سیرتِ امام ابو حنیفہؒ از علّامہ شِبلی نُعمانیؒ-9

بر جستہ علمی جوابات

امام صاحبؒ کے برجستہ جواب، ذہانت اور طباعی عموماً ضرب المثل ہے۔ مشکل سے مشکل مسئلوں میں ان کا ذہن اس تیزی سےلڑتا تھا کہ لوگ حیران ر ہ جاتے تھے۔
اکثر موقعوں پر ان کے ہمعصر اور معلومات کے لحاظ سے ان کے ہمسر موجود ہوتے تھے ان کو اصل مسئلہ بھی معلوم ہوتاتھا لیکن جو واقعہ درپیش ہوتا تھااس سے مطابقت کر کے فوراً جواب بتا دینا امام صاحبؒ ہی کا کام تھا۔ مثلاً:

ترکہ کی تقسیم

وقیع بن جراحؒ سے روایت ہے کہ ہم امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں تھے کہ ایک عورت آئی اور عرض کیا کہ میرا بھائی مرگیا اس نے چھ سو (600) اشرفیاں ترکہ میںچھوڑیں مگر مجھے صرف ایک اشرفی ملی ہے؟ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا ’’یہی تیرا حق ہے‘‘ پھر اس عورت سے سوال کیا اچھا بتاؤ تیرے بھائی نے دو لڑکیاںچھوڑیں؟ عورت نے عرض کیا ’’ہاں‘‘ ماں چھوڑی؟ عورت نے کہا’’ ہاں ‘‘ بیویچھوڑی؟ عورت نے کہا ’’ہاں‘‘ بارہ بھائی اور ایک بہن چھوڑی؟ عورت نے جوابدیا ’’جی ہاں‘‘۔ تب امام صاحب نے فرمایا کہ تیرے بھائی کی دونوں لڑکیوں کادو ثلث یعنی چار سو (400) اشرفی ہے۔ ماں کا ایک سدس سو اشرفی (100) ہے اوربیوی کا ثمن پچہتر(75) اشرفی ہے۔ باقی پچیس (25) اشرفیاں جس میں چوبیس(24)بھائیوں کی ہیں ہر بھائی کو دو اشرفی۔ اور تیری صرف ایک اشرفی۔

وہ  شخص اولیاء اللہ میں سے ہے

ایک شخص امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ ’’آپ اس آدمی کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو جنت کی آرزو نہیں کر تا، جہنم سے نہیں ڈرتا، اللہ تعالیٰ سے خوف نہیں کر تا، مردہ کھاتا ہے، بلا رکوع سجدہ کی نمازپڑھتا ہے، اس چیز کی شہادت دیتا ہے جسے دیکھتا نہیں، فتنہ کو پسند کر تاہے، رحمتِ خداوندی سے بھاگتا ہے اور یہود و نصاریٰ کی تصدیق کرتا ہے؟
امام ابو حنیفہؒ جانتے تھے کہ جس نے اس سے سوال کیا ہے وہ ان سے بہت بغض رکھتاہے۔ فرمانے لگے جو تم نے سوال کیا ہے اس کو تم خود جانتے ہو اس نے جوابدیا ’’نہیں لیکن یہ باتیں بہت بری ہیں اس لئے آپ سے سوال کیا۔ ‘‘ امام صاحبؒ مسکرائے اور فرمایا اگر میں ثابت کر دوں کہ وہ آدمی اولیاء اللہ میں سے ہے توتم مجھ کوبرابھلاکہنابندکردوگےاورکراماً  کاتبین کو وہ چیز لکھنے پرمجبور نہیں کرو گے جو تمہیں نقصان دیں؟ اس آدمی نے کہا جی ہاں۔ اس پرامام صاحبؒ نے فرمایا ’’تمہارا یہ کہنا کہ ’’ جنت کی آرزو نہیں کرتا اورجہنم سے نہیں ڈرتا‘‘،تو یہ آدمی جنت کے مالک کی آرزو رکھتا ہے اور جہنم کے مالک سے ڈرتا ہے۔ تمہارا یہ کہنا کہ ’’ وہ شخص اللہ سے نہیں ڈرتا ‘‘ اسکا مطلب یہ ہے کہ اللہ سے اس بات میں نہیں ڈرتا کہ اللہ اپنے عدل اورفیصلہ میں کسی پر ذرا بھی ظلم نہیں کریں گے خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’’ وما ربک بظلام للعبید ‘ ‘ تمہارا یہ کہنا کہ ’’ وہ مردار کھا تا ہے ‘‘ تواسکا مطلب یہ ہے کہ وہ آدمی مچھلی کھاتاہے۔تمہارے یہ کہنا کہ ’’ بلارکوع او ر سجدے کی نماز پڑھتا ہے‘‘ مطلب یہ ہے کہ نمازِ جنازہ پڑھتا ہے۔ تمہارا کہنا کہ ’’بے دیکھی چیز کی شہادت دیتا ہے‘‘ مطلب یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کی گواہی دیتا ہے۔ تمہارا کہنا کہ ’’فتنہ کوپسند کرتا ہے‘‘ مطلب یہ ہے کہ مال و اولاد کو پسند کر تا ہے اللہ تعالیٰ نےمال و اولاد کو فتنہ کہا ہے’’انما اموالکم واولادکم فتنہ‘‘ تمہارا یہ کہناکہ ’’ رحمت سے بھاگتا ہے‘‘ مطلب یہ ہے کہ بارش سے بھاگتا ہے۔ تمہارا یہ کہنا کہ ’’ یہو ونصاریٰ کی  تصدیق کر تا ہے‘‘ اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ آدمی یہود و نصاریٰ کے قول’’ قالت الیہود لیست النصاریٰ علی شئ وقالت النصاریٰلیست الیہود علی شی‘‘ میں انکی تصدیق کر تا ہے۔
 امام صاحب کے بر جستہ جوابات سن کر وہ آدمی کھڑا ہو گیا اور امام صاحب کی پیشانی کا بوسہ لیااور کہا آپ نے حق فرمایا میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔

امام صاحبؒ کی شان ہی عجیب تھی

عبد اﷲ بن مبارکؒ سے روایت ہے کہ میں نے امام ابو حنیفہؒ سے یہ مسئلہ معلوم کیا کہ دوآدمی ہیں ایک کےپاس ایک  درہم ہے اور دوسرے کے پاس دو درہم۔ یہ سب دراہمآپس میں مل گئے اور دو درہم کھو گئے۔ کچھ پتہ نہیں کون سےدرہم کھو گئے ہیں؟امام صاحبؒ نےفرمایا بقیہ درہم دونوں کا ہے۔ دو درہم والے کے دو حصہ،ایک درہم والے کا حصہ۔ عبد اﷲ بن مبارک فرماتے ہیں کہ پھر میں نے ابنشبرمہ سے ملاقات کی اور یہی مسئلہ معلوم کیا۔ انہوں نے فرمایا کسی اور سےبھی معلوم کیا؟ عرض  کیا ہاں ابو حنیفہؒ سے، تو انہوں نے یہ جواب دیا کہجو درہم بچ رہا ہے اس کا دو ثلث دو درہم والے کا، ایک ثلث ایک درہم والےکا ہے۔ اس پر ابن شبرمہ نے فرمایا ان سے غلطی ہو گئی۔ دیکھو جو دو درہمضائع ہوئے ان میں
سے ایک تو ضرور دو درہموں میں سے ہے یعنی جس کا دو درہم
تھا اس کا تو ایک ضرور ضائع ہوا ہے۔ باقی دوسرا ضائع ہونے والا درہم اندونوں کا ہو سکتا ہے۔ لہذا جو ایک درہم باقی رہا، وہ دونوں کا نصف نصف ہے۔ عبد اﷲ بن مبارک فرماتے ہیں مجھے یہ جواب بہت ہی اچھا معلوم ہوا۔
اس کےبعد امام ابو حنیفہؒ سے ملاقات ہوئی۔ ان کی عجیب ہی شان تھی۔ اگر ان کی عقلکو نصف دنیا کی عقل سے تولا جائے تو بڑھ جائے۔ وہ مجھ سے فرمانے لگے تمابن شبرمہ سے ملے اور انہوں نے جواب دیا ہو گا کہ ضائع ہونےوالادودرہموںمیں سے ایک ضرور ہے اور بچا ہوا درہم ان دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہے؟میں نے عرض کیاجی
ہاں، تو امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا دیکھو جب تینوں درہم
مل گئے تو آپس میں شرکت واجب ہو گئی پھر ایک درہم والے کا حصہ ہر درہم کاثلث ہو گیا اور دو درہم والے کا حصہ ہر درہم میں دو ثلث ہوا تو جو درہم بھیکھو گیا دونوں کا کھویا گیااوردونوں کا حصہ گیا۔
خلیفہ منصور کی بیعت اور امام صاحبؒ کی تقریرداؤد طائیؒ سے روایت ہے کہ جب خلیفہ منصور عباسی کوفہ آئے تو سبھی علماء کےپاس خبر بھیجی اور سب کو جمع کیا۔ جب سب جمع ہو گئے تو تقریر کی کہ خلافتآپ لوگوں کے نبی کے گھر والوں تک پہنچ گئی۔ اﷲ نے اپنا فضل کیا، حق کوقائم فرما دیا اور اے جماعت علماء ! آپ لوگ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہاس کی اعانت کریں اور اپنے لئے ہدیہ، ضیافت اور اﷲ کے مال میں سے جو کچھبھی آپ لوگ پسند کریں قبول کریں۔ اب آپ لوگ ایسی بیعت کریں جو نفع نقصانکے لئے آپ لوگوں کے امام کے پاس حجت ہو اور قیامت کے دن آپ لوگوں کےلئےامان اور حفاظت ہو۔
آپ لوگ اﷲ کے دربار میں بلا امام کے نہ جائیں۔ اور یہمت کہئے کہ ’’ہم امیر المؤمنین سے ڈرتے ہیں اس لئے حق نہیں کہہ سکتے۔ ‘‘
علماءنے جواب کے لئے امام ابو حنیفہؒ کی طرف دیکھنا شروع کیا امام صاحبؒ نےفرمایا اگر آپ لوگ چاہتے ہیں کہ میں اپنی اور آپ سب کی طرف سے بات کروں توآپ لوگ چپ رہیں۔ علماء نے کہا ہم یہی چاہتے ہیں امام صاحبؒ نےتقریرکیاورفرمایا اﷲ کے لئے سب تعریفیں ہیں۔ اس نے حق نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کیقرابت میں پہنچا دیا۔ ظالموں کے ظلم کو دور کر دیا اور ہماری زبانوں کو حقبات کے لئے گویائی بخش دی۔ بلاشبہ ہم سب نے اﷲ کے امر پر بیعت کی اورآپکے لئے اﷲ کے عہد پر وفاداری کی بیعت کی ’’ الی قیام الساعۃ ‘‘ اﷲ تعالیٰامر خلافت کو رسول اﷲ ﷺ کی قرابت سے نہ نکالے۔ خلیفہ منصور نے جوابیتقریر کی اور کہا آپ ہی جیسا آدمی مناسب ہے کہ علماء کی طرف سے خطبہ دے۔ ان لوگوں نے آپ کو انتخاب کر کے اچھا کیا اور آپ نے بہترین ترجمانی کی۔  
جبسب لوگ باہر آئے تو لوگوں نے امام صاحبؒ سے معلوم کیا کہ ’’الی قیام الساعۃ‘‘سے آپ کی کیا مراد تھی؟ آپ نےتواس وقت بیعت توڑ دی؟ امام صاحبؒ نےفرمایا آپ لوگوں نے حیلہ کیا اور معاملہ میرے سپرد کیا، تو میں نےاپنےلئے حیلہ کر لیا اور آپ لوگوں کو امتحان کے لئے پیش کر دیا لوگ خاموش ہو گئےاور تسلیم کر لیا کہ حق امام صاحبؒ کا ہی فعل ہے۔

یک نہ شد، دو شد

عبد اﷲ بن مبارک سے روایت ہے کہ ایک شخص نے امام ابو حنیفہؒ سے دریافت کیا کہ میںاپنی دیوار میں جنگلہ کھولناچاہتاہوں۔ امام صاحب نے فرمایا جو چاہو کھوللو لیکن پڑوسی کے گھر میں تاک جھانک مت کرنا۔ جب وہ کھڑکی کھولنے لگا تواسکا پڑوسی ابن ابی لیلیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی۔ انہوں نے اسکو کھڑکی کھولنے سےمنع کر دیا۔ اب وہ بھاگا ہوا امام ابو حنیفہؒ کی خدمتمیں پہنچا۔ امام صاحبؒ نے فرمایا اچھا جاؤ اب دروازہ کھول لو۔ وہ دروازہ کھولنےلگا،تواس کا پڑوسی اس کو لے کر ابن ابی لیلیٰ کے پاس آیا۔ انہوںنے دروازہ کھولنے سے منع کر دیا۔
وہ شخص پھر امام ابو حنیفہؒ کی خدمتمیں آیا اور صورت حال بتائی۔ امام صاحبؒ نے پوچھا تمہاری کل دیوار کی کیاقیمت ہے؟ اس نے عرض کیا تین اشرفیاں۔ امام صاحبؒ نے فرمایا یہ تیناشرفیاں میرے ذمہ ہیں جاؤ اور ساری دیوار گرادو۔ وہ آیااوردیوار گرانے لگا۔
پڑوسی نے دیوار گرانے سے بھی منع کر دیا اور اس کو لے کر ابن ابی
لیلی کی خدمت میں حاضر ہوا، ان سے شکایت کی۔ ابن ابی لیلیٰ نے فرمایا وہاپنی دیوار گراتا ہے تو گرانے دو۔ چنانچہ اس آدمی سے ابن ابی لیلی نےفرمایا جا گرا دے اور جو کچھ تیرا جی چاہے کر۔ پڑوسی نے کہا آپ نے مجھےکیوں پریشان کیا اور ایک جنگلا کھولنے سے منع کر دیا؟ کھڑکی کاکھولنامیرےلئے آسان تھا۔ اب یہ ساری دیوار گرائے گا ابن ابی لیلیٰ نے فرمایا یہآدمی ایسے شخص کےپاس جاتاہےجومیری غلطی بتلاتا ہے اب جب میری غلطیواضح ہو گئی تو میں کیا کروں۔

یہ بات بہت بیش قیمت ہے

علی بن مسہرسے روایت ہے کہ ہم لوگ امام ابو حنیفہؒ کے پاس بیٹھے تھے کہ عبد اﷲ بن مبارکتشریف لائے اورامام ابوحنیفہؒ سے معلوم کیا کہ ایک آدمی ہنڈیا پکا رہا تھاایک پرندہ اس میں گر کر مرگیا۔ آپ کا اس میں کیا فتویٰ ہے؟ امام صاحب نےاپنے شاگردوں سے کہا کہ بتاؤ اس کا کیا جواب ہے؟ شاگردوں نے حضرت عبد اﷲبن عباسؓ کا فتویٰ نقل کر دیاکہ شوربا پھینک دے اور گوشت دھوکر کھا لے۔
امام صاحب نے فرمایا یہی ہم بھی کہتے ہیں البتہ اس میں کچھ تفصیل ہے اور وہ یہہے کہ اگر ہانڈی میں جوش آنے کے وقت گرا ہو تو گوشت اور شوربا سب پھینک دیاجائے اگر جوش ٹھنڈا ہونے کے بعد آ پڑا ہو تو گوشت دھوکرکھالیاجائےاورشورباپھینک دیا جائے۔
عبد اﷲ بن مبارک نے فرمایا یہ تفصیل کہاں سے فرما رہے ہیں؟ تو امام صاحب نے فرمایا جب پرندہ ہانڈی میں جوش مارنے کے وقت گرے گا تو سرکے اور مسالہ کی طرح نجس پانی گوشت میں سرایت کر جائے گااور جب جوش ٹھنڈاہوگیاتوگوشت کے اوپر لگے گا اندر سرایت نہیں کرے گا۔ عبداﷲ بن مبارک نے فرمایا ’’ہذا زرین ‘‘ یہ بات سوناہے۔
ایک مرتبہ ابن ہبیرہ نے امام ابو حنیفہؒ کو طلب کیا اور ایک قیمتی انگوٹھی کا نگینہ دکھایا، جس پر لکھا ہوا تھا ’’ عطاء بن عبداﷲ ‘‘ اور کہا میں اس کو پہننااچھا نہیں سمجھتا، کیونکہ اس پر غیر کا نام لکھا ہوا ہے اور اس کا مٹانابھی ممکن نہیں۔ اب
کیا کیا جائے؟ امام ابو حنیفہؒ نے فوراً جواب دیا کہ باء
کے سر کو گول کر دو ’’ عطاء من عند اﷲ ‘‘ ہو جائے گا۔ ہبیرہ کو امام صاحب کیاس برجستگی پر بڑا تعجب ہوا اور کہنے لگا کتنا اچھا ہوتا اگر آپ ہمارے پاسبکثرت آتے جاتے۔

قاضی ابن شبرمہ چپ ہو گئے

ابو مطیع سے روایت ہے کہایک آدمی کی وفات ہوئی، اس نے امام ابو حنیفہؒ کے لئے وصیت کی۔ اس وقتامام صاحب موجودنہیں تھے۔ جب آئے تو مقدمہ ابن شبرمہ قاضی کے پاس لےگئے، حالات بتائے اور گواہ پیش کئے۔ ابن شبرمہ نے کہا ابو حنیفہ ! کیا آپقسم کھا سکتے ہیں کہ آپ کے گواہوں نے صحیح گواہی دی ہے؟ امام صاحب نےفرمایا میں موجودنہ تھا اس لئے میرے اوپر قسم ضروری نہیں ہے۔ ابن شبرمہنے کہا اس میں تمہارا سارا قیاس ختم ہو گیا۔ اس پر امام صاحب فوراً بولےبتائیے ایک اندھا شخص ہے کسی نے اس کو زخمی کر دیا دو شاہدوں نے گواہی دیکیا اب اس اندھے پریہ قسم واجب ہے کہ وہ کہے میرے شاہد سچی گواہی دے رہےہیں حالانکہ شاہدوں نے شہادت حق دی ہے؟ یہ سن کر قاضی صاحب چپ ہو گئے اورامام صاحب کے حق میں وصیت کا فیصلہ دے کر نافذ کر دیا۔

امتیازی خصوصیات اور ائمۂدین کے اقوال

امام صاحب کی امتیازی خصوصیات

امام ابو حنیفہؒ کی گیارہ انفرادی خصوصیات ایسی ہیں جن میں امام صاحب دوسرےائمہ و مجتہدین سےممتاز و منفرد ہیں اورکوئی بھی ان کا شریک و سہیمنہیں۔ سلف کے دوسری صف کے سرخیل ہیں۔
1.امام صاحب کی ولادت با سعادت جبہوئی تھی تو بہت سے صحابہؓ زندہ تھے، خیر القرون کا زمانہ تھا، جس زمانہ
والوں کو رسول اللہ ﷺ نے عادل فرمایا۔
2. بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ امام صاحبؒ کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ حضرات صحابہ کرامؓ کی زیارتِ مبارکہ سےمشرف ہوئے۔
3. امام صاحبؒ نے اکابر تابعین کے زمانہ میں اجتہاد کیا اور فتوے دئے۔
4.بڑے بڑے ائمہ کا امام صاحب سے روایت کرنا، جیسے عمر بن دینار جو امام صاحب کے شیوخ میں سے بھی ہیں۔
5. امام صاحب نے چار ہزار تابعین سے علم حاصل کیا۔
6. جیسے لائق و فائق اور ذہین شاگرد امام صاحب کو ملے بعد میں آنے والےائمہ کو نہیں مل سکے جیسے قاضی ابو یوسفؒ،امام محمدؒ، امام زفرؒ، امامطحاوی وغیرہ۔
7. امام صاحب نے سب سے پہلے فقہ کی تدوین کی اور کتابوں کو فقہی ابواب پر ترتیب دیا۔
8. امام صاحب کے مذہب کی ان ملکوں میں اشاعت ہوئی جہاں اور کوئی مذہب ہے ہی نہیں جیسےہندوستان،سندھ،روم،ماوراء النہر اور عجم و عرب کے اکثرممالک۔
9.امام صاحب اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے اور اہلِ علم پر خرچ کرتے تھے۔
10.امام صاحب نے دین کی خاطر مظلوم، محبوس اور مسموم سجدہ کی حالت میں اپنی جان جانِ آفریں
کے سپرد کی۔
11.امام صاحب کی کثرتِ عبادت، زہد فی الدنیا، کثرتِ تلاوتِ قرآن کریم اور کثرتِ حج و عمرہ وغیرہ وغیرہ۔

ائمہ دین کے اقوال

خطیب بغدادی نے امام شافعیؒ سے روایت کی ہے کہ امام مالک بن انس سے معلوم کیاگیا کہ آپ نے ابو حنیفہ کو دیکھاہے؟ فرمایا جی ہاں میں نے ان کو ایساپایا کہ اگر وہ اس ستون کے متعلق تم سے دعویٰ کرتے کہ یہ سونے کا ہے تواس کو حجت سے ثابت کر دیتے۔
امام شافعیؒ فرماتےہیں کہ ’’جو آدمی فقہمیں ماہر ہونا چاہے وہ امام ابو حنیفہؒ کا محتاج ہو گا۔ ‘‘ سفیان بن عینیہ فرماتے ہیں’’ میری آنکھوں نے ابو حنیفہؒ جیسا عالم نہیں دیکھا۔ ‘‘
عبد اللہ
بن مبارکؒ سے روایت ہے کہ ’’ امام ابو حنیفہؒ سب لوگوں سے بڑھ کر فقیہ تھے سے بڑا فقیہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ ‘‘
یزید بن ہارون سےسوالکیاگیا کہ ابو حنیفہؒ اور سفیان ثوریؒ میں سے کون بڑا فقیہ ہے؟ انہوں نےفرمایا ’’ ابو حنیفہؒ فقہ میں ان سے بڑھے ہوئے ہیں۔
خطیب نے حافظابو نعیم سے روایت کی ہے کہ’’ ابو حنیفہؒ مسائل میں غوطہ لگا نے والےتھے۔ ‘‘ نصر بن علی کا قول ہے’’جوآدمی یہ چاہتا ہو کہ اندھے پن اور جہالتسے نکل جائے تو اسے چاہئے کہ امام ابو حنیفہؒ کی کتابوں کا مطالعہ کرے۔ ‘‘عیسیٰ بن یونس نے کہا کہ ’’ہرگز ہرگز ابو حنیفہؒ کے بارے میں کوئی بری باتنہ کہے اور جو کوئی ان کے بارے میں غلط یابری بات کہہ رہا ہو تو ہرگز انکی تصدیق نہ کرے اس لئے کہ خدا کی قسم میں نے ان سے افضل اور ان سے بڑا فقیہ کسی کو نہیں دیکھا۔ ‘‘
صمیری نے یحیٰ بن اکثمؒ سے یہ روایت کی ہے کہ
’’ امام ابو حنیفہؒ پہلے بزرگوں کے صحیح جانشین تھے۔ ‘‘ ائمہ دین کےجوآثار و اقوال امام حنیفہؒ کے مناقب و محامد میں منقول ہیں وہ مذکورہ بالا اقوال سے بہت زیادہ ہیں۔ حق شناس ومنصف مزاج کے لئے مذکورہ آثار ہی پراکتفا کیا جارہا ہے۔
حق پسند علماء نے آپ کی متعدد سوانح عمریاں تحریرفرمائی ہیں مثلا جلال الدین سیوطیؒ کو دیکھئے شافعی ہونےکےباوجودآپکےحالات میں’’ تبییض الصحیفہ فی مناقب الامام ابی حنیفہؒ‘‘ نامی کتابتحریر کی۔ ابن حجر ہتیمی مکی شافعیؒ نے’’الخیرات الحسان فی مناقب الامام الاعظم ابی حنیفہ النعمانؒ لکھی‘‘۔ علامہ عبدالوہاب شعرانیؒ نے اپنی شہرۂآفاق کتاب ’’المیزان‘‘ میں امام ابو حنیفہؒ کا خصوصی تذکرہ کیا اور آپ پروارد کردہ اعتراض کے جواب دیئے۔ آپ کے طریقہ تخریج مسائل کی تصویب کی اوراپنی کتاب طبقات میں انہیں اولیاء میں شمار کیا۔ (حیات حضرت امام ابوحنیفہؒ)
خطیب بغدادی نے محمد بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ ’’امام ابو حنیفہؒ کی عقلمندی انکے قول و فعل، چال ڈھال اور رفتار وگفتار سے بخوبی ظاہر ہوتی تھی۔ ‘‘
قیس بن ربیعؒ سے روایت ہے کہ’’ امامابو حنیفہؒ عقلمند لوگوں میں سے تھے۔ ‘‘ خارجہ بن مصعب سے روایت ہے کہ’’ میں نے ایک ہزار علماء کی زیارت کی ہے ان میں سے عقلمند صرف تین یا چار کوپایا جن میں ایک امام ابو حنیفہؒ ہیں۔ ‘‘ یزید بن ہارونؒ سے روایت ہے کہ’’ میں نے بہت لوگوں کی زیارتیں کی ہیں مگر امام ابو حنیفہؒ سے بڑھ کر عقل مند، ان سے افضل اور ان سے بڑھ کر پرہیز گار کسی کو نہیں پایا۔ ‘‘
امام ابو یوسفؒ فرماتے ہیں کہ ’’ میں کسی ایسے آدمی سے نہیں ملا جو یہ کہہ سکتا ہو کہ اس نے امام ابو حنیفہؒ سے بڑھ کرعقلمند یا زیادہ صاحبِ مروت کسی کو دیکھا ہے۔ ‘‘
احمد بن عطیہؒ کوفی یحیٰ بن معینؒ کا قول نقل فرماتےہیں کہ’’ امام ابو حنیفہؒ بڑے عقلمند تھے۔ جھوٹ نہیں بول سکتے تھے۔ ان کی جیسی تعریف اور ذکرِ خیر عبد اللہ بن مبارؒک کرتے تھے، ویسی تعریف کر تےہوئے کسی کو نہیں سنا۔
خلیفہ ہارون رشید کے سامنے امام ابو حنیفہؒ کاذکر ہوا تو خلیفہ نے رحمت کی دعا کی اور فرمایا ’’امام ابو حنیفہؒ اپنی عقل کی آنکھ سے وہ چیزیں دیکھ لیتے ہیں جسے دوسرے لوگ سر کی آنکھ سے نہیں دیکھسکتے تھے۔ ‘‘ امام صاحبؒ کے پوتے اسمٰعیل بن حماد ایک واقعہ نقل فرماتے ہیں
کہتے ہیں کہ ’’ ہمارا ایک پڑوسی رافضی (شیعہ) تھا، آٹا پیسا کر تا تھا، اس کے دو خچر تھے۔ اس نے ایک کا نام ابوبکراورایک کا عمر رکھا تھا، ایکرات ان میں سے ایک خچر نے رافضی کو لات ماری اور ہلاک کر دیا۔ امام صاحبؒ کوخبر ہوئی توفرمایادیکھوجس خچر نے اس کو لات ماری ہے اسکا نام اس نے عمررکھا ہو گا۔ ‘‘ لوگوں نے تحقیق کی تو ایسا ہی نکلا۔
مذ کورہ حضرات جنہوں نے امام ابو حنیفہؒ کے علم اور عقلمندی کا زبان و قلم سے اعترافکیا ہے، اپنے زمانہ میں علم وفضل،دیانت و پرہیز گاری کے نمونے خیال کئے جا تے تھے۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: