول رکھنا ورنہ انکو گمان ہو گا کہ تم ان سے کچھ توقع رکھتے ہو۔ بازار میں جانا،دکانوں پر بیٹھنا، راستہ یا مسجد میں کوئی چیزکھالینا،ان باتوں سے نہایت احتراز رہے۔
مزیدفرماتے ہیں ’’ہنسنا کم چاہئے، زیادہ ہنسی سے دل افسردہ ہو جاتا ہے، جو کامکرو اطمینان اور وقار کے ساتھ کرو، کوئی شخص جب تک سامنےسے نہ پکارےکبھی جواب نہ دو کیونکہ پیچھے سے پکارنا جانوروں کے لئے مخصوص ہے، راستہچلو تو دائیں بائیں نہ دیکھو، کوئی چیز خریدنی ہو تو خود بازار نہ جاؤبلکہ نوکر بھیج کر منگوا لو خانگی کاروبار دیانتدار نوکروں کے ہاتھ میںچھوڑ دینا چاہئے کہ تم کو اپنے مشاغل کے لئے کافی  وقت اور فرصت ہاتھ آئے، ہر بات سے بے پروائی اور بے نیازی ظاہر ہو اور فقر کی حالت میں بھی وہیاستغناء قائم رہے۔

دین سے متعلق راہنمائی

ہر بات میں تقویٰ اورامانت کو پیشِ نظررکھو۔ خدا کے ساتھ دل سے وہی معاملہ رکھو جو لوگوں کےسامنے ظاہر کر تےہو۔ جس وقت اذان کی آواز آئے فوراً نماز کے لئے تیار ہوجاؤ، ہر مہینہ میں دو چار دن روزہ کے لئے مقرر کر لو، نماز کے بعد ہر روزکسی قدر وظیفہ پڑھاکرو،قرآن کی تلاوت قضا نہ ہو نے پائے، دنیا پر بہتنہ مائل ہو، اکثر قبر ستان میں نکل جایا کرو، لہو لعب سے پرہیز رکھو، ہمسایہ کی کوئی برائی دیکھو تو پردہ پوشی کرو۔ اہلِ بدعت سے بچتےرہو، نماز میں جب تک تم کو لوگ خود امام نہ بنائیں امام نہ بنو۔ جو لوگتم سے ملنے آئیں ان
کے سامنے علمی تذکرہ کرو اگر وہ لوگ اہلِ علم ہوں گے
تو فائدہ اٹھائیں گے ورنہ کم از کم تم سے محبت ہو گی۔

اقوالِ زریں

اس موقع پر امام صاحبؒ کے حکیمانہ مقولے بھی سننے اور یاد رکھنے کے قابل ہیںفرمایا کرتے تھے کہ ’’ جس شخص کو علم نے معاصی اورفواحش سے نہ باز رکھاتو اس سے زیادہ زیاں کار کون ہو گا؟ جو شخص علم دین میں گفتگو کرے اور اسکو یہ خیال نہ ہو کہ ان باتوں کی بازپرس ہو گی، وہ مذہب اور خود اپنے نفس کیقدر نہیں جانتا، اگر علماء خدا کے دوست نہیں ہیں تو عالم میں خدا کا کوئیدوست نہیں۔
جو شخص قبل از وقت ریاست کی تمنا کرتا ہے ذلیل ہوتا ہے اور جو شخص علمِ دین کو دنیا کے لئے سیکھتا ہے علم اسکے دل میں جگہ نہیںپکڑتا۔سب سے بڑی عبادت ایمان اور سب سے بڑا گناہ کفر ہے۔
ایک شخص نے پوچھا فقہ کے حاصل کرنے میں کیا چیز معین ہو سکتی ہے؟ امام صاحبؒنے فرمایا ’’ دلجمعی‘‘ اس نے عرض کیا کہ دلجمعی کیونکرحاصل ہو؟ ارشاد ہواکہ تعلقاتکم کئے جائیں۔ پوچھا تعلقات کیونکر کم ہوں۔ جواب دیا کہ ’’ انسان ضروری چیزیں لےلےاورغیرضروری چھوڑ دے۔
امام ابو یوسفؒ سےروایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا ’’ جو شخص مجلس میں ایسی حالت میںحاضر ہو کہ اس کی طبیعت بوجھل ہو تو اس نےفقہ اور اہلِ فقہ کے مراتب کونہیں پہچانا۔
عبد اللہ بن مبارک سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہ نےفرمایا ’’جب عورت اپنی جگہ سے اٹھے تو تم س کی جگہ پر اس وقت تک نہ بیٹھوجب  تک وہ جگہ ٹھنڈی نہ ہو جائے۔
امام ابو حنیفہؒ نے ابراہیم بن ادہمسے فرمایا کہ ’’ ابراہیم ! تم کو اچھی عبادت کی توفیق دے دی گئی ہے مناسبہے کہ علم کی طرف توجہ رہےاس لئے کہ علم عبادت کی جڑ ہے اور اسی سے کام بنتا ہے۔
ابو رجاء ہرویؒ سے روایت ہے کہ میں نے امام ابو حنیفہؒ کوفرماتے ہوئے سنا کہ ’’جو شخص حدیث سیکھتا ہے اور اس سے استنباطِ مسائلنہیں کرتا وہ ایک عطار ہے جس کے پاس دوائیں ہیں لیکن یہ نہیں جانتا کہ کونکس مرض کیلئے ہیں۔
ایک مر تبہ فرمایا ’’جو شخص علم کا ذوق نہیں رکھتا اس کے آگے علمی گفتگو کرنی اس کو اذیت دینی ہے۔ ‘‘

زہد فی الدنیا

قاضیابو القاسم نے مکی بن ابراہیم سے روایت کی کہ ’’میں اہلِ کوفہ کے پاس اٹھابیٹھا ہوں، مگر میں نے ابو حنیفہ سے بڑھ کر پرہیز گار کسی کونہیں دیکھا۔
قاضی ابو عبد اللہ صمیری نے حسن بن صالح سے روایت کی ہے کہ انہوںنے فرمایا ’’ امام ابو حنیفہ بڑے پرہیز گار اور حرام سے بیحد محتاط رہتےتھے، بہت سے حلال مال کو بھی شبہ کی بناء پر چھو ڑ دیتے تھے۔ ‘‘
نضر بن محمد فرماتے ہیں کہ ’’ میں نے ابو حنیفہ سے بڑھ کر پرہیزگار کسی کو نہیں دیکھا۔‘‘
یزیدبن ہارون سے روایت ہے کہ ’’ میں نے ایک ہزار مشائخ سے علم حاصل کیا۔ خدا کیقسم ان میں ابو حنیفہ سے بڑا پرہیز گار اور اپنی زبان کی حفاظت کر نے والاکسی کو نہیں دیکھا۔‘‘
ابو القاسم قشیریؒ سے منقول ہے کہ’’ امام ابوحنیفہ اپنے قرضدار کے درخت کے سایہ میں بھی نہیں بیٹھتے تھے کہ جس قرض سےکوئی بھی نفع ہو، وہ سود ہے۔ ‘‘
ابو المؤید خوارزمی نے یزید بن ہارونسے روایت کی ہے کہ انہوں نے امام ابو حنیفہؒ سے بڑھ کر پرہیز گار نہیںدیکھا۔ ایک دن میں نے ان کودھوپ میں ایک آدمی کے دروازہ کے پاس بیٹھے ہوئےدیکھا تو میں نے عرض کیا کہ کیا ہی اچھا ہوتا اگر آپ سایہ میں ہو جاتے؟
فرمایا اس گھر والے پر میرے کچھ دراہم قرض ہیں، میں پسند نہیں کرتا کہاس کے گھر کی دیوار کے سایہ میں بیٹھوں۔ یزید بن ہارون فرماتےہیں کہ کون سی پرہیز گاری اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ ‘‘
عبد اللہ بن مبارک سےمر وی ہے کہ میں کوفہ میں داخل ہوا اور لوگوں سے معلوم کیا کہ سب سے بڑازاہد کون ہے؟ تو لوگوں نےبتایا’’امام ابو حنیفہؒ۔ ‘‘
ایک مر تبہ عبداللہ بن مبارکؒ سے ابو حنیفہؒ کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا ’’ ان جیساکون ہو سکتا ہے؟
انکا امتحان کوڑوں سے ہوا تو انہوں نے صبر کیا۔ ‘‘
حسن بن زیاد سے روایت ہے کہ خدا کی قسم امام ابو حنیفہ نے امراء و سلاطین میں سے کسی قسم کا انعام یا ہدیہ قبول نہیں فرمایا۔ ‘‘
زیدبن زرقاؒء سے روایت ہے کہ ’’ ایک آدمی نے امام ابو حنیفہؒ سے کہا کہ تمہارےاوپر دنیا پیش ہو رہی ہے اور تمہارے بال بچے ہیں پھر تم قبول کیوں نہیںکرتے؟ امام صاحب نے فرمایا بال بچوں کے لئے اللہ کافی ہے۔ وہ اللہ کےفرماں بردار ہوں تو بھی، نا فرماں ہوں تو بھی۔ اللہ کا رزق فرماں برداراور نافرمان سب کے لئے صبح شام آتا رہتا ہے۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی ’’وفی السماء رزقکم وما توعدون‘‘ اور آسمان میں تمہاری روزی ہے اور وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔

دیانت و امانت

ابو نعیم فضل سےروایت ہے کہ ’’ امام ابو حنیفہ بڑے دین دار اور امانت دار تھے۔ ‘‘ عبد اللہبن صالح بن مسلم سے روایت ہے انہوں نےفرمایا کہ ’’ ایک شخص نے ملکِ شام میں حکم بن ہشام ثقفی سے کہا کہ امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں کچھ بتلائیں۔ انہوں نے فرمایا وہ لوگوں میں سب سے بڑے امانت دار تھے۔ بادشاہ نے کہا کہوہ خزانہ کی کنجیوں کو سنبھالیں اور اگر خزانچی نہیں بنیں گے تو سزا دیجائے گی۔ پھر بھی
وہ نہیں بنے اور اللہ کے عذاب سے بچنے کے لئے بادشاہ کی
سزا کو اختیار کر لیا۔
اس شخص نے عرض کیا جیسی تعریف امام ابو حنیفہ کی آپ
کر رہے ہیں میں نے ایسی تعریف کرتے کسی کو نہیں سنا۔ اس پر حکم بن ہشام نےفرمایاخدا کی قسم وہ ایسے ہی تھے جیسا میں نے کہا۔
ابو المؤید خوارزمیؒنے آپؒ کی تعریف میں اشعار کہے ہیں جن کا ترجمہ یہ ہے ’’امام ابو حنیفہؒکی سب سے بڑی تعریف یہ ہے کہ وہ علوم  کےشیراور قلموں کے جنگل ہیں۔ پرہیز گاری اور امانتداری کی شان میں اس درجہ کو پہنچ گئے جہاں تک پہنچنےسے تصور بھی گھٹنا ٹیک دیتاہے، پرہیز گاری کی وجہ سے حلال و طیب کو قطعیقبول نہیں کیا تو بھلا حرام ان کے قریب کیسے پہنچ سکتا ہے۔ آپ لوگوں نےکبھی ان جیساپرہیزگار دیکھا؟ انکی یہ پرہیز گاری آبائی تھی جب فقہانکے پاس مشتاق ہو کر آئی تو انہوں نے اس پر فخر نہیں کیا بلکہ اسلام نے اس پرفخر کیا۔ راتوں نے ان جیسا بیدار مغز عابد نہیں دیکھا اور ایام نے انجیسا مدرس نہیں دیکھا۔ ‘‘

عبادات و اخلاق

امام صاحبؒ نہایتعبادت گزار زاہد تھے۔ ذکر و عبادت میں ان کو مزہ آتا تھا۔ اور بڑے ذوق وخلوص سے ادا کر تے تھے۔ اس باب میں بھی ان کی شہرت ضرب المثل ہو گئی تھی۔ علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ ’’ان کی پرہیز گاری اور عبادت کے واقعات تواترکی حد تک پہنچ گئےہیں۔ اکثر نماز میں یا قرآن پڑھنے کے وقت رقت طاری ہوتی اور گھنٹوں رویا کر تے۔ ‘‘ زائدہؒ کہتے ہیں کہ ’’ مجھ کو ایک ضروری مسئلہدریافت کرنا  تھا امام ابو حنیفہؒ کے ساتھ نماز میں شریک ہوا اور منتظر رہاکہ نوافل سے فارغ ہوں تو دریافت کروں۔ و ہ قرآن پڑھتے پڑھتے اس آیت  پرپہنچے وقنا عذاب السموم تو بار بار اس آیت کو پڑھتے تھے یہاں تک کہ صبحہو گئی اور آیت پڑھتے رہے۔ ‘‘
مشہور امام حدیث عبداللہ بن المبارک کا قولہے’’ میں نے ابو حنیفہؒ سے زیادہ پرہیز گار آدمی نہیں دیکھا اس شخص کےمتعلق کیا کہوں جس کے سامنے دنیا اور اس کی دولت پیش کی گئی اور اس نےٹھکرا دیا اور وڑوں سے اس کو پیٹا گیا اور وہ ثابت قدم رہا اور وہ مناصبجن کے پیچھے لوگ دوڑتے پھرتے ہیں کبھی قبول نہ کیا۔

امام صاحب کی کرم گستری

امامابو یوسفؒ سے روایت ہے کہ ’’ امام حنیفہؒ جس کو پہچانتے تھے، اس پر بہتزیادہ احسان کرتے تھے۔ چنانچہ ان میں سے کسی کو پچاس اشرفی سے کم عنایت نہکرتے۔ اگر وہ لوگوں کے سامنے شکریہ ادا کرتا تو ان کو رنج ہوتا تھا اورفرماتے تھے کہ اﷲ کا شکر ادا کرو اس لئے کہ یہ اﷲ ہی کا رزق ہے اسی نے تیریطرف بھیجا ہے۔
شقیق بن ابراہیمؒ  فرماتے ہیں کہ ’’ میں ایک مرتبہ امامصاحب کے ساتھ تھا، وہ ایک مریض کی عیادت  کےلئےجارہےتھے،ادھرسےایکآدمی آ رہا تھا اس نے امام صاحبؒ کو دور سے دیکھا تو چھپ گیا اور دوسرےراستہ پر چل پڑاامام صاحبؒ نے اس کا نام لے کر زور سے پکارا اے فلاں ! وہراستہ چل، جس پر چل رہا تھا، دوسرا راستہ مت اختیار کر۔ اس آدمی کو معلومہوا کہ امام ابو
حنیفہؒ نے اس کو دیکھ لیا ہے تو شرمندہ ہو کر کھڑا ہو گیا،جب امام صاحبؒ اس کے پاس پہنچے تو پوچھا ’’تم نے وہ راستہ کیوں چھوڑا جس
پر تم چل رہے تھے؟‘‘
اس آدمی نے عرض کیا کہ آپ کے دس ہزار درہم میرے اوپرقرض ہیں اور مدت لمبی ہو گئی میں ادا نہیں کر سکا۔ وعدہ خلافی ہوئی، آپ کودیکھ کر میں شرما گیا۔ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا سبحان اﷲ! یہاں تک نوبتآ گئی کہ آپ مجھے دیکھیں تو چھپ جائیں، میں نے یہ ساری رقم آپ کو بخش دیاور میں خود اپنے اوپر شاہد ہوں اب خبردار مجھ سے مت چھپنا اور میری طرفسے جو کچھ تمہارے قلب میں آگیا اس کو معاف کردو۔ شقیق فرماتے ہیں اس وقتمجھے مکمل یقین ہو گیا کہ یہ حقیقی زاہد ہیں۔ ‘‘
زائدہ بن حسنؒ سے روایتہے کہ ’’ میرے والد محترم نے امام ابو حنیفہؒ کو ایک رومال ہدیہ کیا جس کوتین اشرفیوں میں خریدا تھا۔ امام صاحب نے قبول فرما لیا اور ان کو ایکریشمی کپڑا ہدیہ  کیا جس کی قیمت 50 درہم تھی۔ ‘‘
زکریا بن عدی سے روایتہے کہ ’’ عبید اﷲ بن عمرو الرقی نے امام ابو حنیفہؒ کو کچھ میوے ہدیہ کئے امامصاحب نے ان کے پاس ہدیہ میں بہت ساقیمتی سامان روانہ فرمایا۔ ‘‘
عبد اﷲبن بکر اسہمی سے روایت ہے کہ اونٹ والے نے مکہ مکرمہ جاتے ہوئے راستہ میںمجھ سے کچھ مخاصمت کی اور کھینچ کر امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں لے گیا۔ انہوں نے ہم دونوں سے سوال کیا ہم دونوں کے جواب مختلف تھے۔ امام صاحبنے فرمایا اختلاف کتنے میں ہے اونٹ والے نے کہا چالیس درہم میں امام صاحبنے فرمایا لوگوں کی مروت ختم ہو گئ، پھر امام ابو حنیفہؒ نے اونٹ والے کوچالیس درہم عنایت
کر دیئے۔
یحیٰ بن خالد سے روایت ہے کہ ’’ ابراہیم بنعینیہ کو اس وجہ سے قید کر دیا گیا تھا کہ ان پر لوگوں کا قرض ہو گیا تھا،ابراہیم اسی حالت میں امام ابو حنیفہؒ کے پاس آئے، امام صاحب نے ان سےمعلوم کیا ’’قرض کتنا ہے؟‘‘ بتلایا کہ چار ہزار درہم سے زیادہ، امامصاحب نے پوچھا کسی سے کچھ لیا تو نہیں؟ عرض کیا ’’لیا ہے‘‘ امام صاحب نےفرمایا ’’اس کوواپس کر دو، میں تمہارا سارا قرض ادا کرتا ہوں۔
 ‘‘ ابومحمد حارثیؒ نے غورک السعدی کوفی سے روایت کی ہے کہ میں نے ابو حنیفہؒ کوہدایا پیش کئے، انہوں نے کئی گنا بدلے میں عنایت فرمایا۔ میں نے عرض کیااگر مجھے علم ہوتا کہ آپ ایسا کریں گے تو میں یہ کام نہیں کرتا اس پر امامصاحب نے فرمایا ’’الفضل للمتقدم‘‘ اور کیا تم نے آپ ﷺ کا یہ فرمان نہیں سنا ’’ من صنع الیکم معروفاً فکافؤہ ‘‘ (جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے اس کو بدلہدیدیا کرو) میں نےعرض کیا یہ حدیث میرے نزدیکپوری دولت سے بہتر اورمحبوب ہے۔ ‘‘
وکیع بن جراحؒ سےروایت ہے کہ ’’ امام ابو حنیفہؒ کے پاسایک آدمی آیا، اور کہنے لگا ’’مجھے دو کپڑوں کی ضرورت ہے آپ میرے ساتھ احسان کریں میں ان کپڑوں کو پہن کر اپنی شکل اچھی بناؤں گا کیوں کہ ایکآدمی مجھ کو اپنی دامادی میں لینا چاہتا ہے،،۔ امام صاحبؒ نے فرمایا دس دنٹھہرو، وہ دس دن کے بعد آیا، امام صاحب نے فرمایا کل آنا، وہ اگلے دنآیا۔ امام صاحب نے اس کے لئے وہ کپڑے نکالے جن کی قیمت بیس اشرفیوں سے زائدتھی، ان کے ساتھ ایک اشرفی بھی تھی۔ امام صاحبؒ نے فرمایا کہ تیرے نام کاسامان بغداد بھیجا تھا، وہ سامان بیچا گیا، یہ دونوں کپڑے اور ایک دینار اسسے نفع ہوا، اصل مال بھی آگیا، اگر تم اس کو قبول کرتے ہو تو بہتر ہے ورنہمیں اس کو بیچ کر اس کی قیمت اور اشرفی تمہارے نام پر صدقہ کر دوں گا۔ ‘‘
امامابویوسفؒ سے روایت ہے کہ لوگ کہتے تھے کہ ابو حنیفہؒ کو اﷲ تعالیٰ نے علمو عمل، سخاوت، کرم گستری اور قرآنی اخلاق سے زینت دی ہے۔
اجمالی صورتامام صاحب کے محاسن اخلاق کی صحیح مگر اجمالی صورت دیکھنی ہو تو قاضی ابویوسفؒ کی تقریر سنئے جو انہوں نے ہارون رشید کے سامنے بیان کی تھی ایکموقعہ پر ہارون رشید نے قاضی صاحبؒ موصوف سے کہا کہ ابو حنیفہ کے اوصافبیان کیجئے۔ انہوں نے کہا ’’ منہیات سے بہت بچتے تھے، اکثر چپ رہتے اورسوچا کرتے تھے، نہایت سخی اور فیاض تھے، کسی کے آگے حاجت نہ لے جاتے، اہلدنیا سے احتراز
تھا، دنیوی جاہ و عزت کو حقیر سمجھتے تھے، غیبت سے بہت
بچتے تھے، جب کسی کا ذکر کرتے تو بھلائی کے ساتھ کرتے، بہت بڑے عالمتھے اور مال کی طرح علم کے صرف کرنے میں بھی فیاض تھے۔ ‘‘ ہارون رشید نےیہ سن کر کہا صالحین کے یہی اخلاق ہوتے ہیں۔
وہ اپنی شخصی زندگی میںبھی انتہائی پرہیز گار اور دیانتدار آدمی تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے اپنےشریک کو مال بیچنے کے لئے باہر بھیجا، اس مال میں ایک حصہ عیب دار تھاامام صاحب نے شریک کو ہدایت کی کہ جس کے ہاتھ فروخت کرے اسے عیب سے آگاہ کر دے۔ مگر وہ اس بات کو بھول گیا، اور سارا مال عیب ظاہر کئے بغیر فروختکر آیا۔ امام صاحب نے اس پورے مال کی وصول شدہ قیمت جو 35 ہزار درہم تھیخیرات کر دی۔
آزادی اور بے نیازیامام صاحب تمام عمر کسی کے احسانمند نہ رہے اور اس وجہ سے ان کی آزادی کو کوئی چیز دبا نہ سکتی تھی۔ اکثرموقعوں پر وہ اس خیال کا اظہار بھی کر دیا کر تے تھے۔ ابن ہبیرہ ے جوکوفہ کا گورنر اور نہایت نامور شخص تھا۔ امام صاحب سے بہ لجاجت کہا کہ آپ
کبھی کبھی قدم رنجہ فرماتے تو مجھ پر احسان ہوتا ‘‘ فرمایا ’’ میں تم سے
مل کر کیا کروں گا مہربانی سے پیش آؤ گے تو خوف ہے کہ تمہارے دام میںآ جاؤں، عتاب کرو گے تو میری ذلت ہے۔ تمہارے پاس جو زر و مال ہے مجھ کواس کی حاجت نہیں میرے پاس جو دولت ہے (یعنی علم) اس کو کوئی چھین نہیںسکتا۔
عینیٰ بن موسیٰ کے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ گزرا۔ ظالموں اورائمہ جور کے خلاف قتل کے معاملہ میں ان کا مذہب مشہور ہے۔ بکر الجصاص ان کامذہب نقل کر تے ہیں ’’ ابو حنیفہؒ کہتے تھے کہ امر بالمعروف اور نہی عنالمنکر ابتداء ً زبان سے فرض ہے ورنہ تو پھر تلوار سے واجب ہے۔ ( احکامالقرآن)۔

آپ کی ظرافت

امام صاحبؒ اگر چہ نہایت ثقہ متین با وقارتھے۔ تا ہم ذہانت کی شوخیاں کبھی کبھی ظرافت کا رنگ دکھاتی تھیں ایک دناصلاح (بال) بنوارہے تھے حجام سے کہا کہ ’’ سفید بالوں کو چن لینا‘‘ اس نےعرض کیا کہ جو بال چنے جاتے ہیں اور زیادہ نکلتے ہیں۔ امام صاحب نے کہا : یہ قاعدہ ہے تو سیاہ بال کو چن لو کہ اور زیادہ نکلیں۔ ‘‘ قاضی شریک نے یہحکایت سنی تو کہا کہ ’’ابو حنیفہؒ نے حجام کے ساتھ بھی قیاس کو نہ چھوڑا۔ ‘‘

غیبت سے پرہیز

آپغیبت سے پرہیز رکھتے، اس نعمت کا شکر ادا کر تے کہ خدا نے میری زبان کواس آلودگی سے پاک رکھا۔ ایک شخص نے کہا ’’ حضرت! لوگ آپ کی شان میں کیاکچھ نہیں کہتے مگر آپ سے میں نے کسی کی برائی نہیں سنی‘‘ فرمایا! ذالک فضلاللہ یؤتیہ من یشاء‘‘ سفیان ثوریؒ سے کسی نے کہا کہ’’ امام ابو حنیفہ کومیں نے کسی کی غیبت کرتے نہیں سنا‘‘ انہوں نے کہا کہ’’ ابو حنیفہ ایسےبیوقوف نہیں کہ اپنے اعمالِ صالحہ کو آپ بر باد کریں۔ ‘‘

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: