عظیم الشان،بلند و بالا عمارتیں:قیامت کی علامتیں، از:مُفتِی نَاصِر الدین مَظاہری:06

مسجد ضرار

مسجد ضرار وہ مسجد ہے جو مسجد قبا کے مقابلہ میں بنائی گئی تھی بانی منافق اوردشمن رسول تھے جن کا مقصد مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنا اور سازش کا جال بچھانا تھا، مسجد کی شکل میں یہ خفیہ کارروائی کرنے کے لئے  منافقوں نے ایک گھر بنایا تھا جس کی اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو اطلاع دی تو آپ نے اس مسجد کو جلا کر خاکستر بنا دیا۔۔۔۔غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ مسجد ضرار میں چار چیزیں تھیں جن کی وجہ سے یہ مسجدیت سے نکل گئی۔
(۱)                   منافقین نے اپنی اغراض فاسدہ کی تکمیل کا ذریعہ اور مسلمانوں کی ضرر رسانی کا حیلہ بنایا تھا جس کو لفظ ضرار بتلا رہا ہے۔
(۲)                  اس کی آڑ میں کفر کی تقویت مقصود تھی اور اسلام کا ضعف و اضمحلال جیسا کہ لفظ کفر سے ظاہر ہے۔
(۳)                  مسلمانوں کی باہمی اخوت و محبت اور ان کی یکجائی پامال کر کے تفرقہ، اختلاف اور عداوت پیدا کرنا ان کی خواہش تھی جس پر لفظ تَفْرِیْقًا بَیْنَ الْمُوْمِنِیْنَ شاہد ہے۔
(۴)                  منافقین اس مسجد ضرار کو دشمن خدا و رسول کی روپوشی اور گھات کے لئے  تیار کیا  تھا جس کا نام مفسرین نے ابو عامر خزاعی نصرانی بتایا ہے اسی کی طرف اشارہ ہے لِمَنْ حَارَبَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ۔
مذکورہ بالا تنقیح کے بعد حضرت مفتی ظفیر الدین مدظلہ لکھتے ہیں’’یہ بات ہر شخص کی سمجھ میں آنے کی ہے کہ: مسلمان جوبھی مسجد بناتا ہے اس کا مقصدا ن میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اس لئے وہ ظاہری احکام مسجد ہے گو عند اللہ مقبول نہ ہو،مسجدیت اور مقبولیت میں تلازم نہیں، نہ ایک جانب سے نہ دونوں جانب سے باقی اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ: ہرمسلمان کو ایسی بات سے پرہیز لازم ہے جس سے اس کو ثواب سے محرومی ہو اور ہمہ دم اس کو حبط عمل سےڈرتےرہناچاہیے
اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ۔

بانی کے نام کا کتبہ

بعض لوگ جو بدعت کا شکار ہو کر مسجد پر اپنا نام کندہ کراتے ہیں یا بانی اپنے نام کا کتبہ لگاتے ہیں یہ بھی ریا ہے اور بقول ابن جوزی اخلاص سے محروم ہیں ۔ہمارے  دور میں تعلّی، ترفع اور آن و شان کی جو رسم بد جاری ہو گئی ہے اور اخلاص کی جس طرح مٹی پلید ہو رہی ہے وہ قابل افسوس ہے۔ملا جیونؒ نے سچ فرمایا ہے کہ:
’’ہمارے زمانہ کے  وہ متعصب مشائخ اوربھی قابل تعجب ہیں جو ہر گلی کوچہ میں مسجد اس لئے بناتے پھرتے ہیں کہا نام ونمودحاصل ہو اور شان و شوکت نمایاں رہے یہ محض باپ دادا کی غلط پیروی کا نتیجہ ہے، ان کومسجد ضرار کے واقعہ میں غور کرنا چاہئے اور انجام سے ڈرنا چاہئے۔(اسلام نظام مساجد ص ۱۶۴، تفسیر احمدی ص۳۸۴)
سلف صالحین ایسی مسجدوں میں نماز پڑھنا پسند نہیں فرماتے تھے کہ جن میں مسجد ضرار کی ذرہ برابر بھی بو آ جاتی تھی،اسی وجہ سے وہ نماز پڑھنے میں پرانی اور قدیم مسجدوں کو ترجیح دیتے تھے، مختلف علماء نے ان امور کی طرف جگہ جگہ اشارہ کیاہے، عموماً اس طرح کی مسجدیں شہرت و عزت اور ریاکاری کے لئے بنائی جاتی ہیں اور جو مسجدیں ان اغراض فاسدہ کےلئے  وجود میں آئی ہوں وہ بلا شبہ مسجد ضرار کی شکل میں ظاہر ی طور پر بھی آ جاتی ہیں، جس سے اجتناب ضروری ہے۔(اسلام کا نظام مساجد)

زندگی گزارنے کے لئے  ضروری چیزیں

حضرت ابو سلیمان ؓ فرماتے ہیں کہ: حضورﷺ کا ارشاد ہے:
اگر اللہ پر ہم ایسا توکل کرتے جیسا کرنا چاہئے تو پھر ہم دو اینٹوں پر مشتمل دیوار بھی نہ بناتے اور نہ دروازوں میں تالےڈالتے۔(توکل و اعتماد ص۳۲)
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ:
مرعلینا رسول اللّٰہ ونحن نعالج خصاً لنا فقال ما ہذہ فقلنا قدوہی فنحن نصلحہ فقال ما اری الامرالا أعجل من ذلک۔
ہم لوگ اپنے مٹی کے گھر میں مرمت کر رہے تھے، اتنے میں آپﷺ  کا ادھر گزر ہوا، دریافت فرمایا یہ کیاکررہےہو؟ہم لوگوں نے عرض کیا کہ حضور!یہ کمزور ہو گیا ہے (اس کے گرنے کا اندیشہ ہے)ہم اسے ٹھیک کررہےہیں،آپ ﷺنے فرمایا: میں ایک خاص امر کو اس سے بھی جلد آتے دیکھ رہا ہوں۔
(ترمذی ابواب الزہد)
رسول خدا نے گھر، کپڑا اور روٹی کو زندگی گزارنے کے لئے کافی بتلایا ہے اور ظاہر ہے کہ: ایک مسافر اپنے ساتھ رختِ سفر میں خیمہ، بقدرِ ضرورت کپڑے اور کھانے پینے کے سامان کے سوا رکھتا ہی کیا ہے ؟۔
حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی نے ’’الغفاری’‘ میں حضرت ابوذر غفار یؓ کی زاہدانہ زندگی کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے :
’’آنحضرتﷺ نے راہبانہ صحرا نوردیوں سے روکا بھی تھا اور اس دنیا کو ایک گذر گاہ اور راستہ سے تشبیہ دےکراپنےآپ کو ایک مسافر کی مانند بتایا ہے جو کسی چھاؤں کےنیچے تھوڑی دیر آرام کرنے کے لئے کھڑاہوگیاہو،حضرت ابوذرؓ نے ان دونوں ارشادوں پر عملی تطبیق اس طرح دی تھی کہ آپ جب تک مدینہ منور ہ میں رہے زیادہ تر اِدھر
اُدھر پڑے رہتے، کبھی مسجد میں، کبھی صفہ میں سو جاتے اور اس کے بعد آپ جہاں کہیں رہے کمبل کے خیمہ میں رہے،شام کے غدار شہر دمشق میں بھی جب تک آپ رہے، صوف کے جھونپڑے میں ہی رہے، اپنے بال بچوں کے ساتھ اسی قسم کے خیموں میں اپنی زندگی گذار دی حتی کہ جس مکان میں آپ نے اپنی آخری سانس پوری کی اس وقت بھی دیکھنے والوں نے یہی دیکھا کہ صوف کے معمولی خیمہ میں حضرت ابوذرؓ کی لاش پڑی ہوئی تھی پس اگرچہ وہ پہاڑ کھوہ میں نہیں گئے لیکن شہروں کے وسط میں ہی آپ نے کھوہ بنا لیا تھا اور یوں:
 ایں طرفہ تماشا بیں لب تشنہ بآب اندر
کے خیالی تصور کی واقعی تصویر اپنی پوری زندگی سے کھینچ کر انہوں نے دکھا دی تھی ‘‘ ۔ (الغفاری ص ۳۱۔۱۳۰)           

  قوم عاد کی میراث

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ نے بقدرِ ضرورت مکان کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہےکہ:
’’مختصر مکان ضرورت کے لائق کافی ہے زیادہ اونچا مناسب نہیں حدیث میں ہے وبیت یتدخل فیہ کہ مکان ایسا ہو کہ جس میں بتکلف داخل ہو سکے، زیادہ اونچا کرنا مکان کو قوم عاد کی میراث ہے، قومِ عادشان کے لئے نئے نئے اونچے اونچےمکان بنایا کرتے تھے ‘‘ ( آگے فرماتے ہیں: )بلا ضرورت اونچا اور وسیع مکان بنانا فضول ہے بقدرِ ضرورت بنانا چاہیے ہاں اگر کسی شخص کو ضرورت زیادہ ہو کہ آدمی بھی ہوں اور جانور بھی، ان کی مقدار کے موافق وسعت کرنے میں مضائقہ نہیں ہے،غرض اللہ تعالیٰ نے نفس بنیان پر نکیر نہیں فرمائی، ہاں بنیان مذموم پر نکیر فرمائی ‘‘ ۔  (حقیقت مال وجاہ ص ۶۰۲)

بلند و بالا مینارے

دوسری جگہ مساجد کے تعمیرات کے سلسلہ میں بڑھتی ہوئی خرافات اور ان کو مزین و منقش کرنے کے بارے میں بیجاتاویلات پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا’’آج کل تعمیر مساجد میں اپنے کو شتر بے مہار سمجھتے ہیں کسی قسم کی حدود و قیودکی رعایت نہیں کرتے اور اس جواب کو کافی خیال کرتے ہیں کہ ہم اپنا گھر تو نہیں بناتےحالانکہ یہ جواب بالکل ناکافی ہےکیونکہ خدا کے گھر میں تو بدرجہ اولیٰ احتیاط کی ضرورت ہے، وہاں احتیاط نہ کرنا زیادہ رنج و ملال کی بات ہے چنانچہ مساجد میں گنبد کو ضروری خیال کرتے ہیں اور استر کاری تو درجۂ  فرائض میں سے ہے بلا اِ ن اُمور کے مسجد تو مسجدہی نہیں ہو سکتی، مینارہ کو اس قدر طویل کرتے ہیں کہ جس کا بیان نہیں اور مینارہ کے طوالت کی اکثر یہ وجہ بیان کرتے ہیں کہ دور سے نظر آوے کہ مسجد ہے مگر یہ وجہ بھی صحیح نہیں ہے بعض دفعہ آڑ ہوتی ہے تو طویل مینارہ بھی دورسےنظرنہیں آتا۔
علاوہ ازیں دور سے نظر آنا بھی ضروری نہیں ہے، مینارہ بنانے کی اصل وجہ توصرف یہ ہے کہ: مسجد دوسری عمارات سےمشتبہ نہ ہو مینارہ مسجد ہونے کی علامت ہے اور وہ علامت نفس مینارہ ہے نہ کہ مینارہ کا اس قدر طول طویل ہوناتوعلامت کے لئے  چھوٹے چھوٹے گز گز بھر کے مینارے کافی ہیں یا بجائے مینارہ کے اور کوئی علامت کر دی جائے۔
بعض لوگ طوالت مینارہ کی یہ وجہ بیان کرتے ہیں کہ اس میں شانِ اسلام ہے تو میں کہتا ہوں کہ اگر یہ بات ہے تو شان کے برابر تو لمبا ہونا چاہیے تھا پھرتو سب مساجد کے مینارے کم از کم قطب کی لاٹ کے برابر تو ہوتے اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ:
مسجد بننا تو دشوار ہی ہو جاتی ہے بس ایک مینارہ ہی پر عمریں تمام ہو جاتی ہیں جیسا کہ قطب کی لاٹ کی بابت مشہور ہےکہ: بادشاہ کا مسجد بنانے کا قصد تھا مگر اس وقت تک ایک مینارہ بنایا تھا کہ بادشاہ صاحب چل بسے دوسرا مینارہ نہ بنا اور نہ پوری مسجد بنی ورنہ معلوم نہیں کیا کیا تکلفات ہوتے، ہماری اِن رُسوم سے ہماری مساجد کی واقعی وہی حالت ہو رہی ہے کہ: مساجدھم عامرۃ وھی خراب
کہ ظاہر میں تو مساجد آباد ہیں مگر باطن میں خراب ہے ان میں روح نہیں فقط ظاہر ہی ظاہر ہے ‘‘ ۔ (حقیقت ماہ وجاہ )
حضرت عثمان ؓ سے روایت ہے کہ: آپﷺ نے فرمایا:
لیس لابن آدم حق فی سوی ہذہ الخصال بیت یسکنہ وثوب یواری عورتہ وجلف الخبز والماء
’’ان چیزوں کے علاوہ اور کسی چیز میں انسان کا کوئی حق نہیں، رہنے کے لئے  ایک گھر، بدن کوچھپانےکےلئےکپڑااوربغیرسالن کے روٹی و پانی۔ (ترمذی۲/ ۵۹)

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: