گلوبلائزیشن:Globalization03:

عالم گیریت کیا چاہتی ہے؟

 گلو بلا ئز یشن کے مغربی داعی اور ان کے مشرقی کارندے، اس فکر کے حوالے سے بڑے بلند و بانگ  دعوےکرتےپھرتےہیں،مثلاً:عالم گیریت اقتصادی ترقی اور معاشی فروغ کی ضامن ہے، ہر قوم اس کے سایے میں اپنا مستقبل سنوارسکتی ہے، ہر انسان اس کے ذریعے شاندار زندگی گزار سکتا ہے۔ یہ جد ید ٹکنالوجی کے پھیلا ؤ کا ذریعہ ہے، جس کے نتیجے میں انٹرنیٹ وغیرہ کے ذریعے معلومات کا حصول نہایت آسان ہو جاتا ہے، عالم گیریت بیرونی با زاروں میں قسمت آز ما ئی کا موقع فراہم کرتی ہے، اس سے غیر ملکی سر مایہ کاری میں اضافہ ہو تا ہے اور قومی اقتصادیات ترقی کے زینے طے کرتی ہے وغیرہ وغیرہ۔
 لیکن حقیقت یہ کہ عالم گیریوں کے یہ دعوے کھوکھلے ہیں، ان دعوؤں کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے، ڈاکٹر محمد حسن رسمی(قاہرہ یونورسٹی میں شعبہ کمپیوٹر کے ڈائریکٹر )کے بہ قول :
 گلو بلا ئزیشن ایک اندھا طوفان ہے، جو اپنی را ہ میں آنے والی کسی بھی چیز کو برداشت نہیں کرتا، اس کا نظام طاقت وروں کےلیےمددگار ہے اور کمزوروں کے لیے مہلک، یہ نظام اپنے بانیوں کو اجارہ داری اور بالادستی عطا کرتا ہے اور آسمانی معجزات کاانتظار کرنے والوں کے مستقبل کی باگ ڈور اپنے پالیسی سازوں کے ہاتھ میں دے دیتا ہے‘‘۔ (مع العولمۃ اخبارالہرام ۲۰۰۱/۹/۱۶)
 چند ایسے ممالک بھی ہیں جو گلو بلائزیشن کے خطرات اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اجارہ داری سے واقف ہیں،وہ جانتے ہیں کہ اس نظام سے غریب ممالک کی غربت ہیں، اضافہ ہو گا اور وہ سب مغربی سرمایہ دارانہ پالیسیوں کے تابع ہوجائیں گے، اس جیسے ملکوں میں ’’ملیشیا‘‘ کا نام سرفہرست ہے وہاں کے وزیر اعظم مآثر محمد ہر میدان میں اسلامی بیداری کے قائل ہیں اور مغربی بالا دستی کو مسترد کرتے ہیں آج ان کے خیالات اور کوششوں کی وجہ سے مغربی سرمایہ داروں کی نیندیں حرام ہیں،’’مآثر محمد ‘‘ملیشیا کی دارالحکومت ’’کوالالمپور‘‘ میں منعقدہ’’اسلامک کانفرنس‘‘کے اجلاس میں عالم اسلام کے وزرائے خارجہ کوخطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
 ’’عالمی تجارتی تنظیم عالم گیریت کی آلہ کار ہے جو ترقی یافتہ ممالک کو اجازت دیتی ہے کہ وہ ترقی پذیر ممالک کو پوری طرح نگل لیں‘‘۔(مع العولمۃ ازصالح الرقب: ص۱۴)
 فرانسیسی صدر ’’جاک شیراک‘‘ نے فرانس کے قومی دن(۱۴جولائی ۲۰۰۰ء)کے موقع پر تقریر کرتے ہوے کہا کہ :
 ’’گلوبلائزیشن پر روک لگانے کی ضرورت ہے کیوں کہ یہ معاشرتی انتشار کا باعث ہے عالم گیریت سے اگر چہ ترقی کی راہ ہموار ہوتی ہیں لیکن اس کے خطرات زیادہ ہیں جن میں پہلا خطرہ یہ نظام معاشرت پر براہ راست حملہ کرتا ہے دوسراخطرہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے عالمی جرائم میں اضافہ ہوتا ہے اور تیسراخطرہ یہ ہے کہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کے سوا ہر اقتصادی نظام کے مخالف ہے۔‘‘(رسالہ: الحوادث، مستقبل الصحافۃ ا لعربیۃ فی ظل العولمۃ، از محمد سماک، عدد ۲۳۱۰، ص: ۶۳)
 مشہور امریکی مصنف ’’ولیم گریڈر ‘‘ ۱۹۷۷ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب one world Ready Or No? میں  عالم گیریت کے بارے میں لکھتا ہے کہ :
 یہ ایک عجیب و غریب طریقۂ کار ہے، جو عالمی صنعتی و تجارتی انقلاب کے نتیجہ میں وجود پذیر ہوا ہے، یہ جہاں ترقی کا ذریعہ ہے، وہیں تبا ہی کا بھی سبب ہے، یہ نظام عالمی حدود سے لا پرواہ آگے بڑھتا ہے‘‘۔(العولمۃ، ازصالح القیب: ص ۵)
 در حقیقت عالم گیریت ایک ذہین و طاقت ور انسان اور ایک غبی و کمزور شخص کے درمیان ہونے والا معاملہ ہے، جن میں ایک فریق تو ہر چیز کا مالک ہے۔ اوردوسراحق ملکیت سے بھی محروم ہے۔جہاں ایک فریق کو آقا کی حیثیت حاصل ہے اوردوسرے کو غلام کی ایک اپنی تہذیب پر فخر کر نے والا اور اس کو اپنے لیے سرما یہ سمجھنے والا ہے۔ تودوسرا اپنی تہذیب سے ناطہ توڑنے پر مجبور ہے۔ایک اپنے عقیدے پر مضبوطی سے جما ہوا ہے۔ تو دوسرے سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے عقیدے کو پس پشت ڈال دے۔غرض یہ کہ اس نظام میں ایک فریق سب کچھ ہے اور دوسرا فریق کچھ نہیں۔

 عالم گیریت کے مختلف میدان ہائے عمل:

 گلوبلائز یشن کے پالیسی سازاداروں نے، چوں کہ اس تحریک کو ایک مکمل نظام حیات بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، تا کہ انسانی زندگی کا کوئی پہلو بھی ایسا باقی نہ بچے، جو اس صہیونی تحریک سے متاثر نہ ہو، اس لیے جدید عالمی نظام کے پسِ پردہ کارفرمادماغوں نے، اس نظام کو مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا اور ہر میدان کے لیے کھلاڑیوں کی الگ الگ ٹیمیں بھی تیارکردیں،تاکہ تمام میدانوں میں عالم گیریت قابل عمل بن جائے، بنیادی طور پر جدید عالمی نظام کو مندرجہ ذیل میدانوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے :
(۱)سیاست(۲)اقتصاد(۳)تہذیب و ثقافت(۴)معاشرہ و اخلاق (۵)زبان و ادب ان سبھی میدانوں کا ایکدوسرےسےبڑاگہراربط ہے، کیوں کہ عالم گیریت کا حقیقی مقصد پوری دنیا کو امریکی، بلکہ صہیونی رنگ میں رنگ دینا اور سارے عالم پر امریکہ کےذریعےیہودی اقتدار قائم کر نا ہے، لہٰذا جہاں سیاسی میدان میں دنیا کے نقشے پر تبدیلیاں لا نا ضروری ہے، اورسیاسی طور پر ترقی پذیر ممالک کو بے دست و پا بنانا نا گزیر ہے، وہیں اس مقصد کے حصول کے لیے اقتصادی میدان میں بھی ترقی پذیر دنیا کو ی مغلوب  کرنا اوراس راہ سے غریب ممالک پر اجارہ داری قائم کرنا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح اپنی اجارہ داری کو دوام بخشنے کے لیے ترقی پذیر دنیا پر مغربی بالخصوص امریکہ تہذیب و ثقافت اور اقدار کا تسلّط بھی ضروری  ہے۔تاکہ اس دنیا کے عوام جب مغربی تہذیب وثقافت کو اپنا لیں تو مغرب سے آنے والی ہواؤں کےجھونکوں میں ہی راحت محسوس کریں وہاں کی طرز زندگی کو ہی معیار سمجھیں اور وہاں کی سکونت و رہائش کوہی اپنی تمناؤں کا محور قرار دیں، مغرب سے آنے والی ہر چیز کو سینے سے لگائیں اور استعمال کوہی  فیشن اور اعلیٰ طرز زندگی کی علامت سمجھیں، تہذیب و ثقافت کی راہ داری ہی سے، اقتصادیات کے میدان میں ترقی یافتہ ممالک اورخاص طور پر امریکہ کا تسلط نہایت آسان ہوسکتا ہے۔

ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کا ایک تنقیدی جائزہ:

 ’’ ورلڈ ٹریڈ آرگنائز یشن ‘‘ کی بنیاد جن اصولوں پر قائم ہے، ان کا مطالعہ کرنے کے بعد کو ئی بھی با شعور انسان یہ کہنے میں ذ را بھی تامل نہیں کرے گا، کہ یہ تنظیم ایک جانب دار ادارہ ہے، جس سے مغربی مفادات وابستہ ہیں، یہ تنظیم غیر ترقی یافتہ ممالک کواقتصادی اعتبار سے مستحکم ہونے میں کوئی مدد نہیں دے سکتی اور نہ یہ اس کے مقاصد میں شامل ہے۔
 W.T.O.کا دعوی ہے کہ اس کا مقصد آزاد تجارت کو فروغ دینا ہے اور ہر تاجر کے لیے، تمام ممالک کے تجارتی دروازوں کوکھول دینا ہے، حالاں کہ یہ تجارتی تنظیم در حقیقت غیر ترقی یافتہ ممالک سے تو اپنے دروازے کھولنے کا مطالبہ کرتی ہے، لیکن لیڈروں نے مغربی ممالک کے تجارتی دروازوں پر تیسری دنیا کی کمپنیوں کے لیے پہرا بیٹھا رکھا ہے، اور ایسے قوانین وضع کررکھےہیں کہ تیسری دنیا کی کمپنیوں کے لیے مغربی ممالک اور امریکہ میں داخلہ نہایت مشکل ہو جائے۔ آزادانہ تجارت میں ہرشخص کو کہیں بھی ملازمت اختیار کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، لیکن ممالک مشرق کے ذہین و فطین نوجوانوں کو تو لالچ دےکراپنے ملکوں میں کھینچ لیتے ہیں، حال آں کہ وہ اپنے ملک اور اپنی قوم کی تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کا کام دے سکتے ہیں، جبکہ بقیہ افراد کو ان ممالک میں داخلے کی اجازت نہیں ہوتی، ہندوستان کے سابق وزیر خزانہ اور موجود وزیر خارجہ ’’یشونت سنہا‘‘نے۲۵جنوری ۲۰۰۱ء میں ورلڈ اکنامک فورم، کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ: گلو بلائزیشن ہمارے لیے ایک شکست اورغیر منصفانہ عمل ہے۔جس کا مقصد ترقی یافتہ ممالک کا اپنے بازاروں کی حفاظت کرنا ہے، جس انداز سے ان کے بازاروں کی حفاظت ہو رہی ہے، اس سے لگتا ہے کہ وہ گلو بلائزیشن کو اپنا ہتھیار بنا کر استعمال کر رہے ہیں، وہ اپنی ایمیگریشن(ترک وطن)پالیسی کو بھی اس انداز سے تیار کر رہے ہیں، جس ترقی پذیر ممالک کے ترقی کے منصوبوں پر کاری ضرب لگ رہی ہے، وہ ترقی پذیر ممالک کے ذہین وفطین اشخاص کو لالچ دے کر اپنے ملکوں میں بھر رہے ہیں، آنے والے چند سالوں میں شمالی دنیا نوجوانوں اورفعّال عملے کی سخت کمی محسوس کرے گی ‘‘۔
(۱) اخبار Times of India ۲۶جنوری ۲۰۰۱ء، ص۱، بہ حوالہ: مقالہ Globalization From The Perspective of Islam and modernity از عاطف سہیل دیوبندی۔ (یہ مقالہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملیشیا میں پی ایچ ڈی کے لیے ترتیب دیا جا رہا ہے)۔
 ’’باب سٹکلف‘‘( Bob Sutkliff)اس الزام کو مبنی بر حقیقت دیتے ہوئے اپنی کتاب (Freedom to Man in the Age of Globalization ( میں لکھتا ہے کہ : غریب اور ترقی پذیر ممالک اپنے معیار کو بلند کرنے کے لیے ترقی یافتہ ممالک کی ایمگریشن پالیشن پر منحصر ہو گے، ان کے یہاں کا فعال اور متحرک طبقہ دولت مند ممالک کا رخ کرتا ہے اور وہاں  معاش کے آسان ذرائع تلاش کرتا ہے‘‘۔(ایضاً)
 عالمی تجارتی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد تاجروں کے درمیان مبنی بر انصاف مقابلہ آرائی کو بڑھاوا دینا ہے، لیکن در حقیقت دس بازار میں یہ مقابلہ آرائی ہوتی ہے، وہاں ایک فریق نہایت مضبوط اور دوسرا فریق نہایت کمزور ہے، کیا ایسی مقابلہ آرائی کو مبنی بر انصاف کہا جا سکتا ہے ؟؟؟
اس تنظیم کا دعوی ہے کہ اس کا مقصد تجارتی میدان میں یکساں عالمی اصول، قوانین اور اقدار کو رائج کرنا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ان قوانین کو وضع کرنے والا کون ہے ؟ ان اصول و اقدار کو حیثیت دینے والا کون ہے؟
مغربی ترقی یافتہ ممالک کے علاوہ اور کوئی نہیں، ترقی پذیر ممالک کے ذمّے تو بس اتنا ہے کہ وہ ان قوانین اور اصولوں کےسامنےسرجھکادیں اور خاموشی سے ان کو تسلیم کر لیں۔
 تنظیم کے لیڈران کا کہنا ہے کہ یہ’’ اور گنائزیشن ‘‘ در اصل تمام ممالک کے درمیان گفتگو اور مذاکرات کے لیے ایک انجمن کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر کمپنیوں کے درمیان مذاکرات کیسے ممکن ہیں ؟ جب کہ دونوں فریقوں کے درمیان مادّی اعتبار سے اتنی ہی دوری ہے، جتنی کہ زمین وآسمان کے درمیان، ان کمپنیوں کے درمیان اتنی گہری مادی خلیج ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے گفتگو اور مذاکرات کا تصور بھی محال ہے کیوں کہ بعض امریکی کمپنیوں کا بجٹ بہت سے ترقی پذیر ممالک کےقومی بجٹ سے بھی زائد ہے۔
 اس ادارے کے بارے میں یہ خیال ہے کہ یہ تجارتی تنازعوں کو سلجھا نے کے لیے ایک عدالت کے مانند ہے، لیکن اس تنظیم اوراس کے ججوں کی غیر جانب داری کی ذمے داری کون لے سکتا ہے ؟ کو اس بات کا ضامن ہے کہ آرگنائزیشن کے قائدین، جو سب کے سب مغربی ہیں جانب دار نہیں ہیں ؟ (رسالہ: البیان: عدد ۱۷۰/ص۵۶)
 ان سب سوالات کی موجودگی میں یہ ادارہ، جو کہ اقتصادی عالم گیریت کا سب سے بڑا نقیب اور داعی ہے اور اس ادارہ میں مغربی طاقتوں کا سب سے زیادہ ممد و معاون ہے، کسی بھی طرح انصاف پر ور اور اپنے دعووں میں کھرا نہیں اتر سکتا، بلکہ اس کے بنیادی چارٹر میں اتنی ترمیم نا گزیر ہے کہ اس کا مقصد ایک ہی منڈی میں امیر اور غریب ممالک کے درمیان مقابلہ آرائی کرنا ہے، تاکہ یہ مقابلہ برابری کا نہ ہو، نتیجۃً مالدار ممالک کی مال داری میں اضافہ ہو اور غریب ممالک کی غربت میں، ترقی پذیر ممالک ہمیشہ ترقی کاخواب دیکھتے رہیں اور ترقی یافتہ ممالک برق رفتاری سے ترقی کے منازل طے کرتے رہیں، تیسری دنیا کا سفر پیچھے کی طرف ہو،اورمغربی دنیا آگے کی طر ف بڑھتی رہے اور اس سفر میں غریب ممالک کے باشندوں کی روزی روٹی کے ساتھ ساتھ ان کے خون پسینے کا بھی استحصال کیا جاتا رہے۔

ملٹی نیشنل کمپنیاں عالمی دولت کی اصل مالک :

 مذکورہ بالا سطور سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ گزشتہ نصف صدی سے اقتصاد ی گلوبلا ئزیشن کو رواج دینے کی خاطر، مغرب اورامریکہ نے آزادانہ تجارت اور اقتصاد ی کھلے پن کا نعرہ بلند کیا ہے، اس مقصد کے لیے جہاں مختلف ممالک کے درمیان معاہدےکرائے گئے، وہیں آزادانہ تجارت کو پوری دنیا میں فروغ دینے کے لیے مختلف تنظیموں کا قیام عمل میں آیا(جن پر تفصیل سے روشنی ڈالی جاچکی ہے) اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا ادارے اور معاہدے اپنے مقصد میں کس حد تک کامیاب رہے؟ آزادانہ
عالمی تجارت کو کہاں تک فروغ حاصل ہوا؟ آزادانہ تجارت کے نتیجہ میں کس کو فائدہ ہوا اور کس کو نقصان؟
 مغرب نے نصف صدی قبل آزادانہ تجارت کا نعرہ بلند کیا تھا، اس کا مطلب یہ تھا کہ ایک ملک کی کمپنیاں دوسرے کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری کریں، کارخانے قائم کریں، مصنوعات تیار کریں اور وہاں فروخت کریں، اس غیر ملکی اور براہِ راست سرمایہ کاری کو(Foreign Direct Investment) (فارن ڈائریکٹ انوسمنٹ) کہا جاتا ہے، آسانی کے لیے (FDI)بھی بولاجاتاہے۔

گلوبلائزیشن اسلام مخالف:

 عالم گیریت محض سیاسی یا اقتصادی تحریک ہی کا نام نہیں ہے؛ بل کہ یہ براہ راست اسلام پر بھی حملہ ہے، اس لیے کہ اسلام ہی ایک ایسا دین ہے، جو اپنی صفت عالمیت کی وجہ سے گلوبلائزیشن کے فتنے کا مقابلہ کرسکتا ہے، ورنہ آج کے دور میں کوئی مذہب اورکوئی تحریک ایسی نظر نہیں آتی، جو اس کے سامنے سدّسکندری ثابت ہوسکے، لہٰذا عالم گیریت کے پالیسی ساز اداروں کےمنصوبوں میں، جہاں سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور معاشرتی میدانوں میں اپنے مقاصد اور مفادات کا حصول شامل ہے، وہیں اسلام کو کمزور کرنا اور اس پر یورش کرنا بھی ان کی اوّلین ترجیحات میں داخل ہے، گلوبلائزیشن اسلام کے خلاف علی الاعلان، جو سازش کررہا ہے، آیئے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں :
(۱) عالم گیریت کی وہ کوشش ہے کہ مسلمانوں کے دینی عقائد میں شکوک و شبہات پیدا کر دیئے جائیں، تاکہ مسلمان اپنےمذہب کاسہارا نہ لے سکیں، جو دراصل ان کا سب سے بڑا سہارا ہے۔
 (۲) مغربی مادّیت پرست اور ملحدانہ افکار و خیالات کو زیادہ سے زیادہ رواج دینے کے مقصد سے، مسلمانوں کے مقامات مقدّسہ کومغربی طاقتوں کے زیر اثر کر دیا جائے، تاکہ مسلمانوں کے پاس کوئی مرکز نہ رہے۔
 (۳) ہر ملک میں اسلامی عقیدے کی جگہ مادّی فلسفے کو مسلط کر دیا جائے، تاکہ مسلمان اسلامی عقیدے سے کوئی روشنی نہ پا سکیں۔
 (۴)اسلام کو حکومت اور سیاست سے بے دخل کر دیا جائے اور مغربی اقدار پر مبنی ’’ سیکولر ‘‘ فلسفے کی بنیاد پر، حکومتوں کی تشکیل کی جائے۔(العولمۃ امام عامیۃ الشرعۃ الإسلامیۃ : از ڈاکٹر عمر الحاجی طبع اول، دار المکتی دمشق: ص ۵۱)
 آج ہر مسلم ملک میں ایسی تنظیمیں اور ادارے قائم ہیں، جو آزادی، جمہوریت اور حقوق انسانی کے نام پر، اسلامی شریعت کےخلاف محاذ آرائی میں مصروف ہیں، ان اداروں کو فکری اور مادی طور پر مغرب کی حمایت حاصل ہے، ان کا مقصد اسلامی تہذیب و ثقافت کی مخالفت کرنا، اسلامی قوانین کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا، مرد و عورت کے درمیان تعلق اور مسلم عورت کے مسائل کے حوالے سے، اسلام پر نکتہ چینی کرنا ہے، بعض مسلم ممالک میں تواس قسم کے اداروں نے حکومتوں سے علی الاعلان یہ اپیل بھی کی ہے کہ انسانی حقوق کے سلسلے میں، اقوام متحدہ کی پاس کردہ   قرار دادوں کی روشنی میں قوانین بنائے جائیں اور اسلامی شریعت کو اس طرح کے قوانین سے دور رکھا جائے۔ لیکن ان میں سب سے زیادہ خطرناک امر یہ ہے کہ گلوبلائزیشن  کے قائدین براہ راست اسلامی اصولوں پر حملہ کر رہے ہیں، ان کی تمام تر کوششیں اس بات پر صرف ہو رہی ہیں کہ کسی طرح  اسلام کے مسلمہ عقائد کا وجود ہی ختم کر دیا جائے، حتی کہ روئے زمین ان کے ماننے والوں اور ان پر عمل پیرا ہونے والوں سے خالی ہو جائے، اسی لیے ایسے حساس موضوع پر جو بھی منفی انداز میں قلم اٹھاتا ہے، اس کو مغرب کی مکمل حمایت حاصل ہوتی ہے۔حال ہی میں عالم عرب سے تعلق رکھنے والے تین ملحد قلم کا را بھر ے ہیں، ان میں سےایک’’محمدشحرور‘‘سوریا(شام)سے،’’محمدسعیدالعشماوی ‘‘ مصرسے، اور ’’ محمد ارکون ‘‘ الجزائر سے تعلق رکھتے ہیں ان تینوں نے اسلامی اصولوں اور قوانین میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے اسلامی عقائد، حدود، میراث  اورخاندانی قوانین کو، زمانۂ جاہلیت کا رد علم ثابت کرنے کی مذموم سعی کی ہے، ان کا مقصد لوگوں کے ذہن میں یہ بات بٹھاناہے،کہ یہ قوانین جدید دور سے ہم آہنگ نہیں ہیں، ان تینوں مصنفین کی کتابوں کے منظر عام پر آ جانے کے بعد، انہیں مغرب کی پناہ حاصل ہو گئی، حتی کہ سابق امریکی انتظامیہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان ’’بیللٹرو‘‘ نے تینوں کی خوب مدح سرائی کی اور انہیں روشن خیالی کا تمغہ عطا کیا۔ (ایضاً)۔ در اصل عالم گیریت کے قائدین کو یہ معلوم ہے اسلام میں، چوں کہ اس کا نعم البدل بننے اور ہر سطح پر اس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے، اس لیے اسلام کو محض ایسا مذہب بنا دیا جائے، جو چند ارکان کی ادائیگی کامطالبہ کرتا ہو، عملی زندگی میں اس کا کوئی کردار نہ ہو۔

اسلام ابتدائے آفرینش سے عالمی مذہب:

 اسلام کی تعلیمات پر اگر غور کیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا تعلق صرف ان ہی لوگوں سے نہیں ہے، جو رسول اکرمﷺپرایمان لائے، بل کہ جب سے دنیا قائم ہے اس وقت سے ان تعلیمات کا وجود ہے، ہر نبی اور ہر رسول، اللہ کی جانب سے وہی پیغام لے کر آیا ہے، جس کی تجدید آپ ﷺ نے فرمائی، اس لیے اگر یہ کہا جائے کہ حضرت آدم علیہ الصلاۃ و السلام سےلے کر خاتم المرسلین ﷺ تک، ہر نبی نے اسلام کی دعوت دی ہے، تو غلط نہ ہو گا، بل کہ قرآن و سنت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
 کانَ الناسُ امَّۃً واحدۃً فبعثَ اللہُ النبیینَ مُبشرینَ و مُنذرینَ، و انزَلَ معہُمُ الکتابَ بالحقِّ لِیَحکُمَ بینَ الناسِ فیما اخْتلَفُوا۔(البقرۃ:۲۱۳)
 ترجمہ: سب آدمی ایک ہی طریق کے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کو بھیجا، جو کہ خوش خبری سناتےتھےاورڈراتےتھے،اورانکے ساتھ آسمانی کتابیں بھی ٹھیک طور پر نازل فرمائیں، اس غرض سے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں میں ان کے امور اختلافیہ میں فیصلہ فرما دیں۔
اس آیت کریمہ کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا ارشاد ملتا ہے وہ فرماتے ہیں کہ:
 ’’حضرت نوح اور آدم علیہما السلام کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے، اس عرصے میں سبھی لوگ ایک ہی مذہب پر عمل پیراتھے‘‘۔(تفسیر ابن کثیر:ج۱/ص۲۵۱)
 حضرت نوح علیہ اسلام کے بعد، انبیائے بنواسرائیل نے بھی اسی اسلام کی دعوت دی، جس کی دعوت ان سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت نوح سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام دے چکے تھے۔
 ارشاد ربانی ہے:
و قَضی ربُّکَ الاَّ تعبُدُوا إلاَّ إیاہ۔ (الاسرا:۲۳)
ترجمہ: اور تیرے رب نے حکم کر دیا ہے کہ بجزاسکے،کسی اور کی عبادت مت کرو۔
 آپ ﷺ کی بعثت ہوئی، تو آپ ﷺ نے بھی اسی دعوت کی تجدید فرمائی اور اسی اسلام کی طرف لوگوں کو بلایا، جس کی طرف آپ ﷺ سے پہلے تمام انبیا پوری انسانیت کو بلا چکے تھے۔
 قرآن کریم میں ارشاد ہے:
 و ما ارسلنا من قبلک من رسولِ إلاَّ نوحی إلیہ انہ لا إلہ إلاَّ انا فاعْبدون۔ (الانبیاء:۲۵)
ترجمہ: اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی ایسا پیغمبر نہیں بھیجا، جس کے پاس ہم نے یہ وحی نہ بھیجی ہو، کہ میرے سواکوئی معبودنہیں،پس میری (ہی) عبادت کیا کرو۔
 ان آیات قرآنیہ کی روشنی میں یہ دعوی کیا جا سکتا ہے کہ اسلام کی دعوت کوئی نئی دعوت نہیں، بل کہ روئے زمین پرآنےوالےہرنبی نے، اسی اسلام کی دعوت دی ہے، جس کی تجدید کے لیے آپ ﷺ کی بعثت ہوئی اور یہ اسلام چوں کہ ایک آفاقی اور عالمی مذہب ہے، اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ اسلام اسی روز سے عالمی ہے، جب سے یہ عالم قائم ہے اور یہ اسی وقت سےہمہ گیر ہے، جب سے یہ کون و مکان سجایا گیا ہے۔ (گلوبلائزیشن اوراسلام)
 یہ تفصیلات مولانا یاسر ندیم صاحب کی اس موضوع پر لکھی گئی عمدہ ترین کتاب ’’گلوبلائزیشن اوراسلام‘‘سےماخوذہے۔
مزیدتفصیلات کے لیے پوری کتاب کا مطالعہ اور پڑھے لکھے کے لیے خاص طور پر علماء، طلبہ کے لیے از حد ضروری اور مفید ترین ہے۔ اب اسی سے ملتی جلتی چند مزید معلومات محمد افضل احمد صاحب کی کتاب ’’نظام عالم اور امتِ مسلمہ‘‘ سے نقل کی جا رہی ہیں۔
4 comments
  1. گلو بلا ئزیشن ایک اندھا طوفان ہے، جو اپنی را ہ میں آنے والی کسی بھی چیز کو برداشت نہیں کرتا، اس کا نظام طاقت وروں کےلیےمددگار ہے اور کمزوروں کے لیے مہلک

    • درست فرمایا آپ نے کافی لوگوں کو اس ھوالے سے معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں اس لئے مین نے اسی موضوع کو چنا

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: