حج کی فرضیت و فضیلت،ارکان و مسائل:04

مردوں اورعورتوں کے احرام کا فرق:
حضرت عبداﷲ بن عمر فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول سے دریافت کیا کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھنےوالاکیاکیاکپڑے پہن سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ حالت احرام میں نہ تو قمیض پہنو اور نہ پاجامہ ۔ نہ ہی سرپرعمامہ پہنو اور نہ پاؤں میں موزے پہنو۔ ایسا کوئی کپڑا بھی نہ پہنو جس کو زعفران یاخوشبو لگا ہو۔ (صحیح مسلم)
حضرت عبداﷲ بن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول نے فرمایا: عورتوں کو احرام کی حالت میں دستانے پہننے اور چہرے پر نقاب ڈالنے اور زعفران یا خوشبو لگے کپڑوں کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ ان کے علاوہ جو رنگین کپڑے وہ چاہیں پہن سکتی ہیں ۔ اسی طرح وہ چاہیں تو زیور بھی پہن سکتی ہیں اور شلوار اور قمیض اور موزے بھی پہن سکتی ہیں ۔ سنن ابی داؤد
احرام کھولنا:
سیدنا ابنِ عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول نے اپنے حج میں سر کے بالوں کو منڈوا ڈالا تھا۔
سیدنا ابنِ عمر ؓ مزید کہتے ہیں کہ رسول نے یہ بھی فرمایا کہ اے اﷲ سر منڈوانے والوں پر اپنی رحمت فرما۔ صحابہ  نےعرض کیا کہ یا رسول بال کتروانے والوں پر بھی رحمت کی دعا فرمائیے تو آپ نے فرمایا اے اﷲ سرمنڈوانےوالوں پر رحمت نازل فرما۔
صحابہ نے پھر عرض کیا کہ یا رسول
بال کتر وانے والوں پر بھی رحمت کی دعا فرمائیے تو آپ نے تیسری بارفرمایاکہ بال کتروانے والوں پر بھی رحمت فرما۔ بخاری
تلبیہ پڑھنا:
سیدنا ابنِ عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول نے احرام باندھتے ہی تلبیہ یعنی لبیک نہیں پکارا ۔ البتہ جب آپ ذوالحلیفہ کی مسجد کے قریب پہنچے تو تلبیہ پڑھی۔
سیدنا ابنِ عباس ؓ سے روایت ہے کہ عرفہ سے مزدلفہ تک سیدنا اسامہ ؓ نبی کے ہمر کاب تھے۔ پھر آپ نےمزدلفہ سے منیٰ تک فضل ؓ بن ابی طالب ؓ کو ہمرکاب کرلیا تھا۔ 
سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ دونوں صحابیوں کا بیان ہے کہ نبی برابر لبیک کہتے رہے یہاں تک کہ آپنےجمرةالعقبہ کی رمی کی۔
سیدنا عبداﷲ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کا تلبیہ یہ تھا ” اے اﷲ میں تیرے دروازہ پر بار بار حاضر ہوں اورتیرےبلانے کا جواب دیتا ہوں تیرا کوئی شریک نہیں ہر طرح کی تعریف اور احسان تیرا ہی ہے اور بادشاہی تیری ہی ہے کوئی تیرا شریک نہیں ۔ بخاری
خلاد بن سائب تابعی اپنے والد سائب بن خلاد انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ رسول نے فرمایا کہ: میرے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے مجھے حکم پہنچایا کہ میں اپنے ساتھیوں کو حکم دوں کہ تلبیہ بلند آواز سے پڑھیں ۔ (موطا امام مالک، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، مسند دارمی):
حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول نے فرمایا: اﷲ کا مومن و مسلم بندہ جب حج یا عمرہ کا تلبیہ پکارتاہے۔تو اس کے داہنی طرف اور بائیں طرف اﷲ کی جو بھی مخلوق ہوتی ہے خواہ وہ بے جان پتھر اور درخت یاڈھیلےہی ہوں وہ بھی اس بندے کے ساتھ لبیک کہتی ہیں ۔ ( ترمذی، ابن ماجہ)
عمارہ بن خزیمہ بن ثابت انصاری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول
جب احرام باندھ کر تلبیہ سے فارغ ہوتے تو اﷲ تعالیٰ سے اس کی رضا اور جنت کی دعا کرتے اور اس کی رحمت سے دوزخ سے خلاصی اور پناہ مانگتے(مسندشافعی)
کعبہ اور طوافِ کعبہ:
اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبی سے حطیم دیوار کی بابت پوچھا کہ کیا وہ بھی کعبہ میں سےہے؟ تو آپ نے فرمایا ہاں ۔ میں نے عرض کیا کہ پھر ان لوگوں نے اس کو کعبہ میں کیوں نہ داخل کیا؟ تورسول نے فرمایا کہ تمہاری قوم کے پاس خرچ کم ہوگیا تھا۔ میں نے عرض کیا کہ کعبہ کا دروازہ اس قدر اونچا کیوں ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ تمہاری قوم نے اس لئے کیا تھا کہ جس کو چاہیں کعبہ کے اندر داخل کریں اور جسکوچاہیں روک دیں ۔ اگر تمہاری قوم کا زمانہ، جاہلیت سے قریب نہ ہوتا اور مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ ان کے دلوں کوبرامعلوم ہوگا تو میں ضرور حطیم کو کعبہ میں داخل کردیتا اور اس کا دروازہ زمین سے ملادیتا ۔
اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی نے فرمایا کہ اے عائشہ ؓ اگر تمہاری قوم کا دور، جاہلیت سے قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کے منہدم کردینے کا حکم دیتا اور جو حصہ اس میں سے خارج کردیا گیا ہے اس کو دوبارہ اسی میں شامل کردیتا اور اس کو زمین سے ملادیتا اور اس میں دروازے بناتا ایک شرقی دروازہ اور ایک غربی دروازہ اور میں اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد کے موافق کردیتا۔ سیدنا ابو ہریرہ ؓ نبی سے راوی ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ چھوٹی چھوٹی پنڈلیوں والا ایک حبشی (قیامت کے قریب) کعبہ کو منہدم کردے گا۔
 ایک اور حدیث میں سیدنا ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ نبی نے فرمایا، گویا کہ میں اس سیاہ فام شخص کو دیکھ رہا ہوں جوکعبےکا ایک ایک پتھر اکھیڑ ڈالے گا۔ (بخاری)
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: