گلوبلائزیشن:Globalization04:

مجلس اقوام متحدہ (UNO)

 ۱۸۹۷ء میں سوئٹزرلینڈ کے شہر بازل (basel)میں یہودی دانش وروں کی کا نفرس ہوئی تھی جس میں انیس ابواب پر مشتمل دستاویزات تیار کی گئی تھیں۔اس کے گیارہویں اور انیسویں دستاویزوں میں عالمی حکومت کا خاکہ پیش  کیا گیا تھا، بارہویں باب میں پریس اور دیگر ذرائع ابلاغ کو قابو میں لانے کی بات کہی گئی تھی اورسولہویں باب میں تعلیم کے ذریعے ذہنی تطہیر کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا۔
 اس کے بعد ہی ان دستاویز ات کے مطابق عملی کوششیں شروع ہو گئیں۔ان ہی کوششوں کا نتیجہ دو عالمی جنگیں ہیں۔یہ جنگیں برپا ہی اس لیے کی گئی تھیں کہ اس کے نتیجے میں ایک نئے عالمی نظامی کا ایک مرکز قائم کیاجاسکے۔چنانچہ پہلی ہی عالمی جنگ(۱۹۱۴ ء تا ۱۹۱۸ء)کے دوران امریکی صدرولسن کے سیاسی مشیر کرنل مانڈ یل ہاؤس نے اپنے رفقاء کی مدد سے لیگ آف نیشنز (league of nations)کے خد خال متعین کئے اس خد خال کے مطابق ۱۹۱۷ء میں امریکی صدرولسن نے امریکی قوم کے سامنے لیگ آف نیشنز کی تجویز پیش کی اور باضابطہ طور پر جنوری ۲۰ ۱۹ء میں معاہد طاقتوں نے اسے قائم کر دیا۔
 اس طرح لیگ آف نیشنز کے منصوبہ سازوں نے امریکہ کو مزید ہموار کرنے کے لیے امریکی حکومت کے دروبست جا ری ہونےکامنصوبہ بھی بنا ڈالا۔چنانچہ حکومت کے تمام اجزاء عملیہ، مقنّنہ اور عدلیہ (Executive, Legislative & Judiciary)کے ساتھ ساتھ ان تمام مراکز پر بھی اپنے اثرو رسوخ قائم کرنے اور باضابطہ ان میں نافذکرنے کی منصوبہ بندی کر لی جن کا کسی نہ کسی طور پر ان کے منصوبے سے تعلق تھا۔اس مقصد کے حصول کے لیے کرنل ایڈورڈمانڈیل ہاوس نے خفیہ طورپر اپنے گروپ کے ساتھ امریکہ کے بجائے اپنے پرانے مر کز لندن میں مشاورتی اجلاس منعقد کیا اورفیصلہ کیا کہ امریکہ میں ’’امریکی ادارہ برائے عالمی امور‘‘ (American Association for World Affairs) نام کا ادارہ قائم کیا  جائے۔پھر ۱۹۲۱ء میں اسے ترمیم کر کے ’’کونسل برائے روابط خارجہ ‘‘(Council of Foreign  Relations)کردیا گیا۔
 اس کے بعد اس کے ماتحت مختلف ذیلی ادارے بنائے گئے۔ان میں سے ہر ایک ادارے کے مقاصد متعین کر کے انہیں اپنے ہی ماتحت رکھا گیا، مثلاً تجارتی کونسل (Business Council) ایشین انسٹی ٹیوٹ (Asian Institute)اٹلانٹک  کمیٹی (Atlantic Committee)متحدہ عالمی وفاقی (United World Federalist)وطنی کمیشن  (Territorial Commission) وغیرہ۔

ْْC.F.R.

 کونسل برائے رابط خارجہ ((C.F.R.نے وجود میں آتے ہی خارجہ امور (Foreign Affairs) کے نام سے اپنا ترجمان نکالنا شروع کر دیا اس ادارے کے ارکان نے جوسب کے سب یہودی تھے امریکی حکومت کے ٹیکس مستثنیٰ(Tax  Exempted) بڑے بڑے ادارے میڈیا اور بینکوں کے علاوہ ڈیمو کر یٹک اور ریپبلکن پا رٹیوں اور اثر و نفوذ کے دوسرے مراکز پر قبضہ کر لیا۔اور پھر ڈیلی کار نیگی، فورڈ فاؤنڈیشن، راک فیلر فاؤنڈیشن اور نیویارک ٹائمز یہاں تک کہ تمام امریکی ٹی وی اسٹیشنوں پر قبضہ جما لیا۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جو قوم مہاجر بن کر بے سر و سامانی کے عالم میں ۱۷۴۸ء میں امریکہ آئی تھی، برٹش استعماروں کے ہاتھوں ۱۷۷۶میں تیرہ ریاستوں کے اشتراک سے اپنی حکومت کا باضابطہ اعلان کیا تھا اور پھر جلد وہ تیرہ ریاستیں پچاس ریاستوں میں منقسم ہو گئیں اور   ان کا وفاق بتا تھا۔ اس طرح یہود امریکہ پر پو ری حاوی ہوچکے ہیں اور امریکہ کےتمام دروبست پر طرح کنٹرول ہے۔
 امریکی صدرروز ویلٹ، سے لے کر، صدر رونا لڈریگن، تک نو امریکی صد ور کے خارجہ امور کے مشیر مسٹر جان میکالے کا کہنا ہے کہ ہمیں جب بھی امریکی حکو مت کے لیے کل پرزوں کی ضرورت ہو تی ہے، تو ہم سب سے پہلے C.F.R. کے مرکزی دفتر  نیویارک سے رابطہ قائم کر تے ہیں، C.F.R.کے غیر معمولی اثر و نفوذ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے۔ ۱۹۵۲ء سے لے کر اب تک امریکی دونوں سیاسی پارٹیوں ڈیموکریٹک (Democratic) اور رِی پبلکن ((Republicanنے امریکی صدارت کے لیے جتنے لوگوں کو نام زد کیا ہے ان میں سے رونالڈ ریگن کے سوا سبھوں کا تعلق C.F.R.سےتھا۔
 اور رونا لڈ ریگن کے۔C.F.R سے تعلق نہ ہونے کا تدارک بھی اس طرح کر لیا گیا کہ اسے مجبور کیا گیا کہ وہ اپنا نائب جارج بش کو بنائے جو۔C.F.R کا ممتاز رکن تھا۔ریگن کی حکومت جو تین سو تیرہ ارکان پر مشتمل تھی وہ سب کے سب۔C.F.R کےارکان تھے۔اسی طرح بل کلنٹن نے اپنا عہدہ سنبھالتے ہی۔C.F.R کے صدر وان کر سٹوفر کو اپنی حکومت چلانےکےلیےمطلوبہ اشخاص کی پوری آزادی دے دی۔چناچہ اس کی حکومت کے پیش تر ارکان F.C.R کے ممبرتھے۔
۱۴اگست ۱۹۱۴ء کو امریکی صدر روزویلٹ اور برطانوی وزیر اعظم چرچل نے ایک عالمی نظام اور دائمی قیام امن کے معاہدے پردستخط
کئے اور جنوری
۱۹۴۲ء میں چھتیس حلیف ملکوں نے ’’مجلس اقوام متحدہ‘‘ ( United Nations OrganisationU.N.O.)کے چارٹر پر دستخط کئے اور اس معاہدے کی تصدیق کی۔پھر جنوری ۱۹۴۳ء میں وزیر خارجہ کارڈویل ہیل نے اپنی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس کے تمام ممبر۔C.F.R سے تعلق رکھتے تھے۔اس کمیٹی نے اقوام متحدہ کے قیام کی تجویز کا مکمل خا کہ بنا کر امریکی صدر کو پیش کر دیا جس نے ۱۵جون ۱۹۴۴ء کو امریکی عوام کی سامنے اس ادارےکے قیام کا اعلان کر دیا۔پھر ۲۶جون ۱۹۴۵ء کوسان فرانسسکو میں اقوام متحدہ کے چارٹرکا عمومی اعلان کیا گیا، جس پر دنیا کے پچاس ممالک نے دستخط کئے۔ اس اعلامیے میں فوجی کونسل کے قیام اور استعمال کو بھی ان ممالک نے منظور کر لیا۔ اسی طرح دستور ساز کمیٹی میں چوں کے C.F.R.کے ارکان کی غالب اکثریت تھی اس لیے تمام دفعات بلا کسی پس وپیش کے اکثریت سے منظور کر لیے گئے؛ اس طرح یہودی عالمی حکومت کی بنیاد مستحکم ہو گئی، یہاں تک کہ جون ۱۹۹۲ء میں ملکوں کے اندrونی معاملات میں باقاعدہ مداخلت کو قانونی حیثیت بھی دے دی گئی۔
 پوری دنیا پر اقتدار قائم کرنے کے لیے تھوڑے ہی دنوں میں کئی ذیلی ادارے قائم کردئے گئے اور ان اداروں کو ساری دنیا میں متحرک کر دیا گیا جو ظاہر ہے کہ تمام نظامت زندگی پر اپنا تسلط قائم کرنے کے مؤثر حر بے ہیں۔
ان میں سے چند اہم اداروں کا ذکر کیا جاتا ہے :
I.C.A.O. (International Civil Aviation Organisation) 1944
I.B.R.D (International Bank for Reconstruction and
Development) 1944
F.A.O. (Food and Agriculture Organisation) 1945
U.N.I.C.E.F. (United Nation Children’s Education Fund) 1946
U.N.E.S.C.O (United Nations Education, Scientific and
Cultural Organisation) 1946
W.B. (World Bandk) 1946
W.M.O. (World Meteorological Organisation) 1947
G.A.T.T. (General Agreement on Tariffs and Trades) 1947
I.M.O. (The International Maritime Organisation) 1948
I.F.C. (International Finance Corporation) 1956
I.D.O. (International Development Organisation) 1960
U.N.C.T.A.D. (United Nations Conference on Trade and
Development) 1964
U.N.D.P. (United Nations Development Programme) 1965
I.L.O. (International Labour Organisation) 1969
U.N.I.D.O. (United Nations Industrial Development
Organisation) 1985
W.T.O. (World Trade Organisation) 1995 (کی
جگہ
GATT)
U.N.G.A. (United Nations General Assembly)
U.N.S.C. (United Nations Security Council)
I.C.J. (International court of Justice)
I.M.F. (International Monetary Fund)
W.H.O. (World Health Organisation)
I.R.C. (International Red Cross)
N.P.T. (Nuclear Non-Proliferation Treaty)
I.A.E.A (International Atomic Energy Agency)
U.N.C.S.T.D. (United Nations Conference on Science and
Technology fro Development)
U.N.E.P (United Nations Environment Programme)
N.I.D.O (United Nations Industrial Development Organisations)
I.C.P.D (International Conferene on Population and
Development) etc.
 مذکورہ بالا ادارے براہ راست اقوام متحدہ کے ماتحت یہودی عالمی حکمرانی کے لیے کام کرتے ہیں۔
ان کے علاوہ ساری دنیا پر اقتدار کے قیام اور استحکام کے لیے مختلف قسم کے این جی اوز (
Non Governmental Organisations) (N.G.O.s) کا پوری دنیا میں ایک زبردست، ہمہ جہت اور ہمہ گیر جال پھیلایا ہوا ہے۔
مثلاً:
ہیومن رائٹس کمیشنH.R.C (Human Rights Commission)
ہیومن رائٹس واچH.R.W. (Human Rights Watch)
ایمنسٹی انٹرنیشنلAmnesty International
ریڈکراسRed Cross
ریڈ کریسنٹRed Crescent
ایکشن ایڈAction Aid
پاپولیشن کونسلPopulation Council
پریزنرزآف وارP.O.W.(Prisoners of War)
ارلی چائلڈ ہوڈکیئر اینڈ ڈیولپمنٹE.C.C.D. (Early Child Hood
Care and Development)
ورlڈ فوڈ پروگرامW.F.P. (World Food Programme)
چائلڈ ریلف اینڈیوC.R.Y. (Child Relief and you)
سیودی چلڈرنSave the Children
یونائٹیڈاسٹیٹس ایجنسی برائے صنعتی ترقیU.S.A.I.D. (United States, Agency for Industrial Development)
ڈپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹD.F.I.D. (Deptt for International Development)
وغیرہ این جی اوز کی شاخیں دنیا کے ہر ایک خطے اور علاقے میں پھیلادی گئی ہیں، حتی کہ انسانی معاشروں کی تمام اکائیوں تک پہنچادی گئی ہیں۔
 اس قسم کے تمام ادارے دراصل دو قسم کے کارنامے انجام دیتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ ساری دنیا سے ہر قسم کی خبریں یہود اور ان کےمختلف مراکز کو پہنچانے کے بہت بڑے ذرائع ہیں، گوکہ ان اداروں کے قیام و عمل کے مقاصد کچھ اور ہی بتائےجاتےہیں،اوراس تعلق سے ان کی کچھ کارکردگیاں بھی دکھائی جاتی ہیں۔ اور دوسرا یہ کہ اقوام متحدہ کی وضع کردہ پالیسیوں کی تبلیغ و اشاعت اور ترویج و تشہیر کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ پھر یہ کہ کسی بھی کسی بھی سماج، معاشی، رفاہی، اصلاحی، تعلیمی اورمذہبی مقاصد کے تحت وجود میں آنے والے اداروں، جماعتوں، تنظیموں اور فورموں میں ان کے افراد باضابطہ شامل ہوتےہیں،جو ان اداروں ، جماعتوں ، تنظیموں اور فورموں کی پالیسیوں، منصوبوں اورکارکردگیوں سے انہیں آگاہ کرتےرہتےہیں،اور ساتھ ہی ساتھ بالواسطہ اقوام متحدہ کے منشورات کی ترویج و تشہیر اور ان پر عمل آوری کی مثالیں بھی قائم کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً حقوق نسواں ، حقوق انسانی ، اشتراک و مذاہب مابین تفاہم، انسدادِ دہشت گردی وغیرہ۔
 یہ تمام تر کوششیں در اصل ساری دنیا کو عقائد و اعمال دونوں طرح سے ایک طرف اقوام متحدہ کے زیر اثر لانے کی زبردست کوششیں ہیں اور دوسری طرف ہر قوم بالخصوص مسلمانوں کو ان کے اپنے دین و مذہب اور تمدن و ثقافت سے بےگانہ اور منقطع کرڈالنے کی مذموم چالوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو سیاسی، معاشی ، تعلیمی اور اخلاقی ہر لحاظ سے نہایت ہی پسماندہ بنا کر رکھ دینے اور بیش از بیش جانی اور مالی تباہی و بربادی کی نذر کر دینے کی منصوبہ بند کوششیں ہیں۔
 صدیوں کی محنت و کاوش کے نتیجے میں ترتیب دیئے ہوئے یہودی عالمی نظام کی پالیسی اور منصوبے کے مطابق حب امریکہ نے لیگ آف نیشنز(League of Nations)اور مجلس اقوام متحدہ (United Nations Organization)کےراستے پوری دنیا پر اپنا اقتدار قائم کر لیا، تمام ممالک پر اپنی گرفت مضبوط کر لی اور دنیا کی تمام حکومتیں اپنے اختیارات مکمل طور پر کھو دئے اور اقوام متحدہ کے آگے سر نگوں ہو گئے تو جنگ خلیج ۱۹۹۱ کے بعد امریکہ نے اس عالمی نظام کاکھل کر ’’نیو ور لڈ آرڈر‘‘ (نیا عالمی New World Order)کےنام سے اعلان کر دیا، جس کے لیے بعد میں پھرگلوبلائزیشن (Globalisation)کی اصطلاح بھی استعمال کی جانے لگی۔یہ اعلان اس بات کی علامت تھی کہ اب اس بحیثیت قوم یہودی حکومت اور بحیثیت ملک امریکہ کے اقتدار کو چیلنج کرنے والا یا اس کے مد مقابل کوئی بھی ملک باقی نہ رہا اور نہ ہی کوئی طاقت سد راہ رہ گئی، بلکہ ساری دنیا ہر لحاظ سے مکمل طور پر اس کے قبضہ میں آ گئی اور دنیا کی ساری قوموں کو اپنا غلام و محکوم بنا لینے کا وہ پورا پورا مجاز ہو گیا۔
 چوں کہ یہودی عالمی حکومت کا  اصل ہدف اسلام کومٹا ڈالنا، مسلمانوں کو زیر تسلط لانا، انہیں محکوم بنا لینا اور مسلمانوں کی نام نہادحکومتوں کو براہ راست اپنی تحویل میں لے لینا ہے، اس لیے یہودی عالمی حکومت امریکہ کی علم برداری میں ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا بڑے پیما نے پر سلسلہ جنگ خلیج سے شروع کرتی ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپر یل ۱۹۹۱ءمیں قرار داد پاس کر کے عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا فیصلہ کر لیا۔ چنانچہ اس فیصلے کے مطابق عراق کو تباہ و بربادکرنےکے ساتھ ساتھ غذائی اشیاء کی در آمد اور بر آمد پر پابندی عائد کر دی گئی یہاں تک کہ پیٹرول کی قیمت پر بھی پہرےبٹھادیئے۔اور پھر تمام ملکوں میں اس طرح کی مداخلت کا دروازہ چوپٹ کھول دیا گیا۔ لہٰذا، بوسنییا، ہیتی اور صومالیہ میں یہی کھیل پوری طرح کھیلا گیا اور جزوی طور پر لیبیا، کمبوڈیا، لائبیریا، نائیجیر یا، سوڈان اور انگولا میں یہی کھیل ہوتا رہا، اور کوسووا میں تومسلمانوں کی نسل کشی کا نیا مذموم ظالمانہ طریقہ ناٹو (North Atlantic Treaty Organization- N.A.T.O.)افواج کی سرپرستی میں اختیار کیا گیا۔افغانستان میں اس قدر بم بر سائے گئے کہ آبادی تو آبادی پہاڑوں تک کی خیریت نہ رہی۔ اور ایک بار پھر عراق کو تہس نہس کر کے رکھ دیا گیا۔یہاں کہ عراقیوں کی جان و مال کی تباہی و بربادی کا سلسلہ
ہنوز جاری ہے۔یہ سلسلہ عراق تک محدود نہیں ہے بل کہ اس کے بعد ایران نشان زد ہو چکا ہے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہر دو چار سالوں کے وقفے وقفے سے ایک ایک کر کے تمام مسلم ممالک کو تباہ و برباد کر دینے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔
 موجودہ عالمی نظام جو قوم یہود کی ساختہ پرداختہ ہے، جس کے تمام تانے بانے یہودیوں کی اسلام اور مسلم دشمنی کے ناپاک عزائم اور منصوبہ کا نتیجہ ہیں اور عالمی نظام کی وضع کردہ تہذیب و ثقافت جسے مغربی تہذیب و ثقافت کہا جاتا ہے کی سربر اہی بحیثیت قوم مکمل طور پر قوم یہود کے ہاتھوں میں ہے، اور بحیثیت ملک امریکہ کے ہاتھوں میں یہودی بنیادی طور پر شیطان کے جارحہ کی حیثیت  سے کام کر رہے۔ظاہر ہے کہ ان کا مشن نظام خداوندی، دین حق اور فطرت انسانی کو منہدم کر کے ان کی جگہ شیطانی نظام فکر و عقیدہ اور اعمال و اشغال کو جاری اور نافذ کرنا ہے۔چناں چہ نظام حق کی ہر طرح سے اور ہر حال میں مخالفت کرنا اور دین فطرت و انسانیت کے بالکل بر عکس نظام زندگی اور تہذیب و ثقافت کو جاری اور نافذ کرنے کی کوشش کرنا ان کا نصب العین ہے۔ چناں چہ دین اللہ کی بخشی ہوئی بیشتر حلال اور جائز امور و معا ملات کو اس تہذیب و ثقافت نے حرام نا جائز اور نا حق قرار دے دیا ہے اور دین اللہ کے تمام ممنوعہ، حرام، نا جائز اور نا حق چیزوں کو حلال، جائز اور لا زم تسلیم کر لیا ہے اور ساری دنیا پر اسے غالب کرنے کے وہ تمام ذرائع و وسائل استعمال کر رہیں جو کچھ بھی ان کے بس میں ہے۔

MNCs

 مخصوص تہذیب و ثقاقت کو سارے عالم میں برپا کرنے کے لیے کثیر الاقوامی ادارہ جات( multi ‘National  corporations ) کے نام سے ایک زبر دست مالی فوج کو میدان میں اتار لایا گیا ہے۔بین الاقوامی کمپنیوں نے  ساری دنیا پر غلبہ حاصل کر لیا ہے۔ان کے ہاتھوں میں ساری دنیا کی دولت سمٹ کر آ گئی ہے اور اقوام کی قسمت ان کے ہاتھوں میں بند ہو گئی  ہے۔ ان میں سے تقریباً تمام ہی ادارے یہود ہی کی ملکیت ہیں۔
 یہ کثیر الاقوامی ادارہ جات اقوام متحدہ کے ذریعہ ذیل طریقوں سے شیطانی نظام کے قیام واستحکام اور ان کی بالا دستی کی کوششیں کررہے ہیں :
٭ تہذیب و ثقاقت کے نام پر بے ہنگمی، بد نمائی، بے غیرتی، بے حیا ئی، بے وفائی، بد اخلاقی، بدکرداری، بد چلنی، بدزبانی،بدنظمی اور تمام مخرب اخلاق کردار و اعمال کا ہر چہار اطراف دور دورہ ہے۔
 فیشن کے نام پربیو ٹی پا رلر، مساج سنٹر، کا سمیٹک کلچر، ٹو روم وغیرہ جیسی چیزوں کو مشتہر کر کے اور انہیں ضروریاتِ زندگی قراردے کر ان کے ذریعہ فحاشی اور عریانیت کی زبردست وبا پھیلا دی گئی ہے۔ پھر ان کی تقویت اور کشش کے لیے فیشن کے نام پرآئے دن عجیب عجیب قسم کے بے ہنگم لباس اور ان کی تراش خراش کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، اور کا سمیٹک آئیٹمز کی نئی نئی قسمیں اختراع کی جاتی ہیں۔
 آزادیِ نسواں اور حقوق نسواں کا زوردار راگ الاپ کر عورتوں کو بازاروں، کلبوں اور ہر طرح کی مجلسوں میں لا کر، انہیں بےحیائی، بد کرداری اور بے وفائی کے راستے پر ڈال دیا جاتا ہے۔
 اس تہذیب و ثقافت کا پرچار کرنے اور اس کو رواج دینے کے لیے جنسی تعلیم، پور نو گرافی، منعِ حمل ادویات ، فیشن شو، کلچرل پروگرام ، مقابلۂ حسن، پب کلچر وغیرہ جیسی گندی ، مخرب اخلاق اور فحش چیزیں عام کی جا رہی ہیں جن کی بنا پر عریانیت اور عفت و عصمت ، تہذیب و شائستگی، جنسی بے راہ روی اور آوارگی پروان چڑھ رہی ہیں اور عفت و عصمت ، تہذیب و شائستگی، اخلاق وانسانیت اور شرافت و مدنیت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔
٭ میک ڈونلڈ، کے ایف سی ، پزّ ا ہٹ ، پزّا اِن قسم کے امریکی فاسٹ فوڈ کے علاوہ چینی، جاپانی، میکسیکی، اطالوی وغیرہ کے مختلف قسم کے کھانوں کا مسلم ممالک میں خصوصیت کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے جن کھانوں میں حرام و حلال کی کوئی تمیز نہیں ہوتی۔اس طرح کے کھا نے مخربِ ایمان و اخلاق کے ساتھ مضر صحت بھی ہیں۔
٭ ان کے علاوہ اس تہذیب و ثقافت میں اسپورٹس کے نام سے لہو و لعب کو ایک کامیاب حربے کے طور پر استعمال کیاجارہاہے۔اس کے ذریعہ ہر آنے والی نئی نسلوں کے دل و دماغ پر فٹ بال ، والی بال ، ٹینس ، ٹیبل ٹینس، کرکٹ وغیرہ کو اس قدر مسلط کر دیا جاتا ہے کہ ان کے سامنے نہ تو دوسرے مسائل ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کھیلوں کے علاوہ انہیں کچھ اور سو چنے سمجھنے اور ان پر وقت لگانے کی فرصت ہوتی ہے۔نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ جب کبھی کوئی کھیل شروع ہوتاہےتواسکولوں،کالجوں،دفتروں ، دکانوں ، بسوں ، ٹرینوں ، بازاروں اور گھروں میں غرض کہ ہر جگہ سبھوں کی زبانوں پر بس کھیل ہی کے چرچے ہوتے ہیں ، چلتے پھر تے ، سوتے بیٹھتے ، کھاتے پیتے ہر حال میں بس اسی پر تبصرے، اسی کے تذکرے، اسی کی گتھیوں میں وہ الجھے اور انہیں سلجھاتے ہوئے ہوتے ہیں۔
 اس ’’تہذیب و ثقافت ‘‘ کی ترویج و اشاعت کے لیے اور اسے رواج دینے کے لیے سیٹیلائٹ اور جدیدمواصلاتی ٹکنیک کے تحت ٹیلی ویزن ’انٹرنیٹ، موبائل فون وغیرہ جیسے ذرائع کا استعمال کیا جاتا ہے جو عام لوگوں تک جلد پہنچانے کے آسان ذرائع ہیں۔پھرادب و ثقافت کے نام پر اخبارات رسائل اور جرائد میں مخرب اخلاق، عریاں اور فحش تصاویر کی بھر مار اس تہذیب وثقافت کو تمام گھروں سے لے کر دفتروں، دکانوں اور کارخانوں تک کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہیں، اس طرح کہ کوئی بھی نظر ان سے بچ کر نہیں رہ سکتی۔دنیا کی دوسری قوموں کے شانہ بشانہ مسلمان بھی ان میں رچے بسے اور گھلے ملے ہوتے ہیں، دوسری قوموں اورمسلمانوں میں کوئی فرق و امتیاز باقی نہیں ہے، بلکہ مسلم ملکوں میں یہ وبائیں بہت سارے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتاری سے پھیلتی جا رہی ہے۔
 شروع میں جب عام مسلمانوں کا نصب العین خو ف خدا، آخرت طلبی، شرافت و دیانت اور حق و انصاف کی علَم برداری تھی، وہ نظام حق کے متبع اور اسلام کے چلتے پھرتے نمونے تھے، اور شریعت کو اور اس کی بندی کو عزیز رکھتے تھے، تو جہاں کہیں بھی گئے اور جس جگہ بھی رہے، وہاں نہ صرف انہوں نے اپنی اخلاقی اور شرعی اثرات لوگوں پر مرتسم کئے بل کہ بیش از بیش لوگ ان کے ہاتھوں اسلام قبول کرتے چلے گئے، اس حقیقت کے باوجود کہ دونوں ہی جانب کے لوگ با لعموم ایک دوسرے کی زبان سے ناواقف ہوتے تھے۔ اور کہاں اب حال یہ کہ یہ مسلمان جہاں کہیں بھی ہوتے ہیں، زندگی کے جملہ امور و معاملات میں خواہ وہ تہذیبی ہو کہ ثقافتی، سیاسی ہو کہ معاشی، خانگی ہو کہ معاشرتی، دوسرے کے شیطانی اثرات قبول کرتے چلے جاتے ہیں اور شریعت اور دین حق کی قطعی پرواہ نہیں کرتے ہیں اور انہیں بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔
 جب مسلمان دین حق سے منحرف ہو گئے، اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ روشن ہدایات و تعلیمات سے چشم پوشی اختیار کر لی، احکام خداوندی کو یکسر بدل ڈالا، دنیا پرستی، عیش پسندی، جھوٹی شان و شوکت اور ظلم و زیادتی کے دل دادہ ہو گئے، مختلف قسم کے آپسی اختلافات میں مبتلا ہو گئے، ایک دوسرے کی خون کو حلال کر لیا، یہود و نصاریٰ اور دوسری قوموں نقابی شروع کر دی، انہیں دوست بنانے اوران کی حمایت کے حصول کے لیے ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے شروع کر دیئے اور یہود و نصاریٰ اور دوسری قوموں کی ان تمام خرابیوں اور برائیوں میں مبتلا ہو گئے، جن سے انتہائی سخت تاکید کے ساتھ باز رہنے کو کہا گیا تھا۔ایسی صورت میں وہی دشمن عناصراور وہ قو میں جنہیں مغضوب اور ضالین کے خطابات سے نوازا گیا تھا، نظام عالم پر بڑی ہی آسانی اور سرعت کے ساتھ قابض اورمتصرف ہو نے لگیں۔ یہ تمام اسلام دشمن عناصر تو موقع ہی کی تلاش میں تھے۔ اور پھر وہ قابض و متصرف ہی نہیں ہو گئے بل کہ مغلوب اور محکوم مسلمانوں پر ہر طرح کا ظلم و تشدد رواں رکھا، ان کا عرصہ حیات تنگ کر کے رکھ دیا، ان کو صحیح دین سےاکھاڑپھینکنے کی انتہائی کوشش کر ڈالیں، ان کی عزت و آبرو کو خاک میں ملا دیا، انہیں محکومی و غلامی کی ذلت آمیز زنجیروں میں جکڑ دیا اور ذلیل و خوار بنا کر رکھ چھوڑنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے آزمانے لگے، حتی کہ وہ سب کچھ کرنےلگےجوشیطان،اس کی ذریت اور اس کے شاگرد کر سکتے تھے۔
 یہ سب اس لیے ہوتا ہے کہ لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو بھلا دیا اور ایمان کا جھوٹا دعوی کرتے رہے تو اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں بھلادیااوران پر ظالموں اور سفا کوں کو مسلط کر دیا۔جب مسلمانوں نے دوسروں کی بندگی و اطاعت شروع کر دی تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا اور ان ہی کے حوالے کر دیا جن کی بندگی و اطاعت کا وہ دم بھر نے لگے کہ جیسا وہ چاہیں ان کے ساتھ سلوک کریں :
وما اصابکم من سیئۃ فمن نفسک (النساء:۷۹)’’اور جو بھی مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ تیرا اپنے کسب و عمل کی بدولت ہے ‘‘۔
ان اللہ لا یظلم الناس شیئا و لکن الناس انفسھم یظلمون (یونس :۴۴)’’حقیقت یہ کہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا لو گ خو د اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں ‘‘۔
 اور ان کی یہ حالت اس وقت تک نہیں بدل سکتی جب تک کہ اس کے بدلنے کے لیے خود کو نہ بدلا جائے :
ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم (الرعد :۱۱)’’بے شک اللہ تعالیٰ کسی قوم کے حال کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی ‘‘۔(نظام عالم اور امتِ مسلمہ)

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: