حج کی فرضیت و فضیلت،ارکان و مسائل:03

حج کی فضیلیت:
اُمُّ المومنین عائشہ صدیقہ ؓ نے رسول سے پوچھا کہ ہم جہاد کو بہت بڑی عبادت سمجھتے ہیں تو پھر ہم بھی کیوں نہ جہادکریں ؟ توآپ نے فرمایاسب سے افضل جہاد ”حجِ مقبول“ ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اﷲ کے لےے حج کرے پھر حج کےدوران کوئی فحش بات کرے اور نہ گناہ کرے تو وہ حج کرکے اس طرح بے گناہ واپس لوٹے گا جیسے اس کی ماں نےاسے بے گناہ جنم دیاتھا۔
سیدنا عبداﷲ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ خشعم کی ایک عورت نے رسول سے کہا کہ یا رسول اﷲ! اﷲ میرےضعیف با پ پر حج فرض ہے مگر وہ سواری پر نہیں جم سکتے ۔ توکیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں ؟ آپنےفرمایا ہاں کرلے۔ بخاری
حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول نے فرمایا: جس کے پاس سفر حج کا ضروری سامان ہو اور اس کو سواری میسر ہو جو بیت اﷲ تک اس کو پہنچا سکے اور پھر وہ حج نہ کرے تو کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر۔
ایسا اس لئے ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ :”اﷲ کے لئے بیت اﷲ کا حج فرض ہے ان لوگوں پر جو اس تک جانے کی استطاعت رکھتے ہوں “۔ جامع ترمذی
حضرت عبداﷲ ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول نے فرمایا کہ حج اور عمرہ پے در پے کیا کرو کیونکہ حج اور عمرہ دونوں فقرو محتاجی اور گناہوں کو اس طرح دور رکردیتے ہیں جس طرح لوہا اور سنا ر کی بھٹی لوہے اور سونے چاندی کا میل کچیل دور کردیتی ہے ۔ اور ”حج مبرور “ کا صلہ اور ثواب تو بس جنت ہی ہے۔(جامع ترمذی، سنن نسائی)
حضرت عبداﷲ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول نے فرمایا: جب کسی حج کرنے والے سے تمہاری ملاقات ہوتواسکےاپنے گھر میں پہنچنے سے پہلے اس کو سلام کرو اور مصافحہ کرو اور اس سے مغفرت کی دعا کے لئے کہو۔ کیونکہ وہ اس حال میں ہے کہ اس کے گناہوں کی مغفرت کا فیصلہ ہوچکا ہے ۔ (مسند احمد)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اﷲ کا جو بندہ حج یا عمرہ کی نیت سے یا راہ خدا میں جہاد کے لئے نکلا۔پھر راستہ ہی میں اس کو موت آگئی تو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے اس کے واسطے وہی اجر و ثواب لکھ دیا جاتا ہےجو حج و عمرہ کرنے والوں کیلئےیاراہ جہاد کرنے والے کے لےے مقرر ہے۔ شعب الایمان للبیہقی
مقاماتِ حج :
سیدنا عبداﷲ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی نے مدینہ والوں کیلئے ذوالحلیفہ کو میقات قراردیا تھا اور شام والوں کیلئےجحفہ اور نجد والوں کیلئے قرن المنازل اوریمن والوں کیلئے یلملم۔ یہ مقامات یہاں کے رہنے والوں کیلئے بھی میقات ہیں ۔ اور جو شخص حج یا عمرہ کے ارادہ سے غیر مقام کا رہنے والا ان مقامات کی طرف سے ہوکر آئے، اس کی بھی میقات ہیں پھر جو شخص ان مقامات سے مکہ کی طرف کا رہنےوالا ہو تو وہ جہاں سے نکلے احرام باندھ لے اسی طرح مکہ والے مکہ ہی سےاحرام باندھ لیں ۔
امیر المومنین حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کو وادیِ عقیق میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آج شب کومیرےپروردگار کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ اس مبارک وادی یعنی عقیق میں نمازپڑھواورکہو کہ ”میں نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا“۔
ایک اور روایت میں سیدنا عبداﷲ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی کو اخیر شب میں جب آپ ذوالحلیفہ میں تھے، وادیِ عقیق میں یہ خواب دکھایا گیا اور آپ سے کہا گیا کہ اس وقت آپ ایک مبارک وادی میں ہیں ۔
واضح رہے کہ نبی
کے خواب بھی وحی میں شامل ہیں ۔ صحیح بخاری
آدابِ حرمین شریفین: حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول نے فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے ”حرم“ ہونے کا اعلان کیا تھا اور میں مدینہ کے ”حرم“ قرار دیئے جانے کا اعلان کرتا ہوں ۔
اس کے دونوں طرف کے دروں کے درمیان پورا رقبہ واجب الاحترام ہے۔ اس میں خوں ریزی کی جائے اور نہ کسی کےخلاف ہتھیاراٹھایاجائے۔ جانوروں کے چارے کی ضرورت کے سوا درختوں کے پتے بھی نہ جھاڑے جائیں ۔ حضرت جابرؓسے راوی ہیں کہ رسول نے فرمایا: کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ مکہ میں ہتھیار اٹھائے۔ صحیح مسلم
احرام:
 سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اور آپ کے صحابہ ؓ ، کنگھی کرنے اور تیل ڈالنے اور چادر تہہ بند پہننے کے بعد مدینہ سے چلے، پھر آپ نے کسی قسم کی چادر اور تہہ بند کے پہننے سے منع نہیں فرمایا سوائے زعفران سےرنگےہوئےکپڑےکے جس سے بدن پر زعفران جھڑے۔ پھر صبح کو آپ ذوالحلیفہ میں اپنی سواری پرسوارہوئےیہاں تک کہ جب مقامِ بیداءمیں پہنچے تو آپ کے صحابہ ؓنے لبیک کہا اور اپنےقربانی کے جانوروں کےگلےمیں ہار ڈالے ۔ پھر آپ چوتھی ذی الحجہ کو مکہ پہنچے اور آپ نے کعبہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کےدرمیان سعی کی اور آپ اپنی قربانی کے جانوروں کی وجہ سے احرام سے باہر نہیں ہوئے کیونکہ آپ ان کےگلے میں ہار ڈال چکے تھے۔ پھر آپ مکہ کی بلندی پر مقام حجوں کے پاس اترے اور آپ حج کا احرام باندھےہوئے تھے طواف کرنے کے بعد آپ کعبہ کے قریب بھی نہ گئے یہاں تک کہ عرفہ سے لوٹ آئے۔ اورآپنے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ کعبہ کا اور صفا مروہ کا طواف کریں اس کے بعد اپنے بال کتروا ڈالیں اور احرام کھول دیں ۔اور بال کتروانے کے بعد جس کے ہمراہ اس کی بیوی ہو اس سے صحبت کرنا، خوشبو لگانا اور کپڑے پہننا سب جائزہوگیا۔
سیدنا یعلی بن امیہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی مقام جعرانہ میں تھے کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا اورپوچھا کہ یارسولاس شخص کے بارے میں کیاحکم ہے، جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو حالانکہ وہ خوشبو سے تر ہو؟ تونبینےکچھ دیر سکوت فرمایا پھر آپ پر وحی نازل ہونے لگی۔ بعد ازاں آپ نے فرمایا کہ جو خوشبوتجھے لگی ہوگی اس کو تین مرتبہ دھو ڈالو اور اپنا جبہ اپنے جسم سے اتار دو اور عمرہ میں بھی اسی طرح اعمال کرو جس طرح اپنے حج میں کرتے ہو۔ صحیح بخاری
سیدنا عبداﷲ بن عمر ؓ جب حج کیلئے مکہ جانے کا ارادہ کرتے تو تیل لگاتے جس میں خوشبو نہ ہوتی تھی پھر ذوالحلیفہ کی مسجدمیں آتے اور نماز پڑھتے اس کے بعد سوار ہوتے پھر جس وقت وہ سوار ہوتے اور سواری کھڑی ہوجاتی تو احرام باندھتے اس کے بعد کہتے کہ میں نے نبی کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔
اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم حج کے مہینے میں حج کے احرام کے ساتھ مدینے سے نکلے پھر ہم مقامِ سرف میں اترے پھر آپ اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تم میں سے جس شخص کے ہمراہ قربانی کاجانور نہ ہو اور وہ چاہے کہ اس احرام سے عمرہ کرے تو وہ ایسا کرلے اور جس شخص کے ہمراہ جانور ہو وہ ایسا نہ کرے۔

اُمُّ المو منین عائشہ صدیقہ ؓ ایک دوسری روایت میں کہتی ہیں کہ ہم رسول کے ہمراہ حجة الوداع کے سال مکہ کی طرف چلے تو ہم میں سے بعض لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا اور بعض لوگوں نے عمرہ اور حج دونوں کا احرام باندھا تھا اور  بعض لوگوں نے صرف حج کا احرام باندھا تھا اور رسول نے حج کا احرام باندھا تھا پس جس نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا وہ احرام سے باہر نہیں ہوا یہاں تک کہ قربانی کا دن آگیا۔ اُمُّ المومنین حفصہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ عمرہ کرکے احرام سے باہر ہوگئے اور آپ عمرہ کرکے احرام سے باہر نہیں ہوئے تو نبی نے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کے بال جمائے اور اپنی قربانی کے گلے میں ہار ڈال دیا لہٰذا میں جب تک قربانی نہ کرلوں احرام سے باہر نہیں آسکتا۔ بخاری

Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: