18 ذی الحُجہ:یومِ شہادتِ حضرت عثمانِ غنی ؓ: 01

عثمان نام، ابو عبداللہ اور ابو عمرو کنیت، والد کا نام عفان اور والدہ کا نام ارویٰ تھا۔ قریش کی شاخ بنو امیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ مجدوشرف اورعزت و وجاہت کے اعتبار سے بنو ہاشم کے بعد انہی کا مرتبہ تھا۔ حرب فجار (یہ جنگ قریش اور قیس کےدرمیان ہوئی تھی۔ قریش کےتمام خاندانوں کے فوجی دستے الگ الگ تھے۔ آل ہاشم کا فوجی دستہ زبیر بن عبدالمطلب کے کمانڈ میں تھا اور آنحضرت اسی دست میں شامل تھے۔ بڑے زور کا معرکہ ہوا اور آخرکار صلح پر خاتمہ ہو گیا) میں جو شخص سپہ سالار اعظم کی حیثیت رکھتا تھا وہ اسی خاندان کا ایک نامور سردار حرب بن امیہ تھا۔

حضرت عثمان ؓ کا سلسلہ نسب والد اور والدہ دونوں کی طرف سے پانچویں پشت میں عبد مناف پر آنحضرت کے سلسلۂ نسب سےمل جاتا ہے۔ پھر اس پر مزید یہ کہ حضرت عثمان ؓ کی نانی ام حکیم (یا حکم) بیضاء بنت عبدالمطلب یعنی کہ آنحضرت کی پھوپھی تھیں۔

حضرت عثمان ؓ ہجرت مدینہ سے 47 برس قبل بمطابق 577ء میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ بچپن اور جوانی کے حالات پردئہ خفا میں ہیں۔ البتہ اتنا معلوم ہے کہ آپ مکہ کے ان چند اور نمایاں لوگوں میں تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔قریش کا عام پیشہ تجارت تھا۔ اس میں انہوں نے بڑی ناموری حاصل کی تھی۔ قرآن مجید کی سورئہ القریش میں گرمی اور سردی کے موسم میں قریش کے تجارتی قافلوں کاذکرہے، قریش کے اسی عام مذاق کے باعث حضرت عثمان ؓ نے بھی تجارت کو ذریعۂ معاش بنایا اور ایک شخص ربیعہ بن حارث کی شرکت میں کپڑے کا کاروبار بہت بڑے پیمانہ پر شروع کر دیا۔ اس میں انہوں نے وہ کامیابی اور شہرت حاصل کی کہ ان کا لقب ہی عثمان غنی ہو گیا۔

حضرت عثمان غنی ؓ فطرتاً بڑے حلیم، سخی اور اعلیٰ اخلاق و فضائل کے انسان تھے۔ اسی بناء پر قریش میں نہایت معزز و محترم تھے،اورقریش ان سے اتنی محبت کرتے تھے کہ وہ ضرب المثل بن گئی تھی۔ چنانچہ عرب کہا کرتے تھے ’’احبک والرحمن حب قریش عثمان‘‘ ترجمہ: میں تجھ سے بخدا ایسی محبت کرتا ہوں جیسی محبت قریش عثمان سے کرتے ہیں۔

حضرت عثمان ؓ فطرتاً بڑے نیک، راست باز اور ایمان دار تھے۔ شراب عرب کی گھٹی میں پڑی تھی۔ جو لوگ پیتے تھے فخر کرتےاور نہ پینے والے کو طعن کرتے کیونکہ ان کے نزدیک شراب نہ پینا بخل کی علامت تھی۔لیکن اس ماحول میں دولت و ثروت کے ساتھ رہنےکےباوجود آپ ان چند اکابر قریش (مثلاً حضرت عباس ؓ، حضرت ابوبکر صدیق ؓ، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓوغیرہ)میں سے تھے جو سلیم الفطرت ہونے کے باعث شراب سے نفرت کرتے تھے۔ اسی طرح گانابجانا، لہو و لعب اور زنا کاری عرب کے پسندیدہ مشاغل میں تھے، لیکن حضرت عثمان ؓ ان سب چیزوں سے بھی طبعاً مجتنب تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ فرمایا: میں نےعہد جاہلیت میں یا اسلام میں نہ کبھی زنا کیا ہے نہ شراب پی ہے اور نہ گانا بجایا ہے۔

طبیعت کی اس نیکی اور حق پرستی کے باعث مکہ مکرمہ میں پہلے پہل جب اسلام کا غلغلہ بلند ہوا اور یہ صدائے روح نواز فردوس گوش ہوئی توآپ فوراً مشرف باسلام ہو گئے۔ خود ان کے بیان کے مطابق اسلام قبول کرنے والے مردوں میں ان کا نمبر چوتھا تھا۔

آپ کا رنگ سفید تھا جس میں کچھ زردی کی آمیزش تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا چاندی اور سونا دونوں کو مخلوط کردیاگیاہے۔خوبصورت اور خوش قامت تھے۔ دونوں ہاتھوں کی کلائیاں خوش منظر تھیں۔ بال سیدھے تھے یعنی گھنگریالے نہیں تھے۔جب عمامہ زیب سر کر لیتے تھےتو بڑے حسین و جمیل نظر آتے تھے۔ ناک ابھری ہوئی۔ جسم کا نچلا دھڑ بھاری، پنڈلیوں اور دونوں بازوئوں پر بال کثرت سے تھے۔ سینہ چوڑا چکلا، کاندھوں کی ہڈیاں بڑی بڑی، چہرہ پر چیچک کے کچھ نشانات، دانت ہموار اور خوبصورت جن کو سونے کی تار سے باندھا گیا تھا۔ داڑھی بڑی گنجان، زلف دراز، اخیر عمر میں زرد خضاب کرنے لگے تھے۔ جسم کی کھال ملائم اور باریک تھی۔بڑے پیمانہ پر تجارت کے باعث دولت مند شروع سے ہی تھے۔ اس لیے فاما بنعمۃ ربک فحدث کے حکم کے مطابق اللہ کی نعمتوں سےاستفادہ آپ کی طبیعت کا شیوہ تھا۔ چنانچہ لباس بھی عمدہ قسم کا استعمال کرتے تھے۔اس زمانہ میں یمنی چادریں بہت وقیع اور قیمتی سمجھی جاتی تھیں۔ آپ انہیں اوڑھتے تھے۔ عموماً یہ چادریں زرد رنگ کی ہوتی تھیں اور ان کی قیمت سو درہم کے لگ بھگ ہوتی تھی اور اپنےلباس میں بھی سنت کا خیال رکھتے تھے۔ چنانچہ حضرت سلمہ بن اکوع ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ آدھی پنڈلی تک لنگی باندھا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ میرے محبوب کی لنگی ایسی ہوا کرتی تھی۔غذا بھی عمدہ اور پرتکلف استعمال کرتے تھے۔ آپ پہلے فرماں رواں تھے جن کے لیے آٹا چھنا جاتا تھا۔فطرتاً کم سخن اور کم گو تھے، لیکن جب کسی موضوع پر اظہار خیال فرماتے تو گفتگو سیر حاصل کرتے اور بلیغ کرتے تھے۔

اسلام نے اس فطرت کو چمکا کر مجلٰی اور مصفٰی کر دیا تھا۔ اس بناء پر دینی عزت نفس اور خودداری آپ میں اس درجہ کی تھی کہ نازک سےنازک موقع پر بھی آپ میں لچک پیدا نہیں ہوتی تھی اور فرمایا کرتے تھے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو۔ مبادا وہ وقت آجائے کہ تمہارے بروں کو تم پر مسلط کر دیا جائے اور ان بروں کے خلاف نیک لوگ بددعا کریں اور وہ قبول نہ کی جائے۔

عبادت قرب الٰہی اور انابت الی اللہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اس لیے اپنے چند در چند مشاغل اور گوناگوں مصروفیتوں کے باوجود عبادت کثرت سے کرتے اور فرائض و واجبات کے علاوہ نوافل کا بھی اہتمام کرتے تھے۔نماز بے حد خشوع و خضوع سے پڑھتے تھے۔ اس میں اس درجہ محویت ہوتی تھی کہ گرد و پیش کی کوئی خبر نہیں رہتی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ خشیت الی اللہ بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی چنانچہ حضرت عبداللہ رومی ؓ  کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے فرمایا اگر مجھے جنت اور دوزخ کے درمیان کھڑاکردیاجائے اور مجھے معلوم نہ ہو کہ دونوں میں سے کس طرح جانے کا حکم ملے گا تو اس بات کے جاننے سے پہلے ہی مجھے راکھ بن جاناپسندہو گا کہ دونوں طرف میں سے کس میں جانا ہے۔

حضور کی صحبت و تربیت نے حضرت عثمان ؓ کی سیرت کی تشکیل اور کردار کی تعمیر اس حد تک کی کہ آپ حضوراکرمکےرنگ میں رنگے گئے۔ آپ کی خصلات انبیاء علیہم السلام کے طرز پر تھیں۔ ابن عساکر نے حضرت ابوہریرہؓسے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا عثمان سب صحابہ سے خلق میں مجھ سے زیادہ مشابہ ہیں۔

حضرت عثمان ؓ بے حد منکسر المزاج و متواضع تھے اور اپنے جاہ و جلال کا خیال نہ رکھتے تھے۔ چنانچہ حضرت مالک ؒکے دادا بیان کرتے ہیں کہ میں نے کئی بار دیکھا کہ حضرت عمر ؓ اور حضرت عثمان ؓ جب مکہ سے مدینہ واپس آتے تو مدینہ سے ذرا پہلے معرس مسجد(ذوالحلیفہ) میں قیام فرماتے اور جب مدینہ منورہ میں داخل ہونے کے لیے سوار ہوتے تو سواری پر پیچھے کسی کو ضرور بٹھاتے اورکوئی نہ ملتا تو کسی لڑکے کو ہی بٹھا لیتے اور اسی حال میں مدینہ میں داخل ہوتے۔

راوی کہتے ہیں کہ کیا تواضع کے خیال سے بٹھایا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں تواضع کے خیال سے بھی بٹھاتے تھے اور یہ بھی چاہتےتھے کہ پیدل آدمی کو سواری مل جائے۔ اس کا بھی فائدہ ہو جائے اور یہ بھی چاہتے تھے کہ وہ اور بادشاہوں جیسے نہ ہوں (کہ وہ تو کسی عام آدمی کو اپنے پیچھے بٹھاتے نہیں)

حضرت میمون بن مہران رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں مجھے ہمدانی نے بتایا کہ میں نے حضرت عثمان ؓ کو دیکھا کہ آپ خودخچر پر سوار ہیں اور ان کا غلام نائل ان کے پیچھے بیٹھا ہوا ہے حالانکہ آپ اس وقت خلیفہ تھے۔حضرت عثمان ؓ اپنی ذات کے لیے خدمت بہت کم لیاکرتےتھے۔ حالانکہ خدام کنیزوں کی بہتات تھی، لیکن ان کے آرام کا خیال رکھتے۔

حضرت عبداللہ رومی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ رات کو اپنے وضو کا انتظام خود کیا کرتے تھے۔ کسی نے ان سےکہااگرآپ اپنے کسی خادم سے کہہ دیں تو یہ انتظام کر دیا کرے گا۔

حضرت عثمان ؓ نے فرمایا رات ان کی اپنی ہے۔ جس میں وہ آرام کرتے ہیں۔

ایسے ہی حضرت زبیر بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میری دادی حضرت عثمان ؓ  کی خادمہ تھیں۔ انہوں نےمجھےبتایاکہ(تہجدکےوقت) حضرت عثمان ؓ اپنے گھر والوں میں سے کسی کو نہ جگاتے۔ ہاں اگر کوئی ازخوداٹھاہواہوتاتواسےبلالیتےاور وہ آپ کو وضو کے لیے پانی لا دیتا۔

حضرت عثمان ؓ پہرے کا کوئی خاص ہتمام نہیں فرمایا کرتے تھے چنانچہ حضرت حسن رحمۃ اللہ علیہ اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت عثمان ؓ مسجد میں ایک چادر میں سوئے ہوئے تھے اور ان کے پاس کوئی بھی نہیں تھا حالانکہ اس وقت آپ امیرالمؤمنین تھے۔

تقویٰ و طہارت آپ کا جوہر ذاتی تھا، فواحش و منکرات کا کیا ذکر مکروہات تک سے آپ کو طبعی نفرت تھی۔

رسول اللہ کی ذات اقدس کے ساتھ پروانہ وار عشق و محبت کا لازمی نتیجہ تھا کہ اگر حضور اکرم نے کبھی کوئی بات اشارۃً و کنایۃً بھی فرمائی ہے تو حضرت عثمان ؓ نے اس کو امر محکم کی طرح گرہ میں باندھ لیا ہے اور اس کی بجا آوری کو اپنا وظیفۂ زندگی سمجھا ہے۔

غلام آزاد کرنا اسلام میں ایک بڑی عبادت اور عظیم کار ثواب ہے۔ حضرت عثمان ؓ اس کا بھی بڑا اہتمام کرتے تھے۔ لہٰذا ہر جمعہ کو ایک غلام آزاد کرتے تھے اور اگر کسی جمعہ میں ایسا نہیں کر سکتے تھے تو اگلے جمعہ کو ایک ساتھ دو غلام آزاد کر دیتے۔

اگر اسلام میں ہر فعل جو احکام خداوندی کے ماتحت ہو اور جس کا مقصد حصول رضائے الٰہی ہو دینی اور مذہبی فعل ہے اور اس لیے حضرت عثمان ؓ کے تمام کارنامے دینی کارنامے ہیں۔ تاہم سب سے بڑا اور نہایت عظیم الشان دینی کارنامہ مصحف عثمانی کی ترتیب و تدوین ہے۔ یہی وہ کارنامہ ہے جس کے باعث قرآن جیسا نازل ہوا تھا ویسا ہی ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔

حضرت عثمان ؓ کو تحریر و انشاء میں بھی کمال حاصل تھا۔ آپ کی تحریریں خطوط کی شکل میں حدیث و تاریخ اور ادب کی کتابوں میں محفوظ ہیں ان پر نگاہ ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کی تحریر کی خصوصیت یہ ہے کہ کلام ماقل ودلکا مصداق ہوتا ہے۔ الفاظ مرصع اور جملے کے جملے فصاحت و بلاغت کی جان اور نہایت موثر و دلنشین ہوتے ہیں۔

(1)                  غم دنیا ایک تاریکی ہے اور غم آخرت دل میں ایک نور ہے۔

(2)                  تارک دنیا خدا کا، تارک گناہ فرشتوں کا اور تارک طمع مسلمانوں کا محبوب ہوتا ہے۔

(3)                  چار چیزیں بیکار ہیں

(1) وہ علم جوبے عمل ہو۔ (2) وہ مال جو خرچ نہ کیا جائے۔ (3) وہ زہد جس سے دنیا حاصل کی جائے۔ (4) وہ لمبی عمر جس میں سامان آخرت کچھ تیار نہ کیا جائے۔

(4)                  فرمایا مجھے دنیا میں تین باتیں پسند ہیں

(1) بھوکوں کو کھانا کھلانا۔ (2) ننگوں کو کپڑا پہنانا۔ (3) قرآن مجید خود پڑھنا اور دوسروں کو پڑھانا۔

(5)                  فرمایا بظاہر چار باتوں میں ایک خوبی ہے مگر حقیقت میں چاروں کی تہہ میں چار ضروری امر بھی ہے

(1) نیکو کاروں سے ملنا ایک خوبی ہے، مگر ان کا اتباع کرنا ایک ضروری امر ہے۔ (2)تلاوت قرآن مجید ایک خوبی ہے۔ مگر اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ مریض کی عیادت ایک خوبی ہے مگر اس کی وصیت (مکمل) کرانا ایک ضروری امر ہے۔ (4)زیارت قبور ایک خوبی ہےمگر وہاں کی تیاری کرنا ایک ضروری امر ہے۔

 (6)                 فرمایا مجھے چار باتوں میں عبادت الٰہی کا مزہ آتا ہے

(1) فرائض کی ادائیگی میں۔ (2) حرام اشیاء سے پرہیز کرنے میں۔ (3) امید اجر پر نیک کام کرنے میں۔ (4) اور خوف خدا سے برائیوں سے بچنے میں۔

(7)                  فرمایا متقی کی پانچ علامات ہیں

(1) ایسے شخص کی صحبت میں رہنا جس سے دین کی اصلاح ہو۔ (2) شرمگاہ اور زبان کو قابو میں رکھنا۔ (3) مسرت دنیا کو وبال خیال  کرنا۔ (4) شبہات کے خوف سے حلال سے بھی (احتیاطاً) پرہیز کرنا۔ (5) (اپنے بارے میں یقین ہونا کہ) بس ایک میں ہی ہلاکت میں پڑا ہوں۔

حضرت عثمان ؓ نے اپنی خلافت علی منہاج النبوت پر قائم و دائم رکھی۔ مجلس شوریٰ بالکل اسی طرح برقرار رکھی جس طرح آپ سےپیشتر خلفاء کے دور میں تھی۔اہم امور میں آپ تمام اکابرین صحابہ ؓ ، مشیران خلافت اور ضرورت پڑنے پر امہات المؤمنین ؓسےمشورہ لیتے۔ علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ جب حضرت عثمان ؓ کی خلافت کا دور آتا ہے تو مشرق و مغرب کی انتہاء تک خدا کا دین پھیل جاتا ہے۔ خدائی لشکر ایک طرف اقصیٰ مشرق تک اور دوسری طرف انتہاء مغرب تک پہنچ کر دم لیتے ہیں اور مجاہدین کی آبدار تلواریں خدا کی توحید کو دنیا کے گوشے گوشے اور چپے چپے میں پہنچا دیتی ہیں۔ اندلس، قیروان، سیقہ یہاں تک کہ چین تک آپ کےزمانہ میں فتح ہوئے۔دوسری طرف مدائن، عراق، خراسان، اہواز سب فتح ہوئے۔ ترکوں سے جنگ عظیم ہوئی۔ آخر ان کا بڑا بادشاہ  خاقان خاک میں ذلیل و خوار ہوا اور زمین کے مشرقی اور مغربی کونوں نے اپنے خراج بارگاہ خلافت عثمان میں پہنچوائے۔ آپ کے زمانےکو دیکھئے اور اللہ کے رسول کی پیشین گوئی کو دیکھئے کہ آپ نے فرمایا تھا

’’زمین میرے لیے سمیٹ دی گئی ہے یہاں تک کہ میں نے مشرق و مغرب کو دیکھ لیا۔ عنقریب میری امت کی سلطنت وہاں تک پہنچ جائے گی جہاں تک اس وقت مجھے دکھائی گئی ہے۔‘‘

سیدنا عثمان ؓ نے بہت سے کاموں کا اجرا فرمایا جن میں سے چند یہ ہیں

(1) بیت المال سے موذنین کے لیے وظائف کا تقرر فرمایا: (2) تکبیر میں آواز نیچی رکھنے کا حکم دیا۔ (3) تمام مسلمانوں کو ایک قرات پر متفق کیا۔ (4) جمعہ کی نماز کے لیے ایک اور اذان کا اضافہ فرمایا: (5) زمینوں پر مالکانہ حقوق کے پروانوں کا اجرا فرمایا: (6) بیت المال کے اونٹوں اور گھوڑوں کے چرنے کے لیے چراگاہوں کا بندوبست فرمایا: (7) دارالقضاء کے لیے علیحدہ عمارت تعمیر فرمائی اور جج مقررکیے۔ (8) بیت المال، مہمان خانوں وغیرہ کے لیے الگ الگ عمارات تعمیر فرمائیں۔ (9)جدہ کی بندرگاہ اپنی نگرانی میں تعمیر کرائی۔ (10) جگہ جگہ ضرورت کے تحت سڑکیں اور پل تعمیر کروائے۔ (11) اسلام میں اول وقف عام مسلمانوں کے لیے رومہ کا کنواں خریدا۔ (12) اسلام میں اول مہاجر مع اہل و عیال فی سبیل اللہ ہیں۔(13) ملک شام میں سمندری جہازوں کے بنانے کا کارخانہ قائم کیا۔ (14) سب سے پہلے محتسب کا تقرر آپ نے فرمایا: (15) مدینہ کو سیلاب سے بچانے کے لیے ایک بند تعمیر کرایا۔ (16)جگہ جگہ پانی کی نہریں کھدوائیں۔ (17) بحری افواج قائم کیں اور بحری فتوحات بھی آپ کے عہد میں ہوئیں۔

چونکہ حضرت عثمان ؓ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ لہٰذا اسلام لانے کے بعد آپ کو کتابت وحی کا شرف بھی حاصل ہوا۔ حضرت عائشہ ؓ  کی روایت ہے کہ میں نے خود عثمان ؓ کو اس گھر میں دیکھا ہے کہ رات کے وقت گرمی کے موسم میں حضور اکرم پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ جس کی وجہ سے حضور اکرم حسب معمول گرانی محسوس  کر رہے ہیں اور حضرت عثمان ؓ آپ کے حکم سے وحی لکھ رہے ہیں۔ اپنا یہ مشاہدہ بیان کرنے کے بعد ام المؤمنین ؓ  نے فرمایا: ظاہر ہے رسول اللہ سے اس درجہ قرب و اختصاص کا شرف اللہ تعالیٰ اسی شخص کو عطا فرما سکتا ہے جو اعلیٰ اخلاق و صفات کا انسان ہو۔

ابن سعید بن یربوع مخزومی ؓ سے روایت ہے کہ میں مسجد میں گیا ایک شیخ (حضرت عثمان ؓ) حسن الوجہ سوئے ہوئے تھے۔ ان کے سر کے نیچے اینٹ تھی یا اینٹ کا ٹکڑا تھا۔ میں کھڑا کا کھڑا رہ گیا۔ ان کی طرف دیکھتا تھا اور ان کے حسن و جمال سے متعجب و حیران تھا۔ انہوں نے اپنی آنکھیں کھولیں اور فرمایا:

اے لڑکے! تم کون ہو؟ میں نے انہیں اپنے متعلق بتلایا۔ ان کے قریب ایک لڑکا سویا ہوا تھا۔ آپ نے اسے بلایا مگر اس نے جواب نہ دیا۔ آپ نے مجھے فرمایا اسے بلائو تو میں نے اسے بلایا تو آپ نے اسے کوئی حکم دیا اور مجھے فرمایا بیٹھ جائو۔ وہ لڑکا چلا گیا اور ایک حلہ اور ایک ہزار درہم لے کر واپس آ گیا۔ مجھے وہ حلہ (جوڑا) پہنا دیا اور ہزار درہم اس (جوڑے کی جیب میں) ڈال دیے۔

میں اپنے باپ کے پاس آیا اور انہیں اس واقعہ کی خبر دی انہوں نے کہا تیرے ساتھ یہ (حسن سلوک اور جودوکرم) کس نے کیا؟ میں نے کہا میں نہیں جانتا۔ میں تو اتنا جانتا ہوں کہ وہ مسجد میں سو رہا تھا اور میں نے اس سے زیادہ صاحب حسن و جمال کبھی نہیں دیکھا میرے والد نے کہا وہ امیر المؤمنین عثمان بن عفان ؓ ہیں۔

حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اکرم گھر میں بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ  آپ کے پیچھے بیٹھی ہوئی تھیں کہ اتنے میں حضرت ابوبکر ؓ اجازت لےکراندرآئے۔ پھر حضرت عمر فاروق ؓ اجازت لے کر اندر آئے پھر حضرت سعد بن مالک ؓ اجازت لے کر اندر آئے پھر حضرت عثمان غنی ؓ اجازت لے کر اندر آئے حضور اکرم باتیں کررہے تھے اور حضور اکرم کے گھٹنے کھلے ہوئے تھے (باقی حضرات کے آنے پر تو حضور اکرم ایسے ہی رہے لیکن) حضرت عثمان ؓ کے آنے پر حضور اکرم نے اپنےگھٹنوں پر کپڑا ڈال دیا اور اپنی زوجہ محترمہ(حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ) سے فرمایا ذرا پیچھے ہٹ کر بیٹھ جائو۔ یہ حضرات حضور اکرم سے کچھ دیر بات کرکےچلےگئےتوحضرت عائشہ صدیقہ ؓ  نے عرض کیا یا نبی اللہ ! میرے والد اور دوسرے صحابہ اندر آئے تو آپنے نہ تو گھٹنے پر اپنا کپڑا ٹھیک کیا اور نہ مجھے پیچھے ہونے کو کہا۔

حضور اکرم نے فرمایا کیا میں اس آدمی سے حیا  نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے فرشتے عثمان ؓ سے ایسے ہی حیا کرتے ہیں جیسے اللہ اور رسول کریم سے کرتے ہیں۔ اگر وہ اندرآتےاور تم میرے پاس بیٹھی ہوتیں تو وہ نہ تو بات کر سکتے اور نہ واپس جانے تک سر اٹھا سکتے (احکامات حجاب سےپہلےکاواقعہ ہے)

حضرت عثمان ؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت ہانی ؓ  کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان ؓ کسی قبرپرکھڑےہوتےتواتناروتے کہ داڑھی تر ہو جاتی۔ ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ جنت اور دوزخ کا تذکرہ کرتے ہیں اورنہیں روتے لیکن قبر کو یاد کر کے روتے ہیں؟ فرمایا میں نے حضور اکرم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے جو اس سے سہولت سے چھوٹ گیا اس کے لیے بعد کی منزلیں سب آسان ہیں، اور جو اس (کےعذاب) میں پھنس گیا اس کے لیے بعد کی منزلیں اور بھی زیادہ سخت ہیں، اور میں نے حضور اکرم سے یہ بھی سناہےکہ میں نے کوئی منظر ایسا نہیں دیکھا کہ قبر کا منظر اس سے زیادہ گھبراہٹ والا نہ ہو اور حضرت ہانیؒ نے حضرت عثمانؓکو ایک قبر پر یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا  ؎

فان تنج منہا تنج من ذی عظیمۃ  والا فانی لا اخالک ناجیا

(اے قبر والے!) اگر تم اس گھاٹی سے سہولت سے چھوٹ گئے تو تم بڑی زبردست گھاٹی سے چھوٹ گئے۔ورنہ میرے خیال میں تمہیں آئندہ کی گھاٹیوں سے نجات نہیں مل سکے گی۔

جاری ہے

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: