حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ:02

طلحہ بن عبید اللہ ؓ نے دوسرے غزوات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا فتح مکہ تک جتنے غزوات ہوئے ان میں سےاکثروبیشتر میں آپ ؓ نے شرکت فرمائی اس کے علاوہ بیعت رضوان میں بھی آپ شامل ہوئےاورحضوراکرمکے ہاتھ پر جہاد کی بیعت سے بھی مشرف ہوئے۔ فتح مکہ میں بھی آپ ؓ شامل ہوئے۔ فتح مکہ کے بعد غزوہ حنین میں بھی آپ ؓ نے بڑھ چڑھ کر شرکت فرمائی اس جنگ میں بھی مسلمانوں کے ساتھ غزوہ احدکاسامعاملہ ہوا پہلے مسلمانوں کے پائوں اکھڑ گئے لیکنمجاہدین کی شجاعت ان کی جرأت مندی ان کے عزم و استقلال کےباعث مسلمانوں کے قدمدوبارہ جم گئے اور کفار کو ان کے مقابلے میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا اور مسلمانوں کواس جنگ میں بے شمار مال غنیمت حاصل ہوا۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ اس جنگ میں ان لوگوں میں سے تھے کہ وہ میدان جنگ میں استقلال جرأت مندی اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ثابت قدم رہے تھے۔
اس کے بعد جب 9ہجری میں غزوہ تبوک کا معرکہ پیش آیا تو اس میں حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا یہ غزوہ مسلمانوں کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی اس لیے کہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئیطاقت سے رومن خائف رہنے لگے تھے وہ مسلمانوں کی حکومت کی روز بروز بڑھتی ہوئی قوت اور عرب قبائل کی بیداری کو اپنے لیے بہت بڑا خطرہ خیال کرتے تھے۔ چنانچہ رومنوں کے شہنشاہ ہرکولیس نے سوچا کہ مسلمانوں پر حملہ آور ہو کر ان کی طاقت اور قوت کو ہمیشہ کے لیے کچل دیا جائے تاکہ آنے والے دور میں یہ لوگ رومنوں کے لیے کسی موقعپر خطرے اور نقصان کا باعث نہ بن سکیں چنانچہ انہی خیالات کو سامنے رکھتے ہوئے رومنوں نے مسلمانوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ کرنے کی تیاری شروع کر دی۔ حضور اکرم کو جب رومنوں کے شہنشاہ ہرکولیس کی ان تیاریوں کا علم ہوا تو آپ نےمسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا اور آپ نے اس بات کا تہیہ کرلیا تھا کہ رومنوں پر ایسی کاری ضرب لگائی جائے جس سے ان پرمسلمانوں کا رعب اور خوف طاری ہو جائے اور آنے والے دور میں وہ مسلمانوں کے خلاف کسی مہم جوئی کی ہمت اورجسارت نہ کر پائیں۔
اس موقع پر مدینہ منورہمیں منافقین کا ایک گروہ بھی کام کر رہا تھا ان لوگوں کے تعلقات مسلم دشمنوں سےبھی تھےرومنوں کے ساتھ بھی یہی لوگ ساز باز کر رہے تھے لیکن ساتھ ہی ساتھ ریاکاری کا لبادہ اوڑھ کر وہ مسلمانوں سےتعلق بھی بحال رکھے ہوئے تھے انہیں ناراض بھی نہیں کرنا چاہتے تھے وہ اس جنگ میں شرکت بھی نہیں کرناچاہتےتھےچنانچہ اس جنگ سے بچنے کے لیے منافقین کا وہ گروہ مختلف بہانے کرنے لگا تھا۔
ان منافقوں میں ایکسرکردہ شخص جد بن قیس تھا اس کا تعلق بنو سلمیٰ سے تھا اس موقع پر جب وہ حضوراکرمکےسامنے آیا تو حضور اکرم نے اسےرومنوں کے خلاف جہاد کرنے کے لیے ساتھ چلنے کے لیے کہا تو حضور اکرم کے اس سوال کے جواب میں اس نے عجیب و غریب سا جواب دیا۔
کہنے لگا۔’’یارسول اللہ ! اس جنگ کے لیے آپ مجھے اپنےساتھ نہ لے جائیے اس لیے کہ میری قوم جانتی ہے کہ میں عورتوں کے معاملے میں کس قدرحواس باختہ ہوں رومنوں کی عورتیں حسن و جمال میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں اس لیے انہیں دیکھ کر میں اپنے آپ پرقابو نہ رکھ سکوں گا۔‘‘اس بدبخت کا یہ جواب سن کر حضور اکرم نے اس سے منہ موڑ لیا تھا۔
اسی جیسا ایک یہودی بھیتھا نام اس کا سویلم تھا منافقین اس کے گھر میں جمع ہو کر مسلمانوں کو جنگ میں جانےسےروکنےکی تدبیریں سوچا کرتے تھے اور آپس میں وہیں بیٹھ کر صلاح مشورہ کرتے تھے حضور اکرم کو جب خبر  ہوئی کہ سویلم یہودی کے گھر میں منافقین جمع ہوتے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف صلاح مشورہ کرتے ہیں تو ان کی اس قوت کوتوڑنےکےلیے آپ نے حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ ہی کا انتخاب کیا۔حضور اکرم نے حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کو چند دستے مہیا کیے اور انہیں اس جماعت کو قابو کرنے کے لیےروانہ کیا۔
حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ حضور اکرم کے ارشاد کے مطابق سویلم یہودی کے مکان کی طرف بڑھے اور مکان کاآپ نے محاصرہ کر لیا اور اس کو آگ لگا دی۔اس وقت وہاں جس قدر لوگ تھے وہ بھاگ کھڑے ہوئے اس واقعے کے بعد پھر کبھی کسی منافق کو اپنی زبان سے مسلمانوں کے خلاف الفاظ نکالنے کی جرأت نہ ہوئی حضرت طلحہ بن عبیداللہؓکی ایک ہی گرفت نےمنافقوں کو ایک طرح سے حواس باختہ اور خوف زدہ کر کے رکھ دیا تھا۔
حضور اکرم کی رحلت کے بعد بھی حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ بڑی جانفشانی، خلوص اور نیک نیتی جرات اوربہادری کے ساتھ اسلام کی خدمت میں محو رہے۔ حضور اکرم کی رحلت کے بعد ثقیفہ بنی ساعدہ میں جب حضرت ابوبکرصدیق ؓ کی خلافت پر تمام انصار و مہاجرین کا اتفاق ہو گیا تو حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے بھی آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور ان کے پورے دور خلافت میں آپ ؓ تمام مہمات میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ ان کے مشیر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔حضرت ابوبکرصدیق ؓ جب مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو آپؓنےاپنی جانشینی کے لیے حضرت فاروق اعظمؓ کو نامزد کیا اس نامزدگی سے پہلے آپ ؓ نے بڑے بڑے صحابہ کرامؓسے مشورہ کیا جن لوگوں سےمشورہ کیا گیا ان میں زیادہ اہم حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ، حضرت عثمان بن عفان ؓ، حضرت اسیر بن حضیرؓ، حضرت سعید بن زید ؓ اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ کے علاوہ دیگراکابرین مہاجرین اور انصار شامل تھے۔حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اس نامزدگی کے متعلق جب حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ سے پوچھا تو آپ ؓ نے نہایت بے باکی اور جرأت کے ساتھ کہا۔
’’اے ابوبکر ؓ! آپ کو معلوم ہے کہ عمر ؓ کے مزاج میں تشدد اور سختی ہے اس کے باوجود آپ ؓانکواپناجانشین نامزد کر رہے ہیں تو کل اپنے پروردگار کو جب وہ آپ ؓ سے بازپرس کرے گا کیا جواب دیں گے؟‘‘حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کے یہ الفاظ سن کر حضرت ابوبکر ؓ تائو کھاگئے فرمایا: ’’مجھے بٹھا دو۔‘‘ (اس لیے کہ اس وقت آپ لیٹےہوئے تھے) چنانچہ آپ کو بٹھا دیا گیا بیٹھنے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے طلحہ بن عبیداللہ ؓ کو مخاطب کرکے فرمایا:
’’کیا تم مجھ کو میرےپروردگار سے ڈراتے ہو جب میں اپنے رب سے ملوں گا تو وہ مجھ سے سوال کرے گا تو میں کہوں گااے اللہ میں نے تیرے بندوں میں ایک تیرے بہترین بندے کو خلیفہ منتخب کیا ہے۔‘‘
حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے جو فاروق اعظم ؓ سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا تھا وہ رائے بغض اور کینہ پرمشتمل نہ تھی بلکہ اس میں خلوص پنہاں تھا بلکہ انہی کی طرح کچھ دیگر اصحاب کی بھی یہی رائے تھی لیکن جب حضرت فاروق اعظم ؓ خلیفہ نامزد ہوئے تو ہر صحابی رسول نے اپنی رائے سے رجوع کرتے ہوئے فاروق اعظم ؓ کی خلافت کو دل و جان سے قبول کر لیا دوسری طرف فاروق اعظم ؓ نے بھی اپنے طرز عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ وہ تشدد مزاج نہیں بلکہ اس منصب کے لیے نہایت موزوں ہیں۔
فاروق اعظم ؓ کے پورے دور میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ فاروق اعظم ؓ کے مشیر کی حیثیت سے کام کرتےرہے اور انہیں اپنے مفید مشوروں سے نوازتے رہے فاروق اعظم ؓ بھی اہم ملکی امور میں ان سے مشورہ لیتےاورانہیں اپنی مجلس شوریٰ کا ایک اہم رکن مقرر کیا تھا۔
فاروق اعظم ؓ کے دور میں جب فتوحات کا سلسلہ وسیع ہوا عراق و عجم فتح ہوئے یرموک کے میدان میں رومنوں کوبدترین شکست دی گئی اور ان کے علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا گیا تو فاروق اعظم ؓ ان علاقوں کے نظم ونسق کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس موقع پر آپ ؓکے سامنے ایک مشکل ترین مرحلہ پیش کیا گیا وہ یہ تھا کہ لشکرکے سپہ سالاروں کا اصرار تھا کہ تمام وہ مفتوحہ علاقے اور زمینیں جو لشکریوں نے بزور شمشیر فتح کی ہیں وہ مال غنیمت کی طرح لشکریوں میں تقسیم کر دی جائے اور وہاں کے باشندوں کو ان کی غلامی میں دے دیا جائے۔
فاروق اعظم ؓ ایسا نہیں چاہتے تھےدوسری طرف کچھ اہم اور معزز صحابہ بھی تھے جو لشکر کے سالاروں کی تائید کر رہے تھےان حضرات میں حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ اور حضرت بلال ؓ بھی لشکر کے سالاروں کے ہمنوا تھے۔
ان حالات میں فاروق اعظم ؓ پر سخت دبائو تھا۔ اس موقع پر دو اشخاص ایسے تھے جنہوں نے ڈٹ کر اور چھاتی تان کر فاروق اعظم ؓ کے خیالات کی تائید کی ان میں سے ایک حضرت معاذ بن جبل ؓ اور دوسرے طلحہ بن عبید اللہ ؓ تھے۔
چنانچہ جب فاروق اعظم ؓ بیت المقدس کی فتح کےسلسلے میں جابیہ تشریف لے گئے تو وہاں انہوں نے اپنے سالاروں کے اصرار پر جب زمینیں تقسیم کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت معاذ بن جبل ؓ نے اس موقع پر کہا۔’’واللہ اگر ایسا کیا گیا تو ناخوشگوار نتائج پیدا ہوں گے اگر آپ نے زمینیں تقسیم کر دیں تو لوگوں کو بےتحاشہ دولت ہاتھ لگ جائے گی پھر ان کے مرنے پر ممکن ہے کہ یہ ایک مرد یا عورت کو مل جائےاور جو لوگ اس کے بعد اسلام کی مدافعت میں حصہ لیں گے انہیں کچھ نہ ملے گالہٰذا یہ زمینیں تقسیم کرنے کے بجائے ایسی تدابیراختیار کیجئے جو شروع میں موجودہ لوگوں اور بعد میں آنے والوں کے لیے یکساں مفید ہو۔‘‘
اس موقع پر حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے بھی پورے زور شور اور شد و مد کے ساتھ فاروق اعظم ؓ کے خیالات کی تائید کی تھی آخرجب اس مسئلے نے طول کھینچا تو مسئلہ مجلس مشاورت میں پیش کیا گیا مجلس میں حضرت فاروق اعظم ؓ نے مدلل طریقےسےاپنامؤقف بیان کیا اس مجلس میں بھی حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے پوری طرح فاروق اعظم ؓ کے خیالات کی تائید کی آخر تین دن کے مباحثہ کے بعد مجلس مشاورت نے جو فیصلہ دیا وہ کچھ اس طرح تھا۔
’’آپ ہی کی رائے صحیح ہے آپ نے جو کچھ فرمایا ہے وہ قابل تسلیم ہے اور جو رائے آپ نے قائم کی ہے وہ نہایت موزوں ہے اگر ان شہروں اور سرحدوں میں لشکر نہیں رکھے جائیں گے اور اگر ان کے لیے بطور تنخواہ کچھ مقرر نہ کیا جائے تو اہل کفر اپنے شہروں پر بھی قابض ہو جائیں گے۔‘‘
فاروق اعظم کے پورے دور میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے ایک مشیر اور مخلص ساتھی کی حیثیت سے کام کیا۔ فاروق اعظمؓکادور دس سال چھ ماہ دس دن پر محیط ہے۔ انہوں نے جس طرح حکومت کی نہ اس سے قبل کسی نے ایسی حکومت کی اور نہ ہی ان کے بعد کوئی ایسی حکومت کر سکے گا ان کی حکومت سے متعلق علامہ ابن جوزی لکھتے ہیں ’’حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے فاروق اعظم ؓ کو دیکھا کہ سواری کا اونٹ بھگائے چلے جا رہے ہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے پوچھا۔
’’امیر المؤمنین کہاں تشریف لے جا رہے ہیں؟‘‘
فرمایا: ’’بیت المال کا ایک اونٹ فرار ہو گیا ہے اسے تلاش کرنے جا رہا ہوں۔‘‘
یہ سن کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا: ’’آپ نے اپنے بعد والے خلفاء کو مشقت میں ڈال دیا ہے۔‘‘
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ جواب سن کر حضرت فاروق اعظم ؓ نے فرمایا:’’ابو الحسن یہ کوئی قابل ملامت شے نہیں ہے اس ذات کی قسم جس نے حضور اکرم کو ہی رسالت اور نبوت کے ساتھ مبعوث فرمایا اگر بکری کا کوئی بچہ بھی فرات کے کنارے جا کر گم ہوجائےتو قیامت کے دن اس کی بھی امت سے پرسش ہو گی۔‘‘
فاروق اعظم ؓ کی وفات کے وقت جب ان کی جانشینی کا مسئلہ اٹھا تو انہیں خطرہ تھا کہ خلافت کا یہ مسئلہ کہیں الجھ نہ جائے مسلمانوں کے اندر اختلافات نہ پیدا ہو جائیں حضور اکرم کی رحلت کے بعد خلافت کے سلسلے میں ثقیفہ بنی ساعدہ میں جو واقعات پیش آئے تھے وہ سب آپ کے سامنے تھے اور اب تو سلطنت کی وسعت کے باعث صورت حال اس سے بھی زیادہ پیچیدہ اور نازک ہو چکی تھی۔
ثقیفہ بنی ساعدہ میں تو خلافت کا دعویٰ مہاجرین اور انصار تک محدود تھا لیکن اب تو عرب و عجم، عراق اور شام کی جنگوں میں تمام عرب قبائل نے شرکت کی تھی لہٰذا ہر قبیلہ یہ سمجھتا تھا کہ انتخاب خلافت میں اس کا بھی اتنا حق ہے جتنا اہل مدینہ کا۔یہ ساری صورت حال اس نئی اور نوزائیدہ سلطنت کے لیے نہایت خطرناک تھی چنانچہ آپ نے اس مسئلے کو ادھورا نہ چھوڑا بلکہ فرمایا:’’تمہارے لیے یہ لوگ ہیں جن کے بارے میں حضور اکرم نے فرمایا یہ اہل جنت میں سے ہیں۔‘‘ ان میں حضرت عثمان ؓ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ، حضرت زبیر بن عوامؓ اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ ہیں ان میں سے ایک آدمی کو منتخب کر لو سب آپس میں ایک کو خلیفہ بنا لیں تو اس کے ساتھ پورا پورا تعاون کرنا۔‘‘
پھر آپ نے ان حضرات کو  بلایا اور کچھ نصیحتیں کیں جب لوگوں کو پتا چلا کہ فاروق اعظم ؓ نے انتخاب خلیفہ کےلیے چھ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی ہے تو انہیں اطمینان ہو گیا آپ نے یہ بھی فرمایا کہ عبداللہ بن عمر ؓ کو مشورے میں شریک کر لینا لیکن خلافت سے اسے کوئی تعلق نہ ہو گا۔
جس روز حضرت فاروق اعظمؓ پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا اس روز حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ مدینہ منورہ میں موجود نہ تھے بلکہ اپنے کسی
ذاتی کام کے سلسلے میں مدینہ سے باہر گئے ہوئے تھے ان کی واپسی کا کسی کو علم نہ تھا کہ وہ کب آئیں گے چنانچہ فاروق اعظم
ؓ نے فرمایا:
’’اپنے بھائی طلحہ بن عبید اللہ ؓ کا تین روز تک انتظار کرنا، اگر وہ آ جائیں تو ٹھیک ورنہ اپنے معاملے کا فیصلہ کر لینا ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اگر وہ نہ آئیں تو ان کی جگہ میرے بیٹے عبداللہ کو مشورے میں شریک کر لینا اور یہ بھی تاکید فرمائی کہ اس کو صرف خلافت کےلیےمشیر بنایا جائے امیدوار نہ بنایا جائے۔
فاروق اعظم ؓ نے جو ان چھ افراد کا انتخاب کیا تھا وہ بلاوجہ نہ تھا اس لیے کہ اس وقت ان چھ افراد کا دینی اور دنیاوی دونوں لحاظ سےبہت اونچا، اعلیٰ اور ارفع مقام تھا جہاں تک حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کا تعلق تھا تو وہ حضور اکرم کے عزیز اور آپ کے ہم زلف تھے حضور اکرم کی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت زینب ؓ  بنت حجش کی بہن حمنہ ؓ  بنت حجش، حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کی زوجہ تھیں اس کے علاوہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ بھی آپ کا رشتہ تھا اور وہ آپ کے داماد تھے اس لیے کہ آپ کی صاحبزادی ام کلثوم بنت ابی بکر ان کے عقد میں تھیں۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: