نفل عمرے اور حج ادا کرنے والوں کے نام:ایک کھلا خط:02

اللہ کی راہ میں خرچ ۔۔۔؟

کیوں ایسا ہوتا ہے کہ بار بار کے عمرے اور حج پر ٹراویلنگ ایجنٹ کو لاکھو ں روپے دیتے وقت کوئی دکھ نہیں ہو تا لیکن ایک ضرورت مند سامنے  آ جائے یا اُمت کی فلاح کے لئے کوئی اپیل کر دے تو طبیعت پر ناگواری طاری ہو جاتی ہے ۔ ایک دو ہزار جیب سے نکالتے بھی ہیں تو دِلی تکلیف ہو تی ہے۔ اِنہیں جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ مانگنے والا انکابعدمیں
احسان مند اور ممنون و مشکور رہے گا دس روپے بھی نہیں دیتے۔ دیتے بھی ہیں تو اِس طرح کہ مانگنے والا اگر ان کو حساب پیش نہ کرے تو آئندہ اُسے آنے نہیں دیتے اور بدنام کرتے ہیں۔
ایسا اس لئے ہو تا ہے نفس کو حج و عمرہ مرغوب ہے ۔مرغوب عبادت میں مزا بھی آتا ہے جو پیسہ یا وقت اپنی ذات پرخرچ ہو ایسی عبادت اچھی لگتی ہے۔ انفاق یعنی اللہ کی راہ میں دوسروں پر خرچ کر نے سے اپنے مال میں کمی ہوجانےکاخوف ستاتا ہے ۔اس لئے کسی کی مدد کر نے کے سوال پر وہی کہہ اٹھتے ہیں جو مشرکین و منافقین کہہ اٹھتےتھےکہ:
وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ ‘
وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ہم آخر کتنا خرچ کریں ‘۔(سورہ البقرہ)
ڈھائی فیصد زکٰوة و خیرات تو ہم کر تے ہی ہیں اور کیا کریں ؟آگے جواب میں کہا گیا:’ قُلِ الْعَفْوَ ‘ ان سے کہہ دیجئےسب اللہ کی راہ میں خرچ کر دیجئے سِوائے اسکے جو آج کی کھانے کی یا پہننے کی ضرورت کا ہے ۔
‘یہی ہے زکوٰة کا اور انفاق کا اصول !
حضرت عمر (ؓ) کا قول یاد رہے :’ ڈھائی فیصد کا حساب تو منافق کر تے ہیں ‘۔
یعنی منافق دِکھانے کے لئے نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے۔ روزہ بھی رکھتے تاکہ کوئی ان پر اعتراض نہ کرے ۔ مومن کےلئے ڈھائی فیصد یا پانچ فیصد کا سوال ہی کیا۔ جب ضرور ت مند سامنے  آجائے یا کسی غیرت مند محتاج کی خبر اسے مِل جائے تو وہ اپنے پاس جو بھی ہے وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے اُس شخص کی امانت سمجھ کر فوری خرچ کر ڈالتا ہے۔ ڈھائی فیصدیا پانچ فیصد کا سوال نہیں کرتا ۔ یہ انتظار بھی نہیں کرتا کہ کوئی آئے اور اُس سے مانگے اور نہ یہ انتظار کرتا ہے کہ اُس کے مال پر سال پورا گزرا ہے یا نہیں؟
وہ خود اپنا فریضہ سمجھ کر اپنے خاندان اور قرابت داروں میں تلاش کرتا ہے کہ کون محتاج ہے اور کون بیمار؟ کون بیوہ ہےاور کون بچہ تعلیم یا روز گار سے محروم ہے۔ کون سا باپ اپنی بیٹی کی شادی کے لئے پریشان ہے اور کون حضرت علی(ؓ)کی سنت پر قائم رہتے ہوئے بغیر جوڑا یا جہیز کے مردانہ خود داری کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہے لیکن مالی طورپرمجبورہے ؟
کچھ حساب کتاب یوں بھی ۔۔۔
ہم لوگ مشرک بت پرستوں پر ہنستے ہیں کہ ایک گنیش یا گنپتی جیسے تہوار پر کروڑوں روپیہ ضائع کر تے ہیں اورپھرلےجاکر اُسے گندے پانی میں خود ہی پھینک آتے ہیں ۔
دیوالی میں صرف کروڑوں روپیہ ضائع ہی نہیں کرتے بلکہ آتش بازی میں بے شمار جانیں بھی ضائع ہو جا تی ہیں ۔
لیکن جب ہم اپنے دامن میں جھانکتے ہیں تو پتہ چلتا ہے ہم بھی اسی غیر قوم کی طرح اپنی مرغوب عبادت پر لاکھوں خرچ کر رہے ہیں۔
مثال کے طور پرکسی بھی ایک شہر جیسے کراچی پاکستان کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ وہاں سے ہر سال کم سےکم ایسے دس ہزار افراد نفل عمرہ یا حج پر جا تے ہیں جن کا فرض حج ادا ہو چکا ہے اور حج کے علاوہ بھی وہ عمرہ کر چکےہیں ۔ایک سفرِ عمرہ یا حج پر کم سے کم ایک سے دو لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے۔ اگر چہ کہ آجکل سارے بڑے لیڈر ، تاجر، پہلوان اورمرشدفرسٹ کلاس یا بزنس کلاس میں سفر کرنا اور مہنگے ہوٹلوں میں ٹھہرنا اپنی شان سمجھتے ہیں ، جس پر ایک آدمی کا کم سے کم دو لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے۔ لیکن آپ کمترین حساب سے بھی اندازہ لگائیں تو ۔۔۔
ہر تیسرا پاکستانی جو حج یا عمرے پر آتا ہے وہ عمرہ یا حج اُس کا نفل ہوتا ہے۔ اِس طرح پاکستانی حضرات بھی چار تا پانچ ارب روپے یعنی کم سے کم ایک بلین ڈالر ہر سال اُس عبادت پر خرچ کرتے ہیں جو فرض نہیں ہے ۔ یہ نہیں سوچتے کہ اِس خرچ کا فائدہ کون اُٹھا رہا ہے؟ وہ لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں جن کی تجوریاں پہلے سے ہی بھری پڑی ہیں۔ یعنی ایرلائینس،ٹراویلنگ ایجنٹس ، ہوٹل مالکان، معلم وغیرہ۔
اندازہ لگائیے یہ پانچ چھ ارب روپیہ اگر ہر سال امت کی فلاح کے لئے لگ جائے تو چند سال میں یہ امت اُس مقام پر پہنچ جائے جہاں لوگ ہاتھ میں زکوٰة لئے مستحق کو ڈھونڈھتے پھرتے ہیں اور کوئی مستحق نہیں مِلتا۔

نشاة ثانیہ تک کیسے پہنچیں؟

یہ تو نا ممکن ہے کہ کوئی فرد یا جماعت اٹھے اور پورے پانچ چھ ارب روپے اکٹھا کر لے۔لیکن یہ تو ممکن ہے کہ ہرفردہرسال نفل عمرے یا حج کی نیت کرے اور اُسی نیّت کے ساتھ وہی رقم اپنے قریب ترین لوگوں کی تعلیم پر خرچ کردے۔
کیونکہ جو ذہانت اللہ تعالیٰ نے ہند و پاک کے افراد کو بخشی ہے اُسکا کوئی ثانی نہیں۔ اگر اِس قوم کے پچاس فیصد افراد بھی سطح غربت سے نکل کر تعلیم سے آراستہ ہو جائیں تو امریکہ اور یورپ مات کھا جائیں۔ ہندو قوم کےافرادتعلیم،سائنس،ٹکنالوجی، کمپیوٹر، اکاؤنٹس اور فائنانس کے میدانوں میں ہندوستان یا امریکہ ہی نہیں یورپ، خلیج اورافریقہ میں بھی بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ آپ جس آفس کے بھی دروازے پر نظر ڈالیں گے وہاں ہندو نام کی تختی لگی ہوگی اور اندر ایک مسلمان ڈرائیور یا کلرک کے طور پر کام کر رہا ہوگا۔ یہ دیکھ کر کیا آپ کی حمیّتِ قومی تڑپ نہیں اُٹھتی ؟
امریکہ اسرائیل اور سنگھ پریوار پر ہم لعنت تو کرتے ہیں لیکن ان سے اچھی باتیں کیوں نہیں سیکھتے؟ دیکھئے کس طرح ان کے امیر لوگ غریب طلباء کی تعلیم کی مکمل ذمہ داری لے لیتے ہیں اور ایک ہم ہیں کہ عمرے اور حج کرنے کو تو عبادت سمجھتے ہیں۔ تعلیم کے نام پر کچھ عارضی چندہ دے دیتے ہیں لیکن کسی طالبِ علم کی تعلیم کی تکمیل تک مکمل ذمہ داری لینےمیں ہمیں دور دور تک ثواب نظر نہیں آتا۔جبکہ اگر مسلمان طلباء کو موقع ملے تو وہ کسی بھی قوم کو پیچھے چھوڑ سکتےہیں۔
یہ بھی تو ممکن ہے کہ لوگ اپنا ایک عمرہ یا حج کم کر لیں اور مدرسوں پر لگا دیں جہاں سے وہ علماء و حفاظ نکل رہے ہیں جوامام یا موذن تو بنتے ہیں لیکن عصری تعلیم سے محرومی کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ اگر ہم ان مدرسوں کو عصری تعلیم سے آراستہ کر دیں تو اندازہ لگائیے کہ کتنی بڑی خدمت ہو سکتی ہے؟ مدرسوں کو بجائے زکوٰة یا خیرات دے کر علماء کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچانے کے ، اگر دو دو چار چار افراد مل کر پورا مدرسہ ہی اسپانسر کر لیں تو مدرسوں کو نہ صرف سوسوپچاس پچاس روپے کے چندے وصول کرنے کے عذاب سے نجات ملے گی بلکہ دینی تعلیم حاصل کرنے والوں کاوقاربھی بلند ہوگا۔آج ہر دینی یا سماجی جماعت کے پاس ایک نہ ایک ایسا شاندار منصوبہ کاغذ پر موجود ہے جو اُمت کےکسی نہ کسی شعبے کو مضبوط کر سکتا ہے لیکن مال اور افراد نہ ہونے کی وجہ سے وہ کسی بھی منصوبے پر عمل درآمدکرنےسےقاصرہیں۔ اور اہلِ استطاعت یہ چاہتے ہیں کہ خود تو کماتے رہیں اپنی مرضی سے خرچ کرتے رہیں اورمزیدبچت ہو تو نفل عمرے و حج کر کے اپنے نفس کو اور موٹا کر تے رہیں ، لیکن جو لوگ جماعتوں یا اداروں میں کام کررہے ہیں وہ نوکریاں یا کاروبار ترک کر دیں۔ بیوی بچوں کو اللہ کے نام پر چھوڑ دیں اور بس فی سبیل اللہ جماعت کا کام کر تے رہیں ۔
آپ کا بچہ تو بہترین اسکول میں پڑھے ۔امریکہ ، لندن جائے لیکن مدرسے یا جماعت والوں کے بچے سرکاری اسکول یا مفت کے مدرسے میں پڑھیں۔ کیا یہ خود غرضی نہیں ہے ؟
اپنے شوقِ عبادت کی تسکین کے لئے تو آپ ایک لاکھ روپے پھونک سکتے ہیں لیکن جماعتوں اور اداروں کے منصوبوں پریہی رقم لگا کر پوری قوم کی ترقی کے لئے سہارا نہیں بن سکتے۔
کیا یہ ممکن نہیں کہ آپ ایک عمرہ یا حج کی رقم اپنی جو بھی پسندیدہ جماعت ہواس کے افراد پر یا اس جماعت کے کسی منصوبے پر خرچ کر دیں تاکہ وہ جِس مقصد سے اٹھی ہیں وہ کوئی ٹھوس کام کر سکیں ۔ اگر سو افراد بھی ایسا کر لیتے ہیں توآج بے شمار کمزور جماعتیں اور ادارے ہیں جو دوبارہ طاقتور ہو کر قیادت کے حامل ہو سکتے ہیں ۔
مرحوم ڈپٹی نذیر احمد کے الفاظ یاد رہیں کہ :میرے عزیزو ۔ تم ذاتی طور پر چاہے لاکھ ترقی کرلو۔چاہےجتنےامیراورطاقتورہوجاؤ۔ لیکن اگر تمہاری اجتماعی طاقتیں کمزور پڑ جائیں تو تمہاری ذاتی حیثیت تم کو اجتماعی طورپرذلیل ہو نے سے نہیں روک سکتی۔(ابن الوقت)
جس قوم کے اندر اجتماعیت کا شعور نہ ہو، جس میں جماعتیں مضبوط نہ ہوں، اس قوم کو انڈیا کے گجرات، ہاشم پورہ،بھیونڈی ، مئو ، میرٹھ ، جمشید پور وغیرہ کی طرح تباہ و تاراج کر ڈالنا دشمن کے لئے آسان ہو جاتا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ اس قوم کو اس کی زبان کلچر مذہب اور ادب سے محروم کر ڈالنا بھی بہت آسان ہو جاتا ہے۔
یہی حال پاکستان کا ہے جہاں شرحِ خواندگی %12اور سطحِ غربت پر رہنے والے %75 ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہرتاجر،ہرعالم،ہرمرشد، ہر امیر اور ہر با اثر ملازم کسی نہ کسی جماعت یا مدرسے یا ادارے سے جڑ جائے اوراُس کو مضبوط کرے ۔ جس طرح منیٰ سے ہزاروں قافلے الگ الگ نکلتے ہیں لیکن پہنچتے ایک ہی جگہ یعنی عرفات میں ہیں ۔اِسی طرح سینکڑوں جماعتیں یا ادارے ہیں۔ الگ الگ مقاصد اور طریقہ کار ہیں لیکن تمام اگر اپنے اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائیں تو یہ امت جس مقام پر پہنچے گی وہ ہے :’ نشاة ثانیہ ‘یعنی Renaissance ۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: