سیرتِ امام ابو حنیفہؒ از علّامہ شِبلی نُعمانیؒ-6

ضعیف حدیث سے استدلال کا رد

ابو حنیفہؒ پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آ پ جن احادیث سے استدلال کر تے ہیں وہ اکثر ضعیف ہیں۔اس اعتراض کا جواب حضرت مولانا تقی عثمانی نے اپنی کتاب ’’تقلید کی شرعی حیثیت‘‘ میں مفصل تحریر فرمایا ہے جسکو مختصراً نقل کیا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کو حقیقت کا اندازہ ہو سکے۔

حنفیہ کی کتابوں کا مطالعہ

(1) ضعیف حدیث سے استدلال کا اصل جواب تو یہ ہے کہ احکام کے سلسلہ کی آیتِ قرآنیہ اور احادیث نبویہ کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے اور پھر حنفیہ کی کتابوںکا انصاف اور حقیقت پسندی سے پڑھا جائے تو حقیقت حال واضح ہو جائے گی خاصطور سے مندرجہ ذیل کتابوں کا مطالعہ اس مکالمہ میں نہایت مفید ہو گا:
(1) شرح معانی الآثار للطحاویؒ(2) فتح القدیر، لا بن الہمامؒ ( 3) نصب الرایہ،للزیلعیؒ (4) الجوہر النقی، للمداینیؒ ( 5) عمدۃ القاری، للعینیؒ
(6) فتحالملہم، لمولاناالعثمانیؒ(7) بذل المجہود، لمولانا السہارنپوریؒ(8)اعلاءالسنن، لمولانااحمد العثمانیؒ (9) معارف السنن، لمولانا البنوریؒ
(10) فیض الباری شرح صحیح البخاریؒ لمولانا انور شاہ کشمیریؒ۔
ان کتابوںمیں قرآن و سنت سے حنفی مسلک کے دلائل شرح و بسط کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں۔

صحیح احادیث صرف بخاری و مسلم میں منحصر نہیں۔

(2) دوسری بات یہ ہے کہ صحیح احادیث صرف بخاری و مسلم ہی میں منحصر نہیں ہیں۔ امام بخاری اور مسلم کے علاوہ سینکڑوں ائمۂ حدیث نے احایث کے مجموعے مرتب فرمائے ہیں دوسری کتابوں کی احادیث بھی بسا اوقات صحیحین کے معیار کیہو سکتی ہیں۔ بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی حدیث سنداً صحیحین سے بھی اعلیٰ معیار کی ہو سکتی ہو۔ مثلاً ابن ماجہ صحاح ستہ میں چھٹے نمبر کی کتاب ہےلیکن اس میں بعض
احادیث جس اعلیٰ سند کے ساتھ آئی ہیں صحیحین میں اتنی
اعلیٰ سند کے ساتھ نہیں ( ملاحظہ ہو ماتمس الیہ الحاجۃ) لہٰذا محض یہ دیکھکر کسی حدیث کو ضعیف کہہ دینا کسی طرح درست نہیں کہ وہ صحیحین یا صحاحِ ستہ میں موجود نہیں بلکہ اصل دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اصولِ حدیث کے لحاظ  سےاس کا کیا مقام ہے ؟ اگر یہ بات ذہن میں رہے تو حنیفہ کے مسلک پر بہت سے وہاعتراضات خود بخود دور ہو جاتے جو بعض سطح بیں  حضرات وارد کیا کر تے ہیں۔

مجتہدین کا طرزِ استدلال جداگانہ

(3)تیسری بات یہ ہے کہ ائمہ مجتہدین کے درمیان سینکڑوں فقہی مسائل میں جواختلافات واقع ہوئے ہیں، اس کا بنیادی سبب ہی یہ ہے کہ مجتہد کا طرزِاستدلال اور طریق استنباط جدا جدا ہو تا ہے۔ مثلاً بعض مجتہد ین کا طرزیہ ہے کہ اگر ایک مسئلے میں احادیث بظاہر متعارض  ہوں تو وہ اس روایت کو لےلیتے ہیں جنکی سند سب سے زیادہ صحیح ہو خواہ دوسری احادیث بھی سنداً درستہوں۔ اس کے بر خلاف بعض حضرات ان روایات کی ایسی تشریح کرتے ہیں کہ وہایک دوسری سے ہم آہنگ ہو جائیں اور تعارض باقی نہ رہے، خواہ کم درجہ کی صحیح یا حسن حدیث کو اصل قرار دے کر اصل حدیث کی خلافِ ظاہر توجیہ کرنیپڑے اور بعض مجتہدین کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس حدیث کو اختیار کر لیتے ہیں جس پر صحابہؓ یا تابعینؒ کا عمل رہا ہو اور دوسری احادیث میں تاویل کرتےہیں۔
غرض ہر مجتہد کا اندازِ نظر جداگانہ ہے اور ان میں سے کسی کو یہالزام نہیں دیا جا سکتا کہ اس نے صحیح احادیث کو ترک کر دیا۔ امام ابوحنیفہ  عموماً احادیث میں تطبیق کی کوشش فرماتے ہیں اور حتی الامکان ہرحدیث پر عمل کی کو شش کرتے ہیں خواہ سنداً مرجوح ہی کیوں نہ ہو،  بلکہ اگر ضعیف حدیث کا کوئی معارض موجود نہ ہو تو اس پر بھی عمل کر تے ہیں،خواہ وہ قیاس کے خلاف ہو، مثلاً نماز میں قہقہہ سے وضو ٹوٹ  جانے، شہد پرزکوٰۃ واجب ہے وغیرہ کے متعدد مسائل میں انہوں نے ضعیف احادیث کی بناء پرقیاس کو ترک کر دیا ہے۔

احادیث کی تصحیح و تضعیف ایک اجتہادی مسئلہ

(4) احادیث کی تصحیح و تضعیف بھی ایک اجتہاد ی معاملہ ہے، یہی وجہ ہے کہ علماۓ جرح وتعدیل کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو تا رہتا ہے۔ ایک حدیث امام کےنزدیک صحیح یا حسن ہوتی ہے اور دوسرا اسے ضعیف قرار دیتا ہے، چنانچہ حدیث کی کتابوں کودیکھنے سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔ لہٰذا بعض اوقات امام ابو حنیفہؒ اپنے اجتہاد سے کسی حدیث کو قابلِ عمل قرار دیتے ہیں اوردوسرے  مجتہدین اسے ضعیف سمجھ کر ترک کر دیتے ہیں اور امام ابو حنیفہ چونکہ خود مجتہد ہیں، اس لئے دوسرے مجتہدین کے اقوال ان پر حجت نہیں  ہیں۔

امام ابو حنیفہؒ کے بعد کا راوی ضعیف

(5) بسا اوقات ایسا بھی ہو تا ہے کہ ایک حدیث امام ابو حنیفہؒ کو صحیح سندکے ساتھ پہنچی جس پر انہوں نے عمل کیا، لیکن ان کے بعد کے راویوں میں سےکوئی راوی ضعیف آگیا، اس لئے بعد کے ائمہ نے اسے چھوڑ دیا لہٰذا امام ابوحنیفہؒ پر کوئی الزام عائد نہیں کیا جا سکتا۔

ایک حدیث دو سندوں کے ساتھ

(6) اگرکوئی محدث کسی حدیث کو ضعیف قرار دیتا ہے تو بعض اوقات اس کے پیشِ نظر اسحدیث کا کوئی خاص طریق ہوتا ہے، لہٰذا یہ  عین ممکن ہے کہ کسی دوسرے طریقمیں وہی حدیث صحیح سند کے ساتھ آئی ہو، مثلاً من کان لہ امام فقراۃ الامام لہ قرأۃ کی حدیث بعض محدث نے کسی خاص طریق کی بناء پر ضعیف کہا ہےلیکن مسند احمد اور کتاب الآثار وغیرہ میں یہی حدیث بالکل صحیح سند کےساتھ آئی ہے۔ اور بسا اوقات ایک حدیث سنداً ضعیف ہوتی ہے لیکن چونکہ وہمتعدد طرق اور اسانید سے مروی ہو تی ہے اور اسے مختلف اطراف سے متعددراوی روایت کرتے ہیں اس لئے اسے قبول کر لیا جاتا ہے اور محدثین اسےحسن لغیرہٖ کہتے ہیں۔ ایسی حدیث پر عمل کرنے والے کو یہ نہیں کہا جا سکتاکہ اس نے ضعیف حدیث سے استدلال کیا ہے۔

صحیح حدیث ضعیف راوی

(7) بعض اوقات ایک حدیث ضعیف ہوتی ہے اور حدیث کے ضعیف ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی سند میں کوئی راوی ضعیف آ گیا ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر ضعیف راوی ہمیشہ غلط ہی روایت کرے لہٰذا اگر دوسرے قوی قرائن اس کی صحتپر دلالت کر تے ہوں تو اسے قبول کر لیا جاتا ہے، مثلاً اگر حدیث ضعیف ہولیکن تمام صحابہؓ اور تابعینؒ اس پر عمل کر تے چلے آ رہے ہوں، تو یہ اسبات کا قوی  قرینہ ہے کہ یہاں ضعیف راوی نے صحیح روایت نقل کی ہے، چنانچہ حدیث ’’ لاوصیۃ لوارث‘‘ کو اسی بناء پر تمام ائمہ مجتہدین نے معمول بہ قرار دیا ہے۔بلکہ بعض اوقات اس  بناء پر ضعیف روایت کو صحیح سند والیروایت پر ترجیح بھی دے دی جاتی ہے، مثلاً آنحضرتؐ کی صاحبزادی حضرت زینبؓ کا واقعہ ہے کہ وہ حضرت ابوالعاصؓ کے نکاح میں تھیں، وہ شروع میں کافرتھے، بعد میں مسلمان ہوئے، اب اس میں روایات کا اختلاف ہے کہ انکے اسلام قبول کرنے کے بعد آنحضرتؐ نے سابق نکاح برقرار رکھا تھا یا نیا نکاحکرایا تھا۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی روایت میں ہے کہ آپ نے ان کا نکاح کرایا تھا اور مہر بھی نیا مقرر ہوا تھا اور حضرت ابن عباسؓ کی روایت میںہے کہ  آپ نے سابق نکاح باقی رکھا تھا، نیا نکاح نہیں کرایا تھا، ان دونوںروایتوں میں سے پہلی روایت ضعیف ہے اور دوسری صحیح ہے لیکن امام ترمذیجیسے محدث نے تعاملِ صحابہؓ کی وجہ سے پہلی روایت کو اسکے ضعف کے باوجود ترجیح دی ہے گرچہ حنفیہ کا موقف قدرے مختلف ہے۔ (دیکھئے جامع ترمذی کتاب النکاح باب الزوجین المشرکین یسلم احدہما)اسی طرح بعض مر تبہ امام ابوحنیفہؒ بھی اس قسم کے قوی قرائن کی بناء پر کسی ضعیف حدیث پر عمل فرما لیتے ہیں، لہٰذا ان کے خلاف بطورِ الزام پیش نہیں کیا جا سکتا۔

حنفی مسلک کی غلط ترجمانی

(8) بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہ کے  مذہب کو صحیح سمجھنے کی کوشش نہیں کی جاتی، اس بناء پر اسے حدیث کے خلاف سمجھ  لیا جاتا ہے حالانکہ وہحدیث کے عین مطابق ہو تا ہے۔ اس قسم کی غلطیوں میں بعض مشہور اہلِ علم بھی مبتلاء ہو گئے ہیں مثلاً مشہور اہلِ  حدیث عالم حضرت مولانا محمد اسمٰعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ نے تعدیلِ ارکان کے مسئلہ میں حنفیہ کے موقف پراعتراض لکھا ہے !’’حدیث شریف میں ہے کہ ایک آدمی نے آنحضرت ؐ کے سا منےنمازپڑھی، اس نے رکوع و سجود اطمینان سے نہیں کیا، آنحضرتﷺ نے اسےتین  دفعہ فرمایا صلِ فانک لم تصل(تم نماز پڑھو، تم نے نماز نہیں پڑھی) یعنی شرعاً تمہاری نماز کا کوئی وجود نہیں، اسی حدیث کی بناء پر اہلِ حدیث اورشوافع وغیرہم کابھی یہی خیال ہے کہ اگر رکوع و سجود میں اطمینان نہ ہو تونماز نہیں ہو گی، احناف فرماتے ہیں رکوع و سجود کے معانی معلوم ہو جانے کےبعد ہم حدیث کی تشریح اور نماز کی نفی قبول نہیں کر تے ‘‘ ( تحریکِ آزادیِفکر ص32)۔
حالانکہ یہ حنفیہ کے مسلک کی غلط ترجمانی ہے، واقعہ یہ ہے کہ حنفیہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ رکوع اور سجدہ تعدیل کے ساتھ نہ کیا  جائےتو نماز واجب الاعادہ ہو گی لہٰذا وہ ’’ صل فانک لم تصل‘‘ پر پوری طرح عملپیراہیں، البتہ حقیقت صرف اتنی ہے امام ابو حنیفہ کے نزدیک ’’فرض‘‘ اور’’ واجب‘‘ میں فرق ہے جبکہ دوسرے ائمۂ مجتہدین ان دونوں اصطلاحوں میں فرق نہیں کر تے، امام ابو حنیفہؒ یہ فرماتے ہیں کہ نماز کے فرائض وہ ہیں جوقرآنِ کریم یا متواتر احادیث سے قطعی طریقہ پر ثابت ہوں، جیسے رکوع وسجدہ وغیرہ۔ اورواجبات وہ ہیں جو اخبارِ احادیث سے ثابت ہوں، عملی طورپر اس لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں کہ جس طرح فرض کو چھوڑنے سے  نمازدوہرائی جائے گی اسی طرح واجب کو چھوڑ نے سے بھی دوہرائی جائے گی، لیکندونوں میں یہ نظری فرق ہے کہ فرض کو چھوڑ نے سے آدمی تارکِ نماز کہلائے گااور اس پر تارک نماز کے احکام جاری ہونگے اور واجب کو چھوڑ نے سے تارکِنماز نہیں کہلائے گا۔ بلکہ نماز کے ایک واجب کا تارک کہلائے گا،بالفاظِ دیگر فرض نماز تو ادا ہو جائے گی، لیکن اس پر واجب ہو گا کہ وہنماز کو لوٹائے اور یہ بات حدیث کے مفہوم کے خلاف نہیں، بلکہ اس بات کیتصریح خود اسی حدیث کے آخر میں موجود ہے، جامع ترمذی میں ہے کہ جب آنحضرتؐ نے ان  صاحب سے یہ فرمایا کہ ’’ صل فانک لم تصل‘‘ ( نماز پڑھو، کیونکہ تمنے نماز نہیں پڑھی)تو یہ بات صحابہؓ کو بھی معلوم ہوئی کہ نماز میں  تخفیفکرنے والوں کو تارکِ نماز قرار دیا جائے، لیکن تھوڑی دیر بعد جب آپﷺ نےان صاحب کو نماز کا صحیح طریقہ بتاتے ہوئے تعدیلِ ارکان کی تاکید فرمائی،تو ارشاد فرمایا:۔
فاذا فعلت ذالک فقد تمت صلٰوتک وان انتقصت منہ شےئاًانتقصت من صلاتک(جب تم یہ کام کرو گے تو تمہاری نماز پوری ہو گی اور اگر اسمیں تم نے کمی کی تو تمہاری نماز میں کمی واقع ہو جائیگی۔
حضرت رفاعہؓ جو اس حدیث کے راوی ہیں فرماتے ہیں! وکان ہذا اہون علیہم منالاولیٰ انہ من انتقص من ذالک شےئاً انتقص من صلاتہ ولم  تذہب کلہا(جامعترمذی) اور یہ بات صحابہؓ کو پہلی بات سے زیادہ آسان معلوم ہوئی کہ انچیزوں میں کمی کرنے سے نماز میں کمی تو واقع ہو گی لیکن پوری نماز کالعدم نہیں ہو گی۔
حدیث کا یہ جملہ صراحتاً وہی تفصیل بتا رہا ہے جس پر حنفیہ کاعمل ہے، حنیفہ حدیث کے ابتدائی حصہ پر عمل کرتے ہوئے اس بات کے بھی  قائل ہیں کہ تعدیلِ ارکان چھوڑ نے سے نماز کو دہرانا پڑے گا اور آخری حصہ پرعمل کرتے ہوئے اس کے بھی قائل ہیں کہ اسکو چھوڑنے سے آدمی کو تارکِ نماز نہیں کہیں گے بلکہ نماز میں کمی اور کوتاہی کر نے والا کہیں گے۔
اس تشریح کے بعد غور فرمائیے کہ حنفیہ کے موقف کی یہ ترجمانی کہ وہ ’’ حدیث کی تشریح قبول نہیں کر تے ‘‘ ان کے مسلک کی کتنی غلط اور  الٹی تعبیر ہے۔ بہر حال مقصد یہ تھا کہ بعض اوقات حنفی کے کسی مسلک پر اعتراض کا منشاء یہ ہو تا ہے کہ مسلک کی قرار واقعی تحقیق نہیں کی جاتی۔
یہ چند اصولی باتیں ذہن میں رکھ کر حنفیہ کے دلائل پر غور کیا جائیگا تو انشاء اللہ یہ غلط فہمی دور ہو جا ئے گی، کہ حنفیہ کے استدلال ضعیف ہیں یا وہ قیاس کوحدیث پر ترجیح دیتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ایک مجتہد کو یہ تو حق ہے کہ وہامام ابو حنیفہ کے کسی استدلال سے اختلاف کرے، یا انکے کسی قول سے متفقنہ ہو، لیکن انکے مذہب پر علی الاطلاق ضعف کا حکم لگا دینا یا کہنا کہ وہقیاس کو حدیث پر ترجیح دیتے ہیں ظلمِ عظیم سے کم نہیں۔

امام عبد الوہاب شعرانی شافعیؒ کے چند اقوال

یوںتو بے شمار محقق علماء نے امام ابو حنیفہؒ کے مدارکِ اجتہاد کی تعریف کیہے لیکن یہاں ہم ایک شافعی عالم کے چند اقوال نقل کرنے پر اکتفا کر تے ہیںجو قرآن و حدیث اور فقہ و تصوف کے امام سمجھے جاتے ہیں، یعنی شیخ عبدالوہاب شعرانی شافعیؒ یہ بذاتِ خود حنفی نہیں ہیں، لیکن انہوں نے ایسےلوگوں کی سخت تردید کی ہے جو امام ابو حنیفہ یا ان کے فقہی مذہب پر مذکورہ اعتراضات کرتے ہیں بلکہ انہوں نے اپنی  کتاب ’’المیزان الکبری‘‘ میں کئی فصلیں امام ابو حنیفہ کے دفاع ہی کے لئے قائم فرمائی ہیں وہ فرماتے ہیں:
’’ یاد رکھئے ان فصلوں میں (جو میں نے امام ابو حنیفہؒ کے دفاع کے لئے قائم کی ہیں) میں نےامام ابو حنیفہؒ کی طرف سے کوئی جواب محض  قلبی عقیدت یاحسنِ ظن کی بناء پر نہیں دیا، جیسا کہ بعض لوگوں کا دستور ہے، بلکہ میںنے یہ جوابات دلائل کی کتابوں کی پوری چھان بین  کے بعد دیے ہیں۔ ۔ ۔ اورامام ابو حنیفہ کا مذہب تمام مجتہدین کے مذاہب میں سب سے پہلے مدون ہونےوالا مذہب ہے اور اہل اللہ کے قول کے مطابق سب سے آخر میں ختم ہو گا۔
اورجب میں نے فقہی مذہب کے دلائل پر کتاب لکھی تو اس وقت امام ابو حنیفہؒ اوران کے اصحاب کے اقوال کا تتبع کیا، مجھے ان کے یا ان  کے متبعین کا کوئیقول ایسا نہیں ملا جو مندرجہ ذیل شرعی حجتوں میں سے کسی پر مبنی نہ ہو یاتو اس کی بنیاد کوئی قرآن کی آیت ہو تی ہے یا کوئی حدیث، یا صحابی کا اثر یا ان سے مستنبط ہونے والا کوئی مفہوم یا کوئی ایسی ضعیف حدیث جو بہت سیاسا نید اور طرق سے مر وی ہو، یا کوئی ایسا صحیح قیاس جو کسی صحیح اصل پرمتفرع ہو، جو شخص اسکی تفصیلات جاننا چاہتا ہے وہ میری اس کتاب کا مطالعہ کر لے۔آگے انہوں نے لوگوں کی تردید میں ایک پوری فصل قائم کی ہے، جویہ ہے کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ نے قیاس کو حدیث پر مقدم رکھا اس الزام کے بارے میں وہ لکھتے ہیں :
یاد رکھئے کہ ایسی باتیں وہ لوگ کر تے ہیںجو امام ابو حنیفہؒ سے تعصب رکھتے ہیں اور اپنے دین کے معاملہ میں جری اوراپنی باتوں میں غیر محتاط ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے غافل ہیںکہ ’’ بلاشبہ کان، آنکھ اور دل میں سے ہر ایک کے بارے میں (محشر میں) سوال ہو گا۔
آگے انہوں نے یہ واقعہ بھی نقل کیا ہے کہ ایک مر تبہ حضرت سفیان ثوریؒ، مقاتل بن حیانؒ، حماد بن سلمہؒ اور حضرت جعفر صادقؒامام ابو  حنیفہؒ کے پاس آئے اور ان سے اس پروپیگنڈے کی حقیقت معلوم کیکہ وہ قیاس کو حدیث پر مقدم رکھتے ہیں، اس کے جواب میں امام ابو  حنیفہؒ نے فرمایا کہ میں تو قیاس کو قرآن و حدیث ہی نہیں، آثارِ صحابہ کے بھی بعداستعمال کرتا ہوں اور صبح سے زوال تک امام ابو حنیفہؒ ان حضرات کواپنا موقف سمجھاتے رہے آخر میں یہ چاروں حضرات یہ کہہ کر تشریف لے گئے کہ :
آپ تو علماء کے سردار ہیں، لہٰذا ہم نے ماضی میں آپ کے بارے میں صحیح علم کے بغیر جو بدگمانیاں کی ہیں ان پر آپ ہمیں معاف فرمائیے۔‘‘
اس کے بعدامام شعرانیؒ نےایک اور فصل ان لوگوں کی تردید میں قائم کی ہے جو ام ا  مابو حنیفہؒ کے اکثر دلائل پرضعیف ہونے کا الزام لگا تے ہیں اور مبسوط بحث کے ذریعہ اس بے بنیاد الزام کی حقیقت واضح کی ہے، پھر ایک اور فصلانہوں نے یہ ثابت کر نے کے لئے قائم کی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا مسلک دینی اعتبار سے محتاط ترین مذہب ہے، اس میں وہ لکھتے ہیں۔ بحمد للہ میں نےامام ابو حنیفہؒ کے مذہب کا تتبع کیا ہے اور اس کو احتیاط و تقوی کےانتہائی مقام پر پایا ہے۔
امام شعرانیؒ کے یہ چند اقوال محض نمونےکیلئے پیش کر دیئے گئے ہیں ورنہ ان کی یہ پوری بحث قابلِ مطالعہ ہے۔(ملاحظہ ہو المیزان الکبری)

عقائد و کلام اور سیاسی افکارعقائد

اما      م  اعظمؒ کی تصنیف کردہ کتابیں جو آپ کی طرف منسوب ہیں وہ عقائد و کلام کے موضوع پر ہیں مثلاً فقہ اکبر، رسالۃ العالم و المتعلم، مکتوب  بنام عثمانؒ البتی، کتاب الرد علی القدریہ، العلم شرقا ً و غربا ً و بعدا ً و  قرباً۔امامابو حنیفہؒ پہلے شخص ہیں جنہوں نے یہ کتابیں تحریر کر کے شیعہ، خوارج اورمعتزلہ و مرجیہ کے مقابلہ میں عقیدۂ اہل السنت  و الجماعت کو ثابت کیا،امام ابو حنیفہؒ نے اہل سنت کا جو مسلک بتا یا ہے وہ حسبِ ذیل ہیں:
1.رسول اللہ ﷺ کے بعد افضل الناس ابو بکرؓ ہیں، پھر عمر بن الخطابؓپھر عثمانؓ، پھرعلیؓبن ابی طالب۔ یہ سب حق پر تھے اور حق کے ساتھ  رہے۔
2.ہم صحابہؓ کا ذ کر بھلائی کے سوا اور کسی طرح نہیں کر تے۔
3. ہم کسی مسلمان کو کسی گناہ کی بناء پر، خواہ وہ کیسا ہی بڑا گناہ ہو کافر نہیںقرار دیتے جب تک کہ وہ اس کے حلال ہو نے کا قائل نہ ہو۔
4. ہم مرجیہ کیطرح یہ نہیں کہتے کہ ہماری نیکیاں ضرور مقبول اور ہماری برائیاں ضرورمعاف ہو جائیں گی۔
5.فرائض و اعمال جزء ایمان نہیں ہیں یعنی عقائد واعمال دونوں الگ الگ شئی ہیں۔ امام صاحب فرائض و اعمال کو جزء یمان نہیںسمجھتے  تھے۔ (اس مسئلہ کو ایک معمولی سمجھ کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہایمان اعتقاد کا نام ہے جو دل سے متعلق ہے فرائض و اعمال جوارح کے کامہیں اس لئے نہ ان دونوں سے کوئی حقیقت مرکب ہو سکتی ہے نہ ان میں سے ایکدوسرے کا جز ہو سکتا ہے۔ یہ مسئلہ اگر چہ چنداں مہتم بالشان نہ تھا لیکن اسکے نتائج بہت بڑا اثر رکھتے تھے اسی لحاظ سے امام صاحبؒ نے نہایت آزادی سےاس کا اظہار کیا۔ عمل کو جزء ایمان قرار دینا اس بات کو مستلزم ہے کہ جوشخص اعمال کا پابند نہ ہو وہ مومن بھی نہ ہو جیسا کہ خارجیوں کا مذہب ہےجو مرتکبِ کبائر کو کافر سمجھتے ہیں۔
6.الایمان لا یزید ولا ینقص یعنی ایمان کم و بیش نہیں ہوتا ان کے نزدیک جب اعمال جزئِ ایمان نہیں تواعمال کی کمی بیشی سے ایمان میں کمی  بیشی نہیں ہو سکتی، اور یہ بالکل صحیح ہے حدیث میں آیا ہے کہ ابو بکرؓ کو تم لوگوں پر جو ترجیح ہے و کثرتِ صومو صلوٰۃ کی وجہ سےنہیں بلکہ اس چیز کی وجہ سے ہے جو اس کے دل میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں پہلے ایمان کی تعلیم دی گئی اس کے بعد پھراعمال کی۔
غرض امام صاحب کایہ دعویٰ نہیں ہے کہ ایمان بلحاظ کیفیتیعنی شدت و ضعف کے زیادہ و کم نہیں ہو سکتا بلکہ ان کا یہ دعویٰ ہے کہ  ایمان مقدار کے اعتبار سے کم و بیش نہیں ہوتا۔ یہ دعویٰ اس بات کی فرع ہے کہاعمال جزء ایمان نہیں اور اس کو ہم ابھی ثابت کر چکے ہیں۔ یہ عقیدہ اگر چہام ام ابو حنیفہؒ کا اپنا ایجاد کر دہ نہ تھا بلکہ امت کا سوادِ اعظم اسوقت یہی عقیدہ رکھتا تھا، مگر امام نے اسے تحریری شکل میں مر تب کر کے ایک بڑی خدمت انجام دی کیونکہ اس سے عام مسلمانوں کو یہ معلوم ہو گیا کہ متفرقگروہوں کے مقابلہ میں ان کا امتیازی مسلک کیا ہے۔

خلقِ قرآن

امامابو حنیفہؒ کے زمانہ میں بعض لوگوں نے خلقِ قرآن کا عقیدہ پھیلانا شروع کیا۔ وہ کہتے تھے کہ قرآن اگر چہ نبی ﷺ کا معجزہ ہے مگر ہے  خدا کی مخلوق۔
امام ابو حنیفہؒ کے مخالفین کا دعوی تھا کہ آپ بھی اسی نظریے کےحامل تھے۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ امام ابو حنیفہؒ خلقِ قرآن کا عقیدہ نہیںرکھتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے ابو یوسفؒ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اسمسئلہ میں نہ خود کسی رائے کا اظہار کریں اور نہ کسی سے دریافت کریں۔ صرفاتنا کہو کہ یہ کلامِ الہی ہے اور اس میں ایک حرف بھی نہ بڑھاؤ۔

عقیدۂ ختمِ نبوت

ایکآدمی نے نبوت کا دعویٰ کیا جب لوگوں نے علامت طلب کی تو اس نے کہا مجھےعلامت لانے تک مہلت دو۔ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا ’’ جو اس سے علامت طلبکریگا، کافر ہو جائے گا، کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے ’’ لانبیبعدی‘‘ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ لہذا علامت طلب کرنے کا کوئی سوال ہی نہیںپیدا ہوتا۔

وجودِ باری تعالیٰ

ابوالمؤید خوارزمی کے مناقبمیں ہے کہ روم کے بادشاہ نے خلیفہؒ کی خدمت میں بہت سا مال بھیجا اور حکمدیا کہ علماء سے تین سوال کئے  جائیں۔ اگر جواب دیں تو وہ ان کو دے اور اگرجواب نہ دے سکیں تو خراج ادا کریں۔ خلیفہ نے علماء سے سوال کیا، لیکن کسی نے تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ امام ابو حنیفہؒ کم سن تھے۔ اپنے والدؒ کےساتھ حاضر ہوئے تھے۔ آپ نے والد صاحب سے جواب کی اجازت مانگی۔ والد صاحبنے منع کر دیا۔ امام صاحبؒ کھڑے ہو گئے اور خلیفہ سے اجازت طلب کی۔ اس نےاجازت دے دی۔ رومی سفیر سوال کرنے کے لئے ممبر پر تھا۔ امام صاحب نے کہا آپسائل ہیں؟ اس نے کہا ’’ہاں ‘‘اس پر امام صاحبؒ نے فرمایا ’’تو پھر آپ کیجگہ زمین ہے اور میری جگہ ممبر ہے۔ ‘‘ وہ اتر آیا۔ امام ابو حنیفہؒ ممبر پرچڑھے اور فرمایا :
سوال کرو۔ اس نے کہا اﷲ سے پہلے کیا چیز تھی؟ امامصاحبؒ نے فرمایا عدد جانتے ہو ؟ اس نے کہا ’’ہاں ‘‘ امام صاحبؒ نےفرمایا’’ ایک سےپہلے کیا ہے؟ رومی نے کہا ایک اول ہے، اس سے پہلے کچھ نہیں تو امام صاحبؒ نے فرمایا جب واحد مجازی لفظی سے پہلے کچھ نہیں تو پھرواحدِ حقیقی سے قبل کیسے کوئی ہو سکتا ہے؟
رومی نے دوسرا سوال کیا کہاﷲ کا منہ کس طرف ہے؟ امام صاحبؒ نے فرمایا جب تم چراغ جلاتے ہو تو چراغکا نور کس طرف ہوتا ہے؟ رومی نے کہا ’’یہ نور ہے، اس کے لئے ساری جہاتبرابر ہیں ‘‘ تب امام صاحبؒ نے فرمایا ’’جب نورِ  مجازی کا رخ کسی ایک طرفن ہیں، تو پھر جو نورالسموات والارض، ہمیشہ رہنے والا، سب کو نور اورنورانیت دینے والا ہے اس کے لئے کوئی خاص جہت کیسے متعین ہو گی؟رومی نے تیسرا سوال کیا کہ اﷲ کیا کرتا ہے؟ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا ’’جبممبر پر تم جیسا اﷲ کے لئے مماثل ثابت کرنے والا ہو تو اس کو اتارتا ہےاور جو مجھ جیسا موحد ہو اس کو ممبر کے اوپر بیٹھاتا ہے، ہر دن اس کی ایکنرالی شان ہوتی ہے۔ ‘‘یہ جواب سن کر رومی چپ ہو گیا اور مال چھوڑ کر چلاگیا۔
ایک مرتبہ کچھ دہریہ لوگ (جو خدا کو نہیں مانتے تھے) امامابو حنیفہؒ کے پاس پہنچ گئے ان کا ارادہ امام صاحب کو قتل کرنے کا تھا امامصاحبؒ نے فرمایا ذرا سی مہلت دو، ایک مسئلہ پر بحث کر لیں پھر جو چاہوکرنا۔ فرمایا ’’ آپ لوگوں کا کیا خیال ہے کہ ایک کشتی سامان سے بھری  ہوئیموج در موج سمندر میں بلا ملاح کے چل رہی ہے کیا ایسا ہو سکتا ہے؟‘‘ انلوگوں نے کہا ’’یہ محال ہے ‘‘ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا ’’تو کیا یہ  جائزہے کہ یہ دنیا جس کا ایک کنارہ دوسرے کنارے سے مختلف ہے، جس کی ایک جگہدوسری جگہ کی ضد ہے، جس کی حالتیں بدلتی رہتی ہیں، جس کے اعمال وافعالمتغیر ہوتے رہتے ہیں، بلا کسی حکیم و علیم اور صانع کے ہوں؟‘‘ یہ سن کرسب نے توبہ کی اور تلواروں کو میان میں کر لیا۔مناقب زرنجری میں ہے کہامام ابوالفضلؒ کرمانی نے فرمایا کہ جب خوارج کوفہ میں داخل ہوئے، جن کاعقیدہ یہ تھا کہ جس سے گناہ ہو جائے وہ کافر اور جو ان کے عقیدہ کا قائل نہہو، ان کی موافقت نہ کرے وہ بھی کافر، تو ان خوارج کو بتایا گیا کہ انکوفیوں کے شیخ یہ ہیں۔ چنانچہ انہوں نے امام ابو حنیفہؒ کو پکڑ لیا اورکہنے لگے کفر سے توبہ کرو۔ امام صاحبؒ نے فرمایا میں تمہارے کفر سے توبہکرتا ہوں۔ انہوں نے آپ کو پکڑ لیا۔ امام صاحبؒ نے فرمایا تم ظن سے کہتےہو یا یقین سے؟ انہوں نے کہا ظن سے۔ اس پر امام صاحبؒ نے فرمایا ’’ انبعض الظن اثم، والاثم ذنب، فتوبوا من الکفر ‘‘ ان لوگوں نے کہا ’’تو بھیکفر سے توبہ کر‘‘ تو امام ابو حنیفہؒ نے کہا میں ہر کفر سے توبہ کرتا ہوں۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: