حضرت اُمِ سَلمَہ بنت امیہ ؓ :02

حبشہ کی طرف پہلی ہجرت

 ابتدائی تین سال تک نبیِ کریم نے در پردہ تبلیغ فرمائی۔ لیکن جب آپ نے اللہ عزوجل کے حکم سے اعلانیہ دعوتِ دین کاکام شروع کیا تو یہ کفار و مشرکین کو بہت گراں گذرا اور انھوں نے مسلمانوں کو طرح طرح سے ستانا اور تکلیف دینا شروع کر دیا۔
 یوں تو حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ اور حضرت ابو سَلمَہ ؓ کا تعلق عرب کے مشہور و معروف اور بڑے قبیلے سے تھا۔ ان کے والدین کامقام
پورے عرب میں بڑا اونچا تھا۔ لیکن جب انھوں نے اسلام قبول کر لیا تو ان کے رشتے داروں نے ان سے تعلقات توڑ لیے اور انھیں طرح طرح سے اذیت پہنچانے لگے۔ ان پر ایسی ایسی سختیاں کی گئیں کہ جن کے تصور سے دل گھبرا اٹھتا ہے۔ تاریخ و سیرت کی کتابوں
میں ایسے واقعات لکھے ہوئے ہیں۔ جیسے جیسے اسلام کے ان متوالوں پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑے جاتے ویسے ویسے ان کی اسلام سے محبت اور ثابت قدمی میں اضافہ ہوتا جاتا۔ نبیِ کریم
کے ان جاں نثاروں نے ہر ظلم و ستم کو ہنس ہنس کر برداشت کیا۔
 اعلانِ نبوت کے پانچویں سال رجب المرجب کا مہینہ تھا۔ جب کہ کفار و مشرکین کے ظلم و ستم عروج پا چکے تھے۔ آخر کار نبیِ کریم نے اس بات کی اجازت عطا فرما دی کہ جو مکۂ مکرمہ چھوڑ کر جا نا چاہے حبشہ چلا جائے کیوں کہ وہاں کا بادشاہ نجاشی بڑا انصاف پسند اور کشادہ قلب ہے۔ لہٰذا گیارہ مردوں اور چار عورتوں پر مشتمل چھوٹا سا قافلہ اپنے وطن مکۂ مکرمہ کو الوداع کہتے ہوئے حبشہ کی طرف روانہ ہوا۔ اس قافلے کے امیر حضرت عثمان بن مظعون ؓ تھے۔ اسلام کی اِس سب سے پہلی ہجرت میں حضرت ابوسَلمَہ بن عبدالاسد ؓ اور ان کی بیوی حضرت اُمِ سَلمَہ بنت ابو امیہ ؓ بھی شامل تھیں۔
 جب مشرکینِ مکہ کو اس بات کا علم ہوا تو انھیں ڈر لگنے لگا کہ کہیں حبشہ کے ساتھ ان کے تجارتی تعلقات متاثر نہ ہو جائیں۔ان کا یہ خیال تھا کہ حبشہ کی طرف ہجرت کر کے جانے والے مسلمانوں کی باتوں میں آ کر بادشاہِ حبشہ نجاشی ان سے تعلقات نہ توڑ لے۔
اس لیے انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس اپنا ایک آدمی بھیجیں۔
 چناں چہ انھوں نے کچھ سامان وغیرہ جمع کیا جو بہ طور ہدیہ بادشاہ کی خدمت میں پیش کیا جانا تھا۔ پھر انھوں نے وہ تمام مال و اسباب دےکر عبداللہ بن ربیعہ المخزومی اور عمر و بن العاص( یہ دونوں اُس وقت تک اسلام نہ لائے تھے ) کو حبشہ کی طرف روانہ کیا۔انھوں نے جا کر بادشاہ کی خدمت میں وہ تحفے تحائف پیش کیے اور بتایا کہ ہم قریش کے سفیر ہیں۔ ہم آپ سےدرخواست کرتے ہیں کہ آپ کے پاس ہمارے خاندان کے کچھ لوگ آئے ہیں اور ا نھوں نے آپ کی پناہ لے رکھی ہے۔ انھوں نےاپنے باپ دادا کا دین چھوڑ کر نیا دین (اسلام) قبول کر رکھا ہے۔ آپ مہربانی کر کے انھیں ہمارے حوالے کر دیں۔بادشاہ دراصل خدا ترس اور نیک فطرت تھا وہ فوراً معاملہ بھانپ گیا اور صاف انکار کر دیا۔
 مشرکینِ مکہ کا وفد ناکام و نامراد لوٹا۔ حبشہ میں مسلمان سکون و اطمینان کی زندگی گزارنے لگے۔ اسی دوران حضرت ہند بنت عاتکہ( اُمِ سلمہ) ؓ اور عبداللہ بن عبدالاسد( ابوسلمہ) ؓ کو اللہ تعالیٰ نے ایک بچہ عطا فرمایا جس کا نام ’’سلمہ‘‘رکھا گیا۔ یہ بچہ ان دونوں میاں بیوی کو اتنا پیارا تھا کہ اسی کے نام سے یہ دونوں تاریخ کے اوراق میں ’’ابو سلمہ‘‘ اور ’’ام سلمہ‘‘ کی کنیت سےمشہور ہوئے اور ان کا اصل نام پس پشت چلا گیا۔
حبشہ میں مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ جل شانہٗ کے احکام پر عمل پیرا ہونے کی مکمل آزادی تھی۔
ایک روز انھیں کہیں سے یہ خبر ملی کہ کفار و مشرکین نے نبیِ کریم
سے صلح کر لی ہے اور وہ سب مسلمان ہو گئے ہیں۔ اس خبر کو سننے کے بعد
مہاجرین میں یہ تڑپ اور ولولہ پیدا ہوا کہ وہ جلد سے جلد نبیِ کریم
کی بارگاہ میں مکۂ مکرمہ حاضر ہو کر اپنے محبوب آقا کی زیارت کرسکیں۔
 سب لوگ واپسی کی تیاری کرنے لگے کہ بنو کنانہ کا ایک شخص وہاں پہنچا اور اس نے بتایا کہ تم لوگوں تک جو خبر پہنچی ہے وہ جھوٹ ہے مکہ کے کفار و مشرکین اب بھی اپنی پرانی روش پر سختی سے قائم ہیں۔
 یہ بتانے کے بعد بنو کنانہ کا وہ شخص چلا گیا تو مہاجرین سوچ میں پڑ گئے کہ آخر سچائی کیا ہے ؟ چناں چہ انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہمیں نبیِ کریم کی بارگاہ میں حاضر ہونا چاہیے۔ جب یہ فیصلہ ہو گیا تو مکۂ مکرمہ پہنچنے والا ہر شخص کسی نہ کسی قریشی سردار کی پناہ لے کر اپنے آبائی وطن میں داخل ہوا۔
حضرت ابو سَلمَہ
ؓ کو ان کے ماموں ابوطالب نے پناہ دی لہٰذا وہ اپنی بیوی حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ کے ساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے مکۂ مکرمہ پہنچ کر نبیِ کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
 قبیلۂ بنو مخزوم کو جب اس بات کی خبر پہنچی کہ ابو طالب نے حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ اور ان کے شوہر حضرت ابو سَلمَہ ؓ کو اپنی پناہ میں لےلیاہےتوانھیں بہت غصہ آیا۔ چناں چہ بنو مخزوم کے لوگ جمع ہو کر ابو طالب کے پاس گئے اور کہا:’’ ہمارے آدمیوں سے آپ کا کیا واسطہ؟‘‘
 ’’کون سے آدمی؟‘‘ ابو طالب نے پوچھا۔
 ’’ابو سلمہ(ؓ ) اور اس کی بیوی اُمِ سلمہ(ؓ )۔‘‘ بنو مخزوم کے لوگوں نے کہا۔
 اس پر ابو طالب نے کہا:’’ ابو سلمہ(ؓ ) میرا بھانجا ہے ، جب مَیں اپنے بھتیجے مُحمَد () کو پناہ دے سکتا ہوں تو اسے کیوں نہیں دےسکتا؟‘‘
 اس موقع پر ابو طالب اور بنو مخزوم میں زبردست بحث و تکرار شروع ہو گئی قریب تھا کہ جھگڑا ہوسکتا تھا۔ ابولہب جیسے کٹر دشمنِ اسلام کے دل میں اچانک صلۂ رحمی کا جذبہ جاگ اٹھا،اور وہ درمیان میں بول پڑا:’’ اے بنی مخزوم ! تم نے ابو طالب کے ساتھ بہت کچھ بحث و تکرار کر لی اور تم اس پر برابر دباؤ ڈال رہے ہو۔ اگر تم نے ان کو تنگ کرنا بند نہ کیا تو مَیں بھی ان کی حمایت میں کھڑا ہو جاؤں گا۔‘‘
 قبیلۂ بنو مخزوم کے لوگوں نے جب ابو لہب کے یہ سخت تیور دیکھے تو گھبرا گئے اور یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلے گئے کہ :’’ اے ابو عتبہ! ہم تم کو ناراض نہیں کرناچاہتے۔ ‘‘

حبشہ کی طرف دوسری ہجرت

جزیرۃ العرب میں اسلام بڑی تیزی سے پھیل رہا تھا۔ اس کے ماننے والوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہی ہوتا جا رہا تھا۔ کفار و مشرکین نے جب یہ دیکھاتوان کی دشمنی اور تعصب حد سے بڑھنے لگا۔ انھوں نے مسلمانوں پراپنے ظلم و ستم کی انتہا کر دی۔ جب نبیِ کریم نے دیکھا کہ مسلمانوں پر مکۂ مکرمہ میں چین و سکون سے رہنا دوبھر ہوتا جارہا ہے تو آپ نے دوبارہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت عطا فرما دی۔ یہ اعلانِ نبوت کےچھٹےسال کے شروعات کی بات ہے۔ کفار و مشرکین کو جب اس بات کی خبر ملی تو انھوں نے بہت کوشش کی کہ مسلمان مکۂ مکرمہ سے کسی بھی صورت ہجرت نہ کرسکیں۔ انھوں نے مکہ سے نکلنے والے تمام راستوں پر سخت پہرے بٹھا دیے لیکن ان سب کے باوجود 83مرد اور 20عورتیں مکہ سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور حبشہ پہنچ کر سکون و اطمینان کی زندگی بسر کرنے لگے۔ جہاں انھیں ہر قسم کی آزادی حاصل تھی۔
حبشہ کی طرف ہونے والی اس دوسری ہجرت میں بھی حضرت ابو سَلمَہ ؓ اور ان کی بیوی حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ شامل تھیں جنھوں نے اسلام کےلیےدوبارہ اپنا آبائی وطن چھوڑا۔
 حبشہ کی طرف ہونے والی اس دوسری ہجرت نے پہلی ہجرت کی بہ نسبت مکہ کے لوگوں پر بڑے گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اسلام کے کٹر دشمنوں کے بیٹے بیٹیوں نے اسلام قبول کر لیا تھا اور انھیں ہی وہ لوگ طرح طرح کی اذیتیں دے رہے تھے۔ وہی مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کرگئے تھے۔ یہ ایسے تھے کہ ان کی جدائی انھیں برداشت نہ ہوسکی۔
مکہ کے مشرکین پریشان ہو اٹھے کہ آخراسلام میں ایسی کون سی بات ہے کہ مسلمان ہو جانے کے بعد وہ اپنے ماں باپ، بہن بھائی، مال و دولت اور وطن تک کو چھوڑ دیتے ہیں لیکن اسلام نہیں چھوڑتے ؟
 جب ان کفار و مشرکین نے دیکھا کہ ان کی کوئی چال کامیاب نہیں ہو رہی ہے تو انھوں نے دوبارہ بادشاہ حبشہ نجاشی کی طرف عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ربیعہ کو تحفے تحائف دے کر روانہ کیا۔تاکہ وہ نجاشی کو کسی نہ کسی طرح اس بات کے لیے آمادہ کریں کہ وہ مہاجرین کو واپس کر دے۔
 کفارِ قریش کا یہ وفد شاہِ حبشہ کے دربار میں پہنچا اور مسلمانوں کے خلاف ایسی باتیں کیں جو مسلمانوں میں پائی نہیں جاتی تھیں یہ باتیں سن کر بادشاہ نے سخت غصے میں کہا:’’ جن لوگوں نے اپنا ملک چھوڑ کر میرے ملک اور مجھ پر بھروسہ کیا ہے۔ مَیں ان کے ساتھ بے وفائی نہیں کرسکتا۔ تم لوگ کل آنا اس معاملےمیں فیصلہ کر دیا جائے گا۔‘‘
 دوسرے دن بادشاہِ نجاشی نے تمام مسلمانوں کو دربار میں بلایا۔ وہاں کفارِ قریش کے سفیر عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ربیعہ بھی موجود تھے۔ حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ فرماتی ہیں کہ بادشاہ نے مسلمانوں سے کہا: ’’ یہ تم نے کیا کر دیا کہ اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا اور میرے دین کو بھی قبول نہ کیا اور نہ ہی دنیا کے کسی دین کو اختیار کیا۔ آخر تمہارا دین کیا ہے ؟‘‘
 بادشاہِ حبشہ نجاشی کی یہ بات سن کر حضرت جعفر طیار ؓ نے فوراً جواب دیا: ’’ اے بادشاہ! ہم ہر طرح کی برائیوں میں جکڑے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نےہم میں ایک رسول بھیجا جس کے نسب،سچائی، امانت داری اور پاک دامنی کے ہم گواہ تھے ، اس نے ہمیں ایک معبود اللہ کی طرف بلایا اور ہم نے اس کی بات مان لی کہ جس کی پوری زندگی پاک دامنی کا نمونہ ہو اور جس نے کبھی جھوٹ نہ بولا ہو اس نے ہمیں برائیوں، غلط کاموں اور بت پرستی سے روکا۔ نیکیوں کی نصیحت کی اور سیدھا راستا دکھایا تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ ‘‘
 اِس پر بادشاہ نے کہا :’’ تمہارے نبی پر جو کلام اترا ہے اس میں سے کچھ سناؤ۔‘‘
 حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ فرماتی ہیں کہ :’’ حضرت جعفر طیار ؓ نے سورۂ مریم کی آیتیں پڑھ کر سنائیں جس سے بادشاہ بے حد متاثر ہوا۔ ‘‘
عمر و بن العاص کا رویہ بڑا سخت تھا لیکن عبداللہ بن ربیعہ کا رویہ ہمارے معاملے میں کچھ نرم تھا۔ عمرو بن العاص نے بادشاہ سے کہا:’’اے بادشاہ ! ذرا مکہ کےان مہاجرین سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں پوچھیں۔ یہ اُن کو اللہ کا بندہ قرار دیتےہیں۔‘‘
 بادشاہ نے جب دریافت کیا تو حضرت جعفر طیار ؓ نے کہا :’’ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی طرف سے ایک کلمہ اور روح ہیں جسے اللہ نے کنواری مریم پر القا فرمایا تھا۔‘‘
 یہ جواب سن کر نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا: ’’ اللہ کی قسم! جو تم نے کہا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس سے ایک تنکے کے برابر بھی زیادہ نہیں۔‘‘
 اس کے بعد بادشاہِ حبشہ نجاشی نے حکم دیا کہ:’’ مکہ کے سفیروں کے تحفے واپس کر دئیے جائیں، مجھے ان کی ضرورت نہیں۔ ‘‘
 اس بار بھی مکہ کے کفار و مشرکین کو منہ کی کھانی پڑی اور اُن کے سفیروں کو ناکام و نامراد واپس لوٹنا پڑا۔ حبشہ میں مسلمانوں نے اپنے اعلیٰ ترین اَخلاق وکرداراور نیک عادات و اَطوار کا ایسا نقش وہاں کے لوگوں پر چھوڑا کہ حبشہ کی عوام اور حکومت کے کارندے اسلام میں ایک خاص قسم کی کشش رکھنےلگے۔ لہٰذا حبشہ کے عیسائیوں کا ایکوفد جو تیس افراد پر مشتمل تھا مکۂ مکرمہ آیا۔
 نبیِ مکرم سے اس وفد کے لوگوں نے ملاقات کی۔آپ سے سوالات کیے نبیِ کریم نے جن کے تشفی بخش جوابات عنایت فرمائے۔ جب رحمۃ للعالمین نے قرآنِ پاک کی چند آیات انھیں سنائیں تو وہ رونے لگے اور آپ کی نبوت و رسالت کی تصدیق کی۔

مدینۂ منورہ کی طرف ہجرت

 مکۂ مکرمہ کے کفار و مشرکین کے دلوں میں اسلام کی روز بروز بڑھتی ہوئی مقبولیت سے تعصب و عناد کا لاوا پک رہا تھا۔ وہ مسلمانوں کو طرح طرح پریشان کرتے ، اذیتیں دیتے ، ظلم و ستم ڈھاتے اور ستاتے۔ کفار و مشرکین کی ان حرکات کے باوجود اسلام کا نور وادیِ مکہ سے نکل کر اطراف و جوانب کے لوگوں کے دلوں کو بھی چمکا نے لگا۔ مکۂ مکرمہ کے قریب قبیلۂ دوس کی بستی تھی جہاں ایک ناقابل تسخیر اور مضبوط قلعہ واقع تھا وہاں کے سردار طفیل بن عمرو نے نبیِ کریم سے یہ خواہش ظاہر کی کہ آپ ہجرت فرما کر یہاں آ جائیں لیکن نبیِ کریم نے انکار فرما دیا اور اس سلسلہ میں اللہ رب العزت کے حکم کا انتظار فرمانے لگے۔
 آخر کار اعلانِ نبوت کا تیرہواں سال تھا کہ نبیِ کریم نے اپنے نام لیواؤں کو مدینۂ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ چناں چہ مسلمانوں نےمدینے کی طرف ہجرت شروع کی۔ سب سے پہلے حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ کے شوہر حضرت ابو سَلمَہ بن عبدالاسد ؓ اور حضرت عامر بن ربیعہؓہجرت کے سفر پر روانہ ہوئے۔
 حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ اور ان کے شوہر حضرت ابو سَلمَہ ؓ کا مدینۂ منورہ کی طرف ہجرت کا واقعہ بڑا دردناک ہے۔ خود حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ فرماتی ہیں کہ:’’ جب حضرت ابو سَلمَہ ؓ نے مدینۂ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ فرمایا تو اونٹ پر کجاوہ کس کر مجھے اور سَلمَہ ؓ کو اونٹ پر بٹھا دیا اور اس کی نکیل پکڑ کر آگے آگے چلتے رہے جب میرے میکے والوں یعنی قبیلہ بنو مغیرہ کو ہمارے روانہ ہونے کی خبر ہوئی تو انھوں نے حضرت ابو سَلمَہ ؓ سےکہا کہ تم اپنے بارے میں خود مختار ہو سکتے ہو مگر ہم اپنی بیٹی کو تمہارے ساتھ ہرگز نہیں جانے دیں گے۔ ‘‘
 حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ فرماتی ہیں کہ :’’یہ سُن کر حضرت ابو سَلمَہ ؓ نے کہا کہ : ’’ام سَلمَہ میری بیوی ہے مَیں اسے لے کر جہاں چاہوں جا سکتا ہوں۔‘‘
 اس پر قبیلے والوں نے کہا کہ :’’یہ ہمارا فیصلہ ہے کہ اُمِ سَلمَہ (ؓ )تمہارے ساتھ ہرگز ہرگز نہیں جائے گی۔‘‘ یہ کہہ کر حضرت ابو سَلمَہ ؓ کے ہاتھوں سے اونٹ کی نکیل چھین لی اور حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔
حضرت ابو سَلمَہ ؓ نے جاتے جاتے اپنی بیوی حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ سے فرمایا کہ :’’ اُمِ سَلمَہ ! اسلام پر سختی سے ڈٹے رہنا۔‘‘ پھر چندنصیحتیں کیں۔
 اپنے شوہر کی باتیں سن کر حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ نے کہا کہ:’’ آپ مطمئن رہیے جان قربان کر دوں گی مگر اسلام کو مَیں کسی حال میں نہیں چھوڑوں گی۔ ‘‘
 حضرت ابو سَلمَہ ؓ مدینۂ منورہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ اسی دوران حضرت ابو سَلمَہ ؓ کے خاندان والے بھی اس جگہ پہنچ گئے۔ جب انھیں پوراماجرامعلوم ہوا تو وہ حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ کے خاندان والوں سے کہنے لگے کہ :’’ جب تم نے اپنی بیٹی کو ہمارے آدمی سے چھین لیا تو اب ہم اپنے بچّے سَلمَہ کو کیوں اُس کے پاس رہنے دیں۔‘‘
 چناں چہ انھوں نے آگے بڑھ کر حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ سے بچے کو بھی چھین لیا۔ بچّے کو زبردستی چھیننے میں اس کا ہاتھ اتر گیا اور وہ تیز تیز رونےلگا۔ لیکن ان ظالموں کو اس کا کوئی احساس نہ تھا کہ بچّے اور ماں پر گیا گذر رہی ہے۔ مختصر یہ کہ حضرت ابو سَلمَہ ؓ کے خاندان والے سَلمَہ کو چھین کرلےگئےاورحضرت اُمِ سَلمَہ ؓ کو اُن کے خاندان والے لے گئے اور شوہر مدینے کی طرف ہجرت کر گئے۔ آپ ؓ سے بیک وقت شوہراوربچّےکوچھین لیا گیا لیکن کیا مجال تھی کہ اسلام کی اس مقدس خاتون کے ایمان میں ذرّہ بھر بھی کمزوری آئی ہو۔
صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انھوں نے ایک مثال قائم کر دی۔ اصل میں انھیں اللہ رب العزت پر پورا بھروسہ تھا کہ وہ ان قربانیوں کو ضائع نہیں کرے گا بلکہ بہتر صلہ عطا فرمائے گا۔ حضرت اُمِ سَلمَہ
ؓ سے ظالموں نے اُن کی ساری کائنات چھین لی تھی۔ ان کے دل پر گہرے زخم لگائےتھے۔انھیں اپنے شوہر اور بچے کی جدائی کا غم ستاتا۔
وہ فرماتی ہیں کہ : ’’ مجھے اس بات کا اس قدر شدید صدمہ پہنچا کہ مَیں روزانہ آبادی سے باہر جاتی اور شام تک اس مقام پر بیٹھ کر روتی جہاں مَیں نےاپنےشوہرکومدینے کی طرف رخصت ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔ اسی طرح ایک سال کا عرصہ گذر گیا نہ شوہرکے پاس جا سکی نہ بچّہ ہی مل سکا۔ ایک روزمیرے ایک چچا زاد بھائی نے میری حالت دیکھ کر خاندان والوں سے کہا کہ تم اس بے کس پر رحم کیوں نہیں کرتے ؟ اسے کیوں نہیں چھوڑ دیتے اور اس کو بچّے اور شوہر سے دور کیوں رکھا ہے ؟ ‘‘
 حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ فرماتی ہیں کہ :’’ بنی مغیرہ نے اپنے اُس آدمی کی سفارش پر مجھے اپنے شوہر (حضرت ابو سَلمَہ ؓ ) کے پاس جانے کی اجازت دے دی۔ جب اس بات کی خبر بچّہ کی دادھیال والوں کو لگی تو انھوں نے بچّہ بھی مجھے دے دیا۔ ‘‘
 حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ کو جب ان کا بچہ مل گیا تو انھوں نے تنِ تنہا مدینے کی طرف روانہ ہونے کا ارادہ کیا اور ایک اونٹ تیار کر کے بچّے کو ساتھ لیا اور اکیلےسوار ہو کر مدینۂ منورہ کے لیے نکل پڑیں۔ کوئی مرد ساتھ نہ تھا۔ تین چار میل چلی ہوں گی کہ بنی عبدالدار کے ایک شخص جن کے پاس خانۂ کعبہ کی چابی رہا کرتی تھی ’’عثمان بن طلحہ‘‘ سے ملاقات ہوئی۔ جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ لیکن نہایت رحم دل اور نیک تھے۔
 حضرت اُمِ سَلمَہ ؓ فرماتی ہیں کہ:’’ عثمان بن طلحہ نے مجھ سے پوچھا کہاں جاتی ہو؟‘‘مَیں نے کہا:’’ اپنے شوہر کے پاس مدینۂ منورہ جا رہی ہوں۔‘‘ انھوں
نے دوبارہ سوال کیا : ’’کوئی ساتھ بھی ہے ؟‘‘مَیں نے کہا :’’ اللہ تعالیٰ  ہے اوریہ بچّہ ہے۔ ‘‘
 یہ سُن کر عثمان بن طلحہ نے میرے اونٹ کی نکیل پکڑ لی اور آگے آگے چلنے لگے۔ خدا کی قسم! مَیں نے عثمان جیسا شریف آدمی نہیں دیکھا۔ جب منزل پراترنا ہوتا تو وہ اونٹ بٹھا کر کسی درخت کی آڑ میں کھڑے ہو جاتے اور پھر اونٹ کو باندھ کر مجھ سے دور کسی درخت کے نیچے لیٹ جاتے اور جب کوچ کرنےکاوقت ہوتا تو اونٹ پر کجاوہ کس کر میرے پاس لا کر بٹھا دیتے اور خود وہاں سے ہٹ جاتے۔ جب مَیں سوار ہو جاتی تو اس کی نکیل پکڑکرآگےآگےچل دیتے۔ اسی طرح وہ مجھے مدینۂ منورہ تک لے گئے جب ان کی نظر بنی عمرو بن عوف کی آبادی پر پڑی جو قبا میں تھی تو انھوں نے کہا کہ جاؤ تمہارا شوہر یہیں ہے۔ اس کے بعد وہ سلام کر کے رخصت ہو گئے۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: