عظیم الشان،بلند و بالا عمارتیں:قیامت کی علامتیں، از:مُفتِی نَاصِر الدین مَظاہری:07

جائداد مت بناؤ

حضرت عبد اللہ بن مسعو دؓ سے روایت ہے کہ: آپﷺ  نے ارشاد فرمایا:
لا تتخذوا الضیعۃ فترغبوا فی الدنیا۔ جائداد مت بناؤ ورنہ تم دنیا میں رغبت کرنے لگو گے۔ (ترمذی  ۲/۵۶، بیہقی  واحمد والحاکم)
مطلب یہ ہے کہ: کاروبار تجارت، جائداد و زراعت وغیرہ میں ایسے مشغول نہ ہو کہ پروردگار عالم کی عبادت سے غافل ہوجاؤ اور جس طرح آخرت کی تیاری کرنا چاہئے اس سے رہ جاؤ، دنیاوی چیزوں میں اس قدر مصروف نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر ہی سے غافل ہو جاؤ۔
 حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ:
الد نیا دارمن لا دارلہ ومال من لا مال لہ ولہا یجمع من لا عقل لہ
دنیا اس کا گھر ہے جس کا اور کوئی گھر نہیں اور اس کا مال ہے جس کے پاس اور کوئی مال نہیں اُسے وہ جمع کرتا ہے جس میں عقل نہ ہو۔
(احمد، بیہقی)

تعمیرات میں حرام مال

حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ: نبی کریمﷺ نے فرمایا:
اتقوا الحرام فی
البنیان فانہ اساس الخراب
۔ تعمیر میں حرام سے بچو! اس لئے کہ یہ تباہی کی بنیاد ہے۔ (بیہقی )
امام ربانی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ تحریر فرماتے ہیں:
’’حرام مال سے بنائے ہوئے مکان میں قیام اور سکونت اختیار کرنا مکروہ تحریمہ
بلکہ حرام ہووے گا جیسے طعام خریدہ از حرام کا حال ہے کچھ فرق نہیں ‘‘          (فتاویٰ رشیدیہ
۵۵۷)     

ننگے سر اور ننگے پیر والے عمارتیں بنائیں گے

ایک مرتبہ حضرت جبرئیل امین نے دربار نبوت میں حاضر ہو کر چند سوالات کئے جس میں ایک سوال یہ بھی تھا
اخبرنی عن الساعۃ قال مالمسؤل عنہا باعلم من السائل قال فاخبرنی عن اماراتہاقال ان تلدالامۃ
ربتہاوان تری الحفاۃ  العراۃ العا لۃرعاء الشاء یتطاولون فی البنیان۔ 
اے رسول خدا مجھے قیامت کے بارے میں بتایئے(وہ کب آئے گی)آپﷺ نے فرمایا:مسئول عنہ (جس سے سوال کیا گیا ہے) سائل سے زیادہ نہیں جانتا، انہوں نے فرمایا: اس کی علامتیں بتا دیجئے آپ نے فرمایاکہ:جب ننگے سر والے، ننگے پیر والے اور بکریاں چَرانےوالے بھی بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کرنے لگیں اور ان عمارتوں پر ڈینگیں مارنے لگیں تو سمجھو کہ قیامت قریب آ گئی ہے۔ (بیہقی فی شعب الایمان)

مساجد میں بے جا تکلّفات

 حضرت حکیم الامت ؒ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
’’رہے اور تکلفات مثل شامیانہ وقنادیل وفروش
محض زینت مکان کے لئے  ہے یہ چنداں قبیح نہیں اگر چہ زائد از حاجت یہ بھی فضول ہیں اور اس قدر تزئین واہیات ہے، رسول اللہﷺ
فرماتےہیں
:
ما امرت بتشییدالمساجد
اور حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں:
لتزخرفتھا کما زخرفت الیھود والنصاری’‘  (ابوداؤد)
تو فی الواقع جس قدر تکلفات مساجد میں بڑھ گئے ہیں جو زائد از حاجت ہیں سب فضول ہیں مگر چونکہ اصل سب کی محتاج الیہ ہے اگر چہ لوگوں نے اس پر زیادتیاں کر لی ہیں اس وجہ سے کسی درجہ کم بری ہیں مثلاً شامیانہ کہ حقیقت میں دھوپ سے بچنے کے لئے  مثل چھت کےہے اصل میں ایسی چیز محتاج الیہ ہے مگر اس پر یہ تکلفات کہ کپڑا اس کا رنگین و منقش و بیش قیمت و مکلف ہو یہ فضول ہے، فرش ہے اصل میں اس کی احتیاج ہے تاکہ کپڑے اور بدن خاک مٹی سے بچیں مگر اس میں یہ افراط کہ بیش بہا شطرنجیاں اور قالین اس پر تمام اقسام اقسام بیل بوٹے یہ لغو ہے، قندیل ہے اصل میں اس کی حاجت ہے تاریکی میں مسجد میں روشنی ضرور ہے، مسجد کی دیواریں تیل سےبچانےکے لئے  اور نیز چراغ کو ہوا سے بچانے کے لئے  اگر چراغ کسی قندیل میں رکھ دیا کچھ حرج نہ تھا مگر اس پر یہ زیادتی کہ ضرورت ایک کی وہاں بیسیوں لٹک رہی ہیں کہیں چمنی کہیں فانوس، کہیں گلاس کہیں ہانڈی، کہیں جھاڑ کہیں لالٹین پھر اس میں موم اور چربی کی بتیاں حاجت سے زائد یہ واہیات۔ دیواریں ہیں پائیدار ی کیلئے، چونا و کچ کافی ہیں پھر اس میں یہ تکلف کہ بیل بوٹے رنگ برنگ سرخ و زردیہ سب فضول ہے اس لئے  متولی کو فضولیات کا وقف سے بنانا جائز نہیں اگر بناوے گا ضمان آوے گا (امداد الفتاویٰ ۲/۷۱۴)
حضرت مفتی رشید احمد لدھیانویؒ نے فتاویٰ ہندیہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ:
فی حظر الہند یہ عن المضمرات والصرف الی الفقراء افضل وعلیہ الفتویٰ   
مساجد کو منقش اور مزین کرنے پر بے دریغ روپیہ خرچ کرنے کے بجائے اس رقم کو فقراء و مساکین پر صرف کرنا چاہئے۔ (احسن
الفتاویٰ
۴۶۰ج ۲بحوالہ ردالمحتار ص ۶۱۶ج ۱)

اے ملعون!تیری یہ پختہ عمارتیں۔۔؟

مولانا ضیاء الدین نخشبی ؒ نے’’ سلک السلوک ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ :
’’ شاید تم کو خبر نہیں پہنچی کہ رسول اللہﷺ  نے تعمیر کے سلسلہ میں اینٹ پر اینٹ نہیں رکھی، جب کوئی شخص اپنی حیثیت سے زیادہ مکان بناتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں کہ اے ملعون ! یہ پختہ تعمیر تیری آخر کتنے دن کام آوے گی، حدیث شریف میں آیا ہے کہ: آخر زمانہ میں لوگ
ایسے ہوں گے کہ وہ اپنے مکان کو نقش و نگار کے ساتھ اس طرح منقش کریں گے جیسے یمنی چادر نقشین ہوتی ہے۔
حضرت عمر ؓ نے شام جاتے وقت راستے میں ایک مکا ن دیکھا جو پختہ اینٹ اور چونےسے بنا ہوا تھا آپ نے اس کو دیکھ کر فرمایا اللہ اکبر!میراگمان یہ نہیں تھا کہ اس امت میں ایسے بھی لوگ ہیں جو ہامان و فرعون کے مکان جیسا پر تکلف مکان بنائیں گے۔
ایک دن ایک شخص حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ کے پاس جو حقیقت کے بانی مبانی ہیں آیا اور کہا کہ میں نے ایک مسجد بنوائی ہے میرا دل یہ  چاہتا ہے کہ: آپ کا بھی ایک ٹکڑا سونا اس میں لگ جاتا تاکہ اس کی برکت سے مخلوق کی توجہ اس مسجد کی جانب ہو جاتی، امام صاحب نےتھوڑی دیر غور و تامل کرنے کے بعد ایک ٹکڑا سونا پیش فرما دیا، وہ لے کر چلا گیا لیکن کچھ ہی مدت بعد وہ رقم واپس لایا اور عرض کیا کہ
حضرت! جس ضرورت کے لئے  آپ سے یہ رقم لی تھی وہ پوری ہو گئی لہٰذ ا اب یہ رقم فاضل ہے اس لئے واپس ہے، امام صاحب نے تبسم
فرمایا اور وہ ٹکڑا سونے کا اپنے ہاتھ میں لے لیا، حاضرین مجلس نے عرض کیا کہ کیا وجہ ہوئی کہ دیتے وقت تو آپ نے بڑے تامل کےبعددیاتھا اور لیتے وقت فوراً لے لیا اور چہرہ پر بشاشت کے آثار نمودار ہوئے ؟
فرمایا صحیح حدیث میں آیا ہے کہ: حلال کمائی اینٹ اور گارے میں خرچ نہیں ہوا کرتی لہٰذا دیتے وقت میں نے اس لئے تامل کےبعد دیا (کہ مجھے خیال آیا) جب میری کمائی حلال کی ہے تو یہ کیونکر اینٹ گارے میں خرچ ہو گی، اگر چہ تعمیر مسجد ہی میں کیوں نہ ہو، تو واپسی کے وقت یہ معلوم ک رکے خوشی ہوئی کہ الحمد للہ میری کمائی حلال کی ہے اس لئے گارے مٹی میں نہ لگ سکی ‘‘ ۔
دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں:
نخشبی خانہ بر زمیں چہ کنی
نقدخود کس بخاک رہ نہ دہد
آنکہ ویرانی جہاں دیدست
خشت بر خشت ہیچ گہ نہ نہد
اے نخشبی! زمین پر او ر دنیا میں گھر بنا کر کیا کرو گے، اپنی آمدنی کو کوئی سمجھدار انسان مٹی میں نہیں ملایا کرتا، جس شخص نے اس دنیا کی ویرانی کو سمجھ لیا تو وہ اینٹ پر اینٹ کبھی نہیں رکھے گا (یعنی تعمیر میں روپیہ برباد نہ کرے گا)

حضرت خباب بن ارت ؓ کا ارشاد

حضرت ابووائل شقیق بن سلمہؒ کہتے ہیں :
جب حضرت خباب ؓ بیمار تھے تو ہم لوگ ان کی عیادت کرنے گئے ان کے پاس ایک کھلے ہوئے صندوق میں ۸۰ہزار دراہم  موجودتھے،آپ نے ان دراہم سے اپنی لاتعلقی اور عدم محبت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے ساتھیوں نے دین کو زندہ کرنےکےلئےخوب محنت کی اور انہیں دنیا نہیں ملی، ان کے بعد ہم یہاں رہ گئے اور ہمیں خوب دولت ملی جو ساری مٹی گارہ(تعمیرات) میں لگا دی۔ (حیاۃ الصحابۃ ۲/۳۴۹ بحوالہ ابونعیم فی الحلیۃ ۱/۱۴۵)

حضرت سلمانؓ فارسی کا نظریہ

حضرت مالک بن انسؒ کہتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسیؓ کسی درخت کے سائے میں بیٹھا کرتے تھے (اور مسلمانوں کے اجتماعی کاموں کوانجام دیا کرتے تھے ) سایہ گھوم کر جدھر جاتا خود بھی ادھر کھسک جاتے، اس کام کے لئے ان کا کوئی گھر نہ تھا، ان سے ایک آدمی نےکہاکیا میں آپ کو ایک کمرہ نہ بنا دوں ؟ کہ گرمیوں میں اس کے سایہ میں رہا کریں اور سردیوں میں اس میں رہ کر سردی سےبچاؤکرلیاکریں ؟حضرت سلمان فارسیؓ نے اس سےفرمایا کہ ہاں بنا دو ! جب وہ آدمی پشت پھیر کر چل پڑا تو حضرت سلمان ؓ نےاسےزورسے آواز دے کر کہا کہ کیسا کمرہ بناؤ گے ؟اس آدمی نے کہا ایسا کمرہ بناؤں گا کہ اگر آپ اس میں کھڑے ہوں تو آپکاسرچھت کولگےاور اگر آپ اس میں لیٹیں تو آپ کے پاؤں دیوار کو لگیں حضرت سلمان ؓ نے کہا پھر ٹھیک ہے۔ (حیاۃ الصحابۃ ۲/۳۸۴بحوالہ ابو نعیم فی
الحلیۃ
۱/۲۰۲)

حضرت ابن عمرؓ کا معمول

حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ: جب سے حضورﷺ کا انتقال ہوا میں نے نہ اینٹ پر اینٹ رکھی ( کوئی تعمیر نہیں کی) اور نہ ہی کھجور کا کوئی پودا لگایا ہے۔ (حیاۃ الصحابۃ ۲/۳۹۱بحوالہ ابو نعیم فی الحلیۃ ۱/۳۰۳)

حضرت ابوالدرداءؓ کو حضرت عمرؓ کی تنبیہ

حضرت سلمہ بن کلثومؒ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء ؓ نے دمشق میں ایک اونچی عمارت بنائی، حضرت عمر بن خطاب ؓ کو مدینہ منورہ میں اس کی  اطلاع ملی تو حضرت ابوالدرداء یہ کوخط لکھاکہ ’’اے عویمر بن ام عویمر!کیا تمہیں روم و فارس کی عمارتیں کافی نہیں ہیں کہ تم اور نئی عمارتیں بنانے لگ گئے ہو؟حضرت محمدﷺکے صحابہ ؓ (ہر کام سوچ سمجھ کر کیا کرو کیونکہ)تم دوسروں کے لئے نمونہ ہو(لوگ تمہیں جیساکرتےہوئے دیکھیں گے ویسا ہی کرنے لگیں گے )۔ (حیاۃ الصحابۃ ۲/۳۹۵بحوالہ ابن عساکر)

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: