حضرت ابوبکر صدیق ؓ : 02

صبح سویرے کچھ لوگ بیٹھے ادھر ادھر کی باتیں کر رہے تھے، ان باتوں میں ایک بات یہ تھی کہ وہ حضرت عمر ؓ کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ پر فوقیت اور فضیلت دے رہے تھے، یہ بات اڑتی ہوئی امیرالمؤمنین حضرت عمر بن خطاب ؓ تک پہنچ گئی۔ چنانچہ حضرت عمر ؓ دوڑے ہوئے آئے اور لوگوں کے ایک بھرے مجمع میں کھڑے ہو کر فرمایا: خدا گواہ ہے کہ ابوبکر ؓ کی ایک رات، عمر کے سارے خاندان سے بہتر ہے، اور ابوبکر ؓ کا ایک دن، عمر کے خاندان سے بہتر ہے، پھر آپ ؓ نے لوگوں کے سامنے حضرت ابوبکر صدیق ؓ جیسے عظیم انسان کا ایک واقعہ بیان کیا تاکہ ان کو حضرت ابوبکر ؓ کا مقام و مرتبہ معلوم ہو۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: ایک رات رسول کریم غار کی طرف جانے کے لیے نکلے، آپ کے ہمراہ ابوبکر صدیق ؓ بھی تھے، ابوبکر ؓ راستہ میں چلتے وقت کبھی آنحضور کے پیچھے پیچھے چلتے اور کبھی حضور کے آگے آگے چلتے، یہاں تک رسول اللہ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے پوچھا: ابوبکر ؓ! کیا وجہ ہے کہ تم کبھی میرے پیچھے چلتے ہو اور کبھی میرے آگے چلتے ہو؟ حضرت ابوبکر ؓ نے بڑے غمزدہ لہجہ میں عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کبھی آپ کے پیچھے چلتا ہوں تاکہ دیکھوں کہ کہیں کوئی آپ کو تلاش تو نہیں کر رہا ہے! اور کبھی آپ کے آگے آگے چلتا ہوں تاکہ دیکھوں کہ کہیں کوئی گھات لگا کر آپ کا انتظار تو نہیں کر رہا ہے، اس پر آنحضرت نے فرمایا: اے ابوبکر ؓ! اگر کوئی چیز ہوتی، خطرہ درپیش ہوتا تو میں پسند کرتا کہ تم ہی میرے آگے ہوئے۔ ابوبکر ؓ نے شوق سے عرض کیا: جی ہاں، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ جب دونوں غارِ ثور میں پہنچ گئے تو حضرت ابوبکر ؓ نے حضورِ اکرم کو یہ عرض کرتے ہوئے ٹھہرایا کہ یا رسول اللہ! آپ ٹھہریئے! مجھے پہلے اس غار میں جانے دیں، اگر کوئی سانپ یا مضر جانور ہو تو وہ مجھے نقصان پہنچائے، آپ کو نہ پہنچائے۔ ابوبکرؓغارکےاندرگئے اور اپنے ہاتھ سے سوراخوں کو ٹٹولنے لگے اور ہر سوراخ کو کپڑے سے بند کیا، جب سارا کپڑا اس میں لگ گیا تو دیکھا کہ ایک سوراخ باقی رہ گیا ہے اس میں اپنا پائوں رکھ دیا، پھر نبی اکرم اس غار میں داخل ہوئے، جب صبح ہوئی اور ہر طرف روشنی پھیل گئی تو آنحضرت کی صدیق اکبر ؓ پر نظر پڑی تو دیکھا کہ ان کے بدن پر کپڑا نہیں ہے، آپ نے متعجب ہوکرپوچھا: اے ابوبکر ؓ! تمہارا کپڑا کہاں ہے؟
حضرت ابوبکر
ؓ نے سارا واقعہ بتایا تو نبی کریم نے اپنے دستِ مبارک اٹھائے اور یہ دعا فرمائی: اے اللہ! قیامت کے دن ابوبکرؓ کو میرے ساتھ میرے درجہ میں کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کہ اللہ جل جلالہٗ نے آپ کی دعا قبول فرما لی ہے۔ اس کے بعد حضرت عمر بن الخطاب ؓ نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں میری جان ہے، ابوبکر ؓ کی وہ رات، عمر کے خاندان سے زیادہ بہتر ہے۔
حضور اقدس اور آپ کے رفیق حضرت ابوبکر ؓ، غار کے اندر روپوش ہو گئے، تاریک رات ہے،اندھیراچھارہاہے،آنحضرت کو نیند آرہی ہے، چنانچہ آنحضور نے اپنی آنکھیں بند کر لیں، حضرت صدیق اکبر ؓ کی گود میں اپنا سر مبارک رکھا اور سو گئے، اسی دوران حضرت ابوبکر ؓ کے اس پائوں کو زہریلے سانپ نے ڈس لیا جس پائوں کے ساتھ انہوں نے سانپ کے بل کو بند کیا ہوا تھا، لیکن آپ ؓ نے اس ڈر سے کہ کہیں رسول اللہ بیدار نہ ہو جائیں، ذرا بھی حرکت نہیں کی۔ مگر کچھ ہی دیر کے بعد درد کی شدت سے ابوبکر صدیق ؓ، کے آنسوئوں کا ایک قطرہ رسول اللہ کے چہرے مبارک پرگراجس سے آنحضرت کی آنکھ کھل گئی، آپ نے پوچھا: اے ابوبکر ؓ! کیا بات ہے؟ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا: اس وقت آپ ؓ کو تکلیف ہو رہی تھی، میرے ماں باپ آپ پر قربان! سانپ نے ڈس لیاہے، حضور نبی کریم نے اپنا مبارک لعاب دہن اس پر لگایا تو جو دردان کو محسوس ہو رہا تھا وہ ایسا ختم ہوا کہ گویاجیسےسانپ نے ڈسا ہی نہ ہو اور جس وقت آنحضرت کی وفات قریب ہوئی تو اس زہر کا اثر عود کر آیا تھا۔
اُدھر شرک کے زہریلے و خطرناک سانپ اور کفر کے سردار شیاطین، حضورِ اقدس اور آپ کے یارِ غار کی تلاش میں تیزی سے نکلے، ہر مقام پر ہر جگہ پر گئے یہاں تک کہ جبل ثور پر آپہنچے اور اس غار کے دروازہ کے پاس آکرکھڑےہو گئے جس غار میں آنحضرت اور آپ کے صاحب چھپے ہوئے تھے۔ ابوبکر صدیق ؓ کی ان پرنظر پڑی تو گھبرا گئے اور پریشان ہوئے کہ کہیں یہ لوگ حضور کو دیکھ نہ لیں، رسول اللہ نے ان کی طرف دیکھا تو ان کاغم ختم کرنے کے لیے آہستہ آواز میں فرمایا: ’’ غم نہیں کرو! بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ ابوبکر صدیق ؓ نے سہمی ہوئی آواز میں کہا: اگر ان میں سے کسی نے اپنے قدموں کی طرف دیکھا تو ہمیں ضرور دیکھ لے گا، آنحضور نے جواب میں فرمایا: اے ابوبکر ؓ! تمہارا ان دو کے متعلق کیا گمان ہے جن کا تیسرا خود اللہ ہو؟
حضور نبی کریم
نماز پڑھنے لگے اور دعا کرنے لگے:فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلَیْہِ وَ اَیَّدَہٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْھَا وَ جَعَلَ کَلِمَۃَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا السُّفْلٰی وَ کَلِمَۃَ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا وَ اللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌo (التوبۃ: 40)
حضرت ابوبکر صدیق ؓ، پھٹے پرانے اور بوسیدہ عباء پہنے رسول اللہ کے پاس بیٹھے تھے، اس عباء(چوغہ)کےکنارےکھجورکی شاخوں اور نباتات کی لکڑیوں سے جوڑے گئے تھے۔ حضرت جبریل علیہ السلام نازل ہوئے اور دریافت کیا:اےمحمد!کیاوجہ ہے کہ میں ابوبکر ؓ کے جسم پر ایسی بوسیدہ قسم کی عباء دیکھتا ہوں جس کو اس طرح سےجوڑاگیاہے؟حضور نے فرمایا: ’’اے جبریل علیہ السلام! ابوبکر ؓ نے فتح سے پہلے اپنا مال مجھ پر خرچ کر دیا تھا۔ جبریل علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہہ رہے ہیں اور آپ سے فرما رہے ہیں کہ آپ ان سےپوچھیےکہ کیا وہ اس حالت فقر پر اللہ سے خوش ہے یا نا خوش؟ حضور اکرم نے پوچھا: اے ابوبکر ؓ! اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہہ رہے ہیں اور آپ ؓ سے پوچھ رہے ہیں، کہ کیا آپ ؓ اس حالتِ فقیرانہ پر اللہ سے خوش ہیں یا نا خوش؟ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا: کیا میں اپنے رب سے ناخوش ہو سکتا ہوں؟ پھر از راہِ شوق فرمانے لگے: میں اپنے رب سے راضی ہوں،میں اپنے رب سے راضی ہوں۔ میں اپنے رب سے راضی ہوں۔
رات چھانے کو تھی،صحابہ ؓ حضور کے ارد گرد یوں منتشر بیٹھے تھے جیسے ستارے چودھویں کےچاندکےاردگردہوں،اورآنحضرت اپنی شیریں گفتگو جاری رکھے ہوئے تھے کہ حضور نے ارشاد فرمایا: ’’جنت میں ایک ایسا آدمی داخل ہو گا کہ جنت میں ہر گھر والا اور بالاخانے والا اس کو خوش آمدید، خوش آمدید کہے گا اور کہےگا کہ ہمارے ہاں آئو، ہمارے ہاں آئو۔ حضرت ابوبکر ؓ نے شوق سے پوچھا: یا رسول اللہ! آج کل اس آدمی کاثواب(نیکی)کیاہے؟ حضور اقدس نے صدیق اکبر ؓ کی طرف انبساط سے دیکھا اور ان کو یہ خوشخبری سنائی کہ اےابوبکر ؓ! وہ آدمی تم ہی ہو۔ جب نبی اکرم کو آسمانی معراج ہوئی اور آپ جنت عدن میں داخل ہوئے تو وہاں آپ نے چودھویں کے چاند کی مانند بے مثال حور دیکھی جس کی پلکیں، گدھ کے اگلے پروں کی طرح تھیں۔ حضور نے اس سے پوچھا: تو کس کے لیے ہے؟ اس حور نے کہا: میں آپ کے بعد آنے والے خلیفہ کےلیےہوں۔آنحضرت اپنے رفقاء کے درمیان پر وقار اور باعظمت طریقہ سے تشریف فرما تھے کہ آپ نےفرمایا:اللہ تعالیٰ، ابوبکر ؓ پر رحم فرمائے، انہوں نے اپنی بیٹی سے میری شادی کی، دارِ ہجرت میرے ہمراہ گئےاوربلالؓکوغلامی سے آزادی دلائی، اور اللہ تعالیٰ عمر ؓ پر رحم فرمائے، وہ حق بات کہتا ہے، خواہ تلخ ہی کیوں نہ ہو اوران کاکوئی دوست نہیں۔ اللہ تعالیٰ عثمان پر رحم فرمائے، جن سے فرشتے حیا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ علی ؓ پر رحم فرمائے،اےاللہ! جہاں یہ جائیں، حق کو ان کے ساتھ ہی پھیر دے۔
ایک آدمی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس بیٹھا تھا، اس نے پوچھا: کیا آپ ؓ نے زمانۂ جاہلیت میں بھی کبھی شراب نوشی کی ہے؟ ابوبکر صدیق ؓ نے اعوذ باللہ پڑھی۔
اس نے پوچھا: کیوں؟ ابوبکر ؓ نے فرمایا کہ میں اپنی عزت کو بچاتا تھا اور اپنی اخلاقی قدروں کا تحفظ کرتا تھا۔ کیونکہ جو شخص شراب پیتا اس کی عزت و آبرو خاک میں مل جاتی تھی۔ یہ بات رسول اللہ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ ابوبکر ؓ نے دوبار تصدیق کی ہے۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ اپنے ساتھ تین مہمانوں کو لے کر گھر پہنچے، پھر مہمانوں کو اپنے بیٹے کے پاس چھوڑا، اور خود رسالت مآب کے ساتھ رات کا کھانا تناول فرمانے کے لیے تشریف لے گئے، کا شانۂ اقدس پر رات کا ایک حصہ گزارنےکے بعد گھر واپس آئے تو اپنی بیوی سے پوچھا: مہمانوں کو کھانا کیوں نہیں دیا؟ تمہیں کھانا کھلانے میں کیا چیز مانع ہوئی؟ بیوی نے کہا: مہمانوں نے آپ کے بغیر کھانا کھانے سے انکار کر دیا، حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا کہ خدا کی قسم! میں بھی یہ کھانا بالکل نہیں کھائوں گا۔ پھر جب انہوں نے کھانا مہمانوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا کہ کھائو! تو وہ کھانے لگے۔ ان میں سے ایک آدمی نے کہا: خدا کی قسم! ہم جو لقمہ بھی اٹھاتے اس کے نیچے سے اور زیادہ نکل آتا تھا یہاں تک کہ ہم سیر ہو گئے۔ اور باقی بچا ہوا کھانا اس کھانے سے زیادہ ہے جو پیش کیا گیا تھا، حضرت ابوبکر ؓ نے جو دیکھا تو واقعی کھاناویساہی تھا یا اس سے بھی زیادہ تھا، اپنی بیوی سے فرمانے لگے: اے بنی فراس کی بہن! یہ کیا ہوا؟ وہ خوشی سے کہنے لگیں: واقعی یہ تو پہلے سے تین گنا زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ وہ کھانا رسول اللہ کی خدمت میں لےگئے۔حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس کچھ مال آیا تو آپ ؓ نے لوگوں میں وہ مال برابر طریقہ سے تقسیم کر دیا، حضرت عمر ؓ نے کہا کہ اے خلیفۂ رسول! آپ ؓ، اہل بدر اور دوسرے لوگوں کے درمیان برابر کا برتائو کرتے ہیں؟
حضرت ابوبکر
ؓ نے فرمایا کہ دنیا تو مقصد تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے اور اس میں زیادہ وسعت زیادہ بہتر ہے۔ پھر ایک دن حضرت ابوبکر ؓ مختلف وفود روانہ فرما رہے تھے اور مختلف مہمات میں امراء کو مقرر کر رہے تھے کہ ایک آدمی یہ دیکھ کرآپ ؓ نے کسی بدری صحابی ؓ کو نہیں بھیجا، آپ ؓ سے کہنے لگا کہ اے خلیفۂ رسول اللہ! آپ ؓ اہل بدر کو عامل کیوں نہیں مقرر کرتے؟ آپ ؓ نے فرمایا کہ مجھے ان کے مقام کا علم ہے، لیکن میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ ان کو دنیا میں آلودہ کروں۔
حضورِ اقدس نے حضرت صدیق اکبر ؓ کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہوئے فرمایا: ہم نے ابوبکر ؓ کے سوا ہر ایک کابدلہ چکا دیا ہے، کیونکہ ان کے ہم پر ایسے احسانات ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی قیامت کے روز ان کا بدلہ ان کو دیں گےاورجس قدر ابوبکر ؓ کے مال نے مجھے نفع پہنچایا اتنا نفع مجھے اور کسی کے مال نے نہیں پہنچایا۔
مسجد کے صحن میں حضرت سعید بن المسیب ؓ بیٹھے تھے اور آپ ؓ کے اردگرد لوگ بھی جمع تھے، لوگوں نے صدیق اکبرؓکےمتعلق کچھ معلوم کرنا چاہا تو آپ ؓ نے فرمایا کہ ابوبکر صدیق ؓ کا حضور کی نظر میں ایک وزیر کا مقام تھا،آنحضور تمام اہم امور میں ان سے مشاورت فرماتے تھے، ابوبکر صدیق ؓ ثانی الاسلام تھے، نیز غار میں بھی ثانی اثنین (دو میں سے دوسرے) تھے، غزوئہ بدر کے موقع پر بھی قریش میں ثانی یہی تھے اور قبر مبارک میں بھی یہی ثانی ہیں، اور حضور اکرم کسی کو ان پر مقدم نہیں رکھتے تھے۔
ایک آدمی حضرت علی بن الحسین ؓ کے پاس آیا اور اس نے سوال کیا کہ حضور کی نظر میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ کا کیا مقام تھا؟ آپ ؓ نے فرمایا کہ آنحضور کی نظر میں ان کا مقام وہی تھا جو اس وقت ان کا مقام ہے۔  (یعنی جیسے ان کی قبریں، حضور کی قبر مبارک کے ساتھ ہیں۔)
فکر و غم کی کیفیت میں صدیق اکبر ؓ منبر پر جلوہ افروز ہوئے، حمد و ثناء کے بعد فرمایا: لوگو! تم یہ آیت مبارکہ پڑھتے ہو:یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْo (المائدۃ: 5:1)لیکن اس کے معنی کو
خلافِ محل مقام پر محمول کرتے ہو، حالانکہ میں نے سرکارِ دو عالم
کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ جب کوئی کام خلافِ شرع ہوتے دیکھیں اور اس کام کو نہ روکیں تو عنقریب اللہ سب کو عذاب میں گرفتار کریں گے، پھر اس عذاب کو ان سے دور نہیں کریں گے۔
حضورِ اکرم نے حضرت اغرّ ؓ کے لیے کھجوروں کی ایک تھیلی دینے کا حکم دیا، آپ نے فرمایا کہ فلاں انصاری آدمی سے جا کر لے لو، حضرت اغرّ مزنی ؓ اس انصاری آدمی کے پاس گئے اور ان سے کھجوروں کی تھیلی مانگی تو اس نے ٹال مٹول کی اور دینے سے انکار کر دیا۔ حضرت اغرّ، حضورِ اقدس کی خدمت میں واپس آئے اور سارا قصہ سنایا، آنحضور نے حضرت ابوبکر ؓ کے ذمہ یہ کام لگایا کہ وہ ان کے ساتھ اس انصاری آدمی کے پاس جائیں اور اس سے کھجوروں کی تھیلی وصول کریں۔ حضرت اغرّ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓ نے مجھ سے مسجد میں ملنے کا وعدہ کیا، جب ہم صبح کی نماز پڑھ چکےتومیں نے حضرت ابوبکر ؓ کو حسب وعدہ اپنی جگہ پایا، چنانچہ ہم (اس انصاری آدمی کے پاس) چلے، جب بھی صدیق اکبر ؓ کسی آدمی کو دور سے دیکھتے اسے سلام کہتے، پھر مجھ سے فرمایاکہ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ تمہیں عظیم مرتبہ حاصل ہو توسلام کرنے میں کوئی شخص تم پر سبقت نہ لے جائے۔
ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو ایک آدمی پر اتنا سخت غصہ آیا کہ اس سے قبل آپ ؓ کو اس قدر شدید غصہ کی حالت میں نہیں دیکھا گیا، (یہ حالت دیکھ کر) ابوہریرہ ؓ نے عرض کیا: اے خلیفۂ رسول! آپ ؓ مجھے فرمائیے، میں اس کی گردن اڑاتا ہوں، (یہ بات سنتے ہی) حضرت ابوبکر ؓ کا غصہ فرو ہوا، آتش غضب میں کمی آئی تو ابوہریرہ ؓ سے فرمایا: تیری ماں تجھ پر روئے، تو نے یہ کیوں کہا؟ ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ خدا کی قسم! اگر آپ ؓ مجھے قتل کرنے کا حکم دیتے تو میں اس کوضرور قتل کر دیتا۔
حضرت ابوبکر
ؓ نے فرمایا کہ اے ابوہریرہ ؓ! تیری ماں تجھ پر روئے، یہ حق تو رسول اللہ کے بعد کسی کو حاصل نہیں ہے۔
ایک آدمی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس آیا، آپ ؓ ان دنوں خلیفۃ المسلمین تھے۔ اس آدمی نے اظہارِ افسوس کرتےہوئے یہ شکوہ کیا کہ میرا باپ میرا سارا مال اپنے قبضہ میں کر کے اس کا صفایا ہی کرنا چاہتا ہے۔ ابوبکر صدیق ؓ نے اس آدمی کے باپ کو بلایا اور اس سے فرمایا کہ تمہیں اس کا صرف اتنا مال لینے کا حق ہے جو تیرے لیے کافی ہو۔ اس کےباپ نے کہا: اے خلیفۂ رسول ()! کیا رسول کریم نے یہ ارشاد نہیں فرمایا کہانت و مالک لأبیکo
’’یعنی تم بھی اور تمہارا مال بھی تمہارے باپ کی ملک ہے۔‘‘
ابوبکر ؓ نے فرمایا: ہاں، بالکل فرمایا ہے، مگر اس سے آنحضور کی مراد نفقہ ہے۔
ایک دن حضرت علی کرم اللہ وجہہ، لوگوں کے پاس تشریف فرما تھے اور ان سے خیر و فضل کی باتیں کر رہے تھے کہ اچانک ان کے سامنے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا ذکر ہوا تو فرمانے لگے کہ ہاں، وہ سبقت لے جانے والے تھے ان کاذکرخیرہونا چاہیے، پھر فرمایا کہ اس ذات کی قسم، جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، جب بھی کسی نیک کام میں ہمارامسابقہ ہوا تو وہ ہم پر سبقت لے گئے۔
نبی کریم نے اپنے صحابہ ؓ  کو کتاب اللہ کی تعلیم کی نصیحت و ہدایت دیتے ہوئے فرمایا: قرآن چار آدمیوں سےسیکھو:ابن امّ عبد، معاذ، اُبی اور سالم مولی ابی حذیفہ ؓ سے۔ میں نے ارادہ کیا کہ ان حضرات کو لوگوں کی طرف بھیجوں جیسے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے اپنے حواریوں کو بنی اسرائیل کی طرف بھیجا۔ ایک شخص نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! ابوبکراورعمرؓ کا آپ کی نظر میں کیا مقام ہے؟ آپ نے فرمایا کہ میں ان دونوں سے مستغنی نہیں ہوں،  دین میں ان دونوں کی مثال تو آنکھ اور کان جیسی ہے۔
ایک دفعہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ، رسول اللہ کے ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:
فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗo وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃِ شَرًا یَّرَہٗo’’پس جو شخص ذرہ برابر نیکی کرےگاوہ اس کو (وہاں) دیکھ لے گا اور جو شخص ذرہ برابر بدی کرے گا وہ اس کو دیکھ لے گا۔‘‘(الزلزال: 7،8)
ابوبکر صدیق ؓ نے فوراً کھانا چھوڑ دیا اور گھبراتے ہوئے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنی تمام برائیوں کو اگلے جہاں میں دیکھیں گے؟ آنحضور نے فرمایا کہ جو تم ناگوار حالات دیکھتے ہو یہ وہی ہے جس کا تمہیں بدلہ دیاجاتاہےاورنیکی،نیکو کار کو آخرت میں ملے گی۔
ایک مرتبہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر w تشریف لائے تو سرورِ دو عالم نے فرمایا: یہ دو شخص تمام اول و آخر اہل جنت کے بوڑھوں کے سردار ہیں۔ مگر انبیاء اور مرسلین اس سے مستثنیٰ ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا: اے علی ؓ! ان کو نہ بتانا۔
ایک دن حضرت ابوبکر ؓ، نبی اکرم کی خدمت اقدس میں بیٹھے تھے کہ آنحضور نے ارشاد فرمایا: اے ابوبکر ؓ! تم حوضِ کوثر پر میرے رفیق ہو اور غار میں میرے صاحب ہو۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا عوالیِ مدینہ میں مشہور گھر تھا جس کا کوئی چوکیدار نہیں تھا۔ کسی نے آپ ؓ سے عرض کیا:اےخلیفۂ رسول! آپ ؓ بیت المال کے لیے کوئی پہرے دار مقرر کیوں نہیں کرتے؟ آپ ؓ نے فرمایا: وہاں کوئی خطرہ نہیں۔ پوچھا گیا کہ وہ کیوں؟ فرمایا
کہ اس پر قفل (تالا) لگا ہوا ہے۔ درحقیقت حضرت ابوبکر صدیق
ؓ بیت المال کا سارا مال (ضرورت مندوں میں) تقسیم
کر دیا کرتے تھے یہاں تک کہ اس میں کچھ باقی نہ رہا تھا، جب ابوبکر صدیق
ؓ مدینہ منتقل ہو گئے توبیت المال کو بھی اپنےرہائشی گھر میں منتقل کر لیا، جب کوئی مال آتا ابوبکر ؓ اس کو بیت المال میں رکھ دیتے، پھر لوگوں میں تقسیم کردیتےحتیٰ کہ کچھ بھی باقی نہ رہتا۔ حضرت صدیق اکبر ؓ کی جب وفات ہو گئی اور آپ ؓ کی تدفین بھی عمل میں آگئی توحضرت عمر ؓ نے خزانچیوں کو طلب کیا اور ان کے ہمراہ ابوبکر ؓ کے بیت المال میں تشریف لے گئے، آپ ؓ کے ساتھ عبدالرحمن بن عوف ؓ اور عثمان بن عفان ؓ بھی تھے،بیت المال کھولا تو اس میں نہ دینار ملا اور نہ درہم۔ ایک بوری ملی، اس کو جھٹکا تو اس سے ایک درہم نکلا، (یہ حالت دیکھ کر) ان کو ابوبکر ؓ پر رحم آگیا۔
موسم خوشگوار تھا حضرت ابوبکر صدیق ؓ آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے کہ آپ ؓ کی نظر ایک پرندہ پر پڑی جو ایک درخت پر بیٹھا میٹھی میٹھی آواز میں چہچہا رہا تھا۔ (یہ منظر دیکھ کر) آپ ؓ کہنے لگے، اے پرندہ! تو اچھا ہے، خدا کی قسم! کاش! میں تیری طرح (کا ایک پرندہ) ہوتا، درختوں پر بیٹھتا، پھل کھاتا اور اڑتا پھرتا، نہ کسی حساب کا ڈر ہوتا اور نہ عذاب کا۔خداکی قسم! کاش! میں سر راہِ ایک درخت ہوتا۔ اونٹ میرے پاس سے گزرتے اور مجھے اپنے منہ کا نوالہ بناتے،مجھےچباتے،کھاتےاور نگل جاتے، پھر مجھے مینگنیوں کی صورت میں نکالتے، میں کوئی بشر نہ ہوتا۔
حضرت عمر ؓ، حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس آئے اور صدیق اکبر ؓ کو یوں مخاطب کیا:یا خیر الناس بعد رسول اللّٰہ ﷺo۔۔’’یعنی رسول اللہ کے بعد تمام لوگوں میں بہترین انسان!‘‘حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے (اس اندازِ تخاطب پر)حیاوشرم اور عاجزی و انکساری سے سر جھکا لیا، پھر فرمایا کہ تم مجھے یہ کہہ رہے ہو حالانکہ میں نے رسولِ کریم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عمر ؓ سے بہتر آدمی پر سورج طلوع نہیں ہوا۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ جب مکہ میں تھے توقبول اسلام کی شرط پر غلاموں کو آزاد کرایا کرتے تھے، آپ ؓ کمزور عاجز اور بوڑھی عورتوں کو بھی اسلام قبول کرنے کی شرط پر غلامی سے آزادی دلاتے تھے، (ایک دن) آپ ؓ کے والد ابو قحافہ آئے اور کہنے لگے کہ بیٹے! تم کمزور لوگوں کو آزادی دلاتے ہو، اگر طاقتور اور جری قسم کے مردوں کو آزادی دلائو تو زیادہ بہتر ہو گا، وہ تمہارے کام بھی آئیں گے،دشمن سے تمہارا دفاع بھی کریں گے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا، ابا جان! میں تو اللہ تعالیٰ سے ہی اس کا صلہ اورانعام لیناچاہتاہوں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:فَاَمَّا مَنْ اَعْطیٰ و اتَّقٰیo (اللیل: 5)
دن مسلسل گزر رہے تھے اور ابوبکر صدیق ؓ، صاحب فراش ہیں، بدن مبارک خدا کے خوف سے لرزاں و ترساں ہے، آپ ؓ کی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت عائشہ r غم کے مارے ان کے سرہانے بیٹھی آنسو بہا رہی ہیں، دریں اثنا ابوبکرصدیقؓفرماتےہیں:بیٹی! میں مال و تجارت کے اعتبار سے قریش میں سب سے زیادہ مال دار تھا لیکن جب مجھ پر امارت کا بار پڑا تو میں نے سوچا کہ بس بقدر کفایت مال لے لوں۔ بیٹی! اب اس مال میں سے صرف یہ عبائ، دودھ کا پیالہ اور یہ غلام بچا ہے جب میری وفات ہو جائے تو یہ چیزیں عمر بن خطاب ؓ کے پاس بھیج دینا۔ جب آپ ؓ کی وفات ہو گئی، روح مبارک جسم سے نکل کر اعلیٰ علیین میں پہنچ گئی اورآپؓحضورکے پہلو میں مدفون ہو گئے تو ام المؤمنین حضرت عائشہ r نے وہ عبائ، دودھ کا برتن اور غلام، حضرت عمرؓکے پاس بھیج دیے۔ یہ چیزیں دیکھ کر حضرت عمر ؓ کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ ابوبکر ؓ پر رحم کرے! انہوں نے اپنے بعد آنے والوں کو مشکل میں ڈال دیا، کسی کو کچھ کہنے کا موقع نہیں دیا۔ (یعنی اپنی زندگی اتنی صاف شفاف گزاری) خدا کی قسم! اگر ابوبکر کے ایمان کا روئے زمین کے تمام لوگوں کے ایمان کے ساتھ وزن کیا جائے تو ابوبکر ؓ کے ایمان کا پلہ بھاری ہوگا۔ خدا کی قسم! میری یہ تمنا ہے کہ کاش کہیں ابوبکر ؓ کے سینہ کا ایک بال ہوتا۔ حضرت عائشہ r فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق ؓ اس  حال میں دنیا سے رخصت ہوئے کہ کوئی دینار یا درہم نہیں چھوڑا، وہ تو اپنا مال بھی بیت المال میں ڈال دیتے تھے۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ بستر مرگ پر لیٹے تھے بدن پر لرزہ طاری تھا، اعضائ، خوف و گھبراہٹ سے کانپ رہے تھے اور لوگ کثرت  سے عیادت کرنے آرہے تھے، لوگوں نے پوچھا: اے ابوبکر ؓ! اے خلیفۂ رسول! کسی طبیب کو بلا لائیں! آپ ؓ نے ہلکی سی  مسکراہٹ میں فرمایا کہ طبیب تو آگیا ہے۔ لوگوں نے افسردہ ہو کر پوچھا: پھر اس نے کیا کہا ہے؟ فرمایا کہ وہ کہتا ہے کہ اِنِّیْ فَعَّالٌ لِمَا اُرِیْد یعنی میں جو چاہتا ہوں سو کرتا ہوں۔ لوگوں نے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے اپنے سروں کو ہلایا اور پھر خاموش ہو گئے۔ حضرت عائشہ r اپنے باپ کی عیادت کے لیے آئیں، دیکھا کہ آپ ؓ جان کنی کے عالم میں ہیں، حضرت عائشہ r کے رخساروں پر آنسو رواں تھے اس شدتِ کرب کے عالم میں حضرت عائشہ r کی زبان پر بے ساختہ یہ شعر جاری ہو گئے:لعمرک ما یغنی الثراء عن الفتی۔۔’’تیری عمر کی قسم! جان کنی کے وقت اور سینہ تنگ ہو جانے کے عالم میں کسی انسان کو اس کی مال داری کام نہیں آتی۔‘‘
صدیق اکبر ؓ نے نظر التفات فرمائی اور فرمایا: اے بیٹی! ایسا نہ کہو، بلکہ تم یہ کہو:وَ جَآئَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّo’’اور سکراتِ موت کا وقت حق کے ساتھ آگیا۔‘‘ (سورۃ ق: 19)
اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنی بیٹی کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: میرے ان دو کپڑوں کو دیکھو، انہیں دھو کر مجھےانہی میں کفن دے دینا، کیونکہ زندہ آدمی کو نئے کپڑوں کی مردے کی بہ نسبت زیادہ ضرورت ہوتی ہے حضرت سلمان ؓ بھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی عیادت کے لیے آئے، آپ ؓ موت کی کشمکش میں تھے، حضرت سلمان ؓ نے گھبراتے ہوئے عرض کیا:اےابوبکرؓ! اے خلیفۂ رسول! مجھے وصیت کیجئے؟ ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تم پردنیا(کےدروازے)کھولےگا لیکن تم اس میں سے بقدرِ ضرورت ہی لینا، اور یہ کہ جو شخص صبح کی نماز پڑھ لیتا ہے وہ اللہ کی پناہ و امان میں آجاتا ہے، لہٰذا تم اس کی پناہ کو نہ توڑنا ورنہ اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیے جائو گے۔

2 comments

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: