حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ:03

حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ کا شمار عرب کے متمول ترین اور امیر ترین اشخاص میں ہوتا تھا آپ کی روزانہ آمدنی اوسطاً ایک ہزار دینار بتائی جاتی ہے۔جس وقت فاروق اعظم ؓ نے نئے خلیفہ کے انتخاب کے لیے چھ حضرات کا انتخاب کیا تھا تو اس سلسلے سے متعلق علامہ ابن کثیر وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ جب سفرسےواپس تشریف لے آئے اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے اہل مجلس کے سامنے یہ تحریک پیش کی کہ چھ میں سےتین حضرات دوسرے تین افراد کے حق میں دستبردار ہو جائیں تاکہ اس معاملے کو جلد نبٹایا جا سکے چنانچہ حضرت زبیربن عوام ؓ حضرت عثمان ؓ اور حضرت علی ؓ کے حق میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ حضرت عثمان ؓ کے حق میں دستبردارہونے کے بعد حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے کہا:
’’میں حضرت علی
ؓ اور حضرت عثمان ؓ کے حق میں دستبردار ہوتا ہوں صرف دو رکن باقی رہ گئے ایک حضرت عثمان غنی ؓ اوردوسرے حضرت علی بن ابی طالبؓ، حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے ان دونوں سے یہ عہد لیا کہ اگر اسے خلیفہ بنایاجائے تو وہ عدل کرے گا اور اگر دوسرے پر اس کو خلیفہ بنایا تو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرے گا۔
حضرت طلحہ ؓ نے واپس آ کر حضرت عثمان ؓ کو اپنے اوپر ترجیح دی۔ اس موقع پر حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کا حضرت عثمان بن عفان ؓ کو اپنے اوپر ترجیح دینا ان کا ایثار اور حضرت عثمان ؓ سے ان کا ایثار اور محبت کا نتیجہ ہے چنانچہ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کی کوشش اور بعد میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ کی تائید سے حضرت عثمان غنی ؓ منصب خلافت پر متمکن ہوئےتھے۔
حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کو جس وقت شہید کیا گیا اس وقت ان کی عمر باسٹھ یا چونسٹھ سال کے لگ بھگ تھی۔ مورخین لکھتے ہیں ان کے انتقال کے بعد انہیں اسی میدان میں دفن کر دیا گیا تھا جہاں جنگ جمل واقع ہوئی تھی۔ مورخین مزید لکھتے ہیں کہ جس جگہ طلحہ بن عبیداللہ ؓ کو دفن کیا گیا تھا وہ زمین کسی قدر نیچی اور نشیب میں تھی اور بارشوں کے موسم میں اکثر اوقات وہاں پانی جمع ہو جایا کرتا تھا۔
آپ ؓ کے انتقال کے بعد ایک شخص نے مسلسل تین مرتبہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کو خواب میں دیکھا کہ وہ اپنی لاش کوقبر سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی ہدایات فرما رہے تھے۔حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے جب اس خواب کے بارےمیں سنا تو انہوں نے ایک صحابی کا مکان دس ہزار درہم میں خریدا اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کی لاش کو اس میں منتقل کردیادیکھنے والوں کا بیان تھا کہ اتنے دن گزرنے کے بعد حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کا جسم اسی طرح محفوظ تھا یہاں تک کہ آنکھوں میں جو کافور لگایا گیا تھا وہ بھی ویسے کا ویسا ہی تھا۔
حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کا اخلاق نہایت بلند و اعلیٰ تھا اسلام کے بالکل ابتدائی ایام میں وہ مسلمان ہوئے تھے پوری زندگی بلکہ زندگی کے اعلیٰ ایام نبوت کی تربیت میں گزرے اس لیے اخلاق و اخلاص کے لحاظ سے حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ نہایت
پختہ اور منجھے ہوئے تھے۔خشیت الٰہی اور محبت رسول
ایک مسلمان کا سرمایہ حیات ہوتے ہیں۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کا قلب ان دونوں چیزوں سے لبریز تھا۔
ہجرت کے بعد حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے حضور اکرم کے ساتھ مختلف غزوات میں بھی شرکت فرمائی مسلمانوں اورکفار کے درمیان ہونے والی پہلی جنگ بدر میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ شرکت نہ کر سکے تھے اس لیے کہ حضوراکرم نے انہیں اور حضرت سعید بن زید ؓ کو کسی کام کے سلسلے میں ارض شام کی طرف روانہ کر رکھا تھا لہٰذا جب حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ اس مہم سے واپس آئے تو حضور اکرم نے انہیں بدر کے مال غنیمت سےحصےدارقراردیااورساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ تم جہاد کے ثواب سے بھی محروم نہیں رہو گے۔
مورخین یہ بھی لکھتے ہیں کہ کل آٹھ حضرات ایسے ہیں جنہوں نے غزوہ بدر میں شرکت نہ کی تھی لیکن حضوراکرمنےناصرف غزوہ بدر سے حاصل ہونے والے مال غنیمت میں شریک رکھا بلکہ جہاد کے ثواب میں بھی وہ حصہ دار قرار پائے۔
ان آٹھ حضرات میں سے پہلے حضرت عثمان بن عفان ؓ ہیں جن کو حضور اکرم نے خود ان کی اہلیہ اور اپنی بیٹی حضرت رقیہ ؓ  کی تیمارداری کے لیے مدینہ میں چھوڑا تھا دوسرے حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ ہیں۔ تیسرے حضرت سعید بن زیدؓ، حضرت سعید بن زید ؓ اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ دونوں کو آپ نے کفار کے ایک قافلے کی خبرلانےکےلیےارض شام کی طرف روانہ کر دیا تھا۔
چوتھے حضرت ابولبانہ ؓ تھے انہیں کچھ انتظامات کے سلسلے میں مدینہ چھوڑا گیا تھا پانچویں عاصم ؓ بن عدی تھے۔ ان کو مدینہ کی بالائی آبادی کے انتظامات کے لیے حضور اکرم نے مدینہ میں چھوڑا تھا۔ چھٹے حضرت حارث بن حاطب ؓ تھے۔ ان کو آپ نے کسی وجہ سے بنو عمرو بن عوف کی طرف روانہ کیا تھا ساتویں حضرت حارث بن الصمۃ ؓ اور آٹھویں خوات بن جبیر ؓ تھے ان سب کو جنگ میں شریک نہ ہونے کے باوجود حضور اکرم نے اصحاب بدر میں شامل فرمایا اور مال غنیمت میں حصہ بھی عطا فرمایا:
غزوہ بدر کے مسلمانوں نے قریش کو ہلا کر رکھ دیا تھا ان کے بڑے بڑے سورما بڑے بڑے سردار اس غزوہ میں کام آچکے تھے گو بدر کی شکست کے بعد زندہ بچنے والے کفار کے سرداروں نے اپنے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ وہ مرنے والوں پر آہ و فغاں نوحہ اور ماتم ہرگز نہ کریں اس کے باوجود غزوہ بدر کی شکست اور اس میں کام آنے والے لوگوں کی وجہ سےمکہ کے اندر ایک کہرام برپا ہو گیا تھا ہر شخص کے دل میں مسلمانوں کے خلاف انتقام کی آگ کھول اٹھی تھی گو نوحہ ماتم سے منع کیا گیا تھا لیکن عورتیں اس سے باز نہ آئیں اس لیے کہ مکہ کا کوئی گھر بھی ماتم سے خالی نہ تھا۔ کوئی عورت اپنے لخت جگر کو روتی کسی کے دل میں اپنے بھائی کے قتل کا ناسور پک رہا تھا کوئی اپنے مرنے والے باپ کا نوحہ کرتی کوئی
اپنے شوہر کی جدائی کو روتی گویا مکہ کے ہر گھر میں نوحہ اور ماتم کی بساط بچھ گئی تھی اسی نوحہ و ماتم کی وجہ سے اہل مکہ کےدل سے مسلمانوں سے انتقام لینے کی آگ ہمہ وقت بھڑکتی رہتی تھی چنانچہ اسی انتقام کے تحت انہوں نے اپنی طاقت کوجنگ احد میں جھونکنے کا فیصلہ کیا مکہ کے سرکردہ لوگ کیونکہ اپنی عورتوں کے بین نوحہ اور ماتم کو برداشت نہ کرسکتےتھےلہٰذا انتقام پر اترے جنگ احد برپا ہوئی اس جنگ کے شروع میں مسلمانوں نے کمال جرأت مندی لاجواب شجاعت کا مظاہرہ کیا اور مسلمانوں کی تلواروں نے مشرکین کے سروں کی ایسی فصل کاٹی کہ وہ اپنے پڑائو میں قتل ہوئے۔ حضور اکرم
کے منہ سے نکلی ہوئی دعائوں کے مستحق ٹھہرے۔
جنگ احد میں ایک موقع ایسا بھی آیا جب صرف آپ اور حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ حضور اکرم کے ساتھ تھے اس موقع پر حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے اس جواں مردی اور پامردی سے حضور اکرم کی حفاظت فرمائی کہ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں حضور اکرم نے احد کے وقت فرمایا:’’طلحہ ؓ کے لیے جنت واجب ہو گئی ہے۔‘‘
مورخین لکھتے ہیں کہ دین کا مطالبہ جان و مال دونوں کے ساتھ جہاد کرنے کا ہے جبکہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے جان ومال دونوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کیا چنانچہ روایات میں ہے کہ انہوں نے نذر مانی تھی کہ غزوات کےمصارف کے لیے اپنا مال اللہ کے راستے میں دیا کریں گے۔
اس نذر کو انہوں نے اس پابندی کے ساتھ پورا کرنے کی کوشش کی کہ قرآن حکیم میں ان کی تعریف میں سورہ احزاب کے اندر یہ آیت نازل ہوئی۔
من المومنین رجال صدقوا ما عاہدوا اللہ علیہ فمنہم من قضٰی نحبہ ومنہم من ینتظر وما بدلو تبدیلاo
یعنی مومنوں میں کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ سے جو کچھ عہد کیا اس کو سچا کر دکھایا بعض ان میں سے وہ ہیں جنہوں نے اپنی نذر پوری کی۔
شیخ السلام علامہ شبیر احمد عثمانی فرماتے ہیں کتنے پکے سچے مسلمان تھے جنہوں نے اپنا عہد و پیماں سچا کر دکھایا اور بڑی بڑی سختیوں کے وقت دین کی حمایت اور پیغمبر کی رفاقت سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹایا اور رسول اللہ کو جو زبان دےچکے تھے پہاڑ کی طرح سے اس پر جمے رہے۔
ان میں سے کچھ تو وہ ہیں جو اپنا ذمہ پورا کر چکے یعنی جہاد ہی میں جان دے دی جیسے شہداء بدر اور احد جن میں سےحضرت انس بن نذر ؓ بہت مشہور ہیں اور بہت سے مسلمان وہ ہیں جو نہایت ہی اشتیاق کے ساتھ موت فی سبیل اللہ کاانتظار کر رہے تھے کب کوئی معرکہ پیش آئے جس میں ہمیں بھی شہادت کا مرتبہ نصیب ہو بہرحال دونوں قسم کےمسلمانوں نے جو اللہ کی راہ میں جان دے چکے اور مشتاق جہاد تھے اپنے عہد و پیما کی پوری حفاظت کی اور اپنی بات سے ذرا بھی نہیں بدلے۔‘‘
حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کو ان کی زندگی میں سخاوت کے شہنشاہ کی حیثیت سے یاد کیا جاتا تھا فقراء اور مساکین اور اہل حاجت کے لیے ان کے گھر کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا تھا لوگ کہا کرتے تھے کہ طلحہ بن عبیداللہ ؓ سے زیادہ کسی کو بخشش میں پیش پیش نہیں دیکھا۔
حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کے صاحبزادے موسیٰ بن طلحہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضر موت سے ان کے والد محترم کے پاس سات لاکھ درہم آئے ان سات لاکھ درہموں کی نقدی کے آنے پر آپ نے پوری رات کروٹیں بدلتے گزار دی اس پر آپ کی اہلیہ نے انہیں مخاطب ہو کر پوچھا:’’کیا بات ہے آپ اتنے پریشان کیوں ہیں؟‘‘
اس پر بڑی فکر مندی میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا:’’اللہ کی بندی میں تو رات سے پریشان ہوں کیونکہ اس بندے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کیا کہیں گے جس کے گھر میں رات بھر اتنا مال رہے۔‘‘
اس پر آپ کی اہلیہ نے کہا:’’اس میں پریشان اور فکرمند ہونے کی کون سی بات ہے آپ اس کو غرباء اور فقراء میں تقسیم فرما دیں۔ اس پر آپ نے خوشی کا اظہار کیا اور فرمانے لگے۔
تو بڑی نیک ہے اور نیک شخص کی بیٹی ہے آپ کی یہ اہلیہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی صاحبزادی ام کلثوم ؓ  تھیں۔ آپ نےپھر فرمایا:’’تونے میری ساری پریشانی دور کر کے رکھ دی ہے‘‘ چنانچہ صبح ہوئی تو آپ نے تھال بھر بھر کر مہاجرین
اور انصار میں اس رقم کو تقسیم کر دیا اس پر آپ کی اہلیہ محترمہ نے کہا۔ ’’ہمارے لیے اس مال میں سے کچھ نہیں ہے؟‘‘
اس پر طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے فرمایا:’’اللہ کی بندی تو سارا دن کہاں تھی۔ اب صرف یہی کچھ بچا ہے۔‘‘ آپ کی اہلیہ فرماتی ہیں کہ آپ نے مجھے ایک تھیلی دی جس میں ایک ہزار درہم باقی رہ گئے تھے۔
مورخین لکھتے ہیں کہ غزوہ ذی القرو میں رسول اللہ اپنے مجاہدین کے ساتھ پانی کے ایک چشمے پر گزرے جس کا نام بلیسان مالح تھا حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے وہ چشمہ خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔
اس کے علاوہ کوہستانی سلسلے کے پاس ایک کنواں تھا حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے اس کو خریدا اور وقف کر دیا اور جس روزخریدا وہاں کئی بکرے اور دوسرے جانور ذبح کر کے لوگوں کو کھانا کھلایا اور کنویں کو مسلمانوں کے لیے وقف کردیاآپ کے اس فعل کو دیکھتے ہوئے حضور اکرم نے فرمایا:’’افت طلحتہ الفیاض‘‘(یعنی تم فیاض طلحہ ؓ ہو)
غزوہ ذی العسرۃ میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے تمام مجاہدین کی دعوت کی اس کے علاوہ غزوہ تبوک کے موقع پربھی جبکہ عموماً تمام مسلمان افلاس اور ناداری کی مصیبت میں گرفتار تھے آپ نے جنگ کے اخراجات کے لیے ایک گراں قدر رقم حضور اکرم کی خدمت میں پیش کی اس موقع پر بھی حضور اکرم نے حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کو مخاطب کرکےفیاض کا خطاب عطا فرمایا تھا۔
ایک اور روایت میں اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ مہمان نوازی حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کا خاص شیوہ تھا ایک مرتبہ بنی عذرہ کے تین اشخاص مدینہ منورہ میں آ داخل ہوئے اور حلقہ بگوش اسلام ہوئے اسلام قبول کرنے والے اشخاص بڑے غریب اور نادار تھے اس موقع پر حضور اکرم نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا:’’کون ہے جو ان کی کفالت کا ذمہ لیتاہے؟‘‘ حضور اکرم کی اس پکار کے جواب میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کھڑے ہوئے اور حضور اکرم کو مخاطب
کر کے عرض کیا۔
’’اے اللہ کے رسول میں ان تینوں نو مسلم حضرات کو مہمان بنا کر اپنے گھر لے جانے کے لیے تیار ہوں۔‘‘
آپ کا یہ جواب سن کر حضور اکرم نے خوشی کا اظہار کیا اس پر حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ ان تینوں نو مسلموں کومہمان بنا کر اپنے گھر لے آئے ان میں سے دو نے یکے بعد دیگرے مختلف غزوات میں شہادت پائی اور تیسرے نے بھی ایک مدت کے بعد حضرت طلحہ ؓ کے مکان میں انتقال کیا۔
حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کو اپنے مہمانوں سے اس قدر محبت ہو گئی تھی کہ ہر وقت انہی کی یاد تازہ رہتی اور رات کو خواب میں بھی انہی کا جلوہ نظر آتا تھا۔
ایک روز خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے تینوں مہمانوں کے ساتھ جنت کے دروازے پر کھڑے ہیں لیکن جو مہمان سب سے آخر میں مرا تھا وہ سب کے آگے ہے اور جو سب سے پہلے شہید ہوا تھا وہ سب سے پیچھے ہے۔
حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کو اس تقدم و تاخر پر سخت حیرت ہوئی صبح کو آپ حضور اکرم کی خدمت میں حاضرہوئےاورآپ سے اپنا خواب بیان کیا اور اپنی حیرت کا بھی اظہار کیا۔
اس پر حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کو مخاطب کر کے حضور اکرم نے فرمایا:’’اس میں حیرت کی کون سی بات ہے جو زیادہ دنوں تک زندہ رہا اس کو عبادت اور نیک کاموں کا زیادہ موقع ملا اس لیے وہ جنت کے داخلے میں سب سے آگے تھا۔‘‘
اسی بناء پر ایک موقع پر حضور اکرم نے فرمایا:’’طوبیٰ طال عمرہ و حسن عملہ۔‘‘یعنی خوشخبری ہے اس کے لیے جس کی عمر لمبی ہوئی اور عمل اچھے ہوئے۔‘‘
حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ اپنے دوست احباب اور عزیز و اقارب اور جاننے والوں کی خوشحالی اور ان کی شادمانی کے لیے بھی بڑے کوشاں رہا کرتے تھے۔ کعب بن مالک اور ان کے دو ساتھی غزوہ تبوک میں بے وجہ شریک نہ ہونے کی وجہ سےبارگاہ رسالت میں معتوب ہوئے تھے یہاں تک حضور اکرم کے حکم سے ان کا سوشل بائیکاٹ کر دیا گیا تھا کچھ مدت کے بعد خداوند قدوس نے ان حضرات کی توبہ قبول فرما لی حضور اکرم نے بھی ان کی خطا معاف کر دی اپنی توبہ کی قبولیت کے باعث وہ حضرات خوش خوش اور بے پناہ مسرت اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حضور اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
اس وقت حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ بھی حضور اکرم کی خدمت میں موجود تھے جب آپ نے ان حضرات کو دیکھا جن کی توبہ قبول ہوئی تھی تو آپ دوڑ کر ان کی طرف بڑھے اور ان سے مصافحہ کیا اور ان کی اس توبہ کی قبولیت پر انہیں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مبارک باد دی۔اسی بناء پر کعب بن مالک ؓ اکثر فرمایا کرتے تھے۔
’’میں طلحہ بن عبیداللہ ؓ کے اس اخلاق کو کبھی فراموش نہیں کروں گا کیونکہ مہاجرین میں سے کسی نے میرے ساتھ ایسی
گرم جوشی کا اظہار نہیں کیا تھا۔‘‘
دوستوں اور عزیزوں کی خدمت گزاری اور ان کے ساتھ نیک اور اچھا سلوک کرنے میں بھی آپ کو خوشی مسرت اور
اطمینان ہوتا تھا اور ان کی خدمت کرنے میں ہر وقت کوشاں رہتے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک اعرابی حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کے ہاں مہمان ہوا اس اعرابی نے حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ سے عرض کیا۔بازار میں میرا اونٹ فروخت کرا دیجئے۔اس کے ان الفاظ کے جواب میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ نےفرمایا:’’اگرچہ حضور اکرم نے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا معاملہ نہ چکائے تاہم میں تمہارے ساتھ جائوں گا اس معاملے میں تمہاری پوری پوری مدد کروں گا۔‘‘
چنانچہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ اس اعرابی کے ساتھ ہو لیے اور مناسب قیمت پر اس کا اونٹ فروخت کروا دیا۔اونٹ کے فروخت ہو جانے کے بعد اس اعرابی نے پھر اس خواہش کا اظہار کیا کہ بارگاہ رسالت سے زکوٰۃ کی وصولی کا ایک مفصل ہدایت نامہ بھی مجھے دلوا دیجئے تاکہ عاملوں کو اس کے مطابق زکوٰۃ ادا کر دی جائے۔
اس پر حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ اس کی خواہش کی تکمیل میں حضور اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بارگاہ نبوت سے اس کے لیے ہدایت نامہ حاصل کر کے اس کے حوالے کیا۔حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کو اسوہ رسول اللہ کے اتباع کا بھی بڑا شوق اور اشتیاق رہتا تھا ہر معاملے میں حضور اکرم کے اسوہ حسنہ کو آپ نے اپنی زندگی کا ایک طرح سےلازمی جزو بنا کر رکھ لیا تھا۔ حضور اکرم کی مختلف مجلسوں میں حضرت طلحہ ؓ جو کچھ دیکھتے یا سنتے اس کو ہمیشہ یاد رکھتے زندگی میں اسے ڈھالنے اور اپنانے کی کوشش فرماتے۔
یہ ایک مومن کے لیے بہت بڑی سعادت اور خوش بختی ہے اگر کبھی اتفاق سے حضرت طلحہ ؓ حضور اکرم کی کوئی بات بھول جاتے تو سخت فکرمند، رنجیدہ اور ملول رہنے لگتے اور ایسا معلوم ہوتا جیسے آپ کی کوئی بڑی قیمتی شے کھو گئی ہے۔چنانچہ ایک بار حضرت فاروق اعظم ؓ نے آپ کو نہایت افسردہ دیکھ کر فرمایا:’’طلحہ کیا بات ہے اتنے ملول کیوں ہو کیا کسی سے کوئی جھگڑا ہو گیا ہے؟‘‘فاروق اعظم ؓ کے اس استفسار پر طلحہ بن عبیداللہ ؓ کہنے لگے۔
’’جھگڑا تو نہیں ہوا البتہ میں نے ایک مرتبہ حضور اکرم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ اگر کوئی بندہ موت کے وقت ایک کلمہ
زبان سے ادا کرے تو اس کی نزع کی تکلیف اور مصیبت دور ہو جائے گی اور اس کا چہرہ چمکنے لگے گا مجھے وہ کلمہ معلوم تھا لیکن اب یاد نہیں آ رہا اس وجہ سے مغموم ہوں۔‘‘آپ کی یہ ساری گفتگو سن کر حضرت فاروق اعظم
ؓ نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا:’’کیا تم اس کلمہ سے بھی زیادہ باعظمت اور پراثر کلمہ جانتے ہو جس کا حضور اکرم نے حکم فرمایا تھا۔‘‘
اس پر بے چینی کا اظہار کرتے ہوئے حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ نے پوچھا۔’’وہ کیا؟‘‘
اس پر فاروق اعظم ؓ نے فرمایا:’’لا الٰہ الا اللہ۔‘‘طلحہ بن عبیداللہ ؓ حضرت فاروق اعظم ؓ کے منہ سے یہ کلمہ سن
کر خوشی سے اچھل پڑے اور فرمایا:’’ہاں اللہ کی قسم یہی وہ کلمہ ہے۔‘‘
حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ اسلامی حسن معاشرت کا بھی بے حد خیال رکھتے تھے انہیں حسن معاشرت کی ایک طرح سے زندہ
تصویر خیال کیا جاتا تھا اسلام نے بھی کیونکہ حسن معاشرت کی تاکید فرمائی ہے لہٰذا حضرت طلحہ بن عبیداللہ
ؓ اپنی حسن معاشرت کی وجہ سے اپنے بیوی بچوں میں نہایت محبوب تھے وہ اپنے اہل و عیال میں جس لطف و محبت کے ساتھ اپنی زندگی کے شب و روز بسر کر رہے تھے اس کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ:عقبہ بن ربیعہ کی لڑکی ام ابان جو ہند بنت عتبہ کی بہن تھی اس کو اگرچہ بہت سے اشراف نے شادی کی درخواست کی تھی لیکن انہوں نے ان سب پر حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کو ترجیح دی۔لوگوں نے ام ابان سے جب حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کو ترجیح دینے کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگیں۔’’میں ان کی اس خوبی سے نہایت متاثر ہوں کہ وہ گھر آتے ہیں تو ہنستے ہوئے باہر جاتے ہیں تو مسکراتے ہوئے کچھ مانگو تو بخل سے کام نہیں لیتے اور خاموش رہو تو مانگنے کا انتظار نہیں کرتے اگر ان کا کوئی کام کر دو تو شکرگزار ہوتے ہیں اور اگر خطا ہو جائے تو درگزر سے کام لیتے ہیں۔‘‘
حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کا اصل ذریعہ معاش تو تجارت تھا اور ان کی تجارت کا سلسلہ بڑا وسیع اور پھیلا ہوا تھا چنانچہ حضور اکرم کے دعویٰ نبوت کی بشارت بھی آپ کو تجارتی سفر ہی میں ملی تھی۔اس کے ساتھ ساتھ زراعت کا شغل بھی تھا اور نہایت وسیع پیمانے پر تھا۔ خیبر میں حضور اکرم نے حضرت طلحہ ؓ کو ایک جاگیر عطا فرمائی ہوئی تھی اس جاگیر کے علاوہ عراق و عرب میں بھی آپ کی کئی ذاتی زمینیں بھی تھیں ان میں کتاۃ اور سراۃ کے مقام پر ان کے دو کاشت کاری کے زراعتی فارم بڑے مشہور اور معروف تھے۔
ان دونوں فارموں میں کاشت کاری کا نہایت وسیع انتظام تھا۔ مورخین لکھتے ہیں کہ صرف کتاۃ کے کھیتوں میں بیس اونٹ سیرابی کا کام کرتے تھے ایسا ہی انتظام سراۃ میں بھی تھا ان علاقوں کی پیداوار کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ کی روزانہ آمدنی کا اوسط ایک ہزار دینار تھا۔
حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ اپنی اس آمدنی سے بنو قیم کے محتاجوں کی کفالت فرماتے، بیوائوں اور یتیموں کی اعانت فرماتے اور ساتھ ہی انہوں نے یہ طریقہ اپنا رکھا تھا کہ اپنی اس آمدنی سے آپ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ  کو سالانہ دس ہزار درہم پیش کیا کرتے  تھے۔حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کے گھر میں مال و دولت کی فراوانی اور بہتات تھی تجارت اور زراعت دونوں طریقوں سے مال و دولت گھر میں آتی تھی لیکن جتنا مال تھا ان میں لاکھوں درہم اور دینار راہ خدا میں خرچ کر دیتے تھے۔ایک ایک وقت میں سات سات لاکھ درہم غرباء اور مساکین میں تقسیم کر دیا کرتے تھے لیکن اس کےباوجوداپنےاہل و عیال کے لیے بہت زیادہ مال و دولت چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔
چنانچہ ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ ؓ نے ان کے صاحبزادے موسیٰ سے پوچھا:’’تمہارے والد کس قدر دولت چھوڑ گئے؟‘‘
حضرت امیر معاویہ ؓ کے اس استفسار پر انہوں نے فرمایا کہ بائیس لاکھ درہم دو لاکھ دینار اور اس کے علاوہ کثیر مقدار میں
سونا چاندی بھی انہوں نے چھوڑا ہے۔
یہ تو نقدی کی تفصیل تھی غیر منقولہ جائیداد اس کے علاوہ تھی جس کی کل قیمت کا محتاط اندازہ لگ بھگ تین کروڑ درہم تھا حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ کے بیٹے کے یہ الفاظ سن کر حضرت امیر معاویہ ؓ نے فرمایا:عاش حمید سخیا شریفا وقتل فقیدایعنی انہوں نے شریف اور ایک سخی کی حیثیت سے زندگی بسر کی اور بے مثال حالت میں قتل کر دیے گئے۔
مورخین لکھتے ہیں کہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کی غذا نہایت سادہ تھی لیکن اکثر و بیشتر کپڑے رنگین پہنتے تھے کہا جاتا ہے کہ شروع میں آپ کے ہاتھ میں سونے کی ایک انگوٹھی ہوا کرتی تھی جس میں نفیس قسم کا سرخ یاقوت جڑا ہوا تھا لیکن بعد میں آپ نے وہ یاقوت نکلوا کر معمولی پتھر اس کی جگہ ڈلوا لیا تھا۔
جہاں تک حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کی اولاد اور ازواج کا تعلق ہے تو حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے مختلف اوقات میں کئی شادیاں کیں بیویوں کے نام درج ذیل ہیں۔
اول حمنہ بنت حجش ؓ ، دوئم ام کلثوم بنت ابوبکر ؓ ، سوئم سعدی بنت طوف چہارم ام ابان بنت عتبہ بن ابیعیہ پنجم خولہ بنت قعقاع ان میں سے ہر ایک کے ہاں اولاد ہوئی آپ کے لڑکوں کے نام کچھ اس طرح ہیں۔
سب سے پہلے محمد انہی کے نام پر حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کو ابو محمد کی کنیت سے پکارا جاتا تھا دوسرے عمران تیسرے عیسیٰ چوتھے موسیٰ پانچویں یحییٰ چھٹے اسماعیل ساتویں اسحاق آٹھویں ذکریا نویں یعقوب دسویں یوسف بیٹوں کے علاوہ آپ کی چار صاحبزادیاں بھی تھیں جن کے نام کچھ اس طرح ہیں۔
ام اسحاق عائشہ صعبہ مریم
مورخین آپ کی اولاد کے متعلق تفصیل کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کے بیٹے محمد جن کے نام پر ان کی کنیت محمد تھی وہ اپنے والد محترم کے ہمراہ جنگ جمل میں شہید ہوئے۔
دوسرے فرزند عمران بن طلحہ ؓ تھے ان دونوں کی والدہ حمنہ بنت حجش بن رباب تھیں حمنہ کی والدہ امیم بنت عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدالمناف بن قصیٰ تھی۔
موسیٰ بن طلحہ ؓ کا جہاں تک تعلق ہے تو ان کی والدہ خولہ بنت قعقاع بن معبد بن زارہ بن حدس بن زید بن تیم سے تھیں قعقاع کو ان کی سخاوت کی وجہ سے موج دریائے فرات بھی کہا جاتا تھا۔
آپ کے بیٹے یعقوب بن طلحہ ؓ جنگ حرہ میں مقتول ہوئے بڑے سخی تھے ان کے علاوہ اسماعیل اسحاق کی ماں ام ابان بنت عتبہ بن ربیعیہ تھیں۔ذکریا یوسف اور عائشہ کی والدہ ام کلثوم بنت ابی بکر صدیق تھیں۔ عیسیٰ اور یحییٰ کی والدہ سعدیٰ بنت عوف بن خارجہ بن سنان بن ابی حارثہ تھیں۔
ام اسحاق بنت طلحہ ؓ آپ کی وہ بیٹی تھیں جن سے حضرت حسن ؓ بن علی بن ابی طالب نے نکاح کیا ان سے ان کے یہاں طلحہ ؓ بن حسن پیدا ہوئے حضرت حسن بن علی ؓ کی وفات کے بعد حضرت حسین بن علی ؓ نے ان سے نکاح کر لیا ان سے ان کے ہاں فاطمہ پیدا ہوئیں۔
آپ کی بیٹی صعبہ بنت طلحہ ؓ اور مریم بنت طلحہ ؓ دونوں کی والدہ ام ولد تھیں۔
حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ جنگ جمل میں شہید ہوئے آپ کا شمار ان دس محترم افراد میں کیا جاتا ہے جنہیں زندگی ہی میں حضور اکرم نے جنت کی بشارت دی تھی اور جنہیں عشرہ مبشرہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: