حضرت عثمان غنی ؓ: 02

26 ہجری میں حضرت عثمان ؓ نے حرم کعبہ کی تجدید اور توسیع کا حکم دیا اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک جماعت سے کچھ زمین خریدی۔ جبکہ کچھ لوگوں نے اپنی زمینیں فروخت کرنے سے انکار کیا تو آپ ؓ نے ان کی عمارتیں گرا دیں اور ان کی قیمتیں بیت المال میں جمع کرا دیں۔ بعد میں ان لوگوں نے حضرت عثمان ؓ کے پاس آ کر چیخ و پکار کی تو آپ نےانہیں قید کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ تم لوگوں کو میری شرافت اور میرے حکم کی وجہ سے مجھ پر چلانے کی جسارت ہوئی ہے جبکہ تمہارے ساتھ حضرت عمر ؓ نے اس قسم کی کارروائی کی تو تم ان پر نہیں چلاتے تھے۔ آخر کار عبداللہ بن خالد بن اسید کی سفارش پر انہیں رہا کر دیا گیا۔
حضرت عبیداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ نے اہل مدینہ کو جمع کر کے فرمایا اے اہل مدینہ! لوگ فتنوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ خدا کی قسم! میں تمہارے مال و جائیداد کو تمہارے پاس منتقل کر سکتا ہوں۔ بشرطیکہ یہ تمہاری رائے ہو۔ کیا تم اس بات کو پسند کرو گے کہ جو اہل عراق کے ساتھ فتوحات میں شریک ہوا ہو وہ اپنے ساز و سامان کے ساتھ اپنے وطن  میں مقیم ہو جائے۔ اس پر اہل مدینہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے اے امیر المؤمنین! آپ ہمارے مال غنیمت کی اراضی کو کیسے منتقل کر سکتے ہیں؟ آپ ؓ نے فرمایا ہم ان اراضی کو کسی کے ہاتھ حجاز کی اراضی کے ہاتھوں فروخت کر دیں گے۔ اس پر وہ بہت خوش ہوئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایسا راستہ کھول دیا ہے جو ان کے خیال و گمان میں نہیں تھا۔
حضرت عثمان ؓ نے اہل مدینہ کے لیےپانی پینے کا ایک کنواں کھدوایا۔ ایک دفعہ آپ اس کنویں کے سرے پر بیٹھے ہوئے اس انگوٹھی (کو جو حضور اکرم نے خطوط پر مہرثبت کرنے کے لیے بنائی تھی۔ بعدازاں حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے بطور مہر استعمال کیا۔ آپ کے بعد حضرت عمر فاروق ؓ نے اپنے زمانۂ خلافت میں استعمال کیا اور اب حضرت عثمان ؓ کے پاس تھی) کو حرکت دےرہےتھے اور اسے اپنی انگلی میں گھما رہے تھے کہ انگوٹھی ان کے ہاتھ سے نکل کر کنویں میں گر گئی۔ لوگوں نے کنویں میں اس کو بہت تلاش کیا یہاں تک کہ اس کا سارا پانی نکلوا دیا پھر بھی اس کا سراغ نہ مل سکا۔
بعد میں حضرت عثمان ؓ نے اعلان کیا جو بھی شخص اس انگوٹھی کو لے کر آئے گا۔ اسے بھاری رقم دی جائے گی۔ آپ ؓ کو اس خاتم  مبارک کے گم ہونے کا بہت رنج و غم ہوا اور اس کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ تلاش بسیار کے بعد بھی آپ کو وہ انگوٹھی نہ ملی اور جب آپ ہر طرح سے مایوس ہو گئے تو آپ نے اس جیسی چاندی کی انگوٹھی بنوانے کا حکم دیا۔ چنانچہ ہو بہو ویسی ہی انگوٹھی بنائی گئی اور اس پرمحمدرسول اللہ کندہ تھا۔ آپ ؓ نے اسے اپنی انگلی میں پہن لیا۔ جب آپ کو شہید کیا گیا تو وہ انگوٹھی بھی غائب ہو گئی اور یہ معلوم نہ ہو سکا کہ کون اس انگوٹھی کو لے گیا۔
حضرت ابوذر ؓ جب مدینہ تشریف لائے تو حضرت عثمان ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عثمان ؓ نے ان سے پوچھا کہ اہل شام تمہاری شکایت کرتے ہیں۔ حضرت ابوذر ؓ نے جواب دیا کہ میرے نزدیک مسلمانوں کے مال کو اللہ کا مال کہنا مناسب نہیں ہے، اور دولت مندوں کے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ وہ مال و دولت کو جمع کریں۔ چنانچہ یہ لوگ میری اس بات سے اختلاف کرتےہیں۔
حضرت عثمان ؓ نے فرمایا اے ابو ذر! میرا یہ فرض ہے کہ میں اپنے فرائض کو ادا کروں اور رعایا کے ذمہ جو واجبات ہوں انہیں وصول کروں۔ اس لیے میں انہیں زاہد بننے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ البتہ میں انہیں محنت کرنے اور کفایت شعار بننے کی تلقین کر سکتا ہوں۔
حضرت ابوذرؓ نے جب مدینہ سے باہر رہنے کا ارادہ کیا تو حضرت عثمان ؓ سے اجازت مانگی تو حضرت عثمانؓنےانکارفرمادیا،لیکن جب ان کا اصرار بڑھا تو اجازت دے دی اور جاتے ہوئے انہیں اونٹوں کا ایک ریوڑ بھی دیا اور دو غلام بھی دیے اور انہیں یہ بھی کہا کہ تم مدینہ آیا جایا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بالکل اعرابی بن جائو۔ چنانچہ ابوذر ؓ ربذہ چلے گئے اور ایک مسجدبنائی اور مدینہ تشریف لایا کرتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عامر ؓ نے فتوحات کثیرہ پر شکرانے کے طور پر عمرہ کی نیت کی اور نیشا پور سے احرام باندھا اور مکہ معظمہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جب حضرت عثمان ؓ کے پاس آئے تو حضرت عثمان ؓ نے (نیشا پور) خراسان سے احرام باندھنے پر ان کو ملامت کیااور فرمایا ’’کاش کہ تم اس میقات سے احرام باندھتے جہاں سے مسلمان احرام باندھا کرتے ہیں۔
حکیم بن عباد روایت کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں جب دنیاوی خوشحالی آئی اور لوگوں کے پاس دولت کی فراوانی ہوئی تو دولت مندی انتہاءتک پہنچی تو وہاں سب سے پہلے جو برائی رونما ہوئی تو وہ کبوتروں کو اڑانا اور مختلف چیزوں کی نشانہ بازی تھی۔ حضرت عثمانؓنےلوگوں کی اس بے راہ روی کو روکنے کی خاطر اپنی خلافت کے آٹھویں سال قبیلہ لیث کے ایک شخص کو مقرر کیا کہ وہ ان کبوتروں کے پر کاٹے اور نشانہ بازی کے مراکز کو ختم کرے۔
حضرت عبداللہ بن وہب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ نے حضرت ابن عمر ؓ سے فرمایا جائو اور لوگوں کے قاضی بن  جائو۔ ان میں فیصلے کیا کرو۔ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا اے امیر المومنین! کیا آپ مجھے اس سے معاف رکھیں گے؟ حضرت عثمانؓنے فرمایا نہیں۔ میں تمہیں قسم دیتا ہوں۔ تم جا کر لوگوں کے قاضی ضرور بنو۔ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا آپ جلدی نہ کریں۔ کیا آپ نے رسول اللہ سے یہ نہیں سنا کہ جس نے اللہ کی پناہ چاہی وہ بہت بڑی پناہ میں آ گیا۔ حضرت عثمانؓنےفرمایاہاں۔ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا میں قاضی بننے سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ حضرت عثمان ؓ نے فرمایا تم قاضی کیوں نہیں بنتے ہو؟ حالانکہ تمہارے والد تو قاضی تھے۔ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا میں نے حضور اکرم کو یہ فرماتےہوئےسناہےکہ جو قاضی بنا اور پھر نہ جاننے کی وجہ سے غلط فیصلہ کر دیا تو وہ دوزخی ہے اور قاضی عالم ہو اور حق و انصاف کا فیصلہ کرے وہ بھی یہ چاہے گا کہ وہ اللہ کے ہاں جا کر برابر برابر چھوٹ جائے (نہ انعام ملے اور نہ کوئی سزا لگے) اب اس حدیث کےسننےکےبعدبھی میں قاضی بننے کی امید کر سکتا ہوں؟
اس بات پر حضرت عثمان ؓ نے ان کے عذر کو قبول کر لیا اور ان سے فرمایا کہ تم کو تو معاف کر دیا لیکن تم کسی اور کو یہ بات نہ بتانا (ورنہ اگر سارے ہی انکار کرنے لگ گئے تو پھر مسلمانوں میں قاضی کون بنے گا؟ یہ اجتماعی ضرورت کیسے پوری ہو گی؟)
حضرت عثمان ؓ کو جس مسئلہ میں شبہ ہوتا اور اس کے متعلق کوئی صحیح رائے قائم نہ کر سکتے تو دوسرے صحابہ سےاستفسارفرماتےاورعوام کو بھی ان کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت کرتے تھے۔ ایک دفعہ سفر حج کے دوران ایک شخص نے پرندہ کاگوشت پیش کیا جو شکار کیا گیا تھا۔ جب آپ کھانے کے لیے بیٹھے تو شبہ ہوا کہ حالت احرام میں اس کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ حضرت علیؓ بھی ہمسفر تھے۔ ان سے استصواب کیا انہوں نے عدم جواز کا فتویٰ دیا تو حضرت عثمان ؓ نے اسی وقت کھانے سے ہاتھ روک لیا۔
نائب رسول () کا سب سے اہم فرض دین کی خدمت اور اس کی اشاعت و تبلیغ ہے۔ اس لیے حضرت عثمان ؓ کو اس فرض کےانجام دینے کا ہر لحظہ خیال رہتا تھا۔ چنانچہ جہاد میں جو قیدی گرفتار ہو کر آتے تھے ان کے سامنے خود اسلام کے محاسن بیان کر کے ان کودین متین کی طرف دعوت دیتے تھے۔ لہٰذا ایک دفعہ بہت سی رومی لونڈیاں گرفتار ہو کر آئیں تو حضرت عثمان ؓ نے خود ان کےپاس جا کر تبلیغ اسلام کا فرض انجام دیا۔ چنانچہ دو عورتوں نے متاثر ہو کر کلمۂ توحید کا اقرار کیا اور دل سے مسلمان ہوئیں۔
ایک دفعہ حضرت عمر ؓ مکہ تشریف لے گئے اور اپنی چادر ایک شخص پر جو خانۂ کعبہ میں کھڑا ہوا تھا ڈال دی۔ اتفاق سے اس پر ایک  کبوتربیٹھ گیا۔ انہوں نے اس خیال سے کہ چادر کو اپنی بیٹ سے گندہ نہ کر دے اس کو اڑا دیا۔ کبوتر اڑ کر دوسری جگہ جا بیٹھا۔ وہاں اس کوایک سانپ نے کاٹ لیا اور وہ اسی وقت مر گیا۔ حضرت عثمان ؓ کے سامنے یہ مسئلہ پیش ہوا تو انہوں نے کفارہ کا فتویٰ دیا کیونکہ وہ اس کتوبر کو ایک محفوظ مقام سے غیر محفوظ مقام میں پہنچانے کا باعث ہوئے تھے۔
جب مسجد نبوی تنگ ہو گئی تو لوگوں نے حضرت عثمان ؓ سے اس کو کشادہ کرنے کی درخواست کی۔ آپ ؓ نے صحابۂ کرامؓ  کو جمع کر کے مشورہ کیا۔ مروان بن حکم موجود تھا۔ اس نے کہا: امیر المؤمنین! آپ کے قربان! اس معاملہ میں مشورہ کی کیاضرورت ہے۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے مسجد میں اضافہ کا ارادہ کیا تو کسی سے اس کا ذکر بھی نہیں کیا تھا۔ حضرت عثمان ؓ یہ سن کربرہم ہو گئے، فرمایا: خاموش! عمر ؓ کا معاملہ یہ تھا کہ لوگ ان سے اس درجہ خوف کھاتے تھے کہ اگر وہ لوگوں سے کہتے کہ گوہ (ایک جانور جسے عربی میں ضب کہتے ہیں اور جو دھوکہ دینے میں ضرب المثل ہے) کے بھٹ میں گھس جائو تو لوگ اس میں گھس جاتے، لیکن میرامعاملہ یہ ہے کہ میں نرم خو ہوں۔ اس لیے محتاط رہتا ہوں کہ وہ احتجاج نہ کریں۔
حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ نے حضرت عثمان ؓ سے سات لاکھ کی قیمت پر ان کی اراضی خریدی اور رقم لے کر ان کے پاس گئے، طلحہ نے فرمایاایک شخص سے یہ معاملہ کر رہا ہوں مگر اس کو اس بات کی خبر نہیں ہے کہ اس کے گھر میں اللہ کا کیا حکم نازل ہونے والا ہے۔ جب آپ ؓ نے یہ سناتو آپ نے اپنے قاصد کے ذریعہ اس مال کو رات بھر تقسیم کرایا حتیٰ کہ صبح تک ان کے پاس ایک درہم بھی باقی نہیں بچا۔
ربیع بن الحارث بن عبدالمطلب ؓ عہد جاہلیت میں حضرت عثمان ؓ کے شریک تھے۔ جب آپ خلیفہ مقرر ہوئے تو عباس بن ربیع  نے حضرت عثمان ؓ سے کہا کہ آپ ابن عامر کو تحریر فرمائیں کہ وہ مجھے بطور قرض کے ایک لاکھ رقم دے دے۔ چنانچہ آپؓنےاسےتحریر کر دیا اور ابن عامر نے انہیں ایک لاکھ کی رقم دے دی۔ نیز حضرت عثمان ؓ نے انہیں اپنا گھربطور ہدیہ کےدے دیا اور آج تک ان کا گھر عباس بن ربیع کا گھر کہلاتا ہے۔
محمد اور طلحہ کی روایت ہے کہ ابن ذی الحبکہ نہدی نیرنج جادو کا کام کیا کرتا تھا۔ جب حضرت عثمان ؓ کو اس کے اس کام کے بارے میں اطلاع ہوئی تو آپ نے ولید بن عقبہ کو لکھا کہ اس بارے میں ابن ذی الحبکہ سے پوچھا جائے اگر وہ اقرار کرے تو اسے سخت سزا دی جائے۔ چنانچہ ولید بن عقبہ نے انہیں بلوایا اور اس سے پوچھا تو اس نے کہا ہاں یہ عجیب و غریب شعبدہ بازی کا کام ہے اور اقرار کیا تو کلید بن عقبہ نےانہیں سزا دینے کا حکم دیا اور عوام کو بھی اس کے بارے میں آگاہ کیا اور ان کے سامنے حضرت عثمان ؓ کے خط کو پڑھ کر سنایا گیا کہ ’’یہ معاملہ نہایت سنجیدہ اور سنگین ہے اس لیے تم لوگ بھی سنجیدگی اختیار کرو اور ہنسی مذاق اور دل لگی سے بچو۔ لوگوں کو اس بات سےتعجب ہوا کہ حضرت عثمان غنی ؓ تک اس کی اطلاع کیسے پہنچی؟
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن ؓ  کہتے ہیں حضرت عثمان ؓ کا باغیوں نے محاصرہ کیا ہوا تھا۔ اتنے میں حضرت ابوقتادہ ؓ اور ایک
اور صاحب ان کے ساتھ حضرت عثمان
ؓ کے پاس ان کے گھر گئے۔ دونوں نے حضرت عثمان ؓ سے حج کی اجازت مانگی۔ انہوں نے حج کی اجازت دے دی۔ ان دونوں نے حضرت عثمان ؓ سے پوچھا کہ اگر یہ باغی غالب آ گئے تو ہم کس کا ساتھ دیں؟
حضرت عثمان ؓ نے فرمایا مسلمانوں کی عام جماعت کا ساتھ دینا۔ انہوں نے پوچھا اگر یہ باغی ہی مسلمانوں کی جماعت بنا لیں تو پھر کس کاساتھ دیں؟ حضرت عثمان ؓ نے کہا مسلمانوں کی عام جماعت کا ہی ساتھ دینا وہ جماعت جن کی بھی ہو۔
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن ؓ  کہتے ہیں کہ ہم (حضرت عثمان ؓ کے گھر سے) باہر نکلنے لگے تو ہمیں گھر کے دروازے پر حضرت حسن بن علی ؓ سامنے سے آتے ہوئے ملے۔ جو حضرت عثمان ؓ کے پاس جا رہے تھے تو ہم ان کے ساتھ واپس ہو گئے کہ سنیں کہ یہ حضرت عثمان ؓ سے کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے حضرت عثمان ؓ کو سلام کر کے کہا اے امیر المؤمنین! آپ جو چاہیں مجھے حکم دیں۔ اس پر حضرت عثمان ؓ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! واپس چلے جائو اور اپنے گھر بیٹھ جائو۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں اسے وجود میں لے آئیں۔ چنانچہ حضرت حسن بھی اور ہم بھی حضرت عثمان ؓ کے پاس سے باہر آ گئے تو ہمیں سامنے سے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ آتے ہوئے ملے وہ حضرت عثمان ؓ کے پاس جا رہے تھے تو ہم بھی ان کے ساتھ واپس ہوگئے کہ سنیں یہ کیا کہتے ہیں؟چنانچہ انہوں نے جا کر حضرت عثمان ؓ کو سلام کیا اور عرض کیا اے امیر المومنین! میں رسول اللہ کی صحبت میں رہا اور ان کی ہر بات مانتا رہا۔
پھر میں حضرت ابوبکر
ؓ کے ساتھ رہا اور ان کی پوری فرمانبرداری کی۔ پھر میں حضرت عمر ؓ کے ساتھ رہا اور ان کی ہر بات مانتارہااور میں ان کا اپنے اوپر دوہرا حق سمجھتا تھا۔ ایک والد ہونے کی وجہ سے اور ایک خلیفہ ہونے کی وجہ سے اور اب میں آپ کا پوری طرح فرمانبردار ہوں۔آپ مجھے جو چاہیں حکم دیں (میں اسے انشاء اللہ پورا کروں گا)اس پر حضرت عثمان ؓ نے فرمایا: اے آل عمر!اللہ تعالیٰ تمہیں دگنی جزائے خیر عطا فرمائے مجھے کسی کا خون بہانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے مجھے کسی کا خون بہانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں میں بھی حضرت عثمان ؓ کے ساتھ گھر میں محصور تھا۔ ہمارے ایک آدمی کو (باغیوں کی طرف سے)تیر مارا گیا۔ اس پر میں نے کہا اے امیر المومنین! چونکہ انہوں نے ہمارا ایک آدمی قتل کر دیا ہے اس لیے اب ان سے جنگ کرناہمارے لیے جائز ہو گیا ہے۔
حضرت عثمان ؓ نے فرمایا: اے ابوہریرہ ؓ! میں تمہیں قسم دے کر کہتا ہوں کہ اپنی تلوار پھینک دو۔ وہ لوگ تو میری جان لیناچاہتےہیں اس لیے میں اپنی جان دے کر دوسرے مسلمانوں کی جان بچانا چاہتا ہوں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں (حضرت عثمانؓ کے اس فرمان پر) میں نے اپنی تلوار پھینک دی اور اب تک مجھے خبر نہیں کہ وہ کہاں ہے؟
حضرت عبداللہ بن سلام ؓ فرماتے ہیں حضرت عثمان ؓ اپنے گھر میں محصور تھے میں سلام کرنے کے لیے حضرت عثمان ؓ کی خدمت میں اندر گیا تو آپ نے فرمایا خوش آمدید ہو میرے بھائی کو، میں نے آج رات اس کھڑکی میں حضور اکرم کو دیکھا (حالت خواب میں)۔
آپ نے فرمایا اے عثمان! ان لوگوں نے تمہارا محاصرہ کر رکھا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں پھر فرمایا انہوں نے تمہیں پیاسا رکھا ہوا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں پھر حضور اکرم نے پانی کا ایک ڈول لٹکایا جس میں سے میں نے خوب سیر ہو کر پانی پیا اور اب بھی میں اس کی ٹھنڈک اپنے سینے اور کندھوں کے درمیان محسوس کر رہا ہوں۔ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا اگر تم چاہو (تو اللہ کی طرف سے) تمہاری مدد کی جائے اور اگر تم چاہو تو ہمارے پاس افطار کر لو۔ میں نے ان دونوں باتوں میں سے افطار کو اختیار کر لیا ہے۔ چنانچہ اسی دن آپؓکو شہید کر دیا گیا۔
حضرت کثیر بن صلت ؓ  کہتے ہیں جس دن حضرت عثمان ؓ شہید ہوئے اس دن وہ سوئے اور اٹھنے کے بعد فرمایا اگر لوگ یہ نہ کہیں کہ عثمان فتنہ پیدا کرنا چاہتا ہے تو میں آپ لوگوں کو ایک بات بتائوں۔ ہم نے کہا آپ ہمیں بتا دیں ہم وہ بات نہیں کہیں گے جس کادوسرےلوگوں کو خطرہ ہے۔ انہوں نے فرمایا میں نے ابھی خواب میں حضور اکرم کو دیکھا۔
آپ
نے مجھ سے فرمایا تم اس جمعہ ہمارے پاس پہنچ جائو گے ابن سعد کی روایت میں یہ بھی ہے کہ یہی جمعہ کا دن تھا۔
حضرت عثمان ؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت مسلم ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ کہتے کہ حضرت عثمان ؓ نے بیس غلام آزادکیےاورشلوارمنگوا کر اسے پہنا اور اسی طرح باندھ لیا حالانکہ انہوں نے اس سے پہلے نہ جاہلیت میں شلوار پہنی تھی اور نہ اسلام میں اور فرمایا گزشتہ رات میں نے حضور اکرم کو اور حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کو خواب میں دیکھا۔ ان حضرات نے مجھ سے فرمایا صبر کرو۔ کیونکہ تم کل رات ہمارے پاس آ کر افطار کرو گے۔
پھر قرآن شریف منگوایا اور کھول کر اپنے سامنے رکھ لیا۔ چنانچہ جب وہ شہید ہوئے تو قرآن کریم اس طرح ان کے سامنے تھا۔
جب مدینہ منورہ کے حالات سخت تشویش انگیز ہو گئے تو حضرت امیر معاویہ ؓ نے امیر المومنین حضرت عثمان ؓ کو مشورہ دیا تھا کہ
وہ ان کے ساتھ ملک شام تشریف لے چلیں اور اگر یہ گوارا نہ ہو تو انہیں اجازت دیں کہ قصر خلافت کی حفاظت کے لیے فوج کا ایک دستہ بھیج دیں، لیکن حضرت عثمان
ؓ نے ان دونوں صورتوں کو یہ کہہ کر نامنظور کر دیا تھا کہ میں نہ کسی قیمت پر رسول اللہ کا قرب چھوڑ سکتا ہوں اور نہ یہ گوارا کر سکتا ہوں کہ مدینہ میں فوج کا درجہ کثیر آ جائے کہ اس کی وجہ سے شہر رسول کے رہنےوالوں کواشیائے خوردونوش کی تنگی محسوس ہو۔
حضرت عثمان ؓ کا معمول تھا کہ جب سےخلیفہ ہوئے تھے بحیثیت امیر المومنین کے ہر سال حج کو تشریف لے جاتے۔ اس موقع پرتمام عمال کو بھی بلاتے، ہر ایک سے اس کے صوبہ کے حالات دریافت کرتے۔ عوام سے ان کے دکھ درد معلوم کرتے اور اس طرح مملکت اسلامیہ کے تمام احوال سے باخبر رہتے تھے۔
حضرت عثمان ؓ کی فرض شناسی کا یہ عالم تھا کہ اس مرتبہ حج کو نہیں جا سکتے تھے (حالت حصار میں) تو حضرت عبداللہ بن عباسؓکوبلاکر ان سے فرمایا: اس مرتبہ تم میری طرف سے حج کو چلے جائو۔ انہوں نے جواب دیا ان باغیوں سےجہادکرنامیرےنزدیک حج کرنے سے زیادہ پسندیدہ اور محبوب ہے، لیکن حضرت عثمان ؓ نے اصرارکیا اور قسم دی تو آخر راضی ہوئے اور حج کو گئے۔
محمد بن ہلال اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ میں امیر المومنین (حضرت عثمان ؓ) کے محصور ہونے کے دنوں میں روزانہ خدمت عالی میں حاضر ہوتی تھی۔ ایک دن میں حاضر نہ ہو سکی تو امیر المومنین نے دریافت فرمایا کسی نے کہا: اس کے شب میں بچہ(ہلال)پیداہواہے۔ امیر المومنین نے سنتے ہی پچاس درہم اور کپڑے کا ایک ٹکڑا میرے پاس ارسال فرمایا، اور ساتھ ہی کہلا بھیجا: یہ بچہ
کا وظیفہ ہے جو ہر ماہ ملتا رہے گا اور بچہ جب سال بھر کا ہو جائے گا تو وظیفہ دگنا یعنی سو درہم ماہانہ کر دیا جائے گا۔
حضرت علاء بن فضل کی والدہ کہتی ہیں حضرت عثمان ؓ کے شہید ہونے کے بعد لوگوں نے ان کے خزانے کی تلاشی لی تو اس میں صندوق ملا جسے تالا لگا ہوا تھا جب لوگوں نے اسے کھولا تو اس میں ایک کاغذ ملا جس میں وصیت لکھی ہوئی تھی۔
یہ عثمان کی وصیت ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم عثمان بن عفان اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اورحضرت محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ جنت حق ہے، دوزخ حق ہے اور اللہ تعالیٰ اس دن لوگوں کو قبروں سے اٹھائیں گےجس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا اسی شہادت پر عثمان زندہ رہا اسی پرمرےگا، اور اسی پر انشاء اللہ (قیامت کے دن)اٹھایا جائے گا۔
محاصرین نے ایک دفعہ قبیلہ لیث کے ایک آدمی کو اندر بھیجا، تو حضرت عثمان ؓ نے ان سے پوچھا : تم کون سے قبیلہ سے ہو؟ وہ بولا میں لیثی ہوں۔ آپ ؓ نے فرمایا تم میرے قاتل نہیں ہو سکتے، وہ بولا کیسے؟ آپ نے فرمایا کیا تم جب چند افراد کے ساتھ آئے تھے تو رسول اکرم نے تمہیں دعا نہیں دی تھی کہ تم اس قسم کے دنوں میں محفوظ رہو گے؟ وہ بولا ہاں۔ آپ ؓ نے فرمایا اس لیے تم تباہ وبرباد نہیں ہو گے۔ اس پر وہ شخص واپس لوٹ گیا اور جماعت (محاصرین) کو چھوڑ کر چلا گیا۔
اس کے بعد ان لوگوں نےقبیلہ قریش کا ایک شخص بھیجا جب وہ اندر گیا تو اس نے کہا اے عثمان! میں تمہارا قاتل ہوں؟ آپؓنےفرمایا ہرگز نہیں۔ تم مجھے قتل نہ کرو گے وہ بولا کیوں؟ آپ نے فرمایا رسول اللہ نے فلاں دن تمہارےلیےاستغفارکیا تھا اس لیے تم خون بہانے کے مرتکب نہیں ہو گے۔ اس پر وہ استغفار کرتا ہوا لوٹ گیا اور اس نے بھی اپنےساتھیوں کو چھوڑ دیا۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ نے مجھ سے فرمایا ’’میں نے خالد بن العاص بن ہشام کو مکہ معظمہ کا حاکم  بنایا ہے۔ چونکہ اہل مکہ کو ان باتوں کی اطلاع ہو گئی ہے اس لیے مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ لوگ ان کی مخالفت کریں گے۔ اس لیے وہ ممکن ہے کہ خانہ خدا اور حرم میں ان سے جنگ کرے گا۔ اس طرح حرم کعبہ کے امن و امان میں اس موسم حج میں خلل واقع ہو گا۔ جبکہ مسلمان دور دراز کے علاقوں سے آئیں گے۔ اس لیے میری رائے ہے کہ میں حج کے تمام انتظامات تمہارے سپرد کر دوں۔
حضرت ابوحذیفہ ؓ قریش کے عالی نسب سرداروں میں سے تھے۔ سابقین اولین کے زمرہ مقدسہ میں شامل ہیں۔ محمد بن ابی حذیفہ اس عظیم باپ کا بیٹا تھا۔ ابھی نوعمر ہی تھے کہ سایۂ پدری سے محروم ہو گئے۔ حضرت عثمان ؓ اسے منہ بولا بیٹا بنا کر اس کے کفیل اور مربی ہوگئے۔ جب آپ مسند خلافت پر متمکن ہوئے تو اسے کسی منصب اور عہدہ کی توقع تھی، لیکن یہ نوجوان جیسا کہ راویوں کا بیان ہے کہ دین پر مکمل کاربند نہ تھا۔ ایک روز اس نے حضرت عثمان ؓ سے مطالبہ کیا کہ اسے کسی منصب پر متعین کیا جائے۔ حضرت عثمان ؓنےانکارکر دیا اور کہا کہ اگر مجھے تم میں اہلیت نظر آتی تو کہیں حاکم مقرر کر دیتا لیکن تم اس معیار پر پورے نہیں اترتے۔ جس پر یہ ناراض ہو کر چلا گیا۔
بصرہ، کوفہ اور مصر
تینوں مقامات سے معترضین کا ایک ایک وفد روانہ ہوا اور مدینہ کے متصل پہنچ کر سب مل گئے اور شہر کے باہر ٹھہر گئے۔ حضرت عثمان
ؓ کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے دو آدمیوں کو بھیجا کہ معلوم کریں کہ کس غرض سے یہ وفود آ رہے ہیں۔ انہوں نےواپس جا کر اطلاع دی کہ ان کے آنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی غلطیاں ظاہر کر کے اصرار کریں کہ خلافت سے دست کش ہو جائیں ورنہ آپ کو قتل کر ڈالیں گے۔
حضرت عثمان ؓ یہ سن کر ہنسے اور ان لوگوں کو بلایا۔ مہاجرین و انصار کو جمع کیا۔ پھر ان کی ساری شکایتیں سنیں۔ اس کےبعدصحابہؓسے مشورہ لیا کہ ان کے بارے میں کیا کرنا چاہیے۔
بعض نے کہا کہ ان کو پکڑ کر قتل کر دیجئے۔ فرمایا کہ نہیں جب تک کسی سے کفر ظاہرنہ ہو یا حد شرعی واجب نہ ہو۔ اس وقت تک اس کوسزادینا قرین انصاف نہیں۔
ابوقلابہ سے مروی ہے ’’میں نے شام کے بازار میں ایک آدمی کی آواز سنی جو ’’آگ آگ‘‘ چیخ رہا تھا۔ میں قریب گیا تو میں نے دیکھا کہ اس کے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر ٹخنوں سے کٹے ہوئے ہیں اور دونوں آنکھوں سے اندھا منہ کے بل زمین پر پڑا گھسٹ رہا ہے اور ’’آگ آگ‘‘ چیخ رہا ہے میں نے اس سے حال دریافت کیا تو اس نے کہا کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو حضرت عثمان ؓ کے گھر گھسے تھے۔ جب میں ان کے قریب گیا تو ان کی اہلیہ چیخنے لگیں۔ میں نے ان کے طمانچہ مارا۔ حضرت عثمان ؓ نے کہا تجھے کیا ہو گیا؟ عورت پر ناحق ہاتھ اٹھاتا ہے خدا تیرے ہاتھ پائوں کاٹے تیری دونوں آنکھوں کو اندھا کرے اور تجھے آگ میں ڈالے۔ مجھے بہت خوف معلوم ہوا اور میں
نکل بھاگا۔ اب میری یہ حالت ہے جو تم دیکھ رہے ہو۔ صرف آگ کی بد دعا باقی رہ گئی ہے۔
کاشانۂ خلافت کے پڑوس میں عمرو بن حزم کا مکان تھا۔ اس مکان کی ایک کھڑکی حضرت عثمان ؓ کے مکان میں کھلتی تھی۔ طرفین میں نبرد آزمائی ہو رہی تھی کہ محمد بن ابی بکر اور چند ساتھی اس کھڑکی میں سے چھلانگ لگا کر کاشانۂ خلافت میں گھس آئے۔ حضرت عثمانؓاس وقت روزہ سے تھے۔
عصر کے بعد کا وقت تھا۔ آپ کی بیوی نائلہ بنت القرافصہ آپ کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں۔ حضرت عثمان ؓ کے سامنے قرآن مجیدکھلاہواتھا اور آپ اس کی تلاوت کر رہے تھے اسی عالم میں محمد بن ابی بکر نے لپک کر امیر المؤمنین کی داڑھی پکڑ لی اور حد درجہ بدکلامی کی۔ حضرت عثمان ؓ نے فرمایا: بھتیجے داڑھی چھوڑ دے اگر آج تیرا باپ زندہ ہوتا تو وہ ہرگز اس کو پسند نہ کرتا۔ محمد بن ابی بکر بولا: میں توآپ کے ساتھ اس سے بھی زیادہ سخت معاملہ کرنے والا ہوں۔ اس نے یہ کہا اور ہاتھ میں پکڑا ہوا خنجر امیر المؤمنین کی پیشانی ٔ مبارک میں پیوست کر دیا۔ پیشانیٔ مبارک سے خون کا فوارہ پھوٹ پڑا۔جس سے ریش مبارک تر بتر ہو گئی۔ امیر المؤمنین ؓ کی زبان سے بے ساختہ نکلا، بسم اللہ توکلت علی اللہ اور آپ بائیں کروٹ ہو گئے۔ قرآن مجید آپ کے سامنے کھلا ہوا تھا اور سورۃ بقرہ کی تلاوت کر رہے تھے۔ خون پیشانی سے نکل کر داڑھی پر آیا اور ٹپکنے لگا تو قرآن مجید پر بھی بہنے لگا۔ یہاں تک کہ آیت فسیکفیکھم اللہ وھو السمیع العلیم(تو آپ کی طرف سے عنقریب ہی نمٹ لیں گے ان سے اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ سنتے ہیں جانتے ہیں۔ سورۃ بقرہ آیت نمبر 137) پر پہنچ کر خون رک گیا اور قرآن بند ہو گیا۔ اسی اثناء میں کنانہ بن بشر بن عتاب نے لوہے کی ایک لاٹ اس زور سے ماری کہ عثمان ذوالنورینؓتیوراکےپہلو کے بل گر پڑے۔ اب سودان بن حمران نے تلوار کا وار کیا اور عمرو بن الحمق نے سینہ پر بیٹھ کر نیزہ سےمسلسل کئی بار حملے کیے تو عالم اچانک تیرہ و تار ہو گیا اور حلم و حیا و صدق و صفا کے چمنستان میں خاک اڑنے لگی یعنی ثالث خلیفہ راشدامیرالمؤمنین حضرت عثمان ذوالنورین ؓ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: