حج کی فرضیت و فضیلت،ارکان و مسائل:07

طوافِ زیارت:

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول نے طواف زیارت کو دسویں ذی الحجہ کی رات تک موخر کرنے کی اجازت دی ۔ (گو طوافِ زیارت 10 ذی ا لحجہ کے دن افضل ہے تاہم اس دن کے ختم ہونےکےبعدرات میں بھی کیا جاسکتا ہے) ۔حضرت حارث ثقفی ؓ سے روایت ہے کہ رسول نے فرمایا: جو شخص حج یاعمرہ کرے تو چاہئے کہ اس کی آخری حاضری بیت اﷲ پر ہو اور آخری عمل طواف ہو۔ (مسند احمد
جمرات کی رمی کرنا:
 سیدنا ابن عمر ؓ سے کسی نے پوچھا کہ میں جمروں کو کنکریاں کس وقت ماروں تو انہوں نے فرمایا کہ جس وقت تمہارا امام مارے اسی وقت تم بھی مارو۔ اس نے دوبارہ ان سے یہی مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم انتظار کرتے رہتے اورآفتاب ڈھل جا نے کے بعد کنکریاں مارتے۔سیدنا عبداﷲ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے وادی کے نشیب سے کنکریاں ماریں تو ان سے پوچھا گیا کہ کچھ لوگ تو وادی کے اوپر سے مارتے ہیں تو عبداﷲ ابن مسعود ؓ نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم!محمد کے رمی کرنے کی جگہ یہی ہے ۔سیدنا عبداﷲ مسعود ؓ سے روایت ہے کہ وہ جب بڑے جمرے کے پاس پہنچےتوانہوں نے کعبہ کو اپنی بائیں جانب کرلیا اور منیٰ کو اپنی داہنی طرف اور سات کنکریوں سے رمی کی اور کہا کہ اسی طرح سے نبی نے رمی کی ۔سیدنا ابنِ عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ پہلے جمرے کو سات کنکریاں مارتے تھے ہر کنکری کےبعد تکبیر کہتے تھے اس کے بعد آگے بڑھ جاتے تھے یہاں تک کہ نرم ہموار زمین میں پہنچ کر قبلہ روکھڑےہوجاتےاوردیر تک کھڑے رہتے اور ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے پھر درمیان والے جمرہ کی رمی کرتے اس کےبعد بائیں جانب چلے جاتے اور نرم ہموار زمین پر پہنچ کر قبلہ رو کھڑے ہوجاتے اور ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے اور یونہی کھڑےرہتےپھروادی کے نشیب سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے اور اس کے پاس نہ ٹھہرتے بلکہ واپس آجاتےتھےاورکہتےتھے کہ میں نے نبی کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔ (بخاری) حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول نے فرمایا: جمرات پر کنکریاں پھینکنا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا ذکر اﷲ کی گرم بازاری کے وسائل
ہیں ۔(جامع ترمذی، سنن دارمی)
طوافِ وداع :
سیدنا ابنِ عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ کی طرف سے لوگوں کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ ان کا آخری وقت کعبہ کے ساتھ ہو یعنی مکہ سے واپسی کے وقت کعبہ کا طواف کرکے جائیں مگر حائضہ عورت کو یہ معاف کردیا گیا تھا۔سیدنا ابن عباسؓکہتےہیں کہ جو عورت طوافِ زیارت کے بعد حائضہ ہوئی ہو اس کے لےے جائز ہے کہ وہ طوافِ وداع کئےبغیرمکہ سے چلی جائے۔ رسول کی طرف سے حائضہ عورتوں کوایسا کرنے کی اجازت تھی۔ (بخاری
مدینة النبی :
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ لوگوں کا دستور تھا کہ جب وہ درخت پر نیا پھل دیکھتے تو اس کو لاکر رسول کی خدمت میں پیش کرتے، آپ اس کو قبول فرما کر اس طر ح دعا فرماتے : اے اﷲ! ہمارے پھلوں اور پیدا وار میں برکت دے، اور ہمارے شہر مدینہ میں برکت دے، اور ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت دے ! الہٰی ! ابراہیم علیہ السلام تیرے خاص بندے اور تیرے خلیل اور تیرے نبی تھے اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں ۔ انہوں نے مکہ کےلئےتجھ سے دعا کی تھی اور میں مدینہ کے لئے تجھ سے ویسی ہی دعا کرتا ہوں ۔ (صحیح مسلم)
مسجد نبوی :
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول نے فرمایا:مدینہ کے راستوں پر فرشتے مقرر ہیں ۔ اس میں طاعون اوردجال داخل نہیں ہوسکتا۔“ ( صحیح مسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول نے فرمایا: جس نے مسجد نبوی میں مسلسل نمازیں پڑھیں اورایک نمازبھی فوت نہیں کی اس کے لئے دوزخ سے نجات اور نفاق سے برات لکھ دی جائے گی۔(مسند احمد، معجم اوسط للطبرانی)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول نے فرمایا: میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغیچہ ہے ۔ میرا منبر میرے حوض کوثر پر ہے۔ (صحیح مسلم)
روضہ رسول :
حضرت عبداﷲ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا : جس نے حج کے بعد میری قبر کی زیارت کی تو وہ انہی لوگوں کی طرح ہے جنہوں نے میری حیات میں میری زیارت کی۔ (شعب الایمان للبیہقی ، معجم کبیر و معجم اوسط للبطرانی)۔ حضرت عبداﷲ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول نے فرمایا : جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لئےمیری شفاعت واجب ہوگی۔ ( ابن خزیمہ، سنن دار قطنی ، بیہقی)

Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: