سیرتِ امام ابو حنیفہؒ از علّامہ شِبلی نُعمانیؒ-7

آپ کے سیاسی افکار

امام ابو حنیفہؒ کی رائے میں حضرت علیؓ نے جو لڑائیاں لڑیںان سب میںحق و صواب حضرت علیؓ کی جانب تھا۔ایک مرتبہ امام ابوحنیفہؒ سےدریافت کیا گیا کہ آپ یومِ جمل کے بارے میں کیاارشاد فرماتے ہیں تو انہوں نے کہا۔ ’’حضرت علیؓ کا رویہ اس میں انصاف پرتھا وہ سب مسلمانوں سے زیادہ اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ اہل بغی و فساد سےحرب و پیکار کے بارے میں اسلامی لائحہ عمل کیا ہے؟‘‘
امام صاحبؒ نےاپنی زندگی کے باون (52) سال اموی خلافت اور اٹھارہ برس عباسی دور میں بسرکئے گویا آپؒ نے اسلام کی ان دو عظیم سلطنتوں کو بذات خود دیکھا۔ امامصاحبؒ اس ساری صورتِ حال سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
منقول ہے کہ جب حضرت زین العابدین (علیؒ بن حسینؒ) کے بیٹے زیدؒ نے 121ھ میں ہشام بن عبدالملکؒ اموی کےخلاف بغاوت کی توامام ابو حنیفہؒ نے فرمایا ’’ زیدؒ کاجہاد کے لئے نکلنا آنحضرت ﷺ کے بدر کے دن نکلنے کے مشابہ ہے۔
اس سے واضح ہو تا ہے کہ آپؒ امویوں کے خلاف بغاوت کو شرعی نقطہ نظر سے جائز سمجھتے تھے۔
122ھ میں زید کے قتل ہو جانے سے ان کی بغاوت ختم ہو گئی۔ 125ھ میں انکے فرزندیحیی خراسان میں آپ کے جانشین ہوئےاوروالدکی طرح قتل ہوئے۔ پھر عبداللہ بن یحیی اپنا خاندانی حق لے کر اٹھے اور یمن میں بنو امیہ کے آخری خلیفہمروان بن محمد کی
فوج سے لڑے۔ 130ھ میں آپ نے اپنے آبا ؤ و اسلاف کی طرح
شہادت پائی۔
ہشام بن عبد الملکؒ اموی نے 125ھ میں وفات کی۔ اس کےبعد ولید بن یزید، ابراہیم بن ولید، مروان بن محمد یکے بعد دیگرے تخت نشیں ہوئے۔
خلیفہ مروان بن محمد کے عراقی عامل یزید بن عمر بن ہبیرہنے امام اعظمؒ کو بلا کر محکمہ قضا کے خزانہ کی حفاظت کی ذمہ داری آپ کوتفویض کرنا چاہی در اصل وہ آزمانا چاہتا تھا کہ بنو امیہ سے آپ کی کتنیمحبت ہے ابو حنیفہؒ نے انکار کر دیا۔ ابنِ ہبیرہ نے یہ پیشکش نہ قبول کرنےکی  صورت میں زد و کوب کا حلف اٹھایا پھر امام صاحبؒ کو قید کر دیا اور جلادکو کوڑے مارنے کا حکم دیا۔ جلاد متواتر کئی روز تک کوڑے مارتا رہا۔ مجبوراً ابنِ ہبیرہ نے رہائی کا حکم دیا۔ امام صاحبؒ رہا ہوئے اور سوار ہوکر مکہ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ 130ھ کا واقعہ ہے۔ عباسی خلافت قائم ہونے تک آپ مکہ میں اقامت پذیر رہے اور خلیفہ ابو جعفر منصور کے عہدخلافت میں کوفہ آئے۔
132ھ میں سلطنتِ اسلام نے دوسرا پہلو بدلا۔ یعنی بنوامیہ کا خاتمہ ہو گیا۔ عباسیوں نے خلفائے بنو امیہ کی قبریں اکھڑوا کران کی ہڈیاں تک جلا دیں پھر کیا تھا آلِ عباس تاج و تخت کے مالک ہوئے۔ اس خاندان کا پہلا فرماں روا ابو العباس سفاح تھا۔ اس نے چار برس کی  حکومت کےبعد 136ھ میں وفات پائی۔ سفاح کے بعد اس کا بھائی منصور تخت نشین ہوا۔
پھرجب تک علویوں اور عباسیوں میں خصومت کا آغاز نہ ہوا، امام صاحبؒ خاموش رہے۔ مگر جب علویوں اور عباسیوں میں ٹھن گئی تو آپؒ نے علویوں کی تائید کیچنانچہ جب ابراہیمؒ نے منصور کے خلاف خروج کیا تو آپ کا میلان ابراہیم کیجانب تھا۔ حماد بن اعین کا بیان ہےابو حنیفہؒ لوگوں کو ابراہیمؒ کی مددپر ابھار تے تھے۔
ادھر منصور کے بد باطن خواص و امراء امام صاحبؒ کے خلاف اشتعال انگیزی اور تنفر کا کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کرتے تھے۔
خطیب بغدادی ابو یوسفؒ سے روایت کرتے ہیں۔ ربیع جو خلیفہ منصور کا عرض بیگی تھا، امام ابو حنیفہؒ سے عداوت رکھتا تھا ایک دن خلیفۂ  منصور نے امام ابوحنیفہؒ کو طلب کیا۔ ربیع بھی حاضر تھا، منصور سے کہا یا امیر ا لمؤمنین ! یہ شخص آپ کے دادا یعنی عبد اللہ بن عباسؓ کی مخالفت کر تا ہے اس طرح کہعبد اللہ بن عباسؓ فرما تے تھے کہ اگر کوئی شخص کسی بات پر قسم کھا لے اوردو ایک روز کے بعد انشاء اللہ کہہ لے تو یہ استثنا قسم میں داخل سمجھا جائےگا اور قسم کا پورا کرنا کچھ ضروری نہ ہو گا۔ یہ ابو حنیفہؒ اس کے خلاففتویٰ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انشاء اللہ کا لفظ قسم کے ساتھ ہو توالبتہ جزئِ قسم سمجھا جائیگا ورنہ لغو اور بے اثر ہے۔
امام صاحبؒ نےکہا امیر المؤمنین ! ربیع کا خیال ہے کہ لوگوں پر آپ کی بیعت کا کچھ اثرنہیں ہے۔ منصور نے کہا یہ کیونکر؟ امام صاحبؒ نے کہا ان کا گمان ہے کہ جولو گ دربار میں آپ کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کرتے ہیں اور قسم کھا تے ہیں،گھر پر جا کر انشاء اللہ کہہ لیا کرتے ہیں جس سے قسم بے اثر ہو جاتی ہے اوران پر شرعاً کچھ مواخذہ نہیں رہتا۔ خلیفہ منصور ہنس پڑا اور ربیع سے کہاکہ تم ابو حنیفہ کونہ چھیڑا کرو۔ ان پر تمہارا داؤ نہیں چل سکتا۔
امام صاحبؒ دربار سے نکلے تو ربیع نے اُن سے کہا ’’ تم میرا خون کر ناچاہتے تھے؟‘‘ امام صاحبؒ نے فرمایا نہیں تم ہی میرا خون بہاناچاہتےتھے۔ میں نے تمہیں بھی بچا لیا اور خود بھی بچ گیا۔ پھر امام صاحبؒ نے اپنےقریب والوں سے فرمایا یہ آدمی مجھے باندھنا چاہتا تھا مگر میں نے اسے ہی باندھ دیا۔
ابوالعباس جو منصور کے دربار میں معزز درجہ رکھتا تھا۔ امام صاحبؒ کا دشمن تھا اور ہمیشہ ان کو ضرر پہنچانے کی فکر میں رہتا تھا۔ ایک دن  امام صاحبؒ کسی ضرورت سے دربار میں گئے۔ اتفاق سے ابوالعباس بھی حاضر تھا۔ لوگوں سےکہا آج ابو حنیفہؒ میرے ہاتھ سے بچ کر نہیں جا سکتے۔ امام صاحبؒ کی طرف مخاطب ہوا اور کہا کہ ’’ ابو حنیفہؒ ! امیر المؤمنین یعنی خلیفہ منصورکبھی کبھی ہم لوگوں کو بلا کر حکم دیتے ہیں کہ اس شخص کی گردن مار دو۔ ہم کومطلق معلوم نہیں ہوتا کہ وہ شخص واقعی مجرم ہے یا نہیں۔ ایسی حالت میں ہمکو اس حکم کی تعمیل کرنی چاہئے یا انکار کر دینا چاہے؟
امامصاحبؒ نے کہا’’ تمہارے نزدیک خلیفہ کے احکام حق ہو تے ہیں یا باطل؟‘‘ منصور کے سامنے کس کی تاب تھی کہ احکام خلافت کی  نسبت ناجائز ہونے کااحتمال ظاہر کر سکتا۔ ابو العباس کو مجبوراً کہنا پڑا کہ حق ہوتے ہیں۔ امامصاحبؒ نے فرمایا تو پھر حق کی تعمیل میں پوچھنا کیا؟ پھر امام صاحبؒ نے اپنےقریب والوں سے فرمایا یہ آدمی مجھے باندھنا چاہتا تھا مگر میں نے اسے ہیباندھ دیا۔
جب خلیفہ منصور نے قضا کے عہدہ کی پیشکش کی تو امام صاحبؒنے صاف انکار کر دیا تھا اور کہا کہ ’’میں اس کی قابلیت نہیں رکھتا ‘‘۔ منصورنےغصہ میں آ کر کہا ’’تم جھوٹے ہو۔ ‘‘ امام صاحب نے کہا ’’ اگر میںجھو ٹا ہوں تو یہ دعوی ضرور سچا ہے کہ میں عہدۂ قضا کے قابل نہیں کیونکہ جھوٹا شخص قاضی نہیں مقرر ہو سکتا۔
بہرحال اہل بیت کی طرف آپ کا صرفسیاسی میلان ہی نہ تھا بلکہ ان سے علمی تعلق بھی رکھتے تھے۔ مثلا حضرتزید بن علی، زین العابدینؒ المتوفی 122ھ سے آپ کا علمی رابطہ تھا اور وہآپ کے اساتذہ میں شمار ہوتے تھے۔آپؒمحمد باقرؒ اور جعفر صادقؒ سے روایت کر چکے ہیں جیسا کہ مسند ابی حنیفہؒ کے مطالعہ سےواضح ہو تا ہے۔آخر کار آپ کا خاتمہ بھی حب اہل بیت، زہد و تقوی اور حقو صداقت سے وابستگی پر ہوا۔
اہلبیت سے میلان و محبت کے با وجود صحابہؓ سے بڑا حسنِ ظن تھا چنانچہ حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کو صفِ اول میں جگہ دیتے تھے۔ حضرت عثمانؓ کے حق میںبر سرِ عام شہرِ کوفہ میں دعاء رحمت کیا کرتے تھے۔ (حیات حضرت امام ابوحنیفہؒ)
ایک بار کسی نے سوال کیا کہ حضرت علیؓ اور امیر معاویہؓ کیلڑائیوں کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں؟ فرمایا ’’ قیامت میں جن باتوں کی پرسشہو گی مجھ کو ان کا ڈر لگا رہتا ہے ان واقعات کو خدا مجھ سے نہ پوچھے گا اسلئے ان پر توجہ کر نے کی چنداں ضرورت نہیں‘‘۔
خیر القرون میں مسلمانوںکے درمیان جو اختلافات رونما ہوئے ان کو اسلام کا ایک ضروری مسئلہ قراردینا اور ا س پربحثوں کا دفتر تیار کرنا ایک فضول کام ہے۔ اسی کی طرفامام صاحبؒ نے اشارہ کیا ہے۔

حضرت عثمان کو یہودی کہنے والے کی اصلاح

کوفہ میں ایک غالی شیعہ تھا جو حضرت عثمان کی نسبت کہا کر تا تھا کہ وہ یہودی تھے۔ امام صاحبؒ ایک دن اس کے پا س گئے اور کہا کہ تم اپنی بیٹی کی نسبت ڈھونڈتے تھے ایک شخص موجود ہے جو شریف بھی ہے، دولتمند بھی ہےاسکےساتھ پرہیزگار، قائم اللیل اور حافظِ قرآن ہے‘‘۔ اس شیعہ نے کہا ’’اس سے بڑھکر کون ملے گا۔ آپ ضرور شادی ٹھہرا دیجئے۔ ‘‘ امام صاحب نے کہا’’ صرف اتنی بات ہے کہ مذہباً یہودی ہے‘‘ وہ شیعہ نہایت برہم ہوا اور کہا ’’ سبحان اللہ! آپ یہودی سے رشتہ داری کر نے کی رائے دیتے ہیں۔ ‘‘ امام صاحب نےفرمایا ’’ کیا ہوا خود پیغمبر صاحب نے جب یہودی کو(تمہارےاعتقاد کےموافق) داماد بنایا تو تم کو کیا عذر ہے؟ ‘‘خدا کی قدرت اتنی بات سے اسکو تنبیہ ہو گئی اور اپنے عقیدہ سے توبہ کر لیا۔
ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ آ پ بہت بیباک، دلیر، اور نڈر تھے۔ سیاسی افکار و نظریا ت کااظہار بر سرعام کیاکرتے تھے۔ مثالوں کے ذریعہ بڑی حکمت کے ساتھ لوگوں کےغلط و فاسد عقائد کی اصلاح کیا کرتے تھے۔  

علمی مباحث ومناظرات

اسمیں شبہ نہیں کہ امام صاحبؒ کو اور ائمہ کی نسبت مناظرہ اور مباحثہ کےمواقع زیادہ پیش آئے۔ انہوں نے علومِ شرعیہ کے متعلق بہت سے نکتے ایجادکئے تھے جو عام طبیعتوں کی دسترس سے باہر تھے۔
مناظرہ اس وقت درسکا ایک خاص طریقہ تھا اور امام صاحبؒ نے اکثر اساتذہ سے اسی طریقہ پرتعلیم پائی تھی۔ عیون والحدائق کے مصنف نے اُن کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ ’’ انہوں نے شعبیؒ، طاؤسؒ، عطاء وغیرہ سے بھی مناظرات کئے۔ یہ لوگ امامصاحبؒ کے اساتذۂ خاص ہیں امام صاحبؒ ان لو گوں کا نہایت ادب کرتے تھے۔
اس موقع پر ہم صرف وہ واقعات لکھتے ہیں جوامام صاحبؒ کی علمی تاریخ کے عام واقعات ہیں۔

قاضی ابن ابی لیلیٰ نے چھ غلطیاں کیں

قاضی ابن ابی لیلیٰ بڑے مشہور فقیہ اور صاحب الراء تھے۔ تیس برس کوفہ میں منصبِ قضا پر مامور رہے۔ ایک
دن قاضی صاحب اپنے کام سے فارغ ہو کر مجلسِ قضا سے
اٹھے۔ ایک پاگل عورت کو دیکھا کہ کسی سے جھگڑ رہی ہے دورانِ گفتگو عورتنے اس شخص کو ’’ یا ابن الزانیتین یعنی ’’ زانی اور زانیہ کے بیٹے‘‘ کہہکر گالی دی۔ قاضی صاحبؒ نے حکم دیا کہ عورت گرفتار کر لی جائے۔ پھر قاضیصاحب مجلسِ قضا میں واپس آئے اور حکم دیا کہ عورت کوکھڑاکرکےدرّےلگائیں اور دو حدیں ماریں ایک ماں کو زنا کی تہمت لگانے کے وجہ سے اورایک باپ کو۔ امام ابو حنیفہ نےسنا تو فرمایا اس حد لگانے میں قاضیابن ابی لیلیٰ نے چھ غلطیاں کیں۔
اول یہ کہ وہ مجنونہ یعنی پاگل تھیاور مجنونہ پر حد نہیں۔ دوسری مسجد میں حد لگوائی حالانکہ رسولﷺ نے اس سےمنع فرمایا ہے۔ تیسری اسے کھڑا کر کے حد لگوائی جبکہ عورتوں پر حد بیٹھاکر لگائی جاتی ہے۔ چوتھی اس پر دو حدیں لگوائیں جبکہ مسئلہ یہ ہے کہ ایکلفظ سے اگر کوئی پوری قوم پر تہمت لگائے تو بھی ایک ہی حد واجب ہوتی ہے۔ پانچویں حدلگانے کے وقت اس آدمی کے ماں باپ موجود نہیں تھے حالانکہ ان کاحاضر ہونا ضروری تھا کیونکہ انہیں کی طلب پر حد لگ سکتی تھی، قاضی صاحب کو مقدمہ کر نے کا کیا اختیار تھا؟ چھٹی دونوں حدوں کو جمع کر دیا حالانکہ جس پر دو حد واجب
ہوں، جب تک پہلی خشک نہ ہو جائے دوسری نہیں لگا سکتے۔
قاضیابن ابی لیلیٰ نہایت برہم ہوئے اور گورنر کوفہ سے جا کر شکایت کی کہابو حنیفہ نے مجھ کو تنگ کر رکھا ہے۔ گورنر نے امام ابو حنیفہؒ کو فتویٰ دینےسے روک دیا۔ چند روز کے بعد گورنر کوفہ کو اتفاق سے فقہی مسائل میں مشکلاتپیش آئیں اور امام ابو حنیفہؒ کی طرف رجوع کرنا پڑا جس کی وجہ سے امامصاحبؒ کو پھر فتویٰ دینے کی عام اجازت ہو گئی۔

قاضی ابن ابی لیلیٰؒ اور امام صاحبؒ

حسنبن ابی مالک سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ ابو یوسفؒ کو ساتھ لے کر ابنابی لیلیٰ کے پاس اپنی کسی ضرورت سےتشریف لے گئے جب وہاں جا کر بیٹھ گئےتو ابن ابی لیلیٰ نے اپنے دربان کو حکم دیا کہ جو لوگ مقدمہ لےکرآئےہیں،ان کو پیش کریں۔ معلوم ہوا کہ وہ امام ابو حنیفہؒ کو اپنے فیصلے اوراحکامات دکھلانا چاہتے تھے۔ بہت سے لوگ آئے، ان کا فیصلہ کیا۔ بعد میں دوآدمی داخل ہوئے ان میں سے ایک نے دعویٰ کیا کہ اس آدمی نے مجھے گالی دی ہےمیری ماں کو زنا کی تہمت لگائی ہے اور یوں کہا ہے کہ زانیہ کے بیٹے۔ اﷲ آپکو عزت دے میرا مطالبہ یہ ہے کہ اس سے میرا حق وصول فرمائیں (یعنی حد قذفلگائیں)۔ ابن ابی لیلیٰ نے مدعی علیہ سے کہا تم کیا کہتے ہو؟
امام حنیفہؒ بولے آپ اس آدمی کے بارے میں کیوں پوچھتے ہیں دعویٰ کرنے والا خودخصم نہیں ہے کیونکہ اس کا دعویٰ یہ ہے کہ اس کی ماں کو زنا کی تہمت لگائیہے کیا یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ اپنی ماں کا وکیل ہے؟ ابن ابی لیلیٰ نےکہا نہیں،امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا اس سے معلوم کریں اس کی ماں زندہ ہے،یا مر گئی؟ اگر زندہ ہے تو وکالت ضروری ہے اور اگر زندہ نہیں تو دوسری بات ہو گی۔ ابن ابی لیلیٰ نے معلوم کیا کہ تیری ماں زندہ ہے، یا مر گئی؟ اسنے کہا مر گئی۔ ابن ابی لیلیٰ نےکہا اس کے مرنے پر گواہ لاؤ چنانچہ اس نےگواہ پیش کر دیا۔
ابن ابی لیلیٰ مدعی علیہ سے پھر سوال کرنے لگے کہ تماس کے دعویٰ کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ تو امام ابو حنیفہؒ نےفرمایاکہ مدعی سے معلوم کریں کہ اس کے علاوہ کوئی اور وارث بھی ہے؟ اگر اور وارثہوں گے تو حدِ قذف کے مطالبہ کا حق اس کے ساتھ دوسروں کو بھی ہو گا اور اگرصرف یہی وارث ہے تو بات دوسری ہو گی۔ ابن ابی لیلیٰ نے اس سے سوال کیا،تواس نے کہا صرف میں وارث ہوں اور کوئی نہیں۔ ابن ابی لیلیٰ نے فرمایا گواہپیش کرو کہ اپنی ماں کے صرف تم وارث ہو چنانچہ اس نے گواہ پیش کر دیئے۔
ابن ابی لیلیٰ مدعی علیہ سے ایک بار پھر سوال کرنے لگے امام ابو حنیفہؒ نےپھر فرمایا کہ مدعی سے معلوم کریں اس کی ماں آزاد تھی یا باندی؟ اس نےکہا کہ آزاد تھی۔ ابن ابی لیلیٰ نے کہا گواہ لاؤ کہ تمہاری ماں آزاد تھیچنانچہ اس نے گواہ پیش کر دیئے۔
ابن ابی لیلیٰ مدعی علیہ سے دوبارہپھر سوال کرنے لگے۔ امام ابو حنیفہؒ نے پھر فرمایااس سے معلوم کریں کہ اسکی ماں مسلم تھی، یا کافر؟ ابن لیلی نے معلوم کیا اس نے بتایا آزادمسلمان تھی، فلاں قبیلہ سے اس کا تعلق تھا۔ ابن ابی لیلیٰ نےفرمایاگواہ پیش کرو، اس نے گواہ پیش کئے۔ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا اب آپ مدعیعلیہ سے سوالات کریں ابن ابی لیلیٰ نےمدعی علیہ سے سوال کیا تم نے اس کیماں پر زنا کی تہمت لگائی؟ اس نے انکار کر دیا پھر مدعی سے فرمایا تیرےپاس گواہ ہیں؟ اس نے کہا ہاں کوفہ کے شریف لوگوں کی ایک جماعت ہے۔ ابنابی لیلیٰ نے فرمایا ان کو لاؤ کہ ان کی گواہی سنوں۔ اس کے بعد امام ابو حنیفہؒ اٹھ کھڑے ہوئے ابن ابی لیلیٰ نے بیٹھنے کو کہا مگر وہ چلے گئے۔

قتادہ بصریؒ سے مناظرہ

قتادہ بصریؒ جن کا مختصر حال امام صاحب کے اساتذہ کے ذکر میں ہم لکھ آئے ہیں۔ ایکمرتبہ وہ کوفہ آئے  اور اعلان کرادیاکہ ’’مسائلِ فقہ میں جو پوچھنا ہوپوچھو میں ہر مسئلہ کا جواب دونگا۔ ‘‘ چونکہ وہ مشہور محدث اور امام تھے بڑامجمع ہوا۔ ابو حنیفہؒ بھی موجود تھے فرمایا’’ آپ اس آدمی کے بارے میںکیا کہتے ہیں جو کئی برس اپنی بیوی اور بال بچوں سےدوررہااس کی بیوی کواس کے موت کی خبر دی گئی تو بیوی نے سمجھا کہ وہ مر گیا۔ عدت گزارنے کےبعد اس کی بیوی نےدوسرا نکاح کرلیا اور اس سے اولاد ہوئی چند روز کے بعدوہ شخص واپس آیا۔ پہلے شوہر نے کہا میرا لڑکا نہیں ہےاوردوسرےنےکہامیراہے۔ تو سوال یہ ہے کہ آیا دونوں اس عورت پر زنا کا الزام لگاتے ہیں،یا صرف وہ شخص جوولدیت سے انکار کر تا ہے، حضرت قتادہ جواب نہ دے سکے توفرمایا ’’یہ صورت ابھی پیش آئی ہے؟‘‘ امام صاحب نےکہا’’ نہیں لیکن علماءکو پہلے سے تیار رہنا چاہئے کہ وقت پر تردد نہ ہو ‘‘۔
قتادہ کو فقہ سےزیادہ عقائد میں دعویٰ تھا بولے کہ ان مسائل کو رہنے دو عقیدہ کے متعلق جوپوچھنا ہوپوچھو۔ ‘‘امام صاحب نے کہا’’ آپ مومن ہیں؟‘‘ قتادہ نے فرمایا’’ امید رکھتا ہوں‘‘ امام ابو حنیفہؒ نے قتادہ سے پوچھا ’’آپ نے یہ امید کیقید کیوں لگائی؟‘‘ انہوں نے جواب دیا ’’حضرت ابراہیمؑ نے کہا تھا کہ مجھ کوامید ہے کہ خدا قیامت کے دن میرے گناہوں کومعاف کر دے گا۔ ‘‘ امام ابوحنیفہ نے کہا’’ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ سے سوال کیا کہ اولم تومنتو انہوں نے جواب میں ’’بلیٰ‘‘کہا تھا یعنی ہاں میں مؤمن ہوں۔ آ پ نےحضرت ابراہیمؑ کے اس قول کی کیوں تقلید نہ کی؟ قتادہؒ ناراض  ہوکراُٹھےاورگھرچلے گئے۔ (تاریخِ بغداد)
امام ابو حنیفہؒ کا کہنا یہ ہے کہایمان اعتقاد کا نام ہے جو شخص خدا اور رسول پر ایمان رکھتا ہو وہ قطعاًمؤمن ہے اور اس کوسمجھنا چاہیے کہ میں مؤمن ہوں البتہ اگر اس میں شک ہے تو قطعی کافر ہے۔

جم غفیر سے مناظرہ

ایک دن بہت سے لوگ جمع ہو کرآئے کہ قرأۃ خلف الامام کے مسئلہ میں امام صاحبؒ سے گفتگو کریں۔ امام صاحبؒ نےکہا ’’اتنے آدمیوں میں سے کسی کو انتخاب کر لیں جو سب کی جانب سےاس خدمت کا کفیل ہو اور اس کی تقریرپورےمجمع کی تقریر سمجھی جائے۔ ‘‘لوگوں نے منظور کیا۔ امام صاحبؒ نے کہا: آپ لوگوں نے جب یہ تسلیم کرلیاتوبحث کا خاتمہ ہو گیا کیوں کہ جس طرح آپ لوگوں نے ایک  شخص کو سب کی طرف سےبحث کا مختار کر دیا اسی طرح امام بھی تمام مقتدیوں کی طرف سے قرأۃ کا کفیلہے اور حدیثِ صحیح میں بھی آیا ہے’’ جو شخص امام کےپیچھےنمازپڑھے تو امام کی قرأۃ بھی اس کی قرأۃ ہے۔ ‘‘ لو گ خاموش ہو گئے۔یہ امام صاحب کیشان تھی کہ مشکل سےمشکل مسئلہ کو ایسے عام فہم طریقہ سے سمجھا دیتے تھےکہ مخاطب کے ذہن نشیں ہو جاتا تھا اور بحث نہایت جلداورآسانی سے طے ہوجاتی تھی۔

ایک رافضی اور امام صاحب

مناقب زرنجری میں ہے کہ امامابو حنیفہؒ کوفہ کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک طارق رافضی آگیااورکہنےلگاابوحنیفہؒ!لوگوں میں سب سے زیادہ سخت کون ہے؟ امام صاحبؒ بولےہمارے عقیدے کے مطابق حضرت علیؓ ا بن ابی طالب ہیں لیکن تمہارے عقیدے اورقول کے مطابق حضرت ابوبکرؓ۔ طارق نے کہا آپ کا بیان الٹا ہے۔ امام صاحبؒ نے فرمایا ہمارے نزدیک اشد الناس حضرت علیؓ ہیں اس لئے کہ ان کو یقین تھاکہ حق حضرت ابوبکر صدیقؓ کاہےلہذا ان کے سپرد کر دیا اور تم کہتے ہو کہ حقحضرت علیؓ کا تھا، لیکن حضرت ابو بکرؓ نے حضرت علیؓ سے چھین لیااورحضرت علیؓ کے پاس اپنے حق کو واپس لینے کی طاقت نہیں تھی اور ابوبکرؓ انپر غالب ہوگئےلہذاتمہارےعقیدےاورقول کے مطابق وہ اشد الناس ہو گئے۔ طارقحیران ہو کر بھاگ گیا۔

ربیعۃ الرائے کا امتحان

یوسف بن خالد کہتے ہیںکہ میں نے امام ابو حنیفہؒ سے فرماتے ہوئے سنا کہ کوفہ میں ربیعۃ الرائےتشریف لائے اس زمانےمیں یحیٰ بن سعیدؒ کوفہ کے قاضی تھے۔ یحیٰ بن سعیدؒ نے ربیعۃ الرائے سے کہا آپ کو تعجب ہو گا کہ اس شہرکےلوگ ایک شخص کی رائےپر اجماع کرر چکے ہیں۔ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا جب مجھے یہ خبر پہنچی تومیںنےاپنےشاگردیعقوبؒ، زفرؒ اور چند دوسرے اصحاب کو بھیجا کہ جا کر ان سےمناظرہ کریں وہ لوگ
گئے۔
امام ابو یوسفؒ نے مسئلہ دریافت کیا کہ آپ اسغلام کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو دو آدمیوں کا مشترک تھا اور ان میں سے ایک نے آزاد کر دیا؟ انہوں نے فرمایا عتق جائز نہیں۔ امام ابو یوسفؒ نےفرمایا کیوں؟ ربیعۃ الرائے نے کہا کہ یہ  آزادی دوسرے کے حق میں ضرر ہے اوررسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ لاضرر ولاضرار‘‘ اس پر ابویوسفؒ نےکہااگر دوسرا بھی آزاد کر دے تو؟ ربیعۃ الرائے نے کہا اس کا آزاد کرناجائز ہے۔ تو ابویوسفؒ نے کہا آپ نے اپنی پہلی بات چھوڑ دی اس لئے کہ اگرپہلے آزاد کرنے والے کی بات نے کوئی اثر نہیں کیا اور اس سے آزادی نہیںہوئی تو اس  دوسرے آزاد کرنے والے نے بھی پہلے کا غلام ہونے کی حالت میںآزاد کیا اور یہ ضرر ہے ربیعۃ الرائے یہ سن کر چپ ہوگئے۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: