ذوالقرنین

چند قریشیوں نے رسول اللہ ﷺ كو آزمانا چاہا،اس مقصد كے لئے انہوں نے مدینے كے یہودیوں كے مشورے سے تین مسئلے پیش كیے۔ ایك اصحاب كہف كے بارے میں تھا۔ دوسرا مسئلہ روح كا تھا اور تیسرا ذوالقرنین كے بارے میں ۔ذوالقرنین كى داستان ایسى ہے كہ جس پرطویل عرصے سے فلاسفہ اور محققین غور و خوض كرتے چلے آئے ہیں اور ذوالقرنین كى معرفت كے لئے انہوں نے بہت كوشش كى  ہے۔
اس سلسلے میں پہلے ہم ذوالقرنین سے مربوط جو قرآن میں بیان ہوا ہے وہ بیان كرتے ہیں ۔كیونكہ تاریخى تحقیق سے قطع نظر ذوالقرنین كى ذات خود سے ایك بہت ہى تربیتى درس كى حامل ہے اور اس كے بہت سے قابل غور پہلو ہیں ۔اس كے بعد ذوالقرنین كى شخصیت كوجاننےكے لئے ہم آیات،روایات اورمو رخین كے اقوال كا جائزہ لیں گے۔
دوسرے لفظوں میں پہلے ہم اس كى شخصیت كے بارے میں گفتگو كریں گے اور پہلا موضوع وہى ہے جو قرآن كى نظر میں اہم ہے۔ اس سلسلے میں قرآن كہتا ہے: تجھ سے ذوالقرنین كے بارے میں سوال كرتے ہیں :كہہ دو عنقریب اس كى سرگزشت كا كچھ حصہ تم سے بیان كروں گا ۔( سورہ كہف آیت 83)
بہر حال یہاں سے معلوم ہوتاہے كہ لوگ پہلے بھى ذوالقرنین كے بارے میں بات كیا كرتے تھے۔البتہ اس سلسلے میں ان میں اختلاف اورابہام پایا جاتا تھا۔ اسى لئے انہوں نے پیغمبر اكرم ﷺ سے ضرورى وضاحتیں چاہیں ۔
اس كے بعد فرمایا گیا ہے: ہم نے اسے زمین پر تمكنت عطا كی(قدرت،ثبات قوت اور حكومت بخشی)۔اور ہر طرح كے وسائل اور اسباب اس كے اختیار میں دیئے۔اس نے بھى ان سے استفادہ كیا۔یہاں تك كہ وہ سورج كے مقام غروب تك پہنچ گیا۔وہاں اس نے محسوس كیا كہ سورج تاریك اور كیچڑ آلود چشمے یا دریامیں ڈوب جاتا ہے ۔( سورہ كہف آیت 84)
وہاں اس نے ایك قوم كو دیكھا (كہ جس میں اچھے برے ہر طرح كے لوگ تھے) تو ہم نے ذوالقرنین سے كہا:كہ تم انہیں سزادینا چاہوگے یااچھى جزا ۔( سورہ كہف آیت 86)
( بعض مفسرین نے لفظ قلنا (ہم نے ذوالقرنین سے كہا)سے ان كى نبوت پر دلیل قرار دیا ہے لیكن یہ احتمال بھى ہے كہ اس جملے سے قلبى الہام مراد ہو كہ جو غیر انبیاء میں بھى ہوتا ہے لیكن اس بات كا انكار نہیں كیا جاسكتا كہ تفسیر زیادہ تر نبوت كو ظاہر كرتى ہے۔)
ذوالقرنین نے كہا: وہ لوگ كہ جنہوں نے ظلم كیے ہیں ،انہیں تو ہم سزادیں گے ۔ اوروہ اپنے پروردگار كى طرف لوٹ جائیں گے اور اللہ انہیں شدید عذاب كرے گا ۔( سورہ كہف آیت 86)
یہ ظالم و ستم گر دنیا كا عذاب بھى چكھیں گے اور آخرت كا بھی۔  اور رہا وہ شخص كہ جو باایمان ہے اور عمل صالح كرتا ہے اسے اچھى جزاءملےگی۔اور اسے ہم آسان كام سونپیں گے ۔( سورہ كہف آیت 88)
اس سے بات بھى محبت سے كریں گے اور اس كے كندھے پر سخت ذمہ داریاں بھى نہیں ركھیں گے اور اس سے زیادہ خراج بھى وصول نہیں كریں گے۔ ذوالقرنین كے اس بیان سے گویا یہ مراد تھى كہ توحید پرایمان اور ظلم و شرك اور برائی كے خلاف جدوجہد كے بارے میں میرى دعوت پر لوگ دوگروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ایك گروہ تو ان لوگوں كا ہوگا جو اس الہى تعمیرى پروگرام كو مطمئن ہوكر تسلیم كرلیں گے انہیں اچھى جزا ملے گى اور وہ آرام و سكون سے زندگى گزاریں گے جبكہ دوسرا گروہ ان لوگوں كا ہوگا جو اس دعوت سے دشمنى پراتر آئیں گے اور شرك و ظلم اور برائی كے راستے پر ہى قائم رہیں گے انہیں سزادى جائے گی۔
ذوالقرنین نے اپنا مغرب كا سفر تمام كیا اور مشرق كى طرف جانے كا عزم كیا اور جیسا كہ قرآن كہتا ہے: جو وسائل اس كے اختیار میں تھے اس نے ان سے پھر استفادہ كیا۔اور اپنا سفر اسى طرح جارى ركھا یہاں تك كہ سورج كے مركز طلوع تك جاپہنچا ۔وہاں اس نے دیكھا سورج ایسے لوگوں پرطلوع كررہا ہے كہ جن كے پاس سورج كى كرنوں كے علاوہ تن ڈھاپنے كى كوئی چیز نہیں ہے ۔( سورہ كہف آیت 89۔90)
یہ لوگ بہت ہى پست درجے كى زندگى گزارتے تھے یہاں تك كہ برہنہ رہتے تھے یا بہت ہى كم مقدار لباس پہنتے تھے كہ جس سے ان كابدن سورج سے نہیں چھپتا تھا۔( بعض مفسرین نے اس احتمال كو بھى بعید قرار نہیں دیا كہ ان كے پاس رہنے كو كوئی گھر بھى نہ تھے كہ وہ سورج كى تپش سے بچ سكتے۔ اس سلسلے میں ایك اور احتمال بھى ذكر كیا گیا ہے اور وہ یہ كہ وہ لوگ ایسے بیابان میں رہتے تھے كہ جس میں كوئی پہاڑ،درخت،پناہ گاہ اور كوئی ایسى چیز نہ تھى كہ وہ سورج كى تپش سے بچ سكتے گویا اس بیابان میں ان كے لئے كوئی سایہ نہ تھا۔)
جى ہاں ذوالقرنین كا معاملہ ایسا ہى ہے اور ہم خوب جانتے ہیں كہ اس كے اختیار میں (اپنے اہداف كے حصول كے لئے)كیا وسائل تھے۔(سورہ كہف آیت 91)
بعض مفسرین نے یہاں یہ احتمال ذكر كیا ہے كہ یہ جملہ ذوالقرنین كے كاموں اور پروگراموں میں اللہ كى ہد ایت كى طرف اشارہ ہے۔
ذوالقرنین نے دیوار كیسے بنائی؟
قرآن میں حضرت ذوالقرنین علیہ السلام كے ایك اور سفر كى طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:  اس كے بعد اس نے حاصل وسائل سے پھر استفادہ كیا ۔( سورہ كہف آیت 92)
اور اس طرح اپنا سفر جارى ركھا یہاں تك كہ وہ دوپہاڑوں كے درمیان پہنچا وہاں ان دوگروہوں سے مختلف ایك اور گروہ كو دیكھا۔ یہ
لوگ كوئی بات نہیں سمجھتے تھے ۔( سورہ كہف آیت 93)
یہ اس طرف اشارہ ہے كہ وہ كوہستانى علاقے میں جاپہنچے۔مشرق اور مغرب كے علاقے میں وہ جیسے لوگوں سے ملے تھے یہاں ان سےمختلف لوگ تھے،یہ لوگ انسانى تمدن كے اعتبار سے بہت ہى پسماندہ تھے كیونكہ انسانى تمدن كى سب سے واضح مظہر انسان كى گفتگوہے۔( بعض نے یہ احتمال بھى ذكر كیا ہے كہ یہ مراد نہیں كہ وہ مشہور زبانوں میں سے كسى كو جانتے نہیں تھے بلكہ وہ بات كا مفہوم نہیں سمجھ سكتے تھے یعنى فكرى لحاظ سے وہ بہت پسماندہ تھے۔)
اس وقت یہ لوگ یاجوج ماجوج نامى خونخوار اور سخت دشمن سے بہت تنگ اور مصیبت میں تھے۔ ذوالقرنین كہ جو عظیم قدرتى وسائل كے حامل تھے،ان كے پاس پہنچے تو انہیں بڑى تسلى ہوئی ۔انہوں نے ان كا دامن پكڑلیا اور كہنے لگے:اے ذوالقرنین یاجوج ماجوج اس سرزمین
پر فساد كرتے ہیں ۔كیا ممكن ہے كہ خرچ آپ كو ہم دے دیں اور آپ ہمارے اور ان كے درمیان ایك دیوار بنادیں ۔( سورہ كہف آیت 94)
وہ ذوالقرنین كى زبان تو نہیں سمجھتے تھے اس لئے ہوسكتا ہے یہ بات انہوں نے اشارے سے كى ہو یا پھر ٹوٹى پھوٹى زبان میں اظہارمدعاكیاہو۔( یہ احتمال بھى ذكر كیا گیا ہے كہ ہوسكتا ہے كہ ان كے درمیان مترجمین كے ذریعے بات چیت ہوئی ہو یا پھر خدائی
الہام كے ذریعے حضرت سلیمان نے ان كى بات سمجھى ہو جیسے حضرت ذوالقرنین بعض پرندوں سے بات كرلیا كرتے تھے۔) بہر حال اس جملے سے معلوم ہوتا ہے كہ ان لوگوں كى اقتصادى حالت اچھى تھى لیكن سوچ بچار، منصوبہ بندی، اور صنعت كے لحاظ سے وہ كمزورتھے۔لہذا وہ اس بات پر تیار تھے كہ اس اہم دیوار كے اخراجات اپنے ذمہ لے لیں ، اس شرط كے ساتھ ذوالقرنین نے اس كى منصوبہ بندى اور تعمیر كى ذمہ دارى قبول كرلیں ۔
اس پر ذوالقرنین نے انہیں جواب دیا: یہ تم نے كیا كہا؟اللہ نے مجھے جو كچھ دے ركھا ہے،وہ اس سے بہتر ہے كہ جو تم مجھے دینا چاہتے ۔( سورہ كہف آیت 95) اور میں تمہارى مالى امداد كا محتاج نہیں ہوں ۔  تم قوت و طاقت كے ذریعے میرى مدد كرو تا كہ میں تمہارے اور ان دومفسدقوموں كے درمیان مضبوط اور مستحكم دیوار بنادوں ۔( سورہ كہف آیت 96)
پھر ذوالقرنین نے حكم دیا: لوہے كى بڑى بڑى سلیں میرے پاس لے آؤ ۔( سورہ كہف آیت 96)
جب لوہے كى سلیں آگئیں تو انہیں ایك دوسرے پر چننے كا حكم دیا یہاں تك كہ دونوں پہاڑوں كے درمیان كى جگہ پورى طرح چھپ گئی۔(سورہ كہف آیت 96)
تیسرا حكم ذوالقرنین نے یہ دیا كہ آگ لگانے كا مواد (ایندھن وغیرہ)لے آؤ اور اسے اس دیوار كے دونوں طرف ركھ دو اور اپنے پاس موجود وسائل سے آگ بھڑكاؤ اور اس میں دھونكو یہاں تك كہ لوہے كى سلیں انگاروں كى طرح سرخ ہوكر آخر پگھل جائیں ۔( سورہ كہف آیت 96)
درحقیقت وہ اس طرح لوہے كے ٹكڑوں كو آپس میں جوڑكر ایك كردینا چاہتے تھے۔ یہى كام آج كل خاص مشینوں كے ذریعے انجام دیاجاتا ہے، لوہے كى سلوں كو اتنى حرارت دى گئی كہ وہ نرم ہوكر ایك دوسرے سے مل گئیں ۔ پھر ذوالقرنین نے آخرى حكم دیا: كہا كہ
پگھلا ہوا تانبا لے آؤ تاكہ اسے اس دیوار كے اوپرڈال دوں ۔( سورہ كہف آیت 96)
اس طرح اس لوہے كى دیوار پر تانبے كا لیپ كركے اسے ہوا كے اثر سے اور خراب ہونے سے محفوظ كردیا۔بعض مفسرین نے یہ بھى كہاہےكہ موجودہ سائنس كے مطابق اگر تانبے كى كچھ مقدار لوہے میں ملادى جائے تو اس كى مضبوطى بہت زیادہ ہوجاتى ہے۔ ذوالقرنین
چونكہ اس حقیقت سے آگاہ تھے اس لئے انہوں نے یہ كام كیا۔آخر كار یہ دیوار اتنى مضبوط ہوگئی كہ اب وہ مفسد لوگ نہ اس كے اوپر چڑھ سكتے تھے اور نہ اس میں نقب لگا سكتے تھے۔( سورہ كہف آیت 97)
یہاں پرذوالقرنین نے بہت اہم كا م انجام دیا تھا۔مستكبرین كى روش تو یہ ہے كہ ایسا كام كركے وہ بہت فخر وناز كرتے ہیں یا احسان جتلاتےہیں لیكن ذوالقرنین چونكہ مرد خدا تھے۔
لہذا انتہائی ادب كے ساتھ كہنے لگے:یہ میرے رب كى رحمت ہے ۔( سورہ كہف آیت 97)
اگر میرے پاس ایسا اہم كام كرنے كے لئے علم و آگاہى ہے تو یہ خدا كى طرف سے ہے اور اگر مجھ میں كوئی طاقت ہے اور میں بات كرسكتا ہوں تو وہ بھى اس كى طرف سے ہے اور اگر یہ چیزیں اور ان كا ڈھالنا میرے اختیار میں ہے تو یہ بھى پروردگار كى وسیع رحمت كى بركت ہے میرے پاس كچھ بھى میرى اپنى طرف سے نہیں ہے كہ جس پر میں فخر و ناز كروں اور میں نے كوئی خاص كا م بھى نہیں كیا كہ اللہ كے بندوں پر احسان جتاتا پھروں ۔ اس كے بعد مزید كہنے لگے: یہ نہ سمجھنا كہ یہ كوئی دائمى دیوار ہے جب میرے پروردگار كا حكم آگیا تو یہ درہم برہم ہوجائے گى اور زمین بالكل ہموار ہوجائے گى ،اور میرے رب كا وعدہ حق ہے ۔( سورہ كہف آیت 98)
یہ كہہ كر ذوالقرنین نے اس امر كى طرف اشارہ كیا كہ اختتام دنیا اور قیا مت كے موقع پر یہ سب كچھ درہم برہم ہوجائے گا۔
ذوالقرنین كون تھے؟
جس ذوالقرنین كا قرآن مجید میں ذكر ہے،تاریخى طور پر وہ كون شخص ہے،تاریخ كى مشہور شخصیتوں میں سے یہ داستان كس پر منطبق ہوتى ہے،اس سلسلے میں مفسرین كے مابین اختلاف ہے۔ اس سلسلے میں جو بہت سے نظریات پیش كیے گئے ہیں ان میں سے یہ تین زیادہ اہم ہیں ۔
( پہلا:بعض كا خیال ہے كہ ا سكندر مقدونی ہى ذوالقرنین ہے۔ لہذا وہ اسے اسكندر ذوالقرنین كے نام سے پكارتے ہیں ۔ ان كا خیال ہے كہ اس نے اپنے باپ كى موت كے بعد روم،مغرب اور مصر پر تسلط حاصل كیا۔اس نے اسكندریہ شہر بنایا۔ پھر شام اور بیت المقدس پر اقتدار قائم كیا۔وہاں سے ارمنستان گیا۔عراق و ایران كو فتح كیا۔پھر ہندوستان اور چین كا قصد كیا وہاں سے خراسان پلٹ آیا۔ اس نے بہت سےنئےشہروں كى بنیاد ركھی۔پھر وہ عراق آگیا۔ اس كے بعد وہ شہر زور میں بیمار پڑا اور مرگیا۔بعض نے كہا ہے كہ اس كى عمر چھتیس سال سے زیادہ نہ تھی۔ اس كا جسد خاكى اسكندریہ لے جاكر دفن كردیا گیا۔
دوسرا:مو رخین میں سے بعض كا نظریہ ہے كہ ذوالقرنین یمن كاایك بادشاہ تھا۔
اصمعى نے اپنى تاریخ عرب قبل از اسلام میں ،ابن ہشام نے اپنى مشہور تاریخ سیرة میںاورا بوریحان بیرونى نے الاثار الباقیہ میں یہى نظریہ پیش كیا ہے۔ یہاں تك كہ یمن كى ایك قوم حمیری كےشعراءاور زمانہ جاہلیت كے بعض شعراء كے كلام میں دیكھا جاسكتا ہے كہ انہوں نے ذوالقرنین كے اپنے میں سے ہونے پر فخركیاہے۔)جدید ترین نظریہ یہ ہے جو ہندوستان كے مشہور عالم ابوالكلام آزاد نے پیش كیا ہے۔ابوالكلام آزاد كسى دور میں ہندوستان كے وزیر تعلیم تھے۔اس سلسلے میں انہوں نے ایك تحقیقى كتاب لكھى ہے۔ اس نظریہ كے مطابق ذوالقرنین، كورش كبیر بادشاہ ہخامنشى ہے۔(فارسى میں اس كتاب كے ترجمے كا نام ذوالقرنین یا كورش كبیر ركھا گیا ہے)
ذوالقرنین كو یہ نام كیوں دیا گیا؟
پہلى بات تو یہ ہے كہ ذوالقرنین كامعنى ہے۔ دوسینگوں والا سوال پیدا ہوتا ہے كہ انہیں اس نام سے كیوں موسوم كیا گیا۔ بعض كا نظریہ ہےكہ یہ نام اس لئے پڑا كہ وہ دنیا كے مشرق و مغرب تك پہنچے كہ جسے عرب قرنى الشمس (سورج كے دوسینگ)سے تعبیر كرتے ہیں بعض كہتے ہیں كہ یہ نام اس لئے ہوا كہ انہو ں نے دوقرن زندگى گزارى یا حكومت كی۔اورپھریہ كہ قرن كى مقدار كتنى ہے،اس میں بھى مختلف نظریات ہیں ۔ بعض كہتے ہیں كہ ان كے سر كے دونوں طرف ایك خاص قسم كا ابھار تھا ا س وجہ سے ذوالقرنین مشہور ہوگئے۔ آخركار بعض كا نظریہ یہ ہے كہ ان كا خاص تاج دوشاخوں والا تھا۔
جناب ذوالقرنین كے ممتاز صفات
قرآن مجیدسے اچھى طرح معلوم ہوتا ہے كہ ذوالقرنین ممتاز صفات كے حامل تھے ۔اللہ تعالى نے كامیابى كے اسباب ان كے اختیار میں دیئےھے،انہوں نے تین اہم لشكر كشیاں كیں ۔پہلے مغرب كى طرف،پھر مشرق كى طرف اور آخر میں ایك ایسے علاقے كى طرف كہ جہاں ایك كوہستانى درہ موجود تھا، ان مسافرت میں وہ مختلف اقوام سے ملے۔ وہ ایك مرد مومن،موحد اور مہربان شخص تھے۔ وہ عدل كا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ اسى بناء پر اللہ كا لطف خاص ان كے شامل حال تھا۔ وہ نیكوں كے دوست او رظالموں كے دشمن تھے۔ انہیں دنیا كے مال و دولت سے كوئی لگاؤ نہ تھا۔ وہ اللہ پر بھى ایمان ركھتے تھے اور روز جزاء پر بھی۔ انہو ں نے ایك نہ آیت مضبوط دیوار بنائی ہے،یہ دیوار انہوں نے اینٹ اور پتھركے بجائے لوہے اور تانبے سے بنائی(اور اگر دوسرے مصالحے بھى استعمال ہوئے ہوں توان كى بنیادى حیثیت نہ تھی)۔اس دیواربنانے سے ان كا مقصد مستضعف اور ستم دیدہ لوگوں كى یاجوج و ماجوج كے ظلم و ستم كے مقابلے میں مددكرنا تھا۔
وہ ایسے شخص تھے كہ نزول قرآن سے قبل ان كا نام لوگوں میں مشہور تھا۔لہذا قریش اور یہودیوں نے ان كے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال كیا تھا، جیسا كہ قرآن كہتا ہے: تجھ سے ذوالقرنین كے بارے میں پوچھتے ہیں : رسول اللہ ﷺ سے ایسى روایات منقول ہیں جن میں ہے كہ: وہ نبى نہ تھے بلكہ اللہ كے ایك صالح بندے تھے۔
دیوار ذوالقرنین كہاں ہے ؟
بعض لوگ چاہتے ہیں كہ اسے مشہور دیوار چین پر منطبق كریں كہ جو اس وقت موجود ہے اور كئی سو كلو میٹر لمبى ہے لیكن واضح ہے كہ دیوارچین لوہے اور تانبے سے نہیں بنى ہے اور نہ وہ كسى چھوٹے كو ہستانى درے میں ہے ،وہ ایك عام مصالحے سے بنى ہوئی دیوار ہے،اورجیسا كہ ہم نے كہا ہے كئی سو كلو میٹر لمبى ہے اور اب بھى موجود ہے ۔ بعض كااصرار ہے كہ یہ وہى دیوار ما رب ہے كہ جو یمن میں ہے ،یہ ٹھیك ہے كہ دیوار ما رب ایك كوہستانى درے میں بنائی گئی ہے لیكن وہ سیلاب كو روكنے كے لئے اور پانى ذخیرہ كرنےكےمقصدسےبنائی گئی ہے اور ویسے بھى وہ لوہے اور تانبے سے بنى ہوئی نہیں ہے۔جب كہ علماء و محققین كى گواہى كے مطابق سرزمین قفقاز میں دریائے خزر اور دریائے سیاہ كے درمیان پہاڑوں كا ایك سلسلہ ہے كہ جو ایك دیوار كى طرح شمال اور جنوب كو ایك
دوسرے سے الگ كرتا ہے اس میں ایك دیوار كى طرح كا درہ كاموجود ہے جو مشہور درہ داریال ہے ،یہاں اب تك ایك قدیم تاریخى لوہے كى دیوار نظر اتى ہے ،اسى بناء پر بہت سے لوگوں كا نظریہ ہے كہ دیوار ذوالقرنین یہى ہے ۔یہ بات جاذب نظر ہے كہ وہیں قریب ہى سائرس نامى ایك نہر موجود ہے اور سائرس كا معنى كورش ہى ہے (كیونكہ یونانى كورش كو سائرس كہتے تھے)۔ ارمنى كے قدیم اثار میں اس دیوار كو بھاگ گورائی كے نام سے یاد كیا گیا ہے ،اس لفظ كا معنى ہے درہ كورش یا معبر كورش ( كورش كے عبور كرنے كى جگہ) ہے یہ سند نشاندہى كرتى ہے كہ اس دیوار كا بانى كورش ہى تھا۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: