منصبِ نبوت

اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں پر اس قدر احسانات ہیں کہ ان کااندازہ لگاناممکن نہیں ہے۔ وہ رات کے اندھیرے کودن  کےاجالےسے اور دن کے اجالے کورات کے اندھیرے سے بڑی تیزی سے ڈھانپتاہے۔یہ دونوں ایک دوسرے کا برق رفتاری سے پیچھا کرتے ہیں ۔ ان دونوں کے بیچ ایک سکنڈ کاوقفہ تک نہیں ہوتا۔ یہی وہ گردشِ لیل ونہار ہے جس میں سانس لے کرانسان اپنی زندگی کی ضرورتیں اللہ تعالیٰ کے پر نعمت خزانے سے چیزیں حاصل کر کے پوری کر رہا ہے۔
ان فی خلق السمٰوت والارض واختلاف اللیل والنھار لایات لاولی الاباب۔ الذین یذکرون اللہ  قیامآوقعوداًوعلی جنوبھم ویتفکرون فی خلق السمٰوات ولارض۔ ربنا ماخلقت ھذاباطلاً۔۔۔
بلاشبہ آسمان و زمین کی خلقت میں اور رات دن کے ایک کے بعد ایک آتے رہنے میں اربابِ دانش کے لیے (معرفت حق کی)بڑی ہی نشانیاں ہیں ۔ وہ اربابِ دانش جو کسی حال میں بھی اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتے۔کھڑےہوں،بیٹھےہوں،لیٹےہوں (لیکن ہر حال میں اللہ کی یاد ان کے اندربسی ہوتی ہے) جن کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ آسمان و زمین کی خلقت میں غوروفکر کرتے ہیں (اس ذکر و فکر  کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان پر معرفتِ حقیقت کا دروازہ کھل جاتاہے۔ وہ پکار اٹھتے ہیں ) خدایا یہ سب کچھ جو تو نے پیدا کیا ہے سوبلاشبہ بے کار و عبث  پیدا نہیں کیا( ضروری ہے کہ یہ کارخانۂ ہستی جواس حکمت و خوبی کے ساتھ بنایا گیا ہے کوئی نہ کوئی مقصد و غایت رکھتا ہو)۔ یقیناً تیری ذات اس سے پاک ہے کہ ایک بے کار کام اس سے صادر ہو۔ (اٰل عمران:۱۹۰۔۱۹۱)
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالٰیٰ جس طرح اپنی رحمت و شفقت و قدرت سے تاریکی کو روشنی سے، ظلمت کونورسےاورخزاں کو بہار سے بدلتا ہے۔ ویران زمین کواوپرسے بارش بھیج کرسرسبزوشاداب بنایا ہے تاکہ اس کا بندہ اپنی زندگی کاسامان فراہم کر سکے۔ بالکل اسی طرح جب ظلم وستم، کفروضلالت اور عدوان وسرکشی کی تاریکی دنیا پر چھا جاتی ہےتووہ اپنے بندوں کو کفر و ضلالت اور جہل و گمراہی کے اندھیروں سے نکالنے کے لیے ایمان و عرفان کے آفتاب کوظاہرکرکے ہر طرف روشنی پھیلاتا ہے اور بارانِ رحمت نازل کر کے اپنے بندوں کے دلوں کی پژمردہ کھیتیوں کوسیراب کرتا ہے۔ یہ بھی اس کا اپنے بندوں پر ایک زبردست احسان ہے۔ چنانچہ وہ خود یہ دعویٰ کرتا ہے:
ھوالذی ینزل علیٰ عبدہٖ اٰیٰت بینٰت یخرکم من الظلمت الی النور وان اللہ بکم لرؤف الرحیم۔۔۔
وہی اللہ ہے جو اپنے بندے (رسول) پر واضح آیتیں اتارتا ہے تاکہ تم کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف لے آئے اور بے شک اللہ تم پر شفقت کرنے والا اور مہربان ہے۔ (الحدید۔۹)
وہیں یہ بھی ارشاد ہوتا ہے کہ دنیا میں عدل و توازن قائم رکھنے کے لیے ہم نے رسولوں کو بھیجا:
لقد ارسلنا رسلنا بالبینات وانزلنا معھم الکتاب والمیزان لیقوم الناس بالقسط۔ ۔۔۔
ہم نے اپنے رسولوں کو نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو اتارتا کہ لوگ عدل و انصاف پر قائم ہوں۔(حدید۔۲۵)
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر دور کی ضرورت کے پیش نظر اپنی حکمت کے موافق نبیوں کو مبعوث فرمایا۔ یہی وہ مقدس و برگزیدہ ہستیاں ہیں جن کے ربانی نورسے دنیا منور ہوئی۔ کفر و ضلالت کی تاریکیاں مٹیں ، ایمان و یقین کی روشنی پھیلی اور وحی الٰہی کی اس عالمِ آب و گِل میں مسلسل بارش ہوئی۔ قرآن شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی کسی قوم کو اس احسان و نعمت سے محروم نہیں رکھا۔ وہ کہتا ہے کہ
ولکل قوم ھاد۔۔۔۔۔اور ہر قوم کے لیے ایک راہ دکھانے والا ہے۔ ۔ ۔(الرعد۔۷)
دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:
ولکل امۃٍ رسول فاذا جاء رسولھم قضی بینھم بالقسط وھولایظلموں ۔۔۔۔
اور ہر امت کے لئے ایک رسول ہے(جوان میں پیدا ہوتا ہے اور انہیں دین حق کی طرف بلاتا ہے)۔پھر جب کسی امت میں اس کا رسول ظاہر ہو گیا تو(ہمارا قانون یہ ہے کہ) ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اورایسانہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ نا انصافی ہو۔ (یونس۔۴۷)
قرآن کا صاف صاف لفظوں میں یہ بھی دعویٰ ہے کہ :
ولقد بعثنا فی کل امۃٍ رسولا ان عبدواللہ واجتنبو الطاغوت فمنھم من ھدی اللہ و منھم من حقت علیہ الضلالہ فسیروفی الارض فانظرواکیف کان عاقبۃ المکذبین۔۔۔۔
اور یہ واقعہ ہے کہ ہم نے(دنیا کی)ہر امت میں کوئی نہ کوئی رسول ضرور پیدا کیا(تاکہ اس پیغام حق کا اعلان کر دے) کہ اللہ کی بندگی کرواور سرکش قوتوں سے بچو۔ پھر ان امتوں میں سے بعض ایسی تھیں جن پر اللہ نے (کامیابی کی) راہ کھول دی۔ بعض ایسی تھیں جن پر گمراہی ثابت ہو گی۔ پس ملکوں کی سیرکرواور دیکھو جو قومیں (سچائی کی) جھٹلانے والی تھیں انہیں بالآخرکیا انجام پیش آیا۔(النحل ۔۳۶)
دوسری جگہ یوں فرمایا:
انا ارسلنک بالحق بشیراَ ونذیرا وان من امۃ الاخلافیھا نذیر۔۔۔
ہم نے تم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر۔ اور کوئی امت ایسی نہیں جس میں ڈرانے والا نہ آیا ہو۔(فاطر۔۲۴)
اتنا ہی نہیں بلکہ اس نے جس قوم میں بھی اپنارسول بھیجا وہ اسی قوم کی بولی بولنے والا اوراسی معاشرے کا منتخب ایک پسندیدہ فرد تھا۔ تاکہ وہ اس کے احکامات اور پیغامات کو انہیں آسانی سے سمجھا سکے۔
وما ارسلنامن رسول الابلسان قومہ لیبین لھم۔۔۔
اور ہم نے کوئی پیغمبر دنیا میں نہیں بھیجامگراس طرح کہ اپنی قوم ہی کی زبان میں پیام حق پہنچانے والا تھا تاکہ لوگوں پر مطلب واضح کر دے۔(ابراہیم۔۴)
گویا اللہ تعالیٰ نے کسی بھی قوم و ملت اور کوئی بھی زبان بولنے والوں کو ہدایت سے محروم نہیں رکھا۔ اس نے کفر و ضلالت کی تاریکی سے اپنے بندوں کو نکال کر ایمان و عرفان کی دولت سے سرفراز کرنے کا یہ اہتمام و انتظام حضرت آدم علیہ السلام سےپیغمبر آخرالزماں حضرت محمد مصطفی ﷺ تک موقع و محل کے لحاظ سے کیا۔ یہ اس کا اپنے بندوں پر عظیم احسان ہے۔
لیکن نبوت کا یہ منصب معمولی نہیں ہے بلکہ غیرمعمولی ہے۔ حضرت امام غزالیؒ کے قول کے مطابق:’’نبوت، انسانیت کےرتبہ سے بالاتر ہے، جس طرح انسانیت حیوانیت سے بالاتر ہے۔ یہ عطیۂ الٰہی اور محبت ربانی ہے۔ یہ سعی و محنت اور کسب وتلاش سے نہیں ملتی‘‘۔ ۔ ۔  یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے:
ھوالذی بعث فی الامین رسولاًمنھم یتلوعلیھم ایٰتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمہ وان کا نو من قبل لفی ضلال مبیں ۔واخرین منھم لمایلحقوبھم وھوالعزیز الحکیم۔ذالک فضل اللہ یوتیۃ من یشا واللہ ذوالفضل العظیم۔(الجمعہ:۲۔۳)
وہی اللہ ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول انہیں میں سے اٹھایا۔ وہ ان کو اس کی آیتیں پڑھ کرسناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے اوردوسروں کے لیے بھی ان میں سے جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے اور وہ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔ یہ اللہ کا فضل ہے۔ وہ دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اوراللہ بڑے فضل والا ہے۔
قرآن بار بار یہ اعلان کرتا ہے کہ اللہ جس کو منتخب کر کے پسند کرتا ہے اسی کو نبوت سے سرفراز کرتا ہے ۔چنانچہ ایک جگہ عام پیغمبروں کے متعلق ارشاد ہوتا ہے کہ:
اللہ یصطفی من الملئکۃ رسلاً ومن الناس ان اللہ سمیع بصیر۔۔۔۔
اللہ نے فرشتوں میں سے بعض کو پیام رسانی کے لیے برگزیدہ کر لیا، اسی طرح بعض انسانوں کو بھی (لیکن اس برگزیدگی سےانہیں معبود ہونے کا درجہ نہیں مل گیاجیساگم راہوں نے سمجھ رکھا ہے) بلاشبہ اللہ ہی سننے والا، دیکھنے والا ہے۔(حج:۷۵)
اس پسندوانتخاب کے متعلق مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے ایک مضمون فلسفۂ احتساب میں بہت ہی وقیع و جامع بات کہی ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
جس طرح دھندلی روشنی کو ہر آنکھ نہیں دیکھ سکتی اسی طرح آفتاب کے قرص پربھی ہر نگاہ نہیں ٹھہر سکتی۔ جب علما کی قوتِ احتساب بے اثر ہو جاتی ہے تو فطرتِ محتسبہ تمام دنیا کا احتساب براہِراست نہیں کر سکتی۔ اس وقت خدا اپنے ایک کامل بندےکو  چن لیتا ہے جو نورِ الٰہی کو  جذب کر سکتا ہے۔ جس کی بصیرت میں آفتابِ الٰہی کے دیکھنے اور اکتسابِ نورانیت کی طاقتِ کامل موجود ہوتی ہے اور وہ دوسروں کے اندر بھی اس روشنی کی کرنوں کو نافذانہ پہنچا سکتا ہے۔ یہی درجہ مقامِ اعظم نبوت
ہے۔(مضامین البلاغ مرتبہ محمودالحسن صدیقی، ناشر ہندوستانی پبلشنگ ہاؤس دہلی،
۱۹۴۴ء، ص:۶۳)
پھر یہ بھی ایک ٹھوس سچائی ہے کہ منصب نبوت پرسرفراز کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ اپنے ان پسندیدہ اور منتخب بندوں کی حفاظت و نگہبانی کرتا ہے۔ اس کو قرآن مجید میں موجود حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسمٰعیل علیہ السلام، حضرت اسحق علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کےواقعات و حالات میں دیکھا جا سکتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے قبلِ نبوت کے حالات بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں ۔ قرآن مجید کی سورہ والضحیٰ اس کا بین ثبوت پیش کرتی ہے۔اس سلسلے میں حضرت مولاناسید سلیمان ندوی لکھتے ہیں :
’’انبیائے کرام علیہم السلام کی سیرتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جب سے عرصۂ وجود میں قدم رکھتے ہیں ، اسی زمانے سے آنے والے وقت اور ملنے والے منصب کے آثار ان سے ظاہر ہونے لگتے ہیں ۔ وہ حسب ونسب اور سیرت وصورت میں ممتاز ہوتے ہیں ۔ شرک و کفر کے ماحول میں ہونے کے باوجود اس کی گندگی سے بچائے جاتے ہیں ۔ اخلاقِ حسنہ سے آراستہ ہوتے ہیں ۔ ان کی دیانت، امانت، سچائی اورراست گفتاری مسلم ہوتی ہے اور یہ تمہیدیں اس لیے ہوتی ہیں تاکہ منصب ملنے کے بعد ان کے دعوائے نبوت کی تصدیق اور لوگوں کے میلانِ خاطر کا امان پہلے ہی سے موجود رہے۔‘‘(سیرۃ النبی، جلد چہارم تالیف سیدسلیمان ندوی، مطبوعہ مطبع معارف اعظم گڑھ، ۱۹۷۴ء، ص:۵۱،۵۲)
منصبِ نبوت سے سرفراز کرنے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت و نگہبانی کرتا ہے۔ انہیں برگزیدہ بناتا ہے اور سیدھی راہ چلاتا ہے :
واجتبینھم وھد ینھم الیٰ صراط مستقیم۔۔۔۔
ہم نے ان کو  برگزیدہ کیا اور (فلاح وسعادت کی)سیدھی راہ چلایا۔
(الانعام:۸۷)
انبیائے کرام علیہم السلام، اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے ہوتے ہیں اور وہ اس کی حفاظت و نگہبانی میں رہتے ہیں اس لیے گناہوں سے معصوم، ضلالت و گمراہی سے پاک، ہوائے نفسانی سے مبّرا، بے انتہا نیک اور صالح ہوتے ہیں (کل من الصالحین۔ الانعام:۸۵)
انہیں دنیا کے تمام لوگوں پر فضیلت حاصل ہوتی ہے۔(وکلا فضلنا علی العالمین۔الانعام:۸۶)۔
ان کے علم و ہدایت کاسرچشمہ عالم ملکوت سے ہوتا ہے۔ وہ ان بے شمار علوم و کمالات کو شکر گزاری اور قدرشناسی کے ساتھ قبول کرتے ہیں ۔جن کا افاضہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہی حکمت کی نعمت سے بھی سرفراز فرماتا ہے اورشرح صدر کی دولت سے بھی مالامال کرتا ہے۔انہیں عقل و تعقل کی ایسی زبردست قوت دیتا ہے جوعام انسانوں میں نہیں ہوتی۔ ان سب کے باوجود وہ اپنے اندر اختیار مستقل نہیں رکھتے اور نہ ہی علم محیط۔ اللہ تعالیٰ کے علم کے خزانے سے انہیں جوکچھ ملتا ہے وہ اسی پر اکتفا کرتے ہیں ۔ وہ ان باتوں کے پیچھے نہیں پڑا کرتے جس سے اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی مصلحت کی بنا پر روک لیا ہو۔نہ ہی یہ ان کے اختیار میں ہے کہ جو چاہیں کوشش کر کے معلوم کر لیا کریں
:
وماکان اللہ لیطلعکم علی الغیب ولکن اللہ یجتبی من رسلہٖ من یشاء۔۔۔۔
مگر اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ تم کو غیب پر مطلع کر دے۔ غیب کی باتوں کی اطلاع دینے کے لیے تو وہ اپنے رسولوں میں سےجس کو  چاہتا ہے منتخب کر لیتا ہے۔(آل عمران:۱۷۹)
 انبیا علیہم السلام اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے۔ نہ ہی خواہشِ نفس سے کلام کرتے ہیں بلکہ اپنے ہر امر میں اللہ تعالیٰ کے مطیع و فرماں بردار ہوتے ہیں ۔ اسی کے حکم کی پیروی کرتے ہیں اور اسی کے حکم سے لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے ہیں :
ماینطق عن الھویٰ ۔ان ھوالاوحی یوحی ۔۔۔
بنی خواہشِ نفس سے کلام نہیں کرتے بلکہ وہ وحی ہوتی ہے جوان کو  کی جاتی ہے۔(النجم:۳،۴)
ایک جگہ فرمایا:
وجعلنھم ائمۃ بھدون بامرنا۔۔۔
اور ہم نے ان پیغمبروں کو ایسا رہنما بنایا ہے جو ہمارے حکم سے راہ دکھاتے ہیں ۔(انبیا:۷۳)
دوسری جگہ ارشادہوتا ہے:
وما ارسلنامن رسول الالیطاع باذن اللہ۔۔۔
ہم نے کوئی نبی نہیں بھیجا لیکن اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔(نساء:۶۴)
ایک جگہ نبی کریم ﷺکو خاطب کر کے فرمایا:
یایھا النبی اتق اللہ ولاتطیع الکافرین المٰنفقین ان اللہ کان علیمآ حکیما۔ واتبع مایوحیٰ الیک من ربک
ان اللہ کان بما تعملون خبیرا وتوکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلا۔۔۔
اے نبی اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی اطاعت نہ کرو۔ بے شک اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔ اور پیروی کرواس چیز کی جو تمہارے رب کی طرف سے تم پر وحی کی جا رہی ہے۔بے شک اللہ باخبر ہے اس سے جوتم لوگ کرتے ہوا ور اللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ کارساز ہونے کے لیے کافی ہے۔(الاحزاب:۱،۲،۳)
انبیا علیہم السلام کی آمد کا مقصد اور ان کی بعثت کی سب سے پہلی غرض روزالست کے بھولے ہوئے ازلی عہد و پیماں کی یاددہانی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی تعلیم کا بنیادی اصول اور سب سے ضروری جز توحید اور ان کی دعوت کا اصلی و حقیقی محور اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی کا  اعلان رہا ہے۔ وہ لوگوں کو اپنا پرستاریابندہ نہیں بناتے۔ بلکہ خدا کا پرستار و بندہ بناتے ہیں ۔ قرآن کہتا ہے:
ماکان لبشر ان یوتیہ اللہ الکتٰب والحکم والنبوۃ ثم یقول للناس کونوعبادالی من دون اللہ ولکن کونوا ر بنّٰین۔۔۔
کسی انسان کو یہ بات سزاوارنہیں کہ اللہ اسے (انسان کی ہدایت کے لیے) کتاب اور حکم و نبوت عطا فرمائے اور  پھر اس کا شیوہ یہ ہو کہ لوگوں سے کہے:خدا کو   چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ(یعنی خدا کے احکام کی جگہ میرے حکموں کی اطاعت کرو) بلکہ یہی کہے گا کہ تم ربانی بنو۔(آل عمران:۷۹)
قرآن کہتا ہے کہ انبیا علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے پیغامات و احکامات کو لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور اپنے فرض منصبی کو  پورا کرنےمیں ہمیشہ خدا سے ڈرتے رہتے ہیں :
الذین یبلغون رسٰلتِ اللہ ویخشونہ ولایخشون احدا الا اللہ۔۔۔
انبیا اللہ کے پیغاموں کو پہنچاتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سواکسی سے نہیں ڈرتے۔(احزاب:۳۹)
چوں کہ انبیا علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے حکم کے پابند ہوتے ہیں نیز امور نبوت اور امور دین میں ان کی کو ئی رائے غلط نہیں ہوتی اس لیے صاف لفظوں میں کہہ  دیا گیا کہ ہر شخص کو چاہئے کہ بغیرکسی بحث و مباحثے کے ان کے احکام کو تسلیم کرے۔ اس سلسلے میں چون و چرا کی کوئی گنجائش نہیں ہے:
ما اتاکم الرسول فخذوہ ومانہاکم عنہ فانتھو۔۔۔
رسول جو کچھ تم کو دے اس کو  لے لو اور جس چیزسے منع کرے اس سے رک جاؤ۔(حشر:۷)
یہی حقائق منصب نبوت کا تعین کرتے ہیں ۔ اس منصب پر فائز ہو کر انبیا علیہم السلام اپنے قدسی نفوس اور ایمانی قوت سے امربالمعروف   و نٰہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔
باطل طاقتوں کے خلاف تنہا اعلان حق کرتے ہیں۔کفر و شرک کے مضبوط قلعہ پر یلغار کرتے ہیں ۔ بے ہودہ رسم و رواج اور  اوہام و خرافات کے طلسم کو توڑتے ہیں ۔ظالم حکمرانوں کی غلامی سے مظلوم انسانوں کو چھڑاتے ہیں ۔ پژمردہ دلوں میں ایمان و یقین کی روح پھونکتے ہیں ۔ لوگوں کو امن وسکون کی دولت عطا کرتے ہیں ۔ انہیں اخلاق حسنہ سے آراستہ کرتے ہیں ۔ معبودانِ باطل سے نجات دلا کر ایک اللہ کی عبادت و بندگی کا طوق ان کی گردن میں ڈالتے ہیں اور ان تمام روحانی بیماریوں کاعلاج کرتے ہیں جن میں مبتلا ہوکرانساں خدائے وحدہٗ لاشریک کو فراموش کر دیتا ہے۔ ان کا چشمہ فیض عام ہوتا ہے۔ ان کا دریائے خیرو برکت سب کے لیے رواں ہوتا ہے لیکن اس سے استفادہ کرناحسنِ استعداد پر موقوف ہے۔ جو لوگ استفادہ نہیں کر پاتے انہیں اپنی سوئے استعداد پر ماتم کرنا چاہئے۔ خون کے آنسو بہانا چاہئے۔ لیکن جو لوگ ان کی تعلیمات سے منتفع ہوتے ہیں دنیا و آخرت کی سعادت و نعمت ان کے قدم چومتی ہے۔ ان اہلِ ایمان کو اپنی جان سے زیادہ ان مقدس اور مطہر ہستیوں سے لگاؤ ہوتا ہے۔ قرآن مجید اس کی شہادت ان الفاظ میں دے رہا ہے
:
النبی اولیٰ بالمومنین من انفسھم
ایمان والوں کو اپنی جان سے زیادہ بنی سے لگاؤ ہے۔ (الاحزاب:۶)
حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس آیت کی جوتفسیر لکھی ہے وہ بڑی جامع اور معنی خیز ہے۔ وہ منصب نبوت اور حقیقت نبوت کو  بہت ہی خوبی اور
صفائی کے ساتھ نمایاں کرتی ہے۔ موصوف لکھتے ہیں
:
مومن کا ایمان اگر غور سے دیکھا جائے تو ایک شعاع ہے اس نور اعظم کی جو آفتاب نبوت سے پھیلتا ہے۔ آفتاب نبوت پیغمبرعلیہ الصلوٰۃ و السلام ہوئے۔ بنا بریں مومن(من حیث ہو مومن) اگر اپنی حقیقت سمجھنے کے لیے حرکت فکری شروع کرے تو پنی ایمانی ہستی سے پیشتر اس کو  پیغمبر علیہ السلام کی معرفت حاصل کرنی پڑے گی۔ اس اعتبارسے کہہ سکتے ہیں کہ نبی کا وجود مسعود خود ہماری ہستی سے بھی زیادہ ہم سے نزدیک ہے اوراگراس روحانی تعلق کی بنا پر  کہہ دیا جائے کہ مومنین کے حق میں نبی بمنزلہ باپ بلکہ اس سے بھی بمراتب بڑھ کر ہے تو بالکل بجا ہو گا۔ چنانچہ سنن ابی داؤد میں  ہے۔
انما انالکم بمنزلۃ الوالد۔
اور ابی بن کعب وغیرہ کی قرأت میں آیت ہٰذا:
النبی اولیٰ بالمومنین۔الخ کے ساتھ وھواب لھم کا جملہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔
باپ بیٹے کے تعلق میں غورکروتواس کا حاصل یہ ہی نکلتا ہے کہ بیٹے کا  جسمانی وجود باپ کے جسم سے نکلا ہے اور باپ کی تربیت و شفقت طبعی اوروں سے بڑھ کر ہے۔ لیکن نبی اور امتی کا تعلق کیا اس سے کم ہے؟یقیناً امتی کا ایمانی و روحانی وجود نبی کےروحانیت کبریٰ کا ایک پر تو اور ظل ہوتا ہے۔ جو شفقت و تربیت نبی کی طرف سے ظہور پذیر ہوتی ہے، ماں باپ تو کیا تمام مخلوق میں اس کا  نمونہ نہیں مل سکتا۔ ماں باپ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے ہم کو دنیا کی عارضی حیات عطا فرمائی تھی۔ لیکن نبی کے طفیل ابدی اور دائمی حیات ملتی ہے۔ نبی کریم ﷺ ہماری وہ ہمدردی و خیر خواہی، شفقت و تربیت فرماتے ہیں جوخودہمارانفس بھی اپنی نہیں کر سکتا۔ (قرآن مجید مترجم و محشی مطبوعہ مدینہ پریس، بجنور، ص:۵۴۲)
ان تفصیلات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کا احسان ہے کہ اس نے ہماری مادی ترقی واصلاح کی طرح ہماری روحانی ترقی و اصلاح کا بھی اہتمام و انتظام کیا۔ اگر انبیائے کرام علیہم السلام دنیا میں تشریف نہ لاتے تویہ دنیا ایک ظلمت کدۂ ہلاکت بن جاتی ۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: