عظیم الشان،بلند و بالا عمارتیں:قیامت کی علامتیں، از:مُفتِی نَاصِر الدین مَظاہری:05

ویران قلوب

 حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا :
ان تزخرف المحاریب وان تخرب القلوب۔ (قیامت کی علامتوں میں سے یہ بھی ہے کہ:)محرابوں کو مزین کیاجائےگامگران کے قلوب ویران ہوں گے۔(الاشاعۃ ۱۴۵، طبرانی وابن عساکر)
 آج پوری دنیا میں اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ: مساجد کی تزئین کاری اور منبر و محراب کی زینت و پرکاری پر کس قدر توجہ دی جا رہی ہےاعلیٰ سے اعلیٰ اور نفیس ترین ڈیزائننگ پر بے دریغ دولت خرچ کی جا رہی ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ: ان فضول کاموں پر اپنی تمام ترتوجہات اور دلچسپی کا مظاہرہ کرنے والوں کے قلوب ویران ہیں نہ تو معماروں کے اندر خلوص وللہ یت ہے اور نہ ہی انجینئروں،ٹھیکیداروں اور متولیان کے قلوب خوفِ  خدا اور زہد و اتقاء سے معمور ہیں، کمال تو یہ ہے کہ: مساجد کی تعمیر کرنے والے مستری  اور کارکنان نماز کے اوقات میں بھی اپنا تعمیری کام جاری رکھتے ہیں نہ تو خود انہیں نماز کی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی ان سےنمازکےلئےکہاجاتاہے کیا اس جرم اور تغافل کا ہم سے حساب نہیں ہو گا۔

کھلی مساجد، اونچے منبر

 حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی مذکورہ بالا روایت میں یہ الفاظ بھی موجود ہیں کہ :
ان تکثف المساجد وان تعلوالمنابر۔ مسجدیں کھلی اور محراب بلند ہوں گے۔ (الاشاعۃ   ۱۴۵)
کھلی فضا، کشادہ و عریض صحن، ہوادار اور پروقار برآمدے، نفیس و نقشیں قالین، مخملی فرش، چمک دار منبر اور نہ جانے کتنے فانوس وقمقمےمساجد میں نظر آرہے ہیں، بیل بوٹے، زر کاری، تراش و خراش، تکلفات و تصنعات اور بے جا رنگ و روغن کونسا ایسا کام ہےجومسجدوں اور دیگر تعمیرات میں نہیں ہو رہا ہے لیکن اگر کوئی چیز ویران ہے تو وہ ہمارے قلوب ہیں جن کے اندر سے للہ یت ختم ہو چکی ہے۔
مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ فرماتے ہیں:
’’آہ!آہ!آج ہماری بہت سی مسجدیں تو نماز اور جماعت کو ترستی ہیں۔۔ان میں انسانوں کے بجائے قسم قسم کے جانور معتکف نظرآتےآتےہیں ۔
گفتم ایں شرط آدمیت نیست                                                                             مرغ تسبیح خواں و تو خاموش
اور جو کچھ آباد بھی ہیں تو ایسی کہ شرعی اصطلاح میں ان کو آباد نہیں کہا جا سکتا بلکہ نبی کریم ﷺایسی مسجد کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں: مساجدہم معودۃ وہی خراب()اخیر زمانہ کے لوگوں کی مسجدیں بظاہر آباد ہوں گی مگر درحقیقت ویران، اول تو ان میں نمازی کم ہیں اورجوکچھ ہیں تو مسجدیں ان کی نشست گاہ (چوپال) بنی ہوئی ہیں اور دنیا کے تمام دھندے کی بارگاہ اور اس قسم کی یہ توقیر آج خداکےگھراس کے ذکر سے خالی ہیں اور دنیا کے تمام دھندے اس میں موجود ہر قسم کے قصے قضیے وہاں طے ہوتے ہیں، بازاروں کاشوروشغب وہاں موجود ہے، وہ کھانا کھانے کے کمرے بھی ہیں اور لیٹنے اور سونے کے لئے  آرام گاہیں بھی ہیں غرض سب کچھ ہے مگراس چیز کا قحط ہے جس کے لئے  خداوند عالم کی یہ بارگاہیں بنائی گئی ہیں ‘‘ ۔                       (آداب المساجد)
آباد کو ویران اور ویران کو آباد کیا جائے گامحمد بن عطیہ السعدی ؒ کی روایت کوابن عساکرؒ نے نقل کیا ہے:
ان یعمر خراب الدنیا ویخرب عمرانہا (علاماتِ قیامت میں سے یہ بھی ہے کہ: ) ویران اور خراب کو آباد کریں گےاورآباد کو ویران کریں گے۔ (الاشاعۃ لاشراط الساعۃ ۱۴۵، طبرانیو ابن عساکر)
علامہ محمد بن رسول برزنجی حسینی ؒ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
ای : یخرب البلد العامر ویبنی بمحل آخرکما نقل مصر الی القاھرۃ وکما نقل الکوفۃ الی نجفۃ(یعنی)آبادی کو ویران کر کے دوسری جگہوں پر تعمیر کریں گے جیسے مصر کو قاہرہ منتقل کیا گیا، ایسے ہی کوفہ کو نجف منتقل کردیاگیا۔(الاشاعۃ ۱۴۵)
حضرت عبد اللہ بن زینب ؓ سے روایت ہے کہ: آپﷺ  نے ارشاد فرمایاواخرب العامر واُعمرالخراب آبادیوں کو ویران کیاجائے گا اورویرانیوں کو آباد کیا جائے گا۔ (الاشاعۃ ۱۵۲، عبدالر زا ق)

خوشنما تعمیرات کی ابتدا

خلیفۂ  دوم حضرت عمرؓ کا دور خلافت فتوحات اور اسلامی ترقیات کے باب میں نہایت نمایاں مقام کا حامل ہے لیکن ان کے دورخلافت میں تعمیرات میں تنوع کے سلسلہ میں غایت احتیاط رکھی گئی لیکن خلیفۂ  سوم حضرت عثمان غنیؓ کے دور خلافت میں تھوڑی سی زیبائش آئی اور وہ بھی مستحکم عمارات کے ضمن میں، بات یہ ہوئی کہ اس دور میں نفاست بڑھ گئی تھی، لوگوں نے محل بنوانے شروع کر دئے، جس کی وجہ سےحضرت عثمانؓ نے بھی اس کی ضرورت محسوس فرمائی کہ مسجد کی عمارت میں ترقی دی جائے۔
مسجد کی زینت میں حضرت عثمانؓ کے دور میں پھر بھی اعتدال تھا لیکن بنی امیہ کے خلیفہ ولید بن عبدالملک بن مروان کے دور خلافت میں  چونکہ صحابہ کرام کا اخیر زمانہ تھا، اس وقت مدینہ کے عامل (گورنر)حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ تھے ان ہی کی نگرانی میں مسجد نبوی کی تعمیرجدید شروع ہوئی اور صناع و معمار قیصر روم کے یہاں سے منگوائے گئے، ساز و سامان بھی بہت کچھ وہیں سے آیا، کاری گر چونکہ قبطی یارومی تھے اس لئے انہوں نے موقع بموقع مسجد کی بے حرمتی بھی کی اور نقش و نگار اور جھاڑ و فانوس کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہ رہا، صرف قبلہ والی دیوار پر۴۷ہزار اشرفیاں خرچ کی گئی تھیں، تین چار سال میں یہ کام مکمل ہوا تھا۔تکمیل عمارت کے بعد ولید دیکھنے آئے تو اتفاق سےان کی ملاقات حضرت عثمانؓ کے کسی صاحبزادے سے ہو گئی ولید نے ان سے کہا دیکھئے آپ کے والد کی تعمیر کردہ مسجد اور اس میں کتنا فرق ہے؟یہ سن کر صاحب زادے نے جواب دیا کہ ہاں میرے باپ کی تعمیر مسجد تھی اور آپ کی یہ تعمیر کردہ عمارت یہود و نصاریٰ کے کنیسوں جیسی  ہے۔(اسلام کا نظام مساجد ص ۱۶۹)

حلال مال

ہر چیز میں ضروری ہے کہ: نیت کی اصلاح کے ساتھ اس کا بھی خیال رکھا جائے کہ مسجد میں جو مال لگایا جا رہا ہے وہ حلال کمائی کا ہے یا نہیں ؟
حرام مال اپنا ایک اثر رکھتا ہے جو کبھی نہ کبھی فتنہ و فساد کا مرکز بن جاتا ہے جیسے زہر کہ اگر فوری طور پر کچھ بھی نہ ہو تو بھی مطمئن نہ رہناچاہئے پھر یہ مال جو مسجد جیسی پاک جگہ میں صرف ہو رہا ہو، یہ دربار الہی ہے اور اس کی نیت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے اس لئے اس میں ناپاک مال کی ذرہ برابر گنجائش نہیں ہے۔ان اللّٰہ طیب لایقبل الا الطیب(مسلم)
بیشک اللہ تبارک تعالی پاک ہے وہ بجز پاک اور حلال کے قبول نہیں کرتا۔(اسلام کا نظام مساجد)
 مساجد کا نقش و نگار وقف کے مال سے جائز نہیں مسجد کا نقش و نگار وقف کے مال سےجائز نہیں ہے لیکن استحکام جائزہےواما المتولی یفعل من مال الوقف مایرجع الیٰ احکام البناء دون مایرجع الیٰ نقش حتیٰ لوفعلہ یضمن۔    متولی مال وقف سے تعمیری استحکام تو کر سکتا ہے، نقش و نگار نہیں اگر (بیجا)نقش ونگارکرےگاتوضامن ہو گا۔ (ہدایہ۲/۱۲۴)
فقہ کی مشہور کتاب در مختار میں ہے کہ:ویکرہ التکلف بدقائق النقوش ونحوہا باریک نقش و نگار اور تزئین کاری مکروہ اور ناپسندیدہ ہے۔(در مختار باب الوتر والنوافل)
امام ربانی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ:’’مکان بنوانا کس قدر اونچا درست ہے،زیدکہتاہےکہ: چھ گز سے زیادہ مکان بنوانا نہ چاہئے’‘
اس سوال کا جواب حضرت امام ربانیؒ تحریر فرمایا کہ:’’قدر گزر اور ضرورت سے زیادہ تعمیر ناپسند ہے، قال النبی کل بناء وبال الامالا بدمنہ یعنی جو تعمیر ہے وہ سب وبال اور خرابی ہے مگر جس قدر کہ ضروری ہو، مگر پانچ چھ گز کی کچھ قید نہیں ہے ہر شخص کی ضرورت مختلف ہے’‘ (فتاویٰ رشیدیہ۵۵۷)
اسی طرح عموماً کسی دینی تقریب یا رمضان شریف میں ختم کلام اللہ کے موقع پر بعض لوگ ضرورت سے زیادہ روشنی وغیرہ کا نظم کرتے ہیں، ایسے ہی موقع کے لئے  حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ فرماتے ہیں:
حاجت سے زیادہ روشنی ہر روز ہر وقت حرام اسراف ہے اور ایسی برکت کے وقت میں زیادہ موجب خسران ہے’‘(ایضاً۵۲۴)
حکیم الامت حضرت تھانویؒ فرماتے ہیں:
’’حضرت گنگوہیؒ کا قول یاد آتا ہے کہ: اگر ان کے پاس کوئی فہرست مسجد کے چندہ وغیرہ کی لے کر آتا تو فرماتے کہ میاں !کیوں لوگوں کے پیچھے پڑے ہو؟مسجد یا مدرسہ بنانا ہی ہے تو کچی دیواریں اٹھا کر بنا لو، اگر وہ کہتا کہ حضرت کچی دیواریں گر جائیں گی، تو فرماتے کہ میاں !پکی بھی آخر گریں گی، تو جب گر جائیں گی دوسرا بنا وے گا، تم قیامت تک کابندوبست کرنے کی فکر میں کیوں پڑے ہو؟بات یہ ہے کہ:
آرزو می خواہ لیک اندازہ خواہ برنتابدکوہ
رایک برگ گاہچارپاراقدربارنہ
رضعیفان قدر ہمت کار نہ ‘‘
 حضرت تھانویؒ نے ایک دوسری جگہ تحریر فرمایا ہے کہ:
’’آج کل مسجدیں بہت عالیشان ہیں، مگر نمازیوں کی کمی ہے، اس کے بجائے اگر مسجدیں کچی ہوں اور نمازی زیادہ ہوں تو یہ بہت اچھا ہے، غرض اصل کام کے لئے تو روپیہ تھوڑا بھی کافی ہے جو ترغیب سے بھی مل سکتا ہے، یہ کیا ضرورت ہےکہ: عالیشان مسجد بنانے کی ٹھان لو اور اس کے لئے لوگوں کے گلے گھونٹ گھونٹ کر سوال کی ذلت اٹھاکر چندہ لو۔۔علیٰ ہذا۔۔
کوئی مدرسہ کھولنا ہو تو آج کل عادت یہ ہو گئی ہے جو مدرسہ کی اصلی غرض ہے اس کی طرف تو لوگ نظر کرتے نہیں زوائد کو شروع کر دیتے ہیں، سب سے پہلے عمارت بنتی ہے او ر وہ بھی ایسی ہوتی ہے کہ: لوگ تماشہ کے لئے آیا کریں روپیہ جو کچھ ہوتا ہے وہ تو اس میں خرچ ہو جاتا ہے مدرسہ سے اصل غرض تعلیم ہے اس پر تومٹی ڈال دی اور مدرسین اور طلبہ کی پڑھائی اور عالی شان عمارت بنا کر کھڑی کر دی چا ہے مدرسین ناقابل ہی ہوں اور چا ہے طلبہ بھوکے ہی  مرتے ہوں کیا صاحبو کچے مکان میں تعلیم نہیں ہو سکتی عمارت کو تعلیم میں کیا دخل ہے، جتنا روپیہ عمارت میں صرف کرتے ہو اتنا روپیہ مدرسین کی تنخواہوں اور طلبہ کے وظیفوں میں خرچ کرو اس طرح تھوڑے روپیہ میں زیادہ کام ہوگااورجو غرض ہے مد رسہ سے وہ بوجہ احسن پور ی ہو گی اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہو گا کہ دیکھنے والوں پر بھی اثرہوگا،دنیا میں سب لوگ ظاہر بیں ہی نہیں ہیں سمجھدار لوگ بھی ہیں سب لوگ اس خیال کے نہیں ہیں کہ بڑامدرسہ اس کو سمجھیں جس کی عمارت بڑی ہو بلکہ اس خیال کے لوگ بھی ہیں جو اصل مقصودکو دیکھتے ہیں، تعلیم اچھی ہو گی تو اس پر نظریں اچھی پڑیں گی اور اس میں امدادکرنے کے لئے  خواہ مخواہ دلوں میں حرکت پیدا ہو گی’‘ (اصلاح اعمال ذم المکروہات ص ۴۴۲تا۴۴۴  ملخصا)
تاریخ حرمین شریفین جلد دوم میں ہے کہ:
آپ ﷺکی خدمت میں جبرئیل ؑ تشریف لائے اور عرض کیا یا نبی اللہ ، اللہ تعالی کا آپ کو حکم ہوا ہے کہ: ایک گھر’’مسجد’‘ بنائیں اور اس کی تعمیر گارے اور پتھر سے کریں، آپ ﷺنے دریافت فرمایا کتنا بلند کر دیں ؟جواب میں ارشاد ہوا سات ذراع’‘   (تاریخ حرمین شریفین ص۱۴۵ج۲)
’’آپ ﷺکی ازواج مطہرات کے حجرے بھی صرف کھجور کی شاخوں اور محض کچی اینٹوں کے تھے اور دروازوں پر پردہ کے لئے سادہ پرانے کمبل پڑے رہتے تھے چراغ بھی نہیں چلتا تھا’‘  (تاریخ حرمین شریفین ص۱۴۷ج۲ )
حضرت عثمان ؓ کے دور خلافت میں جب مسجد نبوی کی تعمیر شروع ہو گئی تو حضرت کعب احبار فرمایا کرتے تھے ’’کاش یہ تعمیرمکمل نہ ہو’‘ اگر ایک طرف سے مکمل ہو تو دوسری طرف سے گر جائے لوگوں نے دریافت کیا، آپ ایسی بات کیوں کہتے ہیں ؟ جب کہ آپ خود حدیث بیان کرتے ہیں کہ مسجد نبوی میں ایک نماز کا ثواب دوسری مسجد کی ایک ہزارنمازوں سے افضل ہے؟انہوں نے جواب دیا!بیشک میرا اب بھی یہی عقیدہ ہے لیکن میں یہ بات اس لئے کہتا ہوں کہ اس عمارت کے مکمل ہونے پر مسلمانوں پر ایک فتنہ نازل ہو گا کہ اس کے اور زمین کے درمیان ایک بالشت سے زیادہ فاصلہ نہ ہوگااور وہ فتنہ اس تعمیر تک رکا ہوا ہے، لوگوں نے کعب احبار سے پوچھا وہ کون سا فتنہ ہو گا؟ انہوں نے کہا اس شیخ یعنی حضرت عثمان ؓ کا قتل ہونا؟ان کی یہ بات سن کر کسی نے پوچھا کیا حضرت عثمان حضرت عمر ؓ کی طرح قتل کئے جائیں گے؟۔
(تاریخ حرمین شریفین ص
۱۶۰ج۲ بحوالہ حزب القلوب)
مولانا ابن الحسن عباسی لکھتے ہیں ؛
’’آج عالم اسلام تاریخ کے بہت نازک دور سے گزر رہا ہے غیرمسلم قوتیں تمام اسباب و سر و سامان کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف متحد ہیں، ہر صبح اور ہر شام اسلام کی چول ہلانے کے لئے کسی نئی ضرب کفر سمیت نمودار ہوتی ہے،برمااورفلسطین کے مسلمان بے کسی کے ہاتھوں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں، اندلس کی وہ سرزمین جو آٹھ سو سال تک پرچم اسلام کی رفعت دیکھتی رہی آج مسلمانوں کے اس دیس میں اسلام کا نام و نشان نہیں، اسی اندلس کی وہ مسجد قرطبہ جو چار سو سال تک اذان رسول اللہ کی صداؤں سے معمور رہی آج وہ سیاحان عالم کے لئے تفریح گاہ بنی ہوئی ہے، بیت المقدس پر یہودیوں کا تسلط ہے اور اللہ کا یہ مقدس گھر مسلمانوں کے دسترس سے باہرہے۔
دیدہ انجم میں ہے تیری زمین، آسمان آہ
کہ صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذان
محدث کبیر حضرت مولانا خلیل احمد محدث سہارنپوریؒ مساجد کو تماشہ گاہ بنانے کو بہت زیادہ ناپسند فرماتے تھے، چنانچہ مظاہرعلوم وقف کے دار الطلبہ قدیم کی مسجد کلثومیہ تیار ہونے پر بعض عورتیں پردہ کرا کے دیکھنے آئیں تو آپ ؒ نے فرمایا:
’’جو وہاں جائے تو تحیۃ المسجد ضرور پڑھے’‘بعض احباب نے حضرت محدث سہارنپوریؒ سے راجستھان کے مشہور قلعہ آمیرکو
دیکھنے کے لئے اصرار کیا تو اس کو دیکھنے کے لئے پہاڑ پر تشریف لے گئے اس لئے کہ وہ قلعہ پہاڑ پر واقع ہے، اسی قلعہ سے قریب ایک پرانی یادگار شاہی مسجد بھی ہے جب آپ نے اس میں قدم رنجہ فرمایا تو اپنے خادم حضرت مولانا عاشق الہی میرٹھیؒ کو حکم دیاکہ :
’’مولوی عاشق الہی!تحیۃ المسجد ادا کرنے کے لئے وضو کر لو کیونکہ مسجد کو تماشہ گاہ بنانا جائز نہیں، یہ عبادت کے لئےہے نہ کہ یادگار سمجھ کر دیکھنے کے لئے’‘ایک مرتبہ آپ شملہ تشریف لے گئے وہاں ایک مسجد کے نائب نے بعدنمازمسجدکامعائنہ کرایا اور خوشی خوشی مسجد کی پالش پر ہاتھ پھیر پھیر کر اس کی نفاست و عمدگی کی تعریف کی، حضرت علیہ الرحمۃ بڑی متانت اور سنجیدگی کے ساتھ فرمایا’’پالش تو بہت اچھی ہے مگر یہ تو بتلاؤ کہ یہ زیبائش جائز بھی ہے یا نہیں ؟اور بھئی یہ سب چندہ جمع کر کے کی گئی ہو گی، بھلا چندہ دہندگان سے ایسا کرنے کی اجازت بھی لی گئی تھی یا نہیں ؟
نائب امام صاحب اور تمام نمازی دنگ رہ گئے ذرا دیر کے بعد نائب صاحب نے فرمایا: حضرت یہ تو پیش امام جانے، فرمایاواہ  کیا خوب، آرائش کی تعریف تو آپ کریں اور جواب دیں مولوی صاحب، مثل ہے ’’دھیوتا کرے اور دادا چٹی بھرے’‘  (تذکرۃ الخلیل)
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ تحریر فرماتے ہیں:
’’مسجد کی دیواروں اور فروش میں رنگ برنگ کے بیل بوٹے نکالنا جو نماز میں خیال کو منتشر کرتے ہوں مکروہ ہےاوربالخصوص محراب قبلہ کی دیوار میں زیادہ مکروہ ہے’‘ (آداب المساجد)
  ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں :
’’تزئین اور گلکاری۔۔اور بے جا زینت و گلکاریاں مکروہ  و مذموم (ہیں )البتہ اگر لکڑی یا گچھ اور چونا وغیرہ کے نقش بنالئےجائیں تو مضائقہ نہیں، لیکن اس کا بھی ترک اولیٰ ہے اور خلاصۃ الفتاویٰ میں ہے کہ: بیل بوٹوں میں روپیہ صرف کرنے سے اولیٰ یہ ہے کہ: اس کو فقراء اور مساکین پر صرف کیا جائے۔۔یہ سب چونے اور گچھ وغیرہ کے بیل بوٹےبنوانابھی اس وقت درست ہے کہ: بنوانے والا ان کو اپنے مال سے بنوا رہا  ہو لیکن اگر وقف یا چندے سے بنائی جاتی ہے تو جب تک وقف کرنے والا یا چندہ دینے والے اس کی اجازت نہ دیں، اس وقت تک ہر گز جائز  نہیں ہےاوراگرمہتمم مسجد کے بلا اجازت چندہ یا وقف کا روپیہ جائز نقش و نقوش میں صرف کیا تو وہ اس روپیہ کا ذمہ دار ہوگا۔۔اسی طرح مسجدکی دیواروں پر لکھنا بھی درست نہیں ہے۔(آداب المساجد ملخصاً)
حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب ؒ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ:
’’دیواروں دروازوں، محرابوں یا عمارت کے کسی حصہ پر آیات و احادیث یا ان کا  لکھنا خلاف اولیٰ اور مکروہ ہے۔۔دیوارقبلہ پر نقش و نگار بنانا بھی مکروہ ہے، چندہ دینے والے اگر اس کام سے راضی ہوں تو پھر وجہ کراہت یہی ہو گی کہ نمازیوں کا دل اس پر مشغول رہے گا۔(کفایت المفتی ۳/۱۴۰)
حکیم الامت حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانویؒ نے امدادالفتاویٰ میں کشاف اور مدارک کے حوالہ سے تحریر فرمایا ہے کہ:
کل مسجد بنی مباہاۃ اور یاء وسمعۃ اولغرضسویٰ ابتغاء وجہ اللّٰہ اوبمال غیر طیب فھولاحق بمسجد الضرار۔ (امدادالفتاویٰ ۲/۶۶۸)
ہر وہ مسجد جو فخر، ریاکاری، شہرت یا اور کسی ایسی غرض سے بنائی جائے جو اللہ کی خوشنودی کے علاوہ ہے یا غیر پاکیزہ  مال
سے بنی ہے وہ مسجد ضرار کے ساتھ لاحق ہو گی۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: