نفل عمرے اور حج ادا کرنے والوں کے نام:ایک کھلا خط:04

حج / عمرہ کے حقیقی مقاصد

حج یا عمرہ ایرپورٹ تا ایرپورٹ کا سفر نہیں۔اِس کا سفر ، ابراہیمی (علیہ السلام ) عزم ِسفر ہے جس کا آغاز رشتے داروں کی دعوتِ طعام اور گلپوشی سے نہیں ہوتا اور نہ اس کا اختتام گلپوشیوں اور مبارکبادیوں پر ہوتا ہے۔
حج یا عمرہ ابراہیم (علیہ السلام) کے اُس سفر کا نام ہے جو قُم (عراق) سے شروع ہو کر مکّہ پر ختم ہوتا ہے۔ جو اِس سفرکےلئے تیار ہو اُس کی پہلی منزل گھر سے شروع ہوتی ہے اور باپ کی اُس ناجائز کمائی کے خلاف ہوتی ہے جو کہ اُس وقت معزّز اور جائز آمدنی کا ذریعہ سمجھاجاتا تھا۔گھر سے نکال دیا جانا حج کے سفر کا آغاز ہے۔دوسری منزل میں بتوں کو توڑنا ہے۔ صرف پتھر کے بت ہی نہیں بلکہ اس سے وابستہ خوف کے بت، قانون کے بت، بیوی بچوں کے مستقبل کےبت،والدین کی جان مال اور عزت کے بت، خود اپنی جان و مال کے بت۔ ان تمام بتوں کو توڑنے کے لئے سب سےپہلے شرک کے بت کو توڑ کر وحدانیت کے اعلان کے ساتھ ہی اصل حج کے سفر کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اس کےساتھ ہی قانونِ وقت آپ کے لئے سزائے موت تجویز کرتا ہے۔ ماں باپ قطع تعلق کر لیتے ہیں، دوست احباب اور رشتےداردشمن بن جاتے ہیں۔گھر کے قریب کسی مندر میں گھس کر کسی بت کو توڑ دینا یا گھر سے بت پرستی کی مشرکانہ اور بدعتانہ نشانیوں اور رسموں کو بھی ختم کر دینا آسان ہے لیکن اُن مذکورہ بتوں کا توڑنا آسان نہیں جو ہمارے مزاج میں شامل ہوچکےہیں۔جن بتوں کی بدولت سماج میں ہمارا مقام ہے۔ انہی کی بدولت تو ہماری بیٹیوں اور بیٹوں کے اچھے گھرانوں سےرشتے آتے ہیں۔
ان بتوں کو دھکّا لگائے بغیر کوئی یہ چاہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خلافت و امامت حاصل کر لے تو یہ ناممکن ہے۔ لیکن جس کے لئے ممکن ہو جائے اُسکے لئے آتشِ نمرود گلستان بن جاتی ہے۔ عقل تماش بیں بن کر حیرت میں ڈوب جاتی ہے اور عشق آگ میں انجام کے خوف سے بے نیاز ہو کر کود پڑتا ہے۔ یہاں دراصل حج کے سفر کا ایمیگریشن ہے۔ اِس سفر کے لئے گھر بار ماں باپ ہی نہیں وطن سے نکال دیا جانا ضروری ہوتا ہے تب جا کر مکہ کی طرف پیش قدمی ہوتی ہے۔ مکہ پہنچنے پر حج کا فوری اختتام نہیں ہوتا بلکہ پہلے ساری دنیا کی امامت سے نوازا جاتا ہے۔ لیکن اِس سے پہلےایک
آخری امتحان اور ہوتا ہے جو سعودی کے ویزا کی طرح اہم ہے۔ اگر بغیر ویزا کے کوئی احرام باندھ کر پہنچ جائے تو اُس کاجو بھی انجام ہوتا ہے وہی انجام معنوی طور پر اُس حج یا عمرے کا بھی ہوتا ہے جو بغیر اِس آخری شرط کے حج یاعمرےکومکمل سمجھتا ہے۔
گھر، ماں باپ، محلّہ اور وطن چھوڑنا کوئی مشکل کام نہیں۔ جاہل بیویوں کی وجہ سے لوگ ماں باپ کو یوں بھی چھوڑتےہیں۔  روزگار کے لئے وطن کو بھی چھوڑتے ہیں لیکن کوئی اپنی اولاد کو نہیں چھوڑ سکتا۔اُس کی خاطر تو انسان حلال و حرام کی فکر سے بھی بے نیاز ہو جاتا ہے۔ لیکن حج یا عمرہ جو کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے ادا کیا وہ اولاد کی قربانی کےبغیرمکمل ہی نہیں ہوتا۔ اس کا علامتی ثبوت یہ ہے کہ جب قربانی کے جانور پر آدمی چُھری پھیرتا ہے تو دل میں پہلےیہ ٹھوس ارادہ کر لیتا ہے کہ اگر اللہ کے حکم کے آگے اولاد بھی آ جائے تو اُسے یوں ہی قربان کر دوں گا ۔
بدقسمتی سے آج لاکھوں بکرے گائے اور اونٹ ذبح تو ہو رہے ہیں، گوشت تقسیم تو ہو رہا ہے۔ فقہی مسائل جیسےجانورکیساہو، اس کی عمر کیا ہو، ذبح کرتے وقت کس طرف رُخ ہو، کیا دعا پڑھی جائے وغیرہ وغیرہ جیسے مسائل تو خوب بیان ہو رہے ہیں لیکن قربانی کا مقصد کیا ہے ،اس کے کیا اثرات آپ پر ، آپ کے خاندان پر اور زمانے پرواضح ہوں یہ کہیں کوئی اللہ کا بندہ نہ غور کرتا ہے نہ کوئی اسے بیان کرتا ہے۔
حج / عمرہ : صحیح فوائد کوپہچانیں
حدیث میں آتا ہے کہ :حج یا عمرہ کر کے لوٹنے والا معصوم بچے کی طرح پاک ہو جاتا ہے۔معصوم بچہ سبکوپیاراہوتاہے۔لوگ اس کا مذہب یا رنگ یا ذات نہیں دیکھتے۔ ہر ایک اُس سے پیار کرتا ہے کیونکہ اس کے پاس کوئی بھید بھاؤ نہیں ہوتا، کسی کو اس سے جھوٹ ، غیبت، دھوکہ، حسد، سازش یا فساد کی توقع نہیں ہوتی۔اگر آپ بھی یہی چاہتےہیں کہ لوگ آپ سے ایسے ہی پیار کریں جیسے معصوم بچے سے پیار کرتے ہیں۔اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ قربانی کاگوشت جیسے ہی کسی کے گھر پہنچے لوگ یہ جان لیں کہ آج کے بعد اللہ کے حکم کے سامنے اگر اولاد بھی رکاوٹ بنےتوآپ اولاد کو بھی اِسی طرح ذبح کر سکتے ہیں۔اگر آپ واقعی یہ عزم رکھتے ہیں کہ ہر قسم کے بت کو توڑیں گےتوبخداباربار عمرے اور حج کا ارادہ کیجئے آپ کا عمرہ یا حج پورے زمانے کے لئے باعثِ تقلید ہوگا۔
ورنہ ۔۔۔
اگر حج یا عمرے کا مقصد جانے بغیر اللہ تعالیٰ کے پاس اپنے چالو کھاتے میں سے کچھ گناہ کم کرنے اور کچھ نیکیاں ڈپازٹ کرنے کی نیت سے آتے رہے، معاشرے کا نظام وہی عورتوں کے ہاتھوں میں رہا اور آپ باہر تو بڑے نیک اورپارسابنےرہے لیکن آپ کی خوشیوں اور غموں کے مواقع، شادی بیاہ کی تقریبات، بچوں کی پرورش، جمع پونجی وخرچ وغیرہ سب کچھ عورتوں کے ہاتھ میں رہے اور معاشرے کے اکثریتی مردوں کی طرح بیویوں کے غلام رہیں۔
جوڑے جہیز کی لعنت ہندو گھرانوں کی طرح آپ کے گھر کی بھی زینت بنتی رہے۔ دو دو چار چار بیٹوں کے والد ین شان سے دو دو چار چار عمرے کرتے رہیں اور بیٹیوں کے باپ قرض چکاتے چکاتے عمریں گزار دیں۔نہ گھر بدلے نہ سیاست بدلے، نہ معاشرہ بدلے نہ معاشیات کا نظام تو خدارا یہ تو سوچئے کہ سی این این اور بی بی سی وغیرہ پر کروڑوں غیر مسلم مکہ اور مدینہ میں شبِ قدر اور حج کے لاکھوں انسانوں کے مجمع کو دیکھ کر کیا سوچتے ہوں گے؟
یہی نا کہ ہندو گنپتی پر پیسہ لٹاتے ہیں اور آپ مزاروں پر یا مکہ مدینہ کے سفر پر۔ آپ کے پاس ثواب کا نظریہ ہے ان کےپاس پُنّ کا۔ کرشمے اور کرامات کے قصے آپ بھی سناتے ہیں اور وہ بھی۔کاشی اور امرناتھ جا کر یا گنگا جل میں نہاکراُنہیں بھی اُتنی ہی خوشی حاصل ہوتی ہے جتنی آپ کو زم زم سے وضو کر کے۔
سوال یہ ہے کہ ایک مومن اور مشرک کی عبادت میں فرق کہاں ہے؟جس عبادت سے زندگی کے اطوار نہیں بدلتے،گھرخاندان اور محلّے میں جس عبادت سے ایک اخلاقی انقلاب برپا نہیں ہوتا اُس عبادت میں صرف مال، وقت اور توانائیوں کازیاں ہوتا ہے۔ جس عابد کو فقط اپنی پسند کی عبادت کرنے کے اطمینان کے علاوہ اورکچھ حاصل نہیں ہوتا وہ ایک مشرک کی عبادت تو ہو سکتی ہے مومن کی نہیں۔
اسلام کی کوئی عبادت ایسی نہیں جس سے انسان کی اپنی زندگی اور گھر اور خاندان میں ایک انقلاب نہ آتا ہو۔اور حج اورعمرہ تو عظیم عبادت ہے جس کے صحیح فائدے اگر پچاس فیصد بھی ظاہر ہو جائیں تو اندھے دیکھنے لگیں اوربہرےسننےلگیں۔
یا د رکھو ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ایک حاجی وہ ہوتا ہے جو احرام باندھ کر ابھی سواری پر پاؤں ہی رکھتا ہے کہ اُس کی لبّیک کی صدا کے ساتھ ہی فرشتے پکار اُٹھتے ہیں کہ مبارک ہو تجھے تیرا حج قبول کر لیاگیااور ۔۔۔
ایک حاجی وہ ہوتا ہے جو پورا حج کر لیتا ہے اپنے آپ کو تھکاتا ہے مال خرچ کرتا ہے لیکن فرشتے اُس پر افسوس کرتے ہیں ۔کہتے ہیں تیرا حج تیرے منہ پر مار دیا گیا کیونکہ تیرا مال حرام، تیری کمائی، تیرا کھانا، تیرا کپڑا سب کچھ حرام سے آلودہ تھا۔
جن گھروں میں جوڑے  جہیز کا حرام مال جمع ہو، جس گھر میں سود اور رشوت کا مال جمع ہو۔جب تک کہ شدید مجبوری نہ ہو سود پر گھر گاڑی اور دوسری اشیاء جمع کی گئی ہوں۔ جس کمائی کے لئے جھوٹ بولنا جائز کر لیاگیاہو۔ جن گھروں میں مال کا اسراف کرنے کے لئے ایسی ایسی نئی تقریبات ایجاد کرلی گئی ہوں جن کو نہ اللہ کے رسول (ﷺ)نے پسند کیا نہ صحابہ (ؓ ) نے ۔۔۔ایسے گھروں کے افراد جب حج پر حج اورعمرے پر عمرے کرتے ہیں تو نہ صرف یہ کہ بیت اللہ کا تقدّس پامال ہوتا ہے بلکہ اسلام کی عظیم عبادتیں دنیا والوں کے لئے باعثِ تمسخر بن جاتی ہیں !!
مذہبی پکنک یا آخرت کا سامان۔۔۔؟
آؤ حج بیت اللہ ، عمرے اور مدینے کی زیارتوں کے لئے ۔ بار بار آؤ۔لیکن اپنے شوقِ عبادت کو پورا کرنے کے لئے نہیں بلکہ اُس عظیم مقصدکو اپنی زندگی کا مقصد بنانے کے عزم کے ساتھ آؤ جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اِن عبادتوں کا حکم دیا ہے۔
مدینے والے (ﷺ) پر اپنی جان و مال لٹا دینے کے دعوے کرنے والو آؤ اور مدینےوالے (ﷺ) کے ایک ایک فرمان کوپوراکرنےکےلئے اپنی جان لٹا دینے کی قسم کھانے کوآؤ۔
اُن کاﷺفرمان ہے کہ مسلمان سب کچھ ہو سکتا ہے جھوٹا نہیں ہو سکتا۔
اُن کاﷺفرمان ہے کہ دوسرے کے لئے وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو۔
ان کا ﷺفرمان ہے کہ سچا تاجر قیامت کے روز انبیاء کے ساتھ اُٹھایا جائے گا۔
ان کا ﷺفرمان ہے کہ جس شخص کی کمائی میں ناجائز آمدنی کا ایک لقمہ بھی شامل ہو اُس کی دعائیں زمین سے ایک ہاتھ بھی اوپر نہیں اُٹھائی جائیں گی۔
اُن کاﷺ فرمان ہے کہ جو بندہ اوروں کی خدمت میں لگ جاتا ہے فرشتے اُس کےکاموں میں لگ جاتے ہیں۔
اگر مدینے والے ﷺ سے محبت کا دعویٰ ہے تو اُن کے اِن فرامین کو اپنی زندگی کا مقصد بنانے کی قسم کھانے ایک بار آ جاؤ اور پھر دیکھو کہ کیسے زمانے بھر میں انقلاب آتا ہے۔
ان شاء اللہ ! وہ انقلاب آئے گا کہ جب آپ اِس عمرے یا حج سے لوٹ کر جائیں گے تو آپ کا وجود ایک مکمل دعوت بن جائے گا جس کےنتیجے میں کروڑوں ہندو ، عیسائی اور دوسرے تمام باطل مذاہب کے ماننے والے عمرہ یا حج کرنے کی تمنّا کریں گے ان شاءاللہ۔
اور اگر اِس مقصد کے بغیر آنا چاہتے ہو تو یاد رکھو یہ فقط ایک مذہبی پکنک کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
اِس سے کہیں بہتر ہے کہ معاشرے کی فلاح کے کسی کام میں یہ پیسہ لگا دو تاکہ دوسرے انسانوں کی زندگی کو فائدہ پہنچے اور ان کی دعائیں آپ کی آخرت کا سامان بن جائیں۔
اللہ تعالیٰ ہم تمام کو یہ نکات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے !!
کُند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام
ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی توکیا
فقط :                   آپ کا خیراندیش
علیم خان فلکی(جدّہ ، سعودی عرب)
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: