سیرتِ امام ابو حنیفہؒ از علّامہ شِبلی نُعمانیؒ-8

ذہانت و فطانت

ایک مشکل مسئلہ

ایک شخص نے قسم کھائی کہ ’’ آج اگر میں غسل جنابت کروں تو میری بیوی کو تین طلاق ہے‘‘ تھوڑی دیر کے بعدکہا’’آج کی کوئی  نمازقضاہوتو میری زوجہ مطلقہ ہے‘‘ پھر کہا کہ ’’آج میں اپنی بیوی کے ساتھ صحبت نہ کروں تو اس کوطلاق ہے‘‘لوگوں نے امام صاحبؒ کےپاس آ کر مسئلہ پوچھا۔ فرمایا کہ نمازعصر پڑھ کر بیوی سے ہم صحبت ہو اور غروب کےبعدغسل کر کے فوراً مغرب کینماز پڑھ لے اس صورت میں سب صورتیں پوری ہو گئیں۔ بیوی سے ہم صحبت بھی ہوانماز بھی قضا نہیں کی غسل جنابت بھی کیا تو اس وقت کیا کہ دن گزرچکا تھا۔

لقد عجزت النساء

شریک سے روایت ہے کہ ہم ایک جنازہ کے ساتھ جا رہے تھے۔ ہمارے ساتھ سفیان ثوری،ابن شبرمہ، ابن ابی
لیلیٰ، ابو حنیفہؒ، ابو الاحوص، مندل اور حبان بھی
تھے۔ جنازہ ایک بوڑھے سید زادے کا تھا۔ جنازہ میں کوفہ کےبڑےبڑےلوگ موجودتھے۔ سب ساتھ چل رہے تھے کہ اچانک جنازہ رک گیا۔ لوگوں نے معلوم کیاتو پتہ چلا کہ اس لڑکے کی ماں بیتاب ہوکر نکل پڑی۔ جنازہ پر اپنا کپڑا ڈال دیا اور اپنا سر کھول دیا۔ عورت شریف خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ اسمیت کے باپ نے چلا کر کہا واپس جاؤ مگر اس نے واپس ہونے سے انکار کر دیا۔ باپ نے قسم کھا لی کہ’’لوٹ جاؤ ورنہ تجھے طلاق۔ ‘‘جب کہ ماں نے بھی قسم کھا لی کہ’’ اگر میں نماز جنازہ سے پہلے لوٹوں تومیرےسارےغلام آزاد۔الغرض لوگ ایک دوسرے کےساتھ مشغولِ کلام ہو گئے اب کیا ہو گا؟ کوئی جواب دینےوالانہیں تھا۔ میت کے باپ نے امام ابو حنیفہؒ کو آواز دی کہ میری مدد کرو۔ امام صاحبؒ آئے اور عورت سے معلوم کیا کہ قسم کس طرح کھائی؟ اس نےبتلادیا۔ باپ سے پوچھا تم نے کس طرح قسم کھائی؟ اس نے بھی بتلا دیا۔ امامصاحبؒ نے فرمایا میت کا سریر رکھو۔ چنانچہ رکھ دیا گیا۔ امام صاحبؒ نے باپکو حکم دیا کہ نماز جنازہ پڑھاؤ جو لوگ آگے نکل گئے تھے، واپس ہوئے باپکے پیچھے صف لگی نماز جنازہ پڑھی گئی۔ امام صاحبؒ نے فرمایا قبر کی طرفلے جاؤ اور اس کی ماں سے کہا اب تم گھر چلی جاؤ۔ قسم پوری ہو گئی اور باپسے کہا تمہاری بھی قسم پوری ہو گئی تم بھی گھر جاؤ۔ اس پر ابن شبرمہؒ کہنےلگے عورتیں آپ جیسا پیدا کرنے سے عاجز ہیں۔ علمی نکات بیان کرنے میں آپ کونہ کوئی مشقت ہوتی ہے اور نہ پریشانی۔

ایک عجیب و غریب تدبیر

لیث بن سعدؒ فرماتے ہیں کہ میں امام ابو حنیفہؒ کا ذکر سنتا تھا، پھر مجھے آپکو دیکھنے کی تمنا ہوئی۔ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ لوگ ایک آدمی کے پاس بھیڑ لگائے ہوئےہیں۔ ادھر متوجہ ہوا تو ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا کہ اےابو حنیفہؒ ! میں سمجھ گیا کہ یہ وہی ابو حنیفہؒ ہیں۔ اس شخص نے کہا میںمالدار آدمی ہوں، میرا ایک لڑکا ہے، میں اس کی شادی کرتا ہوں اور بہت سامال خرچ کرتا ہوں مگر وہ لڑکا اپنی بیوی کوطلاق دے دیتا ہے اور میرا مالبرباد ہو جاتا ہے اس کی کوئی تدبیر ہے؟
امام صاحب نے فوراً فرمایا اسکو غلاموں کے بازار میں لے جاؤ، جب وہ کسی باندی کو دیکھنے لگے تو تم اسباندی کواپنےلئےخریدکراسکےساتھ نکاح کر دو اگر طلاق دے گا تو وہتمہارے ملک میں رہے گی۔ اور اگر وہ آزاد کرے گا تو اس کا عتق جائز نہیںہو گا۔ لیث بن سعد کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ان کا صحیح اور برجستہ جوابدینا مجھے بہت پسند آیا۔

طلاق میں شک

اسماعیل بن محمد فرماتےہیں کہ مجھے اپنی بیوی کی طلاق میں شک ہوا۔ میں نے قاضی شریکؒ سے پوچھا توانہوں نے فرمایا کہ اس کو طلاق دے دو پھر رجوع کرو اور رجوع کرنے پر گواہ بنا لو۔ پھر میں سفیان ثوریؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے بھی یہی پوچھاتو انہوں نےفرمایا اگر تم نے طلاق دے بھی دی ہے تو اب رجعت ہو گئی۔ پھرمیں نے زفر بن ہذیلؒ سے معلوم کیا، انہوں نے فرمایا جب تک تم کوطلاق کایقین نہ ہو جائے وہ تمہاری بیوی ہے۔ اس کے بعد امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میںحاضر ہوا اور سبفتاویٰ نقل کئے۔ امام صاحب نےفرمایا سفیان ثوری نے ورعاور پرہیز گاری کا فتویٰ دیا، زفر بن ہذیل کا فتویٰ فقہی فتویٰ ہے اورشریک کا فتویٰ ایسا ہے، جیسے تم کسی سے کہوکہ مجھے معلوم نہیں میرے کپڑےپر پیشاب گرا کہ نہیں تو وہ کہہ دے اب تم اس پر پیشاب کر دو پھر دھو لینا۔

مشروط طلاق

ایک شخص کسی بات پر اپنی بیوی سے ناراض ہوا اور قسم کھا کر کہا کہ ’’جب تک تومجھ سے نہ بولے گی میں تجھ سے کبھی نہ بولوں گا۔ ‘‘عورت تند مزاج تھی اسنے بھی قسم کھا لی اور وہی الفاظ دہرائے جو شوہر نے کہے تھے۔ اس وقت غصہ میں کچھ نہ سوجھا مگر پھر خیال آیا تو دونوں کونہایت افسوس ہوا۔ شوہرمایوس ہو کر امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ للہ آپ کوئی تدبیربتائیے۔ امام صاحبؒ نے فرمایا ’’ جاؤ شوق سے باتیں کرو کسی پر کفارہ نہیںہے۔
سفیان ثوریؒ کو معلوم ہوا تو نہایت برہم ہوئے اور امام ابوحنیفہؒ سے جا کر کہا آپ لوگوں کو غلط مسئلے بتا دیا کر تے ہیں۔ امام صاحبؒ سفیان ثوریؒ کی طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا ’’جب عورت نے شوہر کو مخاطب کرکے قسم کے الفاظ کہے تو عورت کی طرف سے بولنے کی ابتدا ہوچکی، پھر قسم کہاں باقی رہی؟ ‘‘
سفیان ثوریؒ نے کہا ’’ حقیقت میں آپ کو جو بات وقت پر
سوجھ جاتی ہے ہم لوگوں کا وہاں تک خیال بھی نہیں پہنچتا۔ ( اس واقعہ کوامام رازیؒ  نے تفسیر کبیر میں نقل کیا ہے)
وکیع بن جراح فرماتے ہیںکہ حفاظ حدیث میں سے ایک آدمی میرا ہمسایہ تھا۔ وہ ابو حنیفہؒ کو برا بھلاکہا کرتا تھا۔ ایک دن میاں بیوی میں  تکرار ہو گئی۔ میاں نے کہا آج کی راتاگر مجھ سے طلاق مانگے اور میں طلاق نہ دوں تو تجھے طلاق۔ اور بیوی نےکہا اگر میں تجھ سے طلاق کاسوال نہ کروں تو میرے غلام آزاد۔ بات ختمہو گئی انجام سامنے آیا تو بہت پریشان ہوئے۔ سفیان ثوریؒ کے پاس پہونچے،ابن ابی لیلیٰ کےپاس گئے مسئلہ حل نہیں ہوا۔ مجبوراً امام ابوحنیفہؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ امام صاحبؒ نے بیوی سے فرمایا طلاق کا سوالکرو چنانچہ اس نے سوال کر لیا اب میاں سے کہا کہو’’ انت طالق ان شئت ‘‘( تمکو طلاق ہے اگر تم چاہو) پھر بیوی سے کہا کہو’’ میں نہیں چاہتی ‘‘ اس نےکہہ دیا تو امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا کہ لو تم دونوں کی قسم پوری ہو گئی،کوئی بھی حانث نہیں ہوا، کسی کی قسم نہیں ٹوٹی۔ پھر محدث   بزرگوارسےفرمایا کہ جس نے تمہیں علم سکھایا اس کی برائی کرنے سے توبہ کر لو انہوں نےتوبہ کی اس کے بعد تو امام ابو حنیفہؒ کےلئےہرنماز کے بعد دعا کرتے رہے۔
فقیہ ابوجعفر ہندووانی سے نقل کیا گیا ہے کہ امام اعمشؒ نہ امام ابو حنیفہؒکی طرف جھکتے تھے نہ ان سے اچھا معاملہ کرتے تھے شاید ان کےاخلاق میں کچھکمی تھی۔ اتفاق سے اپنی بیوی کو مشروط طلاق دے دی۔ وہ اس طرح کہ اگر بیویآٹا ختم ہونے کی خبر اعمش کو دے، یا لکھ کر دے، یا کسی سے کہلوائے، یااشارہ کرے تو اس کو طلاق۔ بیوی حیران ہو گئی لوگوں نے مشورہ دیا ابو حنیفہؒکے پاس جاؤ چنانچہ وہ گئی اور واقعہ بیان کیا۔ امام صاحبؒ نے فرمایامسئلہ آسان ہے۔ آٹے کی تھیلی رات کو ان کے ازار میں یا جس کپڑے میں ممکنہو باندھ دو جب صبح
یا رات کو اٹھیں گے تو ان کو آٹے کی تھیلی کا خالی
ہونا خود معلوم ہو جائے گا اور سمجھ جائیں گے کہ آٹا ختم ہو گیا ہے بیوی نےایسا ہی کیا۔ جب
اعمش اٹھے تو رات کی تاریکی تھی یا کچھ کچھ روشنی ہو رہی
تھی جب اپنا ازار لیا تو آٹے کی تھیلی کی آواز محسوس ہوئی اسے ہاتھ سےچھوکردیکھاجب ازار کھینچا تو وہ بھی کھینچی آ گئی اس طرح ان کو آٹے کاختم ہونا معلوم ہو گیا۔ کہنے لگے واﷲ یہ ابو حنیفہؒ کی تدبیر ہے۔ ہم ان سےکیسے آگے بڑھ سکتے ہیں وہ تو ہماری عورتوں میں بھی ہم کو رسوا کرتے ہیںاور عورتوں کو ہماری عاجزی اور کم فہمی بتلادیتے ہیں۔
امام ابویوسفؒاور ان کی بیوی میں تو  تو، میں میں ہو گئی۔ وہ ان سے روٹھ گئیں۔ امامابویوسفؒ نے کہا اگر آج رات تم مجھ سے نہیں بولے گی تو تم کو طلاق۔ مگر وہاسی طرح اینٹھی رہیں انہوں نے ہزار کوشش کی کہ مگر وہ نہ بولیں۔ امام ابویو سفؒ اٹھے اور رات ہی کو امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر سب حالاتسنائے امام صاحبؒ نے نیا جوڑا پہنایا، خوشبو لگائی اور عمدہ چادر اوڑھائیاور فرمایا اب اپنے گھر جاؤ اور یہ ظاہر کرو کہ تمہیں اس سے گفتگو کیضرورت نہیں۔ وہ گئے اور اپنے آپ کو بے نیاز ظاہر کیا۔ جب عورت نے ان کی یہحالت دیکھی تو غصہ
سے بھر گئی۔ کہنے لگی لگتا ہے تم کسی فاجرہ کے گھر میں
تھے۔ یہ سنتے ہی امام ابو یوسفؒ خوش ہو گئے۔

نہ حانث ہو گا اور نہ طلاق پڑے گی

ایکمر تبہ امام ابو حنیفہؒ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک آدمی کی بیوی سیڑھیپر چڑھی اس کے شوہر نے کہا اگر تو چڑھے تو تجھ کو تین طلاق اور اترے تببھی تین طلاق۔ اب کیا تدبیر کی جائے کہ قسم نہ ٹوٹے؟ امام صاحبؒ نے فرمایاکہ بیوی نہ چڑھے اور نہ اترے بلکہ کچھ لوگ اس کو مع سیڑھی کے زمین پر رکھدیں، قسم نہیں ٹوٹے گی۔
لوگوں نے معلوم کیا کہ اتارنے کے علاوہ بھیکوئی تدبیر ہو سکتی ہے؟ امام صاحبؒ نے فرمایا ہاں عورتیں اس کو سیڑھی سےاٹھا کر زمین پر رکھ دیں اور وہ اترنے کا ارادہ نہ کرے، اس طرح مرد حانث نہیں ہو گا اور طلاق بھی نہیں پڑے گی۔
ایک شخص نے قسم کھائی کہ اگر میںانڈا کھاؤں تو میری بیوی کو طلاق۔ اتفاق سے اس کی بیوی آستین میں چھپا کرایک انڈا لائی۔ اس نےکہاجو کچھ تیری آستین میں ہے اسے اگر میں نہ کھاؤں تو تجھے طلاق۔ اس کو معلوم نہیں تھا کہ آستین میں انڈا ہی ہے۔
امامابو حنیفہؒ سے مسئلہ پوچھا گیا کہ کس طرح یہ آدمی اپنی قسم سے بری ہو اورحانث بھی نہ ہو؟
امام صاحب نے فرمایا کہ انڈے مرغی کے نیچے رکھے جائیں جببچے نکل آئیں تو ان کو ذبح کر کے بھون کر کھائے، یا پکا کر شوربا پی لے توحانث نہ ہو گا۔ اس طرح جو کچھ آستین میں تھا اسے کھا لیا۔
یہ واقعہ بھیمنقول ہے کہ ایک آدمی نے قسم کھائی کہ اگر میری بیوی نے میرے لئے ایسیہنڈیا نہ پکائی، جس میں ایک پیالہ نمک ڈالے اور نمک کا مزہ پکے ہوئے سالنمیں بالکل ظاہر نہ ہو تو اس کو طلاق۔
امام صاحب کے پاس مسئلہ گیا توفرمایا کہ انڈا پکا دے اور جتنا چاہے نمک ڈال دے اثر ظاہر نہیں ہو گا۔ (یہسب واقعات مناقب ابو بکر بن محمد زرنجری اور مناقب ابو لمؤید خوارزمی سےنقل کئے گئے ہیں)۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: