حج و عمرہ کے چند اصلاح طلب اُمور:02

بعض ایسے اعمال یا تصورات ہیں جو حج و عمرہ میں قرآن وسنت اور نبی ﷺکے علم و عمل کی روایت کی حیثیت سے ثابت
تو نہیں ہیں،لیکن اب بالعموم لوگ اُنہیں حج و عمرہ کی شریعت سمجھ کر یا اُس شریعت کی اصل روح سے ناواقفیت کی بناپردین کی حیثیت سے اختیار کرتے اور اُن کا اہتمام کرتے ہیں۔اگر غور کیا جائے تو ایسے اصلاح طلب اموربےشمارہیں،البتہ اُن میں سے چند شایع و ذایع غلطیوں کی طرف ہم یہاں اشارہ کیے دیتے ہیں:

تَلبیہ

٭ اجتماعی طور پر ایک آواز میں تلبیہ پکارنا بھی دینی اعتبارسے کوئی پسندیدہ عمل نہیں ہے۔آدمی چاہےتواسےاختیارکرسکتااور چاہے تو ترک بھی کرسکتا ہے۔لیکن یہ واضح رہے کہ یہ چیز بسا اوقات دوسروں کے لیے باعث اذیت بن جاتی اور اُن کے خشوع و خضوع کو مجروح کر دیتی ہے۔چنانچہ اس کا خیال رکھنا چاہیے۔
 ٭ تلبیہ کے بجائے بعض حجاج کا تکبیر و تہلیل پکارتے رہنا بھی قابل اصلاح ہے۔تلبیہ تو ہر صورت میں پکارا جائے گا۔ اِس لیے کہ یہی وہ واحد ذکر ہے جسے حج و عمرہ میں سنت کی حیثیت سے مشروع کیا گیا ہے۔اِس کے ساتھ ساتھ تکبیر وتہلیل بھی کی جا سکتی ہے۔ البتہ اسے چھوڑ کر اور اس کے بجائے دیگر اذکار کو اختیار کرنا، مشروع ذکر کو ترک کر دینے کی بنا پردرست نہیں ہے۔

مسجدِحرام میں داخلہ

٭حج و عمرہ کے موقع پرمسجدحرام میں کسی مخصوص دروازہ سے داخلہ کو بھی،جیساکہ بعض لوگ خیال کرتے ہیں،دین میں مشروع نہیں کیا گیا ہے۔آدمی جس دروازہ سے چاہے داخل ہوسکتا ہے۔
٭مسجد حرام میں داخل ہو کر بیت الحرام کو پہلی مرتبہ دیکھنے کے موقع پر مخصوص دعاؤں کی تعیین کرنا اور اُنہیں مشروع سمجھنا بھی درست نہیں ہے۔اِس طرح کی کوئی چیز نبی ﷺسے ثابت نہیں ہے۔چنانچہ اس کی اصلاح بھی کر لینی چاہیے۔

طواف

٭بعض لوگ طواف کے لیےغسل کرتے ہیں۔اس کی حیثیت بھی دین میں کسی مشروع عمل کی نہیں ہے۔یعنی جو شخص طواف کا ارادہ کر کے اُس کے لیے غسل کرتا ہے تواُس کے اِس عمل کو کوئی دینی حیثیت حاصل نہیں ہے۔بلکہ یہ ایک قابل اصلاح چیز ہے۔
٭ طواف کا آغاز کرتے ہوئے نیت کا زبانی اظہار کرنا بھی دین میں مشروع نہیں ہے۔حج و عمرہ سے متعلق کتابوں میں عام طور پر جو بتایا جاتا ہے کہ اس موقع پر آدمی
اللّٰهُمَّ اِنِّیْ أُ رِيْدُ الطَّوَافَ سَبْعَةَ أَشْوَاطٍ لِلْحَجِّ أَوْ لِلْعُمْرَةِ’وغیرہ
کے الفاظ سے طواف کی نیت کرے۔ اِس طرح کی کوئی چیز نبی ﷺکے علم و عمل سے ثابت نہیں ہے۔ اور عبادات میں جس چیز کو آپ کی نسبت حاصل نہیں،اُسے دین کی حیثیت سے،بالبداہت واضح ہے کہ قطعاً پیش نہیں کیا جا سکتا۔چنانچہ اِس کی اصلاح کر لینی چاہیے۔
٭ دورسے حجراسودکے ا ستلام کے لیے مطاف میں لگائے گئے نشان پر رُک کر قبلہ رو ہونے اور دونوں ہاتھوں سے اُس کی طرف اشارہ کر کے ہاتھوں کو چومنے کے لیے بھی دین میں کوئی ماخذ موجود نہیں ہے۔طواف کرتے ہوئے اس مقام پرٹھہرنا،قبلہ رخ ہونا،اشارہ کے لیے دونوں ہاتھوں کو اُٹھانا اور پھر انہیں چومنا،ان میں سے کوئی عمل بھی دین میں مشروع نہیں ہے۔صحیح طریقہ یہ ہے کہ طواف کر نے والا طواف کے دوران میں کسی مقام پر نہ ٹھہرے۔ حجر اسود کے محاذات پرپہنچے تب بھی چلتے ہوئے دائیں ہاتھ سے اُس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے گزر جائے۔عامۃالناس کے اس عمل کےلیےبھی حج و عمرہ کے مناسک میں کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔موجودہ زمانے میں مطاف میں یہ نشان اس عمل کے لیے نہیں،بلکہ طواف کرنے والوں کو محض اس بات کا اشارہ دینے کے لیے لگایا گیا ہے کہ وہ حجر اسود کے محاذات میں ہیں۔اور یہ اس لیے کہ بیت الحرام کے طواف کا ہر پھیرا حجر اسود کے محاذات ہی سے شروع ہوتا ہے۔
٭ بعض لوگ طواف کے ہر پھیرے میں حجر اسود کا بوسہ لینے پر اصرار کرتے ہیں۔ہر پھیرے میں اگربآسانی بوسہ لیاجاسکتا ہو اور اس کے نتیجے میں لوگوں کو کوئی اذیت اور تکلیف بھی نہ پہنچے تو اُس صورت میں کوئی حرج نہیں ہے کہ آدمی ہر پھیرے میں بوسہ لے لے۔تاہم ہجوم کے باعث اگر ہر پھیرے میں بوسہ لینا ممکن نہ ہو اور پھر بھی اس پراصرارکیا جائے تویہ ایک اصلاح طلب چیز ہے۔ اِس لیے کہ یہ رویہ لوگوں کے لیے شدید تکلیف ا ور اذیت کا باعث
بن جاتا ہے۔ایسی صورت میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی مطاف میں جس جگہ پر بھی ہو؛جب وہ حجر اسود کے محاذات میں پہنچے تواُس کی طرف دائیں ہاتھ سے اشارہ کرتا ہوا گزر جائے۔
 ٭ طواف کے دوران میں بلند آواز سے دعا و مناجات کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔اِس لیے کہ اِس کے نتیجے میں طواف کرنے والے دوسرے لوگوں کا خشوع و خضوع مجروح ہوتا اور اکثر لوگوں کے لیے یہ چیز باعث اذیت بھی بن جاتی ہے۔پھر دین کی رو سے یہ کوئی پسندیدہ عمل بھی نہیں ہے۔
٭ طواف کے ہر پھیرے کے لیے مخصوص دعاؤں کی تعیین کے لیے بھی دین میں کوئی ماخذ موجود نہیں ہے۔اِس طرح  کی   کوئی چیز طواف میں مشروع نہیں ہے۔یہ طواف کی اُن شایع و ذایع غلطیوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں نبی ﷺکے علم و عمل سے کوئی بات ثابت نہیں ہے۔پھر یہ دین کا مزاج بھی نہیں ہے کہ وہ عبادات میں بندوں کےلیےتمام دعاؤں کو خود متعین کر کے اُنہیں ان کا پابند کر دے۔اس لیے کہ ہر بندہ خدا کے اپنے حالات ہوتےہیں،اپنے مسائل اور اپنی پریشانیاں ہوتی ہیں۔بیت اللہ جیسے عظیم مقام پر پہنچ کر عقل و فطرت کی رو سےبھی ہر بندہ خدا کو یہ اجازت حاصل ہونی چاہیے کہ اب وہ جس طرح اور جس زبان میں چاہے، اپنے پروردگار کے حضور میں دعاومناجات کرے؛اُس سے ہم کلام ہو،اپنے مسائل اُس کے سامنے رکھے،اپنی الجھنوں کواُس کے حضور میں بیان کرے،دنیاوآخرت کی فلاح کاسوال اُس کی بارگاہ میں پیش کرے۔
 ٭ طواف کے دوران میں رُکن یَمانی کو بوسہ دینا یادورسے اُس کی جانب اشارہ کرنایااُسے ہاتھ سے چھو کر ہاتھ کو چومنا بھی درست نہیں ہے۔اِس طرح کا کوئی عمل چونکہ نبی ﷺسے ثابت نہیں ہے،چنانچہ اس کی اصلاح بھی کر لینی چاہیے۔تاہم اِس باب میں،جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا،نبی ﷺسے رکن یمانی کو صرف ہاتھ سے چھونا ثابت ہے۔
(بخاری، رقم1606، 609۔مسلم،رقم1267،1268)
 ٭ طواف کرتے ہوئے بعض لوگوں کا بیت اللہ کی عمارت کے ہر کونے کو چھونا یا اُسے چومنا بھی ایک اصلاح طلب عمل ہے۔یہ عمل بھی لوگوں کی اپنی ایجادات میں سے ہے۔نبی ﷺسے اس طرح کی کوئی چیز ثابت نہیں ہے۔
٭ بعض لوگ طواف کے تمام پھیروں میں مسلسل دوڑتے رہتے ہیں۔یہ بھی ایک لغو عمل ہے۔ دین میں اس کےلیےکوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔اس کی اصلاح بھی ہونی چاہیے۔
؎٭ طواف کے دوران میں بیت اللہ کی دیواروں،اُس کے غلاف یا اُن شیشوں کو چھونا یا چومنا قطعاً درست نہیں ہے جن میں ابراہیمی پتھر کو محفوظ کیا گیا ہے۔یہ ایک غیر مشروع عمل ہے۔نبی ﷺکے علم و عمل کی روایات میں اِس عمل کےلیے بھی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔
 ٭ طواف کرتے ہوئے بعض لوگ حطیم کے اندر سے گزر جاتے ہیں۔یہ بھی ایک غلطی ہے۔حطیم، جیسا کہ حج و عمرہ کے مقامات کے زیر عنوان پہلے بیان کیا جا چکا ہے، در اصل بیت اللہ ہی کا حصہ ہے جو قریش کی جانب سے کی گئی اُس کی تعمیر کے موقع پر اُس کی عمارت سے باہر رہ گیا تھا۔ چنانچہ ہر طواف کرنے والے کو یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ اُس کاطواف پورے بیت اللہ کو شامل ہونا چاہیے۔
 ٭ طواف کے دوران میں عجلت کا مظاہرہ کرنا،حجراسود اور رکن یمانی کے پاس ازدحام کرنا، ایک دوسرےسےجھگڑنا،زورآزمائی کرنا، دھکم پیل کرنا اور دوسروں کے لیے باعث اذیت بن جانا؛یہ سب اصلاح طلب ہے۔اِس بات کی اشدضرورت ہے کہ حجاج و معتمرین اِن تمام چیزوں کی اصلاح کریں۔ طواف کے دوران میں ہرمسلمان کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ وہ ایک بہت ہی غیر معمولی مقدس مقام پر، اُس حرمت والے گھر کا طواف کررہاہےجسےروئےزمین پر اللہ پروردگار عالم نے اپنی عبادت کے لیے خاص کر رکھا ہے۔وہ طواف و استلام کے ذریعہ سےعلامتی زبان میں یہاں اپنے وجود کو اپنے پروردگار کے حوالے اور اُس کے ساتھ کئے گئے اسلام کے عہد کی تجدیدکررہاہے۔اخلاقی تقاضوں کے ساتھ ساتھ اِس گھر کے احترام کا تقاضا بھی ہے کہ اِس میں اللہ کی عبادت اور اِس کاطواف کرنے والا ہر شخص اِس حضوری کے مقام پر ہمہ وقت سکون و اطمینان کا مظاہرہ کرے اور اُس سے کسی بندہ خداکوکوئی اذیت نہ پہنچے۔
 ٭بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ نماز کی طرح ہاتھ باندھے ہوئے طواف کر تے ہیں۔یہ بھی ایک اصلاح طلب چیزہے۔طواف کے دوران میں یہ کوئی پسندیدہ عمل ہے،نہ اس کی کوئی دینی حیثیت ہے۔
 ٭طواف کے اختتام پر ابراہیمی پتھر کے پاس دو رکعت نماز کی ادائیگی پر اصرار کے لئے بھی دین میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔مسجد حرام میں جو جگہ بھی میسر ہو،یہ نماز وہاں پڑھی جا سکتی ہے۔نبی ﷺنے ابراہیمی پتھر کے پیچھے جا کر دو رکعت نماز غالباًاِس وجہ سے پڑھی تھی کہ طواف کرنے والوں کو کوئی زحمت نہ ہو۔کیونکہ اُس زمانے میں اس مقام پر طواف کرنے والوں کا گزر نہ تھا۔طواف کی جگہ بیت اللہ کی عمارت سے ابراہیمی پتھر ہی تک تھی۔جس کے بعد لوگوں کےمکانات تھے۔گویا یہ مقام اُسزمانے میں حد مطاف کی علامت تھی۔چنانچہ طواف کے بعد نماز کے لیے ہمیں بھی کسی ایسے مقام کاانتخاب کرنا چاہیے جہاں طواف کرنے والوں سے کوئی تصادم نہ ہو۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: